تازہ تر ین

محسن نقوی کرکٹ کے فیصلے کریں، فلائی اوور بنائیں مگر ہمارے صوبے کے فیصلے نہیں کرسکتے، وزیراعلیٰ کے۔‏دونوں قائدین واضح اعلان کریں کہ دیگر جماعتوں کی طرح ہم بھی اقتدار اور طاقت کے لئے سیاست کر رہے ہیں تو ممکن ہے کچھ لوگ توجہ دیں۔وہ تخت پر جو شخص تھا ، نشیں رہا ؟ نہیں رہا ۔اہم کامیابیصحافیوں کو پیکا ایکٹ میں استثنی حاصل ہوگی ترمیمی بل منظور پاک آرمی نے ہیلی کاپٹر کے زریعے تھک اور جل کھڈ کے مقام پر پھنسے سیاحوں میں جوس، پانی اور بسکٹ تقسیم کردیئے ۔۔ افواج کا ریسکیو آپریشن کامیاب۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

دو ارب مسلمان بمقابلہ 35رکنی گینگ۔ اظہر سیدسات سو بلاسفیمی کے ملزم جیلوں میں بند ہیں۔ چار سو ایف آئی ار ہیں۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کی معلوم تعداد دو ارب اکیس کروڑ ہے جبکہ دنیا کی ابادی میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کی تعداد تین ارب چالیس کروڑ سے زیادہ ہے۔ دنیا میں کل چھ ارب گیارہ کروڑ نفوس سانس لے رہے ہیں۔ پچاس کروڑ سے زیادہ لوگ لادین ہیں۔ دو ارب اکیس کروڑ سے زیادہ مسلمانوں میں سے دنیا میں صرف 35 رکنی ایسا گینگ ہے جیسے توہینِ مذہب کے ملزمان توہینِ امیز مواد بھیجتے ہیں۔ پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین کی موجودگی میں اس گینگ کی قوت ایمانی بھڑک اٹھتی ہے اور وہ ایف آئی اے اہلکاروں کی مدد سے ان ملزمان کو پکڑ لیتے ہیں۔ ان پر بدترین تشدد کرتے ہیں “چار ملزم تشدد کی تاب نہ لا کر جیلوں میں مر چکے ہیں

جبکہ ایک ملزم کے مرنے پر اسکی سر کاٹ کر لاش بنی گالہ کی جنگل میں پھینک دی گئی۔ چار سو ایف آئی ار ہیں ، مقدمات عدالتوں میں ہیں اور اج تک توہینِ امیز مواد بنانے والے ایڈمن کا پتہ نہیں چلا۔ ریاست کا سپریم ادارہ جیسے توہینِ امیز مواد بھیجنے کے مرتکب ملزمان پکڑنے کے ساتھ توہینِ امیز مواد بنانے والے ایڈمن کا پتہ بھی لگانا تھا وہ اس اہم ترین معاملہ کی طرف جاتا ہی نہیں۔ ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر سلمان اعوان جو راولپنڈی میں گینگ کے ہاتھوں کروائے گئے تمام بلاسفیمی مقدمات کے نگران ہیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان سے پوچھا گیا توہینِ امیز مواد کہاں سے اتا ہے کون بناتا ہے ،انہیں پکڑا کیوں نہیں گیا ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر کا جواب تھا ڈارک ویب سے اتا ہے پکڑنا بہت مشکل ہے۔

سلمان اعوان سے کمیشن میں یہ ممکنہ سوال پوچھا جانا ہے توہینِ امیز مواد اگر ڈارک ویب سے اتا ہے تو جن گروپوں میں یہ اتا ہے انکا ایڈمن کون ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے اج تک توہینِ امیز مواد بھیجنے والے کسی ایڈمن کا پتہ نہیں چلا اور متعدد ملزمان کو چھوٹی عدالتوں سے سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ کمیشن نے سائیبر سیکورٹی کے ماہرین کی مدد سے یہ بھی پتہ چلانا تھا یہ توہینِ امیز مواد دنیا کے دو ارب مسلمانوں کو چھوڑ کر صرف ان 35 لوگوں کو کیوں ملتا ہے۔ ڈارک ویب کا نشانہ تو بنگلہ دیش، بھارت اور دنیا بھر کے مسلمان بھی ہونا چاہیں یہ نظر کرم 35 رکنی بلاسفیمی گینگ تک کیوں محدود ہے۔ اصل میں ساری دال کالی ہے۔ اسی لئے کمیشن سے بھاگ رہے ہیں۔

تحقیقات سے بھاگ رہے ہیں۔ کمیشن کو توہینِ مذہب کے قانون میں تبدیلی سے جوڑ رہے ہیں۔ علماء اکرام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اس بات سے ڈڑتے ہیں تحقیقات ہوئیں تو پتہ چل جائے گا ملزم کو پکڑنے کے بعد اس کا فون کمپیوٹر سے منسلک کر کے توہینِ امیز مواد ڈالا گیا تھا۔ سائبر سیکورٹی والے ماہرین نے بتا دینا ہے گرفتاری ہو چکنے کے بعد ملزم توہینِ امیز گروپوں کو رکن بنایا گیا۔ توہینِ امیز مواد پلانٹ کیا گیا۔ پتہ چل جانا ہے ملزم کی گرفتاری کی جگہ پر انے تک کونسے نمبر کا اس سے مسلسل رابطہ تھا۔

