
ایک درد ناک خبر پڑھنے اور سننے کے منتظر “بے حس” لوگخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تعزیتی کالم ،مضامین اور رنج والم کے واقعات چوہدری شجاعت حسین پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے اپنے منصب کی مدت ( تین ماہ) مکمل کی 27 جنوری 2026 کو ملک کے ممتاز سیاستدان وزارت عظمی اور دو مرتبہ وزارت داخلہ کے منصب پر فائز رہنے اور پاکستان کی سیاست کے تاریخی کردار چوہری شجاعت حسین 27 جنوری 2026 کو 85 سال کے ہو جائیں گے دیگر خوبیوں کے ساتھ ساتھ اپنی وضعداری ،تعلق نبھانے اور وسیع دسترخوان کے حوالے سے بھی ان کا تذکرہ ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا

چوہری شجاعت حسین گزشتہ کچھ عرصے سے شدید بیماری کے باعث پس منظر میں اس لیے بھی ہیں کہ ان کی طویل بیماری معزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے اور ان کی نقل و حرکت ان کے بستر تک محدود ہو چکی ہے ل لیکن یہ امر باعث افسوس ہی نہیں بلکہ بے حسی کے مترادف بھی ہے کہ اس تمام عرصے میں ان کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی خبر تو دور کی بات ان کی طبیعت کے بارے میں اور عیادت کرنے والوں کے حوالے سے بھی کوئی خبر منظر عام پر نہیں ارہی ان کے ہلکے سے بخار اور تھکن کو بھی اخباروں میں سرخیاں بنانے والے اور کالمز لکھنے والے بھی بادی النظر میں قطعی طور پر ان سے لا تعلق نظر اتے ہیں” ہر ماہ باقاعدگی سے” ان کے در دولت پر حاضری دینے والے ان سے دوری اختیار کر چکے ہیں جنرل پرویز مشرف کے دور حکمرانی میں جب بلوچستان کے ایک باکردار سیاستدان میر ظفر اللہ خان جمالی کو وزارت عظمی کے منصب سے ہٹانے اور ان کی جگہ شوکت عزیز کو ملک کا وزیراعظم بنانے کا فیصلہ ہوا تو تین ماہ کے درمیانی عرصے کے لیے چودھری شجاعت حسین کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ ہوا اس طرح انہوں نے 30 جون 2004 کو وزیراعظم کا حلف اٹھایا اور ٹھیک 20 اگست کو تین ماہ مکمل ہونے کے بعد انہیں اس ذمہ داری کو خیر باد کہنا پڑا اس طرح ازراہ تفنن یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ چوہدری شجاعت پہلے وزیراعظم تھے جنہوں نے اپنے منصب کی مدت مکمل کی۔۔۔۔۔۔ اور شوکت عزیز نے وزیراعظم پاکستان کی ذمہ داریوں کا حلف اٹھا لیا اپنی ہنگامہ خیز سیاسی زندگی کے حوالے سے چوہدری صاحب نے” سچ تو یہ ہے” کہ عنوان سے اپنے یادداشتوں کو کتابی شکل بھی دی ہے جس میں پاکستان کی سیاست میں سازشوں منافقتوں اور اقتدار و اختیار کے حصول کے لیے سیاست دانوں اور حکمرانوں کے کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے چشم کشا انکشافات کیے ہیں 2020 میں روزنامہ جنگ میں ملک کے نامور سیاست دانوں کی اسیری کے مصائب اور شب و روز پر مشتمل “جیل کہانی “کا سلسلہ شروع کیا

جو بے حد مقبول ہوا اس میں چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی کی اسیری کی داستان بھی شامل تھی اس وقت جنگ پنڈی کے ایڈیٹر رانا طاہر تھے ان کے ہمراہ چوہدری شجاعت حسین صاحب سے طویل ملاقات ہوئی…….. لیکن یہ کہانی اور اس کی تفصیلات پھر کبھی۔۔۔ اس وقت عرض کرنا یہی مقصود تھا کہ اللہ تعالی چوہدری صاحب کو مکمل صحت کاملہ اور عاجلہ عطا فرمائے اور اس کے ساتھ ساتھ طویل زندگی بھی ان کی صحت اس حد درجے گر چکی ہے

