وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا – اجلاس میں صوبائی وزرا ، کورکمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کے علاوہ اعلیٰ سول، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے حکام نے شرکت کی۔

*دفتر پریس سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا – صوبائی ایپکس کمیٹی 1- ⁠وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا – اجلاس میں صوبائی وزرا ، کورکمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کے علاوہ اعلیٰ سول، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے حکام نے شرکت کی۔ 2.⁠ ⁠اجلاس کے آغاز میں مختلف واقعات میں شہادت پانے والے عام شہریوں ، سکیورٹی فورسز،اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی اور شہداءکو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ 3.⁠ ⁠اجلاس میں بالعموم صوبہ خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات اور فتنہ الخوارج کے ناسور کے خاتمے اور مکمل امن واستحکام کے لئے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ 4.⁠ ⁠اجلاس نے فیصلہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جامع پالیسی کی کامیابی کے لئے تمام سیاسی جماعتوں ، عوامی نمائندوں ، معززین اور وفاقی حکومت کی مشترکہ مشاورت، باہمی تعاون اور عملی ہم آہنگی ضروری ہے ۔ 5.⁠ ⁠⁠اس ضمن میں آج کی نشست میں مصمم ارادہ کیا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت اپنے تمام تر وسائل بشمول فوج ، پولیس ، سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کو استعمال کرتے ہوئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی ۔  6.⁠ ⁠یہ طویل میعادی حکمت عملی دہشت گردی کے تمام محرکات کی نشاندہی ، اِن کا خاتمہ اور اِس کے نتیجے میں عوامی اعتماد کی بحالی کو یقینی بنائے گی تاکہ حکومت اور عوام یکجا ہوکر ملکی سلامتی اور ترقی کو یقینی بنائیں۔  7.⁠ ⁠حکومت خیبر پختونخوا کا ایجنڈا یہ ہے کہ بہتر طرز حکمرانی اور عوامی مفاد ہی دہشت گردی کے خلاف قوم کو یکجا کرسکتا ہے۔ اِس سلسلے میں پہلے مرحلے میں دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کو ماڈل گڈ گورننس اضلا ع میں تبدیل کیا جائیگا۔ اور تمام حکومتی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ترقیاتی اور سماجی حدمات اور اقتصادی ترقی کی فراہمی کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائیگا۔ 8.⁠ ⁠اِس سلسلے میں ایک منظم پروگرام کے تحت اِن علاقوں میں سیکیورٹی، مواصلات ، صحت ، تعلیم ، روزگار، بنیادی سہولیات اور دیگر خدمات کے لئے خصوصی پیکج دیا جائیگا۔  9.⁠ ⁠فورم نے فیصلہ کیا کہ پائیدار استحکام کے لیے جن علاقوں سے عارضی نقل مکانی کی گئی ، حکومت اس عمل کے دوران متاثرہ افراد کی مکمل دیکھ بھال، بحالی اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی، تاکہ یہ عارضی مشکل مستقبل میں امن، ترقی اور خوشحالی کی بنیاد بن سکے۔10.⁠ ⁠اِن کی باعزت واپسی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ 11.⁠ ⁠امن ہماری اولین ترجیح ہے، اس پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، وزیراعلیٰ۔12.⁠ ⁠امن و امان کیلئے سول حکومت، انتظامیہ ، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارےایک پیج پر ہیں اور مل کر کوششیں جاری رکھیں گے، وزیراعلیٰ۔13.⁠ ⁠‏یہ ہم سب کی مشترکہ جنگ ہے ، اس کو مشترکہ کوششوں سے ہی جیتا جا سکتا ہے، وزیراعلیٰ۔

کراچی کنگز نے پی ایس ایل 2026 کے لیے چار کھلاڑیوں کو برقرار رکھا ڈیوڈ وارنر کو ڈراپ کر دیا۔۔کوئٹہ شہر کی فضاؤں میں ایک مرتبہ پھر گولیوں کی تڑتڑاہٹ،۔اسرائیل نے بورڈ اف پیس کی دھجیاں اڑا دی۔۔لیبیا کا پاک فضائیہ کے آپریشنل تجربے سے استفادہ کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار۔۔روسی تیل نہیں خرید یں گے۔ امریکہ کے ذریعے وینزویلا تیل کی خریداری کریں گےبھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین دہانی کروا دی۔۔روسی تیل نھی خریدے گئے مودی نے ٹرمپ سے معافی مانگ لی۔۔بریسٹر گوھر اڈیالہ جیل کے باھر سے رفو چکر۔۔قازقستان کے صدر کی پاکستان آمد اسلام آباد روالپندی 3 گھنٹے کے لئے سیل۔۔70 لاکھ عوام مکمل طور پر یرغمال پولیس حسب معمول غالب ٹریفک جام۔۔وزیر اعلی کے پی ان ایکشن۔۔اڈیالہ جیل کے باہر سے کارکنان و عہداداران کی گرفتاریاں شروع مہر عبدالستار سمیت دیگر افراد گرفتار۔۔روزانہ 400ارب روپے کی تیل کی اسمگلنگ ھوتی ھے کوئٹہ میں خواجہ اصف دم پر پاوں رکھا تو دھشت گردی ھوی۔۔35 کلومیٹر پر ایک شخص رھتا ھے بلوچستان میں۔سب سے زیادہ فنڈ بلوچستان کو دئیے گئے ہیں گزشتہ 50 سال۔مریم نواز نے 5فروری سے 8فروری تک چھٹیوں کا اعلان کر دیا۔۔۔۔۔! باقی شہروں میں۔۔لیبیا کے فیلڈ مارشل کی وزیر اعظم سے ملاقات۔۔ ۔شب برات پر اسلام آباد روالپندی مے بجلی کی لوڈشیڈنگ عروج پر۔۔لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو قتل کر دیا گیا۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

افغانستان میں امریکی و نیٹو انخلاء کے بعد پاکستان کو امید تھی کہ مغربی بارڈر محفوظ ہو جائے گا کیونکہ امریکی انخلاء کے دوران انڈیا بھی یہاں سے نکل گیا تھا چائنہ یہاں اپنے پاؤں جمانے کیلئے آیا یہ جنوبی ایشیاء میں ایک بڑی جیو پولیٹکس شفٹنگ تھی،افغانستان کے بلوچستان میں جیو اکنامک انٹرسٹ بھی نہیں تھے، افغان طالبان کو ہمیشہ پاکستان کی سپورٹ رہی تھی چاہے وہ سویت یونین وار ہو یا امریکی و نیٹو آپریشن ہوں۔امریکی موجودگی میں افغان حکومت نے انڈیا کو فری ہینڈ دیا ہوا تھا انڈیا کے مشن اور سفارت خانے پاکستانی بارڈر پر تھے جو بلوچستان اور نادرن ایریا میں کھل کر کام کر رہے تھے،اس انخلاء سے ایک نئی امید بن گئی کہ اب سی پیک منصوبہ مکمل کیا جائے گا،لیکن افغان طالبان کی عبوری حکومت پاکستان کیلئے ایک سیکیورٹی تھریٹ کے طور پر سامنے آگئی،جس کی توقع نہیں کی جا رہی تھی اور پاکستان کے سیاسی و معاشی مسائل کیلئے سر درد بن گئی۔ امریکی انخلاء سے جو خلاء پیدا ہوا اس کو چائنہ اور روس پُر کرنے لگے تھے امریکہ و انڈیا اس خلاء کو چائنہ اور روس کو پُر نہیں کرنے دے سکتے تھے، انڈیا کیونکہ یہاں اپنا اثرورسوخ قائم کرچکا تھا بلوچستان میں دو دہائیوں تک انویسٹمنٹ لگا چکا تھا وہ ایک دم یہاں سے نہیں نکلنا چاہتا تھا انڈیا عمان کی دقم اور ایران کی چاہ بہار پورٹ حاصل کر کے اس خطے میں خود کو سیکیورٹی پرووائیڈر کے طور پیش کر رہا تھا۔امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی یہاں کام کر رہی تھی امریکہ کا بلوچستان میں جیو اکنامک انٹرسٹ نہیں ہے مگر اس کا یہاں رہنا اور چائنہ کو کاؤنٹر کرنا ضروری ہے اور اگر یہ محفوظ راستہ چائنہ کو ملتا ہے تو امریکہ کیلئے مسائل پیدا ہوتے ہیں،

امریکہ چاہتا ہے کہ بلوچستان چائنہ کیلئے سی پیک کی شہ رگ ہے تو اس کو کاٹا جائے چائنہ کو مالاکا ڈائلما میں ہی رکھا جائے اور اپنا کھیلا جاری رکھا جائے چائنہ نے سی پیک اسی وجہ سے بنایا تھا کہ وہ مالاکا ڈائلما سے بچ سکے آسان اور محفوظ راستے طے کر کے بحیرہ عرب پہنچ جائے۔اس تمام صورتحال کے بعد انڈیا اور امریکہ کو شفٹ ہونا پڑا۔ افغان طالبان کی حکومت آئی تو انڈیا نے تعلقات قائم نہیں کئے بلکہ دوری اختیار کی کیونکہ انڈیا سمجھ رہا تھا کہ اب اس کو افغانستان کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ دقم اور چاہ بہار پورٹ پر پہنچ چُکا تھا تو وہ محسوس کرنے لگا کہ اس خطے کا سیکیورٹی پرووائیڈر وہی ہے۔مگر مئی 2025 کی کشیدگی نے انڈیا کی اس خوش فہمی کی تمام سٹریٹجی کو خاک میں ملا دیا اور امریکہ کو احساس ہوا کہ ہم نے جس انڈیا کو خطے کا سیکیورٹی پروائیڈور کے طور پر پیش کیا یہ تو پاکستان کے سامنے نہیں ٹک سکا تو چائنہ کے مقابل کیسے جائے گا۔انڈیا کو بھی محسوس ہوگیا کہ پاکستان کیلئے مغربی بارڈر چھوڑنا انڈیا کیلئے خطرہ ہے یہ خلاء پاکستان کی معیشت کو بہتر بنا دے گا

