
تیراہ میں کیا ہوا؟ایک دن پہلے خارجیوں کی طرف سے داغے گئے مارٹر گولے میں ایک بچی شہید ہوگئی۔ واقعے کے فوراً بعد مقامی بریگیڈیئر نے قبائلی عمائدین سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس وقت فوج کی طرف سے کوئی آپریشن جاری نہیں، فوجی اپنی پوسٹوں پر ہیں یا ہیڈکوارٹر میں تعینات ہیں۔

یہ مارٹر گولہ خارجیوں کی طرف سے فائر کیا گیا ہے۔ عمائدین یہ بات سمجھ گئے قبائلی خوب جانتے ہیں کہ خارجی اکثر فوجی پوسٹوں کو مارٹر یا کواڈ کاپٹر ڈرونز سے نشانہ بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

ان حملوں میں کئی مرتبہ سویلین بھی نشانہ بن جاتے ہیں، جس کا الزام فوری طور پر فوج پر ڈال دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسے ہر الزام کی تصدیق کے لیے پی ٹی ایم اور ٹی ٹی پی والے تیار بیٹھے ہوتے ہیں فوجی قیادت اور مقامی عمائدین کی ملاقات کے بعد، پی ٹی آئی اور پی ٹی ایم کے کچھ حامیوں نے نعرے لگائے کہ “ہم نہیں مانتے” اور اعلان کیا کہ وہ اگلے دن فوجی ہیڈکوارٹر کے سامنے مظاہرہ کریں گے۔

جب شہید بچی کا جنازہ لے جایا جا رہا تھا ان ہی عناصر نے مظاہرے کے نام پر مسلح ہوکر ہیڈکوارٹر کے سامنے جمع ہو کر نعرے بازی اور گالم گلوچ شروع کر دی اور مقامی لوگوں کو بھی حملے پر اکسانے لگے وڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ گیٹ پر موجود کچھ فوجی مظاہرین کو کہتے ہیں کہ “دو تین نمائندے اندر آکر کمانڈر سے بات کریں”۔ لیکن وہ لوگ حملہ کرنے پر بضد تھے۔ اسی دوران اچانک ہجوم ہیڈکوارٹر کی طرف دوڑ پڑا۔ یہ دیکھ کر فوجی باہر نکلے اور ہوائی فائرنگ کی۔

صرف دو برسٹ چلائے گئے۔ وڈیوز میں واضح ہے کہ فوجی اپنی گنز ہجوم کے اوپر اٹھا کر فائرنگ کر رہے ہیں۔ اگر فوج کا ارادہ جان سے مارنے کا ہوتا، تو سب سے پہلے ان دو تین شرپسندوں کو نشانہ بنایا جاتا جو گیٹ تک پہنچ چکے تھے اسی دوران ہجوم کی جانب سے بھی فائرنگ کی گئی اور پہاڑوں سے بھی گولیاں چلیں۔ چونکہ مظاہرے کے باعث کئی فوجی اپنی پوسٹیں چھوڑ کر ہیڈکوارٹر پر آ گئے تھے،

اس لیے خارجیوں کو پہاڑوں میں آکر پوزیشنز لینے کا موقع مل گیا تھا اور انہی کی فائرنگ سے ہلاکتیں ہوئیں واقعے کے بعد دوبارہ فوجی کمانڈرز اور قبائلی مشران کا جرگہ ہوا، جس میں ساری صورتحال واضح کی گئی۔ زخمیوں کو فوج نے ہی ریسکیو کر کے اسپتال پہنچایا اور ان کی تیمارداری کی۔ شہداء اور زخمیوں کے لیے مالی معاونت کا اعلان بھی فوج کی جانب سے کیا گیا،

جس کے بعد پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے بھی امداد کا اعلان کر دیا اس دوران پی ٹی ایم، پی ٹی آئی اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس مسلسل کوشش کرتے رہے کہ مقامی عوام کو اشتعال دلایا جائے، تاکہ دوبارہ فوج پر حملہ کروایا جا سکے۔ یہاں تک کہ پی ٹی آئی کی جانب سے فوج کے خلاف ٹرینڈ بھی چلا دیاگیا اور بعض پی ٹی آئی اکاؤنٹس نے یہ تک لکھ دیا کہ “فوج ٹی ٹی پی کو بدنام کرنا چاہتی ہے”۔ خدا کی قسم یہ لوگ فوج اور پاکستان دشمنی میں اندھے ہو چکے ہیں۔

*سرگودھا: کوٹ مومن لڑکی کا قاتل 24 گھنٹوں میں گرفتار* سرگودھا ملزم شایان قتل کرنے کے بعد فرار ہو گیا تھا سرگودھا ڈی پی او نے نوٹس لیتے ہوئے ملزم کو جلد گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا

سرگودھا ایس ایچ او تھانہ کوٹ مومن نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ملزم کو گرفتار کر لیا سرگودھا وجہ عنادمقتولہ نے ملزم کو چھیڑ خانی پر برا بھلا کہا تھاسرگودھا گرفتار ملزم کے خلاف شواہد اکٹھے کر لئے گئے ہیں (ڈی پی او) سرگودھا لوگوں کی جان یا مال کو نقصان پہنچانے والے کسی رعائیت کے مستحق نہیں (ڈی پی او) سرگودھا گرفتار ملزم کو قانون کے مطابق قرارواقعی سزا دلوائی جائے گی (ڈی پی او )سرگودھا لواحقین کو انصاف اور مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا (ڈی پی او سرگودھا محمد صہیب اشرف)

*موٹروے پولیس کے افسران نے چکری کے قریب ایک مشکوک گاڑی کو روکا۔ گاڑی میں تقریبا 400 کلو گوشت لوڈ تھا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کو فوری اطلاع دی گئی جنہوں نے موقع پر پہنچ کر گوشت کے مضر صحت ہونے کی تصدیق کی۔ ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حوالے کر دیا گیا۔*

پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہپنجاب بھر میں پارکس، گرین بیلٹس اور آؤٹ ڈور اشتہارات کی جامع نگرانی کے لیے پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی کے قیام کا فیصلہپنجاب کابینہ نے اتھارٹی کے قیام کا بل منظور کر لیا

سیاست کا یہی کمال ہے کہ اس پر ہر رنگ چڑھ جاتا ہے– سیاست کے سینے میں بہت بڑا دل ہوتا ہے– لیکن خون اس میں سفید ہی دوڑتا ہے– عوام کی نبض، سیاستدانوں سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا اور عوام سےزیادہ سیاستدانوں کو بھی کوئی نہیں سمجھتا–










