لیبیا کرنل قذافی کے بیٹے کی نماز جنازہ بتا رہی ہے کہ امریکہ کے غلاموں سے کس قدر نفرت اور محب وطن سے کس قدر محبت کرتے ہیں۔ملک میں جعلی مینڈیٹ کے ذریعے جعلی حکومت بنائی گئی ، موجودہ حکومت جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے: مولانا فضل الرحمان۔ سمدھی امور کے وزیر ۔چیلنج کرتا ہوں کہ ایک حلقے کا نتیجہ بھی الیکشن کمیشن نے نہیں تیار کیا،۔اسحق ڈار یا پھر امپورٹڈ وزیروں کے سر ہے۔۔ ۔پنجاب میں پولیس کے وسیع پیمانے پر تبدیلیاں۔۔احسن یونس کی سی سی پی او لاہور تعیناتی۔۔قومی ائیر لائن کی ھزاروں ارب روپے کی جائدادوں کی بندر بانٹ۔۔ گنڈا سنگھ اور پاکستان۔ملک بھر میں مکمل شٹر ڈاون۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

جدید ہندوستان کے بانی اور معیشت دان ڈاکٹر من موہن سنگھ مرحوم کا تعلق چکوال سے اور ورلڈ بنک کے موجودہ صدر اجے بنگا صاحب کا تعلق خوشاب سے ہے پاکستان کی اکانومی کو تباہ کرنے کا سہرا سمدھی امور کے وزیر اسحق ڈار یا پھر امپورٹڈ وزیروں کے سر ہے جہاں معیشت کے معاملات معیشت دانوں کو نہیں بینکرز اور چارٹڈ اکاؤنٹنٹس کے حوالے کیئے جاتے ہیںکوشش کریں کہ شاید آپ کو چکوال یا خوشاب سے کوئ اچھا معیشت دان مل جاۓ ؟

امام خمینی کے بعد موجودہ “رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای” کی جانشینی کا تاریخی پس منظر! یہ سوال ایرانی سیاسی تاریخ کے نہایت اہم اور نازک موڑ سے جڑا ہے کہ روح اللہ خمینی کے بعد علی خامنہ ای ایران کے رہبرِ اعلیٰ کیسے بنے، اور اس مقصد کے لیے آئینِ ایران میں ترمیم کیوں ضروری سمجھی گئی؟ امام خمینی نے پہلے سے مقرر کردہ اپنا جانشین کیوں ہٹایا؟ آیت اللہ “حسین علی منتظری” جو خمینی کے سابق شاگرد اور انقلاب کی ایک بڑی شخصیت تھے، کو خمینی نے اپنے جانشین کے طور پر منتخب کیا تھا۔نومبر 1985 میں مجلسِ خبرگانِ رہبری نے باضابطہ طور پر انہیں قائم مقام رہبر (جانشینِ رہبر) منظور کر لیا تھا، جس کا مطلب یہ تھا کہ امام خمینی کے انتقال کے بعد وہ بلا رکاوٹ ایران کے سپریم لیڈر بن جاتے۔

