
پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کیلئے مفاہمت کی 21 یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں ۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم وزیر خارجہ اسحاق ڈار،متعلقہ وفاقی وزراء اور ممتاز پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے نمائندوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور چین نے زراعت ،الیکٹرک وہیکلز ،شمسی توانائی،صحت، کیمیکل وپیٹرو کیمیکلز، آئرن اور سٹیل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لئے 4.2 ارب ڈالر مالیت کی 21 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں۔ پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میرے لئے باعث افتخار ہے کہ انتہائی اہمیت کے حامل چینی کاروباری اداروں سے مخاطب ہوں، میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی کانفرنس شریک ہوں، پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری اور سٹیل اور آئرن سے مضبوط اور شہد سے میٹھی ہے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، ہماری یہ دوستی دیانتداری، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے ساتھ ہر خوشی اور مشکل کی گھڑی میں تعاون کی بنیاد پر قائم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان کا مخلص، سچا دوست ہے جو ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے، زلزلہ ہو یا سیلاب جس طرح چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ایسی کسی اور ملک کی مثال نہیں ملتی۔ میں اپنے دل کی گہرائیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے عظیم دونوں ممالک کے درمیان ہمارے اسلاف نے جو تعلقات قائم کئے تھے ،وہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور انہیں مزید آگے لے کر جائیں گے، 2015ء میں چین اور پاکستان نے سی پیک کے معاہدے پر دستخط کئے اور میرے بہت ہی پیارے بھائی چین کے صدر شی جن پنگ نے پاکستان کا دورہ کیا اور میرے بڑے بھائی وزیراعظم محمد نواز شریف کے ساتھ سی پیک کے معاہدے پر دستخط کئے اور اس کے نتیجہ میں چینی کمپنیوں نے 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں کی۔ انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری سے 22، 22 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوا اور 2018ء میں پاکستان توانائی کی ضروریات میں خود انحصار ہو گیا، صنعتیں بحالی ہوئیں، زراعت بحال ہوئی، انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے، روڈ نیٹ ورک، اورنج لائن لاہور، ڈیمز اور دیگر بہت سے منصوبے شروع ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو ترقی ملی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ لیکن بدقسمتی سے درمیان میں یہ سلسلہ رک گیا لیکن آج نہ صرف یہ منصوبے بحال ہوئے بلکہ دوطرفہ اعتماد، باہمی احترام اور گرمجوشی میں اضافہ ہوا جو وقت کی ضرورت ہے۔ آج ہم سی پیک 2.0 کا آغاز کرنے جا رہے ہیں، یہ سی پیک 2.0 بی ٹو بی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زراعت کا شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ہماری معیشت کا 60 فیصد انحصار زراعت پر ہے، چینی سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنے تجربات، مہارتیں اور سرمایہ کاری پاکستان کے زرعی شعبہ پر صرف کریں اور زراعت کو فروغ دیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا

، چین وہ اشیاء پاکستان سے درآمد کر سکے گا جو دیگر ممالک سے کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایک اور اہم باصلاحیت شعبہ ہے جس میں چین عالمی سطح پر سب سے آگے ہے، کان کنی اور معدنیات باہمی تعاون کا ایک اور اہم باصلاحیت شعبہ ہے۔ بلاشبہ خصوصی اقتصادی زونز سی پیک 2.0 کے بنیادی ستون ہیں جو چینی سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش مواقع فراہم کر رہے ہیں، چین ٹیکسٹائل، چمڑے اور دیگر شعبوں کی صنعتوں کو پاکستان منتقل کر سکتا ہے اور پاکستان کی افرادی قوت سے استفادہ کر سکتا ہے جو دیگر ممالک کے مقابلہ میں کم لاگت پر میسر ہے، چینی سرمایہ کار تھرڈ ممالک کے مقابلہ میں پاکستان میں ان سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنا منافع بڑھا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں چینی سرمایہ کاروں پر زور دیتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں اور ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔بیجنگ میں پاکستانی وزراء اور توانائی، انفارمیشن، ٹیکنالوجی، کامرس اور تمام شعبوں کے حکام موجود ہیں جو چینی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی موجودگی اس بات کی غمازی ہے کہ پاکستان چین جیسے عظیم دوست ملک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بطور چیف ایگزیکٹو آف پاکستان اور بطور پاکستانی وزیراعظم میں یہاں موجود ہوں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اگر ہماری معیشت مضبوط ہو گی تو دونوں ملک مضبوط ہوں گے۔ الحمدﷲ پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہے اور اقتصادی اشاریے مستقبل کی مثبت پیشرفت کی نشاندہی کر رہے ہیں، قلیل المدتی، وسط مدتی اور طویل المدتی سطح پر معاشی ترقی ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے پاکستان کے ساتھ تعاون کے ذاتی عزم کی بدولت یہ سب ممکن ہوا ہے اور اب ہم اقتصادی ترقی کی دوڑ میں چین کے تعاون سے دیگر ممالک کے مقابلہ کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چینی بھائیوں اور بہنوں کی پاکستان میں سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے، آئیں آگے بڑھیں اور معاشی منظرنامہ کو تبدیل کریں اور چین اور پاکستان کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ چینی بھائیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سہولت فراہم کرنے میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے دو تین ہفتے قبل چینی گروپ کے لوگوں کی نشاندہی پر درپیش مسئلہ کو 24 گھنٹوں میں حل کرنے کی مثال دی اور کہا کہ اسلام آباد میں چینی گروپ نے ملاقات میں بتایا کہ انہیں بعض مسائل کا سامنا ہے جس پر میں نے اپنی کابینہ کے ارکان کو ہدایت کی کہ 24 گھنٹوں میں اس مسئلہ کو حل کیا جائے اور وہ مسئلہ حل کر دیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اسی طرح آپ کا دوسرا گھر ہے جس طرح چین ہمارا دوسرا گھر ہے،

آگے بڑھیں اور جائنٹ وینچر سرمایہ کاری کریں، تمام وزارتیں، ادارے اور محکمے چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے اور جلد ہم چینی اور پاکستانی سرمایہ کاری کے ذریعے صرف ایک نہیں بلکہ ایک سے زائد خصوصی اقتصادی زونز قائم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ میرا خواب ہے اور ہم اس خواب کو معاہدوں پر عملدرآمد کے ذریعے پورا کریں گے، سی پیک 2.0 میرے لئے سب سے اولین ترجیح ہے۔ چین 15 سال میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے اور دنیا کی بہترین عسکری قوت ہے اور یہ محنت، محنت اور محنت کے ساتھ ممکن ہوا ہے اور ہم چینی ماڈل کے ذریعے پاکستان کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کو جو شاندار ترقی ملی ہے اس کی مثال نہیں ملتی، چین نے 700 ملین لوگوں کو غربت سے نکالا اور نہ صرف اپنے لوگوں کو روزگار دیا بلکہ دنیا کے ہزاروں لوگوں کو روزگار کی پیشکش کر رہا ہے اور خوشحالی کی جانب گامزن ہے، آج اپنے تجربات کے استفادہ کرنے اور صنعتی ترقی کی جانب بڑھنے کا وقت ہے اور پاکستان ایک دن متحرک معیشت میں بدلے گا۔

کانفرنس میں اپنے اختتامی کلمات میں وزیراعظم نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے درمیان مفاہمتی یاداشتوں کا تبادلہ خوش آئند ہے، ماضی میں بھی اس طرح کی تقریب ہوتی رہی ہیں لیکن انتھک کوششوں اور سخت محنت سے یہ ممکن ہوا ہے پاکستان میں چین کے سفیر، چینی حکومت اور اور چین کی عظیم کاروباری شخصیات نے اس کو ممکن بنایا ہے،متعلقہ وفاقی وزراء، سرمایہ کاری بورڈ، ایس آئی ایف سی اور صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکمہ کے درمیان بہتر رابطے سے اس سلسلے میں پیشرفت ہوئی ہے،اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں کا کردار قابل تحسین ہے، مفاہمت کی یادداشتوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ 1.5 ارب ڈالر کے جوائنٹ وینچرز پر پاکستان اور چینی کمپنیوں کی طرف سے دستخط کیے گئے ہیں،مفاہمتی یاداشتوں کو معاہدوں میں تبدیل کرنا اور ان پر عمل درامد ہمارے لیے ایک چیلنج ہے، اس کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا اور دونوں حکومتوں کو قریبی رابطے کے ذریعے اگے بڑھنا ہوگا، چین میں پاکستان کے سفیر اور چین کے پاکستان میں سفیر اور ہمارے وفاقی وزراء کو متعلقہ چینی عہدے داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے،یقین ہے کہ ہم اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے

۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون لائق تحسین ہے،دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر اگر ہم عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لئے لانگ مارچ ہوگااور یہ لانگ مارچ بیجنگ سے شروع ہو کر اور اسلام آباد اپنی منزل پر پہنچ کرختم ہوگااور یہ لانگ مارچ پاکستان کو ایسے ملک میں تبدیل کر دے گا جہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی،منافع بخش روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے،ہماری جی ڈی پی ترقی کرے گی اور معیشت مضبوط ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ہم آج شام سے ترقی کا لانگ مارچ شروع کریں گے اور اقتصادی ترقی کی منزل پہنچنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اس کے لئے انتھک محنت کریں گے اور یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی شاندار لمحہ ہوگا اس مقصد کے لیے تمام حکومتی ادارے، محکمے اور نجی شعبہ مل کر مکمل ہم آہنگی اور تعاون سے کام کریں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بی ٹو بی کانفرنس پاکستان کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگی،میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے دن رات ایک کر دوں گا،اس کے لئے ہمیں سخت محنت کرنا ہوگی اس سے پاکستان اور چین وہ رول ماڈل بنیں گے جس کی دوسرے ممالک بھی پیروی کریں گے

پنجاب میں غیر معمولی سیلاب کے باعث الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں ضمنی انتخابات ملتوی کر دیے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق قومی اسمبلی کے 5 اور پنجاب اسمبلی کے 4 حلقوں میں ضمنی انتخابات ملتوی کیے گئے ہیں۔مزید کہا گیا کہ جن حلقوں میں انتخابات مؤخر کیے گئے ہیں، ان میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 66 وزیرآباد، فیصل آباد کے حلقے این اے 96، این اے 104، این اے 129 لاہور اور این اے 143 ساہیوال شامل ہیں۔نوٹی فکیشن کے مطابق پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 73 سرگودھا، پی پی 87 میانوالی، پی پی 98 فیصل آباد اور پی پی 203 ساہیوال کے انتخابات ملتوی کر دیے گئے۔مزید کہا گیا ہے کہ ضمنی انتخابات کے لیے نیا شیڈول جاری کیا جائے گا۔الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب میں غیر معمولی سیلاب کے باعث مواصلاتی نظام شدید متاثر، سڑکیں اور پل بہہ گئے، سیلاب سے سرکاری و نجی عمارتیں، اسکول اور پولنگ اسٹیشنز کا انفرا اسٹرکچر متاثر ہوا۔مزید کہا گیا کہ ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں مصروف عملہ انتخابی فرائض سرانجام نہیں دے سکتا، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران نے پولنگ اسٹاف کی عدم دستیابی کی نشاندہی کر دی۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ حکومت پنجاب نے سیلاب کی صورتحال کے باعث ضمنی الیکشن مؤخر کرنے کی سفارش کی، متاثرہ علاقوں کے ووٹرز کی نقل مکانی، ووٹ ڈالنے کے عمل میں شرکت ممکن نہیں۔مزید بتایا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کم ٹرن آؤٹ اور ووٹرز کی محرومی کا خدشہ ہے، سیلاب کے اثرات پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی رپورٹس کا حوالہ دیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ حالات نارمل ہونے پر انتخابات دوبارہ شیڈول کیے جائیں گے۔

آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ کسی بھی علاقے میں غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل نظر آیا تو ایس ایچ او کو ہٹایا جائے گا۔12 ربیع الاول کے حوالے سے سکیورٹی انتظامات مکمل کرلیے گئے۔ اسلام آباد میں غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔آئی جی اسلام آبادسید علی ناصر رضوی کا کہنا ہے کہ کسی بھی علاقے میں غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل نظر آیا تو ایس ایچ او کو ہٹایا جائے گا۔ اسلام آباد میں اسلحہ کی نمائش یا ہوائی فائرنگ ہوئی تو ایس ایچ او ذمہ دار ہو گا۔آئی جی اسلام آباد نے ڈی پی اوز ایس ڈی پی او اور ایس ایچ اوز کے لئے احکامات جاری کر د یے ہیں ۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ کسی بھی جرم کی کال پر ایس ایچ او خود موقع پر جانے کا پابند ہو گا۔ 12 ربیع الاول کے حوالے سے آرگنائزر کے ساتھ میٹینگز مکمل کریں۔آئی جی اسلام آباد کی جانب سے تمام مقامات پر سکیورٹی کے سخت اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔
آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ کسی بھی علاقے میں غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل نظر آیا تو ایس ایچ او کو ہٹایا جائے گا۔12 ربیع الاول کے حوالے سے سکیورٹی انتظامات مکمل کرلیے گئے۔ اسلام آباد میں غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔آئی جی اسلام آبادسید علی ناصر رضوی کا کہنا ہے کہ کسی بھی علاقے میں غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل نظر آیا تو ایس ایچ او کو ہٹایا جائے گا۔ اسلام آباد میں اسلحہ کی نمائش یا ہوائی فائرنگ ہوئی تو ایس ایچ او ذمہ دار ہو گا۔آئی جی اسلام آباد نے ڈی پی اوز ایس ڈی پی او اور ایس ایچ اوز کے لئے احکامات جاری کر د یے ہیں ۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ کسی بھی جرم کی کال پر ایس ایچ او خود موقع پر جانے کا پابند ہو گا۔ 12 ربیع الاول کے حوالے سے آرگنائزر کے ساتھ میٹینگز مکمل کریں۔آئی جی اسلام آباد کی جانب سے تمام مقامات پر سکیورٹی کے سخت اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔
وفاقی حکومت نے پاکستان ایکسیلریٹڈ وہیکل الیکٹری فکیشن (PAVE) پروگرام کے تحت نئی اسکیم متعارف کرائی ہے، جس کے تحت شہری کراؤن الیکٹرک موٹر سائیکلیں حکومتی سبسڈی اور آسان اقساط کے ذریعے خرید سکیں گے۔حکومت کی جانب سے کراؤن الیکٹرک بائیک پر 50,000 روپے سبسڈی دی جائے گی، صفر مارک اپ کے ساتھ اقساط کی ادائیگی، کسی قسم کی پروسیسنگ فیس نہیں۔یہ اسکیم پاکستان کے تمام شہریوں (18 سے 65 سال عمر) کے لیے ہے۔خواتین، معذور افراد اور اوورسیز پاکستانیوں کو ترجیح دی جائے گی۔درخواست دینے کا طریقہدرخواستیں صرف سرکاری پورٹل www.pave.gov.pk پر جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ درخواست گزاروں کو فارم بھرنے کے بعد ایک کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی سسٹم میں شامل کیا جائے گا تاکہ مکمل شفافیت برقرار رہے۔کراؤن الیکٹرک موبیلٹی، جو پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی نمایاں کمپنی ہے، اس اسکیم کی پارٹنر ہے۔ حکومتی مالی معاونت کے بعد اب یہ ای وی بائیکس عام شہریوں کی پہنچ میں آ گئی ہیں۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر کی جانب سے 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما مصطفیٰ نوازکھوکھر نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈپروسیجر ایکٹ کے سیکشن 2،2کے مطابق فل کورٹ تشکیل کا فیصلہ قانون کےمطابق ہے، رجسٹرار یا کوئی اور اتھارٹی کمیٹی کے فیصلے کو ختم نہیں کر سکتی۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ کمیٹی کے فیصلے پرچیف جسٹس کی وضاحت عملدرآمد نہ کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتی، ایکٹ میں ہونے والی ترامیم آئین اور قانون سے مطابقت نہیں رکھتیں۔دائر درخواست میں پریکٹس اینڈپروسیجر کمیٹی کے 31 اکتوبر کے اکثریتی فیصلے پر عملدرآمد کی استدعا کی گئی ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے سے متعلق انتظامی فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔یاد رہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرکمیٹی نے 31اکتوبرکو 26 ویں آئینی ترامیم پرفل کورٹ تشکیل دینےکافیصلہ کیا تھا۔
