پارلیمنٹ میں خوف کی فضا۔۔وزارت داخلہ کے حکام کے لئے مشکلات۔۔جسٹس منیب اختر جوڈیشل کمیشن اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے،۔۔ادھار ٹکٹ لے کر ھاکی ٹیم اج بھارت سے ٹکرانے گی۔چیف جسٹس نے اپنے اختیارات جوڈیشل کمیشن کو تقویض کر دءیے۔بلوچستان میں نفرت کی چنگاری۔ڈائریکٹر ایف آئی اے لاھور سرفراز ورک برطرف۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز پر کلک کریں

ادھار ٹکٹ لے کر ھاکی ٹیم اج بھارت سے ٹکرانے گی۔گزشتہ 2 ٹورنامنٹ میں پاکستان ٹیم سیمی فائنل کھیل چکی ہے۔پاکستان ٹیم گزشتہ ایک سال میں ایک 18 ویں نمبر سے 11ویں نمبر پر اچکی ھے۔اج کے میچ کے بعد ٹیم پر کوی فرق نھی پڑھے گا پاکستان اور بھارت سیمی فائنل میں پہنچ چکے ہیں بھارت 6ویں اور۔ پاکستان کی رینکنگ 11ویں۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وزارت خارجہ کے درانی برطرف تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے افغانستان آصف خان درانی نے عہدہ چھوڑ دیا ہے۔ذرائع دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ آصف درانی نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر عہدہ چھوڑا ہے۔آصف درانی نے مئی 2023 میں عہدہ سنبھالا تھا۔ آصف درانی کا عہدہ چھوڑنے کے بعد افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی کی اسامی خالی ہے۔افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی اس سے قبل 2005 سے 2009 تک کابل میں پاکستانی مشن کے ڈپٹی چیف کے فرائض بھی سرانجام دے چکے ہیں۔انہوں نے ایران اور متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دی ہیں۔ آصف درانی نے اس سے قبل نئی دہلی، نیویارک، کابل اور لندن سمیت مختلف سفارتی تعیناتیوں میں اپنے فرائض سرانجام دیے۔اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس کے ساتھ منسلک کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔اسلام آباد کی احتساب عدالت اسلام آباد نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں اشتہاری ملزم زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس کےساتھ منسلک کرنے کے احکامات جاری کیے۔فیصلے میں کہا گیا کہ زلفی بخاری جان بوجھ کر عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بنے حالانکہ 6 جنوری 2024 کو عدالت کی جانب سے انہیں اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔عدالت نے کہا کہ زلفی بخاری اسلام آباد میں مجموعی طور پر 34 کنال جبکہ اٹک میں مجموعی طور پر 1301 کنال اراضی کے مالک ہیں۔احتساب عدالت نے کہا کہ زلفی بخاری کی اسلام آباد اور اٹک میں اراضی کو ریفرنس کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے، زلفی بخاری کے معلوم پتوں پر نوٹسز جاری کیے جائیں اور 7 روز میں تعمیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔—–اعلی عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کے لیے رولز میں ترمیم کے معاملے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اہم اجلاس میں جوڈیشل کمیشن رولز کا جائزہ لیا گیا، اجلاس تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت ججز تعیناتی سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں مختصر وقفہ کیا گیا۔جسٹس منصور علی شاہ نے اجلاس میں مجوزہ سفارشات کا مسودہ پڑھا، اجلاس میں اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے رولز کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے قبل رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جسٹس منصور علی شاہ ،جسٹس منیب اختر ،جسٹس یحییٰ آفریدی شریک ہوں گے، اجلاس میں جسٹس (ر) منظور ملک، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی شریک ہوں گے، اجلاس میں ہائی کورٹس میں ججز تعیناتی اور جوڈیشل کمیشن رولز کی منظوری پر غور ہوگا۔