
افسوس ناک۔۔۔تھک بابوسر روڈ پہ اونچے درجے کی سیلاب نے ہر طرف تباہی مچادی ہے۔۔بہت زیادہ تعداد میں جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔۔جن کو مقامی رضاء کار “مقامی لوگ” ضلعی انتظامیہ پولیس اور 1122 کے ٹیمیں ریسکیو آپریشن کے زریعے آر ایچ کیو ہسپتال منتقل کر رہے ہیں لیکن بہت سے سیاح اب بھی لاپتہ ہیں اور ملبے تلے دبے ہونے کی امکان ظاہر کی جارہی ہے۔۔

آج کے سانحے کو خود آنکھوں سے دیکھ کر دل بہت رنجیدہ ہوا ہے۔ سیاحوں کو ایک ہفتے سے موسم کے بارے میں آگاہ کئے جارہے تھے وفاقی حکومت اور صوبائ حکومت کیطرف سے مسلسل الرٹ جاری تھی۔۔ یہاں تک کہ کال ٹون کے زریعے موسمی حالات سے مقامی و غیر مقامی لوگوں کو آگاہ کئے جارہے تھے لیکن باوجود احتیاطی تدابیر میں تاخیر سمجھ سے باہر ہے اور اس کا نقصان آج دیکھنے کو ملا۔سیاحوں کو چاہیے کہ احتیاطی تدابیر پہ عمل کریں صوبائ حکومت و ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ آپ کے قیمتی جانیں محفوظ رہیں۔۔۔


تھک بابوسر روڈ پہ ایک طرف جانی نقصانات بہت زیادہ ہوئے ہیں تو دوسری طرف مقامی آبادی و مکانات مکمل طور پہ تباہ ہوئے ہیں لوگوں کی گھر بار فصلیں مکانات و دیگر ضروری اشیاء سیلاب کے نظر ہوچکے ہیں۔۔صوبائ حکومت کو چاہیے کہ تھک ایریا میں ایمرجنسی نافذ کر کے آپریشن تیز کرنے کیلئے اہم اقدامات کریں تاکہ پھنسے ہوئے سیاحوں کو ایمرجنسی بنیادوں پہ محفوظ مقامات منتقل کیا جائیں۔۔اور جو ڈیڈ باڈیز سیلاب کے زد میں آئے ہیں اور ملبے تلے دب چکے ہیں ان کو نکالنے کے بعد جلد ہی ان کے پیاروں کے حوالے کیا جاسکے۔



۔مقامی لوگوں کا اس میں اہم کرادر ہونا چاہیے کہ جو لوگ پھنسے ہوئے ہیں ان کو مفت گھر ہوٹل اور دیگر ضروری ایشیاء فراہم کریں تاکہ ہمارے مہمان سیاح حضرات جن میں مرد خواتین بچے بوڑھے سب شامل ہیں ان سب کو ہماری شفقت محبت ہمدردی اور سہارے کی ضرورت ہے پریشان حال ہیں ان کو سہارہ میسر ہو اور ان کی حوصلہ افزائ کریں تاکہ وہ اس صدمے سے باہر آجائے۔



۔ ہم مقامی لوگوں کے حوصلہ افزائ اور خدمت خلق کے جذبے کے زریعے ہی وہ مکمل محفوظ ہوکر واپسی اختیار کرینگے۔۔اللہ تعالٰی تمام مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائیں۔۔اور جو زخمی ہیں ان کو اللہ جلد ہی صحت کاملہ عاجلہ عطا فرمائیں۔۔آمین۔اکرام چلاسی۔ #everyoneactive




ٹیکسٹائل میں پاکستان کی بڑی کامیابیمالی سال 2025 میں پاکستان نے 17.88 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل برآمدات کر کے دنیا کو بتا دیا کہ ہماری صنعت صرف چل نہیں رہی، بلکہ آگے بڑھ رہی ہے۔


یہ اعدادوشمار محض نمبرز نہیں، بلکہ پاکستان کی محنت، معیار اور عالمی اعتماد کا ثبوت ہیں۔پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری اب صرف قومی معیشت کا ستون نہیں بلکہ دنیا بھر میں “میڈ اِن پاکستان” کی پہچان بن چکی










