
نون لیگ کی جان، حکومت کا مان اور سابق وزیراعلی پنجاب محسن نقوی نے اسلام آباد کے چار ہوٹلوں میں شراب فروخت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقویمییرٹ ہوٹلسریناموو اینڈ پکبیسٹ ویسٹرن

جنگ میں توپخانہ مرکزی اور فیصلہ کردار ادا کرتا ہے -جب جنگ میں توپخانے کا استعمال شروع ہو جائے تک تو اس کا مطلب ھے “گل ودگئی اے”- اور جب جنگ لڑاکا طیاروں تک پہنچ جائے تو سمجھ جائیں “گل ہتھوں نکل گئی اے “- جس طرح رافیل ہوا میں اڑا کر بھارت نے گل اپنے ہاتھ سے ایسی نکلالی کہ واپس آنے کی نہیں-اب مجبوراً بھارت نے اپنے ایئر چیف کو انفارمیشین کے میدان میں” انّے واہ” اتار دیا ھے-بھارت فضا میں اور زمین پر ھزیمت اٹھانے کے بعد اب “ورچئل میدان” میںں قسمت آزما رھا ہے- بھارت کے قابو نہ امریکی مارکیٹ کا ریٹ آ رھا ہے، نہ ہی راہول گاندھی اور نہ ہی تباہ ہونے والی رافیل سمیت جنگی جہازوں کی شکست فاش کی ہزیمت- پی ایم اے میں پاسنگ آؤٹ سے ایک ھفتہ پہلے یونٹ کی allocation بہت دلچسپ مرحلہ ہوتا ہے- کیونکہ باقی نوکری اس یونٹ میں گزارنی ہوتی ہے تومستقبل کی نوید سننے کے لئے ہال میں سب کیڈٹ براجمان ہوتے ہیں- یونٹیں الاٹ کرنے والا افیسر ایم ایس برانچ، جی ایچ کیو سے جاتا ہے-

افسر جی سی نمبر پکارتا ہے ، کیڈٹ کھڑا ہو جاتا ہے، افسر ،یونٹ اور یونٹ کی جگہ بتاتا ھے اور کیڈٹ نڈھال سا ہو کر یا خوشی کے آنسو لئے کرسی پر گر سا جاتا ہے-مجھے الاسد بٹالین ( ۳۰ آزاد کشمیر رجمنٹ) الاٹ ھوئی اور ساتھ ہی افسر نے بولا BDA- انفنٹری یونٹ ملنے پر بے حد خوشی ہوئی، لیکن BDA نے کنفیوژ کر دیا- میں خوشی اور حیرانی کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ بیٹھ گیا اور دائیں بائیں دیکھا کہ شاید ان کو معلوم ھو لیکن ساتھ بیٹھے دونوں پلاٹون میٹ توپخانے کی الاٹمنٹ سے گھائل ھو چکے تھے اور کچھ بھی بولنے کی پوزیشن میں نہیں تھے- یونٹیں ملتی جا رھی تھیں ، خوشی اور غم ساتھ ساتھ پھلجڑیاں بکھیر رھے تھے- لیکن میرے دماغ میں بی ڈی اے گھوم رھا تھا-یونٹوں کی الاٹمنٹ شادی کے کھانے کی طرح ہے- مٹھے اور لونے چاولوں کی دیگ کے ساتھ پالک پنیر بھی ہوتی ہے- آرمڈ کور کو مٹھے چول کہنے میں کوئی حرج نہیں- کیونکہ سب سے زیادہ آرمڈ کور والوں کے چہرے ہی چمک رھے ہوتے ہیں- انجنئرز اور انفنٹری والے بھی خوش ہوتے ہیں ، لگتا ہے مٹھے اور لونے چولوں کی دونوں دیگیں کھا کے نکلے ہیں- ٹیکنیکل اور سروسز مٹھے، لونے چولوں کی دیگ اور ربڑی سمجھ لیں؛ خوش باش – کچھ کو پالک پنیر بھی کھانی پڑتی ھے-جب یونٹ الاٹمنٹ کی عظیم تقریب اختتام پزیر ھوئی تو ہم نے BDA کی کھوج شروع کر دی- ہمیں تلاش کرنا تھا کہ یہ پر اسراریت کیوں؟

کہیں ہماری قابلیت کی وجہ سے تو ہماری تعینیاتی کی جگہ کو خفیہ نہیں رکھا جا رہا کہ مبادا دشمن کو علم ہوجائے کہ ہمیں کس سٹریٹجک صورتحال میں استعمال کیا جائے گا-تھوڑا فخر سا محسوس ہوا اور حیرانی بھی کہ ہم میں کون سی ایسی قابلیت ھے کہ ہمیں بھی نہیں بتایا جا رھا کہ ہمیں کہاں بھیجا جا رھا ہے- ہماری طرح کے کچھ اور بھی سٹریٹجک اثاثے بوکھلائے ہوئے BDA کو ڈھونڈتے پھر رھے تھے-کوئی دو تین گھنٹے کی تگ و دو کے بعد یہ تو اندازہ ہو گیا تھا کہ BDA کوئی خیر کی خبر نہیں- ہمیں شاید دشمن کے دو بدو جنگ کے لئے چنا گیا تھا-یا اللہ یونٹ کا اسٹیشن کیوں نہہں بتایا کا رھا؟ یہ BDA کا کیا ماجرا ہے-بالاخر، ایک سرا ہاتھ آیا-گھومتے پھرتے ، ایک پلاٹون کمانڈر نے کوڈ توڑا کہ یہ Border Defence Area کو کہتے – آدھے کوڈ سے ہیجان اور بڑھ گیا-

بارڈر ڈیفینس ایریا میں کہاں؟ لیکن یہ کلئر ہو گیا کہ ویزا سیدھا لائن آف کنٹرول کا ہے آگے کس ایئر پورٹ پر لینڈ کرنا ھے وہ پتا چل ہی جائے گا- خدا خدا کر کے دو تین دن کی تگ و دو کے بعد عقدہ کھلا کہ ہم نے چھمب جوڑیاں سیکٹر میں جانا ہے-جیسے love میرج اور arranged میرج میں شادی کے کچھ ماہ بعد فرق ختم ھو جاتا ہے اسی طرح کیڈٹ کو کونسی arm یا یونٹ ملی ھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا- جن میں دم ہوتا ہے وہ اوپر نکل جاتے ہیں -توپخانے کا ذکر آیا تو بتاتا چلوں ہمارے کورس میں چار میجر جنرل اور ان میں سے پھر دو تھری سٹار توپخانے کے ہیں-پی ایم اے میں پاسنگ آؤٹ کے لئے دو پچیں تیار کرتے ہیں- ایک فاسٹ، جسے ڈرل سکئیر کہتے ہیں اور دوسری خراب موسم کے لئے بٹالین میس کے اندر- ہم بٹالین میس میں پاس آؤٹ ہوئےپاس آؤٹ ھو کر گھر پہنچ گئے- آگے بی ڈی اے تک کیسے پہنچے وہ پھر کبھی سہی –

سپاہی کو بچانا ہے ! ۔۔۔۔۔۔۔عبدالغفور چودھری کی سوانح ،، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ،، ۔۔۔۔۔۔۔مبصر !! جبار مرزا ۔۔۔۔۔۔عبدالغفور چودھری کا تعلق اولیائے اللہ کی سرزمین قصور سے ہے مولانا محمد شفیع نے اپنی کتاب ، اولیائے قصور، میں تین سو سے زائد ولیوں کا احوال لکھا ہے ، وہ ولائت اور روحانی کشف جناب عبدالغفور چودھری کی شخصیت میں بدرجہ اتم موجود ہے ،سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک بڑے خاصے کا مرقع ہے ، عزم و ہمت کی داستاں ہے ، زندگی کے آخری سانس تک جینے کی تحریک ہے ، اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے بعض تبصرہ نگاروں نے لکھا کہ ، ایک معمولی پاکستانی کیسے کامیاب ہوا ، ان احباب کے لئے عرض ہے کہ پاکستانی ہونا ہی اعزاز ہے ، اور پھر سپاہی ہونا اس سے بھی بڑا اعزاز ہے ، ڈپٹی کمشںنر بن جانا اسی سپاہیانہ زندگی کا ارتقائی عمل ہے ، ہر ذمہ دار شخص بنیادی طور سے سپاہی ہے ، یعنی بہادر ہے ،عسکری ہے ، لشکری بھی اور جنگجو بھی ، جنگجو محض وہ نہیں ہوتا جو اچھی تلوار چلا لے ، جہالت کے خلاف نکلنا بھی جنگ ہے ،خلقت خدا کی نگہبانی بھی جہاد ہے ،،، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ،، میں عبدالغفور چودھری کئی محاذوں پر سینہ سپر دکھائی دیتے ہیں ،