عام طور پر ہائی کورٹس کے سینئر ترین ججز ممبر نہ ہونے کے باعث جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت نہیں کرتے، ذرائع نے بتایا ہے کہ ہائی کورٹس کے اجلاس میں چیف جسٹس اور سینئر ترین ججز کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے، اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے قانون بھی شریک ہوں گے، عام حالات میں جس ہائی کورٹ میں ججز تعیناتی ہوتی ہے اس کے متعلقہ چیف جسٹس اور وزیر قانون اجلاس میں شرکت کرتے ہیں۔اجلاس میں مجوزہ جوڈیشل کمیشن رولز 2024 کا جائزہ لیا جائے گا اور جوڈیشل کمیشن رولز 2024 کی منظوری کے بعد ججز کی تقرریاں کی جائیں گی، اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت پانچوں صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو خط ارسال کیا جاچکا ہے، خط میں ہائی کورٹس سے ججز کے تقرر کے لیے امیدواروں کی تلاش کی درخواست کی گئی ہے۔یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس وقت دو ججز کی آسامیاں خالی ہیں جبکہ لاہور ہائی کورٹ میں 24 ججز کی آسامیاں خالی ہیں، صدر مملکت نے پشاور ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد 20 سے بڑھا کر 30 کردی ہے۔پشاور ہائی کورٹ میں اس وقت 13 ججز خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ وہاں کل 17ججز کی تعیناتیاں ہونی ہیں، سندھ ہائی کورٹ میں 11 اور بلوچستان ہائی کورٹ میں 4 ججز کی آسامیاں خالی ہیں۔سپریم کورٹ میں بھی ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 23 کرنے سے متعلق بل متعلقہ کمیٹی میں زیر غور ہے، اس سے قبل رولز میں ترمیم کے لیے گزشتہ اجلاس 3 مئی کو بلایا گیا تھا، وزیر قانون نے کمیشن کو بتایا تھا کہ وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 175 میں ترمیم کا ارادہ رکھتی ہے جس کے بعد کمیٹی نے رولز میں ترمیم کی منظوری کا معاملہ ملتوی کردیا تھا۔

پارلیمنٹ لاجز سب جیل قرار..!!۔۔۔دھشت گردوں کے گٹھ جوڑ توڑ دیا گیا ہے۔حکومت نے آئین میں ترمیم کیلئے مسودہ تیار کر لیا۔ سینئر ترین جج کے بجائے پینل سے کسی ایک جج کو چیف جسٹس بنایا جا سکے گا۔ چیف جسٹس صاحبان کی ریٹائر منٹ کی عمر 3 سال بڑھانے کی تجویز

وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کی گفتگوپی ٹی آئی نے ہمیشہ صحافیوں کو نشانہ بنایا، ان پر حملے کئے، ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہمات چلائی، وزیر اطلاعات پی ٹی آئی کے دور میں اختلاف رائے کرنا اپنے نظریات رکھنا، کسی جماعت کے نظریئے سے اختلاف کرنا جرم بن چکا تھا

وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کی گفتگوپی ٹی آئی نے ہمیشہ صحافیوں کو نشانہ بنایا، ان پر حملے کئے، ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہمات چلائی، وزیر اطلاعاتپی ٹی آئی کے دور میں اختلاف رائے کرنا، اپنے نظریات رکھنا، کسی جماعت کے نظریئے سے اختلاف کرنا جرم بن چکا تھا، وزیر اطلاعاتتحریک انتشار نے ہمیشہ صحافیوں کے خلاف غلط زبان کا استعمال کیا، وزیر اطلاعاتپی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر سب سے پہلے صحافیوں کو ہدف بنایا، وزیر اطلاعاتتحریک انصاف نے اپنے لوگوں کو انکریج کیا کہ جو ان کے حق میں بات نہ کرے، ان پر الزامات لگا دیں، یہ سلسلہ اب تک جاری ہے، وزیر اطلاعاتآج بھی یاد ہے لاہور میں ثناءمرزا ڈی ایس این جی پر تھیں اور پی ٹی آئی کے لوگ انہیں ہراساں کر رہے تھے، وزیر اطلاعاتصحافی صدف ان کے کنٹینر کے نیچے آ کر جاں بحق ہوئیں، وزیر اطلاعاتخواتین صحافیوں کو انہوں نے زدوکوب کیا، ان کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی، وزیر اطلاعاتعلی امین گنڈا پور نے اسٹیج پر صحافیوں کے خلاف جو زبان استعمال کی، انتہائی نامناسب ہے، وزیر اطلاعاتپی ٹی آئی کی پوری جماعت کو علی امین گنڈا پور کے بیان پر غیر مشروط معافی مانگنی چاہئے، وزیر اطلاعاتعلی امین گنڈا پور ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، کیا انہیں زیب دیتا ہے کہ وہ خواتین اور افواج پاکستان کے بارے میں غلیظ زبان استعمال کریں؟ وزیر اطلاعاتجو ادارہ خیبر پختونخوا کے اندر قربانیاں دے رہا ہے، آپ اس کے خلاف زبان استعمال کر رہے ہیں، وزیر اطلاعاتیہ اچھی غیرت ہے جو آپ کی زندگیاں محفوظ بنائیں، آپ انہی کے خلاف غلیظ زبان استعمال کریں، ایسا طرز عمل قابل مذمت ہے، وزیر اطلاعاتتحریک انصاف کے رہنماﺅں کو پارلیمنٹ کے باہر سے گرفتار کیا گیا، ان کی ویڈیوز ریکارڈ پر موجود ہیں، وزیر اطلاعاتجو چیز کیمرے کی آنکھ نے دکھائی ہے وہ بالکل عیاں ہے، وزیر اطلاعاتانہیں خواتین صحافیوں اور ایک صوبے کی وزیراعلیٰ کے خلاف غلیظ زبان استعمال کرنے پر شرمندگی نہیں ہوئی اور اپنی گرفتاریوں پر واویلا شروع کر دیا، وزیر اطلاعاتبانی پی ٹی آئی کی سوچ فسطائیت پر مبنی ہے، وزیر اطلاعاتلیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے ساتھ مل کر انہوں نے اپوزیشن کے ہر رہنما پر کیس بنائے، وزیر اطلاعاتیہ سمجھ نہی آ رہی کہ ان کی پالیسی کیا ہے؟، وزیر اطلاعاتیہ ہمارے رہنماﺅں کو جھوٹے کیسز میں جیلوں میں ڈالتے رہے اور شادیانے بجا رہے ہوتے تھے۔ وزیر اطلاعاتبانی چیئرمین پی ٹی آئی کی طرف سوشل میڈیا پر پیغام جاری کیا گیا، وزیر اطلاعاتبانی پی ٹی آئی نے فوج کے ادارے کو ٹارگٹ کیا، وزیر اطلاعاتیہ ملک میں انارکی پھیلانا چاہتے ہیں، وزیر اطلاعاتیہ ایک بار پھر اپنے آپ کو شیخ مجیب الرحمان سے کمپیئر کر رہے ہیں، وزیر اطلاعاتایف آئی اے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے جاری ہونے والے پیغام کی تحقیقات کرے گی، وزیر اطلاعاتاس بات کی تحقیقات ہوں گی کہ سوشل میڈیا پر بانی چیئرمین پی ٹی آئی کا اکاﺅنٹ کون چلا رہا ہے؟، وزیر اطلاعاتبانی چیئرمین پی ٹی آئی نے ملکی سالمیت کے حوالے سے دوبارہ سازش کرنے کی کوشش کی جو انتہائی قابل مذمت ہے، وزیر اطلاعاتبانی چیئرمین پی ٹی آئی نے لوگوں کو اکسایا کہ آپ مہم شروع کریں، وزیر اطلاعاتآپ اس سازش میں بالکل کامیاب نہیں ہوں گے، وزیر اطلاعاتبانی چیئرمین پی ٹی آئی نے وزیر داخلہ پر بھی الزامات لگائے حالانکہ انہیں جیل میں تمام سہولیات میسر ہیں، وزیر اطلاعاتریاست پر حملے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، وزیر اطلاعاتآئی ایم ایف کا معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے، وزیر اطلاعاتمہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آ گئی ہے، برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، وزیر اطلاعاتمعاشی اشاریئے مثبت ہو رہے ہیں، کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ کم ہو رہا ہے، وزیر اطلاعاتمعیشت کی بہتری سے انہیں تکلیف ہو رہی ہے اور انہوں نے ملکی اداروں پر حملے کرنا شروع کر دیئے ہیں، وزیر اطلاعاتیہ اپنے عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ وزیر اطلاعات

سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ مجرمان کی اپیلوں پر سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کے وکیل کو ٹرائل کا ریکارڈ دکھانے کی ہدایت کر دی

سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ مجرمان کی اپیلوں پر سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کے وکیل کو ٹرائل کا ریکارڈ دکھانے کی ہدایت کر دی۔مجرمان کے وکیل نے ٹرائل اور اپیل کا ریکارڈ فراہم نہ کرنے کی شکایت کی تھی جس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ قانون کے مطابق کورٹ مارشل کا ریکارڈ فراہم نہیں کر سکتے۔اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ریکارڈ دیکھے بغیر کیسے کوئی وکیل مقدمہ لڑ سکتا ہے؟ درخواست گزاروں کے وکیل کو ریکارڈ دیکھنے اور نوٹس لینے دیں، کئی لوگوں کو تو ہائی کورٹ سے بری ہونے کے باوجود آپ رہا نہیں کرتے۔جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ رہائی صرف اس وجہ سے نہیں کی جاتی کہ اپیل دائر کی ہوئی ہے، ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ مجرمان کے تمام مقدمات یکجا کرکے سماعت کریں گے۔ عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔ملٹری کورٹ نے مجرمان کو فورسز پر حملے کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی، اپیلٹ کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ نے سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے 7 ارب ڈالرز قرض کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہوگئیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے علاوہ بین الاقوامی نجی شعبے سے 2 ارب ڈالرز قرض کی یقین دہانیاں حاصل ہوگئیں

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے 7 ارب ڈالرز قرض کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہوگئیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے علاوہ بین الاقوامی نجی شعبے سے 2 ارب ڈالرز قرض کی یقین دہانیاں حاصل ہوگئیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کے حصول میں مزید کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان ستمبر 2024 میں آئی ایم ایف اجلاس میں اپنا مقدمہ پیش کرے گا، پاکستان کو رواں مالی سال 26.20 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں۔آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے 7 ارب ڈالر قرض پروگرام کی منظوری کیلئے پیش رفتمالی سال کی ادائیگیوں میں 16.3 ارب ڈالر رول اوور ہوں گے، مارچ تک 14.1 ارب ڈالر واجب لادا اور 8.3 ارب ڈالر رول اوور ہوں گے۔مارچ تک کے بقایا 5.8 ارب ڈالر ماہانہ 80 کروڑ سے 1 ارب ڈالر ادا کریں گے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی سے ستمبر تک 4 ارب ڈالر سیٹل کر چکے ہیں، جولائی سے ستمبر تک 1.7 ارب ڈالر ادا کیے ہیں اور 2.3 ارب ڈالر رول اوور کیے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کا کابینہ اجلاس سے خطاب میں کہنا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے کیلئے جن دوستوں نے پچھلی بار پاکستان کی مدد کی تھی، اس بار بھی انہوں نے ہمارا پورا ساتھ دیا۔ اسلام آباد 12ستمبر 2024ءامیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ٹیکسز کا لامتناہی سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ جرنیل، جاگیردار، اشرافیہ،وڈیرے 77برسوں سے حکومتیں چلا رہے ہیں، مسائل میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا، مسائل کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی سبھی کوششیں بھی ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ ملٹری،سول بیوروکریسی اور انتظامیہ میں بہترین صلاحیت کے لوگ موجود ہیں لیکن بحیثیت مجموعی ایک مائنڈ سیٹ ہے جو انگریز دے کر گیا ہے اوراس کا شکار بعض ججز بھی ہیں، اس مائنڈ سیٹ نے ملک،عوام اور نظام کو جکڑا ہوا ہے،یہ پورا نیٹ ورک ہے جو کسی کو آگے نہیں بڑھنے دیتا، اب یہ دھندہ بند ہونا چاہیے، مرضی کے جج، بیوروکریٹ لائے جاتے ہیں، سیاست دان اسٹیبلشمنٹ کے گملوں میں بڑھے ہوتے ہیں، کبھی انہیں ایک تو کبھی دوسری پارٹی میں گھسیٹ کر الیکٹیبلز کی سیاست کی جاتی ہے، ان رویوں نے ملک کو کئی سال پیچھے دھکیل کر بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ اس پورے نظام اور سسٹم کو بدلنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے سب کو منظم ہو کر آگے بڑھنا ہوگا۔ جماعت اسلامی نے فرسودہ نظام اور اس کے رکھوالوں سے جان چھڑانے کے لیے پرامن قومی مزاحمتی تحریک شروع کی ہے۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی میاں اسلم، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، صدر تنظیم تاجران پاکستان کاشف چودھری، صدر یونائٹڈ گروپ ظفر بختاوری، امتیاز عباسی، بابر چودھری، سید عمران بخاری بھی موجود تھے۔امیر جماعت نے کہا کہ ملک میں گزشتہ کئی دہائیوں سے اچھے حالات نہیں آئے اور ہمیشہ معاشی صورتحال بدحال ہی رہی ہے۔ ہم انشااللہ پاکستان کو عظیم اور ترقی یافتہ بنائیں گے۔ پاکستان کے پاس بہترین باصلاحیت لوگ ہیں جو اس ملک کو اوپر اٹھا سکتے ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو جتنی تیزی سے نیچے جا سکتے ہیں اس سے زیادہ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن بھی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک نظام رکھتی ہے جو ملک کے نوجوانوں، تاجروں، کسانوں، مزدوروں، ڈاکٹروں، وکیلوں سب کو یکجا کر سکتی ہے۔ ملک میں صرف جماعت اسلامی کے پاس لوگوں کی وہ تنظیم ہے جو خدمت، کام، ایجوکیشن، صلاحیت اور صالحیت میں سب سے آگے ہے۔ آپ سب جماعت اسلامی کا حصہ بن سکتے ہیں، آئیے ہمارے ساتھ مل جائیے، اس نظام کو ہم سب نے اکٹھے ہو کر ٹھیک کرنا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق کئی کروڑ لوگ ٹیکس نہیں دیتے، ادارے میں 13 سو ارب کی کرپشن ہو رہی ہے۔ اتنے طویل عرصہ سے یہ بحث ہو رہی ہے کہ کیا ایف بی آر اس قابل ہے کہ ٹھیک طریقے سے ٹیکس کے نظام کو چلا سکے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں پرائیویٹ کمپنیوں کو لا کر ٹیکس سے چھوٹ دی گئی اور کیپسٹی چارجز کا دھندہ شروع ہوا۔ لوکل کمپنیوں سے بہتر معاہدے کیے جائیں تو چائینہ سمیت باہر کی کمپنیاں خود معاہدوں پر نظر ثانی کے لیے آمادہ ہوں گی۔ چین سے دوستی اپنی جگہ لیکن میرٹ اور ملک کے مفاد میں معاہدے کیے جائیں۔ حکمران طبقے اور باہر بیٹھے سیٹھوں کی کمپنیوں سے معاہدوں پر نظر ثانی نہیں کی جاتی تو ملک آگے نہیں بڑھے گا۔ اس ملک کی تقدیر بدلنے اور مسائل کو حل کرنے کیلیے سب کو اکٹھا ہونا پڑے گا۔ کوئی کریڈٹ کے چکر میں نہ پڑے،جماعت اسلامی کریڈٹ نہیں چاہتی۔ سب ایک پیج پر کھڑے ہوں، ایک دوسرے کے دست و بازو بنیں، آگے بڑھیں، تمام چیمبر آف کامرس، تاجر برادری، انڈسٹریز کو یکجہتی کرتے ہوئے ایک پیج پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جھوٹ بولتے ہیں کہ کمپنیوں کے معاہدات انٹرنیشنل لیول پر ہوئے ہیں وہ انٹرنیشنل کورٹ میں چلے جائیں گے۔ پوچھتا ہوں کہ اگر ریکوڈک کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو آئی پی پیز کا مسئلہ حل کیوں نہیں ہوسکتا، ایران گیس پائپ لائن کو مکمل نہ کرنے پر 18 بلین ڈالر جرمانہ عائد ہوگا، اس منصوبے کو مکمل کیا جائے تاکہ ملک کی معیشت کا پہیہ چلے۔انہوں نے کہا آرٹی فیشل انٹیلی جینس کے بعد آئی ٹی انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ دنیا آئی ٹی انڈسٹری پر کام کر رہی ہے اور ہم اس کام میں بہت پیچھے ہیں حالانکہ اس فیلڈ کے لیے ہمارے پاس افراد اور مارکیٹ موجود ہے۔ فری لانسنگ کے لیے پاکستان کے نوجوان کو فنانس گیٹ وے دینے پڑیں گے تاکہ نوجوان آئی ٹی انڈسٹری میں ترقی کریں۔ اب سیاسی اتحادوں کی بجائے ملک کے عوام سے اتحاد ہوگا۔حق کے لیے آئینی، جمہوری و قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے اور بالکل پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ طبقاتی نظام تعلیم ختم کرنا ہوگا۔ امیر ہو یا غریب سب کو ایک نظام کے تحت تعلیم دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پاور سیکٹر کو کھلی چھوٹ دی، پرائیویٹائز کر کے کمپنیوں کو لوگوں کی کھال اتارنے پر لگا دیا،پاور سیکٹر میں ڈسٹری بیوشن نطام کو بہتر نہیں کیا گیا۔پی آئی اے، سٹیل مل، واپڈا، ریلوے سب تباہ کر دیا، ملک میں بنکوں کا استحصالی نظام مسلط ہے۔ بنک سود پر قرض در قرض دے کر لوٹ مار کر رہے ہیں۔ ہم نے سب سے زیادہ قرضہ پرائیویٹ بنکنگ سیکٹر کو دینا ہے، جو 15 سے 25 فیصد تک سود لے رہے ہیں۔سود کے نظام سے جان چھڑانا ہوگی، قوم، تاجروں، کسانوں، طالب علموں،نوجوانوں سمیت ہر طبقہ فکر کو دعوت دیتے ہیں کہ ہمارا ساتھ دیں تاکہ اس استحصالی نظام سے نجات ملے اور ملک آگے بڑھے۔

پاکستان نے چین کو ایک کے مقابلے میں 5 گول سے شکست دیکر ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل کےلیے کوالیفائی کرلیا۔ پاکستان ٹیم ہفتے کو روایتی حریف بھارت کے مدمقابل ہوگی

پاکستان نے چین کو ایک کے مقابلے میں 5 گول سے شکست دیکر ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل کےلیے کوالیفائی کرلیا۔ پاکستان ٹیم ہفتے کو روایتی حریف بھارت کے مدمقابل ہوگی، بھارتی ٹیم ٹورنامنٹ میں اب تک ناقابل شکست ہے۔چین میں جاری ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان نے شروع سے ہی چین کو دباؤ میں لیے رکھا۔ پہلے کوارٹر میں کوئی بھی ٹیم گول نہ بناسکی، تاہم دوسرے کوارٹر کے آٹھویں منٹ میں حنان شاہد کے خوبصورت پاس پر عبدالرحمٰن نے گول کرکے ٹیم کو برتری دلائی۔تیسرے کوارٹر میں بھی پاکستان ٹیم نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور گیارہویں منٹ میں ندیم احمد نے گول کرکے پاکستان کی برتری دگنی کردی۔ تیسرے کوارٹر کے اختتام سے قبل پاکستان کو پنالٹی اسٹروک ملا لیکن کپتان عماد بٹ نے سنہری موقع ضائع کردیا۔چوتھا کوارٹر شروع ہوتے ہی حنان شاہد نے پنالٹی کارنر پر گول کرکے پاکستان کی برتری کو تین صفر کردیا۔ تاہم کچھ دیر بعد چین کے چینگ ہنگ نے پنالٹی کارنر پر گول کرکے مقابلہ 1-3 کردیا۔میچ کے اختتام سے چار منٹ قبل پاکستان نے یکے بعد دیگرے مزید دو گول کردیے۔ ندیم احمد نے میچ میں اپنا دوسرا گول کیا جبکہ میچ ختم ہونے سے 15 سیکنڈز قبل حنان شاہد بھی گول کرنے میں کامیاب ہوئے۔ٹورنامنٹ میں یہ پاکستان کی دوسری کامیابی ہے۔ پاکستان ہاکی ٹیم ہفتے کو روایتی حریف بھارت کے مدمقابل ہوگی۔علم میں رہے کہ بھارتی ٹیم ٹورنامنٹ میں اب تک ناقابل شکست ہے۔

سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملٹری کورٹ کے سزا یافتہ شخص کا ریکارڈ نہیں دکھا سکتے۔۔سرکاری وکیل۔ سپیکر ان ایکشن لا پرواھی کے مرتکب افسران کے خلاف گھیرا تنگ۔۔نیو تیک پونیورسٹی پاکستان کے 80 فیصد طلبا کے مستقبل کی محافظ۔۔پالیسی ریٹ میں 2 فیصد کی کمی۔۔وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ امنے سامنے۔۔اسحاق ڈار کی وزارت خزانہ میں مداخلت۔۔390 بیورو کریسی کے پلٹو شکنجے میں۔پارلیمنٹ پر حملے میں 22 افراد ملوث۔تفصیلات بادبان نیوز پر

اپوزیشن رہنماؤں کا سپیکر قومی اسمبلی کی چاے پینے سے انکار 3 روز کے لیے پارلیمنٹ کو تالے لگا دئیے جاتے فضل الرھمان گنڈا پور کی صحافیوں کے متعلق گفتگو کو نا مناسب قرار دیتا ہوں عمران خان 10 ارکان کی پارلیمنٹ امد پر جذباتی مناظر 10 ستمبر کا دن ایک سیاہ دن ھے گنڈا پور کا افغانستان سے متعلق بیان وفاق پر حملہ ھے تفصیلات کے لئے بادبان نیوز

اپوزیشن رہنماؤں نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی چائے پینے سے انکار کر دیا۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور حامد رضا نے اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی۔ملاقات میں حکومت کی نمائندگی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کی۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ چائے پینے نہیں آئے، ہمارے ممبران کو دہشت گردوں کی طرح گھسیٹ کر لے جایا گیا۔اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ پارلیمانی تاریخ میں یہ رات سیاہ رات کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔—-بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان نے علی امین گنڈاپور کی صحافیوں کے بارے میں گفتگو کو نامناسب قرار دے دیا۔اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے بانیٔ پی ٹی آئی نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کی صحافیوں کے بارے گفتگو کی تائید نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کو صحافیوں کے بارے میں ایسی گفتگو نہیں کرنی چاہیے تھی۔بانیٔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور جوشِ خطابت میں بہت زیادہ بول گئے۔سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ صحافی جس پریشر میں کام کر رہے ہیں وہ جہاد کر رہے ہیں۔—وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور کا افغانستان کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا بیان وفاق پر حملہ ہے۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی صوبہ کسی ملک کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں کر سکتا، یہ بیان ریاست کے اوپر براہِ راست حملہ ہے۔خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کا بیان زہرِ قاتل ہے، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔انہوں نے کہا کہ جنابِ اسپیکر! آپ نے جو اقدام لیا وہ اس ایوان کے تقدس اور حرمت کے لیے لیا ہے، ہمارے جو بھائی پروڈکشن آرڈر پر ایوان میں آئے ہیں ان کو حقِ نمائندگی ملا ہے، ہم سے ہمارا حقِ نمائندگی کئی سالوں تک چھینا جاتا رہا ہے۔وفاقی وزیر کا مزید کہنا ہے کہ میرے بھائی مروت صاحب نے بہت تعمیری بات چیت کی ہے، مروت صاحب میرے ساتھ اسمبلی میں چند لمحے کے لیے ملے، ان کی اپنی پارٹی نے ان پر اتنی تنقید کی کہ ان سے ہی پوچھ لیں، یہاں یہ ماحول پیدا کیا گیا کہ دوسرے سے ہاتھ بھی نہیں ملانا، کبھی ہماری اور پیپلز پارٹی کی تلخی بھی رہی ہے لیکن برداشت کا لیول اتنا کم نہیں تھا۔ وزیرِ دفاع نے یہ بھی کہا کہ شفقت محمود کے ساتھ 55 سال کی دوستی تھی، انہوں نے میرے خلاف پریس کانفرنس کی، آج پی ٹی آئی کی وہ کابینہ بیٹھی ہے جس نے مجھ پر آرٹیکل 6 لگایا۔واضح رہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور نے افغانستان سے خود مذاکرات کرنے کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ اپنی پالیسیاں اپنے گھر میں رکھو، میرے صوبے میں خون بہہ رہا ہے، افغانستان کے پاس مجھے وفد بھیجنے دو۔علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ سپرنٹنڈنٹ جیل کو بتا چکے ہیں کہ اگر کسی گرفتار شخص کو کسی اور کے حوالے کیا تو انہیں جواب دینا ہو گا، اگر پولیس والوں کا سافٹ ویئر وہاں سے اپ ڈیٹ ہو سکتا ہے تو ان کا سافٹ ویئر یہاں سے بھی اپ ڈیٹ ہوسکتا ہے، ہم بھی سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کر سکتے ہیں۔—-سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واؤڈا کے خلاف توہینِ عدالت کیس نمٹا دیا۔