Monthly Archives: August 2024
نیٹ کیلئے vpn لگاتے ہے بجلی کیلئے سولر / جنریٹر / UPS لگاتے ہےولٹیج برابر کرنے کے لئے ریگولیٹر لگاتے پانی ٹینکر سے ڈلواتے ہے گیس کیلئے کمپریسر لگاتےہے 14 اگست عید مبارک
سیالکوٹ کوٹلی لوھاراں لعل پور دو لاکھ روپے بجلی کابل آدا نہ ہونے پر 26 سالہ نوجوان نے زںدگی کاخاتمہ کرلیا۔
ڈپٹی کمشنر پنجگور دھشت گردوں کی فائرنگ سے شھباز۔ریاست کا انتھای کرخت روپ میں۔10 لاکھ طلبہ کو سمارٹ فون دینگے۔مزید 4 گرفتاریوں کی اجازت طلب بادبان نیوز کی 5 روز پھلے دی گئی خبر کنفرم۔سابق ای ایس ای چیف کو فوجی تحویل میں لے کر تحقیقات جاری ہے ای ایس پی ار۔20 اھم ترین شخصیات شکنجے میں نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل۔نگران دور کی اھم شخصیات سمیت درجن بھر بیورو کریٹ شکنجے میں۔۔اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ امریکی سپورت۔۔فوج میں تبادلوں اور ترقی کا اھم ترین آخری راونڈ۔۔قبائلی علاقوں میں دھشت گردوں کے حملے جاری صورتحال۔۔سب کچھ جاننے کے لئے پڑھنے اج کا روزنامہ پوسٹ انٹرنیشنل اسلام آباد کراچی کلک کرے
لڑکی: ملنگ جی میرا بچہ نہیں ہو رہا؟ملنگ: تیرے شوہر میں کوئی مسئلہ ہے ۔ لڑکی: ملنگ جی شوہر میں تو مسئلہ ہوسکتا ہے مگر پورے محلے میں تو نہیں نہ۔۔۔۔بجلی کے بلوں کا بحران ورثے میں ملا، قوم کو اس سے نکالیں گے۔ احسن اقبال
مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے یونی لیور پاکستان پر ”لائف بوائے صابن“ اور ”لائف بوائے ہینڈ واش“ کی تشہیر کے لیے ٹیلی ویژن پر دھوکا دہی پر مبنی دعوے نشر کرنے پر 6 کروڑ روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یونی لیور پاکستان نے سی سی پی کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے یونی لیور پاکستان پر ”لائف بوائے صابن“ اور ”لائف بوائے ہینڈ واش“ کی تشہیر کے لیے ٹیلی ویژن پر دھوکا دہی پر مبنی دعوے نشر کرنے پر 6 کروڑ روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یونی لیور پاکستان نے سی سی پی کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق لائف بوائے صابن اور ہینڈ واش نامی مصنوعات کے بارے میں ریکٹ بینکیزئر کی جانب سے دی گئی ایک شکایت کی بنیاد پر مسابقتی کمیشن پاکستان نے یونی لیور پاکستان کے اپنی مصنوعات کے بارے میں دعوؤں جیسے ”جراثیم سے 100فیصد ضمانت یافتہ تحفظ“، ”جراثیم سے تحفظ دینے والا دنیا کا نمبر ون صابن“ اور ”10 سیکنڈ میں 99.9 فیصد جراثیم سے تحفظ“ کے بارے میں جانچ پڑتال کی۔یونی لیور کی جانب سے ان دعوؤں کے بارے میں ڈسکلیمرز انتہائی چھوٹے سائز میں چھاپے گئے اور بمشکل ہی نوٹس کیے جاسکتے ہیں، مسابقتی کمیشن پاکستان نے یونی لیور کو 30 روز کے اندر حکم کی تعمیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی کی ہے۔مسابقتی کمیشن کے بینچ نے 2010 کے مسابقتی ایکٹ کے سیکشن 10 کی خلاف ورزیوں پر یونی لیور پاکستان کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس سے متعلق کارروائی کو نمٹا دیا۔2010 مسابقتی ایکٹ کا سیکشن 10 کاروبار کو گمراہ کن معلومات یا جھوٹے دعوؤں پر مبنی مارکیٹنگ میں ملوث ہونے سے روکتا ہے۔فریب پر مبنی مارکیٹنگ کو روکنا مسابقتی کمیشن پاکستان کے بنیادی اختیارات میں سے ایک ہے، یہ کمیشن صارفین کو گمراہ کن معلومات سے تحفظ فراہم کرتا ہے اور حریف کاروبار کو مسابقت مخالف رویے سے بچاتا ہے جو کہ کمپنیوں کے کاروباری مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔کمیشن کے حکم میں مسابقتی ایکٹ کے سیکشن 10 کی پانچ واضح خلاف ورزیوں کا مشاہدہ کیا گیا۔حکم نامے کے مطابق صحت اور حفاظت سے متعلق دعوے قابل اعتماد سائنسی شواہد سے ثابت نہیں ہوئے۔حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ یونی لیور نے شوکاز نوٹس جاری کرنے کے باوجود دھوکہ دہی کے عمل کو جاری رکھا۔