
مذاکرات ہونگے اور کامیاب بھی ہونگے ۔پورا یورپ اور خلیجی ممالک امریکی مالیاتی نظام کا طوطا ہیں جسکی گردن مڑ گئی سپر پاور وقت سے پہلے مر جائے گی ۔امیر ترین عرب ممالک مستقبل سے خوف زدہ ہیں ۔یورپ والے توانائی کے ممکنہ بحران سے سہمے بیٹھے ہیں ۔امریکی ٹریژری اپنی سو سالہ گرفت کھو رہی ہے ۔ڈالر کے متبادل نظام معیشت برکس نے ملٹی نیشنلز کی نیندیں اڑائی ہوئی ہیں ۔کیپٹلزم کا موجودہ نظام بچنے کی آخری کوشش کرے گا اور ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے ۔ایک ماہ کی خلیجی تیل کی بندش نے یورپ ،بھارت اور درامدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کی ناک بند کر دی ہے ۔دوبارہ ایران پر بمباری کی کوکھ سے زیادہ بڑا بحران نکلے گا اس لئے سارے مل کر مذاکرات کروائیں گے اور کامیاب بھی کروائیں گے ۔ابھی اعصاب کی لڑائی ہے ۔ایرانی اور انکے پیچھے موجود چینی سب جانتے ہیں طوطے کی جان جس مالیاتی نظام میں ہے وہ بحران ختم کروائے گا اور طوطے کو بچائے گا ۔

فرانسیسی صدر امانوئل میکرون کی ایک غیر متوقع حرکت نے اٹلی کی خاتون وزیراعظم جارجیا میلونی کو شرمسار کردیا اور وہ انہیں سرگوشی میں سمجھاتے ہوئے نظر آئیں اور پھر مصافحہ کیلئے ہاتھ آگے بڑھا کر صورتحال کو سنبھال لیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان اس ویک اینڈ آبنائے ہرمز پر مذاکرات سے قبل ہونیوالی والی اس ملاقات کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ وزیر اعظم جارجیا میلونی ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے پیرس میں موجود تھیں، میزبانی فرانسیسی صدر امانوئل میکرون اور برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کر رہے تھے جہاں تقریباً 50 ممالک کے نمائندے شریک ہوئے۔ میکرون نے میلونی کا استقبال ایک طویل”گال سے گال” لگا کر بوسہ دینے کے انداز میں کیا جس نے میلونی کو قدرے حیران اور پریشان کر دیا۔ اگرچہ دونوں رہنماؤں نے فوری طور پر خود کو سنبھال لیا، لیکن اس لمحے نے انٹرنیٹ پر سفارتی آداب اور ذاتی حدود کے حوالے سے ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔

“لائسنس نمبر 2 اسکینڈل: پنجاب میں غیر قانونی ڈرائیونگ لائسنس نیٹ ورک بے نقاب”تحقیقاتی رپورٹ: رانا تصدق حسینلاہور: پنجاب کے ڈرائیونگ لائسنس نظام میں ایک نہایت تشویشناک اور دور رس اثرات کی حامل بے ضابطگی منظرِ عام پر آئی ہے، جہاں مبینہ طور پر “لائسنس نمبر 2” کے نام سے ایک غیر قانونی طریقہ کار کے تحت ایسے شہریوں کو بھی دوسرا ڈرائیونگ لائسنس جاری کیا جا رہا ہے جو پہلے ہی باقاعدہ اور درست لائسنس کے حامل ہیں۔ابتدائی رپورٹس اور باخبر ذرائع کے مطابق بعض عناصر قانونی دائرہ کار سے باہر نکل کر ڈرائیورز کو دباؤ یا ترغیب کے ذریعے غیر سرکاری ذرائع سے دوسرا لائسنس حاصل کرنے پر مجبور کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف ریگولیٹری نگرانی پر سوالات اٹھ رہے ہیں بلکہ اندرونی سطح پر ممکنہ سہولت کاری کے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔معاملہ مبینہ طور پر کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) تک پہنچ چکا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ محض انتظامی نوعیت کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس میں دھوکہ دہی، ڈیٹا کے غلط استعمال اور غیر قانونی مالی مفادات جیسے سنگین جرائم کے پہلو بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شہریوں سے اس نام نہاد “لائسنس نمبر 2” کے اجرا کے عوض (PKR 25000) تک وصول کیے جا رہے ہیں، حالانکہ ایسے لائسنس کی کوئی واضح قانونی حیثیت موجود نہیں اور اس کا حصول شہریوں کو سنگین قانونی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔یہ مبینہ طریقہ کار تمام مقررہ قواعد و ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے انجام دیا جا رہا ہے، جس سے یہ شبہ تقویت پکڑ رہا ہے کہ سرکاری ریکارڈ، شناختی ڈیٹا یا لائسنسنگ سسٹمز تک غیر مجاز رسائی حاصل کر کے انہیں غلط طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے

۔حکام میں اس پیش رفت کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ ایک متوازی اور غیر قانونی نظام کی موجودگی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ یہ محض چند افراد کی بدعنوانی نہیں بلکہ کسی منظم نیٹ ورک یا اندرونی سہولت کاری کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مبینہ طور پر اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام جعلی یا غیر قانونی طور پر جاری کیے گئے لائسنسوں کی فوری نشاندہی اور منسوخی کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جبکہ اس غیر قانونی عمل میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز اور سخت قانونی کارروائی کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔مزید برآں، اس نیٹ ورک کے مکمل ڈھانچے کا سراغ لگانے، اس میں ملوث دفاتر، درمیانی کردار ادا کرنے والوں اور سہولت کاروں کی نشاندہی کے لیے بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ متعلقہ حکام مبینہ طور پر ان مقامات اور سیٹ اپس کی تلاش میں ہیں جہاں سے یہ سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں، اور توقع کی جا رہی ہے کہ تحقیقات کے ساتھ ساتھ چھاپے اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جائیں گی

۔قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے غیر مجاز لائسنس رکھنے والے شہریوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں فوجداری کارروائی، اصل لائسنس کی منسوخی، اور کسی بھی ٹریفک حادثے کی صورت میں قانونی و انشورنس پیچیدگیاں شامل ہیں۔یہ صورتحال مجموعی طور پر لائسنسنگ نظام میں شفافیت، احتساب اور ڈیٹا سکیورٹی سے متعلق سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہی ہے، اور اس امر کی فوری ضرورت کو اجاگر کر رہی ہے کہ شہریوں کے استحصال کو روکنے کے لیے مؤثر نگرانی اور مضبوط نظام وضع کیا جائے۔تحقیقات کے جاری رہنے کے ساتھ ہی توقع کی جا رہی ہے کہ حکام اس ممکنہ بڑے عوامی فراڈ میں ملوث منظم نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کریں گے۔