فیصل واؤڈا کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت، جسٹس نعیم اختر اور جسٹس شاہد بلال بینچ کا حصہ تھے۔سماعت کے دوران تمام ٹی وی چینلز کی جانب سے غیر مشروط معافی مانگ لی گئی اور معافی نامہ نشر کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔سپریم کورٹ نے ٹی وی چینلز کی غیر مشروط معافی منظور کرتے ہوئے میڈیا چینلز کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی ختم کر دی۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ٹی وی چینلز خود احتسابی کا عمل بھی بہتر بنائیں گے، روزانہ کا مکینزم بھی یقینی بنایا جائے گا، پریس کانفرنس میں کی گئی توہین آمیز باتیں بھی دوبارہ نشر نہیں ہونی چاہیے تھیں۔‏سپریم کورٹ نے الیکٹرانک میڈیا چینلز کو جاری کردہ توہینِ عدالت کے شوکاز نوٹسز واپس لے لیے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل صدیقی سے سوال کیا کہ آپ نے معافی کن وجوہات پر مانگی ہے؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 28 جون کا عدالتی حکمنامہ پڑھا تو احساس ہوا غلطی ہوئی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اس آرڈر سے اتنے متاثر ہوتے تو اس کی تشہیر نہ کرتے؟ میں نے اپنے کیریئر میں یہ پہلا توہینِ عدالت کا کیس اٹھایا، ہم کسی کو جیل نہیں بھیجنا چاہتے مگر احساس ذمے داری تو ہو، ملک کو تباہ کیا جا رہا ہے، باہر سے کسی کی ضرورت نہیں، فیصل واؤڈا اور مصطفیٰ کمال کی معافی کی تشہیر نہیں کی گئی، پاکستان میں اور کوئی خبر نہیں کہ جنگل نہ کاٹو، پانی ضائع نہ کرو، پارلیمنٹ کو پی ٹی وی کے علاوہ کوئی کور نہیں کرتا۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ہم نے جو معافی مانگی اس کو بھی ہم نشر کر سکتے ہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصل واؤڈا اور مصطفیٰ کمال عام آدمی نہیں تھے، دونوں کی پریس کانفرنس تو آپ نے کور ہی کرنا تھی، دونوں جو بولیں گے اسے آپ کنٹرول نہیں کر سکتے مگر دوبارہ نشر تو نہ کریں۔جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ فیصل واؤڈا اور مصطفیٰ کمال کی باتیں پانچ بار چلائی گئیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے کہا کہ غیر مشروط معافی صرف توہین کی شدت کو کم کرتی ہے، عدالت طے کر چکی توہینِ عدالت کیس میں نیت نہیں دیکھی جاتی۔——اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے گرفتار رہنماؤں کے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ معطل کر دیا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر ہم کوئی آرڈر کرتے ہیں تو ملزم جوڈیشل ہو جائیں گے؟ جسمانی ریمانڈ کا یہ آرڈر برقرار تو نہیں رہ سکتا لیکن اگر ہو گیا تو کیا ہو گا؟درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالت کو زیادہ لمبا جسمانی ریمانڈ نہیں دینا چاہیے، ٹرائل کورٹ نے اپنے آرڈر میں ریمانڈ کی کوئی وجوہات بھی نہیں لکھیں۔چیف جسٹس نے پراسیکیوٹر سے سوال کیا کہ آپ اس جسمانی ریمانڈ کے فیصلے کا کیسے دفاع کریں گے؟پراسیکیوٹر نے ملزمان کے خلاف ایف آئی آرز پڑھ کر سنائیں۔پی ٹی آئی کے گرفتار ارکان اسمبلی کو پارلیمنٹ ہاؤس پہنچا دیا گیا چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کل جمعہ ہے اور جمعہ کو 2 رکنی بینچ نہیں ہوتا، کل صبح 10 بجے یہ 2 رکنی خصوصی بینچ کیس کی سماعت کرے گا۔پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ معطل کرنے سے برا تاثر جائے گا۔چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا برا تاثر جائے گا؟ میں واضح آبزرویشن دے چکا ہوں۔واضح رہے کہ 9 ستمبر کی شب پارلیمنٹ سے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا تھا۔