Monthly Archives: April 2024
وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اپنا اختیار ختم کرنے کا عمل تیز کر دیا۔ وفاقی حکومت قیمتوں میں اضافے پر عوام کی تنقید سے بچنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار تیل کمپنیوں یا پٹرول پمپ مالکان کو منتقل کرنے کی خواہاں ہے
وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اپنا اختیار ختم کرنے کا عمل تیز کر دیا۔ وفاقی حکومت قیمتوں میں اضافے پر عوام کی تنقید سے بچنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار تیل کمپنیوں یا پٹرول پمپ مالکان کو منتقل کرنے کی خواہاں ہے۔ رپورٹ کے مطابق پٹرولیم ڈویژن کی طرف سے اوگرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ تین دن میں پٹرولیم مصنوعات کی ڈی ریگولیشن پر تجزیہ اور اس کے مضمرات پر بریفنگ دی جائے۔ ڈی ریگولیشن کے بعد ملک میں پٹرول و ڈیزل کی یکساں قیمتوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور تیل کمپنیاں شہروں اور دیہات کے لیے اپنی الگ قیمتیں مقرر کرنے میں آزاد ہوں گی۔ واضح رہے کہ فرنس آئل اور ہائی آکٹین کی قیمتوں کے تعین کا اختیار پہلے ہی تیل کمپنیوں کے پاس ہے۔
*اسٹیل مل 30 ارب ڈالر کی پراپرٹی ہے اسے کوڑیوں کے مول دکھا کر کسے نوازا جارہا ہے؟ اسٹیل مل کے اثاثوں میں لوہے کی پورے پاکستان کی کانیں بھی شامل ہیں ۔ اس سے تو پاکستان کا 70 ارب ڈالر کا قرضہ چٹکی بجاتے اتر سکتا
اسرائیل اور ایران امنے سامنے سعودی عرب کے لئیے خطرہ۔۔پاکستان کے لیے مشکلات
یکم اپریل 2024کے اسرائیلی حملے کے جواب میں جس کے نتیجے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے لیڈر سمیت 12افراد شہید ہوگئے تھے،ایران نے 13اپریل کو اس کا بدلہ لیتے ہوئے اسرائیل پر 100سے زیادہ ڈرون اور میزائل داغے ۔اس کے تقریباً ایک ہفتے بعد عالمی برادری کی مخالفت کے باوجود اسرائیل نے جمعہ کے روز علی الصبح ایرانی شہر اصفہان کے قریب تین ڈرون حملے کئےتاہم انھیں ایرانی دفاعی نظام نے ناکارہ بنادیا۔ ایرانی حکام کے مطابق حملے میں اس کی جوہری تنصیبات محفوظ رہیں، صورتحال کنٹرول میں ہے جبکہ ملک بھر میں تمام پروازیں عارضی بندش کے بعد بحال کردی گئی ہیں۔ایرانی ذرائع کے مطابق اس کا اسرائیل کے خلاف فوری کارروائی کا کوئی منصوبہ نہیں۔اس سے قبل ایرانی حملے کے بعد اسرائیلی کابینہ متذکرہ کارروائی کرنے کے حوالے سے مخمصے میں پڑی رہی۔اس دوران امریکہ جو درپردہ اسرائیل کے ایران پر حملے کے حق میں ہے،صدر جوبائیڈن نےاسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو پر واضح کیا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف کارروائی میں براہ راست حصہ نہیں لےگا۔جمعہ کے روز امریکی نشریاتی ادارے نےسرکاری حکام کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں اصفہان کے قریب جوہری تنصیبات کے تحفظ پر مامور ایرانی میزائل بیٹریوں کو نشانہ بنایا گیا ۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس حملے کا مقصد ایران کو اسرائیلی صلاحیتوں کے بارے میں اشارہ دینا تھالیکن کشیدگی بڑھانا نہیں تھا۔حماس نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئےکہا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھے گی۔اقوام متحدہ نے اس کارروائی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اسے روکنے پر زور دیا ہے۔چین، روس اوریورپی یونین نے الگ الگ طور پر ایران اور اسرائیل سے کشیدگی ختم اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہا ہے۔ان کے مطابق پیدا شدہ صورتحال کسی کے مفاد میں نہیں۔عالمی توانائی ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی جوہری تنصیبات بدستور محفوظ ہیں۔پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ایران پر اسرائیلی حملوں کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔یہاں یہ بھی واضح ہو کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق تین روز بعد اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے سرکاری دورے پر آرہے ہیں۔امریکہ اگر ایک طرف اس جنگ کا حصہ نہ بننے کا دعویٰ کر رہا ہے تو دوسری طرف اسرائیل کو اربوں ڈالر کا اسلحہ فراہم کرنے جارہا ہے، ایک بین الاقوامی میگزین کے مطابق دونوں کے درمیان جو معاہدے ہونے جارہے ہیں ، ان میں جنگی سازوسامان، جس کی کل مالیت 1.3ارب ڈالر ہے ،نہتے فلسطینیوں اور ایران کے خلاف ممکنہ طور پر استعمال ہوگا۔