وہ کہیں شہید یا غازی کے ارادے سے گھر سے نکلتے ہیں اور سپاہی کے مورچے میں اتر جاتے ہیں ، اور کبھی ٹوبہ ٹیک سنگھ ، میں ڈومیسائل برانچ کو ہفتے عشرے کے دلدر کو ،کم کر کے رشوت خوری کے ،، کھلے کٹے ،، کو ،، ون ونڈو اپریشن ،، کے رسے سے، باندھ دیتے ہیں ، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ، ایک سچے کھرے مجاہد کی داستان حیات ہے ، جو زندگی کے کئی محاذوں پر کھڑا دکھائی دیتا ہے ، عبدالغفور چودھری نے قائد اعظم رح کا فرمان ،، کام کام اور صرف کام ،، پر عمل کر کے دکھا دیا ہے ، وہ اگر ایک طرف پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے نبرد آزما رہے تو دوسری طرف علم کے چراغ کی لو کو بڑھانے میں لگے رہے ، انہوں نے زندگی کو برتا ہے ، وقت کی اہمیت کو پہچانا ، زندگی دیکھ کے بھی چلے اور اسے چل کے بھی دیکھا ہے ، جناب عبدالغفور چودھری نے جس جس پہلو پر جس جس چیز کی ضرورت محسوس کی اس اس چیز کو پورا کیا ، وہ شاہراہ زندگی پر بڑھتے بھی رہے اور پڑھتے بھی رہے ، وہ اگر ایک بہترین ضلعی منتظم ہوئے تو ایک اچھے ماہر تعلیم بھی کہلائے ، انہوں نے پڑھا بھی اور پڑھایا بھی ، اسلامیات ، سیاسیات ، اور انگریزی ، ادب میں ماسٹر کرنے کے ساتھ ساتھ ایل ایل بی ، کی ڈگری بھیحاصل کی

، عبدالغفور چودھری کی عظمت کو سلام ، کہ انہوں نے ،، سی ایس ایس ،، اور ،، پی سی ایس ،، کی چوٹی پر کمند ڈالی اور اگر ایک آدھ بار وہ کوشش خطا بھی چلی گئی تو حوصلہ نہ چھوڑا ، دوبارہ کمند کھینچی اور وہ بلندی سر کر لی ، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک اعداد و شمار کے اعتبار سے ایک قابل بھروسہ تاریخ ہے ، اس میں 1971 ء کے حوالے سے پاکستان کے لڑاکا فوجی ، قیدی بچے ، بڑے ، بوڑھے اور خواتین قیدیوں کی تعداد کو ٹھیک ٹھیک لکھا گیا ہے ، البتہ جناب عبدالغفور چودھری نے ،،

