وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کا اہم اجلاس ہوا، جس میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے پر اتفاق کیا گیا۔اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں پی کے میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی، جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور محمد علی درانی شریک ہوئے۔اجلاس میں پی ٹی آئی سے بیرسٹر گوہر علی، عمر ایوب اور اسد قیصر شریک تھے جبکہ جماعت اسلامی اور بی این پی مینگل کا وفد بھی اجلاس میں شریک تھا۔اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بات چیت ہوئی اور اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف تحریک پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کا اہم اجلاس ہوا، جس میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے پر اتفاق کیا گیا۔اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں پی کے میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی، جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور محمد علی درانی شریک ہوئے۔اجلاس میں پی ٹی آئی سے بیرسٹر گوہر علی، عمر ایوب اور اسد قیصر شریک تھے جبکہ جماعت اسلامی اور بی این پی مینگل کا وفد بھی اجلاس میں شریک تھا۔اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بات چیت ہوئی اور اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف تحریک پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ حکمت عملی کے لیے ٹی او آرز پر بھی بات ہوئی۔اجلاس میں اپوزیشن اتحاد کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے پر اتفاق ہوا جبکہ چند نکاتی ایجنڈا تیار کر کے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی بھی تیاری کا فیصلہ کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے شرکاء نے اتفاق کیا کہ حکومت سے نہ مہنگائی، نہ بدامنی اور نہ ہی معیشت سنبھل سکی ہے، موجودہ حکومت کے کئے گئے تمام وعدے پورے نہ ہوسکے، وقت آگیا ہے کہ اب اپوزیشن کا اتحاد مزید مضبوط بنایا جائے۔اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان بھی ایک ساتھ چلنے کے لیے راضی ہو گئے ہیں، اجلاس کا تفصیلی ایجنڈا بعد میں جاری کریں گے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا تھا کہ اگر حکومت نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو ایکسٹینشن دینے اور آئین میں ترمیم کرنے کی کوشش کی تو وہ اس کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کی کال دے دیں گے۔عمران خان نے کہا تھا کہ موجودہ حکومت دو تہائی اکثریت کو قائم کر کے آئین میں تبدیلی کرنا چاہتی ہے تاکہ دوبارہ قاضی فائز عیسٰی کو چیف جسٹس بنا سکے۔—–وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کا اہم اجلاس ہوا ہے، جس کے بعد جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے چیف جسٹس سمیت تین ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت مبارک ثانی کیس میں تینوں ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کرے چیف جسٹس اور دیگر دو ججوں کے خلاف اے پی سی میں شامل جماعتیں بھی ریفرنس دائر کریں گی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر ازخود نظر ثانی کرے، اے پی سی واضح کرتی ہے کہ سپریم کورٹ قادیانیوں کو آئین و قانون کا پابند بنانے کے لئے فیصلے کے ابہام دور کرے۔مذکورہ آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مبارک ثانی کیس کے فیصلے پر خاموش نہیں رہیں گے۔ سپریم کورٹ کے مبارک ثانی کیس میں قادیانیوں کے لئے سہولت کاری کی گئی ہے، پاکستان کے آئین میں ختم نبوت کےدیئے گئے تحفظ کو جان بوجھ کر چھیڑا جارہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی طرح دوسرے جج کے سامنے ایک قادیانی کا کیس سپریم کورٹ میں آیا، قادیانی کی ضمانت کا فیصلہ ہونا تھا، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ضمانت کا فیصلہ لکھتے ہوئے قادیانیوں کو تبلیغ کی اجازت دے دی، سپریم کورٹ کے فیصلے میں قادیانیوں کو تحریف قرآن کی اجازت دے دی گئی، جب عدالت قادیانیوں کو خلاف آئین تبلیغ و تحریف کی اجازت دے گی تو مسلمان خاموش نہیں رہیں گے۔آل پارٹیز قانون تحفظ ناموس رسالت کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کے حوالے سے حکومت پاکستان پر دباؤ ہمیشہ سے رہتا ہے، جب حکومتیں اسلامیان پاکستان کے دباؤ کی وجہ سے کچھ نہیں کرپاتیں تو عدالتیں سامنے آجاتی ہیں، آئین پاکستان میں قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا فیا ہے بین الاقوامی سطح پر عالمی قوتیں ان کی پشت پناہی کررہی ہیں پاکستان پر ان قوتوں کا دباؤ بڑھتا ہے۔ پاکستان کی اسلامی شناخت پر حملوں کو اے پی سی مسترد کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اے پی سی دینی معاشی حوالوں سے شدید اضطراب کا اظہار کرتی ہے، اے پی سی عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اسلامی قرار دے کر مسترد کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم 7 ستمبر کو مینار پاکستان لاہور پر یوم فتح کے واضح لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم کے امیر حافظ ناصر الدین خاکوانی نے کہا کہ مقننہ اور ادارے ختم نبوت کے معاملے کو سمجھیں، کسی نبی کا کسی نبی سے کوئی اختلاف نہیں تھا، خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، مرزا قادیانی کذاب ہے اس کے ماننے والوں کو نتائج بھگتنا پڑیں گے۔—–جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی تحویل میں لینے اور ان کے خلاف کورٹ مارشل کا عمل شروع ہونے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کا رد عمل بھی سامنے آگیا۔ اڈیالہ جیل میں وکلاء سے گفتگو میں سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جنرل فیض کی گرفتاری فوج کا اندرونی معاملہ، پی ٹی آئی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔عمران خان نے جنرل فیض کی گرفتاری کو فوج کا اندرونی معاملہ قرار دیا۔ اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر بانی پی ٹی آئی کے وکیل انتظار پنجوتھہ نے دیگر وکلاء کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ عمران خان نے کہا کہ جنرل فیض کی گرفتاری فوج کا اندرونی معاملہ ہے، پی ٹی آئی کا جنرل فیض کی گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں، یہ بات بالکل واضح ہے جنرل فیض سے ان کا کوئی سیاسی تعلق نہیں تھا، جنرل باجوہ نے نواز شریف سے ڈیل کرکے جنرل فیض کو تبدیل کیا تھا۔ انتظار پنجوتھہ کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر جنرل فیض کی گرفتاری کا تعلق نو مئی سے ہے اور ان کا نو مئی میں کوئی کردار ہے تو یہ بہت اچھا موقع ہے اس کے لئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے لائی جائیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف کارروائی بہت بڑی خبر ہے اور اس سے ادارے کی ساکھ بہتر ہوگی۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے کارروائی کے مکمل ہونے کا انتظار کیا جانا چاہییے۔ لیکن بیرون ملک جو سازشیں کیں ان کی تفصیلات جب سامنے آئیں گی تو لوگ حیران رہ جائیں گے۔