آرڈر میں مزید کہا گیا ہے کہ یونی لیور کے فریب کاری کے طریقے خطے کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں، سعودی عرب، برطانیہ اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں ایک ہی مصنوعات کے لیے مختلف الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے۔حکم نامے میں کہا گیا کہ ’سب سے سنگین دھوکہ پاکستان میں پایا گیا، جسے کمیشن نے ناقابل قبول سمجھا۔‘دوسری جانب یونی لیور پاکستان نے ایک بیان میں کہا کہ، ’یونی لیور پاکستان ایک ذمہ دار مارکیٹئر اور پاکستان ایڈورٹائزرز سوسائٹی کا ممبر ہے۔ لائف بوائے ایک قابل اعتماد برانڈ نام ہے اور اپنے دعوؤں پر قائم ہے اور مناسب اپیلیٹ فورم کے سامنے سی سی پی کے حکم کو چیلنج کرے گا۔‘
بنگلادیش کی عبوری حکومت کے وزارت خارجہ کے امور کے سربراہ نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے جبری طور پر ملک بدر کیے جانے کے دعوے کو مسترد کردیا
بنگلادیش کی عبوری حکومت کے وزارت خارجہ کے امور کے سربراہ نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے جبری طور پر ملک بدر کیے جانے کے دعوے کو مسترد کردیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیش کی وزارت داخلہ امور کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل (ریٹائرڈ) محمد سخاوت حسین نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو ملک چھوڑنے کے لیے جبراً مجبور کیے جانے کا تاثر بے بنیاد ہے۔جنرل سخاوت حسین نے مزید کہا کہ حسینہ واجد اپنی مرضی سے ملک چھوڑ کر گئیں ان پر کسی قسم کا جبر نہیں تھا لیکن واپس آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ آئیں اور نئے چہروں کے ساتھ پارٹی کو دوبارہ منظم کریں۔داخلہ امور کے مشیر نے شیخ حسینہ کو مشورہ دیا کہ ملک میں کوئی ہنگامہ برپا نہ کریں ورنہ عوام مزید مشتعل ہوجائیں گے۔محمد سخاوت حسین نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ جماعت اسلامی سمیت کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں چاہتے۔ اس معاملے کو وزارت قانون کے پاس بھیجا جائے گا۔واضح رہے کہ ایک ماہ سے زائد پُرتشدد عوامی مظاہروں کے نتیجے میں بالآخر 31 جولائی کو حسینہ واجد مستعفی ہوکر پناہ کی تلاش میں بھارت روانہ ہوگئی تھیں جس کے بعد ملک میں فوج نے ایک عبوری حکومت قائم کردی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکسوں میں کیے جانے والے رد و بدل سے متعدد سرکاری و نجی شعبوں کے ملازمین و افسران کی تنخواہوں کمی کا انکشاف ہوا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکسوں میں کیے جانے والے رد و بدل سے متعدد سرکاری و نجی شعبوں کے ملازمین و افسران کی تنخواہوں کمی کا انکشاف ہوا ہے۔اس بارے میں سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکسوں میں کی جانیوالی رد وبدل سے تنخواہ میں اضافے کے باوجود ٹیکس کٹوتی کے بعد تنخواہ میں کمی واقع ہوگئی ہے۔واضح رہے کہ رواں مالی سال 2224-25کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس کی شرح میں رد و بدل کی گئی تھی اور ٹیکس سلیب بھی کم گیا تھا جس سے تنخواہ دار طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔گریڈ 20کے افسر کی تنخواہ میں ماہانہ 43240 روپے اضافہ ہوا مگر نئی شرح سے انکم ٹیکس کٹوتی کی وجہ سے تنخواہ 272 روپے کم ہوگئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے فی لیٹر تک بڑی کمی کا امکان ہے، پیٹرول 9 روپے فی لٹر سستا ہونے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے فی لٹر تک کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے فی لیٹر تک بڑی کمی کا امکان ہے، پیٹرول 9 روپے فی لٹر سستا ہونے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے فی لٹر تک کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، اب تک کی ورکنگ کے مطابق پیٹرول ، ڈیزل اور مٹی کا تیل سستا ہونے کا امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 9 روپے فی لیٹرسے زائد کمی متوقع ہے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں ساڑھے 8 روپے تک کمی ہوسکتی ہے، اس کے علاوہ مٹی کے تیل میں 12 روپے سے زائد کمی کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق حتمی سمری اوگرا 15 اگست کو بھیجے گی،
