تازہ تر ین

میرے 10بچے ہوتے تب بھی فوج میں بھیجتا۔لوگو،،بچوں کو فوج میں بھیجنے سے ڈرنا مت!کیپٹن تیمور حسن شہید کے والد کا جذباتی پیغام۔دس بچے بھی ھوتے تو فوج میں بھیجتا۔۔سیکٹر ایف سکس میں گھروں کے باہر غیر قانونی سیکورٹی کیبنز اور گارڈ رومز کے خلاف آپریشن جاری، اے سی سٹی کی نگرانی میں کاروائی، 55 گھروں کے باہر جگہ کلئیر کروا لی گئی۔۔پنجاب میں سیلاب 769 گاؤں ڈوب گئے کروڑوں لوگ بے گھر تاریخ کی سب سے بڑی تباہی۔۔پنجاب میں سیلاب 769 گاؤں ڈوب گئے کروڑوں لوگ بے گھر تاریخ کی سب سے بڑی تباہی۔۔‏اس سال بارش کی وجہ سے بہت Rains ہوئی ہیں!!! مریم نواز۔وفاقی دارالحکومت کے مختلف سیکٹرز میں گھروں کے باہر تجاوزات کی صورت میں پڑے سیکورٹی گارڈ کیبنز کے خلاف ضلعی انتظامیہ اور سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول کا مشترکہ آپریشن، مزید 40 گھروں کے باہر ایریا کلئیر کروا دیا گیا۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

برگیڈئیر راجہ حسن عباس کی آنکھوں میں تیرتا درداس باپ کے دل پر کیا بیت رہی ہوگی جس کے گھر شادی کی شہنائیوں نے گونجنا تھا اور آج اسی جگر گوشے کو سپرد خاک کر رہے ہیں۔ اللہ کی مصلحتیں ہم نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ تعالی کیپٹن تیمور حسن کے درجات بلند فرمائیں اور انکے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائیں آمین۔ بہت ساری دعائیں ان دکھی دلوں کے لئے‏فوجی جوان صرف اپنی جان نہیں دیتے بلکہ اپنے خوا، اپنی خوشیاں اور اپنے گھر کے چراغ بھی قربان کر جاتے ہیں۔کوئی اپنی ماں کی ممتا چھوڑتا ہے کوئی باپ بیٹے کی شادی کی خوشی، تو کوئی بچے کے پہلے لفظ کی مسکراہٹ…یہ سب کچھ قربان کر کے بھی لبوں پر صرف یہی کہتے ہیں

پورن وزیراعظم اور دلال جج ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے دریائے راوی کے کنارے ہاؤسنگ اسکیموں کے فیصلے کے خلاف 25 جنوری 2022 کو فیصلہ دیا راوی اربن ڈویلپمنٹ پروگرام لاکھوں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دے گا ۔پروگرام شروع کرنے سے پہلے مستقبل کی مون سون بارشوں،بھارت کی طرف سے پانی کے اخراج اور ماحولیاتی تحفظ کے متعلق کوئی ضمانت موجود نہیں ۔جسٹس شاہد کریم نے اپنے فیصلے میں اراضی کے حصول کو غیر قانونی اور عوامی فنڈ کے غلط استعمال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئےRUDAکو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا ۔اس وقت ہاؤسنگ اسکیموں کے مالکان پی ٹی آئی کی تین خواتین کے زریعے پورن وزیراعظم کو بھاری “مال پہنچا”چکے تھے ۔جس طرح ملک ریاض سے پانچ قیراط ہیرے کی انگوٹھیاں لے کر بحریہ پشاور کے تالے پالتو ججوں سے کھلوائے گئے تھے یہاں بھی پورن وزیراعظم تینوں خواتین کے واویلے پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست کے کر بھاگا بھاگا سپریم کورٹ پہنچ گیا ۔وہاں چھوٹا موجود تھا ۔اس نے مظاہر ٹرکاں والا اور اعجاز الاحسن کو “معاملہ نپٹانے” کی ہدایات جاری کر دیں ۔دونوں نے شاندار غلاظت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی فیصلہ تو نہیں دیا لیکن جسٹس شاہد کریم کے فیصلے کو معطل کر دیا ۔عبوری حکم میں یہ بھی کہہ دیا جہاں معاوضہ دیا جا چکا ہے زمین حاصل ہو چکی ہے وہاں کام جاری رکھا جائے ۔یہ تھا اصل جرم ۔مقدمہ کے میرٹ پر کوئی بات نہیں کی ماحولیات پر کیا اثرات ہونگے،مستقبل کی مون سون بارشوں اور بھارت کی طرف سے اضافی پانی چھوڑا گیا ہاؤسنگ اسکیموں کے لاکھوں رہائشی کہاں جائیں گے