پاکستان میں آزادئ اظہارِ رائے یعنی Freedom of Speech کی آئین ضرور اجازت دیتا ہے، مگر آئین پاکستان نے اسکی واضح حد بندی بھی کر رکھی ہے، آرمی چیف۔ آزادی رائے پر آرمی چیف نے علامہ اقبال کے اِشعار کا حوالہ دیا: “آزادی افکار سے ہے ان کی تباہی رکھتے نہیں جو فکر و تدبُّر کا سلیقہ ہو فکر اگر خام تو آزادی افکار انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ” آرمی چیف۔ تفصیلات کے لیے کلک کریں

صوبہ بلوچستان بہادر اور حب الوطن لوگوں کا مسکن ہے، آرمی چیفپاک فوج، حکومتِ پاکستان اور بلوچستان کے تعاون سے بلوچستان اور اِس کی غیور عوام کی سالمیت اور فلاح و بہبود کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرتی رہے گی، آرمی چیفافغانستان ہمارا برادر ہمسایہ اسلامی ملک ہے، آرمی چیفہم افغانستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رکھنے کے خواہاں ہیں، اِن کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ فتنہ الخوارج کو اپنے دیرینہ، خیر خواہ اور برادر ہمسائے ملک پر ترجیح نہ دیں، آرمی چیف

ہم چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور ترکیے کے شکر گزار ہیں جو ہمیشہ پاکستان کے ساتھ ہر مشکل وقت میں ساتھ دیتے ہیں، آرمی چیفہم اپنے دشمنوں کو واضح پیغام دیتے ہیں کے چاہے روائتی یا غیر روائتی جنگ ہو، Dynamic یا Proactive جنگی حکمتِ عملی ہو، ہمارا جواب تیز اور دردناک ہوگا اور ہم یقیناً گہرا اور دور رس جواب دیں گے، آرمی چیفآزادی قیمت چکائے بغیر نہیں ملتی، اِس کے لئے بہت سے بیٹوں اور بیٹیوں کی قربانی دینی پڑتی ہے جسکے لئے ہم ہمیشہ تیار ہیں، آرمی چیف آج آزادی کا جشن مناتے ہُوئے ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں کو نہیں بھولنا چاہئے جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط سے آزادری کے لیے کوشاں ہیں، آرمی چیفہم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ انکے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور انھیں اپنی ہر طرح کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی تعاون کا بھرپور یقین دلاتے ہیں، آرمی چیف