آیت اللہ منتظری 1922 میں ایران کے شہر نجف آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی، بعد ازاں اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے اصفہان اور پھر قم گئے۔ قم میں وہ امام خمینی کے نہایت ذہین اور قابل اعتماد شاگردوں میں شمار ہونے لگے۔ شاہِ ایران کے خلاف انقلابی جدوجہد میں فعال کردار ادا کیا۔ اسی سرگرمی کے باعث وہ بارہا قید و بند اور تشدد کا نشانہ بھی بنے۔انقلاب کے بعد، انہیں “قائم مقام رہبر” (Successor) مقرر کیا گیا، یعنی یہ طے تھا کہ امام خمینی کے بعد وہ ایران کے سپریم لیڈر بنیں گے۔ولایتِ فقیہ اور مرجعیت کی شرط1979 کے انقلاب کے بعد جو اسلامی آئین نافذ ہوا، اس کے مطابق سپریم لیڈر کے لیے “مرجعِ تقلید” ہونا ایک لازمی شرط تھی۔ 1980 کی دہائی کے اوائل میں زندہ آیت اللہ کی تعداد محدود تھی، اور ان میں سے آیت اللہ منتظری واحد شخصیت تھے جو نہ صرف مرجع تھے بلکہ خمینی کے تصورِ ولایتِ فقیہ کے بھی حامی تھے۔ اسی لیے وہ فطری طور پر خمینی کے جانشین سمجھے جاتے تھے۔امام خمینی اور منتظری کے اختلافات کیسے پیدا ہوئے؟ 1980 کی دہائی کے آخری برسوں میں خمینی اور آیت اللہ منتظری کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے۔ ان اختلافات کی ایک بڑی وجہ “مہدی ہاشمی” کا معاملہ تھا، جو آیت اللہ منتظری کے قریبی رشتہ دار اور انقلابی نیٹ ورک سے وابستہ تھے۔ستمبر 1987 میں مہدی ہاشمی کو سنگین الزامات کے تحت پھانسی دے دی گئی، جسے منتظری نے ناانصافی قرار دیا۔بعد ازاں 1988–89 میں سیاسی قیدیوں کی بڑے پیمانے پر پھانسیوں پر آیت اللہ منتظری نے کھل کر اعتراض کیا۔انہوں نے امام خمینی کو ایک خط میں سخت الفاظ میں لکھا:“آپ کی جیلیں شاہ اور اس کی ساواک سے بھی بدتر ہو چکی ہیں۔”یہ خط بعد میں یورپ میں لیک ہوگیا اور بین الاقوامی میڈیا، خصوصاً بی بی سی، پر نشر ہوا۔ اس واقعے نے امام خمینی کو شدید برہم کر دیا

۔معزولی اور سیاسی تنہائیمارچ 1989 میں امام خمینی نے آیت اللہ منتظری کو “قائم مقام” رہبر کے عہدے سے برطرف کر دیا۔ سرکاری دفاتر اور مساجد سے ان کی تصاویر ہٹا دی گئیں، اور وہ عملاً اقتدار کے دائرے سے باہر ہو گئے۔اس فیصلے کے بعد ایران ایک آئینی بحران میں داخل ہو گیا، کیونکہ رہبری کے لیے جو واحد اہل مرجع موجود تھا، وہ نااہل قرار دیا جا چکا تھا۔آئین میں ترمیم کی ضرورتاسی بحران کے حل کے لیےخمینی نے آئینِ ایران پر نظرِ ثانی کی اسمبلی بلانے کا حکم دیا۔ نتیجتاً 1989 میں آئین میں ایک بنیادی ترمیم کی گئی، جس کے تحت سپریم لیڈر کے لیے مرجعِ تقلید ہونا “لازمی شرط” نہیں رہا۔ اب صرف مجتہد ہونا کافی سمجھا گیا۔یہ ترمیم دراصل “علی خامنہ ای” کی رہبری کے لیے آئینی راستہ ہموار کرنے کے مترادف تھی، جو اگرچہ ایک انقلابی اور سیاسی رہنما تھے، مگر اس وقت مرجع کے درجے پر فائز نہیں تھے۔علی خامنہ ایعلی خامنہ ای 19 اپریل 1939 کو مشہد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جواد خامنہ ای کا تعلق آذربائیجان کے علاقے “خامنہ” سے تھا، اس لیے نام کے ساتھ خامنہ ای لکھتے ہیں۔ خامنہ ای نے 1958 میں اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے قم کا رخ کیا،