اور اس کی توجہ صرف مشرقی بارڈر پر رہے گی،اس پالیسی کو انڈیا فیس نہیں کر سکے گا۔انڈیا اور امریکہ نے دوبارہ اس خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا شروع کر دیا۔جو امریکن و انڈین کی انویسٹمنٹ یہاں کی گئی تھی اس کو بڑھا دیا گیا۔انڈیا نے افغان طالبان کیساتھ تعلقات بڑھانے کیساتھ فنڈ کرنا شروع کر دیئے امریکہ بھی ہر ماہ کئی ملین ڈالر افغان طالبان کو فراہم کر رہا تھا اور ابھی بھی کر رہا ہے امریکہ چاہتا ہے کہ یہ خطہ غیر مستحکم رہے اور چائنہ جیو پولیٹکس کی شفٹنگ سے فائدہ نہ اٹھائے اور ایران بھی اسی شفٹنگ سے مستفید ہو رہا تھا جو امریکہ کو بعد میں محسوس ہوا کہ انخلاء کرنا ضروری نہیں تھا،انڈیا چاہتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی عروج پر رہے۔امریکہ کو پاکستان نے اعتماد میں لیا اور پسنی پورٹ کی آفر کروا دی تاکہ بلوچستان میں جو انڈیا، متحدہ عرب امارات اور افغانستان طالبان کے ذریعے سے کام کر رہے ہیں ان کو روکا جائے امریکہ کو یہ آفر پسند آئی امریکہ نے اپنا رخ تبدیل کر دیا بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کا ذیلی گروپ مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا۔یہ پاکستان کا ایک ماسٹر اسٹروک تھا جس سے انڈیا،متحدہ عرب امارات اور افغانستان کو جھٹکا لگا۔کہ اب اگر فنڈنگ اور تعلقات سامنے آگئے تو عالمی سطح پر معاملات خراب ہو جائیں گے۔اس پر تحریک طالبان و اتحادی گروپ کو ایکٹیو کیا گیا اور اس کے جنگجووں کو القاعدہ کے اہم ترین کمانڈروں کی نگرانی میں ٹریننگ دی گئیں۔

اسلحہ سمیت پاکستانی بارڈر کراس کروایا گیا۔چائنہ کیونکہ اس شفٹنگ سے فائدہ حاصل کر رہا تھا اس نے کوشش کی کہ پاکستان اور افغانستان کو ایک ساتھ بیٹھایا جائے آخر کار چائنہ خاموش ہوگیا پاکستان نے افغانستان میں کارروائی کا فیصلہ کیا امریکہ کو اعتماد میں لے چکے تھے اور اس کو باور کروایا جاچکا تھا کہ یہاں آپ کا جیو اکنامک انٹرسٹ ہے تو اس نے مداخلت نہیں کی پاکستان نے ان ٹھکانوں کو آزادی کیساتھ نشانہ بنایا جہاں انڈین فنڈنگ والے ٹریننگ سینٹر تھے،جہاں سے کمانڈر ٹرین کر کے بلوچستان،وزیرستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کرنے کیلئے بھیجے جاتے تھے انڈیا کیلئے پاکستان کی افغانستان کے اندر کارروائی حیران کن تھی کیونکہ انکو لگتا تھا کہ امریکہ مداخلت کرے گا روس نے مداخلت کرنے کی کوشش کی اور انڈیا میں بیٹھ کر روسی صدر نے افغان طالبان کے حق میں بیان داغ دیا تو چائنہ سامنے آگیا۔پاکستان نے ایران و امریکہ کو اعتماد میں لیا اور انڈیا کو ایران کی چاہ بہار پورٹ سے کٹ کروا دیا۔ انڈیا کو ایک دم جھٹکا لگا دقم پورٹ کا معاہدہ مختلف نوعیت کا ہے انڈیا اب افغان طالبان کو پیسہ دیکر یہاں دہشت گردی کروا رہا ہے۔ جو بلوچستان میں ایک ایڈونچر ہوا ہے یہ کروانے میں چار ممالک براہ راست ملوث تھے، سعودی عرب چائنہ کے کئی پروجیکٹس میں پارٹنر ہے سعودی عرب نے چائنہ کو کہا تھا کہ وہ سی پیک اور گوادر پورٹ مین دلچسپی رکھتا ہے اور 25 ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ کیلئے تیار ہے،سعودی عرب کو سیکیورٹی کے مسائل تھے پاکستان کیساتھ دفاعی معاہدہ کیا گیا۔ان دونوں کا ایک مسئلہ تھا کہ پاکستان کی معیشت کو بہتر کروایا جائے

اس میں سوڈان کو اسلحہ دینے کی ڈیل کی گئی،سعودی عرب گوادر پورٹ پر آتا ہے تو متحدہ عرب امارات، ایران اور عمان کی پورٹس کو براہ راست نقصان پہنچے گا اور اس نقصان کو بچانے کیلئے بلوچستان میں سیکیورٹی تھریٹ رکھنا ضروری ہے، اور یہ کام بلوچ علیحدگی پسند تحریک و افغان طالبان سر انجام دے رہے ہیں،اس ایڈوانچر سے ایک دن پہلے پنجگور اور شعبان میں 40 لوگوں کو سیکیورٹی فورسز نے مارا۔یعنی انٹیلی جنس تھیں کہ ایسا ایڈوانچر ہونا ہے صفدر حسین بھٹیکوآرڈینیٹر سوشل میڈیا ٹیم پاکستان مسلم لیگ ن چنیوٹ

اسرائیل نے بورڈ آف پیس کی دھجیاں اڑا دیں۔عرب میڈیا کے مطابق غزہ سٹی اور خان یونس پر اسرائیلی بمباری اور گولہ باری کے نتیجے میں چھ بچوں سمیت اکتیس فلسطینی شہید ہوگئے۔جنگ بندی معاہدے کے بعد آج سب سے زیادہ شہادتیں ہوئیں جبکہ سیز فائر کے دوران پانچ سو سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ح ماس نے غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور ثالثوں سے صیہونی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب اسرائیل نے جنوبی لبنان پر بھی حملہ کیا جس میں ایک شہری شہید اور دوسرا زخمی ہوگیا۔

ایپسٹین اسکینڈل کیا ہے؟کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے امیر ترین اور طاقتور ترین لوگ ایک ایسے جزیرے پر جاتے تھے جسے “پیڈوفائل آئی لینڈ” کہا جاتا تھا؟ یہ جزیرہ جیفری ایپسٹین کا تھا۔جیفری ایپسٹین امریکہ میں بروکیلن میں ایک ریاضی کا استاد تھا۔ عقیدے کے لحاظ سے یہو-دی اور نظریات کے لحاظ سے صیہو نی تھا۔ ایک دم سے کیسے اس کے پاس بے پناہ دولت آئی یہ کوئی نہیں جانتا۔ وہ دنیا کے طاقتور ترین لوگوں کا دوست تھا۔

امریکی صدور، دنیا کے نامور سربراہان مملک اور وزرائے اعظم، برطانوی شاہی خاندان کے ارکان، ارب پتی کاروباری افراد اور دیگر بااثر شخصیات اس کے حلقہ احباب میں شامل تھے۔اسے پہلی بار 2008 میں نابالغ لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے جرم میں سزا ہوئی، لیکن وہ ایک ڈیل کے ذریعے جلد باہر آگیا۔ 2019 میں اسے دوبارہ گرفتار کیا گیا، اور مقدمہ چلنے سے پہلے ہی وہ جیل میں مردہ پایا گیا جسے سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا۔ ہر دفعہ اس کے خاص سہولتکاروں نے اس کو چھڑوانے کی تدبیر کی اور جب بچاؤ ممکن نہ رہا تو اس کو جیل میں ہی مروا دیا گيا۔اس پر الزام تھا کہ وہ ویسٹ انڈیز میں واقع اپنے جزیرے ‘لٹل سینٹ جیمز’ میں ایک عشرت کدہ چلاتا تھا جہاں دنیا کے بااثر اور امیر لوگوں کو بارہ سے اٹھارہ سال کے درمیان چھوٹی بچیاں عیّاشی کے لئے مہیّا کی جاتی تھیں۔ وہ ان بااثر افراد کی ویڈیو بناتا اور بعد میں انہیں بلیک میل کرتا تھا۔برسوں کے دباؤ کے بعد سن 2024 میں عدالتی حکم کی بنیاد پر ان دستاویزات کے ایک حصّے کو لیک کر دیا گيا، اس کا دوسرا حصّہ حالیہ دنوں میں لیک کیا گیا ہے۔ لیکن یہ ان فائلز کا محض کچھ حصّہ ہے جس نے تہلکہ مچا دیا ہے۔ ایپسٹین کے ساتھ روابط میں کئی اہم شخصیات کے نام آ رہے ہیں جن میں سرفہرست ڈونلڈ ٹرمپ، بل کلنٹن، برطانوی شہزادہ اینڈریو، اور اسٹیفن ہاکنگ شامل ہیں۔ حالیہ دستاویزات میں عرب ریاستوں کے شاہی خاندان کے افراد، نریندر مودی اور شاہ محمود قریشی کے نام سامنے آئے ہیں۔ نریندر مودی کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس نے جیفری ایپسٹین کے کہنے پر اسرائیل کے ایک دورے میں گانا گا کر اور رقص کر کے ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کیا۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں مودی سے اس ملاقات کی تفصیلات پوچھ رہی ہیں کہ کیوں ٹرمپ کو خوش کرنے کی ضرورت پیش آئی۔البتہ اس کی فائلوں میں ہر کردار کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ لازمی طور پر اس کے جزیرے میں واقع عشرت کدے پر جاتا رہا۔ چونکہ جیفری ایپسٹین ایک با اثر شخص تھا جس کے امریکی صدور سے اچھے تعلّقات تھے، اس لئے ہر شخص اس کے توسّط سے بااثر شخصیات کا قرب چاہتا تھا۔ لیکن یہ اتنا بدنام تھا کہ اس سے رابطہ بھی اسکینڈل بننے کا سبب بن رہا ہے۔یہ فائلیں ابھی صرف ایک شروعات ہیں، اور بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ ابھی کئی “بڑے چہرے” بے نقاب ہونا باقی ہیں۔ اس میں سب سے بڑا نام ڈونلڈ ٹرمپ کا ہے جس کی جیفری ایپسٹین کے ساتھ بیس سالہ دوستی ہے۔ گو کہ ٹرمپ ان فائلز کو لیک کرنے کا الزام باراک اوباما پر لگاتا ہے حالانکہ اوباما کے دور میں ایپسٹین کی جرات نہیں ہوئی کہ وائٹ ہاؤس کا چکر لگائے۔ہمیں ایپسٹین کا کردار ایک ‘ہینڈلر’ کے طور پر دکھائی دیتا ہے جو صیہونی مفادات کے لئے عالمی اسٹیبلشمنٹ کو کنٹرول کرتا تھا۔ جن افراد کی نازیبا تصاویر اور ویڈیو ایپسٹین کے ہاتھوں لگی تھیں وہ کبھی اسر ا ئیل کے خلاف سخت اور اصولی موقف نہیں اپنا سکتے۔ ایپسٹین کے موساد اور اسر ا ئیلی شخصیات جیسے ایہود باراک وغیرہ کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات تھے۔اس وقت دیوانہ ٹرمپ جو کچھ بھی مشرق وسطی میں کر رہا ہے وہ کسی نارمل شخص کا عمل نہیں ہے۔ بہت واضح ہے کہ اس کی ڈوریاں ہلائی جا رہی ہیں، جو کام دوسرے نہ کر سکے وہ اس کے توسّط سے کروایا جا رہا ہے۔دنیا کی اکثر نامور شخصیات کے نام ایپسٹین فائلز میں ملتے ہیں سوائے آیت اللہ خامنہ ای، شی جن پنگ، کم جونگ ان اور پیوٹن۔ بالفاظ دیگر عالمی سیاست کے اپوزیشن رہنما اس اسکینڈل سے بچے ہوئے ہیں۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے زیر اہتمام ینگ لیڈرز کنونشن میں شرکت اور خطاب! 🔹وزیراعلیٰ نے نوجوانوں کو بلا سود قرضہ اسکیم کی رقم 3 ارب سے بڑھا کر 5 ارب روپے کرنے کا اعلان کر دیا، وزیر اعلی کا ینگ پارلیمنٹ کے لیے 2 ملین روپے گرانٹ کا اعلان🔹جو قوم خوددار نہ ہو وہ ترقی نہیں کر سکتی، جعلی وزیر اعظم ایک خوددار قوم کی نمائندگی نہیں کر سکتا, ہمارے وزیر اعظم بیرون ملک جا کر پرائے ملک کےصدر کو سلوٹ مارتے ہیں، 🔹بڑا انسان وہ نہیں جس کے پاس ڈگریاں اور دولت ہو بلکہ وہ ہے جس کی سوچ بڑی ہو, قومیں اسی وقت آگے بڑھتی ہیں جب ملک کا درد سینے میں ہو, 🔹2018 میں قبائلی اضلاع کا انتظامی انضمام ہوا مگر مالی انضمام تاحال نہیں کیا گیا، یہ آئین کی خلاف ورزی ہے، ایک طرف ہمیں ہمارا حق نہیں دیا جا رہا اور دوسری طرف وفاق میں 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی، لوٹے گئے پیسوں سے کرپٹ حکمران بیرون ملک جزیرے اور فلیٹس خرید رہے ہیں، 🔹تیراہ متاثرین کے لیے مختص 4 ارب روپے پر شور مچایا جاتا ہے مگر اربوں کی کرپشن پر خاموشی ہے،🔹ہم نے سب کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے، کوئی مقدس گائے نہیں ہوگی، پنجاب میں عملی طور پر سول مارشل لا نافذ ہے، سیاسی آزادی سلب کی جا چکی ہے, پنجاب کے حکمران آمریت کی کوکھ سے جنم لینے والی سوچ کے نمائندہ ہیں، 🔹پنجاب میں ہمارے لیڈرشپ کے سیکیورٹی گارڈز سے اسلحہ لے کر اس کی رجسٹریشن اور گاڑیوں کے چیسس نمبرز ٹیمپر کیے جا رہے ہیں، بزرگ سیاستدانوں کو ناحق قید کیا گیا، یہ انتقامی سیاست کی بدترین مثال ہے، 🔹عمران خان کی اہلیہ جو غیر سیاسی خاتون ہیں انہیں بھی ناحق قید کیا گیا، عمران خان کی بہنوں پر رات کے اندھیرے میں اڈیالہ کے سامنے زہریلا پانی چھوڑا گیا، 🔹عزت و ذلت اور زندگی و موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، مضبوط ایمان ہو تو کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی، 🔹وفاق اس وقت خیبر پختونخوا کا 4758 ارب روپے کا مقروض ہے، دہشتگردی کے مستقل خاتمے کے لیے جامع پالیسی ناگزیر ہے، بغیر پالیسی دہشتگردی ختم نہیں ہو سکتی، 🔹نوجوانوں نے ان مسائل پر ہر فورم پر آواز اٹھانی ہے، ہم محدود وسائل کے باوجود کارکردگی کی بنیاد پر تیسری بار حکومت کر رہے ہیں, اگر بقایاجات مل جائیں تو صوبے میں عوامی خدمت اور کارکردگی مزید بہتر ہوگی، آپ سب نے ہمارا ساتھ دینا ہے اور صوبے کے مفاد کے خلاف ہر فیصلے کی مزاحمت کرنی ہے،🔹جنازے اٹھانے سے بہتر ہے کہ زندہ قوم بن کر آواز اٹھائیں, ہم ایسی پالیسیاں لائیں گے جن سے صوبے کے ہر طبقے کو فائدہ پہنچے,#CMKP #SohailAfridi #KPYoungLeaders

تھانہ انڈسٹریل ایریا کے مختلف علاقوں میں ایس پی انڈسٹریل ایریا زون حسنین وارث کی زیر نگرانی سرچ آپریشن کیا گیا۔سرچ آپریشن کے دوران 110 افراد، 18 گھروں، 25 موٹرسائیکلوں، 15 گاڑیوں، 34 ہوٹلز اور متعدد دکانوں کو چیک کیا گیا، جبکہ 01 مشکوک شخص اور 01 موٹرسائیکل کو مزید تفتیش کے لیے تھانے منتقل کیا گیا۔آپریشن کا مقصد علاقے میں جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

سرفراز بگٹی خواتین کی طرح آنسو بہانے لگے..عمران کے بیٹوں کی پاکستان آمد کھٹائی میں.ملالہ یوسفزئی اسرائیل کے خلاف کیوں نہیں بولتی ؟ ایپسٹائن فائلز میں ملالہ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اس پیڈو فائلز کے رنگ کی ماشاکوڈوا سے فنڈنگ لیا کرتی تھی۔۔ ۔ملالہ یوسفزئی اسرائیل کے خلاف کیوں نہیں بولتی ؟وزیر اعطم اور سھیل آفریدی ملاقات رزلٹ صفر۔۔۔علیمہ کو گرفتار کر کے پیش کیا جائے عدالت۔۔علیمہ کو گرفتار کر کے پیش کیا جائے عدالت۔ملک اقتصادی دلدل میں حکمت عملی کا فقدان۔عوام خودکشیوں پر مجبور حکمرانوں کی عیاشیاں جاری۔۔زندگی سسکیاں لینے لگی اٹا مھنگا خون سستا۔۔4 سال میں مھنگای کا طوفان عوام کو زندہ دفن کر دیا گیا ادارہ کب یہ گند اٹھا کر رکھے گا۔علیم خان نے سئینر پلواشہ سے معافی مانگ لی۔۔بلوچستان جتنے ائیرپورٹ کسی صوبے میں نہیں ہیں، آزادی کے وقت وہاں صرف چند سو کلومیٹر سڑکیں تھیں، اب 26 ہزار کلومیٹر سڑکیں ہیں، 15 ہزار 96 اسکول اور 13 کیڈٹ کالجز ہیں، 13 بڑے اسپتال ہیں، بلوچستان کا این ایف سی شیئر 933 ارب روپے ہے۔ سرداری نظام نے تمام وسائل لوٹے۔ خواجہ آصف

