بھارتی ڈرون خلیج بنگال میں گر کر تباہ ہوگیا تاہم ڈرون کے تباہ ہونے کی وجوہات تاحال سامنے نہ آسکیں۔

بھارتی ڈرون خلیج بنگال میں گر کر تباہ ہوگیا تاہم ڈرون کے تباہ ہونے کی وجوہات تاحال سامنے نہ آسکیں۔تفصیلات کے مطابق بھارت کا جنگی جنون ہمیشہ خطے کی سالمیت کے لئے ایک خطرے کا سبب رہاہے ۔بھارت نے امریکا سے MQ-9B نامی ڈرون لیز پر حاصل کیا تھا تاہم اب ڈرون خلیج بنگال میں گر کر تباہ ہو گیا، ڈرون کے تباہ ہونے کی وجوہات تاحال سامنے نہ آسکیں۔امریکا سے لیا جانے والا MQ-9Bنامی ڈرون بھارت نے بحرہند کے وسیع علاقے میں انٹیلی جنس نگران اور جاسوسی کیلئے مختص کیا تھا۔بھارت کےMQ-9B ڈرون کو تامل ناڈو میں بھارتی بحریہ کے بیس سے کنٹرول کیا جاتا تھا، جواب اس کی جگ ہنسائی کا سبب بن چکا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ بار نے مجوزہ آئینی ترمیم کو یکسر مسترد کردیا ۔لاہورہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام آل پاکستان وکلاء کنونشن کا انعقاد ہوا جس میں ملک بھر سے نامور وکلاء نے شرکت کی

لاہور ہائیکورٹ بار نے مجوزہ آئینی ترمیم کو یکسر مسترد کردیا ۔لاہورہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام آل پاکستان وکلاء کنونشن کا انعقاد ہوا جس میں ملک بھر سے نامور وکلاء نے شرکت کی۔وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹرعلی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پانچ سینیئر ترین ججز آئینی مسائل پرسماعت کریں، الگ سے آئینی عدالت بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔علی ظفر کا کہنا تھا کہ جو ترمیم منظور کرنے جارہے تھے اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے تھی۔وکیل رہنما حامد خان نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم پر بحث ہوتی ہے اسے اوپن رکھا جاتا ہے، انہوں نےتو ترمیم کو چھپا کر رکھا ہے۔وکلاء نمائندہ نے اجلاس میں قرارداد پیش کی جس کے مطابق پارلیمان قانون سازی اور آئینی ترمیم کرنے کا اختیار رکھتا ہے تاہم قانون سازی یا آئینی ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم نہ ہو۔وکلاء نے کنونشن کے بعد ہائیکورٹ سے جی پی او چوک تک ریلی بھی نکالی۔

سرکاری ڈیزل چوری میں پولیس پھلے نمبر پر۔پیکا ایکٹ خاتون کو سذاے موت۔مہنگائی آسمان پر اور اسٹاک ایکسچینج ساتویں آسمان پر۔مھنگای نے 2 سال میں 89 خودکشیوں کو جنم دیا۔مھنگای نے 10 کروڑ پاکستانی عوام کو غربت کی لکیر سے نیچے پھینک دیا۔مھنگای نے 7 کروڑ طلبہ سے انکا مستقبل چھین لیا۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز پر کلک کریں

سپریم کورٹ کمیٹی کی ججز کمیٹی کا اجلاس منسوخ کشیدہ صورتحال نازک

سپریم کورٹ کی ججز کمیٹی کا اجلاس مؤخر کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ججز کمیٹی کے اجلاس کے ایجنڈے میں 63 اے فیصلے پر نظر ثانی اور آڈیو لیک کیس سے متعلق درخواستیں شامل تھی۔ ججز کمیٹی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل ہے۔