آج کا دن ہمیں اسرائیل کی طرف سے غزہ کے بے بس لوگوں کے خلاف جاری خوفناک نسل کشی، نسلی قتلِ عام اور بِلا تفریق مظالم کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے، آرمی چیف غزہ میں اسرائیل کی انٹرنیشنل اور انسانی قوانین کی واضح خلاف ورزی یقیناً دنیا کے ضمیر اور رولز بیسڈ انٹرنیشنل آرڈر پر داغ ہے، آرمی چیفحکومت پاکستان کا مسئلہ فلسطین کے پر امن حل کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھانا اور انسانی بنیادوں پر امداد دینے کی کاوشیں قابل ستائش ہیں، آرمی چیف

ہمارے آباؤ و اجداد نے یہ ملک قائم کر کے جو امید کی شمع جلائی، ہم اُسے کبھی بجھنے نہیں دیں گے، آرمی چیفآرمی چیف نے سورہ یوسف کی ستاسیویں (v۷) آیت کا حوالہ دیتے ہُوئے آیت اور اسکا ترجمہ پڑھا کہ “اللّٰہ کی رحمت سے مایوس نا ہونا، اللّٰہ کی رحمت سے صرف کافر مایوس ہوتے ہیں، آرمی چیف آخر میں کیڈٹس کو سراہتے ہُوئے آرمی چیف نے کہا، ملک کے 65 فیصد نوجوانوں کی طرح ، آپ تمام کیڈٹس کے روشن چہرے اور آنکھوں کی چمک، مجھے اس عظیم قوم کے درخشاں مستقبل کی نوید دیتی ہےپاکستان اللّٰہ کا انعام ہے، جو انشاء اللّٰہ تا ابد قائم رہنے کے لئے بنا ہے، اور اسکے خیر خواہ ہمیشہ زندہ و جاوید رہیں گے، آرمی چیفبہترین ٹرن آؤٹ اور وطن عظیم کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرنے پر پاکستان ملٹری اکیڈمی اور اس کے جری کیڈٹس کو سراہتا ہوں، آرمی چیف

وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ 77 سال کی بیماریوں سے جان چھڑانی ہے

وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ 77 سال کی بیماریوں سے جان چھڑانی ہے، پاور سیکٹر اور ایف بی آر کی بحالی ترجیحات ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف وفاقی کابینہ اجلاس میں گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ارشد ندیم نے طلائی تمغہ جیت کر قوم کا سرفخر سے بلند کر دیا، جشن آزادی کی خوشیاں دوبالا کردیں، یوم آزادی روایتی جوش و جذبے سے منائیں گے، ماضی میں وقت ضائع ہوا اس سے سبق سیکھیں گے، مل کر کام کریں گے تو ضرور مشکلات سے باہر نکلیں گے، مستحکم پاکستان کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا، درست فیصلوں سے قوم میں امید پیدا ہوگی۔اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ حکومت اور قوم 14اگست کا دن روایتی جوش و خروش سے منائے گی، پاکستان کو محنت، ایثار اور قربانی سےعظیم بنائیں گے، اس عزم کی تجدید کریں گے کہ خدمت میں کسر اٹھانہ رکھیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں ضائع ہونے والے وقت سے سبق حاصل کرکے محنت کریں گے، ارشد ندیم قوم کا ہیرو ہے ، ارشد ندیم نے 40سال بعد پاکستان کو گولڈ میڈل جیت کر دیا ہے، پوری قوم اللہ کا شکر ادا کررہی ہے ،خوشیاں منارہی ہے، ارشد ندیم نے ماضی قریب میں بھی مقابلوں میں حصہ لیا، اللہ نے محنت اور ریاضت کی وجہ سے ارشد ندیم کو یہ مقام عطاکیا۔شہبازشریف نے مزید کہا کہ ارشد ندیم نے دن رات محنت کی، ارشد ندیم کے کوچ نے بھی بہت محنت کی، کابینہ کی اس میٹنگ میں ارشد ندیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، صدر پاکستان کو ارشد ندیم کو میڈل کیلئے خط ارسال کردیا تھا، آج دعوت دی ہے کہ ارشد ندیم وزیراعظم ہاؤس تشریف لائیں، قومی ہیروز کی عزت کرنا پوری قوم کا فرض ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ پوری قوم کیلئے یکجہتی کا ہے، پاور سیکٹر نے گزشتہ کئی ماہ سے محنت کی ہے، وزیر توانائی اور متعلقہ حکام نے بہت محنت کی،بجلی کی قیمت کا بہت بڑا رول ہے ،ہمیں وہ ادا کرنا ہے، ایف بی آر ہمارا اہم ہدف ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میری پاور سیکٹر اورایف بی آر ان دو ایریاز میں بہت ترجیحات ہیں، اللہ چاہے گا تو ہم ان دو سیکٹرز میں کامیاب ہوں گے، گزشتہ 6ماہ میں گورننس کو ڈیجیٹائزڈ کرنے کی کوشش کی ہے، پاور سیکٹر میں کئی مہینوں سے محنت کی، ایف بی آر کیلئے ہم نے کنسلسٹنٹ بلائے ہیں، وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، وقت کا بھرپور استعمال کریں تب اللہ کامیابی سے ہمکنار کرائے گا، ہمیں ماضی کی 77 سال کی بیماری سے جان چھڑانی چاہیے۔شہبازشریف نے کہا کہ درست فیصلوں سے قوم میں امید پیدا ہوگی، ایف بی آر میں گریڈ 22کے افسران کو تبدیل کیا گیا، اللہ جانتا ہےمیں ایک آدھ کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا، میں چار راتیں خود بیٹھا، انہوں نے سندھ ہائی کورٹ سے اسٹے آرڈر لے لیا، الحمدللہ! وہ اسٹے آرڈر خارج ہوگیا، توجہ نہ دی جاتی تو وہ افسران دوسری پوسٹوں پر آجاتے، کوئی شخص عقلِ قُل نہیں ہوتا۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ کریز سے باہر نکل کر چھکا ماریں گے تو کپتان کے ساتھ آپ کو کریڈٹ ملے گا، مل کر کام کریں گے تو ضرور مشکلات سے باہر نکلیں گے، مستحکم پاکستان کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا۔آخر میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کابینہ اجلاس میں شہدا کیلئے بھی خصوصی دعا کرائی اور کہا کہ ہم سب کا عزم ہے کہ عزم استحکام کیلئےہماری ہر چیز قربان ہے۔وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاسوزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔کابینہ کے اہم فیصلے٭ وفاقی کابینہ نے نجکاری ڈویژن کی سفارش پر نجکاری کمیشن بورڈ کے ممبران کی تعداد کو 8 سے بڑھا کر 11 کرنے کی منظوری دے دی۔ وزیرِ اعظم نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ملک کے اہم بورڈز میں خواتین کی نمائندگی کی ہدایت دی۔ وزیرِ اعظم کے ویژن کے تحت بورڈ کے تین نئے ارکان کی نشستوں پر صرف خواتین کو تعینات کیا جائے گا۔٭ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 2 اگست 2024 کو منعقد ہونے والے اجلاس میں کیے گئے فیصلے پر ہدایت کی کہ یوریا کی در آمد کی بجائے ستمبر 2024 کے بعد بھی پاکستان میں یوریا کھاد بنانے والی کار خانوں کو گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ کابینہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ یوریا کھاد کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کیلئے ہر قسم کے اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ کسانوں کی فی ایکڑ لاگت کو کم کرنے کیلئے زرعی ان پٹس کے نرخوں میں کمی یقینی بنائی جائے۔٭ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (Cabinet Committee on Privatization) کے 2 اگست 2024 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔ تاہم وزیرِ اعظم نے مزید ہدایت کی کہ جن ایس او ایز کی نجکاری کیلئے منظوری ہو چکی، انکی کی نجکاری کا جامع پلان آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔٭ وفاقی کابینہ نے وزارت تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت کی سفارش پر فیڈرل ڈایریکٹریٹ آف ایجوکیشن، اسلام آباد کے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اساتذہ کو ریگولرائز کرنے کے کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کی منظوری دے دی۔٭ وفاقی کابینہ نے وزارتِ خارجہ کی سفارش پر پاکستان اور جمہوریہ گوئٹے مالا کی وزارتِ خارجہ کے مابین سیاسی مشاورت کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی منظوری دے دی۔٭ وفاقی کابینہ نے وزارتِ خارجہ کی سفارش پر پاکستان اور ایکواڈور کے درمیان دو طرفہ سیاسی مشاورت کے معاہدے پر دستخط کرنے کی بھی منظوری دے دی۔٭ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی ادارےCabinet Committee on State Owned Enterprises (CCoSOEs) کے5اگست2024 کو منعقد ہونے والے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔٭ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز(Cabinet Committee on Legislative Cases)کے31 جولائی 2024 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔

چیف آف آرمی سٹاف کا آزادی پریڈ پی ایم اے کاکول میں تاریخی خطاب تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*چیف آف آرمی سٹاف کا آزادی پریڈ پی ایم اے کاکول میں تاریخی خطاب*77 یوم آزادی کے موقع پر قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد، آرمی چیفاللّٰہ ہمیں مملکت خداداد کا دفاع کرنے اور اس مسلمہ حقیقت کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک کامیاب اور عظیم مثال بنانے کی ہمت اور طاقت عطا فرمائے، آرمی چیف

ہمارے قومی شعور کی بنیاد نظریہ پاکستان ہے جو دو قومی نظریہ پر مبنی ہے، آرمی چیفدو قومی نظریے نے برِصغیر کے مسلمانوں کو علیحدہ شناخت، ثقافت اور تہذیب کا موقع فراہم کیا، آرمی چیفیہ ملک نہ صرف قائم رہنے، بلکہ دنیائے عالم میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لئے معرضِ وجود میں آیا، آرمی چیف

اِسی مناسبت سے قائد اعظم کے تاریخی الفاظ انتہائی اہم ہیں کہ“آئیے اب ہم سب ملکر اپنی قوم کو بنائیں اور اسکی تعمیر نو کریں”، آرمی چیفپاکستان کے قائدین اور کارکنان کے ساتھ ساتھ شہداء، غازیوں اور لواحقین کو خراج عقیدت اور سلام پیش کرتے ہیں، آرمی چیفآج ان آزاد فضاؤں میں زندگی بسر کرنا شہداء کیعظیم قربانیوں کی مرہونِ منت ہے، آرمی چیف

تاریخی طور پر ہم من حیثُ القوم ہمیشہ ہر مشکل کے بعد اور بھی زیادہ مضبوط بن کر ابھرے، جسمیں قوم اور افواج کا باہمی اعتماد کلیدی ہے، آرمی چیفنا اتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کرکے بیرونی جارحیت کے لیے راہ ہموار کر دیتے ہیں، آرمی چیفقوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، آرمی چیفکوئی منفی قوت، اعتماد اور محبت کے اس رشتے کو نہ کبھی کمزور کر سکی ہے، نہ ہی آئندہ کر سکے گی، آرمی چیفافواج پاکستان نے ملک کے اندرونی اور بیرونی دفاع کی قسم کھا رکھی ہے، آرمی چیفہم کسی بھی صورت اور قیمت پر اپنی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، انشاء اللّٰہ، آرمی چیف

ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ جاری اج صبح 14 اگست کی مرکزی تقریب 200 افراد پر مشتمل ھو گی وزرا چند بیورو کریٹ سروسز چییفس pnca کی بلڈنگ میں ھو گی پارلیمنٹ سے کنونشن سینٹر اور p n c a بلڈنگ شرفاء کے علاوہ کوئی نھی ھو گا۔۔پاکستان کی کاٹن پر 18 فیصد سیلز ٹیکس ۔۔امپورٹڈ کاٹن پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی چھوٹ ،کپاس کاشتکار، کاٹن جنرز کو تباہ کرنے کا حکومتی فارمولہ۔۔حکومت ںگران حکومت کی 5 ماہ قبل مقرر کردہ پٹرول کی قیمتوں پر لے ای۔۔۔۔نوید اکرم چیمہ کرکٹ بورڈ کے منیجر تعینات۔۔شھباز شریف نے 15 کروڑ مریم نواز نے 10 کروڑ عوام کے ٹیکسوں کی منی ارشد ندیم کو دئیے گئے۔۔دوسری طرف ایک ھزار سے زائد کرپٹ افراد کا ڈیٹا تیار گرفتاریاں شروع۔۔تمام خبروں کے لئے بادبان نیوز کو فالو کریں