‏کل ٹی وی پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی آنسو بہانے لگے۔ یہ دیکھ کر مجھے اسلامی تاریخ کا ایک مشہور واقعہ یاد آ گیا۔ اندلس یعنی موجودہ سپین میں آخری مسلمان حکمران ابو عبداللہ تھا۔ نا اہل اور بزدل ابو عبداللہ نے اپنی جان بخشی کی رعایت کے عوض اپنی ریاست غرناطہ ایک معاہدے کے تحت فرڈینینڈ اور اسرائیل کے حوالے کر دی اور خود اپنے خاندان سمیت افریقہ روانہ ہو گیا۔ جب وہ افریقہ جا رہا تھا تو ایک پہاڑی پر کھڑے ہو کر اس نے غرناطہ پر آخری نظر ڈالی اور آنسو بہانے لگا۔ اس پر اس کی ماں عائشہ الحرا نے ایک تاریخی جملہ کہا۔ تم جس ریاست کی مردوں کی طرح حفاظت نہیں کر سکے ۔ اب اسے دیکھ کر عورتوں کی طرح رونے کا تمھیں کوئی حق نہیں۔ جلدی چلو سفر بہت لمبا ہے۔ سرفراز بگٹی صاحب سے بھی یہی گزارش ہے کہ تم جس صوبے اور جن عوام کی حقوق کی مردوں کی طرح حفاظت نہیں کر سکتے، اب ان کے نقصان پر سامنے آ کر عورتوں کی طرح ٹسوے بہانے کا کوئی تمھیں کوئی حق نہیں۔

امریکی بظاہر ایران پر حملہ کیلئے خلیج میں موجود ہیں لیکن ہدف پاکستان ہے ۔پاکستان کو نشانہ بنانے میں بھارتی معاونت کیلئے امریکہ نے بھارتی درآمدات پر ٹیرف پچاس فیصد سے کم کر کے اٹھارہ فیصد کر دیا ہے ۔افغان حکومت کے زریعے بلوچ عسکریت پسندوں کو بگرام ایئر بیس پر چھوڑا جدید ترین اسلحہ دیا جا رہا ہے ۔

بساط ۔اظہر سیدامریکی ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس کا ایپسٹن فائل ریلیز کرنا جب امریکہ کا طاقتور بحری بیڑا ایران پر حملہ کیلئے خلیج میں موجود ہے دلیل ہے معاملات امریکی صدر ٹرمپ کے ہاتھوں میں نہیں ریاست کے اندر ریاست والوں کے پاس ہیں ۔امریکی صدر وہی فیصلہ کرے گا جو ایپسٹن فائل ریلیز کرنے والے چاہیں گے ۔سابق صدر کلنٹن نے فائل میں اپنا نام ظاہر ہونے پر پریس ریلیز جاری کی ہے کچھ نام چھپا لئے گئے ہیں یعنی صدر ٹرمپ ۔موجودہ امریکی صدر اپنی مرضی کرے گا تو ایک تلوار لٹکا دی گئی ہے تیرہ سالہ لڑکی کے ریپ اور قتل کا معاملہ کھول دیا جائے گا ۔چینی آرمی چیف کی برطرفی ،وینویلا کے صدر کا اغوا ،ایران کا گھیراؤ اور اچانک بلوچ عسکریت پسندوں کا متحرک ہونا اور آٹھ شہروں پر حملہ کرنا سارے معاملات چین امریکہ کشمکش سے منسلک ہیں۔وینویلا اور ایران چین کو اسکی صنعتی ایمپائر چلانے کیلئے تیل فراہم کرتے ہیں ۔بلوچستان ون بیلٹ ون روڈ کا مرکزی نکتہ ہے ۔مزید آگے بڑھیں تو کہا جا سکتا ہے تحریک انصاف کے احتجاج کا اعلان اور افغانستان کو ہر ہفتے ملنے والے چالیس ملین ڈالر امریکی امداد کی بندش ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں ۔ایک ہفتے پہلے امریکہ امداد بڑھا کر نوئے ملین ڈالر کی گئی تھی اور چھ روز بعد امداد بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ،یعنی افغانستان سے کچھ مانگا جا رہا ہے ۔ریڈ آرمی کے سربراہ کی برطرفی معاملہ کی گھمبرتا کی دلیل ہے کہ دنیا کی دونوں سپر پاور ایک ختم ہوتی ہوئی اور دوسری ابھرتی ہوئی ایک معرکہ لڑنے کی تیاریاں کر رہی ہیں ۔ریڈ آرمی کے سربراہ کو شائد کسی فیصلہ میں اختلاف رائے پر برطرف کیا گیا ہے

۔پاکستان چین کا فطری حلیف ہے اس لئے سمجھا جائے خلیجی میں طاقتور امریکی بیڑا کا اصل ہدف ایران نہیں بلکہ پاکستان ہے ۔افغانستان کو بھی استعمال کیا جائے گا اور اگر ایران میں حکومت تبدیل کر دی گئی تو ایرانی سرزمین سے بھی پاکستان کو انگیج کیا جائے گا ۔معاملات کی رفتار تیز ہوئی تو بھارت بھی متحرک ہو جائے گا ۔مہرے رکھے جا رہے ہیں ۔چینی بھی یقینی طور پر ہر معاملہ پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔پاکستان پر بھی ایران پر بھی اور افغانستان پر بھی ۔کھیل میں سب سے اہم عنصر امریکی معیشت کا دیوالیہ پن ہے ۔37کھرب ڈالر کی مقروض سپر پاور اس سپر پاور کے ساتھ سینگ لڑانے جا رہی ہے جس کے محفوظ زخائر دنیا کے ہر ملک سے زیادہ ہیں ۔سائنس ٹیکنالوجی میں بھی امریکہ کو برابر کی ٹکر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اسٹیج تیزی سے تیار ہو رہی ہے ۔ڈرامہ کے مختلف کردار سکرپٹ یاد کر رہے ہیں۔بہت کچھ ہونے جا رہا ہے ۔ ابتدا ہو گئی تو وہ انتہا ہونے تک جاری رہے گی ۔

پنجاب پولیس میں بڑی تبدیلی متوقع، جعلی مقدمات اور ماورائے عدالت کارروائیوں پر حکومت کا فیصلہ کن قدم رانا تصدق حسینلاہور: صوبائی حکومت کے اعلیٰ ذرائع کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو عہدے سے ہٹائے جانے کا قوی امکان ہے، جبکہ پنجاب پولیس کی اعلیٰ قیادت میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صوبے بھر میں بے گناہ اور قانون پسند شہریوں کے خلاف جعلی مقدمات، بالخصوص من گھڑت منشیات کیسز، مبینہ پولیس مقابلوں اور حراست میں ہلاکتوں میں تشویشناک اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اندرونی رپورٹس اور مشاورت کی روشنی میں حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ پنجاب میں جرائم پر قابو پانے اور عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے پولیس قیادت میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب کے نئے آئی جی کے لیے تین مضبوط نام زیر غور ہیں جن میں سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ، ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) وسیم سیال اور سینئر پولیس افسر راؤ عبد الکریم شامل ہیں۔ دوسری جانب ڈاکٹر عثمان انور کو آئندہ کسی وفاقی عہدے پر تعینات کیے جانے کا امکان ہے

۔اہم پیش رفت یہ ہے کہ حکومت نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) میں تعینات افسران کے سروس ریکارڈ اور پروفائلز کی آزاد اور بیرونی قانون نافذ کرنے والے و انٹیلی جنس اداروں کے ذریعے جانچ پڑتال کا اصولی فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ اس عمل کا مقصد وردی کے پیچھے چھپے کسی بھی جرائم پیشہ عنصر کی نشاندہی اور بیخ کنی بتایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق جعلی پولیس مقابلوں، ماورائے عدالت قتل، پولیس حراست میں اموات اور کم عمر بچوں و طلبہ کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد منشیات مقدمات نے حکومت کو سخت اقدام پر مجبور کر دیا ہے۔ ان واقعات پر سول سوسائٹی، وکلاء، انسانی حقوق کے حلقوں اور خود سرکاری سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی تھی، جس کے بعد بالآخر آئی جی پنجاب کو ہٹانے کا فیصلہ کن اقدام سامنے آیا ہے۔صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ پولیسنگ کے پورے نظام کو درست سمت میں لانے، اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے، اور ادارہ جاتی احتساب یقینی بنانے کی جامع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نئی قیادت اور حساس محکموں کی آزاد نگرانی سے نہ صرف جرائم پر قابو پایا جا سکے گا بلکہ قانون کی بالادستی اور عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب کی تبدیلی کا باضابطہ اعلان آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے، کیونکہ اس حوالے سے صوبائی اور وفاقی سطح پر مشاورت تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔

اقتصادی تباہی کے اندر سے انجنیئر

کس طرح ٹیکس کے جنون، پالیسی سازوں اور توانائی کے جھٹکے نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا۔ اندر کا دشمن رانا تصدق حسین اسلام آباد: پاکستان کا گہرا ہوتا ہوا معاشی بحران نہ تو حادثاتی ہے اور نہ ہی بیرونی۔ یہ قومی معیشت کو سنبھالنے والوں کی طرف سے کیے گئے غلط تصورات، ناقص ترتیب اور لاپرواہی سے نافذ پالیسی فیصلوں کی ایک سیریز کا مجموعی نتیجہ ہے۔ حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ پر بہت زیادہ ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے کے ساتھ اس انہدام کا آغاز ہوا، اس تصور کے تحت کہ سرمایہ خود بخود جائیداد سے گھریلو صنعت میں منتقل ہو جائے گا۔ مفروضہ جان لیوا ناقص ثابت ہوا۔ پاکستان کے صنعتی اڈے میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے، سرمایہ کاروں نے دبئی، ملائیشیا، ترکی اور برطانیہ کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹوں میں رئیل اسٹیٹ کی منڈیوں کا رخ کرتے ہوئے، سرمایہ کاروں نے ملک سے مکمل طور پر سرمایہ نکال لیا۔

اس کیپٹل فلائٹ نے ایک جھڑپ کو جنم دیا: پاکستان کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر ٹھپ ہوگیا۔ تعمیراتی صنعت تباہ ہو گئی۔ سیمنٹ، سٹیل، گلاس، ٹائلز، پینٹس، کیبلز اور فٹنگز سمیت 40 کے قریب متعلقہ صنعتوں کو بڑے پیمانے پر سکڑاؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اگلے مرحلے میں، ڈالر کے اخراج کو روکنے کی کوشش میں، حکومت نے سخت درآمدی کنٹرول اور زرمبادلہ کی پابندیاں متعارف کروائیں۔ ذخائر کو مستحکم کرنے کے مقصد کے ساتھ، ان اقدامات نے صنعتی سپلائی چین کو معذور کر دیا، جس سے ضروری خام مال کی درآمد روک دی گئی۔ نتیجے کے طور پر: صنعتی پیداوار سست یا رک گئی۔ ایکسپورٹ آرڈرز پورے نہ ہو سکے۔ پاکستان کی برآمدات کی رفتار گر گئی! چونکہ ٹیکس محصولات بڑھنے کے بجائے کم ہونے لگے، پالیسی سازوں نے ساختی اصلاحات کے ساتھ نہیں بلکہ مالی جارحیت کے ساتھ جواب دیا۔ ان چند صنعتوں پر سپر ٹیکس عائد کیا گیا جو ابھی تک منافع بخش تھیں، جبکہ انکم ٹیکس کے سلیب کو بیک وقت بڑھا دیا گیا تھا۔ متوقع طور پر: صنعتی نقصانات بڑھ گئے۔ خالص منافع کم ہو گیا۔ توسیع اور دوبارہ سرمایہ کاری روک دی گئی۔ ملازمتوں کی تخلیق رک گئی۔ آمدنی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے، بوجھ پھر تنخواہ دار افراد پر منتقل کیا گیا، جس سے انکم ٹیکس میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس اقدام نے پورے بورڈ میں قوت خرید کو ختم کر دیا، جس سے صارفین کی طلب میں کمی واقع ہوئی۔ کم طلب نے صنعتی محصولات کو مزید کم کر دیا، جس سے کاروبار پر مالی دباؤ بڑھتا ہے۔ آخر کار، جب بجٹ خسارے کے غبارے سے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، تو حکومت نے سب سے زیادہ نقصان دہ شارٹ کٹ کا انتخاب کیا: بجلی، گیس اور پٹرولیم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ۔ توانائی کے ان جھٹکوں نے پیداوار کو معاشی طور پر ناقابل عمل بنا دیا، مسابقت کو تباہ کر دیا اور ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو مکمل طور پر منجمد کر دیا۔ پہلے سے دباؤ میں آنے والی صنعتوں کو بقا کے کنارے پر دھکیل دیا گیا۔ صرف اب، برسوں کے نقصان کے بعد، اس معاشی حقیقت کے ٹکڑوں کو تسلیم کیا جا رہا ہے – تاخیر سے: ایک وزیر خزانہ جو بنیادی طور پر بینکر ہے، ترقیاتی ماہر معاشیات نہیں، اور ایس آئی ایف سی کے مینیجرز، جو بظاہر تین نازک سالوں کے بعد مسئلے کے کچھ حصوں کو سمجھ چکے ہیں، پہلے ہی کھو چکے ہیں اس کے باوجود آج بھی، بحران کی مکمل باہم جڑی نوعیت سرکاری طور پر غیر تسلیم شدہ ہے۔ پاکستان کو سرحدوں سے باہر کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔ سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والی قوتیں معاشی فیصلہ سازی کے دائرے میں بیٹھی ہیں۔ وزارت خزانہ، نجکاری ڈویژن، اقتصادی امور ڈویژن اور سب سے بڑھ کر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پر نااہل، بے حس اور مبینہ طور پر کرپٹ جادوگروں کا غلبہ ہے، جن کے پیداواری صلاحیت پر ٹیکس لگانے کے جنون نے معیشت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان کو جس چیز کی فوری ضرورت ہے وہ نعروں کی نہیں، بیل آؤٹ کی نہیں، اور کاسمیٹک اقدامات کی نہیں۔

اس کے لیے عقلی ٹیکس لگانے، صنعتی مسابقت کی بحالی، سستی توانائی کی قیمتوں کا تعین، پالیسی میں تسلسل، برآمدات میں سہولت، اور اہم اقتصادی اداروں سے غیر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے فیصلہ سازوں کو ہٹانے کے ذریعے عملی طور پر ڈوبتی ہوئی معیشت کی سنجیدہ، زمینی سطح پر اصلاح کی ضرورت ہے۔ اس ری سیٹ کے بغیر، کوئی بھی فریم ورک ملکی یا غیر ملکی کمی کو روک نہیں سکتا

بلوچستان جتنے ائیرپورٹ کسی صوبے میں نہیں ہیں، آزادی کے وقت وہاں صرف چند سو کلومیٹر سڑکیں تھیں، اب 26 ہزار کلومیٹر سڑکیں ہیں، 15 ہزار 96 اسکول اور 13 کیڈٹ کالجز ہیں، 13 بڑے اسپتال ہیں، بلوچستان کا این ایف سی شیئر 933 ارب روپے ہے۔ سرداری نظام نے تمام وسائل لوٹے۔ خواجہ آصف

لیبیا کے آرمی چیف کا دورہ پاکستان۔۔وزیر دفاع کے دعوے’بلوچستان میں بیوروکریسی، کریمینلز اور قبائلیوں کا گٹھ جوڑ ہے۔ گل پلازہ کے بعد کراچی موبائل مارکیٹ میں آگ۔۔جنوبی لبنان پر دشمن کے شدید فضائی حملے…اسرائیل کا قبضہ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے لیبین عرب افواج کے سربراہ خلیفہ حفترکی ملاقاتباہمی دلچسپی بالخصوص متعلقہ خطوں کی سکیورٹی صورتحال اورپیشہ ورانہ تعاون پر تبادلہ خیال ، دونوں افواج کے درمیان مسلسل روابط اور تعاون کی اہمیت پر زور

وزیر دفاع کے دعوے’بلوچستان میں بیوروکریسی، کریمینلز اور قبائلیوں کا گٹھ جوڑ ہے۔ حکومتوں نے بیوروکریسی سے مل کر وہاں وسائل کا استحصال کیا ہے۔‘ خواجہ کی جماعت ن لیگ متعدد بار برسر اقتدار رہی اور وہ خود وزارتوں میں رہے۔۔۔اور اب بلوچستان کے مسائل کا حل مزید فوجی تعیناتی بتارہے ہیں۔

*(1) بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے، خواجہ آصف🚨(2) بلوچستان میں لڑنے والوں کے پاس وہ اسلحہ ہے جو سیکیورٹی فورسز کے پاس بھی نہیں، کوئی بتائے یہ اسلحہ کہاں سے آیا؟ وزیر دفاع🚨(3) بلوچستان میں معصوم لوگوں کو قتل کرنے والے کہاں کے ناراض لوگ ہیں؟ رانا ثنااللہ🚨(4) پاکستان سے میچ نہ ہونے پر بھارت کو 14000 کروڑ کا بہت بڑا نقصان ہوگا🚨(5) پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ کا بائیکاٹ، شاہد آفریدی نے فیصلے کو افسوس ناک قرار دے دیا🚨(6) کراچی: صدر موبائل مارکیٹ کی عمارت میں ساتویں فلور پر اچانک آتشزدگی، افرا تفری مچ گئی🚨(7) کراچی: صدر میں گل پلازہ کے قریب واقع النجیبی موبائل مارکیٹ میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا🚨(8) بلوچستان: سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید 22 دہشت گرد ہلاک، 3 روز میں 177 دہشت گرد مارے گئے🚨(9) وفاقی حکومت نے یوم یکجہتی کشمیر پر 5 فروری کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کردیا🚨

(10) قصور میں میرج ہال کے مین ہول میں گرکر 3 سالہ بچہ جاں بحق🚨(11) سمندری روڈ پر فیصل آباد سے آنے والی تیز رفتار مسافر بس بے قابو ہو کر رکشے سے ٹکرا گئی، 3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق🚨(12) فی تولہ سونے کی قیمت مزید گھٹ کر 4 لاکھ 90 ہزار 362 روپے کی سطح پر آگئی🚨(13) امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، وزیراعظم، وزیر اعلیٰ کے پی سے ملاقات🚨(14) وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے پی کے درمیان ملاقات میں سیکیورٹی کی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا🚨(15) وزیراعظم سے عمران خان سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، سہیل آفریدی🚨(16) رکن پنجاب اسمبلی نے دوران اجلاس عظمیٰ بخاری کو جھوٹی قرار دے دیا🚨(17) ہماری فوج دہشت گردوں کیخلاف لڑ رہی ہے اور کچھ لوگ اپنا بیانیہ بنانے میں پڑے ہیں، طاہر اشرفی🚨(18) سندھ حکومت کی لائسنس ہولڈرز کو اسلحہ خفیہ طریقے سے ساتھ لے کر چلنے کی اجازت🚨(19) اسلام آباد میں جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس کیلیے نئی ویلیو ایشن جاری

🚨(20) اربوں ڈالر کے قیمتی پتھروں کی برآمد اور ریگولرائزیشن کیلئے جامع منصوبہ متعارف کروانے کا فیصلہ🚨(21) علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم🚨(22) ضمیر اور ہمدردی قانون کا نعم البدل نہیں، وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ🚨(23) سابق ٹریفک پولیس چیف کراچی پیر محمد شاہ کو عہدے سے ہٹائے جانے کی کہانی سامنے آگئی🚨(24) پاکستان کا بھارت میچ سے بائیکاٹ ویک اپ کال ہونی چاہیے، بھارتی سیاست دان ششی تھرور🚨(25) ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کیلیے قومی ٹیم کولمبو پہنچ گئی🚨(26) فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لیبین عرب مسلح کے سربراہ خلیفہ ابو القاسم حفتر کی ملاقات🚨(27) بلوچوں کو یقین دہانی کرائی جائے صوبے کے وسائل پر آپ ہی کا حق ہے، محمود خان اچکزئی🚨(28) پاکستان کا بھارت سے نہ کھیلنے کا فیصلہ، سنیل گواسکر بھی گیدڑ بھپکیاں دینے لگے🚨(29) وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر 14 سالہ تائیکوانڈو اسٹار عائشہ ایاز کو 3 لاکھ روپے کا انعام🚨(30) بلاول بھٹو زرداری کا ویٹ لینڈز کے عالمی دن پر پیغام، تحفظ کیلیے فوری اقدامات کا مطالبہ🚨(31) اربوں ڈالر کے قیمتی پتھروں کی برآمد اور ریگولرائزیشن کیلیے جامع منصوبہ متعارف کروانے کا فیصلہ🚨(32) ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان کا بائیکاٹ کا فیصلہ، بی سی سی آئی کا آئی سی سی کی حمایت کا اعلان🚨(33) پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں بارش و برفباری کی پیشگوئی، الرٹ جاری🚨(34) لوئر دیر میں ٹریفک حادثہ، ایک جاں بحق 13 افراد زخمی🚨(35) بنگلا دیش کی بیمان ایئر لائنز کو ہفتہ وار تین پروازیں آپریٹ کرنے کی اجازت مل گئی🚨(36) معرکہ حق کی یادگار بنانے کےلیے درخت کاٹےگئے، وکیل سی ڈی اے کا عدالت میں بیان🚨(37) کراچی: مسلح ملزمان 4 دکانوں کے تالے توڑ کر لاکھوں مالیت کے زیورات اور نقدی لے اڑے🚨(38) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی عالمی بینک کے صدر سے ملاقات، صحت و تعلیم میں تعاون بڑھانے پر گفتگو🚨(39) دہشت گرد حملوں کے بعد کوئٹہ میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، ریڈ زون سیل، انٹرنیٹ سروس معطل🚨(40) لاہور: سیوریج لائن میں گرنیوالی ماں بیٹی کی موت سر اور گردن کی ہڈیاں ٹوٹنے سے ہوئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ🚨(41) ٹی 20 ورلڈکپ: بھارت سے میچ کا بائیکاٹ، بھارتی میڈیا نے پاکستان پر ٹورنامنٹ میں پابندی لگنے کا پروپیگنڈا شروع کردیا🚨(42) سرگودھا میں خاتون کا قتل، شوہر اور دیور نے طبعی موت قرار دیکر تدفین بھی کردی🚨(43) کراچی: موسم سرما کا تقریباً 90 فیصد حصہ گزرچکا، سردی میں نمایاں کمی🚨(44) کراچی میں ممکنہ احتجاج اور اہم شاہراہوں کو بلاک کرنے کا خدشہ، 180 افراد 30 روز کیلئے نظر بند🚨(45) کراچی: بڑی شاہراہوں پر دھرنوں اور احتجاج پر سختی کریں گے: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ🚨(46) کراچی: بولٹن مارکیٹ فائر اسٹیشن ڈیڑھ سال سے زیر تعمیر، عملہ اور فائر بریگیڈ بلاول ہاؤس پر تعینات🚨(47) برطانوی سیاست میں ہلچل، جیفری ایپسٹین سے تعلقات پر وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے قریبی ساتھی مستعفی🚨(48) ہمیں چھیڑوگے تو تمہاری نسلیں تباہ کردینگے، گورنر سندھ کا بھارت کو دو ٹوک پیغام🚨(49) ایشین اسنوکر چیمپین شپ؛ پاکستان کے محمد آصف اور رانا عرفان محمود پری کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے🚨(50) کراچی میں 7 روزہ انسداد پولیو مہم آج سے شروع

بھارتی آرمی چیف کا ایک بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کا آپسی رشتہ 2 سگے بھائیوں کی طرح مضبوط۔عمران خان کی رھای اور حکمرانوں کی گرفتاری علیم خان نے سئینر پلواشہ سے ایوان میں معافی مانگ لی یاد رھے کہ سئینر پلواشہ کے دادا اور والدہ محترمہ پارلیمنٹ کے ممبر رہ چکے ہیں تفصیلات کے لیے سھیل رانا لاءیو میں۔۔ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا۔ اس حوالے سے پرامید ہیں۔ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ۔۔ ۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات*ملاقات میں وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت کے مابین تعاون کی ضرورت پر زور دیا. وزیرِ اعظم نے صوبے میں امن و امان کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت کے تعاون کو ناگزیر قرار دیا. امن وامان کے قیام کے لئے صوبائی حکومت کی کوششیں مزید بڑھانے کی ضرورت ہے.

وزیر اعظمصوبائی حکومت انسداد دھشتگردی کیلئے صوبائی اداروں کو مضبوط کرے. وزیرِ اعظم وفاقی اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی. وزیر اعظمخیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام اور عوامی فلاح کیلئے صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داری نبھانی چاہئیے. وزیرِ اعظمصوبائی حکومت با اختیار ہے،

صحت و تعلیم کیلئے خیبر پختونخوا کے عوام کیلئے اقدامات کئے جائیں. وزیرِ اعظموفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کی بہتری کیلئے ہمیشہ سے کوشاں ہے. وزیرِ اعظمخیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے، صوبے کی عوام کی خوشحالی کیلئے وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے مطابق بھرپور کاوشیں جاری رکھے گی.

وزیرِ اعظم قومی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی روابط اور مؤثر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔ وزیر اعظموزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے وفاقی دائرہ کار کے مطابق تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

وفاقی حکومت تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے اور یکساں ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے۔ وزیر اعظم باہمی مشاورت اور اشتراکِ عمل کے ذریعے قومی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی کے اہداف کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم

بی ایل اے کے 4اور دہشتگرد جہنم واصل ، مجموعی تعداد177 ہوگی۔۔اج سوموار کو بلوچستان میں حالات کشیدہ صورتحال نازک۔عمران خان کی ملاقات اور تینوں بہنوں کا نیا ورژن۔۔ غزہ امن معاہدے کی اسرائیل کی خلاف ورزی۔۔ بچوں سے زیادتی کا مجرم ایپسٹین بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کوتا کا بھی یار نکلا۔خیبر امن جرگہ لاکھوں افراد کی شرکت اسلام آباد کی طرف مارچ ۔۔۔بی ایل اے کے 4اور دہشتگرد جہنم واصل ، مجموعی تعداد177 ہوگی۔۔یوریا کھاد کی قیمتوں میں زبردست تیزی مارکیٹ 300 تیز۔۔ بلوچستان ،بی ایل اے نے ڈپٹی کمشنر نوشکی کو اغواء کرنے کے بعد ان کی۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بچوں سے زیادتی کا مجرم ایپسٹین بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کوتا کا بھی یار نکلا۔رپورٹ کے مطابق 2017 میں ایپسٹین کے مشورے پر مودی کوتا نے اسرائیل کا دورہ کیا اور ناچ گانے کی محفل میں شرکت کی۔وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ مودی کوتا نے عالمی تعلقات کیلئے ناچ گانے کرائے۔بھارتی اپوزیشن بھی نریندر مودی کوتا پر برس پڑی اور کانگریس نے سوال اٹھایا کہ مودی کوتا بتائے ایپسٹین سے تعلق کس نوعیت کا تھا، اسرائیل میں ناچ کر ٹرمپ کو کونسا فائدہ پہنچایا۔کانگریس نے مودی کوتا کے ایپسٹین سے تعلقات کو ملک کیلئے باعث شرم قرار دیا ہے۔

اتنا بڑا دھوکہ ۔یہ تصویر ساری زندگی شرمندگی کا باعث رہے گی کاش پاکستان نے ٹرمپ کی چاپلوسی میں فلسطینیوں کے ساتھ اتنی بڑی بے ایمانی نہ کی ہوتی ۔پورا پاکستان کہتا رہا یہ غزہ امن بورڈ صرف فلسطینوں کے خاتمے کے لیے بنایا گیا ہے نہ کے فلسطین کی آزادی کے لیے ۔ آج پھر بمباری کر کے 30 کے قریب لوگ شہید کر دئیے گے لیکن پاکستان میں اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ان کو فلسطین کے 1لاکھ شہید بھی نظر نہ آئے افسوس ہم نے اپنے ملک کو رسوا کر دیا اور فلسطینیوں کی نظروں میں بھی گر گئے

بچوں سے زیادتی کا مجرم ایپسٹین بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کوتا کا بھی یار نکلا۔رپورٹ کے مطابق 2017 میں ایپسٹین کے مشورے پر مودی کوتا نے اسرائیل کا دورہ کیا اور ناچ گانے کی محفل میں شرکت کی۔وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ مودی کوتا نے عالمی تعلقات کیلئے ناچ گانے کرائے۔بھارتی اپوزیشن بھی نریندر مودی کوتا پر برس پڑی اور کانگریس نے سوال اٹھایا کہ مودی کوتا بتائے ایپسٹین سے تعلق کس نوعیت کا تھا، اسرائیل میں ناچ کر ٹرمپ کو کونسا فائدہ پہنچایا۔کانگریس نے مودی کوتا کے ایپسٹین سے تعلقات کو ملک کیلئے باعث شرم قرار دیا ہے۔