میلادِ مصطفیٰ و ہفتہِ وحدت کی مناسبت سے امامیہ ریلیف سیل پاکستان و آئی ایس او کا موکبِ امامیہ و استقبالیہ کیمپ کا انعقاد*امامیہ ریلیف سیل پاکستان اور آئی ایس او الحسینی یونٹ راولپنڈی کی جانب سے میلادِ مصطفیٰ ﷺ اور ہفتہِ وحدت کی مناسبت سے معصومین سنٹر کمرشل مارکیٹ راولپنڈی میں موکبِ امامیہ اور استقبالیہ کیمپ کا اہتمام کیا گیا۔

*میلادِ مصطفیٰ و ہفتہِ وحدت کی مناسبت سے امامیہ ریلیف سیل پاکستان و آئی ایس او کا موکبِ امامیہ و استقبالیہ کیمپ کا انعقاد*امامیہ ریلیف سیل پاکستان اور آئی ایس او الحسینی یونٹ راولپنڈی کی جانب سے میلادِ مصطفیٰ ﷺ اور ہفتہِ وحدت کی مناسبت سے معصومین سنٹر کمرشل مارکیٹ راولپنڈی میں موکبِ امامیہ اور استقبالیہ کیمپ کا اہتمام کیا گیا۔ اس خصوصی کیمپ کا مقصد وحدتِ امت کے پیغام کو فروغ دینا اور جلوسِ میلاد کے شرکاء کا استقبال کرنا تھا۔کیمپ میں آنے والے شرکاء کے لیے سبیل، فروٹس، اور مٹھائیوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس مبارک موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور جشنِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ شرکاء نے نہ صرف رسولِ خدا ﷺ کی ولادت کا جشن منایا، بلکہ فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کیا اور ان کی آزادی کے حق میں خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا۔ علامہ سید اعجاز موسوی اور مولانا عسکری نے شرکاء سے خطاب کیا اور وحدت امت اور فلسطین کی آزادی کے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ فارم 45یافارم47کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے جب ڈبے کھل جاتے ہیں۔ الیکشن کے معاملہ میں تمام ووٹ ڈبے میں ہیں یہ بنیادی شواہد ہیں، فارم 45اورفارم47ثانوی شواہد ہیں۔ کسی کوشک وشبہ ہے کہ صحیح گنتی نہیں کی ، ایک ہی حل ہے ڈبہ کھول کردوبارہ گنو

