تازہ تر ین

چیف جسٹس اور ایمن امنے سامنے۔افغان دہشت گردوں پر پاک سر زمین تنگ ۔ فورسز نے مہمند اور باجوڑ میں 44 عدد نقد جہنم میں بھیج دئے ۔الیکٹرانک میڈیا مکمل طور پر ناکام 25 کروڑ عوام نے چینل دیکھنے بند کر دئیے۔۔۔اھم ترین 67 افراد ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل۔۔4 وزارتوں میں 40 ھزار ارب روپے کی کرپشن۔مھنگای کا طوفان زندگی سسکیاں لینے لگی حکومت کی مجرمانہ بے حسی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ایجنسیوں کے انقلاب ۔اظہر سید ۔ عوامی انقلاب فرانس اور روس کے تھے ۔اب انقلاب نہیں آتے تبدیلی آتی ہے ،اور یہ تبدیلی عوام کو استعمال کر کے عالمی ماسٹر اور مقامی ایجنسیاں لاتی ہیں ۔حقیقی اور اصلی والے انقلاب کا دور صدیاں گزریں ختم ہو گیا ہے۔ اب انقلاب نہیں بلکہ طاقتور ملک اپنے اثرورسوخ اور دولت کے زور پر عوام کو استعمال کرتے ہیں۔ان کے پیچھے انقلاب کی تیل والی بتی لگاتے ہیں۔اسے لائٹر دکھاتے ہیں۔انقلاب کامیاب ہو جاتا ہے ۔وزیر اعظم ،صدر،وزار نشانہ بنتے ہیں۔

بیشتر فرار ہو جاتے ہیں ۔چندمارے بھی جاتے ہیں۔انقلاب کامیاب ہو جاتا ہے ۔کہیں جنرل سسی عوامی انقلاب میں اخوان المسلمون سے جان چھڑا کر اقتدار سنبھال لیتا ہے ۔کہیں نو ستاروں کے انقلاب کی کامیابی پر جنرل ضیا ا جاتا ہے۔کہیں طالبعلموں کو حکومت مل جاتی ہے ۔کہیں سری لنکن انقلاب کے بعد چپ چاپ گھروں میں لوٹ جاتے ہیں ۔سابقہ حکومت جو کسی عالمی طاقت کی زلفوں کی اسیر ہوتی ہے اسکی جگہ کسی نئی عالمی طاقت کی زلفوں کی اسیر حکومت بن جاتی ہے ۔کہیں حسینہ واجد کی جگہ ڈرامہ کے ہدایتکار محمد یونس کو کامیاب انقلاب کی روشن تعبیر بنا کر ریاست سونپ دیتے ہیں جو نئی عالمی طاقت کی زلفوں کے اسیر ہوتے ہیں۔کبھی عالمی ہدایتکار سی پیک روکنے کیلئے مقامی ماسٹروں کے زریعے پاناما برپا کرتے ہیں ایک نوسر باز مسلط کرا دیتے ہیں۔

کہیں دوسرے مقامی ماسٹروں کے زریعے ہی نوسر باز سے نجات حاصل کر لیتے ہیں۔آج بالغے نیپال میں عوامی انقلاب پر رقص کر رہے ہیں لیکن ان بالغوں کو پتہ ہی نہیں ریاست کی لگامیں عوام کے ہاتھوں سے پھسل کر جنرل سسی اور جنرل ضیا کے ہاتھوں میں چلے گئی ہیں وہ بھلے کسی محمد یونس کو نیپال کا وزیراعظم بنائیں یا کسی خاتون کو۔دوسری جنگ عظیم کے بعد طاقت کے پہاڑوں پر کھڑے ہو کر امریکی حکومتیں تبدیل کراتے تھے ۔عالمی معیشت میں چین کی زوردار انٹری کے بعد اب اس کار خیر میں چینی بھی شامل ہو گئے ہیں۔یہ طاقت کے حصول اور وسائل پر کنٹرول کی لڑائی ہے جو صدیوں سے قوموں کے درمیان لڑی جا رہی ہے ۔پہلے مغرب تگڑا تھا اب مشرق تگڑا ہو رہا ہے ۔نیپال میں حکومت تبدیلی پر چھلانگیں مت لگائیں ۔حکومت عوام نے تبدیل نہیں کی انہوں نے کی ہے جو کبھی امریکہ ہوتے ہیں اور کبھی چین ۔عوام تو ایندھن ہیں جنہیں سالن روٹی بنانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔

*💥اسـرائیـلی جارحیت کو فوری روکا جائے، امت مسلمہ کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا، وزیراعظم**💥شہباز شریف کی امیر قطر سے ملاقات، اسـرائیـلی جارحیت کی مذمت، امن کیلئے اتحاد کا عزم*دوحہ: (قومی نیوز) قطر پر اسـرائیـلی حملے کے تناظر میں اظہار یکجہتی کیلئے وزیراعظم شہباز شریف نے قطر کا ایک روزہ دورہ کیا۔وزیراعظم شہباز شریف کی قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات ہوئی، وزیراعظم شہباز شریف نے 9 ستمبر کو دوحہ پر اسـرائیـلی حملے کی شدید مذمت کی۔شہباز شریف نے پاکستان اور قطر کے درمیان تاریخی اور برادرانہ رشتوں کا اعادہ کیا۔

پاکستان نے قطر پر اسـرائیـلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسـرائیـلی جارحیت کو فوری طور پر روکا جائے اور امت مسلمہ کو اس کے مقابلے میں اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں قطر کے ساتھ کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے تاریخی برادرانہ تعلقات ہمیشہ مضبوط رہیں گے۔ وزیراعظم نے اسـرائیـلی حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہری افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

سمیع اللہ خان: فلائنگ ہارس – پاکستان کے لیجنڈری ہاکی کھلاڑیسمیع اللہ خان، جو اپنی بے مثال تیز رفتاری اور شاندار کھیل کی وجہ سے “فلائنگ ہارس” کے لقب سے مشہور ہیں، 6 ستمبر 1951 کو بہاولپور میں پیدا ہوئے۔ وہ ہاکی کے کھیل میں لیفٹ ونگر کے طور پر جانے جاتے ہیں اور اپنی رفتار، مہارت، اور شاندار کراسز کے لیے مشہور ہیں، جو اکثر گول میں تبدیل ہوتے تھے۔

سمیع اللہ کی تیز رفتاری اور بال کنٹرول نے انہیں حریفوں کے لیے ایک خطرناک کھلاڑی بنا دیا تھا۔ وہ میدان میں برق رفتاری سے دوڑتے، حریف کے دفاع کو چیرتے ہوئے گول کے مواقع پیدا کرتے تھے۔ ان کی رفتار اور مہارت نے انہیں ہاکی کے کھیل میں ایک لیجنڈری حیثیت دی۔سمیع اللہ ہاکی کے میدان میں مطیع اللہ کے بھتیجے ہیں، جو 1960 کے روم اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی پاکستانی ہاکی ٹیم کے رکن تھے۔ ان کے بھائی کلیم اللہ بھی قومی ہاکی ٹیم کے رائٹ ونگر تھے، جس نے سمیع اللہ کی کھیل کی مہارت میں مزید نکھار پیدا کیا۔سمیع اللہ 1976 میں مونٹریال اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔

وہ 1978 اور 1982 میں ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ہاکی ٹیم کا بھی حصہ تھے، جبکہ 1975 کے ورلڈ کپ میں وہ رنر اپ ٹیم کا بھی حصہ تھے۔ انہوں نے تہران میں 1974 کے ایشین گیمز، بنکاک میں 1978 کے ایشین گیمز، اور دہلی میں 1982 کے ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتے والی پاکستانی ہاکی ٹیم کی بھی نمائندگی کی۔سمیع اللہ کا تیز رفتار کھیل، بہترین بال کنٹرول، اور شاندار باڈی ڈاجز انہیں ایک ناقابل شکست کھلاڑی بناتے تھے۔ ان کی سنسنی خیز رنز اور حیرت انگیز مہارتوں نے انہیں دنیا بھر کے ہاکی شائقین کے دلوں میں جگہ دی۔سمیع اللہ کے بھائی ہدایت اللہ بھی قومی ہاکی ٹیم کی طرف سے کھیلتے رہے، اگرچہ ان کا کیریئر مختصر تھا، لیکن انہوں نے پی آئی اے کی طرف سے طویل عرصے تک قومی سطح پر ہاکی کھیلی اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔سمیع اللہ خان کی ہاکی کے میدان میں خدمات اور کارنامے آج بھی یادگار ہیں، اور ان کا نام ہمیشہ ہاکی کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شامل رہے گا۔

اب اعلی عدلیہ کے جج وہ بھی چیف جسٹس وکلا کو عدالت میں دھمکیاں دیں گے یہ ہے عدلیہ کی معراج۔ پڑھیں ایمان مزاری اور چیف جسٹس اسلام آباد کے درمیان مکالمہ۔ ‏۔ آپ کو اپنا منہ بند رکھنا چاہیے، ہادی صاحب “اسے” سمجھائیں “کسی دن میں نے پکڑ لیا نا” ‏کوئی مہذب ذہن یہ تسلیم کرے گا کہ یہ الفاظ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ہیں؟ ان کا معیار اور لفظوں کا چناو واضح اپروچ واضح کرتا ہے!

‏خبر بلکہ نظام کی گراوٹ کی داستان یہ ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ماہرنگ بلوچ کے ای سی ایل سے نام نکلوانے کے کیس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وکیل ایمان مزاری پر ذاتی حملے کرنے شروع کر دیے! چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا اب اس کیس میں کوئی آرڈر پاس کروں گا تو مس مزاری نیچے جا کر پروگرام کر دیں گی ڈکٹیٹر بیٹھا ہے، ایمان مزاری نے کہا میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو قانون کے دائرے سے باہر ہو جس پر جسٹس سرفراز ڈوگر نے ہر لحاظ بالائے طاق رکھتے ہوئے کہا آپ کو بھی اپنا منہ بند رکھنا چاہیے آپ کو بھی ادب کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ ایمان مزاری نے کہا میں نے جو بات کی ہے وہ ذاتی حیثیت میں ہے اس کا اثر کلائنٹ کے کیس پر نہیں ہونا چاہیے،اگر آپ کو میرے ساتھ کوئی تعصب ہے تو کلائنٹ کے کیس کو متاثر نا کریں،میں یہاں ایک بریف لیکر آئی ہوں ذاتی حیثیت میں نہیں آئی۔

چیف جسٹس پھر فرماتے ہیں کہ آپ نے کمنٹ کر دیا کہ میں جج نہیں ڈکٹیٹر بیٹھا ہوا ہوں،کیوں نا آپ کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے؟ ایمان مزاری نے کہا میں نے کوئی بات قانون اور آئین سے باہر نہیں کی اگر آپ توہین عدالت کی کاروائی کرنا چاہتے ہیں ضرور کریں،مجھے آئین نے آزادی اظہار رائے دی ہے میں نے وہی استعمال کیا ہے۔ چیف جسٹس ڈوگر نے ایمان مزاری کے خاوند ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کو مخاطب کر کے کہا ہادی صاحب سمجھائیں اسے کسی دن میں نے پکڑ لیا نا۔

ایمان مزاری نے کہا اگر یہ اسٹیج آ گئی ہے کہ عدالتیں وکلا کو دھمکی دے گئیں تو کر لیں توہین عدالت!

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved