پاکستان کے دشمن باخبر یا میر جعفروں کی تعداد میں اضافہ۔سانحہ نلتر کے کرداروں کو سزا دی جاتی تو یہ سانحہ نہ ھوتا۔پاکستان میں 3 تعینات سفیر بھارت کے لئے کام کر رہے ہیں ادارے کیوں خاموش ہیں۔پولیس غیر قانونی طور پر رھنے والوں کے لیے سھولت کار بن چکی ہے۔پاکستان کے دشمن باخبر یا میر جعفروں کی تعداد میں اضافہ۔۔اسلام آباد رپورٹ سھیل رانا

نان فائلرز کی کیٹیگری ختم، جائیداد، گاڑیوں اور بین الاقوامی سفر، کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے پر پابندیاسلام آباد(ابادبان فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کر کے ٹیکس نہ دینے والوں پر 15پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں سے 5 ابتدائی طور پر لگائی جائیں گی جن میں جائیداد، گاڑیوں، بین الاقوامی سفر ، کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری پرپابندیاں شامل ہیں۔ حکومت نے جدید مشین لرننگ اور الگورتھمز کے ذریعے نان فائلرز کی شناخت کا فیصلہ کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ایسے افراد کی نگرانی کی جائے گی جن کی آمدنی کی سطح ان کے لین دین کی مقدار کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی، وزیراعظم نے منظوری دیدی، آرڈیننس لایاجائےگا۔چیئر مین ایف بی آر نے بتایا ہے کہ بینک چیک متبادل کرنسی بن چکا،اسےمحدود کیاجائیگا،پچھلے سال نان فائلرز سے صرف 25 ارب روپے فیس کی مد میں جمع ہوئے، چیئرمین ایف بی آرصنعتکاروں نے آٹو میشن کی حمایت کی ہے تاہم ان کا موقف ہے کہ اگر زراعت پر ٹیکس نہ لگاتو ٹیکس ٹوجی ڈی پی تناسب جمود کا شکاررہے گا۔تفصیلات کے مطابق منگل کوایف بی آر نے نان فائلرز کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد پابندیاں متعارف کرانے کا اعلان کیا تاکہ ٹیکس کمپلائنس کو بڑھایا جا سکے اور ٹیکس بیس کو وسیع کیا جا سکے۔ نان فائلر کیٹیگری کو ختم کر دیا جائے گا۔ابتدائی پابندیوں میں جائیداد کی خریداری، گاڑیوں کی خریداری، میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری، کرنٹ اکاؤنٹس کھولنے اور بین الاقوامی سفر (مذہبی سفر کے علاوہ) شامل ہیں۔حکومت نان فائلر کیٹیگری کو ختم کر رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ افراد جو پہلے ان لین دین پر ٹیکس ادا کرنے سے بچنے کے لیے ایک معمولی فیس ادا کرتے تھے، اب ایسا نہیں کر سکیں گے۔ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لانگریال نے انکشاف کیا کہ ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے والے افراد کے لیے 15 مخصوص سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے گی، جن میں ابتدائی طور پر پانچ کلیدی شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔یہ اقدامات ایف بی آر کے تبدیلی کے منصوبے کا حصہ ہیں، جسے وزیر اعظم کی منظوری مل چکی ہے۔ایک سرکاری عہدیدار نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ اس اقدام کو ایک آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، اور ایف بی آر پہلے ہی اس کے قواعد پر کام کر رہا ہے اور قانون کی وزارت کو اس عمل میں شامل کر رہا ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے نان فائلرز کے تصور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسی درجہ بندیاں دنیا بھر میں نہیں پائی جاتیں اور انہیں ختم کر دینا چاہیے اورتوجہ ٹیکس کمپلائنس کرنے والے اور نہ کرنے والے افراد پر مرکوز ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا”ہم جدید مشین لرننگ اور الگورتھمز کے ذریعے نان فائلرز کی شناخت کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے سال نان فائلرز سے صرف 25 ارب روپے فیس کی مد میں جمع ہوئے، جب کہ ان افراد سے ممکنہ ٹیکس ریونیو ابھی بھی وصول نہیں کیا جا سکا۔نئی پالیسیوں کے تحت، نان فائلرز کو روایتی بینک اکاؤنٹس کھولنے سے روکا جائے گا، سوائے کم آمدنی والے افراد کے بنیادی اکاؤنٹس کے۔ اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے لیے، ایف بی آر ملک بھر میں اہم داخلی مقامات پر آٹومیشن اور افرادی قوت کو بڑھا رہا ہے۔

