تازہ تر ین

حکومت کے 440 وولٹیج کے دھماکے جاری پٹرول گیس چینی سب کچھ مھنگا۔پاکستان میں زندہ رھنا مشکل مرنا آسان ھوگیا بےحسی عروج پر۔سپریم کورٹ فیصلہ کے ملکی سیاست پر اثرات شروع، پیپلزپارٹی کی قیادت وفاق اور پنجاب میں شرکت اقتدارپر راضی۔ پیپلز پارٹی پنجاب اور وفاقی حکومت میں شامل۔ سپریم کورٹ فیصلے کے بعد حالات تبدیل۔ سپریم کورٹ فیصلہ کے ملکی سیاست پر اثرات شروع،ملک بھر میں 10 ھزار ارب روپے کی کرپشن مافیا کو کھلی چھٹی۔شمالی وزیرستان میں شام کے بعد نقل و حرکت پر پابندی۔جنرل اسلم بیگ کی کتاب جھوٹ کا پلندا قرار۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پاکستان میں ATM سے نقد رقم نکالنے کے چارجز، حدود اور ٹیکس کی مکمل تفصیلموجودہ دور میں اے ٹی ایم (ATM) کے ذریعے نقد رقم نکالنا ایک عام اور ضروری سہولت بن چکی ہے۔ تاہم، اکثر صارفین کو اس سہولت سے وابستہ چارجز، حدود اور ٹیکس سے متعلق مکمل معلومات نہیں ہوتیں۔ درج ذیل تفصیل 2025 میں پاکستان میں لاگو ہونے والے اہم نکات پر مشتمل ہے تاکہ صارفین باخبر رہ کر مالی فیصلے کر سکیں۔

—1۔ اپنی بینک کی ATM سے رقم نکالنااگر آپ اپنے ہی بینک کی ATM مشین سے رقم نکالتے ہیں تو کوئی بھی چارجز لاگو نہیں ہوتے۔ یہ سہولت مکمل طور پر مفت ہے۔—2۔ دوسری بینک کی ATM سے رقم نکالنے کے چارجزاگر آپ کسی دوسرے بینک کی ATM سے رقم نکالتے ہیں (1-Link نیٹ ورک کے ذریعے)، تو ہر ٹرانزیکشن پر تقریباً PKR 23.44 سے PKR 25 تک کا چارج لاگو ہوتا ہے۔—3۔ بین الاقوامی ATM سے رقم نکالنے کے چارجزاگر آپ پاکستان سے باہر کسی ملک میں ATM کے ذریعے رقم نکالتے ہیں تو چارجز درج ذیل میں سے کوئی ایک صورت اختیار کرتے ہیں:2% سے 8% تک نکالی گئی رقم کایا پھر PKR 300 سے PKR 1,000 تک فکس چارجیہ آپ کے بینک کی پالیسی پر منحصر ہوتا ہے۔—4۔ روزانہ کی نقد رقم نکالنے کی حد (ATM Limit)کارڈ کی قسم کے مطابق روزانہ کی نکالنے کی حد مختلف ہوتی ہے:کارڈ کی قسم روزانہ حداسٹینڈرڈ ڈیبٹ کارڈ PKR 25,000 – 50,000پریمیم کارڈ PKR 500,000 تکغیر ملکی ڈیبٹ کارڈ USD 200 – 500 کے مساویزیادہ رقم نکالنے کے لیے اکثر بینک اجازت کے ساتھ حد میں اضافہ کرتے ہیں۔—5۔ کیش نکالنے پر ودہولڈنگ ٹیکس (Withholding Tax)اگر ایک دن میں PKR 50,000 سے زائد کیش نکالا جائے تو ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوتا ہے:فائلر کی حیثیت ٹیکس کی شرحفائلر (Active Taxpayer) 0.3%نان فائلر 0.6%یہ ٹیکس تمام اکاؤنٹس کو ملا کر لگایا جاتا ہے اور بینک خود بخود کٹوتی کرتا ہے۔—6۔ ڈیبٹ کارڈ اور SMS الرٹس کی سالانہ فیسبینک مختلف قسم کے ڈیبٹ کارڈز اور سروسز کے لیے سالانہ فیس وصول کرتے ہیں۔

مثالیں:بینک کا نام ڈیبٹ کارڈ فیس SMS الرٹ فیسمیزان بینک PKR 500 – 4,500+ تقریباً PKR 1,800 سالانہایچ بی ایل (HBL) PKR 1,000 – 5,000+ تقریباً PKR 2,000 سالانہالائیڈ بینک PKR 1,000 – 7,000+ تقریباً PKR 2,000 سالانہیہ چارجز کارڈ کی قسم (کلاسک، گولڈ، پلاٹینم) پر منحصر ہوتے ہیں۔—7۔ اخراجات سے بچنے کے طریقےہمیشہ اپنے بینک کی ATM استعمال کریں۔فائلر بنیں تاکہ ٹیکس کم ہو۔اگر آپ بڑی رقم نکالتے ہیں تو پریمیم کارڈ استعمال کریں۔آن لائن بینکنگ یا موبائل ایپس استعمال کر کے ATM فیس سے بچا جا سکتا ہے۔—اختتامی کلماتسال 2025 میں ATM کے ذریعے نقد رقم نکالنے کے اخراجات میں معمولی اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر بینکوں کے درمیان نکالے گئے فنڈز اور ٹیکس پالیسیوں کے تحت۔ لیکن اگر آپ باخبر ہیں، تو آپ آسانی سے ان چارجز سے بچ سکتے ہیں یا کم کر سکتے ہیں۔

عقل بڑی یا بھینس عقل کو ہم انجنئر مان لیتے ہیں اور

بھینس کو سیاست- اس کی وجہ یہ ھے کہ نیوکلیئر بم پہل بنا لیا گیا اور پھر تحقیق اور معاھدے شروع کر دیئے کہ اسے چلانے سے روکنا کیسے ھے-

پھر جہاز بنا کر سیٹھ کے حوالے کر دیا- سیاستدانوں اور سیٹھ نے کچھ جہاز جنگیں لڑنے کے لئے رکھ چھوڑے اور کچھ مسافروں کو آنے لیجانے کے لئے- جو جہاز بم گراتے ہیں وہ مہنگے ہیں اور جو مسافروں کی ترسیل کے لئے رکھ چھوڑے ہیں وہ سستے ہیں-

فیشین ڈیزائنر اور درزن کا فرق صرف اتنا ھے کہ درزن کپڑا بچاتی نہیں اور پورے کی سلائی کر دیتی ھے- ڈیزائینر صرف 20% کپڑے سے چوکھا رنگ چڑھا دیتا ھے-

یہ ۲۰۱۷ کی بی بی سی کی خبر ھے- سٹیٹ بینک کی ’پاکستان کی معاشی حالت‘ کے عنوان سے جاری کی گئی رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ گذشتہ سال کے اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں صارفین میں دیرپا اشیائے صرف جیسے گاڑیاں اور برقی آلات خریدنے اور بینکوں سے چھوٹے قرضے لینے کا رجحان واضح طور پر بڑھا ہے۔

دوسری جانب ورلڈ بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی تعداد میں ’حیرت انگیز‘ حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سنہ 2002 میں 64 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی تھی لیکن 15 سال بعد ان کی تعداد گھٹ کر اب صرف 29 فیصد رہ گئی ہے

جرنلسٹ پروٹیکشن بل منظوراسلام آباد: صحافی کو دھمکی دینا یا تشدد کرنا اب ناقابلِ ضمانت جرم قرار، جرنلسٹ پروٹیکشن بل منظورپاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ )نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بل صحافیوں کو مزید بااختیار اور محفوظ بنائے گا، اور آزاد صحافت کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔ا— پارلیمنٹ نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم قانون، “جرنلسٹ پروٹیکشن بل” منظور کر لیا ہے،

جس کے تحت صحافیوں کو ان کے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے، زبانی یا جسمانی دھمکیاں دینے، یا ان پر تشدد کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔نئے بل کے مطابق:کسی بھی صحافی کو زبان درازی، گالم گلوچ یا تشدد کا نشانہ بنانے پر ناقابلِ ضمانت مقدمہ درج کیا جائے گا

۔ذرائع (Sources) کے بارے میں معلومات لینے کے لیے دباؤ ڈالنے کو بھی جرم تصور کیا جائے گا۔صحافی کو پیشہ وارانہ کام سے روکنے یا ڈرانے دھمکانے پر ملوث شخص یا ادارے کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved