خرم دستگیر کی حرامزدگیاں الیکشن ھارنے کے بعد تحریک انصاف کے جیتے ھوے ایم این اے کے خلاف کارروائی تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی مبین عارف کے گودام اور فیکٹری کی بجلی کاٹ دی گئی۔ گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کی ٹیم نےپولیس کے ہمراہ سیالکوٹ بائی پاس پر واقعہ گودام اور فیکٹری پر چھاپہ مارتے ہوئے کارروائی کی، گیپکو حکام کا کہنا ہے کہ کارپوریشن کی درخواست پر کارروائی عمل میں لائی گئی ہے ، ایم این اے مبین کے والد عارف جٹ 2 کروڑ 60 لاکھ کے نادہندہ ہیں، محکمہ کارپوریشن کی درخواست پر بجلی منقطع کی گئی ہے ،ترجمان مبین عارف کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ سے سٹے لے رکھا ہے پھر بھی سیاسی مداخلت پر ہمارے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

عمران خان سے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی بانی چیئرمین سے ملاقات۔ تمام عمران خان شاہ محمود کو جیل میں رکھنے پر یک زبان تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں کی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات ختم ہو گئی۔ملاقات کے بعد پی ٹی آئی رہنما میڈیا سے گفتگو کئے بغیر اڈیالہ جیل کے باہر سے واپس روانہ ہوگئے۔عمران خان سے شبلی فراز، شیخ وقاص اکرم، صاحبزادہ محبوب سلطان نے ملاقات کی. پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر، صاحبزاہ حامد رضا اور رؤف حسن بھی ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے۔بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ سے عبید ریاض، بیٹی مہرالنسا اور بہو نے ملاقات کی۔

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری) کی زیر صدارت83ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس*کانفرنس میں کور کمانڈرز، پرنسپل سٹاف آفیسرز اور پاک فوج کے تمام فارمیشن کمانڈرز کی بھی شرکت

**** راولپنڈی،30 مئی، 2024:**آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری) کی زیر صدارت83ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس*کانفرنس میں کور کمانڈرز، پرنسپل سٹاف آفیسرز اور پاک فوج کے تمام فارمیشن کمانڈرز کی بھی شرکت فورم کی شہداء کے ایصال وثواب کے لئے فاتحہ خوانیفورم کا ملک کی حفاظت، سلامتی اور خودمختاری کیلئے مسلح افواج کے افسران و جوانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستانی شہریوں سمیت شہداء کی عظیم قربانیوں کو زبردست خرا ج عقیدتفورم کو جیو اسٹریٹجک حالات، قومی سلامتی کے لیے اُبھرتے ہوئے چیلنجز اور ملٹی ڈومین خطرات سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کی حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کیا گیا شرکاء کو پاک فوج کو جدید بنانے اور فیلڈ فارمیشنز کے لیے لاجسٹک سپورٹ کو بہتر بنانے کے لیے نئی تکنیکی تخلیقات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئیفورم نے افغانستان کی سرحد پار سے مسلسل خلاف ورزیوں اور افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے دہشتگردی کی منصوبہ بندی پر سخت تحفظات کا اظہار کیافورم نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ؛ ”پاکستان کے دشمن پاکستان کے اندر سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کیلئے افغانستان کو استعمال کر رہے ہیں“فورم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نئے ضم شدہ اضلاع کے عوام کی بیش بہا قربانیوں کا اعتراف کیافورم نے دہشتگردی کو فیصلہ کن شکست دینے کیلئے نئے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کی اہمیت پر بھی زور دیافورم نے بلوچستان میں سماجی و اقتصادی ترقی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ بیرونی طور پر پروپیگنڈہ کرنے والوں کا مقابلہ کیا جا سکےپروپیگنڈہ کرنے والوں کی پشت پناہی غیر ملکی سپانسرڈ پراکسیوں کے ذریعے کی جاتی ہے تاکہ بلوچستان کے نوجوانوں کو امن اور ترقی سے دور رکھا جا سکے، فورمفورم نے مشرقی سرحد پر موجودہ صورتحال اورمقبوضہ جموں و کشمیر میں معصوم کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کے تازہ ترین واقعات کا جائزہ لیا فورم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے لیے کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد میں مکمل یکجہتی کا اظہار کیافورم نے بھارت میں سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بڑھتے ہوئے فاشزم پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک پر تشویش کا اظہار کیا فورم نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی مذمت کیفورم کی غزہ پٹی کے اندر رفح آپریشن اور دیگر تمام آپریشنز کو روکنے کیلئے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی حمایت ”ریاستی اداروں بالخصوص افواج پاکستان کے خلاف جاری شدہ ڈیجیٹل دہشت گردی، مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے بیرونی سہولت کاروں کی مدد کے ساتھ کی جا رہی ہے”، شرکاء کانفرنساسکا مقصد جھوٹ اور پروپیگنڈا کے ذریعے پاکستانی قوم میں مایوسی پیدا کرنا اور قومی اداروں بالخصوص افواج پاکستان اور عوام کے درمیان خلیج ڈالنا ہے، فورمپاکستانی قوم جھوٹ اور پروپیگنڈا کرنے والوں کے مذموم اور مکروہ عزائم سے پوری طرح باخبر ہے اور اِن ناپاک قوتوں کے مذموم ارادوں کو مکمل اور یقینی شکست دی جائے گی انشاء اللّٰہ، شرکاء کانفرنسفورم نے اعادہ کیا کہ؛”ملک کے وسیع تر مفاد میں لازم ہے کہ 9 مئی کے منصوبہ سازوں، مجرموں، اس کی حوصلہ افزائی کرنے والوں اور سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے قانون کی عمل داری کو قائم کرنے اور9مئی کے مجرمان کے خلاف فوری اور شفاف عدالتی اور قانونی کارروائی کے بغیر ملک ایسے سازشی عناصر کے ہاتھوں ہمیشہ یرغمال رہے گا، فورمفورم کا پائیدار اقتصادی ترقی اور غیر قانونی سرگرمیوں بشمول سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، بجلی چوری کو روکنے، وَن ڈاکومنٹ رجیم، غیر قانونی غیر ملکی تارکین کی باعزت وطن واپسی سمیت قومی ڈیٹا بیس کی حفاظت کیلئے مختلف شعبوں میں حکومت کے اقدامات کی مکمل حمایت کرنے کا عزم آرمی چیف نے مختلف مشقوں کے دوران فارمیشنز کی اعلیٰ و معیار ی تربیت اور انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں میں افسران اور جوانوں کی شاندار کارکردگی کو سراہاآرمی چیف نے فارمیشنز کے بلند حوصلے اور ہمہ وقت آپریشنل تیاریوں کو بھی سراہا شرکاء کانفرنس نے حاضر سروس، ریٹائرڈ افسران اور جوانوں کی تربیت، انتظامیہ اور فلاح و بہبود کے لیے فوجی سطح پر کیے جانے والے اقدامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا فورم نے یوم تکبیر پر پاکستان کی طرف سے حاصل کیے گئے اہم سنگ میل اور خطے پر اس کے مستحکم اثرات کو سراہاکانفرنس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ؛”ملک کی سلامتی اور استحکام کو درپیش تمام خطرات کو قابل فخر قوم کی مکمل حمایت سے ناکام بنا دیا جائے گا“

وفاقی حکومت 7جون کو بجٹ پیش کرنے جارہی ہے جس معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایم ایف کے مطالبے پر بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے حکومت کو کئی شعبوں میں ٹیکس چھوٹ مکمل طور پر ختم کرنا ہوگی

وفاقی حکومت 7جون کو بجٹ پیش کرنے جارہی ہے جس معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایم ایف کے مطالبے پر بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے حکومت کو کئی شعبوں میں ٹیکس چھوٹ مکمل طور پر ختم کرنا ہوگی کیونکہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (ائی ایم ایف) کے ایک اور پروگرام کے لیے مذاکرات کررہی ہے آئی ایم ایف پروگرام میں پیش رفت کو قانون سازی اور پارلیمنٹ سے کئی اقدامات کی منظوری سے بھی جوڑا جارہاہے جس میں توانائی، پینشن، سرکاری کاروباری اداروں میں اصلاحات ، بجلی گیس کے نرخ، پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن ٹیکس کے نفاذ اور ٹیکس سے متعلق اصلاحات شامل ہیں.وفاقی حکومت نے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کم کرنے کے اپنے منصوبے سے اور حکومت عملی سے عالمی مالیاتی ادارے کو آگاہ کیا ہے اس وقت صرف توانائی سیکٹر میں خسارہ 2400 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے اور رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں اس میں 325 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو آئی ایم ایف کے مطالبے پر پاکستان کے بجٹ خسارے اور آمدن بڑھانے کے لیے ٹیکس میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات کرنا ہوں گے ان اقدامات کے نتیجے میں کئی ٹیکسز میں اضافہ اور بعض نئے ٹیکس لگنے کا بھی امکان ہے.بجٹ امور پر نظر رکھنے والے ماہر معیشت عبدالعظیم نے ”وائس آف امریکا“سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آٹو سیکٹر میں ایڈوانس ٹیکس کے نفاذ کی تجویز سامنے آئی ہے جس کے تحت گاڑی کی مالیت پر 10 فیصد نیا ٹیکس عائد کیا جارہا ہے اسی طرح 2 ہزار سی سی سے زائد کی گاڑیوں پر پہلے سے موجود سالانہ ایڈوانس ٹیکس فائلرز کے لیے پانچ لاکھ روپے کیا جارہا ہے جب کہ نان فائلرز کے لیے یہ ٹیکس 24 فیصد مقرر کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے.انہوں نے کہا کہ اس عمل سے حکومتی ریونیو میں تو اضافہ ہوگا مگر اس سے ملک میں گاڑیوں کی فروخت مزید کم ہو جائے گی ماہر معاشیات منور رضا کا کہنا ہے کہ کریڈٹ کارڈز پر بیرونی ادائیگیوں پر نان فائلرز کے لئے 20 فی صد ٹیکس عائد کیا جارہا ہے جو کہ اچھی تجویز ہے اور اس سے نان فائلرز کی بیرونی اخراجات کی حوصلہ شکنی ہو گی دوسری جانب کریڈٹ کارڈز سے بیرونی ادائیگیاں کرنے والے فائلرز کے لیے ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے منور رضا کے خیال میں ایسا کرنے سے زرمبادلہ کے آﺅٹ فلو میں اضافہ ہوسکتا ہے اس لیے ان کے خیال میں ملکی معیشت کو درپیش موجودہ حالات میں زیادہ مناسب نہیں ملک سے باہر بزنس کلاس میں سفر کرنے والوں کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے بجائے اب فکس ٹیکس دینا ہوگا جو روٹس کی مناسبت سے طے کیا جائے گا اس پر کم سے کم ٹیکس 75 ہزار روپے سے اڑھائی لاکھ روپے تک رکھنے کی تجویز ہے ماہرین اس ٹیکس کو مثبت قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کررہے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ بزنس کلاس میں سفر کرنے والوں کے لیے یہ ٹیکس دینا کوئی مشکل نہیں ہوگا اور اس کے نفاذ سے غیر ملکی زرِمبادلہ کی بچت ہوگی.بینکوں سے کیش نکالنے پر نان فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جارہا ہے اور اب اس کے لئے نئی شرح اعشاریہ نو فیصد مقرر کی جارہی ہے جو پہلے اعشاریہ چھ فی صد تھی ماہرین کے مطابق اس سے نہ صرف حکومت کے محصولات میں اضافہ ہو گا وہیں نان فائلرز کو فائلرز بننے کی ترغیب ملے گی اور کیش پر کاروبار کی حوصلہ شکنی ہوگی وفاقی حکومت نے زرعی آمدنی، نان کارپوریٹ کاروبار، سروس پروائڈرز بلڈرز اور کنسٹرکشن فرمزپر بھی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ماہرین معیشت اسے اچھا اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کرتے ہیں.ایک اور تجویز کے تحت بجلی کے دو لاکھ سے زائد والے بلز پر نان فائلرز صارفین کے لیے ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرح 20 فیصد تک کی جارہی ہے عبدالعظیم کے خیال میں اس عمل سے بھی فائلر بننے کی حوصلہ افزائی ہوگی اور حکومت کے محصولات بھی بڑھیں گے دوسری جانب حکومت نے بجلی اور گیس کے ایسے نان فائلرز صارفین پر بھی ٹیکس کی شرح 30 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کمرشل اور انڈسٹریل کنکشنز رکھتے ہیں.ماہرین کے خیال میں ایسا کرنے سے حکومت کے محصولات میں اضافہ تو ممکن ہے لیکن صنعتوں کی پیداوارای لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کے منافع میں کمی ہوگی جس کے باعث ملک کی معاشی ترقی میں بھی رکاوٹیں آئیں گی بجٹ کے لیے سیلز ٹیکس کے ساتھ ایکسٹرا سیلز ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے شادی ہالز کا بل دو لاکھ روپے سے زائد ہونے کی صورت میں 25 فیصد میرج ہالز ٹیکس بھی لینے کی تجویز بھی زیرغور ہے ماہرین معیشت کے خیال میں اس عمل سے حکومتی ریونیوز میں تو خاطر خواہ اضافہ ہوگا لیکن اس سے مہنگائی بھی بڑے گی اور یوں معاشی ترقی کی رفتار جو پہلے ہی سست ہے مزید کم ہونے کا خدشہ پیدا ہوگا.ملک میں پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی کے ساتھ اب حکومت نے ایک بارپھر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لاگو کرنے پر غور کیا جارہا ہے ماہرین کے خیال میں اس عمل سے جہاں مہنگائی بڑھے گی وہیں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں بھی خاطر خواہ کمی ہوسکتی ہے حکومت نے اپنی آمدن بڑھانے کے لیے اس بار ادویات پر بھی 10 سے 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس نافذ کرنے کی تیاری کررہی ہے.ماہرین کے مطابق یقینا اس کے منفی اثرات کے تحت ملک میں دوائیں مزید مہنگی ہوجائیں گی تاہم کئی ماہرین اس امکان کا بھی اظہار کررہے ہیں کہ عوامی ردعمل کی بنا پر یہ تجویز واپس بھی لی جاسکتی ہے. رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے حکومت کئی تجاویز پر سوچ بچار کررہی ہے ایک تجوزیز کے مطابق زرعی زمین اور پراپرٹی پر اعشاریہ پانچ فی صد ود ہولڈنگ ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور شہری علاقوں میں 450 گز سے زائد کی پراپرٹی فروخت کرنے پر نان فائلرز کو ساڑھے 10 فی صد ٹیکس ادا کرنا ہوگا تاہم سریے کی فروخت پر عائد ٹیکس چار فیصد ٹیکس ختم کیا جارہا ہے ماہر معاشیات سلمان نقوی کا کہنا ہے کہ ٹیکس تجاویز سے اندازہ ہوتا ہے کہ آئی ایم کی شرائط پوری کرنے کے لیے حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ وہ اپنے محصولات بڑھائے اور قرضوں پر انحصار کم کرے لیکن اس کے لیے حکومت کا انحصار ایک بار پھر براہ راست ٹیکس کے بجائے بالواسطہ ٹیکس پر زیادہ نظر آتا ہے.ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے لوگ اپنا ٹیکس کسی مجبوری یا خوف کے بجائے خوشی سے دیں‘ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے لوگوں کو سہولتیں ملیں لیکن دوسری جانب امیروں پر ٹیکس کے لیے سخت اقدامات کرنا اب ناگزیر ہوچکا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے معاشی اہداف پورا کرنا چاہتی ہے تو زرعی آمدن، تجارت، کاروبار، رئیل اسٹیٹ، ڈیری فارمنگ، اور دیگر شعبوں سے وابستہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا اور ان شعبوں کی آمدن کے حساب سے ٹیکس اکٹھا کرنا ہوگا.