‏دونوں قائدین واضح اعلان کریں کہ دیگر جماعتوں کی طرح ہم بھی اقتدار اور طاقت کے لئے سیاست کر رہے ہیں تو ممکن ہے کچھ لوگ توجہ دیں۔معاشرے نے نفاذ اسلام کو قبول کرنا ہوتا تو مولانا مفتی محمود اور مولانا مودودی مرحوم اللہ ان کے درجات بلند فرمائے کا علمی مقام اور اخلاص آپ لوگوں سے بہت بلند تھا

وہ تخت پر جو شخص تھا ، نشیں رہا ؟ نہیں رہا دلوں میں ایک روز بھی مکیں رہا ؟ نہیں رہا گلی گلی یہ حادثے گھڑی گھڑی کے وسوسے کسی کو اگلی سانس کا یقیں رہا ؟ نہیں رہا نظر سے لوگ گر گئے ، ذرا عروج کیا ملا جہاں پہ جس کا ظرف تھا وہیں رہا ؟ نہیں رہا سنا ہے اہلِ حَکم میں سبھی تھے صادق و امیں کوئی ہمارے درد کا امیں رہا ؟ نہیں رہا۔۔

شاہراہ بابوسر پاک آرمی نے ہیلی کاپٹر کے زریعے تھک اور جل کھڈ کے مقام پر پھنسے سیاحوں میں جوس، پانی اور بسکٹ تقسیم کردیئے ۔۔ حکام کے مطابق شاہراہ کو عارضی راستہ بنا کر بحال کردیا ہے ۔۔موسم صاف ہوتے ہی رستوں کی مکمل بحالی کر دی جائے گیچلاس میں لینڈ سلائیڈنگشاہراہ قراقرم بند متاثرہ سیاحوں کے لئے شہر کے تمام ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز مفت کھول دیئے گئے، ترجمان گلگت بلتستان حکومت

اہم کامیابی صحافیوں کو پیکا ایکٹ میں استثنی حاصل ہوگی ترمیمی بل منظور صحافی پر تشدد، صحافی کو دھمکی، صحافی کو نقصان پہچانے والے شخص کو 7 سال قید، 3 لاکھ جرمانہ عائد ہوگا، ترمیمی

*سینیٹ نے جرنلسٹ پروٹیکشن ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کرلیا*اظہار رائے سے مراد معلومات نشر کرنے اور شائع کرنے کا حق ہے ، بل کا متن بل کے تحت صحافیوں اور ان کے اہلخانہ و رشتہ داروں کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے گا کسی شخص کو صحافی کے فرائض کی ادائیگی کے دوران پرتشدد کارروائی کی اجازت نہیں ہوگی

صحافی پر فرائض کی ادائیگی کے دوران تشدد کے جرم ثابت ہونے پر 7 سال قید اور 3 لاکھ جرمانے کی سزا ہوگی بل کے تحت صحافی کو ذرائع کا انکشاف نہ کرنے اور رازداری کا حق حاصل ہوگا کوئی شخص کسی صحافی کو کسی بھی چیز کو ظاہر کرنے پر مجبور نہیں کرے گا۔صحافی پر معلومات کے ذرائع ظاہر کرنے کے لئے دبائو ڈالنے پر تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہو گا

صحافی کے آزادانہ فرائض کی ادائیگی میں حائل ہونے پر پانچ سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہوگا صحافیوں سے متعلق جرائم کی تیز ترین سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی صحافیوں کے تحفظ کیسز کے لیے وفاقی حکومت اسلام آباد اور صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس سے مشاورت سے سیشن کورٹ قائم کرے گیجرنلسٹ پروٹیکشن بل کے تحت کمیشن قائم کیا جائے گا کمیشن کے چئیرپرسن اور ممبران کا تقرر وفاقی حکومت کرے گیچئیرپرسن اور رکن کی مدت تین سال کی ہو گی ، جس میں توسیع نہیں ہو گیصحافیوں کے تحفظ کے کمیشن کا چئیرپرسن ہائی کورٹ کا جج یا جج کی اہلیت رکھنے والا شخص ہو گا

، بل کا متن چئیرپرسن کےپاس انسانی حقوق اور صحافیوں کے حقوق سے متعلق پندرہ سال کا پریکٹس کا تجربہ لازم کمیشن صحافی یا اسکے ساتھی کا تحفظ کرے گا جس پر اظہار رائے کی آزادی کی پریکٹس کی وجہ سے حملہ کیا جائےکمیشن صحافی کی بیوی ، زیر کفالت افراد ، ساتھی اور قریبی رشتہ داروں کا تحفظ کرے گاکمیشن صحافی کی پراپرٹی ، اشیاء، گروپ ، تنظیم اور سماجی تحریک کا تحفظ کرے گاکمیشن کی جانب سے شکایت آنے پر تھانے کا ایس ایچ او ایف آئی درج کرے گا، کیس کی تحقیقات کرنے والے پولیس افسر کے پاس فوجداری کیسز والے اختیارات ہوں گےکمیشن شکایت کرنے والے شخص کی شناخت خفیہ رکھنے کی ہدایت دے سکتا ہےکمیشن کے پاس خفیہ ایجنسی کے عمل اور پریکٹس کی تحقیقات کا اختیار نہیں ہو گااگر شکایت درج ہو جس میں الزام ہو کہ ایجنسی انسانی حقوق سے متضاد اور برعکس اقدام کر رہی ہے تو شکایت متعلقہ اتھارٹی کے سپرد کی جائے گیکمیشن کاہر رکن اور اسٹاف حکومت، انتظامیہ سے آزاد ہو گا

*پوٹن نے بیلاروس کے شہریوں کو روس کے الیکشنز میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دے دی۔ پوٹن نے نئے قانون پر دستخط کر دیئے*

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved