کون کہاں عید مناے گا زرداری سندھ وزیر اعظم لاھور سپہ سالار بارڈر پر جوانوں کے ساتھ۔ ایاز صادق لاھور یوسف رضا گیلانی ملتان جبکہ وزراء اپنیے حلقوں میں۔ صوبائی وزراء اعلی اپنے صوبوں میں عید الفطر مناے گے۔ پاکستان میں عید کی خوشیاں مانند 80 فیصد عوام نئے کپڑوں سے محروم۔ عوام بجلی اور گیس کے بلوں میں 500 فیصد سے زائد اضافہ کی وجہ سے بچوں کے کپڑے نہ بنوا سکے۔ 28 ماہ میں 12 کروڑ عوام غربت کی آخری سطح پر پہنچ گئی۔۔ پاکستان میں 30 ھزار ارب روپے کی کرپشن جاری، کوئی پوچھنے والا نھی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

میں ایک جماعت کا نھی تمام سیاسی جماعتوں کا چئیرمین سینٹ ھوں یوسف رضا گیلانی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

سینیٹ سیکرٹریٹ میڈیا ڈائریکٹو ریٹ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی وڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصرکے عیدالفطر کے موقع پر پیغامات اسلام آباد (9 اپریل 2024) ء چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضاگیلانی نے مسلمانانِ عالم اسلام اور خاص طور پر پاکستانیوں کو عید الفطر کے بابرکت اور پر مسرت موقع پر دلی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماہ رمضان کی عبادات قوم میں تقویٰ، نظم وضبط اور صبرو تحمل کی خوبیوں کو فروغ دیتی ہیں۔تمام اہل اسلام اسی جوش وجذبے کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی دنیاوی اور آخرت کی زندگی کو کامیاب بنائیں۔ ماہ رمضان مسلمانوں کیلئے اللہ تبارک تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم تحفہ ہے جس کے فیوض و برکات سے مستفید ہو کر آخرت کی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔عیدالفطر کادن رمضان المبارک کے حوالے سے یوم تکمیل رحمت الہی اور یوم تشکر ہے۔ اللہ تعالی کی بے پایاں نعمت و رحمت کا تقاضا ہے کہ ہم قادر مطلق کے احکامات کی روشنی میں اپنے روز و شب کو منور کریں کیونکہ یہی صراط مستقیم ہے جس پر چل کر ہم دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ سید یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ آج کے دن ہمیں عید کی خوشیاں مناتے ہوئے اس بات کا خصوصی خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ اپنے عزیز و اقارب، پڑوسیوں اوراردگردبسنے والے ضرورت مند بہن بھائیوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرسکیں۔ یہی ہمارے مذہب کی تعلیمات اور معاشرے کا وصف ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے عید الفطر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہمیں ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے مل کر کام کرنے کا عہدکرنا ہوگا تاکہ ملک کو درپیش مسائل کا حل مل کر نکالا جا سکے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ عید الفطر امن اور محبت کے ساتھ خوشیاں باٹنے کا درس دیتا ہے اور ہمیں ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عید الفطر مسلم دنیا کیلئے اہم دن کی حیثیت رکھتا ہے۔ عید الفطر کی مناسبت سے ہمیں باہمی اختلافات کو بھلا کرملکی ترقی و خوشحالی کیلئے آگے بڑھنا ہوگا۔

عیدالفطر گفٹ ۔۔۔فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 4 روپے 92 پیسے فی یونٹ مہنگی اضافہ فروری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیاگیا، نوٹیفیکیشنوصولی صرف اپریل کے بلوں میں ہوگی، نوٹیفیکیشن

عیدالفطر گفٹ ۔۔۔فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 4 روپے 92 پیسے فی یونٹ مہنگیاضافہ فروری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیاگیا، نوٹیفیکیشنوصولی صرف اپریل کے بلوں میں ہوگی، نوٹیفیکیشن

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اپنے بھارتی ہم منصب راج ناتھن کی جانب سے پاکستان کو دی گئی دھمکیوں کے جواب میں بجا طور پر واضح کردیا ہے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اپنے بھارتی ہم منصب راج ناتھن کی جانب سے پاکستان کو دی گئی دھمکیوں کے جواب میں بجا طور پر واضح کردیا ہے کہ مودی سرکار نے کسی ایڈونچر کی کوشش کی تو منہ توڑ جواب دیں گے اور بھارت کا کوئی ادھار باقی نہیں رہنے دیں گے ۔ دفتر خارجہ کی ترجمان نے بھی بھارتی وزیر دفاع کے بیان کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے کا پس منظر یہ ہے کہ برطانوی اخبار گارڈین کی ایک حالیہ اشاعت میں شامل بین الاقوامی دہشت گردی میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کی تفصیلات پر مبنی رپورٹ نے مودی سرکار کو شدید رسوا کن صورت حال سے دوچار کردیا۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھن سنگھ نے اس کے اثرات زائل کرنے کی خاطر دیے گئے ٹی وی انٹرویو میں ایک طرف گارڈین کی اس رپورٹ کو حقائق کے منافی قرار دیا جس کے مطابق 2020 ءسے اب تک پاکستان میں کم از کم 20افراد کو بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے قتل کرایا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’اگر کسی بھی پڑوسی ملک سے کوئی دہشت گرد بھارت میں خلل ڈالنے یا دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی کوشش کرے گا تواس کا منہ توڑ جواب دیں گے اور اگر وہ بھاگ کر پاکستان جائے گا تو پاکستان میں گھس کر ماریں گے۔‘‘ انہوں نے اس طریق کار کو مودی سرکار کی باقاعدہ پالیسی بھی قرار دیا۔ اس طرح راج ناتھن نے خود ہی بھارت کا سرحد پار قتل و غارت میں ملوث ہونا تسلیم کرلیا۔ ڈھائی ماہ پہلے پاکستان کے اندر قتل کی وارداتوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد پاکستانی دفتر خارجہ دنیا کے سامنے پیش کرچکا ہے اور اب گارجین کی رپورٹ سے اس کی پوری طرح توثیق ہوگئی ہے۔تاہم بھارتی دہشت گردی کا دائرہ محض پاکستان تک محدود نہیں۔ گزشتہ سال ستمبر میں کنیڈا میں مقیم سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی حکومت کے ملوث ہونے کے مضبوط شواہد کی بناء پر کنیڈا نے بھارت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا تھا اور دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی اس معاملے میں کنیڈا کی مکمل حمایت کی تھی اور بھارت کو متنبہ کیا تھا کہ ایسی کارروائیاں قابل برداشت نہیں۔ اس کے بعد نومبر میں خود امریکی حکومت نے یہ انکشاف کیا کہ بعض بھارتی اہلکاروں نے امریکہ میں مقیم سکھ رہنما پتونت سنگھ کو قتل کرانے کی سازش کی تھی جسے امریکی خفیہ اداروں نے ناکام بنادیا۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی ایسی مزید کئی کارروائیاں منظر عام پر آچکی ہیں جن سے اس کا بین الاقوامی دہشت گرد ہونا ثابت ہے ۔ تاہم پاکستان کو اس کی تازہ دھمکیوں کے اصل محرک کی جو نشان دہی خواجہ آصف نے کی ہے حالات کی روشنی میں وہ عین ممکن دکھائی دیتی ہے۔ان کے مطابق آئندہ عام انتخابات میں حکمراں جنتا پارٹی اپنے لیے ماحول کو سازگار بنانے کی کوئی ویسی ہی کارروائی کرنے کی کوشش میں دکھائی دیتی ہے جیسے پچھلے انتخابات سے قبل پلوامہ حملے کا ڈراما رچا کر اور پھر پاکستانی حدود میں ناکام فضائی کارروائی کی شکل میں کی گئی تھی لیکن پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں بھارتی جہاز کے گرائے جانے اور پائلٹ کے پکڑے جانے پر مودی حکومت کو سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم یوں بھارت کے اندر حکمراں جماعت کے حق میں فضا پیدا کرنے میں کامیابی ضرور حاصل کرلی گئی تھی ۔عیار بھارتی حکمرانوں سے ایک بار پھر ایسی کوئی منصوبہ بندی ہر گز بعید نہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان سے ویسا ہی جواب ملے گا جس کا تجربہ پچھلی بار انہیں ہوچکا ہے جبکہ عالمی برادری کو بھی یہ حقیقت ملحوظ رکھنا ہوگی کہ ایسا ہوا تو علاقے کی دو ایٹمی طاقتوں کی محاذ آرائی پوری دنیا کے امن کو شدید خطرے میں ڈال سکتی ہے اور تباہی کا دائرہ کسی بھی حد تک وسیع ہوسکتا ہے۔

5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھارت میں 100 ڈالر کی سرمایہ کاری کر دی گئی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کے درمیان باضابطہ ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم جناب محمد شہباز شریف نے آج الصفاء پیلس مکہ المکرمہ میں ایک باضابطہ ملاقات کی۔سعودی ولی عہد نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کی غیر متزلزل حمایت اور مہمان نوازی پر سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کیا اور دوطرفہ تعلقات اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کا محور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے راستے تلاش کرنا تھا۔ملاقات میں پاکستان کی معیشت میں سعودی عرب کے تعاون کو سراہا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان کاروبار اور سرمایہ کاری کے حوالے سے تعاون بڑھانے کے باہمی عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں نے پاکستان میں 5 بلین ڈالر مالیت کے نئے سعودی سرمایہ کاری پیکج کے پہلے فیز کو جلد از جلد پایہ ء تکمیل تک پہنچانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے غزہ کی تشویشناک صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کی علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہء خیال کیا۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو روکنے اور انسانی جانی نقصان کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں پر زور دیا۔۔دونوں رہنماؤں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ بڑھائیں تا کہ وہ اپنے غیر قانونی اقدامات سے باز آئے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ تک بلا روک ٹوک انسانی امداد کی رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں کے ساتھ ساتھ عرب امن اقدام کے عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر تبادلہء خیال کیا جس کا مقصد ایک آزاد فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو ، کے قیام کے لیے ایک منصفانہ اور جامع حل تلاش کرنا ہے۔ دونوں فریقین نے خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات بالخصوص جموں و کشمیر کے تنازع کو حل کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی اہمیت پر زور دیا۔وزیراعظم پاکستان نے سعودی ولی عہد کو جلد از جلد پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی جسے ولی عہد نے قبول کرلیا۔