نیب راولپنڈی کے باہر جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے متاثرہ شہریوں نے احتجاج کیا۔مظاہرین نے نیب سے جعلی اسکیموں کے اسکینڈلز پر اپنے نقصان کا مداوا کرنے کا مطالبہ کیا
نیب راولپنڈی کے باہر جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے متاثرہ شہریوں نے احتجاج کیا۔مظاہرین نے نیب سے جعلی اسکیموں کے اسکینڈلز پر اپنے نقصان کا مداوا کرنے کا مطالبہ کیا ۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ نیب اسکینڈلز سے عام شہری، شہداء اور ریٹائرڈ فوجی افسران کا سرمایہ ڈوب گیا ہے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ نیب جلد ریفرنسزنمٹا کرلوٹے پیسے واپس دلائے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اگر مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ مانا اور چیف جسٹس کو ایکسٹینشن دی تو ہم احتجاج کریں گے۔ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی کو تحریک کیلئے تیار رہنے کی ہدایت کر دی۔عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے حالات مختلف نہیں ہیں، الیکشن سے پہلے نومئی کے نام پر ہماری پارٹی پر کریک ڈاؤن کیا گیا، ہماری آدھی لیڈر شپ کو پکڑ کے جیل میں ڈالا گیا، آدھی لیڈر شپ انڈر گراؤنڈ ہوگئی، چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن ملے ہوئے تھے۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ حلقے کھلیں گے تو چوری پکڑی جائے گی، یہ اسی لیے ٹریبونلز میں اپنے ججز کو بٹھانا چاہتے ہیں، یہ مخصوص نشستیں ہمیں نہیں دے رہے، پہلے دو صوبوں میں الیکشن نہ کروا کر آئین کی خلاف ورزی کی، اب سپریم کورٹ کے فیصلے پرعملدرآمد نہ کرکے آئین شکنی کی جا رہی ہے۔عمران خان نے کہا کہ میں نے کبھی پارٹی کو تحریک کا نہیں کہا، نو مئی سے قبل بھی پرامن احتجاج کی کال نہیں تھی، لیکن اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کو نہیں مانا گیا تو میں اسٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کہوں گا۔میں نے محمود خان اچکزئی کو سیاستدانوں سے مذاکرات کا اختیار دیا ہے، پی ٹی آئی مذاکرات نہیں کرے گی، اگر ہم سیاست دانوں سے مذاکرات کریں گے تو مطلب موجودہ حکومت کو تسلیم کرلیا۔سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے 3 حلقوں این اے 154، این اے 81 اور این اے 79 پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو کامیاب قرار دے دیا۔سپریم کورٹ میں قومی اسمبلی کے 3 حلقوں این اے کے مخلتف پولنگ اسٹیشنز میں دوبارہ گنتی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف لیگی امیدواروں کی درخواستوں کی سماعت کی جبکہ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی شامل تھے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ن لیگ کے امیدواروں کی اپیلیں منظوری کرلیں۔دوبارہ گنتی کیس کے فیصلے سے پی ٹی آئی دھاندلی کا ڈرامہ ناکام ہوچکا، بیر سٹر عقیلسپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے این اے 154 لودھراں، این اے 81 گجرانوالہ اور این اے 79 گوجرانوالہ میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ بحال کردیا۔این اے 81 گوجرانوالہ سے اظہر قیوم نہرا کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاریسپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس نعیم اختر افغان نے 2:1 کی اکثریت سے فیصلہ سنایا جبکہ جسٹس عقیل عباسی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ن لیگ کو 3 مزید سیٹیں مزید مل گئیں اور اپوزیشن کی تین سیٹیں کم ہوگئیں۔اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے جو احترام کا مستحق ہے، لاہور ہائیکورٹ کے ججز نے الیکشن کمیشن کے سربراہ اور ممبران سے متعلق غیر ضروری ریمارکس دیے، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ن لیگ کے 3 ارکان اسمبلی بحال، تفصیلی فیصلہ جاریسپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے ارکان قومی اسمبلی اظہرقیوم، عبد الرحمان کانجو اور ذوالفقار احمد کو بحال کردیا۔عدالت عظمیٰ نے قومی اسمبلی کے تینوں حلقوں کی دوبارہ گنتی کے کیس کا تفصیلی فیصلہ بھی جاری کردیا۔تفصیلی فیصلے مطابق لیگی امیدواروں کی این اے 154، این اے 79 اور این اے81 سے کامیابی برقرار ہے، سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دےدیا، سپریم کورٹ نے دو ایک کے تناسب سے فیصلہ سنایا، جسٹس عقیل عباسی نے فیصلےسے اختلاف کیا۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے ن لیگی امیداروں کی اپیلیں منظور کر لیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ مجموعی طور پر 47 صفحات پر مشتمل ہے، سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ 24 صفحات اور اختلافی نوٹ 23 صفحات پرمشتمل ہے۔یاد رہے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت مکمل ہونے کےبعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی شامل ہیں۔سپریم کورٹ میں این اے79 گوجرانوالہ تھری، این اے 81 گوجرانوالہ فائیو اور این اے 154 لودھراں کے مختلف پولنگ اسٹیشنزمیں ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق اپیلوں پرسماعت ہوئی تھی۔ان حلقوں سے سنی اتحاد کونسل کے احسان اللہ ورک، چوہدری بلال اعجاز اور رانا محمد فراز نون منتخب ہوئے تھے۔یاد رہے کہ یکم مئی کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے این اے 154 (لودھراں) سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کی بطور رکن قومی اسمبلی جیت کا نوٹیفکیشن بحال کردیا تھا۔16 اپریل کو لاہور ہائیکورٹ نے حلقہ این اے 81 گجرانوالہ سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اظہر قیوم کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے کر سنی اتحاد کونسل کے امیدوار کی رکنیت بحال کردی تھی۔25 اپریل کو لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 2 آزاد ممبر قومی اسمبلی کو قومی اسمبلی کے اپنے حلقوں میں دوبارہ گنتی کی درخواستوں پر الیکشن کمیشن کے نوٹسز کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔بعدازاں مسلم لیگ ن کے عبد الرحمان کانجو، اظہر قیوم نہرا اور ذوالفقار احمد نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔عام انتخابات میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے 3 آزاد امیدوار این اے 154 سے رانا فراز نون، این اے 81 گوجرانوالہ سے بلال اعجاز اور این اے 79 گوجرانوالہ سے احسان اللہ ورک کامیاب امیدوار قرار پائے تھے۔این اے 154 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی، ن لیگی امیدوار عبد الرحمان خان کانجو کامیابن لیگ کے عبدالرحمان کانجو، اظہر قیوم نارا اور ذوالفقار احمد نے دوبارہ گنتی کے لیے الیکشن الیکشن سے رجوع کیا، دوبارہ گنتی کے بعد الیکشن کمیشن نے ن لیگ کے تینوں امیدواروں کو کامیاب قرار دیا۔الیکشن کمیشن کے فیصلے کو آزاد اراکین نے لاہور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن کے تحت چیلنج کیا، لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تینوں امیدواروں کو کامیاب امیدوار قرار دیا۔لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف ن لیگ کے اراکین نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے اکثریتی فیصلے کے ذریعے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو بحال کرتے ہوئے ن لیگ کے امیدواروں کی اپیلیں منظور کیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ن لیگ کے تینوں اراکین قومی اسمبلی کامیاب قرار پائے۔









