Monthly Archives: August 2024
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا ہے کہ 9مئی سےمتعلق فوج کامؤقف واضح ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا ہے کہ 9مئی سےمتعلق فوج کامؤقف واضح ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا بیانیہ بنانیوالے زمینی حقائق سےباخبر ہیں اور جان بوجھ کر ایساکرتےہیں ، بیانیہ بنانیوالے فوج اور عوام میں دراڑ ڈالناچاہتے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ اگرآپ ان ساری چیزوں کااحاطہ کریں تواندازہ ہوگاجوبیانیہ بنایا جاتا ہےوہ غلط ہے، بیانیےکی دو وجوہات ہیں یاتووہ زمینی حقائق سےلاعلم یاپھرانہیں پتاہےپھربھی بیانیہ بناناہے. ان کا مقصد فوج اورعوام کےدلوں میں غلط فہمی پیدا کرناہے. یہ چاہتے ہیں ایشوزکواتنامتنازع بنادیں تاکہ اصل ایشوز سے توجہ ہٹائی جاسکے. ہمیں چاہئےمسئلےکوسمجھیں اوراس کا بھرپور تدارک کریں۔انھوں نے بتایا کہ باڑلگنےسےغیرقانونی نقل وحرکت ختم نہیں ہوئی، خارجیوں کوہم کئی باربارڈرپرانگیج کرتےہیں، جوبھی باڑکراس کرتے پکڑا جائے اسے قانون کےمطابق سزادی جائے۔سانحہ نو مئی سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 9مئی سےمتعلق فوج کامؤقف واضح ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، 7مئی کی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں جو مؤقف تھا وہی ہے ، 7مئی کی پریس کانفرنس میں جومؤقف بیان کیا نہ اس میں تبدیلی آئی ہے نہ آئےگی۔انھوں نے واضح کیا کہ کوئی فیک نیوز اورجھوٹا پروپیگنڈا کرتاہے تو افواج پاکستان ضرور قانونی کارروائی کرےگی. بےضمیر ڈیجیٹل دہشتگرد چند پیسوں کیلئے عوام اور ملک کیخلاف باتیں کرتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عوام کےذہن میں کنفیوژن ڈالی جاتی ہے، قانون اس پراپنارستہ ویسےنہیں بنارہاجیسےبناناچاہئے. اس مسئلے پرافواج پاکستان اپنامؤقف رکھتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی شخص ملک یاباہرسےفوج کیخلاف پروپیگنڈاکرےتوفوج قانونی کارروائی کرے گی، جو ڈیجیٹل دہشت گردباہربیٹھ کرباتیں کرتےہیں وہ بدقسمت ہیں،. یہ بدقسمت ریاست،اداروں،عوام کیخلاف پروپیگنڈاکرتےہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ بیرون ملک سے جو مہم چلائی جارہی ہیں ہمیں معلوم ہے کون اور کیوں چلارہاہے . جنوری 2024سےلیکر آج تک غیرملکی پرنٹ میڈیا میں 127مضامین لکھےگئے جن کا مقصد پاکستان میں مایوسی ،انتشارپھیلانا ہے، سیاسی لابنگ فرمز ہائرکی جاتی ہے .سرکاری دوروں پر احتجاج کیلئے پیسہ لگایاجاتاہے، آپکے خیال میں کیا بیرون ملک احتجاج ایسے ہی کئےجاتے ہیں یہ مایوسی پھیلانے کیلئےہوتاہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی لابنگ،ملاقاتیں کی جاتی ہیں سرکاری دوروں پراحتجاج کرائےجاتےہیں، لابنگ فرمزہائیرکی جاتی ہیں ان پر بھی پیسہ لگایا جاتا ہے. یہ لابنگ فرمز معصوم فلسطینی کی آواز بلند کرنے کیلئےلگاتےتوبہترہوتا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پیسہ لگایاجارہاہے کہ پاکستان کی معیشت کی مدد نہ کی جائے، جوعناصر غزہ میں جینوسائیڈ پر خاموش ہیں وہ پاکستان میں انسانی حقوق پر بات کرتے ہیں` لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ قانون ڈیجیٹل دہشتگردی کیخلاف مؤثر کام نہیں کر رہا۔انہوں نے کہا کہ جو ڈیجیٹل دہشتگرد باہر بیٹھ کر بات کر رہے ہیں وہ بےضمیر لوگ ہیں، جو پیسوں کےلیے ملک کے عوام اور اداروں کیخلاف بات کرتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی نام نہاد قیادت دہشتگرد تنظیموں کی پراکسی ہے، یہ بیرونی فنڈنگ اور بیانیے پر جتھے کو جمع کر کے انتشار پھیلاتے ہیں۔ ان کے بیرونی سرپرست انسانی حقوق کے نام پر ان کی مدد کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ راجیے مچی کی یہ پراکسی بےنقاب ہوچکی ہے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ایک مافیا نہیں چاہتا ملک اور عوام ترقی کریں، اس مافیا کی کوشش ہے کہ عوام ترقی نہ کرسکیں اور وہ عوام کا استحصال کرے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں کے لوگوں کا انحصار ایران سے تجارت پر ہے، اگر ایرانی سرحد بالکل بند کردیں گے تو مافیا کو فوج کے خلاف بات کرنے کا موقع ملے گا۔ کوشش ہے ایران سے پیٹرول کی اسمگلنگ جتنا ممکن ہو کم کی جائے۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کےلیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔انکا کہنا تھا کہ مقبوضہ کمشیر میں بھارت کے غیرقانونی اقدامات خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں، افواج پاکستان حق خودارادیت کی جدوجہد میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس میں افواج کے زیر انتظام معاشرتی فلاح و بہبود کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا، گزشتہ 15 دنوں میں آپریشنز کے دوران 24 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے دو دہشت گرد تنظیموں پر پابندی لگائی ہے، کالعدم ٹی ٹی پی کو فتنہ الخوارج کے نام سے نوٹیفائی کردیا گیا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ افواج پاکستان کی توجہ پختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع اور بلوچستان کے متاثرہ علاقوں پر ہے، جہاں بہت سے منصوبوں پر مقامی اور غیر ملکی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے طالب علم ملک کا مستقبل ہیں، بلوچستان کے طالب علموں کےلیے جامع اسکالرشپ پروگرام شروع کیا ہے، جس میں تعلیم کے ساتھ دیگر اخراجات بھی برداشت کیے جا رہے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف اب تک 23622 چھوٹے بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، 15 دنوں میں 24 دہشت گرد واصل جہنم کیے گئے، روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہو رہے ہیں۔——۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ فلسطین اور کشمیر کو جلد آزادی ملے گی، بہت جلد وہ دن آئے گا جب ہندوستان اور اسرائیل کو جواب دینا پڑے گا۔یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت آج 5 اگست 2019 کے ہندوستانی اقدام کی مذمت کرتی ہے، اقوام متحدہ، سکیورٹی کونسل کی قراردادیں پکار پکار کر کشمیریوں کی یاد دلاتی ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ، او آئی سی بھارت کے غاصبانہ فیصلوں کو مسترد کر چکی ہیں، یہ واضح اور دو ٹوک پیغام دنیا کو ملنا چاہئے. بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے، بھارت کے حکمران کشمیریوں کا حق نہیں چھین سکتے، انشاءاللہ کشمیر ضرور آزاد ہوگا۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اللہ کے فضل سے نیوکلیئر طاقت ہے، بہتر ہے بیٹھ کر تنازعات کو حل کریں، ہندوستان کو ہوش کے ناخن لینا پڑیں گے. بھارت کبھی پاکستان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کرسکتا، ہم ایسی آنکھ کو نوچ لیں گے جو پاکستان کی جانب اٹھے گی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مل بیٹھ کر کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دینا ہوگا، فلسطین کے نہتے مسلمانوں کو بھی ان کا حق ملنا چاہئے، اُمید ہے یہ پیغام بھارت اور اسرائیل کو پہنچے گا، کشمیریوں اور فلسطینیوں کو ان کا حق بلا تاخیر دیا جائے۔سندھ میں کئی ماہ سے بند 4 گیس فیلڈز کھل گئیں، جس کے بعد 200 ایم ایم سی ایف ڈی گیس بحال ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق گیس فیلڈز کم گیس کھپت کے سبب کئی ماہ بند رہیں، کم کھپت کے ساتھ ایل این جی آمد سے پائپ لائنوں میں گیس حجم بڑھ رہا تھا۔کم گیس کھپت کے سبب ایل این جی کی اسپاٹ امپورٹ بند ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف طویل مدتی کنٹریکٹ کے تحت ایل این جی امپورٹ کی جا رہی ہے۔—-سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کا جھکاؤ بھارت کی طرف ضرورت سے زیادہ تھا، بھارت کو بھی اس متعلق فکر ہوگی۔بنگلادیشی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے استعفے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اعزاز چوہدری نے کہا کہ بھارت اگر شیخ حسینہ کو پناہ دیتا ہے تو اس کے بھی اثرات ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ حسینہ واجد بھارت کے علاوہ کہاں جائیں گی، بنگلادیش کے ساتھ ہماری نیک خواہشات ہیں۔سابق سیکریٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ حسینہ واجد نے پاکستان اور دیگر ممالک سے رابطے بند کیے تھے۔اعزاز چوہدری نے کہا کہ حسینہ واجد نے بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی بہت کوشش کی۔واضح رہے کہ کوٹہ سسٹم کے خلاف بنگلادیش میں ایک ماہ سے جاری مظاہروں کے بعد وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔—سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی کا بنگلا دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے استعفے پر کہنا ہے کہ عوام کی طاقت نے ایک حکومت کو بنگلا دیش سے برطرف کر دیا۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ بنگلادیش میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا گیا اور جب عوام سڑک پر آجائیں تو ان کے سامنے کوئی طاقت کھڑی نہیں ہوسکتی۔اُنہوں نے کہا کہ عوام کی طاقت نے ایک حکومت کو بنگلادیش سے برطرف کردیا۔سابق پاکستانی سفیر نے کہا کہ شیخ حسینہ واجد کے دور میں بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہوا۔اُنہوں نے کہا کہ بنگلادیش میں کرپشن کا بہت بڑا مسئلہ سامنے آیا۔واضح رہے کہ بنگلا دیش میں کوٹا سسٹم کےخلاف ایک ماہ سے جاری مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد300 ہو گئی۔ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو نافذہے، ریلوے سروسز غیر معینہ مدت کیلئے معطل اور گارمنٹ فیکٹریاں بھی بند ہیں۔حالیہ احتجاج کے دوران دوسری بار حکومت نے ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سروسز بند کر دیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور واٹس ایپ کی سروسز بھی معطل ہیں۔–الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر اپنے اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے ویب سائٹ پر ڈال دیے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 4 فیصلے ان افراد کے لیے اپ لوڈ کیے جو مخصوص نشستوں پر تجزیے میں اپنی رائے دے رہے ہیں۔الیکشن کمیشن نے دسمبر 2023 میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کا فیصلہ اور پشاور ہائی کورٹ کا پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق فیصلہ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا۔اس کے علاوہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان پر سپریم کورٹ کا 13جنوری کا فیصلہ بھی اپ لوڈ کر دیا گیا۔الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشست پر کمیشن کا فیصلہ بھی اپ لوڈ کر دیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پیش نظر فرانس اور کینیڈا نے اپنے شہریوں کےلیے ایڈوائزری جاری کردی
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پیش نظر فرانس اور کینیڈا نے اپنے شہریوں کےلیے ایڈوائزری جاری کردی۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق کینیڈا نے اپنے شہریوں کو اسرائیل کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کردی۔ٹریول ایڈوائزری میں کہا گیا کہ بغیر کسی وارننگ کے سیکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، اگر مسلح تصادم شدت اختیار کرتا ہے تو اس سے سفری صلاحیت متاثر ہوگی۔ادھر فرانس نے اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت کردی ہے۔ سفری ایڈوائزری میں مزید کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی کے خطرے کے پیش نظر فرانسیسی شہری لبنان کا سفر نہ کریں۔
بنگلہ دیش میں سبز حلالی پرچم لہرا دیا گیا۔ہم دیکھیں گے لازم ہے ہم دیکھیں گے وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے جب تاج اچھالے جائیں گے جب تحت گرائے جائیں گے۔ملک بھر میں مھنگای کا طوفان زندگی سسکیاں لینے لگی۔ عوام 2 وقت کی روٹی سے مجبور بجلی کے بلوں نے عوام کو زندہ دفن کر دیا۔ صوابی کا کامیاب جلسہ عوام کا سمندر شھباز حکومت کے خاتمے کی طرف گامزن۔کوٹہ سسٹم ہار گیا، اصل عوامی طاقت جیت گئی۔تفصیلات بادبان نیوز پر
آزادی بنیادی حق ہے اور ھم اس حق کے ساتھ ھے وزیر اطلاعات
آزادی بنیادی حق ہے، ہم اس حق کے ساتھ کھڑے ہیں، کشمیر پر بھارت کے بلاجواز تسلط کا خاتمہ ہمارا مشن ہے، عطاء اللہ تارڑاسلام آباد۔5اگست :وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قومی ورثہ و ثقافت عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی تسلط کا کوئی جواز نہیں، بھارت نے 5 اگست 2019 کے اقدامات کے تحت اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی اور کشمیری عوام پر ظلم و ستم میں اضافہ کیا، آزادی بنیادی حق ہے، ہم اس حق کے ساتھ کھڑے ہیں اور بلا جواز بھارتی تسلط کا خاتمہ ہمارا مشن ہے، حکومت پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی۔ یہ بات انہوں نے پیر کو وفاقی وزیر امور کشمیر و سیفران انجینئر امیر مقام کے ہمراہ یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزارت امور کشمیر نے یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے خصوصی آگاہی مہم چلائی اور ایک عالیشان پروگرام کا انعقاد کیا جس پر وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کے شکر گزارہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کے تحت بھارت نے اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، نہتے کشمیری عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے، بھارت کی طرف سے اس کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی بھی مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی تسلط کا کوئی جواز نہیں۔ حکومت پاکستان نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کی ہمیشہ مذمت کی ہے اور اعادہ کیا ہے کہ نہتے کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی، سفارتی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پی ڈی ایم حکومت کے دوران بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کہا تھا کہ کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دیا جائے، اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور جموں و کشمیر پر غیر قانونی بھارتی تسلط کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے غیر قانونی، غیر اخلاقی اور بلا جواز اقدامات کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی اور وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ کیا، حریت رہنمائوں پر ظلم و ستم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی بحالی سمیت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال ہونی چاہئے اور اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کے تحت نہتے مظلوم کشمیریوں کو حق خودارادیت ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی دہائیوں پر محیط قربانیوں کی داستان ہے جس میں جوانوں، بزرگوں، خواتین اور بچوں نے قربانیاں دی ہیں، آج بھی وہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی بنیادی حق ہے، ہم اس حق کے ساتھ کھڑے ہیں اور بلا جواز بھارتی تسلط کا خاتمہ ہمارا مشن ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حق خود ارادیت ملنا چاہئے، اس کے لئے ہم ہر سطح پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم پر تیار کی گئی ایک دستاویزی فلم
حسینہ تو گئی اب شبانہ کی باری ہے تفصیلات بادبان نیوز پر
دفترخارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کوئی رئیل اسٹیٹ نہیں جسے بھارت کنٹرول سکے۔اسلام آباد میں یوم استحصال کشمیر سے متعلق معنقد سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ 5 برس قبل بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کیے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کوئی رئیل اسٹیٹ نہیں ہے جس کو بھارت کنٹرول کر سکے۔ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت نے غیر کشمیریوں کو جعلی ڈومیسائل دئیے گئے اورجائیدادیں خریدنے کی اجازت دی۔ مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوشش کی گئی۔ مقبوضہ کشمیر میں حلقہ بندیوں کو تبدیل کیا گیا اور 14 سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کی گئی اور جعلی سیاسی جماعتیں کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے علاوہ بھارت نے مقبوضہ وادی میں متعدد ریاستی انجینئرنگ کی کوشش کی۔انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کے کارکنان اور حمایت کرنے والے جیلوں میں ہیں اور مقبوضہ کشمیر کا پریس کلب 2019 سے بند ہے۔ اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے ایک کمیشن آف انکوائری بنانے کی تجویز دی ہے۔ بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور ان کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ جب لاپتا قبریں ہوں ، اجتماعی قبریں ہوں اور بیوائیں موجود ہوں تو کیا کوئی حالات معمول پر ہونے کا دعوی کرسکتا ہے۔
اولمپک کھیلوں میں چین پھلے اور امریکہ دوسرے نمبر پر فرانس تیسری پوزیشن پر برقرار۔پاکستان کی قسمت کا فیصلہ اج ھو گا پاکستانی کی آخری امید۔شیخ حسینہ واجد کو استفی پر دستخط کے لیے صرف 15 منٹ دیے گئے تھے جس کے بعد انہیں C130 پر انڈیا جانے دیا گیا۔۔شیخ حسینہ واجد ملک سے فرار۔بنگلہ دیش میں بھارتی تسلط ختم۔۔9 میئ کو نھی بھولے گئے احمد شریف۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
بنگلہ دیش میں مآرشلا لگا دیا گیا حسینہ واجد بھارت بھاگ گئی بادبان نیوز کو فالو کرے دنیا کا سبب سے مستد ذرائع ابلاغ کا ادارہ
ذیادتی کی متاثرہ کشمیری خواتین انصاف کی منتظر*بھارت تحریک آزادی کو دبانے کیلئے اجتماعی زیاتی کو بطور ہتھیار کرتا رہا ہےمقبوضہ کشمیر میں ننگی بھارتی جمہوریت کا سب سے بڑا شکار کشمیری خواتین ہیںکشمیر میڈیا سروس کے مطابق 1989ء سے 2020ء تک 11224 کشمیری خواتین بھارتی فوج کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہو چکی ہیںصرف 1992ء میں 882 کشمیری خواتین اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں
*زیادتی کی متاثرہ کشمیری خواتین انصاف کی منتظر*بھارت تحریک آزادی کو دبانے کیلئے اجتماعی زیاتی کو بطور ہتھیار کرتا رہا ہےمقبوضہ کشمیر میں ننگی بھارتی جمہوریت کا سب سے بڑا شکار کشمیری خواتین ہیںکشمیر میڈیا سروس کے مطابق 1989ء سے 2020ء تک 11224 کشمیری خواتین بھارتی فوج کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہو چکی ہیںصرف 1992ء میں 882 کشمیری خواتین اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں1994ء کی ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج اجتماعی زیادتی کو خوف پھلانے اور اجتماعی سزا کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہےبھارتی فوج مجاہدین کے خلاف انتقامی کاروائیوں کے طور پر لوٹ مار، قتل عام اور جنسی زیادتی کرتی ہےایشیاء واچ کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک ہفتے میں 44 ماورائے عدالت قتل اور 15 جنسی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئےسزا اور جزا کے نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے بھارتی فوج کی پرتشدد کاروائیں برسوں سے جاری ہیں، ایشیاء واچ76 سال گزرنے کے باوجود زیادتی میں ملوث کسی کردار کو سز انہیں دی گئی، ہیومن رائٹس واچریسرچ سوسائٹی آف انٹر نیشنل لاء کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے 11 سے 60 سال تک کی خواتین کو بھی نہ بخشابھارتی حکومت کی طرف سے کھلی چھوٹ کے نتیجے میں بھارتی افواج بلا خوف و خطر جنسی زیادتی کے جرائم میں ملوث ہیں1996ء میں ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج ریپ کو تحریک آزادی کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔1996ء میں ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج ریپ کو تحریک آزادی کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔بایان بورڈ آف ڈائریکٹرز کی 2005ء کی ایک رپورٹ کے مطابق کشمیری خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہےشب ماتھوڑ کے مطابق ریپ کشمیر میں بھارتی حکمت عملی کا اہم جزو ہےCouncil For Social Development کے مطابق بھارتی فوجیوں کو زیادتی پر اکسانے میں AFSPA کا مرکزی کردار ہےدی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق 1979ء سے 2020ء تک میجر رینک کے 150 سے زائد بھارتی فوجی افسران منظم انداز میں جنسی زیادتی میں ملوث تھے23 فروری 1991ء کو 4 راجپوتانہ رائفل کے جوانوں نے ضلع کپواڑہ کے گائوں کنن پوش پورہ میں 100 سے زائد کشمیری خواتین سے زیادتی کی17 مارچ 1991ء کو چیف جسٹس جموں و کشمیر کے تحقیقاتی کمیشن کے سامنے 53 کشمیری خواتین نے بھارتی فوجیوں کی طرف سے عصمت دری کا اعتراف بھی کیا15 سے 21 مارچ 1991ء کے دوران ہونے والے طبی معائنوں میں 32 کشمیری خواتین پر تشدد اور جنسی زیادتی ثابت ہوئی1992ء میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ میں بھی کہا گیا کہ کنن پوش پورہ سانحے میں بھارتی فوج کے خلاف اجتماعی زیادتی کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔اپریل 2018ء میں کٹھوعہ میں ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں سے زمین خالی کروانے کی خاطر 8 سالہ آصفہ بانو کو 7 دن مندر میں زیادتی کا نشانہ بنایازیادتی کے بعد بے رحمانہ طریقے سے قتل کردیاکشمیری عدالتوں میں 1000سے زائد زیادتی کے مقدمات زیر التواء ہیں19اپریل 2023 ء کو بی جے پی کے رہنما نے ضلع بارہ مولہ میں ایک خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا10اکتوبر 1992ء کو 22 گرینیڈئیر کے جوانوں نے ضلع پونہ کے شوکیاں میں 9 خواتین کواجتماعی زیادتی کا شکار بنایاانسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اورخواتین کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والی این جی اوز کو چاہئے کہ وہ بھارتی فوج کی اس درندگی پر اسے انصاف کے کٹہرے میں لائیں
کہتے ہیں ایک سکھ کو شراب کی پہچان کا بڑا دعویٰ تھا، ایک بار شرط لگ گئی، اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس کو شراب پیش کی جاتی تو وہ فوری شراب کے برانڈ کا نام بتا دیتا، یہ تجربہ مختلف برانڈ پیش کر کے کیا گیا ہر بار سکھ کا جواب درست ہوتا تھا
کہتے ہیں ایک سکھ کو شراب کی پہچان کا بڑا دعویٰ تھا، ایک بار شرط لگ گئی، اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس کو شراب پیش کی جاتی تو وہ فوری شراب کے برانڈ کا نام بتا دیتا، یہ تجربہ مختلف برانڈ پیش کر کے کیا گیا ہر بار سکھ کا جواب درست ہوتا تھا۔ فر کسی ستم ظریف نے بہت سی شرابیں مکس کر کے ایک گلاس دیا تو سکھ بار بار شراب کا گھونٹ بھرتا اور سوچ میں پڑ جاتا اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ شراب کا کون سا برانڈ ہے۔ جب کافی دیر ہو گئی تو سکھ نے آنکھوں پر بندھی پٹی کھول دی اور شکست خوردہ لہجے میں کہا۔کہ یہ تو پتہ نہیں ہے کہ یہ شراب کون سی کمپنی کی ہے مگر ایک بات واضح ہے کہ یہ کمپنی زیادہ دیر نہیں چلے گی،