جہاں انہوں نے خمینی، آیت اللہ بروجردی اور علامہ طباطبائی جیسے جید علما سے استفادہ کیا۔1960 کی دہائی میں انہوں نے امام خمینی کی تحریک میں عملی حصہ لیا، جس کے نتیجے میں قید، جلاوطنی اور سختیاں برداشت کرنا پڑیں۔1981 میں ایک قاتلانہ حملے میں ان کا دایاں ہاتھ مفلوج ہو گیا، جس کے بعد انہیں ایران میں “زندہ شہید” کہا جانے لگا۔انقلاب کے بعد علی خامنہ ای مختلف اہم مناصب پر فائز رہے اور 1981 سے 1989 تک ایران کے صدر رہے۔ ان کے دورِ صدارت میں ایران–عراق جنگ کے انتہائی مشکل سال شامل تھے۔4 جون 1989 کو امام خمینی کے انتقال کے فوراً بعد، مجلسِ خبرگانِ رہبری نے آئینی ترمیم کے تحت علی خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کر لیا۔آیت اللہ منتظری نے بعد ازاں بھی رہبری کے نظام اور خامنہ ای کی غیر جواب دہ طاقت پر تنقید جاری رکھی۔ اسی بنا پر 1997 سے 2003 تک وہ چھ سال نظر بند بھی رہے۔ انہوں نے 2009 کے ایرانی صدارتی انتخاب کے بعد صدر احمدی نژاد کی مذمت میں فتوٰی بھی دیا تھا۔علی خامنہ ای 1989 سے اب تک تقریباً 36 سال، 8 ماہ اور 4 دن سے ایران کے سپریم لیڈر ہیں۔دفاع، خارجہ پالیسی، عدلیہ اور فوج سمیت تمام اہم ریاستی ادارے ان کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔ سیاست کے ساتھ ساتھ وہ ادب، شاعری اور ترجمہ نگاری سے بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

‏پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے بی ایل اے کے ایک کمانڈر کو زندہ پکڑ لیا ۔ اب کہنے والے کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے سامنے پتھر بھی بول پڑتے ہیں ۔ اس لئے جب کلبھوشن بول پڑا تھا تو یہ اس کے ہاتھ کے لگائے پودے کیسے فر فر نہ بولتے ہیں ۔ اس نے جو انکشاف کیا اس نے سیکیورٹی فورسز کو بھی چکرا کر رکھ دیا ۔ اس نے بتایا کہ اس کو ٹاسک دیا گیا تھا کہ تم نے کسی بھی طرح ایف سی کے ہیڈ کوارٹر پر بی ایل اے کا پرچم لہرانا ہے اور ویڈیو بنانی ہے ۔ساتھ ہی اس نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ آرڈر اوپر سے آیا تھا اور ویڈیو بنتے ہی سیٹلائیٹ کے زریعے اس نے اپلوڈ کرنی تھی جو کہ ایک مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے سوشل میڈیا پر وائرل کی جانی تھی ۔

جبکہ بی ایل اے کے گرفتار اور ہلاک کمانڈرز سے بڑی تعداد میں جدید کیمرے اور مواصلاتی سیٹس ملے ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بی ایل اے نے عملی طور پر عسکری ناکامی کا سامنا کیا لیکن اس کا مقصد عسکری محاز پر لڑنے کے بجائے ویڈیوز کری ایشن تھا ۔ کیوں کہ سیکیورٹی فورسز الرٹ تھیں اور بی ایل اے کو پہلے سے علم تھا کہ وہ زیادہ کچھ نہیں کرسکیں گے بلکہ ان کا مقصد کانٹینٹ کری ایشن تھی ویڈیوز بنانا تھا اور وہ انہوں نے بنالی ۔ اور اپلوڈ بھی کردیں ۔ البتہ ان کو بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور ایک ویڈیو کی قیمت سرمچاروں کی لاشوں سے ادا کرنا پڑی ۔یہ ویڈیوز اب پورے سال ٹائٹل بدل بدل کر اپلوڈ کی جائیں گی اور فنڈنگ حاصل کی جائے گی اور عالمی سطح پر کلیم کیا جائے گا کہ بلوچستان محفوظ نہیں ہے ۔ اور یہاں سرمایہ کاری نہ آئے ۔