نان فائلرز کی کیٹیگری ختم، جائیداد، گاڑیوں اور بین الاقوامی سفر، کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے پر پابندیاسلام آباد(ابادبان فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کر کے ٹیکس نہ دینے والوں پر 15پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے

نان فائلرز کی کیٹیگری ختم، جائیداد، گاڑیوں اور بین الاقوامی سفر، کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے پر پابندیاسلام آباد(ابادبان فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کر کے ٹیکس نہ دینے والوں پر 15پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں سے 5 ابتدائی طور پر لگائی جائیں گی جن میں جائیداد، گاڑیوں، بین الاقوامی سفر ، کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری پرپابندیاں شامل ہیں۔ حکومت نے جدید مشین لرننگ اور الگورتھمز کے ذریعے نان فائلرز کی شناخت کا فیصلہ کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ایسے افراد کی نگرانی کی جائے گی جن کی آمدنی کی سطح ان کے لین دین کی مقدار کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی، وزیراعظم نے منظوری دیدی، آرڈیننس لایاجائےگا۔چیئر مین ایف بی آر نے بتایا ہے کہ بینک چیک متبادل کرنسی بن چکا،اسےمحدود کیاجائیگا،پچھلے سال نان فائلرز سے صرف 25 ارب روپے فیس کی مد میں جمع ہوئے، چیئرمین ایف بی آرصنعتکاروں نے آٹو میشن کی حمایت کی ہے تاہم ان کا موقف ہے کہ اگر زراعت پر ٹیکس نہ لگاتو ٹیکس ٹوجی ڈی پی تناسب جمود کا شکاررہے گا۔تفصیلات کے مطابق منگل کوایف بی آر نے نان فائلرز کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد پابندیاں متعارف کرانے کا اعلان کیا تاکہ ٹیکس کمپلائنس کو بڑھایا جا سکے اور ٹیکس بیس کو وسیع کیا جا سکے۔ نان فائلر کیٹیگری کو ختم کر دیا جائے گا۔ابتدائی پابندیوں میں جائیداد کی خریداری، گاڑیوں کی خریداری، میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری، کرنٹ اکاؤنٹس کھولنے اور بین الاقوامی سفر (مذہبی سفر کے علاوہ) شامل ہیں۔حکومت نان فائلر کیٹیگری کو ختم کر رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ افراد جو پہلے ان لین دین پر ٹیکس ادا کرنے سے بچنے کے لیے ایک معمولی فیس ادا کرتے تھے، اب ایسا نہیں کر سکیں گے۔ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لانگریال نے انکشاف کیا کہ ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے والے افراد کے لیے 15 مخصوص سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے گی، جن میں ابتدائی طور پر پانچ کلیدی شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔یہ اقدامات ایف بی آر کے تبدیلی کے منصوبے کا حصہ ہیں، جسے وزیر اعظم کی منظوری مل چکی ہے۔ایک سرکاری عہدیدار نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ اس اقدام کو ایک آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، اور ایف بی آر پہلے ہی اس کے قواعد پر کام کر رہا ہے اور قانون کی وزارت کو اس عمل میں شامل کر رہا ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے نان فائلرز کے تصور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسی درجہ بندیاں دنیا بھر میں نہیں پائی جاتیں اور انہیں ختم کر دینا چاہیے اورتوجہ ٹیکس کمپلائنس کرنے والے اور نہ کرنے والے افراد پر مرکوز ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا”ہم جدید مشین لرننگ اور الگورتھمز کے ذریعے نان فائلرز کی شناخت کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے سال نان فائلرز سے صرف 25 ارب روپے فیس کی مد میں جمع ہوئے، جب کہ ان افراد سے ممکنہ ٹیکس ریونیو ابھی بھی وصول نہیں کیا جا سکا۔نئی پالیسیوں کے تحت، نان فائلرز کو روایتی بینک اکاؤنٹس کھولنے سے روکا جائے گا، سوائے کم آمدنی والے افراد کے بنیادی اکاؤنٹس کے۔ اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے لیے، ایف بی آر ملک بھر میں اہم داخلی مقامات پر آٹومیشن اور افرادی قوت کو بڑھا رہا ہے۔

ارکان اسمبلی کی تنخواہ بڑھانے کا اختیار ختم ارکان اسمبلی کی تنخواہ کا فیصلہ پارلیمنٹ خود کرے گی

ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کیلئے وزارت خزانہ اور حکومت کا اختیار ختم کردیا گیا۔کابینہ ذرائع کے مطابق ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہیں اور مراعات میں اضافے کیلئے قومی اسمبلی خود فیصلہ کرے گی، اس سے قبل ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں، مراعات میں اضافے کیلئے وزارت خزانہ سے مشاورت کی جاتی تھی اب ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں، مراعات میں اضافے کیلئے وزارت خزانہ سے مشاورت نہیں ہو گی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ اراکین قومی اسمبلی کے تمام الاؤنسز میں اضافے کا اختیار حکومت کے پاس نہیں ہو گا، جبکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ایکٹ میں ترمیم کی سفارش کی تھی کہ سینٹ ارکان کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کیلئے سینیٹ کو اختیارات دیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ کے ایکٹ میں ترامیم کر کے ارکان قومی اسمبلی کے ساتھ سینیٹرز کو بھی شامل کیا جائے، تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اختیار ہے، ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا بل منظور ہو چکا ہے۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈز (آئی ایم ایف) نے پاکستان کیلئے 7ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری دے دی۔ واشنگٹن میں آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی گئی ہے۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈز (آئی ایم ایف) نے پاکستان کیلئے 7ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری دے دی۔

واشنگٹن میں آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی گئی ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا تھا کہ منظوری کی صورت میں پاکستان کو 7 ارب ڈالرز قرض کی پہلی قسط ایک ارب یا ایک ارب 10 کروڑ ڈالر ملیں گے۔

آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالرز قرض کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہوگئیں

وزیراعظم شہباز شریف کا نیویارک میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پوری کردی ہیں۔ معاشی اشاریوں میں بتدریج بہتری آرہی ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے رواں مالی سال پاکستانی معیشت کے بہتری کی جانب گام زن ہونے کی نوید سنائی۔

اے ڈی بی نے کہا کہ مہنگائی کی شرح 15 فیصد تک گر سکتی ہے۔ بینک نے شرح نمو بھی دو اعشاریہ آٹھ فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔

کچھ دن پہلے عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اپ گریڈ کرچکی ہے ۔

پاکستان نے 9 ماہ کا اسٹینڈ بائے معاہدہ گزشتہ برس کامیابی سے مکمل کیا
گزشتہ دنوں واشنگٹن میں ڈائریکٹر کمیونی کیشن آئی ایم ایف جولیا کوزک کا نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف اسٹاف سطح کا معاہدہ جولائی میں طے پایا تھا۔ پاکستان نے 9 ماہ کا اسٹینڈ بائے معاہدہ گزشتہ برس کامیابی سے مکمل کیا۔

عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا تھا کہ 37 ماہ کے قرض پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد جاری ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام تسلیم کرتے ہیں معیشت کو کامیابی سے مستحکم کرنے اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنے کیلئے نئے ای ایف ایف کا مستقل نفاذ ضروری ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق اس طرح روزگار اور معیار زندگی کو بہتر کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے اور یہی پروگرام کا مقصد ہے، 2023 پروگرام کا تجربہ پاکستانی حکام کے عزم کو ظاہر کرتا ہے، پاکستانی حکام ایسی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے کے قابل تھے جو معیشت کو بحال کرنے میں مدد دے سکیں۔