عظیم ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب سے ہمارا تعلق بھی ہے ،، کے عنوان سے اپنے ہم جماعت سائنسدان محمد رمضان کا ذکر کرتے ہوئے ، وہ پاکستان کے الگ الگ دو اداروں ، پاکستان اٹامک انرجی کمشن اور کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کو یکجا کر گئے ، ،، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ،، بہت عمیق نظر سے پڑھے جانے والی ،، خود نوشت ،، ہے اس میں ایک ایک لمحے اور کسی بھی محفل میں موجود ہر شخص کا کہا گیا ایک ایک جملہ محفوظ کیا گیا ہے ، یہ بہت ہی حساس مرقع ہے ، اسے ہم جذبوں کا انسائکلوپیڈیا بھی کہہ سکتے ہیں ، جناب عبدالغفور چودھری نے ایک ایک سانس اور منظر قلم بند کیا ہے ، وہ جب فوج میں سپاہی بھرتی ہو کے تین دن کی چھٹی پر گھر آتے ہیں تو ، جس جس سواری سے آئے ، جہاں سے گزرے ، جس بوٹے تلے کھڑے ہوئے، جس کسی نے انہیں راستے میں دیکھا سارا احوال لکھا لیکن جب وہ گھر پہنچے تو گھر کے سارے افراد سوئے پڑے تھے، ہمارا خیال تھا اب چودھری صاحب یہاں خراٹے ڈالیں گے ، لیکن نہیں انہوں نے وہاں دیہاتی رہتل کی بات کر تے ہوئے لکھا کہ دیہاتوں میں عشاء کے بعد سو جاتے ہیں اور صبح صادق میں جاگ جاتے ہیں ، یہ عین فطرت ہے ! ،، سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ،، عبدالغفور چودھری کوئی پہلا سپاہی نہیں ہے جو ڈپٹی کمشنر ہوئے ، بلکہ افواج پاکستان کا دوسرے نمبر بننے والا کمانڈر انچیف جنرل موسی خان بھی فوج میں سپاہی بھرتی ہوئے تھے ، 1991ء کے ابتدائی دنوں کی بات ہے ان دنوں ہماری ایک کتاب ،، ضیاء دور فضل حق کی نظر میں ،، کا بہت چرچا تھا اس میں ہم نے سانحہ بہاولپور ، عارف الحسینی ،قتل ، 1965 ء کی جنگ ستمبر کےاحوال رقم کئے تھے ، وہ کتاب جنرل فضل حق نے ، جنرل موسی کو بھی بھیجی تھی ، ایک دن اچانک ائیر پورٹ پر ہمارا جنرل موسی سے سامنا ہو گیا ، ہم نے اپنا تعارف کرایا تو انہیں ہماری کتاب جو انہوں نے تازہ تازہ پڑھی تھی ، وہ یاد آگئی بڑی اپنائیت گرم جوشی اور درویشی انداز میں ملے ، ایسے میں ہم نے موقع غنیمت جان کر جنرل موسی سے کہا کہ جناب ، آپ فوج میں سپاہی بھرتی ہوئے اور فور سٹار جرنیل تک پہنچے ، پھر متحدہ پاکستان میں مغربی پاکستان کے گورنر رہے اور آجکل آپ بلوچستان کے گورنر ہیں ، پلٹ کے دیکھیں تو اس سارے سفر کا کون سا لمحہ زیادہ اچھا لگتا ہے ؟؟




اس پر جنرل موسی نے کہا کہ ،، مجھے 1926 ء کا وہ دن نہیں بھولتا جب میں فوج میں سپاہی بھرتی ہوا تھا ، پھر انہوں نے ہماری کتاب ضیاء دور ، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ، پتہ ہے میں نے 1965 ء کی جنگ کے آثار پیدا کرنے کی ذوالفقار علی بھٹو کی کوشش کی مخالفت کیوں کی تھی ، میں بطور کمانڈر اپنے سپاہی کو بچا رہا تھا ،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جبار مرزا 10 اگست 2025

چائنہ نے پاکستان کو ابتدائی طور پر گیارہ جے 35 ففتھ جنریشن طیارے ڈلیور کر دیے۔ پاکستان ففتھ جنریشن طیارے رکھنے والا دنیا کا پانچواں ملک بن گیا۔ ستمبر اکتوبر میں PL-17 میزائلز بھی پاکستان کو مل جائیں گے۔ ان میزائلز کی رینج چار سو کلومیٹر تک ہے۔ چائنہ یہ میزائلز اپنے لیے طیار کرتا ہے اور جن دوست ممالک کو دیتا ہے اس کی رینج لمٹ ہوتی ہے لیکن پاکستان کو وہی فل رینج میزائلز دے رہا ہے جو خود اپنے لیے بنا رہا ہے۔




ففتھ جنریشن طیارے جے 35 پر ماؤنٹ PL-17 میزائلز سے پاک فضائیہ کے پاس دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی سے مزین قوت ہو گی۔ پاکستان اس وقت عالمی منظرنامے کا اہم ڈپلومیٹک کھلاڑی بنا ہوا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ امریکا بھی خوش ہے۔ چین بھی دوست۔ ایران بھی واپس ٹریک پر آ رہا ہے۔ افغانستان سے معاملات درست سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ روس سے بھی سفارتی تعلقات بہترین چل رہے ہیں۔ اور بھری دنیا میں بھارت کو کارنر کیا جا رہا ہے۔ تو یہ ہے اگست کا تحفہ۔ پاکستان پائندہ باد۔ ❤️صفدر حسین بھٹیکوارڈئنیٹر سوشل میڈیا ٹیم پاکستان مسلم لیگ ن چنیوٹ










