
2025. *وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا اسٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 1 لاکھ 45 ہزار پوائنٹس کی حد کو عبور کرنے پر اظہار اطمینان*اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار میں تیزی سرمایہ کاروں کے حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کی عکاسی ہے. وزیرِ اعظمکاروبار اور سرمایہ کاری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے. وزیرِ اعظمایف بی آر میں اصلاحات سے ٹیکس نظام میں بہتری اور کاروباری برادری کو سہولت ملی. وزیرِ اعظمالحمدللہ پاکستان کی معاشی سمت بہتر اور معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے. وزیرِ اعظم



علی امین گنڈاپور کی خیبرپختونخوا میں امن و امان قائم کرنے کے لیے جرگے میں بیرسٹر محمد علی سیف، سینیٹر نورالحق القادری، قبائلی مشران، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، صوبائی و قومی اسمبلی ممبران، چیف سیکرٹری، آئی جی پی، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز

سعودی عرب اپنے 2034 کے ورلڈ کپ کے کھیلوں کی میزبانی کے لیے جو ارب ڈالر مالیت کا سٹیڈیم بنا رہ ہے وہ ایک سائنس فکشن سے کم نہیں ہےیہ شمسی توانائی اور ہوا سے چلنے والا، یہ ایک مقام سے زیادہ ہے جو کشش ثقل کے خلاف کھیلوں کی تفریح کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرے گا جسے مکمل طور پہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کنٹرول کرے گی

*بھارتی مشرق میں گہرائی تک حملہ ، ڈی جی آئی ایس پی آر کا ممکنہ بھارتی جارحیت پر دو ٹوک مؤقف*🔰ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے معروف جریدے “دی اکانومسٹ” کو دیئے گئے انٹرویو کے بعد بھارت کی جانب سے منفی پروپیگنڈے کے ذریعے بھارتی میڈیا اور حکومتی حلقے اسے بنگلہ دیش کو استعمال کرنے سے جوڑنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کے مشرقی حصے میں موجود اقتصادی مراکز کو گہرائی میں نشانہ بنانے کی بات کی ہے🔰بھارتی حکومت، جو آپریشن سندور میں ناکامی اور عوام و اپوزیشن کی تنقید سے شدید دباؤ میں ہے، نے اب ایک بار پھر آپریشن سندور 2 کے نام پر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی ہے۔ اس مہم میں فرضی دہشتگردوں اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔🔰”دی اکانومسٹ” کے سوال پر کہ بھارت کی ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں پاکستان کا ردعمل کیا ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح الفاظ میں کہا: “ہم اس بار بھارت میں مشرق سے آغاز کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ بھی ہر جگہ مارے جا سکتے ہیں۔ یہ بیان ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے

۔🔰بھارت کے مشرقی علاقے جیسے کولکتہ، جمشید پور، رانچی، بوکارو، راؤرکیلا، بھوبنیشور اور پٹنہ اس کی معیشت کے اہم ترین مراکز ہیں۔ یہ علاقے صنعتی، تجارتی، توانائی، بندرگاہی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکز ہیں اور بھارت کی اقتصادی قوت میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔بھارت کے ان مشرقی علاقوں میں مودی کے پسندیدہ کھرب پتی گوتم ادانی اور مکیش امبانی کی مختلف بزنس کی مہنگی فیکٹریاں ہیں اور ٹیکنالوجی کے ڈیٹا سینٹرز ہیں جنکو اگر نقصان پہنچتا ہے تو ہندوستان کو دنوں میں اربوں ڈالرز کا نقصان ہوگا 🔰اگر پاکستان کسی ممکنہ جنگ میں ان اقتصادی مراکز کو نشانہ بناتا ہے تو یہ محض سرحدی جھڑپ نہیں بلکہ بھارت کے اندر گہرائی تک حملہ تصور ہوگا۔ ایسا حملہ نہ صرف فوجی بلکہ معاشی و تزویراتی محاذ پر بھی بھارت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، جو دشمن کے حربی ارادوں کو مفلوج کر سکتا ہے۔🔰پاکستان کا موقف ہمیشہ دوٹوک اور اصولی رہا ہے کہ وہ ایک امن پسند ملک ہے، جو خطے نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر ابھر ا ہے لیکن پاکستان کی امن کی خواہش کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب معرکۂ حق کے نتائج سے زیادہ سخت اور تکلیف دہ ہوگا۔

عالمی جنگ و جدل کے تیزی سے بدلتے وار بیسویں صدی کے آغاز میں ،ورلڈ وار ون کی ھولناک تباھی دیکھ کر تمام عالمی لیڈر ایک دوسرے کا سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ اب کیا کریں- پہلے تو یہ فیصلہ ہوا کہ اپنا اپنا سر پکڑکر سوچیں ورنہ دنیا کیا سوچے گی- اپنے اپنے سر پکڑ کر سوچنے کے بعد، پھر فیصلہ ھوا ھے کہ اب ورلڈ وار 2 ناگزیر ہو چکی ھے- اس فیصلے کے فوری بعد جنگ کی تیاری شروع ہو گئی-پھر جنگ عظیم دوئم لڑی گئی، ایٹم بم چلا ، چھ کروڑ بندہ مارا گیا- جب دنیا ملیا میٹ ھو گئی تو ایک بار پھر عظیم تخلیقی اور سیاسی ذھن سر جوڑ کر بیٹھے ” کہ ھون فیر کی کری اے”- کیونکہ تباھی کے لئے کچھ بچا ہی نہیں، تو یہی فیصلہ ھوا کہ جب تک دنیا نئے سرے سے بن نہیں جاتی تب تک کولڈ وار پر گزارہ کرنا پڑے گا- تقریبا چالیس سال تک کولڈ وار کھیلی گئی – کولڈ وار کا فائنل امریکہ نے جیت لیا اور سویت یونین کے ٹکرے ٹکرے کر کے دنیا کا حکمران بن گیا- دنیا ایک بار پھر نئی سرے سے اپنی مرمت پر لگ گئی تو یک دم دھشت گردوں کو خیال آیا کہ ہم نے تو کچھ کیا ہی نہیں- اب کے عالمی لیڈروں نے سوچا کہ دھشت گردی کی جنگ کا تو سر پیر ہی نہیں تو کیوں نا اس جنگ کو دوسری جنگوں کے لڑنے کے لئے ایک وجہ کے طور استعمال کیا جائے- ھے تیرے کی، یہ ہوتا ھے ” یکّے پر یکہّ”- یہ منصوبہ بھارت کو بہت پسند آیا- عالمی طاقتوں نے بھارت کی آنکھوں میں چمک دیکھ کر مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کو میدان جنگ چنا- مشرق وسطی میں جنگ لڑنے کا خاطر خواہ نتیجہ نکلا: امریکہ کے انرجی کے مسائل ختم ھو گئے اور باقی دنیا کے بڑھ گئے- اسی دوران ” کرونا وائرس” کو کہیں موقع مل گیا اور وہ لیبارٹری سے بھاگ نکلا- دنیا وائرس کی گمشدگی کے اشتہارات ابھی بنا ہی رھی تھی کہ ایک اکیلے وائرس نے آٹھ ارب آبادی والی دنیا کو تگنی کا ناچ نچا دیا- سوائے آکسیجن اور سورج کی روشنی کے ہر چیز بند کمروں میں چھپ گئی-کرونا نے دنیا کو مکمل طور پر سیل کر دیا- دو سال کی تگ و دو کے بعد کرونا کچھ ٹھنڈا ہوا تو عالمی لیڈروں نے پھر ایک بار سوچا کہ ون آن ون جنگ کو دوبارہ ٹرائی کرنا چاھیے- کیونکہ دومتحارب ملکوں کا آپس میں دو بدو لڑائی کا رواج ختم ھوتا جا رھا ہے – کہیں یہ نہ ہو بلیو کارنر اور ریڈ کارنر والی لڑائی کا ماڈل ہی مارکیٹ سے غائب ہو جائے- اگر ایسا ہو گیا تو پھر ہم اسلحہ کس کوبیچیں گے- لہذا روس کو یوکرائن، اسرائیل کو فلسطین، اسرائیل کو ایران سے لڑانے کے بعد- اب تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی جنگ جاری ھے- درمیان میں بھارت نے پاکستان کے ساتھ تین روزہ جنگ کر کےاپنے چھ رافیل طیّارے بھی مار گروائے جس کا تذکرہ امریکی صدر درجنوں بار اپنی تقریروں میں کر چکے ہیں- یہ اب تک کی جنگوں کی تازہ صورتحال ہے- نئے اپ ڈیٹ کے ساتھ دوبارہ حاظر ھونگے تب تک سوشل میڈیا کے ذریعے آپس میں جڑے رھیے گا اور ہمیں دیں اجازت- ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ملک کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں پراپرٹی خرید چکی ہے اور شہریت لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ سیاستدان تو ان کا بچا کھچا کھاتے اور چولیں مارتے ہیںایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں خواجہ محمد آصف نے لکھا ہے کہ ‘وطن عزیز کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں پراپرٹی لے چکی ھے اور شہریت لینے کی تیاری کر رہی ھے۔ اور یہ نامی گرامی بیوروکریٹس ھیں۔ مگر مچھ اربوں روپے کھا کے آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہیں۔ بزدار کا ایک قریب ترین بیوروکریٹ چار ارب بیٹیوں کی شادی پر صرف سلامی وصول کر چکا ھےاور آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گذار رہا ھے۔ سیاستدان تو انکا بچا کھچا کھاتے اور چولیں مارتے ھیں نہ پلاٹ نہ غیر ملکی شہریت کیونکہ الیکشن لڑنا ھوتا ھے۔ پاک سر زمین کو یہ بیوروکریسی پلیت کر رہی ھیں’۔