سپریم کورٹ میں ھاتھا پای 9 سوالات کے جوابات خصوص نشستوں سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے 9 سوالات کے معاملے پر رجسٹرار سپریم کورٹ نے جواب بھیج دیا

مخصوص نشستوں سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے 9 سوالات کے معاملے پر رجسٹرار سپریم کورٹ نے جواب بھیج دیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے رجسٹرار سپریم کورٹ سے 14 ستمبر کے حکم پر 9 سوالات پوچھے گئے تھے، جس پر رجسٹرار نے جواب بھیجا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہا الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی کی درخواستوں پر کوئی کاز لسٹ جاری نہیں ہوئی، سپریم کورٹ کے کسی کمرہ عدالت میں ان درخواستوں پر سماعت نہیں ہوئی جبکہ ججز کے کسی چیمبر میں بھی ان درخواستوں پر بیٹھنے کے بارے میں معلومات نہیں۔رجسٹرار کی جانب سے بھیجے گئے جواب میں کہا گیا کہ ویب سائٹ پر اپلوڈ ہونے سے پہلے فائل رجسڑار آفس کو نہیں بھجوائی گئی، وضاحتی حکم سینئر جج کے اسٹاف آفیسر کے کہنے پر ویب سائٹ پر اپ لوڈ ہوا۔واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 14 ستمبر کے ڈپٹی رجسٹرار کے نوٹ پر وضاحت مانگی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سے 9 سوالات کے جواب طلب کیے تھے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے پوچھے گئے سوالاتپہلا سوال: الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی کی متفرق درخواستیں کب داخل کی گئیں؟دوسرا سوال: ججز کمیٹی کے سامنے درخواستیں کیوں پیش نہیں کی گئیں؟تیسرا سوال: درخواستیں سماعت کےلیے کب مقرر ہوئیں اور اس بارے میں کازلسٹ کیوں جاری نہ ہوئی؟چوتھا سوال: کیا فریقین اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا گیا؟پانچواں سوال: کس کورٹ روم یا چیمبر میں کن جج صاحبان نے سماعت کی؟چھٹا سوال: آرڈر سنانے کےلیے کاز لسٹ کیوں جاری نہ ہوئی؟ساتواں سوال: حکم نامہ جاری کرنے کے لیے وقت مقرر کیوں نہ کیا گیا؟آٹھواں سوال: اوریجنل فائل اور اصل حکم نامہ جمع کروائے بغیر ویب سائٹ پر کیسے اپ لوڈ ہوا؟نواں سوال: وضاحتی حکم نامہ سپریم کورٹ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم کس نے دیا؟پی ٹی آئی سیاسی جماعت تھی اور ہے، مخصوص سیٹوں کے کیس میں 8 ججوں کی وضاحتواضح رہے کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی کی درخواستوں پر وضاحت میں کہا تھا کہ 12 جولائی کے فیصلے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔اکثریتی ججز نے لکھا تھا کہ سپریم کورٹ کا 12 جولائی کا شارٹ آرڈر بہت واضح ہے اور الیکشن کمیشن نے اس حکم کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنایا ہے جب کہ فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کے سنگین نتائج ہوں گے۔

ای پی پی شکنجے میں حکومت ان ایکشن حماس کے نئے سربراہ بھی حملے میں شہید۔عرب امارات نے ایک ھزار اسرائیلیوں کو قومیت دے دی۔30 ستمبر سے نہ ملنے والہ ریلیف ختم۔ھاکی ٹیم سے حکومت کا دشمن جیسا رویہ ذمہ دار کون۔کرکٹ ٹیم کا اعلان جوا باز شامل۔اب تو پی ٹی آئی کے حق میں 9 ووٹ ہو گئے اب الیکشن کمیشن کیا کرے گا۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز پر کلک کریں

پنجاب کے گورنر اور وزیر اعلی میں اختلافات۔13 وائیس چانسلر کی تعیناتی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پنجاب کی 13 یونیورسٹیز میں وائس چانسلر کی تقرری کے معاملے پر گورنر سردار سلیم حیدر اور وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کے درمیان اختلافات مزید بڑھ گئے۔گورنر ہاؤس کے ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب نے وی سیز کی تقرری کی سفارشات مسترد کر کے واپس بھیج دیں، وزیرِ اعلیٰ کی منظوری سے 13 میں سے 7 وی سی کی تقرری کر دی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ گورنر کی منظوری کے بغیر 7 یونیورسٹیز کے وائس چانسلر کا تقرر کیا گیا، گورنر پنجاب نے سفارشات مسترد کرتے ہوئے کچھ اعتراضات بھی اٹھائے۔وائس چانسلر کے پینل بنانے کا عمل ٹھیک نہیں تھا، دوبارہ جائزہ لیں، وائس چانسلر کے پینل بنانے میں صحت مندانہ مقابلہ دیکھنے میں نہیں آیا۔گورنر ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے پینل بھیجا جا سکتا ہے، سلیکشن نہیں کی جا سکتی، وائس چانسلر کا تقرر کرنے کا اختیار گورنر کو حاصل ہے۔دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کے پینل بنانے میں شفافیت تھی، کابینہ کی منظوری کے بعد وی سی کی سلیکشن کی گئی۔ذرائع نے کہا ہے کہ گورنر کا کام صرف دستخط کرنا ہے، سمری واپس نہیں بھیج سکتے، وائس چانسلر کا تقرر وزیرِ اعلیٰ کی منظوری سے قانون کے مطابق ہے۔

بجلی سات روپے 12 پیسے مھنگی کرنے کا فیصلہ یونٹ 100 روپے ۔جمھوریت بھترین انتقام

بجلی 7 روہے 12 پیسے مہنگی کرنے کی تیاریاں، 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے ریلیف 30 ستمبر سے ختم کرنے کی تیاریاں مکمل، یکم اکتوبر سے بجلی کی قیمت میں بھاری اضافہ ہو جائےگا۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں بجلی صارفین کا 30 ستمبر سے 200 یونٹ تک کا 3 ماہ کا ریلیف ختم ہو جائے گا۔ذرائع کے مطابق بجلی کے صارفین کے لیے 3 ماہ کا حکومتی ریلیف 30 ستمبر کو ختم ہو جائے گا اور یکم اکتوبر سے ماہانہ 200 یونٹ تک صارفین کا بنیادی ٹیرف فی یونٹ 7.12 تک بڑھ جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ 100 یونٹ تک نان پروٹیکٹڈ صارفین کا ٹیرف7.12 روپے بڑھ کر 23.59 روپے ہو جائے گا جبکہ 101 سے 200 یونٹ تک نان پروٹیکٹڈ صارفین کا ٹیرف 7.12 روپے بڑھ کر 30.07 روپے ہو جائے گا۔علاوہ ازیں 1 سے 100 یونٹ تک پروٹیکٹڈ صارفین کا ٹیرف3.95 روپے سے بڑھ کر 11.69 روپے ہو جائے گا جبکہ 101 سے 200 یونٹ تک پروٹیکٹڈ صارفین کا ٹیرف4.10 روپے سے بڑھ کر 14.16 روپے ہو جائے گا۔ذرائع کے مطابق ماہانہ 50 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف 3.95 روپے برقرار رہے گا جبکہ ماہانہ51 سے 100 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف 7.74 روپے برقرار رہے گا۔ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے جولائی 2024ء میں بجلی کا بنیادی ٹیرف فی یونٹ 7.12 روپے تک بڑھایا تھا، حکومت نے اضافے سے ماہانہ 200 یونٹ تک والے صارفین کو 3 ماہ کیلئے استثنیٰ دیا تھا۔وفاقی حکومت نے 50 ارب سبسڈی سے ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی قیمت میں اضافہ 3 ماہ کے لیے روکا تھا۔

چیف جسٹس اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان سخت ترین جملوں کا تبادلہ۔عدالتی فیصلوں پر اعتماد کرے یا ائین پر۔کوئی طاقتور شخص ریٹائر ہو کر کینڈا نہیں جا سکتا۔ کینڈا کی پارلیمنٹ نے قراردار پاس کر دی

چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ آئین بنانے والوں نے الیکشن کمیشن کو ادارہ بنایا اور وہ چاہیں تو ختم بھی کرسکتے ہیں۔سپریم کورٹ میں پنجاب میں الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس دوران سلمان اکرم راجا اور چیف جسٹس کے درمیان مکالمہ ہوا۔سماعت کے دوران وکیل سلمان اکرم راجا نے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن کو عملدرآمد کرنا چاہیے تھا، لاہورہائیکورٹ کے حکم پر کوئی فیصلہ دیے بغیر سپریم کورٹ معاملہ ختم نہیں کرسکتی۔ سلمان اکرم راجا کے دلائل پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہم عدالتی فیصلوں پر انحصار کریں یا آئین پر؟ عدالت آئین کی پابند ہے، مجھے سروکار نہیں کسی جج نے کیا فیصلہ دیا۔ چیف جسٹس نے سلمان اکرم سے سوال کیا کہ کیا آپ اپنی مرضی کے ججز ٹربیونلز کے لیے چاہتے ہیں؟ جب لاہورہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن میں مشاورت ہوچکی تو مزید کیا کرنا چاہیے؟ آپ چاہتےہیں ٹربیونلز کا معاملہ ختم ہی نا ہو۔ اس پرسلمان اکرم نے کہا کہ ہائیکورٹ کا حکم کالعدم یا برقرار رکھے بغیر یہ کیس ختم نہیں ہوگا، الیکشن کمیشن کے پاس اختیار نہیں کہ کون سا جج کون سا ٹربیونل کیس سنےگا، عدالتی فیصلوں کے بجائے صرف آئین پر عملدرآمد ہو تو ملک میں مسائل پیدا ہونگے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئین بنانے والوں کی دانائی ہوتی ہے، آئین بہت پیچیدہ کتاب ہےجو صرف ایک داناشخص ہی سمجھ سکتا ہے، آئین بنانے والوں نے الیکشن کمیشن کو ادارہ بنایا، وہ چاہیں تو ختم بھی کرسکتے ہیں، فی الحال الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے، اگر ہائیکورٹ اگر الیکٹورل کام شروع کردے تو کیا ہوگا؟ بعد ازاں عدالت نے پنجاب میں الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سنایا جائے گا۔ ——— آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے جنوبی وزیرستان کے ضلع وانا کا دورہ کیا جب کہ اس موقع پر آرمی چیف نے افسران اور جوانوں سے ملاقات کی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے جنوبی وزیرستان کے ضلع وانا کا دورہ کیا. آرمی چیف کو سیکیورٹی صورت حال سمیت انسداد دہشت گر کے خلاف آپریشنز پر بریفنگ دی گئی۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آرمی چیف کو علاقے میں ترقیاتی اقدامات سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی جب کہ جنرل عاصم منیر نے افسران اور جوانوں سے ملاقات کی اور افسران و جوانوں کی آپریشنل تیاریوں سمیت بلند حوصلے کی تعریف کی۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاک فوج دشمنوں کے تمام عزائم کو ناکام بنادے گی. خیبرپختونخوا پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لئے تکنیکی مدد فراہم کرتے رہیں گے۔آرمی چیف نے فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے دشمن قوتوں سمیت ان کے سہولت کاروں کے مذموم عزائم ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ترجمان پاک فوک نے کہا کہ آرمی چیف نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے میں عوام کے کردار کی بھی تعریف کی جب کہ کے پی کی عوام کی خوشحالی اورترقی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے کےعزم کا اعادہ کیا۔آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ آرمی چیف نے دہشت گردی کے خلاف قبائلی عمائدین کی غیرمتزلزل حمایت پرشکریہ ادا کیا. یادگار شہداء پر پھول چڑھائے اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جب کہ آرمی چیف کے وانا پہنچنے پر کور کمانڈر پشاور نے ان کا استقبال کیا۔——چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہےکہ آئینی عدالت ضروری اور مجبوری ہے اس لیے آئینی عدالت بنا کر رہیں گے۔ کراچی میں سندھ ہائیکورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ آئین سازی اور قانون سازی عدلیہ کے ذریعے نہیں ہوسکتی، 19 ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ کی دھمکی کی وجہ سے لانا پڑی مگر اب کچھ بھی ہو میثاق جمہوریت کے مطابق عدالتی اصلاحات لا کر رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم میں ججوں کے تقرر کا وہ طریقہ بدلنا پڑا جو پوری دنیا میں رائج ہے، امریکا میں پوری پارلیمان ججوں کے تقرر کا فیصلہ کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکا میں آج تک مارشل لاء نہیں لگا۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت ضروری ہے اورمجبوری بھی، اس لیے آئینی عدالت بنا کر رہیں گے تاکہ کسی دوسرے وزیر اعظم کو تختہ دار پر نا چڑھایا جا سکے اور لوگوں کو انصاف مل سکے۔ چیئرمین پی پی نے مزید کہا کہ ایک انصاف دینے والے ادارے نے عدالتی قتل کیا، ضیاء الحق کا دور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے دیکھا ہر سیاسی کارکن پر تشدد ہوا، شہید بے نظیر کو پتا تھا ہمارا نظام ٹوٹا ہوا تھا، اس وقت افتخار چوہدری انقلابی نہیں پی سی او جج تھا، کوئی ڈیم والا جج نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت فیصلہ کیا تھا کہ آئینی عدالت بنے گی لوگوں کو انصاف ملے گا، اس وقت عدالتیں پکوڑوں اور ٹماٹر کی قیمت طے کررہی تھیں۔—– قطر امیری بحریہ کے جہاز الخور کی کراچی آمد پر پُرتپاک استقبال کیا گیا. جہاز کی 36 سال بعد پاکستان آمد ایک تاریخی سنگ میل ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ قطر امیری بحریہ کے جہاز الخور پہنچ گیا. کراچی آمد پر قطری بحریہ کے جہاز کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ قطری بحریہ کے جہاز کی 36 سال بعد پاکستان آمد ایک تاریخی سنگ میل ہے.پاک قطر بحری جہازوں کے درمیان مشق اسد البحر کا انعقاد کیا گیا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ قطری بحریہ کے جہاز کے کمانڈنگ آفیسر نے مزار قائد پر حاضری دی اوربابائےقوم کوخراج عقیدت پیش کیا.آئی ایس پی آرقطری بحریہ کے کمانڈنگ آفیسر نےوائس ایڈمرل فیصل عباسی سے ملاقات کی. ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے پیشہ وارانہ امور و تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ قطرامیری بحریہ کےجہازکےدورےسےتعلقات کو فروغ ملے گا۔——-سعودی عرب کی وزارت حج نے پاکستان کے وزارت مذہبی امور کو پاکستانی بھکاریوں کو روکنے کے لیے خط لکھا ہے۔ذرائع مذہبی امور کے مطابق سعودی وزارت حج نے پاکستان کی وزارت مذہبی امور کو انتباہ جاری کیا ہے۔سعودی وزارت حج کے مطابق پاکستانی بھکاریوں کو نہ روکا گیا تو عمرہ زائرین اور حجاج کرام پر اثر پڑ سکتا ہے. پاکستانی بھکاری سعو دی عرب میں عمرے کے ویزے پر آتے ہیں۔وزارت مذہبی امور نے عمرہ ایکٹ لانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں عمرہ کروانے والے ٹریولز کو قانونی دائرے میں لایا جائے گا۔وزارت مذہبی امور نے پاکستانی بھکاریوں کو سعودی عر ب جانے سے روکنے کے لیے حکومت سے بھی رابطہ کر لیا ہے۔—- مخصوص نشستوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن کا چھٹا اجلاس بھی بے نتیجہ ختم ہوگیا ہے۔

ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق مخصوص نشستوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن کا چھٹا اجلاس ہوا .جس میں قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پر بریفنگ دی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن حکام آج بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں جب کہ ممبر کے پی کی عدم حاضری کے باعث مشاورتی عمل مکمل نہیں ہوسکا ہے۔ذرائع الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشم کا اجلاس کل دوبارہ ہوگا. چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس میں ممبران، حکام اور قانونی ٹیم نے شرکت کی۔