بچوں سے زیادتی کا مجرم ایپسٹین بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کوتا کا بھی یار نکلا۔رپورٹ کے مطابق 2017 میں ایپسٹین کے مشورے پر مودی کوتا نے اسرائیل کا دورہ کیا اور ناچ گانے کی محفل میں شرکت کی۔وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ مودی کوتا نے عالمی تعلقات کیلئے ناچ گانے کرائے۔بھارتی اپوزیشن بھی نریندر مودی کوتا پر برس پڑی اور کانگریس نے سوال اٹھایا کہ مودی کوتا بتائے ایپسٹین سے تعلق کس نوعیت کا تھا، اسرائیل میں ناچ کر ٹرمپ کو کونسا فائدہ پہنچایا۔کانگریس نے مودی کوتا کے ایپسٹین سے تعلقات کو ملک کیلئے باعث شرم قرار دیا ہے۔

کراچی / اسلام آباد / لاہور ( 1 فروری 2026) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آب گاہوں (ویٹ لینڈز) کو ہمارے ماحول، غذائی تحفظ اور موسمیاتی استحکام کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے ان کے تحفظ کے لیے فوری اجتماعی اقدامات پر زور دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب ویٹ لینڈز تباہ ہوتے ہیں تو فطرت کی آواز دب جاتی ہے، جس کی سب سے بھاری قیمت ہمیشہ غریب اور کمزور طبقات کو چُکانا پڑتی ہے۔ میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، پی پی پی چیئرمین نے عالمی یومِ ویٹ لینڈز کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، لہذیٰ، وہ اپنے ویٹ لینڈزبشمول دریاؤں، جھیلوں، مینگرووز اور نازک ڈیلٹائی سسٹم کو نظرانداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے ویٹ لینڈز اور مینگرووز نے نسلوں سے ساحلی آبادیوں کو قدرتی آفات سے محفوظ رکھا اور لاکھوں افراد کے روزگار کا سہارا بنے رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان ویٹ لینڈز اور مینگرووز کا تحفظ صرف ماحولیاتی ضرورت ہی نہیں بلکہ سماجی انصاف کا تقاضا بھی ہے۔ پیپلز پارٹی کے عزم کی توثیق کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ماحولیاتی اقدامات کی بنیاد عوام کی بہبود پر ہونی چاہیے، قدرتی وسائل کی حفاظت کی جائے اور مستقبل کی نسلوں کے لیے پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ حکومتوں، کمیونٹیز اور نوجوانوں کو ویٹ لینڈز کے محافظ بننا ہوگا کیونکہ انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی ہی ایک محفوظ، سرسبز اور امید سے بھرپور مستقبل کی راہ ہے۔

سابق وزیرِ اعظم اور صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال سے آزاد کشمیر میں وضع داری، شائستگی اور سیاسی رواداری کا ایک روشن باب بند ہو گیا____ آپ 1996 سے 2001 تک آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم رہے، مگر دورِ اقتدار میں آپ پر کرپشن کے الزامات نہ ہونے کے برابر لگے، جو آپ کی دیانت داری اور اصول پسندی کا واضح ثبوت ہے____کشمیر کاز کے لیے آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے جلسے، جلوس، مارچز اور ریلیاں آپ کی قیادت میں منعقد ہوئیں، جنہوں نے عالمی سطح پر اس اہم مسئلے کو زندہ رکھا____ہمارے خاندان اور کارکنان کے ساتھ بیرسٹر صاحب کے تعلقات تلخ و شیریں یادوں کا حسین امتزاج رہے۔ 1996 میں وزارتِ عظمیٰ کے لیے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور ممتاز راٹھور مرحوم کے درمیان سخت سیاسی مقابلہ ہوا، اور بالآخر اقتدار کا ہما بیرسٹر صاحب کے سر پر بیٹھا____1999 میں ممتاز راٹھور مرحوم کے انتقال کے بعد، اختلافات کے باوجود بیرسٹر صاحب نے اعلیٰ ظرفی اور سیاسی شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضمنی الیکشن میں مسعود ممتاز راٹھور صاحب کی بھرپور حمایت کی۔ بعد ازاں وہ تسلسل کے ساتھ راٹھور صاحب کی سالانہ برسیوں میں شرکت کرتے رہے اور سیاسی طور پر ہمیشہ ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئے____اللہ تعالیٰ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری مرحوم کو غریقِ رحمت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین_____

دہائیوں پر محیط رہائشی المیہسی ڈی اے، آر ڈی اے اور سرکاری ہاؤسنگ اداروں کی ناکامیاں، ہزاروں شہری بے گھر رانا تصدق حسیناسلام آباد: رہائشی پلاٹس کی مکمل ادائیگی کے تقریباً چار دہائیاں گزر جانے کے باوجود ہزاروں شہری آج بھی چھت سے محروم ہیں۔ سرکاری ہاؤسنگ اداروں میں مسلسل بدانتظامی، فیصلہ سازی میں ناکامی اور ادارہ جاتی مفلوجی نے شہریوں کو ایک نہ ختم ہونے والے انتظار میں مبتلا کر رکھا ہے۔اس قومی ناکامی کی سب سے نمایاں مثال سیکٹر E-12 ہے، جہاں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے 1989 میں پلاٹس الاٹ کیے، مگر 2026 تک بھی الاٹیوں کو قبضہ نہیں دیا جا سکا۔جو قبضہ ایک سال میں (1990 تک) ملنا تھا، وہ 36 سالہ اذیت میں بدل چکا ہے—خالی وعدے، نمائشی ترقی، اور کسی بھی سطح پر جوابدہی کا مکمل فقدان۔E-12: 36 سالہ ٹوٹے وعدوں کی داستانسیکٹر E-12 کے الاٹی اپنی عمر بھر کی جمع پونجی ایسے پلاٹس میں پھنسے دیکھ رہے ہیں جو آج بھی صرف کاغذوں میں موجود ہیں۔منصوبہ بند ترقی کے بجائے الاٹیوں نے صرف ادھوری سڑکیں، وقتی مشینری کی آمد، اور ہر دور کی نئی بیوروکریٹک توجیہات دیکھیں، جبکہ حکومتیں اور سی ڈی اے انتظامیہ مسئلہ ایک دوسرے پر ڈالتی رہیں۔“میری اہلیہ کو 1989 میں ہماری شادی کے وقت پلاٹ الاٹ ہوا تھا۔ آج میں ریٹائر ہو چکا ہوں، مگر E-12 میں گھر بنانے کی کوئی امید نہیں”،ایک الاٹی نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔وفاقی کابینہ کی ہدایات، اندرونی اجلاسوں اور میڈیا بیانات کے باوجود زمینی حقیقت وہی ہے:نہ قبضہ، نہ سہولیات، نہ عزت۔’پہلے متاثرین، بعد میں ترقی‘ — ایک مستقل بہانہسی ڈی اے حکام ہر بار تاخیر کی وجہ زمین متاثرین کے معاوضے کو قرار دیتے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ جب تک متاثرین کو ادائیگی یا متبادل پلاٹس (خصوصاً سیکٹر I-12 میں) نہیں دیے جاتے، ترقی ممکن نہیں۔مگر ناقدین کے مطابق:متاثرین کے مسائل اسکیم لانچ کرنے سے پہلے حل ہونے چاہیے تھےزمین کلیئر کیے بغیر الاٹیوں سے رقم وصول کی گئیذمہ دار افسران کے لیے کبھی کوئی لازمی ٹائم لائن مقرر نہیں کی گئیسی ڈی اے ترجمان کا یہ بیان کہ “E-12 حل کے لیے تیار ہے” اب ایک غیر معتبر رسمی جملہ بن چکا ہے۔یہ ایک اسکیم نہیں، ایک پورا نظام ناکام ہےسیکٹر E-12 صرف ایک مثال ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کی متعدد سرکاری ہاؤسنگ اسکیمیں اسی المیے کی عکاس ہیں—رقم وصول، وعدے، مگر عمل ندارد۔وفاقی سرکاری ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA)گرین اینکلیو-I (بھارہ کہو)آغاز: 2009الاٹی: 3,28215 سال بعد بھی بڑی تعداد قبضے سے محرومگرین اینکلیو-II / اسکائی گارڈن ہاؤسنگ اسکیمدسیوں ہزار سرکاری ملازمین رجسٹرڈبرسوں سے انتظار، قبضے کا کوئی واضح روڈ میپ نہیںF-14/15 ہاؤسنگ پراجیکٹآغاز: 2015منصوبہ بند پلاٹس: 6,746ترقی نہ ہونے کے برابر، منصوبہ عملاً غیر فعالپاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن (PHAF)سرکاری کنٹرول میں ہاؤسنگ ادارہI-12/1 اپارٹمنٹس سمیت متعدد منصوبےسست روی، ڈیڈ لائنز کی بار بار خلاف ورزیکسی پر کوئی کارروائی نہیںسی ڈی اے اور آر ڈی اے: دوسروں کے لیے سخت، خود کے لیے ناکامسی ڈی اے اور راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RDA) نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف سخت کارروائیاں کرتی ہیں—این او سیز منسوخ، سوسائٹیاں سیل، 100 سے زائد اسکیمیں غیر قانونی قرار۔مگر اپنی سرکاری اسکیموں میں:دہائیوں پر محیط تاخیراربوں روپے کی لاگت میں اضافہمنفی آڈٹ رپورٹس (مثلاً نیلور ہائٹس)عدالتی احکامات پر عملی عملدرآمد نہیںنتیجہ: شہری متاثر، افسران بے خوف۔G-16 اور NHF: وہی پرانی کہانیG-16 وزارت داخلہ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اورنیشنل ہائی وے فاؤنڈیشن (NHF) کے منصوبے بھی E-12 جیسے ہی ہیں:مکمل ادائیگیکوئی فزیکل الاٹمنٹ نہیں20 سال سے زائد عرصہ بغیر قبضہالاٹیوں کے مطابق بدعنوانی، نااہلی اور دانستہ بیوروکریٹک سستی اس بحران کی جڑ ہے، جبکہ نیب اور ایف آئی اے جیسی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ضمنی نقصان: اعتماد کا خاتمہ اور شہری انتشارشہری منصوبہ بندی کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ان ناکامیوں نے:ریاستی ہاؤسنگ پر عوامی اعتماد ختم کر دیاشہریوں کو غیر منظم نجی اسکیموں کی طرف دھکیلابعد ازاں غیر قانونی قرار دی جانے والی اسکیموں میں سرمایہ کاری بڑھیاسلام آباد کے منصوبہ بند شہری ماڈل کو شدید نقصان پہنچایوں ریاست کی ہاؤسنگ میں ناکامی نے وہی بحران پیدا کیا جسے وہ اب کنٹرول کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔احتساب کا بڑھتا مطالبہالاٹی، سول سوسائٹی اور ماہرینِ پالیسی مطالبہ کر رہے ہیں:وفاقی و صوبائی ہاؤسنگ اسکیموں پر عدالتی یا پارلیمانی تحقیقاتنئی اسکیم لانچ کرنے سے قبل متاثرین کو مکمل اور بروقت معاوضہسی ڈی اے، آر ڈی اے، FGEHA اور PHAF کی قیادت کی ذاتی جوابدہینیب اور ایف آئی اے کی فوری مداخلت اور مالی بدانتظامی کی تحقیقاتایک بنیادی حق سے محرومیرہائش کوئی عیاشی نہیں، بنیادی انسانی ضرورت ہے۔36 سال بعد بھی مکمل ادا شدہ پلاٹس کا قبضہ نہ ملنا حکمرانی، انصاف اور ترجیحات پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ان ہزاروں خاندانوں کے لیے، جنہوں نے نیک نیتی سے ادائیگی کی اور دہائیوں انتظار کیا، سوال آج بھی وہی ہے:اگر ریاست 36 سال میں ایک گھر نہیں دے سکتی، تو زندگی بھر کے ٹوٹے وعدوں کا حساب کون دے گا؟