عدلیہ کی کچھ کالی بھیڑیں عمران خان کو ریلیف دینے پر تلی ھوی ھے وزیر اعطم کیا کابینہ میں نے چہرے لاے جا رھے ھے شھباز شریف کی کابینہ کو تبدیل کیا جا رہا ہے تفصیلات کے لئے کلک کرے

وزیر اعظم شہباز شریف کی ججز کو کالی بھیڑیں کہنا یقینا توہین عدالت نہیں ہے اور نہ ہی ایف آئی اے اس پہ نوٹس کرے گی اور نہ ہی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس پہ کوئی ازخود نوٹس لیں گےکیا سٹیبلشمنٹ نے اپنے A ٹیم اب میدان میں اتار دی ہے فیصل واڈا ، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، مصطفی کمال ، اعظم تارڑ اناکام رانا ثناءاللہ سردار یوسف خورشید شاہ نوید قمر شیری رحمان شازیہ مری مخدوم احمد ان۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے بشری بی بی اور نجم الثاقب کی آڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل منظور اقبال دوگل کو مخاطب کر کے کہا آپ کے مطابق کسی کو فون ٹیپنگ کی اجازت نہیں دی گئی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے بشری بی بی اور نجم الثاقب کی آڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل منظور اقبال دوگل کو مخاطب کر کے کہا آپ کے مطابق کسی کو فون ٹیپنگ کی اجازت نہیں دی گئی، اگر آپ اب اس موقف سے پیچھے ہٹیں گے تو اس کے نتائج ہوں گے۔ قانون کہتا ہےکہ وفاقی حکومت اجازت دے سکتی ہے مگر آپکے مطابق اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے وقت طلب کیا تو جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ’آپ کو نہیں پتہ تھا کہ آج کیس لگا ہوا ہے؟ ایک سال سے یہ پٹیشنز زیر سماعت ہیں، اگر وفاقی حکومت عدالت میں جھوٹ بولے گی تو بات کیسے آگے بڑھے گی؟ وزیراعظم آفس سمیت دیگر اداروں کی جانب سے رپورٹس جمع کرائی جا چکی ہیں، رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کسی کو لیگل انٹرسیپشن کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواباً کہا کہ ’وہ جواب پٹیشنر کی آڈیو لیکس کی حد تک تھا۔ جسٹس بابر ستار نے کہا کہ جو بھی ہے آپ بتائیں شہریوں کی کالز کس قانون کے تحت آپ ریکارڈ کر رہے ہیں؟ زبانی کلامی نہ بتائیں باضابطہ طور پر بتائیں،آپ بتائیں آپ نےکس کو اجازت دے رکھی ہے؟ کس نے اتھارٹی دی ہوئی ہے کہ شہریوں کی کالز ریکارڈ کی جائیں؟ جسٹس بابر ستار نے مزید کہا کہ قانون کہتا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی اور دیگر گریڈ بیس کے افسر کو نوٹیفائی کریں گے جو سرویلینس کی اجازت کے لیے درخواست دیں گے۔ اگلا مرحلہ حکومتی وزیر کی جانب سے سپورٹنگ مٹیریل دیکھ کر سرویلنس کی اجازت دینا ہے جس کی حتمی منظوری عدالت دیتی ہے۔ اس قانون میں بھی پرائیویسی کو مدنظر رکھا گیا ہے، یہ بتائیں کہ اگر سرویلنس کی اجازت دی گئی تو وہ اجازت کہاں ہے؟ دوران سماعت عدالت نے سوالات اٹھائے کہ کیا کبھی کسی خفیہ ریکارڈنگ کے لیے اِس قانون کےتحت آج تک عدالت سے اجازت مانگی گئی؟ قانون کےتحت ہر چھ ماہ بعد کسی کی ایسی خفیہ ریکارڈنگ کےاجازت نامے پر نظر ثانی کی جائے گی، کیا کوئی ایسی نظر ثانی کمیٹی آج تک بنی؟ عدالتی اجازت کے بغیر فون ریکارڈنگ اور فون ریکارڈنگ کی فراہمی بھی قابلِ سزا ہے۔ کیا پی ٹی اے کے لائسنس کی شرائط میں یہ چیزیں شامل ہیں یاپی ٹی اے نے اس حوالے سےکوئی پالیسی دی ہے؟ اس قانون کو پچھلے ایک سال میں فالو کیا گیا ہے یا نہیں؟ بتائیں کہ غیر قانونی ٹیلی فون ریکارڈنگ پر کیا ایکشن لیا گیا؟ آپ نے کیا تحقیقات کیں کہ سوشل میڈیا پر آڈیو لیکس کیسے وائرل ہوئیں؟ جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیئے کہ سوشل میڈیا پر کوئی چیز اپلوڈ ہو تو آئی پی ایڈریس سے ٹریک ہو سکتی ہے، ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں کو کہا کہ ٹریک کر کے بتائیں تو انہوں نے کہا کہ ان کے پاس یہ صلاحیت نہیں، پھر تو یہ اداروں کی ناکامی ہوئی۔ ایف آئی اور اور پولیس کا کیا کام ہے؟ اس معاملے میں ابھی تک ایف آئی آرز درج کیوں نہیں کی گئیں؟ ایک ملک میں اگر کرائم ہوا ہے تو آپ انتظار کریں گے کہ کوئی آ کر شکائت کرے تو تحقیقات کریں؟ ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم نے عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو خط لکھا ہے اور جواب کا انتظار ہے۔ اس پر جسٹس بابر ستار نے کہا کہ اگر جواب مزید دس سال نہیں آئے گا تو آپ کیا کریں گے؟ ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم نے جواب دیا کہ ’اس معاملے کی انکوائری چل رہی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو وفاقی حکومت سے ہدایات لینے اور عدالتی سوالوں کے جواب جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نےوفاق سے خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی گفتگو کے اعدادوشمار کا ریکارڈر بھی طلب کر لیے اورکہا کہ آپ اس متعلق بھی جواب دیں کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کس قانون کے تحت کیں؟

وفاقی حکومت نے کشمیری شاعر احمد فرہاد کی گرفتاری ظاہر کردی ہے۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کردیا ہے

وفاقی حکومت نے کشمیری شاعر احمد فرہاد کی گرفتاری ظاہر کردی ہے۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کردیا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کسی کی ایجنسیوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے، ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ قانون کے مطابق کام کریں۔ چند لوگوں کی غلط روش کانقصان پورے ادارے کو ہوتا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے مغوی کشمیری شاعر احمد فرہاد کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے عدالت کو بتایا کہ احمد فرہاد گرفتار اور پولیس کسٹڈی میں ہے۔ تھانہ دھیر کوٹ کشمیر کی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی گئی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کوہالہ پل کے بعد گرفتار کرکے دائرہ اختیار وہاں کا بنایا گیا ہے۔ کسی کی ایجنسیوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے، ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ قانون کے مطابق کام کریں۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہمارے بچے، شہری اور سیکورٹی اہلکار شہید ہو رہے ہیں۔ چودہ چودہ سال کے بچے بم باندھ کر پھٹ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کو بھی اپنا رول ادا کرنا چاہیے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہم سمجھتےہیں کہ ادارے قانون کے تحت کام کرنے کی عادت ڈالیں گے۔ عدالت کو کسی انڈر کور ایجنٹ کا کور بریک کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہر آفس کا ایک ورکنگ اور پراسیس ہوتا ہے۔ اگر انٹیلیجنس ایجنسیاں کسی کو اٹھاتی ہیں تو اس کا کیا پراسیس ہوتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے گزشتہ سماعت پر وائٹ فلیگ لہرانے کی بات کی، میں سمجھتا ہوں کہ اداروں کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہے۔ ہم نےکچھ سوالات اٹھائے تھےجن کے جواب آنا باقی ہیں، ہم نے بنیادی حقوق کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ وزیر قانون نے کہا ہم نے بھی حلف اٹھا رکھا ہے، ہماری نیت پر بھی شک نا کیا جائے۔ آئین مقدم ہے جس میں ہر ایک کے کام متعین ہیں کہ اس نے کیا کرناہے۔ آپ پٹیشن نمٹادیں عدالتی سوالات کے جواب کسی اور کیس میں آجائیں گے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کوئی بھی شخص پاکستان آرمی کیخلاف نہیں ہے۔ چند لوگوں کی غلط روش کانقصان پورے ادارے کو ہوتا ہے۔ یہ جو دوسری سائیڈ پرکھڑے ہیں یہ بھی آرمی کے خلاف نہیں ہیں۔ سب سےزیادہ صحافیوں، پولیٹیکل ایکٹوسٹ اورسیاستدانوں نے suffer کیا۔ ہم نے پوچھا تھا کہ کس حد تک ان کیسز کی رپورٹنگ ہونی ہے۔ سینئر صحافی حامد میر نے کہا میں نے بطور عدالتی معاون اپنی تحریری گزارشات جمع کرادی ہیں۔ میڈیا کے لوگ بھی اٹھائے گئے اور قتل بھی ہوئے۔ ہم مسنگ پرسنز کی miseries کو سمجھتے ہیں۔ پیمرا کا کوڈ آف کنڈکٹ موجود ہے، پیمرا ججز کے ریمارکس رپورٹ کرنے پر پابندی نہیں لگا سکتی۔ پارلیمنٹ نےاچھا کام کیا اور بل بنایا تھا جس پر عمل ہوتا تو بہتر نتائج نکلتے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا اس بل میں ایک ہاؤس سے ترمیم کی سفارش آئی تھی، اگر ایسی صورتحال ہو تو جوائنٹ سیشن بلایا جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا میڈیا کے کردار کی وجہ سے لوگوں میں شعور آیا ہے، سوشل میڈیا پر بدقسمتی سے بہت کچھ چل رہا ہے، میں توسوشل میڈیانہیں دیکھتا اس لیے پرواہ نہیں،جودیکھتا ہے اسے تکلیف ہوتی ہے۔ عدالت نے درخواست گزار وکیل ایمان مزاری کو ہدایت کی کہ وہ جمعہ تک مغوی کے اہل خانہ سے رائے لے کر آگاہ کریں جس کے بعد پٹیشن نمٹا دیں گے۔

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر فیصلہ نہ سنایا جاسکا۔ خاور مانیکا کے عدم اعتماد کرنے پر سیشنز جج شاہ رخ ارجمند نے اپیلیں کسی دوسری عدالت منتقل کرنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر فیصلہ نہ سنایا جاسکا۔ خاور مانیکا کے عدم اعتماد کرنے پر سیشنز جج شاہ رخ ارجمند نے اپیلیں کسی دوسری عدالت منتقل کرنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج شاہ رخ ارجمند نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت شکایت کنندہ خاور مانیکا کے وکیل راجہ رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے عدالت میں جمع کروائے۔ شکایت کنندہ خاور مانیکا عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ میں عدالت کے سامنے کچھ گذارشات رکھنا چاہتا ہوں۔ جو مجھ پر گزری ہے وہ میرے وکلا نہیں بتا سکتے، میں خود بولوں گا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے پہلے وکیل کو دلائل مکمل کرنے دیں پھر آپ کو موقع دیتے ہیں۔ بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گل نے کہا خاور مانیکا عدالت کی کارروائی کو متاثر کررہے ہیں، انھیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں۔ کمرہ عدالت میں پی ٹی آئی وکلا اور خاور مانیکا کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔ خاور مانیکا نے کہا بانی پی ٹی آئی سابق وزیر اعظم ہیں اس لیے ان سے نرمی برتی جاتی ہے، غریب آدمی کی بھی سن لیں۔ خاور مانیکا نے کہا بچوں کو یکم جنوری کے نکاح کا علم ہی نہیں ہے۔ میں نے بچوں کو کہا کہ 14 فروری کو عدت ختم ہورہی ہے اس کے بعد دیکھنا نکاح آجائے گا۔ اس کے بعد 18 فروری کو نکاح سامنے آگیا۔ پی ٹی آئی کی فوج آجاتی ہے اور مجھے گالیاں دیں جاتی رہیں، عثمان ریاض گل ایڈووکیٹ نے مجھے عدالت کے سامنے کہا کہ اٹھا کر باہر پھینک دوں گا۔ بانی پی ٹی آئی چھوٹی چھوٹی بات پر قرآن اٹھانے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ مجھے پتا ہی نہیں تھا کہ یہ میرے گھر میں کیا کرتا رہا۔ میرے پاس جہانگیر ترین کے پیغامات ہیں کہ اب سب ختم ہوچکاہے۔ میں سب پیغامات عدالت میں دکھا سکتاہوں۔ قسم کھاتاہوں بچوں کو پہلے نکاح کا معلوم نہیں تھا۔ خاور مانیکا نے کہا کہ مجھے کیا معلوم تھا بانی پی ٹی آئی نے میری اہلیہ کے ساتھ چھپ کر نکاح کیا ہوا تھا۔ مجھے دھوکا دیا گیا۔ مجھ سے غلطی ہوگئی کہ سمجھ لیا بانی پی ٹی آئی دین کے واسطے آتے ہیں۔ نکاح چھپ کر کیا تو معلوم ہوا بانی پی ٹی آئی نے اللہ کے نام پر دھوکا دیا۔ گزشتہ چار سال سے اسلامی سوسائٹی تباہ ہوگئی ہے، قدرت کی طرف سے بانی پی ٹی آئی کی پکڑ ہورہی۔ خاور مانیکا عدالت میں آبدیدہ ہوگئے اور کہا کہ جب بچوں کو بتایاکہ مجھے طلاق ہوگئی تو بچے بہت روئے۔ میری ماں دکھ سے وفات پا گئی۔ اللہ و رسول کے نام پر بانی پی ٹی آئی نے دھوکا دیا۔ بشریٰ بی بی کہتی میرے بچے مر گئے میرے لیے۔ خاور مانیکا نے کمرہ عدالت میں ہاتھ اٹھا کر بانی پی ٹی آئی کو بد دعائیں بھی دیں۔ خاور مانیکا نے عدالت نے استدعا کی کہ ہمارا کیس کسی اور عدالت میں ٹرانسفر کر دیں۔ جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیئے عدم اعتماد کی درخواست پہلے بھی خارج ہو چکی ہے۔ جو بتانا ہے اپنے وکیل کو بتا دیں۔ خاور مانیکا نے کہا میں آپ سے فیصلہ نہیں کروانا چاہتا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اس کی وجہ کیاہے؟ کچھ ٹھوس وجہ ہے تو بتائیں۔ خاور مانیکا نے کاہ بانی پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر لوگوں کے ذہنوں سے کھیل رہے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے ہر انسان تو سوشل میڈیا نہیں دیکھتا۔ کسی نہ کسی جج نے تو فیصلہ کرنا ہے نا۔ رضوان عباسی سے مشاورت کرکے بتا دیں آپ چاہتےکیا ہیں۔ وکیل عثمان گل نے کہا خاورمانیکا نے جزباتی بیانات دیے، قانونی دلائل نہیں دیے۔ خاور مانیکا نے عثمان گل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کرے تمہارے گھر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو۔ خاور مانیکا نے بیرسٹر گوہر علی کو کہا تم لوگ جانتے بھی نہیں بانی پی ٹی آئی کو، اللہ کا خوف کھاو۔ وکیل نعیم پنجوتھا نے موقف اپنایا خاورمانیکا کو پلانٹ کرکے لایاگیاہے، عدالت سمجھتی ہے خاورمانیکا کیا چاہتاہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے بار بار عدم اعتماد کیا جارہا ہے۔ وکیل گوہر علی خان نے کہا بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں، دلائل مکمل ہو چکے ہیں، عدالت فیصلہ سنائے۔ وکیل عثمان گل نے کہا عدالت پر مکمل اعتماد ہے، جو فیصلہ ہوگا منظور ہوگا۔ جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیئے اب جو فیصلہ ہوگا متنازع ہوگا۔ کمرہ عدالت میں پی ٹی آئی کارکنان کی طرف سے شیم شیم کے نعرے بھی لگائے گئے۔ جج شاہ رخ ارجمند اپنے چیمبر میں چلے گئے۔ بعد ازاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج شاہ رخ ارجمند نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلیں کسی دوسری عدالت کو منتقل کرنے کیلئے رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا۔ خط میں کہا گیا کہ خاور مانیکا کی جانب سے کھلی عدالت میں عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا، پہلے بھی عدالت پر عدم اعتماد کی درخواست مسترد کی جا چکی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں اپیلیں کسی دوسری عدالت کو منتقل کردی جائیں۔ خط میں مزید کہا گیا کہ شکایت کنندہ اور ان کے وکیل کی جانب سے اپیلوں میں تاخیری حربے استعمال کیے جاتے رہے، لہذا اپیلوں پر فیصلے کیلئے عدالتی ٹائم فریم مقرر کیا جائے۔