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ فارم 45یافارم47کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے جب ڈبے کھل جاتے ہیں۔ الیکشن کے معاملہ میں تمام ووٹ ڈبے میں ہیں یہ بنیادی شواہد ہیں، فارم 45اورفارم47ثانوی شواہد ہیں۔ کسی کوشک وشبہ ہے کہ صحیح گنتی نہیں کی ، ایک ہی حل ہے ڈبہ کھول کردوبارہ گنو۔ جھوٹا سچاکون ہے یہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ہم حقائق پرچلیں گے، مجھے نہیں پتہ جھوٹا کون ہے ، سچا کون ہے، یہ کوئی میاں بیوی کا مقدمہ تونہیںچل رہا ہے کہ سچاکون ہے جھوٹاکون ہے۔ انصاف کے لئے اوپرجائیں ، ہم قانون کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ کوئی ریٹرننگ افسر مخالف امیدوارکارشتہ دار تھا، کوئی قانونی دلائل دیں،الیکشن کمیشن اورالیکشن ٹریبونل سے ہارے ہیں آپ سے اُن کوکوئی دشمنی ہے۔ ڈبے میں جوووٹ پڑے ہیں وہ تودشمن نہیں یاتوکہتے کہ سیل ڈوٹی ہوئی تھی، ریٹرننگ افسر اپنی عقل استعمال نہیں کررہا بلکہ حقائق کی بنیاد پر دوبارہ گنتی کرکے فیصلہ کررہا ہے، ہرچیز کو بلاوجہ متنازع نہ بنائیں جبکہ عدالت نے پی بی14 نصیرآباد، بلوچستان میں دوبارہ گنتی اور ریٹرننگ افسران کی جانبداری کے الزامات کے حوالہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار غلام رسول عمرانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محمد خان لہڑی کی کامیابی کے فیصلہ کو برقرار رکھا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس نعیم اخترافغان اورجسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 3رکنی بینچ نے بلوچستان اسمبلی حلقہ پی بی 14نصیرآباد پر الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار غلام رسول عمرانی کی کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے امیدوار محمد خان لہڑی ،الیکشن کمیشن آف پاکستان اوردیگر کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے سعید خورشید احمد جبکہ مدعا علیہ کی جانب سے محمد اکرم شاہ بطور وکیل پیش ہوئے جبکہ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن محمد ارشد اور لیگل کنسلٹنٹ فلک شیر بھی دوران سماعت عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست گزار کے وکیل کاکہناتھا کہ یہ پی بی 14نصیر آباد کے الیکشن کامعاملہ ہے، 8فروری کے انتخا بات میں میرے مئوکل نے 19039ووٹ حاصل کئے جبکہ (ن)لیگ کے جیتنے والے امیدوار نے 21103ووٹ حاصل کئے۔ وکیل کاکہنا تھا کہ96 پولنگ سٹیشنز میں سے 7 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ گنتی کی درخواست دائر کی۔چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ غلط رزلٹ تیار کیاگیا۔اس پر وکیل نے کہا کہ فارم 45 کے مطابق یہ رزلٹ نہیں تھے افسران جانبدار تھے۔چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست میں الزام کیا ہے بتائیں، فارم 45یافارم47کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے جب ڈبے کھل جاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دوبارہ ڈبے کھولے کہ نہیں، غیر ضروری باتیں نہ کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دوبارہ گنتی کی درخواست کرسکتے ہیں یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں نے 5ہزارووٹ لئے۔ جسٹس نعیم اخترافغان نے کہا کہ کاربن کاپی کیسے ثابت کی کہ یہی اصل فارم 45ہے، پریذائیڈنگ افسران نے اصل ریکارڈ پیش کیا، آپ کاپیوں پر کیس چلا رہے ہیں، آپ کے گواہان نے پریذائیڈنگ افسران کا نام تک غلط بتایا،آپ کے گواہ تو خود کو پولنگ ایجنٹس بھی ثابت نہیں کرسکے۔چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کے معاملہ میں بنیادی شہادت کیا ہوتی ہے، نکاح نامہ، فروخت کامعاہدہ کیا بنیادی شواہد ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کے معاملہ میں تمام ووٹ ڈبے میں ہیں یہ بنیادی شواہد ہیں، فارم 45اورفارم47ثانوی شواہد ہیں۔ جسٹس نعیم اخترافغان نے کہا کہ دوبارہ گنتی توہوئی ہے۔ چیف جسٹس کاوکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تقریروں والی بات نہ کریں، اصل نقطہ کی طرف آئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 7پولنگ سٹیشنز والی بات ہم نے سن لی، فارم 45اورفارم47کون بھرتا ہے۔ اس پر وکیل نے کہا کہ یہ پریذائیڈنگ افسربھرتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پھر یہ سسٹم ختم کردیں، کسی کوشک وشبہ ہے کہ صحیح گنتی نہیں کی ، ایک ہی حل ہے ڈبہ کھول کردوبارہ گنو۔چیف جسٹس نے کہا کہ انتخابات میں سب سے اہم شواہدڈبے میں موجود ووٹ ہوتے ہیں، فارم 45 تو پریذائیڈنگ افسر بھرتا ہے ،یا تو دوبارہ گنتی پر اعتراض کریں کہ ڈبے کھلے ہوئے تھے۔جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق آپ کے الزامات ثابت نہیں ہوتے،یہ ثابت نہیں کرسکے کہ آپ کے پولنگ ایجنٹس 7پولنگ سٹیشنز پر مووجود تھے،دوبارہ گنتی ہوئی ہے۔وکیل نے کہا کہ جج صاحب نے بغیر شواہد کے مجھے فیصلے میں جھوٹا کہہ دیا۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جھوٹا سچاکون ہے یہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ہم حقائق پرچلیں گے، مجھے نہیں پتہ جھوٹا کون ہے ، سچا کون ہے، یہ کوئی میاں بیوی کا مقدمہ تونہیںچل رہا ہے کہ سچاکون ہے جھوٹاکون ہے۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ انصاف کے لئے اوپرجائیں ، ہم قانون کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں، دوبارہ گنتی ہوئی کہ نہیںہمارے سوال کاجواب نہیں دے رہے۔ اس پر وکیل نے کہا کہ دوبارہ گنتی 3مارچ 2024کو ہوئی،دوبارہ گنتی ریٹرننگ افسر کے سامنے ہوئی۔ وکیل کاکہنا تھا کہ دوبارہ گنتی میں میرے ووٹ وہی رہے اورمخالف جیتے تاہم ان کے ووٹ کچھ کم ہوگئے۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ کوئی ریٹرننگ افسر مخالف امیدوارکارشتہ دار تھا، کوئی قانونی دلائل دیں، الیکشن کمیشن اورالیکشن ٹربیونل سے ہارے ہیں آپ سے اُن کوکوئی دشمنی ہے۔ جسٹس نعیم اخترافغان کاکہنا تھا کہ محمد خان لہڑی (ن)لیگ کے امیدوار ہیں ان کے 20ہزارسے زائد ووٹ ہیں اور آپ کے 19ہزار سے زائد ووٹ ہیں اورآپ پی پی کے امیدوار ہیں۔ جسٹس نعیم اخترافغان کاکہنا تھا کہ جس پریذائیڈنگ افسر نے کاربن کاپی دی اُس کانام ہی غلط بتارہے ہیں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ ہم کیسے کہیں کہ 2فیصلے غلط ہیں کوئی وجہ توبتائیں۔ چیف جسٹس کاوکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ آپ نے دوبارہ گنتی کی درخواست دی، کیا ڈبے دوبارہ بھر دیئے، ٹیمپرنگ کی، آپ کی درخواست پر دوبارہ گنتی کی ، کیسے حقائق کے خلاف جائیں گے، یاکہیں ڈبے کھلے ہوئے تھے پرائمری شواہد ڈبہ ہے ، ووبارہ گنتی میں دونوں کے ووٹ کم ہوئے ۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ آپ اپنے اقدام کو کیسے مستردکریں گے، آپ کے کہنے پر دوبارہ گنتی کروائی۔ چیف جسٹس کاکہنا تھاکہ ڈبے میں جوووٹ پڑے ہیں وہ تودشمن نہیں یاتوکہتے کہ سیل ڈوٹی ہوئی تھی، ریٹرننگ افسر اپنی عقل استعمال نہیں کررہا بلکہ حقائق کی بنیاد پر دوبارہ گنتی کرکے فیصلہ کررہا ہے، ہرچیز کو بلاوجہ متنازعہ نہ بنائیں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ پراسیس ختم ہوگیا، فارم 45غلط تھا یہ ثابت ہو گیا کہ دونوں کے ووٹ کم ہو گئے، اصلی بات ڈبے والی بات ہے ، یاتوکہیں کہ رات کوڈبے بھردیئے، سیل ٹوٹی ہوئی تھی۔چیف جسٹس کاوکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ کوہمیں جواب دینے کی ضرورت نہیں، ہمیں قائل کریں کہ فیصلہ غلط ہے۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ کتنا وقت دیں ایک گھنٹہ ہو گیا ہے آپ کوسنتے ہوئے، آپ نے ہمیں فیصلہ کرنے کی اجازت دی شکریہ۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ آپ الزام لگارہے ہیں آپ اُس پولنگ ایجنٹ کو بلاتے، آپ نے نہیں بلایاتاہم ٹریبونل نے تسلی کے انہیں بلایا اورجرح بھی کی۔ وکیل کاکہنا تھا کہ ریٹرننگ افسر نے فراڈ کرنے کے لئے میرے سرکے اوپر سات پریذائیڈنگ افسران کو مسلط کردیا۔اس پر چیف جسٹس کاوکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ آپ وکیل بنیں گے گواہ نہ بنیں، کیاآپ کے مئوکل کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔اس پر وکیل کاکہنا تھاکہ موجود ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا وہ کدھر ہیں تووکیل نے اشارہ کیااور غلام رسول عمرانی کھڑے ہوئے۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ ہم آپ کے مئوکل کے سامنے کہہ دیتے ہیں وکیل نے بہت اچھے دلائل دیئے ہیں۔ چیف جسٹس کاحکم لکھواتے ہوئے کہنا تھا کہ درخواست گزارنے الیکشن ٹریبونل کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ حلقہ میں کل 26امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ کل 42132درست ووٹ ڈالے گئے، جن میں سے درخواست گزارنے 19039اورجیتنے والے امیدوار نے 21103ووٹ حاصل کئے۔ درخواست گزارنے الیکشن کمیشن کودوبارہ گنتی کی درخواست دی،دوبارہ گنتی کی درخواست منظورہوئی اور تمام فریقین کی موجودگی میں 3مارچ2024کو دوبارہ گنتی ہوئی۔ درخواست گزار نے 18787ووٹ حاصل کئے جبکہ جیتنے والے امیدوار نے20706ووٹ حاصل کیئے۔ دوبارہ گنتی میں دونوں امیدواروں کے ووٹ کم ہوگئے تاہم نتیجہ برقراررہا۔ الیکشن ٹریبونل نے جامع فیصلہ تحریرکیا۔ ٹریبونل نے شواہد کاآزادانہ طو ر پرجائزہ لیا اوراس نتیجہ پر پہنچے کہ درخواست گزار کے الزامات غلط ہیں اور صاف اورشفاف انتخابات ہوئے ہیں۔ عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کردی۔

منصور شاہ 25 اکتوبر کو چیف جسٹس ھونگے وزیر قانون۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں نکاح۔حکومت کے لئے مشکلات مے اضافہ۔وزیر قانون تارڈ نے ائینی ترمیم کو پاس کروانے میں بونگی ماری۔اھم ادارے کے 3 بڑے لوگ خطرے میں۔وزیر اعطم نے کچن کابینہ کا اجلاس طلب۔‼️ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر دیا۔عمران خان کو جیل میں فری ٹرائل نہیں مل رہا وہ سیاسی قیدی ہیں اُن کو قانونی ہتھیاروں کی مدد سے پابند سلاسل کیا ہوا ہے ایمنٹسی انٹرنیشنل کا دعویٰ۔ ھم اس حد تک گر چکے ہیں کہ ایک ملک کی سفیر وزیر اعظم سے ملاقات کر رھی اور اسکو پروٹوکول اس ملک کے وزیر اعظم کا دیا جارہا ہے۔ ۔دو ٹوک موقف کے بعد اب سپریم کورٹ کی پریس ریلیز کا انتظار ایکسٹینشن لینے سے پہلے ہی انکار کر دیا۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز پر کلک کریں

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اراکین پارلیمان کو پہلے کی طرح نہ صرف پارٹی پالیسی کے خلاف اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دینے کا حق ہونا چاہیے بلکہ ان قانون سازوں کا ووٹ شمار بھی ہونا چاہیے