کینٹ ایریا میں آئندہ کوئی دکان سربمہر نہیں ہو گی،سر بمہرکرنے سے پہلے متعلقہ ادارہ نوٹس کے ذریعے آگاہ کرےگا ، سٹیشن کمانڈر بریگیڈیئر علی انجم سیل نہ کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے باقی محکموں کو بھی تقلید کرنی چایئے، گروپ لیڈر سہیل الطافمعاشی ترقی کے حصول کے لیے کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کو اولین ترجیح دینا ہو گی، صدر عثمان شوکتسٹیشن کمانڈر بریگیڈیئر علی انجم نے کہا ہے کہ کینٹ ایریا میں آئندہ کوئی دکان سربمہر نہیں ہو گی،سربمہر کرنے سے پہلے متعلقہ ادارہ نوٹس کے ذریعے آگاہ کرےگااور سیل کرنے کی وجہ بتائے گا ، کمپلائینس پورا کرنے کے لیے مناسب وقت بھی دیا جائے گا۔راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں ڈیجیٹل بنکنگ اور ادائیگیوں کے لیے راست اور ڈیجیٹل کیو آر کے حوالے سے معلوماتی سیشن سے خطاب میں اسٹیشن کمانڈر نے کہا کہ بزنس فرینڈلی ماحول کی فراہمی کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے ہر فرد اور ادارے کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،فنانشل لٹریسی کو عام کرنا ہو گا،صدر عثمان شوکت نے کہا کہ معاشی ترقی کے حصول کے لیے کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کو اولین ترجیح دینا ہو گی، ڈیجیٹل نظام سے آگاہی کے حوالے سے چیمبر اس طرح کے سیشن باقاعدگی کے ساتھ منعقد کرائے گا۔ گروپ لیڈر سہیل الطاف نے کہا کہ کینٹ ایریا میں کاروباری مرکز سربمہر نہ کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے باقی محکموں کو بھی تقلید کرنی چایئے،کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کے لیے ٹیکس کی شرح سنگل ڈیجیٹ تک لانا ہو گی ، کاروباری لاگت کم کرنا ہو گی۔ رضوان خلیل شمسی چیف منیجر سٹیٹ بنک نے سیشن سے خطاب میں کہا کہ سٹیٹ بنک نے پرائم منسٹر کی ہدایات کی روشنی میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو عام کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا “راست” ایک مفت، فوری اور محفوظ ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام ہے، جس کے ذریعے آپ اپنے موبائل نمبر (راست آئی ڈی) یا آئی بین (IBAN) کا استعمال کرتے ہوئے بغیر کسی اضافی فیس کے رقم بھیج اور وصول کر سکتے ہیں۔ یہ پاکستان کا پہلا فوری ادائیگی کا نظام ہے، جو تمام بینکوں کو آپس میں منسلک کرتا ہے۔ڈیجیٹل نظام سے نقد رقم کے ذریعے لین دین کم کرنے اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں مدد ملے گی۔ سیشن کا مقصد صارف اور کاروبار دونوں کو رقم کی منتقلی ، مالی لین دین تیز، آسان اور زیادہ محفوظ ادائیگیوں کے نظام سے روشناس کرانا تھا۔ اس موقع پر کمرشل بنکوں اور ڈیجیٹل موبائل والٹ کے نمائندوں نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے مختلف پلیٹ فارمز کے بارے میں پریذینٹیشنز بھی دیں۔ سینئر نائب صدر خالد فاروق قاضی، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران، انجمن تاجران کے نمائندوں منیر بیگ مرزا، سمال چیمبر کے سینئر نائب صدر دوست علی جان، ودیگر بھی موجود تھے

پاکستان کی تیسرے ٹی ٹونٹی میچ میں شاندار بیٹنگ ، آسٹریلیا کو میچ جیتنے کیلئے 208 رنز کا ٹارگٹ ۔۔پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت مگر بھارت کیخلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان۔۔پاکستان نے آسٹریلیا کو وائٹ واش کردیا، 111 رنز سے شکست۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی قیادت میں جمرود فٹبال گراؤنڈ میں خیبر امن جرگہ کا انعقاد کیا گیا۔جرگہ میں آفریدی، شینواری، ملاگوری اور شلمانی اقوام کے مشران، عمائدین اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی قیادت میں جمرود فٹبال گراؤنڈ میں خیبر امن جرگہ کا انعقاد کیا گیا۔جرگہ میں آفریدی، شینواری، ملاگوری اور شلمانی اقوام کے مشران، عمائدین اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس کے علاوہ سکھ اور مسیحی کمیونٹی کے مشران اور عمائدین بھی شریک ہوئے۔ خیبر امن جرگہ میں صوبائی وزرا اور قومی و صوبائی اسمبلی کے معزز اراکین بھی شریک ہوئے۔جرگہ سے مختلف اقوام کے مشران، صوبائی وزرا، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور وزیراعلی خیبر پختونخوا نے خطاب کیا۔یبر_امن_جرگہ

اپنے وقت کے مشہور شعلہ بیان مقرر اور اسٹوڈنٹ لیڈر جوہر حسین انیس سو نوے کی دہائی کے شروع میں پاکستان ہائی کمیشن نیروبی، کینیا میں پریس اتاشی کے فرائض انجام دے رہے تھے

اپنے وقت کے مشہور شعلہ بیان مقرر اور اسٹوڈنٹ لیڈر جوہر حسین انیس سو نوے کی دہائی کے شروع میں پاکستان ہائی کمیشن نیروبی، کینیا میں پریس اتاشی کے فرائض انجام دے رہے تھے جہاں ان سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔جوہر بھائی جب بھی ملتے ان کا سوال اپنے مخصوص انداز میں ہوتا ” اور عابد! ! کیا بدمعاشیاں ہورہی ہیں ؟ ” میرا جواب سن کر بہت محظوظ ہوتے اور ہنستے ” جوہر بھائی جو کوئی چھوٹی موٹی بدمعاشی آپ سے بچ جاتی ہے وہ ہم کرلیتے ہیں ” 🙂جواب میں کہتے ” بڑے بدمعاش ہو تم”جوہر حسین پروفیسر کرار حسین کے صاحبزادے ، پروفیسر شائستہ زیدی، صادقہ صلاح الدین ( صادقہ کرار) ، شبیہ حیدر اور سینیٹر تاج حیدر کے بھائی تھے۔1950۔60 کی دہائیوں کی مشور طلبہ تحریکوں کے اہم کردار جنہیں کراچی بدر بھی ہونا پڑا تھا۔ان کے ہاتھ کے بنائے ہوئے کھانے خصوصاً نہاری احباب میں بہت مقبول تھی جو وہ بڑی محبت اور شوق سے کھلایا کرتے تھے