کہ انہیں اب دواؤں کی نہیں صرف دعاؤں کی ضرورت ہے ان سے کئی دہائیوں سے تعلق رکھنے والے اپنے صحافی دوستوں اور احباب سے بالخصوص اور چوہدری خاندان کے وسائل اور اختیارات سے استفادہ کرنے والے ماضی کے ان رفقاء سے درخواست ہے جنہوں نے تعزیتی مضامین ،کالمز اور چوہدری صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنے کی تیاریاں کر رکھی ہیں وہ چوھدری صاحب کی عیادت کے لیے ان سے رابطے میں رہیں ان کی خبر گیری اور دلجوئی کریں بقول خود چوہدری صاحب کے” مٹی پاؤ ” کا انتظار نہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بریگیڈیئر حسن صاحب کے ضبط کی انتہا دیکھنے کے قابل تھی۔ چہرہ پتھر کا لگ رہا تھا مگر دل کے اندر ایک باپ ٹوٹ کر بکھر رہا تھا۔ بیٹے کو مٹی کے سپرد کرنا کوئی معمولی بات نہیں، یہ لمحہ کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا۔گھر میں شادی کی تیاریاں مکمل تھیں۔ ماں کے ہاتھوں میں مہندی کے رنگ سجنے کو تھے، اور پورے گھر میں خوشیوں کا سماں تھا۔ لیکن وہ لعل، جو ماں کا سہارا اور باپ کا فخر تھا، وطن کی مٹی پر اپنی جان قربان کر گیا۔ سہرا تو نہ بندھا، مگر شہادت کا کفن اوڑھ کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔ذرا سوچو! وہ لمحہ کیسا ہوگا

جب ایک ماں اپنے بیٹے کی شادی کے ارمان دل میں لیے بیٹھے اور اچانک وہی بیٹا تابوت میں لپٹا واپس آئے۔ وہ باپ کیسا ہوگا جو فوجی وردی میں ڈیوٹی بھی دے رہا ہوں اور بیٹے کے جنازے کو کندھا بھی؟اے وطن کے نوجوانو! تم شاید کبھی نہ سمجھ سکو یہ درد کیسا ہوتا ہے۔ یہ قربانی صرف ایک گھرانے کی نہیں، یہ قربانی ہم سب کی آزادی کی ضمانت ہے۔ ان آنسوؤں کے پیچھے ایک فخر چھپا ہے

، وہ فخر جو پاکستان کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔یہی وہ خون ہے جس پر یہ زمین قائم ہے، یہی وہ قربانیاں ہیں جو ہمیں جھکنے نہیں دیتیں۔سلام ہے ان شہیدوں کو اور سلام ہے ان والدین کو جنہوں نے اپنے خواب وطن پر قربان کر دیے۔ 🇵🇰💖💖

: 29 اگست، 2025*وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ* وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر عزت مآب ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کا ٹیلی فونک رابطہ۔ صدر پیزیشکیان نے پاکستان کے مختلف حصوں میں سیلاب پر پاکستانی عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ایرانی صدر نے حالیہ سیلاب میں جانی و مالی نقصان پر متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس مشکل وقت میں پاکستان کے برادر عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ وزیر اعظم نے صدر پیزشکیان کی جانب سے ہمدردی و یکجہتی کے اظہار اور ایران کی طرف سے دکھ اور تکلیف کی اس گھڑی میں اظہار یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے ایرانی صدر کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کیلئے گہرے احترام اور نیک خواہشات کا پیغام دیا۔ دونوں رہنماؤں نے چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کے موقع پر متوقع ملاقات و گفتگو کے حوالے سے مثبت خیالات کا بھی اظہار کیا۔

🚨 ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کے لیے 30 لاکھ ڈالر ہنگامی امداد کا اعلانجو سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی پر خرچ ہونگے🚨 ⚠️دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر سیلاب بلند ترین سطح پر پہنچ گیا گنڈا سنگھ والا کے مقام پر بہاؤ 3 لاکھ 85 ہزار لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیاجو پچھلی 3 دہائیوں میں بلند ترین سطح ہے قصور اور ملحقہ علاقوں میں خطرناک سیلابی صورتحال🚨 Update:دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر بہاو میں اضافہ (180410 کیوسک) اور انتہائی اونچے درجے کا سیلاب

:دریائے ستلج قصور میں 1955ء کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا پانی آیا ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اےہمیں اس وقت قصور شہر کو بچانے کا چیلنج درپیش ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اےشاہدرہ، لاہور سے خطرے والی بات ختم ہوگئی ہے اور پانی کی سطح کم ہوگئی ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اے










