سپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ کی سیکیورٹی میں غفلت برتنے اور غیرمتعلقہ افراد کے داخل ہونے پر کارروائی کرتے ہوئے 8 سیکیورٹی اہلکاروں کو معطل کردیا۔جمعہ 17 مئی 2024 کو قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمان کے معزز ممبران کی پارلیمنٹ کی سیکیورٹی کے اہم مسئلے کی طرف توجہ مبذول کروائی تھی-ترجمان قومی اسمبلی نے تصدیق کی کہ پارلیمنٹ کے اسپیکر ایاز صادق نے سیکیورٹی اہلکاروں کو غفلت پر معطل کیا۔انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے غیرمتعلقہ افراد کے داخلے پر 8 سیکیورٹی اہلکار معطل کیے کیونکہ غیر متعلقہ اور غیر مجاز افراد کو کسی صورت پارلیمان میں داخلہ کی اجازت نہیں۔پارلیمان کے تحفظ اور اس کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی نے ملازمین کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحفظ اور اس کی حرمت پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا-ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان ایک سپریم ادارہ ہے اور پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی ترجمان ہے لہٰذا پارلیمنٹ کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانا ہم سب کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
کرغستان۔۔۔حالات شدید خراب پاکستانی طلبہ کی زندگیاں خطرے میں پاکستانی ایمبیسی سے کوئی مدد نہیں۔۔۔پاکستان کا فارن آفس نیند سے جاگے اگر ان طلبہ کو کچھ ہوا تو ذمہ دار آپ بھی ہوں گے۔۔سب آواز اٹھائیں۔۔۔!!
اسلام آباد، مئی 2024 – نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، اسلام آباد میں 15 سے 17 مئی دو ہزار چوبیس تک تین روزہ گرینڈ کنسورشیم سمٹ اور اریمیس + ایکٹیو کریکولم ریویو میٹنگ کے آغاز کا اعلان کیا گیا۔ یہ اہم تقریب ایکٹیو کا حصہ ہے۔ یہ پراجیکٹ، پاکستان کے ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین کی جانب سے فنڈز فراہم کرنے والا ایک اہم اقدام ہے۔ 0.717 ملین یورو کی کل فنڈنگ کے ساتھ، اس مشترکہ کوشش کو یورپی یونین اریسمیس + سی بی ایچ ای 2022 پروگرام کی طرف سے مکمل تعاون حاصل ہے۔
ایکٹو پروجیکٹ کنسورشیم سات شراکت داروں پر مشتمل ہے: پاکستان کے چار اعلیٰ تعلیمی ادارے (HEIs)، بشمول سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی، مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو، سندھ، اور بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز اور تین یورپی ادارے آئرلینڈ، اسپین اور رومانیہ سے شامل ہیں ۔ یہ متنوع شراکت داری پائیدار ماحولیاتی تحفظ کے لیے ٹیکنالوجی اور اختراعات سے فائدہ اٹھانے کے لیے اجتماعی عزم کی نشاندہی کرتی ہے۔سمٹ کا آغاز نیوٹیک کے ڈی جی اسکلز میجر جنرل رضا خان کی خیر مقدمی تقریر سے ہوا۔ بعدازاں ڈاکٹر پابلو اوٹیرو روتھ، یو ایم اے اسپین اور ڈاکٹر مریم جلال، نیوٹیک کی طرف سے پروجیکٹ ایکٹیو کا تعارف دیا گیا اور مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے پروفیسر ڈاکٹر بھوانی شنکر چودھری کی جانب سے پراجیکٹ کی سرگرمیوں کا خلاصہ پیش کیا گیا۔ ایس ایس یو ای ٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ولی الدین نے بھی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے تعلیمی اور ماحولیاتی منظر نامے کے لیے اس منصوبے کی اہمیت پر زور دیا۔ ایچ ای پاکستان میں یورپی یونین کے وفد سے مسٹر فلپ اولیور گراس نے اپنے خطاب میں اس منصوبے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ایس ایس یو ای ٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عامر نے ورک پیکج 4 پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے صلاحیت سازی کی سرگرمیوں کو اپ ڈیٹ کیا۔ جناب فلپ اولیور گراس، پاکستان میں رومانیہ کے سفیر مسٹر ایڈورڈ رابرٹ پریڈا اور ہسپانوی سفارت خانے کے نمائندے مسٹر کارلوس نے نیوٹیک میں تعاون اور علم کے تبادلے میں ایک سنگ میل کے طور پر ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے آئی سی ٹی ایپلی کیشنز کے استعمال کے لیے وقف پہلے سینٹر آف ایکسیلنس کا افتتاح کیا۔اس مرکز کا مقصد قابلیت سازی کی سرگرمیوں اور جدید ٹیکنالوجیز پر خصوصی کورسز کے ذریعے ماحولیاتی سائنس میں مہارت رکھنے والے ماہر انجینئرز کو تیار کرنا ہے۔ یہ مرکز چار تحقیقی مراکز قائم کرے گا جو مقامی ماحولیاتی چیلنجوں پر توجہ مرکوز کریں گے اور عملی تربیت فراہم کریں گے اور تخفیف کی کوششوں میں تعاون کریں گے۔دوسرے روز پاکستان میں سری لنکا کے سفیر ایڈمرل رویندر سی وجیگونارتنے نے نیوٹیک میں یورپی یونین سینٹر آف ایکسیلنس کا دورہ کیا۔ اس دن ایکٹیو پروجیکٹ کے تحت نیوٹیک اور محکمہ موسمیات کے درمیان مفاہمت کے ایک خط پر دستخط بھی ہوئے، جس کا مقصد تعاون کو بڑھانا ہے۔ محکمہ موسمیات پاکستان کے چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر محمد افضال نے موسمیاتی تبدیلی پر ایک گیسٹ لیکچر دیا۔پروگرام کے آخری دن ایکٹیو کنسورشیم کے اراکین نے قومی زرعی تحقیقی مرکز کے دورے کے ساتھ ایک اہم سنگ میل کا نشان لگایا۔ ان دوروں نے زرعی تحقیق کے مختلف پہلوؤں پر گہرائی سے بات چیت کی سہولت فراہم کی، بشمول ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، پائیدار طریقوں، اور باہمی تعاون کے مواقع پر غور کیا گیا۔ اس منصوبے میں پیشرفت مستقبل کے لیے ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی علوم کو پلنے کے لیے ایک مشترکہ کوشش کی نشاندہی کرتی ہے۔
آستیں میں سانپ اک پلتا رہا ہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہا بھارت ایک حملے کی تیاری میں مصروف مودی بڑے ایڈوینچر کو کامیاب بنانے کے لیے 24 گھنٹوں میں 2 بار سروسز چیف اور راج ناتھ سنگھ کے ساتھ مل چکا ہے ایک ھفتہ میں 2 بار مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر چکا آزاد کشمیر میں گزشتہ ھفتہ 2 ناخوشگوار واقعہ کے بعد پاکستان کے سول سایئڈ کے ای جی سھیل تاجک ایڈیشنل چیف سیکرٹری تبدیل کر دءیے گئے کیا ایک اھم شخصیت کو بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے جن کے فرانس اور جرمنی میں بڑے کاروبار ھے
آستیں میں سانپ اک پلتا رہا ہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہا بھارت میں ان دنوں عام انتخابات ہورہے ہیں‘ اور وہاں کی اتنئا پسند جماعت بی جے پی اپنی انتخابی کامیابی کے لیے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے نعرے لگا رہی ہے‘ اور یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں آزاد جموں وکشمیر میں عوامی احتجاج ہوا اور اس کے نتیجہ میں سرکاری اور نجے املاک کو بھی شدید نقصان پہچایا گیا اور ایک پولیس جواب اے اسی آئی عدنان ملک بھی بلوا ئیوں کے ہاتھوں شہید ہوا‘ آزاد جموں و کشمیر میں ایک عرضہ سے حالات خراب کرنے کی کوشش کی جارہی تھی اور اب بھارت میں ہونے والے عام انتخابت کے باعث اس کو موقع جان کر یہاں حالات خراب کیے گئے‘ ان میں وہی لوگ براہ راست یا بلواسطہ ملوث ہیں جو آزاد جموں کشمیر میں اور پاکستان میں امن نہیں چاہتے‘ ایسی ہی ایک جماعت یونائیٹڈ کشمیر نیشنل پیپلز پارٹی بھی ہے جس کا چیئرمین سردار شوکت علی کشمیری ان دنوں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے‘ ان جیسے لوگ بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں‘ اور وہ پاکستان اور آزاد جموں کشممیر کے عوام کو ہر وقت نقصان پہنچانے کے در پہ رہتے ہیں‘ ابھی سب کو علم ہے کہ بھارت میں بی جے پی اسی صورت جیت سکتی ہے کہ جب وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی بات کرے گی‘ یہی وجہ ہے کہ مودی کچھ بھی کرسکتا ہے‘بھارت ایک حملے کی تیاری میں مصروف مودی بڑے ایڈوینچر کو کامیاب بنانے کے لیے 24 گھنٹوں میں 2 بار سروسز چیف اور راج ناتھ سنگھ کے ساتھ مل چکا ہے ایک ہفتہ میں 2 بار مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر چکا آزاد کشمیر میں گزشتہ ہفتے 2 ناخوشگوار واقعہ کے بعد پاکستان کے سول سائیڈ کے آئی جی پولیس سہیل تاجک ایڈیشنل چیف سیکرٹری تبدیل کر دئیے گئے ہیں کیا ایک اھم شخصیت کو بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے جن کے فرانس اور جرمنی میں بڑے کاروبار ہے
فیصل واڈا اور مصطفی کمال توہین عدالت کیس کے تحریری حکم کا آخری پیراگراف اہم ہے جس میں ٹیلی ویژن چینلز اور اخبارات کو ان دونوں کی پریس کانفرنس نشر کرنے شائع کرنے دوبارہ نشر کرنے یا شائع کرنے سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پ بھی توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں جس سے گریز کریں
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے 6 ججوں کے خط کا معاملہ آؤٹ آف کورٹ حل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بہتر ہے بیٹھ کر معاملہ سلجھائیں۔سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ 15 دن سے ایک دوسرے کی عزتیں اچھالی جارہی ہیں، بہتر ہے ایک دوسرے کی مزید عزتیں خراب نہ کریں، جن افراد کا کردار بنتا ہے وہ ایک جگہ بیٹھیں۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم سوچ رہے ہیں کہ اس معاملے پر صدر مملکت کو ایڈوائس کریں کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں، میری وزیراعظم سے بات ہوئی ہے، شہباز شریف کا خیال ہے کہ اس طرح معاملات چلتے رہے تو ملک کو کیسے بہتری کی طرف لے جاسکتے ہیں۔مسلم لیگ ن کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ 6 ججوں کے خط کا معاملہ آؤٹ آف کورٹ حل کرنا ہوگا، 6 ججوں کے خط کے معاملے میں کسی کو کٹہرے میں کھڑا کرکے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا، حل اس کے سوا کوئی نہیں کہ ادارے اور لوگ ایک جگہ بیٹھ کر معاملہ سلجھائیں۔سابق وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ ایک طرف سیاستدان یا حکومت، دوسری طرف عدلیہ اور تیسری طرف نشانہ اسٹیبلشمنٹ ہے، سیاستدانوں، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو ماضی سے نکلنا ہوگا، میں نہیں سمجھتا کہ کسی کے بھی حق میں یہ بہتر ہوسکتا ہے شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا، سیاستدان، عدلیہ ،اسٹیبلشمنٹ سب کو ماضی سے نکلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جنہوں نے بھی پریس کانفرنس کی، وہ پارلیمنٹ کے ارکان ہیں، حکومت کے پابند نہیں، ان ارکان نے پارلیمنٹ نے جس طرح مناسب سمجھا اس کے مطابق بات کی، روز پی ٹی آئی کے 3 چار لوگ آتے ہیں اور میڈیا پر ہوائی فائرنگ شروع کردیتے ہیں، ہماری طرح سے جو لوگ دستیاب ہوتے ہیں تو وہ بھی بات کرتے ہیں۔رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ایسی بات نہیں کہ کسی پر دباؤ ڈالا گیا ہو کہ جاکر یہ بات کریں، پی ٹی آئی والے جن الفاظ میں تنقید کرتے ہیں کیا اس طرح تنقید کی جاسکتی ہے، کیا پی ٹی آئی کے ارکان عدلیہ کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھ کر تنقید کرتے ہیں، اگر سیاستدان کہیں کہ وہ معصوم ہیں ساری غلطی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ نے کی تو یہ درست نہیں۔مسلم لیگ ن کے رہنما نے مزید کہا کہ اگر عدلیہ کہے کہ ہم نے تو بالکل آئین اور قانون کی پاسداری کی ہے وہ بھی درست نہیں ہوگا، اسٹیبلشمنٹ کہے کہ کبھی کسی کے معالے میں دخل نہیں دیا تو یہ بات بھی سچ نہیں ہوگی، اگر کوئی ایک فریق چاہے کہ دیگر 2 پر الزام لگا کر خود کو کلیئر کرلے ایسا نہیں ہوگا، ماضی کے معاملے کو چھوڑ کر آج سے نیا آغاز کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ نے کہا کہ جن جج صاحبان نے خط لکھا ہے وہ سارے ہی قابل عزت اور بہترین انسان ہیں، اگر بات یہ کریں کہ یہ ہوتا رہا ہے اور آج کے بعد نہیں ہونا چاہیے تو یہ ہوسکتا ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک کی معیشت کی صورتحال سے متعلق ششماہی رپورٹ جاری کردی جس میں مالی سال 2023-24ء کے لیے اوسط مہنگائی کی شرح 23 سے 25 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جو مالی سال 2022-23ء کے مقابلے میں کم ہے۔ مالی سال 2023ء میں مہنگائی 29.2 فیصد تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر 2025ء تک مہنگائی کے مزید کم ہو کر 5 سے 7 فیصد تک آنے کی توقع ہے۔ ’پاکستانی معیشت کی کیفیت‘ کے عنوان سے جاری ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024ء کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان کے معاشی حالات بہتر ہوئے۔ رپورٹ جولائی تا دسمبر مالی سال 2023-24ء کے اعدادوشمار کے تجزیے پر مشتمل ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حقیقی اقتصادی سرگرمیوں میں گزشتہ سال کے سکڑاؤ کے برعکس معتدل بحالی ہوئی جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ عارضی انتظام (ایس بی اے) نے بیرونی کھاتے پر دباؤ کم کرنے میں مدد دی۔ دریں اثناء سخت زری اور مالیاتی پالیسیوں کے تسلسل، زرعی پیداوار میں بہتری اور اجناس کی عالمی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے جاری کھاتے کے خسارے میں خاصی کمی آئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملکی طلب محدود رہنے کے باوجود مہنگائی کا دباؤ بلند سطح پر برقرار رہا۔ اگر سٹیٹ بینک خود تسلیم کررہا ہے کہ مہنگائی کا دباؤ برقرار رہا ہے تو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام آدمی کے لیے حالات کیسے ہوں گے اور آئی ایم ایف کے نئے قرض پروگرام سے تو عام آدمی کے اقتصادی حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ حکومتی پالیسیاں ہی مہنگائی سمیت عوام کے مسائل بڑھاتی ہیں۔ اب عوام کو حقیقی ریلیف دینے کی پالیسیوں کی ضرورت ہے، ایسا نہ ہو کہ عوام تنگ آ کر آزاد کشمیر کے عوام کی طرح سڑکوں پر نکل آئیں۔
اپ ڈیٹ پاکستان کرکٹ ٹیم ۔پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہیڈنگلے لیڈز میں پریکٹس سیشن جاری۔سیشن تین گھنٹے جاری رہے گا تمام کھلاڑی کوچز کی نگرانی میں بیٹنگ بولنگ اور فیلڈنگ کی پریکٹس میں حصہ لیں گے۔کل پاکستان ٹیم صبح نو سے دوپہر بارہ بجے تک پریکٹس سیشن کرے گی۔19 مئی کو پاکستان ٹیم آرام کرے گی اس روز پریکٹس سیشن نہیں ہوگا۔پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل22 مئی کو ہیڈنگلے لیڈز میں کھیلا جائے گا۔