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اراکین پارلیمان کو پہلے کی طرح نہ صرف پارٹی پالیسی کے خلاف اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دینے کا حق ہونا چاہیے بلکہ ان قانون سازوں کا ووٹ شمار بھی ہونا چاہیے۔بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پیپلزلائرز فورم کے صوبائی صدور کا اجلاس ہوا، پیپلز لائرز فورم کے مرکزی صدر نیر بخاری، رکن قومی اسمبلی نوید قمر اور سیاسی مشیر جمیل سومرو بھی اجلاس میں موجود تھے۔چیئرمین پیپلز پارٹ نے پیپلز لائرز فورم کے صوبائی صدور کو مجوزہ آئینی ترمیم پر اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا، بلاول بھٹو زرداری اور پیپلزلائرز فورم کے صوبائی صدور کے درمیان مجوزہ آئینی ترمیم سے متعلق تبادلہ خیال بھی ہوا۔بلاول بھٹو اور پیپلزلائرز فورم کے صوبائی صدور کے درمیان مجوزہ آئینی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی، اس موقع پر پی ایل ایف وسطی پنجاب کے صدر راحیل چیمہ، جنوبی پنجاب کے صدر شیخ غیاث، خیبرپختونخوا کے صدر گوہر رحمٰن ، بلوچستان کے بہرام خان اور سندھ کے صدر قاضی بشیر بھی موجود تھے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ آئینی ترامیم کا زیرگردش مبینہ مسودہ اصل نہیں ہے، حکومت ججوں کی عمر سے متعلق تبدیلیاں چاہتی تھی، حکومت نے چیف جسٹس کی زیادہ سے زیادہ عمر 3 سال کے ساتھ 67 سال کرنے کی تجویز دی تھی۔انہوں نے کہا کہ حکومت واقعی فوجی عدالتوں کے حوالے سے قانون سازی ضروری سمجھتی ہے تو ہمارا مطالبہ ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ قومی سلامتی اجلاس بلایا جائے، آئینی ترامیم کا زیرگردش مبینہ مسودہ اصل نہیں ہے، پاکستان پیپلزپارٹی میثاق جمہوریت اور اپنے منشور کے تحت مجوزہ ترمیم میں آئینی عدالتوں کے قیام کے حق میں ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پی پی پی نے مجوزہ آئینی ترمیم میں ججوں کی عمر کے معاملے پر کوئی بات نہیں کی جب کہ حکومت ججوں کی عمر سے متعلق تبدیلیاں چاہتی تھی، پاکستان پیپلز پارٹی نے ججوں کی ملازمت کی ابتدا کی عمر کی حد کم کرنے کی حمایت کی جس پر حکومت نے اتفاق کیا اور اسے مسودے میں شامل کیا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے چیف جسٹس کی زیادہ سے زیادہ عمر 3 سال کے ساتھ 67 سال کرنے کی تجویز دی تھی، جمعیت علمائے اسلام (ف) نے ججوں کی موجودہ عمر کی حد 65 سال برقرار رکھنے کی تجویز دی، ججوں کی عمر کے معاملے سے آئینی ترمیم میں چھیڑچھاڑ سے لگے گا کہ ہم کسی خاص فرد کو عہدے سے باہر یا اندر رکھنا چاہتے ہیں جو نامناسب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ جسٹس منصور علی شاہ اگلے چیف جسٹس ہوں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس منصور علی شاہ اس بینچ کا حصہ تھے جس نے شہید ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس کا تاریخی فیصلہ سنایا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس منصور علی شاہ کے لئے میرے دل میں بہت عزت ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کے حوالے سے اصولی موقف رکھتی ہے اور ان کی حمایت نہیں کرتی، اگر حکومت واقعی فوجی عدالتوں کے حوالے سے قانون سازی ضروری سمجھتی ہے تو ہمارا مطالبہ ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ قومی سلامتی اجلاس بلایا جائے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آرٹیکل 63اے کے فیصلے نے ارکان پارلیمنٹ کو اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا ہے، اراکین پارلیمان اگر پارٹی پالیسی کے خلاف اپنا ووٹ دیں گے تو وہ نہ صرف اپنی رکنیت کھو دیں گے بلکہ ان کا ووٹ بھی نہیں گنا جائے گا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ اراکین پارلیمان کو پہلے کی طرح نہ صرف مرضی کے مطابق ووٹ دینے کا حق ہونا چاہئیے بلکہ ان کا ووٹ شمار بھی ہونا چاہئیے، آئینی ترامیم کا زیرگردش مبینہ مسودہ اصل نہیں ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ برس سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں کہا تھا کہ منحرف رکن اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا جبکہ تاحیات نااہلی یا نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمان کرے۔