یہ انصاف ہی تو ہے باجوہ، فیض نیٹ ورک کے زیرِ عتاب دیندار، دلیر اور قابل جج جسٹس شوکت عزیز کی بیٹی کی شادی تھی۔ برادر ججوں کو شرکت کی دعوت دی گئی، لیکن جسٹس اطہر من اللہ نے باہمی مشاورت سے ہم خیال ججوں کو روک دیا۔ صرف ایک خاندانی جج، میاں گل حسن اورنگ زیب، تقریب میں شریک ہوئے۔ جسٹس شوکت عزیز کے اس دلخراش انکشاف پر یہ تمام جج آج تک خاموش ہیں۔ تصور کریں، جسٹس شوکت عزیز کے دل پر کیا گزری ہوگی۔ آج ہم خیال جج کبھی خط بازی کررہے ہیں، کبھی تقریریں کررہے ہیں اور کبھی سپریم کورٹ میں جوتے چٹخا رہے ہیں، لیکن کوئی چال کامیاب نہیں ہورہی