۔بابا ڈیم والے اور پھر بنڈیال دونوں نے بددیانتی کی انتہا کرتے ہوئے جسٹس شاہد کریم کا فیصلہ ریگولرایز نہیں ہونے دیا اور ایک عبوری سٹے آرڈر کے زریعے ہاؤسنگ اسکیموں کی لوٹ مار کو قانونی تحفظ فراہم کئے رکھا۔یہ چاروں مکروہ کردار ریٹائرمنٹ حاصل کر چکے ہیں ،بنڈیال،ثاقب نثار،مظاہر ٹرکاں والا اور اعجاز الاحسن ۔عام لوگ کھربوں روپیہ کے پلاٹ ان ہاؤسنگ اسکیموں میں خرید چکے ہیں ۔اج راوی غصے میں ہے اور بھاگنے کا کوئی راستہ موجود نہیں سوائے اس کے کہ ہاؤسنگ اسکیموں کے لاکھوں مکینوں کو بچانے کیلئے قریبی دیہات ڈبو دئے جائیں ۔تینوں لڑکیوں میں سے ایک جیل میں ہے ،دوسری بیرون ملک بھاگ چکی ہے اور تیسری تحریک چلا رہی ہے ۔راوی کو سیوریج نالہ کہنے والا جیل سے فیلڈ مارشل کو دھمکیاں دیتا ہے ۔آج 2022 میں کی گئی بدمعاشی اہل لاہور بھگت رہے ہیں اور مستقبل میں بھی بھگتیں گے ۔ہیرے کی انگوٹھیاں لے کر قوم کی قسمت کھوٹی کرنے والے خود کو ڈھٹائی سے مسیحا بتاتے رہیں گے ۔

تیس روپیہ کے چار قتل ۔اظہر سید چاروں نوجوان غربت نے مارے ہیں۔معاشرے میں پھیلی بے بسی اور فرسٹریشن قاتل ہے ۔عوامی وسائل سے اپنی نسلوں کی زندگیاں سنوارنے والے اصل قاتل ہیں۔تیس روپیہ کے کیلوں پر ہونے والا جھگڑا کبھی دو جوان زندگیاں نہ لیتا اگر معاشرے میں بے بسی اور بے چارگی نہ ہوتی۔مقتولین دولت مند ہوتے ۔پرسکون زندگی گزارنے والوں میں شامل ہوتے کبھی بھی تیس روپیہ کیلئے پھل فروش کے گلے نہ پڑتے ۔وہ اپنی جیب سے اسے اضافی پیسے دے دیتے ۔ہنس کر اسے گدگدی کرتے اور آگے چل پڑتے۔دونوں نوجوان غریب تھے ۔یہ تعلیم یافتہ بھی نہیں تھے ۔یہ جو بھی کام کرتے تھے بہت کم معاوضہ پاتے تھے۔جسم و جان کا رشتہ ہی با مشکل برقرار رہتا تھا ۔یہ تیس روپیہ کیلئے لڑ پڑے ۔پھل فروش بھی غریب تھا ۔اسے بھی ریاست نے تعلیم ،صحت اور روزگار کی سہولتیں نہیں دی تھی ۔یہ بھی نوجوان تھا ۔اس کے بھی چھوٹے چھوٹے بچے تھے ۔یہ بھی بامشکل جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھے ہوا تھا۔یہ امیر ہوتا۔پرسکون زندگی گزار رہا ہوتا کبھی بھی تیس روپیہ کیلئے دونوں بھائیوں سے نہ لڑتا۔یہ لڑنے کی بجائے مسکرا کر انہیں دو تین اضافی کیلئے فری میں دے دیتا۔پھل فروش نے لڑائی کے دوران مدد کیلئے جن بھائیوں اور عزیزوں کو بلایا وہ بھی بدترین غربت کا شکار تھے ۔بھوکے ننگے غربت کی زندہ تصویریں ۔فرسٹریشن نے انکی زندگیاں بھی اجیرن کر رکھی تھیں۔ان میں کوئی بھی پر سکون نہیں تھا ۔سب مل کر ڈنڈوں اور کرکٹ کے بیٹ کے ساتھ دونوں بھائیوں پر پل پڑے۔

مار مار کر انہیں جان سے ہی مار دیا۔ویڈیو بنانے والے بھی سارے غریب غربا تھے ۔کسی نے نہیں کہا مت لڑو تیس روپیہ کیلئے میں دے دیتا ہوں۔وہ بے حس تماشائی بن چکے تھے ۔معاشرتی ناانصافیوں نے انکے دلوں سے بھی محبت نکال کر نفرت بھر دی تھی ۔یہ سارے زومبیز تھے ۔مرنے والے ۔مارنے والے ،ویڈیو بنانے والے ۔سارے ایک جیسے تھے ۔دونوں بھائی زخموں سے چور ہو گئے ایک موقع پر مر گیا ۔دوسرا ہسپتال کے بستر پر مر گیا ۔دو جوان لوگوں کی موت کے بعد ریاست بھی زومبیز بن گئی۔ریاست نے دو قاتلوں کو پولیس مقابلے میں مار دیا

۔ٹوٹل چار مر گئے ۔فی قتل سات روپیہ تئیس پیسے ۔مقتولین کی ماں کو دیکھیں کچے گھر میں غربت اور دکھوں کی تصویر ۔اپنے جوان بیٹوں کی موت پر بین کرتی ہوئی ۔پولیس مقابلے میں مرنے والے نوجوانوں کی ماؤں کو دیکھیں ،کچے گھروں میں غربت اور بے بسی کی تصویریں ۔اپنے جوان بیٹوں کی لاشوں پر بین کرتے ہوئے ۔یہ ایک جیسی مائیں ہیں ۔یہ ایک جیسے نوجوان ہیں قتل کرنے والے اور قتل ہونے والے ۔ان نوجوانوں کے یتیم ہو جانے والے بچوں اور بیویوں کی تقدیر اور قسمت بھی یکساں ہیں ۔غربت، اور بے بسی ۔یہ جب سارے ایک جیسے تھے تو پھر ان نوجوانوں کا قاتل کون ہے ۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved