
*بنگلہ دیش میں عام انتخابات فروری 2026 میں منعقد کرانے کا اعلان*بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے سربراہ اور نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس نے کہا ہے کہ ملک میں آئندہ عام انتخابات فروری 2026 میں ہوں گے۔عالمی خبر رساں اداروں رائٹرز اور اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی معزولی کا ایک سال مکمل ہونے پر محمد یونس نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’عبوری حکومت کی جانب سے میں چیف الیکشن کمشنر کو ایک خط لکھوں گا، جس میں درخواست کی جائے گی کہ انتخابات رمضان سے پہلے، فروری 2026 میں کرائے جائیں۔‘عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے 85 سالہ محمد یونس نے کہا کہ وہ انتخابات کے بعد مستعفی ہو جائیں گے۔

میڈیا میں خبریں عام ہیں کہ ملک ریاض نے پاکستان بھر میں پھیلے بحریہ ٹاونز کا آپریشن بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ہزاروں ملازمین کی تنخواہیں دینے سے معذوری ظاہر کر دی ہے۔ نیب نے بحریہ کے کچھ پروجیکٹ نیلام کرنے کی تاریخ 07 اگست مقرر کی ہے.. ملک ریاض نے ساری عمر جن کی آشیرباد سے زمینیں ہتھیائیں وہ اس ملک کی عسکری و پولیٹیکل ایلیٹ ہے۔ملک ریاض کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ صرف اس کے ساتھ ہیکیوں؟؟ اس کے ساتھ بڑی بڑی نوکریاں کرنے والے لوگوں، یا سہولت کاروں یا شراکت داروں کے خلاف کون کارروائی کرے گا ؟۔ سلیکٹیو جسٹس کوئی جسٹس نہیں ہوتا۔ کس نے کراچی میں سرکاری زمین بحریہ کو الاٹ کروائی ؟۔ آپ قبضے کریں ، لوگوں سے دھونس ڈنڈے پر زمینیں خریدیں، لوگوں کو اُٹھائیں، لوگوں کو دھمکائیں، پرائیویٹ ملیشیا بنا کر لوگوں پر تشدد کروائیں اور بحریہ ٹاؤنز بڑھاتے جائیں اور اس سارے کام میں عسکری و سیاسی ایلیٹ ساتھ ہو… مگر کسی نہ کسی کہ آہ عرش ہلا ہی دیتی ہے۔ ملک کے حکمران و اشرافیہ بھی ضرور سوچیں۔

ہیگسیتھ کے سینیئر مشیر نے وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ رابطہ کار کو پینٹاگون سے ہٹانے کی کوشش کیواشنگٹن ڈی سی (4 اگست 2025) — صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران پینٹاگون میں تعینات عملے میں اختلافات، عدم اعتماد اور رسہ کشی میں ایک اور ہلچل مچ گئی ہے، جب دفاعی سیکریٹری پیٹ ہیگسیتھ کے عبوری چیف آف اسٹاف، رکی بوریا، نے ایک سینیئر وائٹ ہاؤس رابطہ افسر میتھیو اے مک نِٹ کو پینٹاگون سے نکالنے کی ناکام کوشش کی۔یہ جھگڑا اُس وقت سامنے آیا جب بوریا کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا —




خاص طور پر ان کی طرف سے دفاعی سیکریٹری کے دفتر میں اہم عہدوں پر تقرریوں کی کوششوں پر۔ ساتھ ہی ساتھ، بوریا کو مستقل طور پر چیف آف اسٹاف کا عہدہ دینے سے بھی انکار کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق، یہ تنازعہ وائٹ ہاؤس اور ہیگسیتھ کے درمیان موجود ایک نازک مفاہمت کو بھی کمزور کر چکا ہے —

جس کے تحت بوریا کو غیر رسمی طور پر چیف آف اسٹاف کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کی اجازت ملی تھی، کیونکہ پہلے سے نامزد کردہ کئی امیدواروں نے یہ عہدہ سنبھالنے سے انکار کر دیا تھا۔وائٹ ہاؤس کی مداخلتمعاملے سے واقف افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب بوریا نے مک نٹ کو ہٹانے کی کوشش کی تو وائٹ ہاؤس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے اس کوشش کو روک دیا۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان، انا کیلی نے بیان میں کہا:“صدر ٹرمپ، سیکریٹری ہیگسیتھ کی پینٹاگون میں جنگجوؤں پر توجہ مرکوز کرنے کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں، نہ کہ بیداری اور تنوع پر مبنی مہمات کی۔”انہوں نے مزید کہا کہ:“دفاعی محکمے میں 90 فیصد سیاسی تقرریاں مکمل ہو چکی ہیں، اور تمام اہلکار، بشمول میتھیو مک نِٹ، اس مشن کا حصہ ہیں جس کا مقصد دنیا کی سب سے مہلک جنگی قوت کی تشکیل ہے۔

”بیان میں رکی بوریا کا ذکر نہیں کیا گیا۔یہ واضح نہیں کہ ہیگسیتھ کو بوریا کی کوششوں کا پہلے سے علم تھا یا انہوں نے اس کی منظوری دی تھی۔پینٹاگون میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہےپینٹاگون کے ترجمان اور ہیگسیتھ کے مشیر شان پرنیل نے اس معاملے پر کوئی براہ راست تبصرہ نہیں کیا، البتہ ایک مختصر بیان میں اسے “افواہیں اور بلاگ پوسٹس” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

“جب جھوٹی خبریں چلانے والے میڈیا کے پاس عوام کو بتانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تو وہ چائے کی پیالی میں طوفان کھڑا کرتے ہیں۔”میتھیو مک نٹ — جو صدر ٹرمپ کی پہلی مدت میں بھی مختلف عہدوں پر فائز رہے — تبصرہ کے لیے دستیاب نہ ہو سکے، اور بوریا نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔پہلے چھ ماہ میں بد نظمیصدر ٹرمپ کی واپسی کے پہلے چھ مہینے میں پینٹاگون کئی تنازعات سے دوچار رہا ہے۔ ہیگسیتھ کی قیادت میں اچانک برطرفیاں، ذاتی اختلافات، دھمکیاں، اور ناقص حکمرانی معمول بن چکی ہیں۔

ان کے مشیر بوریا، ان تمام تنازعات کا مرکزی کردار سمجھے جاتے ہیں۔ایک حالیہ ریٹائرڈ میرین کرنل، بوریا نے اپریل سے ڈی فیکٹو چیف آف اسٹاف کی حیثیت سے فرائض سنبھال رکھے ہیں، جب ہیگسیتھ کے اصل امیدوار جو کیسپَر نے استعفیٰ دے کر نجی شعبے میں شمولیت اختیار کر لی۔ذرائع کے مطابق، بوریا نے ہیگسیتھ کو دیگر مشیروں سے الگ تھلگ کر کے پینٹاگون کے اندرونی معاملات پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔متنازع تقرریاں اور پولی گراف ٹیسٹحالیہ دنوں میں، ہیگسیتھ نے لیفٹیننٹ جنرل ڈگلس سمز کی ترقی کا فیصلہ منسوخ کر دیا،

جو جوائنٹ اسٹاف کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ یہ فیصلہ چیئرمین جوائنٹ چیفس، جنرل ڈین کین کی براہِ راست اپیل کے باوجود کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، اس اہم ترین فوجی عہدے کو فی الحال عبوری طور پر میجر جنرل اسٹیفن لیشوسکی نے سنبھالا ہے۔ نیوی کے وائس ایڈمرل فریڈ کاچر کو اس عہدے کے لیے نامزد کیا گیا ہے، جو سینیٹ کی توثیق کے منتظر ہیں۔ہیگسیتھ نے افشا ہونے والی معلومات پر قابو پانے کے لیے، امسال کے آغاز میں لیفٹیننٹ جنرل سمز پر پولی گراف ٹیسٹ کروانے کی دھمکی بھی دی تھی — جیسا کہ وال اسٹریٹ جرنل پہلے رپورٹ کر چکا ہے۔اپریل اور مئی کے اوائل میں، کچھ اہلکاروں کے خلاف پولی گراف ٹیسٹ کیے بھی گئے، مگر بعد میں وائٹ ہاؤس کی ہدایت پر روک دیے گئے، کیونکہ ہیگسیتھ کے ایک سیاسی مشیر پیٹرک ویور نے شکایت کی کہ بوریا انہیں بھی ٹیسٹ میں شامل کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ ویور نے ہمیشہ ٹرمپ کے ایجنڈے کی حمایت کی ہے۔خفیہ معلومات لیک ہونے کا اسکینڈلبوریا اور ہیگسیتھ ایک اور تنازعے میں بھی زیرِ تفتیش ہیں —

جو سیکریٹری دفاع کے سگنل چیٹ ایپ کے استعمال سے متعلق ہے۔ محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ مارچ میں ہیگسیتھ کے سگنل اکاؤنٹ سے یمن میں ممکنہ بمباری کی خفیہ تفصیلات شیئر کی گئیں، جو ایک “خفیہ / صرف امریکیوں کے لیے” درج شدہ ای میل سے حاصل کی گئی تھیں۔یہ حساس معلومات صدر ٹرمپ کے قریبی مشیروں کے ساتھ ساتھ ہیگسیتھ کی بیوی جینیفر اور ذاتی وکیل ٹم پرلاتورے کو بھی بھیجی گئی تھیں۔انسپکٹر جنرل اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ معلومات چیٹ گروپ میں کس نے پوسٹ کیں، کیونکہ بوریا کو ہیگسیتھ کے ذاتی فون تک رسائی حاصل تھی،

اور وہ اکثر ان کی جانب سے پیغامات بھی بھیجتے تھے۔گزشتہ ہفتے، ہیگسیتھ کی ٹیم نے انسپکٹر جنرل کے دفتر پر جوابی حملہ کیا — غالباً اس تفتیش کی ساکھ کو عوامی سطح پر چیلنج کرنے کی کوشش، قبل اس کے کہ رپورٹ منظر عام پر آئے۔