مہنگائی کےستائے عوام کیلئے بری خبر ، گندم اور آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ سرکل جنید عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گندم مہنگی جبکہ عالمی مارکیٹ میں گندم سستی مل رہی ہے، حکومت نے اگر گندم کی امپورٹ کے حوالے سے جلد فیصلہ نہ کیا تو گندم اور آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت گندم اور اٹے کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے پنجاب سے صوبہ بندی ہے،ایک مہینہ میں گندم اورآٹے کی قیمتوں مین ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔جنید عزیز نے کہا کہ یکم اگست سے تا حال گندم کی قیمت میں 35 روپے ،جبکہ آٹے کی قیمت میں 29 روپے کلو تک کا اضافہ ہوا۔ یکم اگست کو گندم کی قیمت 62 روپے کلو تھی ،جبکہ یکم ستمبر کو یہ قیمت 97 روپے کلو ہوگئی۔یکم اگست کو ڈھائی نمبر آٹا 76 روپے کلو جبکہ آج ڈھائی نمبر آٹا 99 روپے کلو ہوگیا ہے،یکم اگست کو فائن آٹا 79 روپے کلو جبکہ اج 108 روپے کلو ہوگیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مقامی مارکیٹ میں گندم کی قیمت 96 روپے کلو جبکہ عالمی مارکیٹ میں یہ قیمت 85 روپے ہے،پاکستان میں آج عالمی مارکیٹ سے 10 روپے کلو گندم مہنگی ہے، سندھ حکومت اگلے ہفتے گندم ریلیز کرتی ہے تو بازارمیں گندم کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو رواں برس کم سے کم 15 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کرنی پڑے گی،حکومت گندم کی امپورٹ کی اجازت صرف فلور ملز کو یا ٹی سی پی کو دے ،ٹریڈرز گندم امپورٹ کرکے مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔

🚨🚨 Update:دریائے راوی ہیڈ بلوکی کے مقام پر سیلابی ریلہ کی شدت میں اضافہ، 1 لاکھ 28 ہزار کیوسک ریکارڈدریائے راوی ہیڈ سندھائی (کبیروالا) کے مقام پر سیلابی ریلہ کی صورتحال برقرار، 1 لاکھ 39 ہزار کیوسک ریکارڈدریائے چناب چینوٹ کے مقام پر سیلابی ریلہ کی شدت میں اضافہ، 5 لاکھ 9 ہزار کیوسک ریکارڈ🚨 پنجاب میں سیلاب سے 46 افراد جاں بحق، 35 لاکھ افراد متاثر🚨🚨سیلابی پانی گجرات شہر میں داخل….!!!!🚨 پنجاب حکومت کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے تخمینے کے لیے سروے کا حکمسروے کے لیے پاک فوج کی بھی خدمات لینے کا فیصلہابتدائی طور 1700 موضع جات کا تخمینہ لگایا جائے گا🚨 پاکستان اس وقت بدترین سیلاب کا شکار ھے اور اسکی وجہ بارشیں یا موسمیاتی تبدیلی نہیں ھے بلکہ اسکی وجہ بھارت ھے۔ جس نے جان بوجھ کر اپنے ڈیمز کے دروازے کھول دئے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ🚨 پنجاب بھر میں میٹرک کے سپلیمنٹری امتحانات ملتوی کردیئے گئے، اعلامیہ🚨 سیلابی صورتحال کے پیش نظر ضلع گجرات میں کل بروز جمعہ ضلع بھر میں تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے، نوٹیفیکیشن🚨 دریائے چناب شیر شاہ ملتان کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب
حکومت کی اجازت کے بعد مالی سال 2024-25 کے دوران ملک کی 67 شوگر ملز نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی ایکسپورٹ کی جس کی مالیت تقریباً 40 کروڑ ڈالر (11 ہزار 280 ارب روپے) بنتی ہے۔ایکسپورٹ کے بعد ملک میں چینی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے اور قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔ دو ماہ قبل فی کلو چینی کی قیمت 140 روپے تھی جو اب 190 سے 200 روپے تک جا پہنچی ہے۔ 50 کلو کے تھیلے کی قیمت 6 ہزار 200 روپے سے بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے ہو گئی ہے۔ایس ای سی پی کی دستاویزات اور پارلیمانی کمیٹیوں میں جمع کرائی گئی فہرستوں کے مطابق:رمضان شوگر ملز (شریف فیملی): 16 ہزار 116 ٹن، مالیت 2.41 ارب روپےالعربیہ شوگر ملز (شریف فیملی): مالیت 1.20 ارب روپےچوہدری شوگر ملز (عباس شریف کے بیٹے): مالیت 1.49 ارب روپےٹنڈوالہ یار شوگر ملز (عبدالغنی مجید): 6 ہزار 518 ٹن، مالیت 91.7 کروڑ روپےاشرف شوگر ملز (ذکا اشرف): 11 ہزار 317 ٹن، مالیت 1.67 ارب روپےرحیم یار خان شوگر ملز (مونس الٰہی، میاں عامر محمود): 21 ہزار 874 ٹن، مالیت 3.33 ارب روپےجے ڈی ڈبلیو اور جے کے شوگر ملز (جہانگیر ترین): 99 ہزار ٹن، مالیت 15 ارب روپےتاہم چوہدری شجاعت حسین اور سالک حسین کی پنجاب شوگر ملز نے اس عرصے میں ایکسپورٹ نہیں کی۔چینی کی قیمت میں اضافہ ہونے پر حکومت نے دکانداروں کو ہدایت کی ہے کہ فی کلو چینی 172 روپے میں فروخت کی جائے۔ زائد قیمت پر فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ کئی دکانداروں نے مہنگائی کے باعث چینی رکھنا ہی بند کر دی ہے۔ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ چینی کی ایکسپائری مدت دو سال ہے اور اگر یہ چینی ایکسپورٹ نہ کی جاتی تو ضائع ہو جاتی۔ ان کے مطابق ایکسپورٹ کی گئی چینی کی معیاد اگست 2025 تک تھی۔