ایران اپنے دفاعی بجٹ میں اسرائیل سے پیچھے، تاہم فوجیوں کی تعداد میں بھاری،اسرائیل کادفاعی بجٹ 67کھرب 66ارب جبکہ ایران 27کھرب 60ارب روپے کا حامل ہے۔اسرائیل 612جبکہ ایران کے پاس 551طیارے ہیں،اسرائیل کے پاس جنگی بحری جہازوں کی تعداد 67اور ایران کے پاس 101جہازوں کا بیڑا ہے۔عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے پاس اس وقت 80ایٹم بم ہیں جبکہ ایران کے پاس سرکاری اطلاعات کے مطابق کوئی نہیں۔محل وقوع کے مطابق ایران کے مغرب میں عراق، اردن اور شام کے ممالک اسے اسرائیل سے ملاتےہیں۔مشرق وسطیٰ گنجان آباد خطے پر مشتمل ہے اور اس میں شامل بیشتر ممالک تیل کی خطیرپیداوار کے حامل ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جو 70سالہ دیرینہ فلسطین کا مسئلہ حل کرنے میں تاحال ناکام ہے،اگر ایران اسرائیل کشیدگی کے حوالے سے بھی یہی حال رہا تو دنیا میں امن کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
بلو چستان سے کچے کے ڈاکوؤں کے لئے اسمگل کیا جانے والے اسلحے کی اسمگلنگ ناکام بنانے والے پولیس اہلکاروں کو پیپلز پارٹی رہنما بابل بھیو کے بیٹے سمیت 7 افراد کو گرفتار کرنے والے اسپیشل اسکواڈ انچارج طارق ترین، شفاعت اعوان اور شمس بیگ ڈھر کا تبادلہ جیکب آباد سے گھوٹکی کر دیا گیا ملوث افراد کے نام نکال کر چھوٹے ملازمین کو ملوث کر دیا گیا
کراچی ( بادبان نیوز ) بلو چستان سے کچے کے ڈاکوؤں کے لئے اسمگل کیا جانے والے اسلحے کی اسمگلنگ ناکام بنانے والے پولیس اہلکاروں کو پیپلز پارٹی رہنما بابل بھیو کے بیٹے سمیت 7 افراد کو گرفتار کرنے والے اسپیشل اسکواڈ انچارج طارق ترین، شفاعت اعوان اور شمس بیگ ڈھر کا تبادلہ جیکب آباد سے گھوٹکی کر دیا گیا ملوث افراد کے نام نکال کر چھوٹے ملازمین کو ملوث کر دیا گیا مبینہ طور پر اندرون سندھ کے ڈاکوؤں کو پیپلز پارٹی کے عہدیدار سردار وڈیروں کے اسکواڈ کی آڑ میں کراچی سے بزنس مین اور صاحب حثیت افراد کو اغوا کرکے کچے کے علاقے میں لے جاتے ہیں اور کروڑوں روپے تاوان لیکر کر انکو رھا کیا جاتا ہے مبینہ طور پر کراچی سے اغوا برائے تاوان ہونے والے افراد کو بھی اسی طریقہ واردات کے تحت کچے میں پہنچایا جاتا ہے منسٹر ایم پی اے یا پارٹی عہدے دار کی گاڑی کے ساتھ چلنے والے گاڑی کے زریعے مغو یان کو کچے کے ڈاکوؤں کے حوالے کیا جاتا ہےآئی جی سندھ نے افسران و اہلکاروں کو انعام اور شاباشی دینے کی بجائے ڈاکوؤں کے سرپرستوں کو مبینہ طور پر ان پولیس اہلکاروں کو مجرم پکڑنے کی پاداش میں ضلع بدر کردیا۔

پاکستان میں مایوسی اور نا امیدی کے ساے جو جتنا بڑا نوسر باز ھے اسکو اتنا بڑا عھدہ مل رھا ھے کسان سے 3400 روپے میں گندم نھی خرید رھا کاکڑ نے 24 لاکھ ٹی گندم 2 ارب ڈالر کی خریدی تفصیلات بادبان ٹی وی پر سہیل رانا لاءیو میں
پوری دنیا کی فلائیٹ بارش کی وجہ سے دبئی میں معطل تھیں.. لیکن PIA طیارہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا
پوری دنیا کی فلائیٹ بارش کی وجہ سے دبئی میں معطل تھیں.. لیکن PIA طیارہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا
آئی جی اسلام آباد کی تعیناتی کا معاملہ حل ہوگیاانسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس کی تعیناتی کا معاملہ حل ہوگیا، علی ناصر رضوی ضمنی الیکشن کے بعد آئی جی اسلام آباد کا چارج لیں گے
آئی جی اسلام آباد کی تعیناتی کا معاملہ حل ہوگیاانسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس کی تعیناتی کا معاملہ حل ہوگیا، علی ناصر رضوی ضمنی الیکشن کے بعد آئی جی اسلام آباد کا چارج لیں گے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ علی ناصر رضوی کو ڈی آئی جی آپریشنز سے جلد ریلیو کر دیا جائے گا جبکہ نئے ڈی آئی جی آپریشنز کے لیے رانا ایاز سلیم اور فیصل کامران کے ناموں پر غور شروع کردیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہزاد بخاری اور سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کا نام بھی شامل ہے۔علی ناصر رضوی کی آئی جی اسلام آباد تعیناتی کا نوٹیفکیشن 30 مارچ کو جاری کیا گیا تھا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت اسلام آباد میں تعینات 3 ڈی آئی جیز علی ناصر رضوی سے سینئر ہیں۔