بسنت کا تاریخی پس مظربسنت منانے والے یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ جب موسم سرما رخصت ہوتا ہے اور بہا ر کی آمد آمد ہوتی ہے تو یہ تہوار منایا جاتا ہے جبکہ تاریخی حقائق اس کے خلاف ہیں۔سکھ مورخ ڈاکٹر بی ایس نجار نے اپنی کتاب پنجاب میں آخری مغل دور حکومت میں لکھا ہے کہ ۱۷۰۷ء تا ۱۷۵۹ء زکریاخان پنجاب کا گورنر تھا۔ حقیقت رائے سیالکوٹ کے ایک کھتری باکھ مل پوری کا بیٹا تھا۔ اس نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی صاحب زادی سیدہ سلام اللہ علیہا کی شان اقدس میں نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ اس جرم پر حقیقت رائے کو قاضی وقت نے موت کی سزا دی۔ اس واقعہ سے غیر مسلم آبادی کو شدید دھچکا لگا اور بڑے بڑے ہندو مہاشے اور سرکردہ لوگ زکریا خان گورنر کے پاس گئے کہ حقیقت رائے کی سزا ئے موت معاف کر دی جائے لیکن زکریا خان نے ان کی سفارش ماننے سے انکار کر دیا اور ۱۷۴۷ء میں اسے موت کی سزا دے دی گئی۔

ہندوؤں کے نزدیک حقیقت رائے نے ہندو دھرم کے لیے قربانی دی۔ اس لیے انہوں نے پیلی (بسنتی) پگڑیاں اور ان کی عورتوں نے پیلی ساڑھیاں پہنیں اور اس کی مڑھی پر پیلا رنگ بکھیر دیا۔ بعد میں ایک ہندو کالو رام نے اس مڑھی پر ایک مندر تعمیر کروایا۔ جس دن حقیقت رائے کو موت کی سزا دی گئی اس دن کو پیلے رنگ کی نسبت سے بسنت کا نام دیا گیا۔ اس دن ملحقہ میدان میں پتنگ بازی بھی ہوئی اور حقیقت رائے کی یاد تازہ رکھنے کے لیے یہ بسنت ہندو تہوار کے طور پر ہر سال منانے کا سلسلہ قائم ہوا جو بھارت میں تو معمولی انداز میں منایا جاتا ہے اور یہاں بڑی دھوم دھام سے پتنگ بازی اور دیگر ہر قسم کی لغویات اور بے ہودگی کا مظاہرہ کئی کئی دن تک شب وروز کیا جاتا ہے جس میں ہمارے ذرائع ابلاغ بھرپور رنگینی اور فحاشی کے ساتھ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔حقیقت رائے کی یہ مڑھی کوٹ خواجہ سعید (کھوجے شاہ / گھوڑے شاہ) لاہور میں ہے۔ اب یہ جگہ باغبان پورہ میں باوے دی مڑھی کے نام سے مشہور ہے اور اسی علاقہ کے قبرستان میں موجود ہے۔ ہندو سکھ زائرین بسنت کے موقع پر اب تک باوے دی مڑھی پر حاضری دیتے اور منتیں مانتے ہیں۔ شاید ان میں بسنت منانے والے مسلمان بھی ہوں۔ اس لیے بسنت موسمی تہوار نہیں ہے بلکہ ہندو اسے یادگار حقیقت رائے کے طور پرمناتے ہیں اور یہ خالصتا ہندوانہ تہوار ہے لیکن مسلمانوں کو اس بات کا احساس تک نہیں کہ ایک گستاخ رسول کی یاد میں منائے جانے والے تہوار پر لاکھوں روپیہ لٹا کر اور جانی نقصان اٹھا کر وہ ہر سال اس منحوس رسم کی آبیاری کرتے ہیں۔اس پیغام کو دوسروں تک پہنچا دیں میرا کام آپ تک پہنچانا تھا کیوں کے شراب کی بوتل پر روح افزا لکھ دینے سے وہ ہلال نہیں ہو جاتی نوجوانوں کو علم ہونا چاہیے اس تہوار کے پہچھے کی سچائی کا زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ہو سکتا ہے کوئی عمل کر لے۔

مذہب اور پختون معاشرہ ۔اظہر سیدسوویت یونین اور امریکہ کی افغانستان موجودگی سے نپٹنے کیلئے خیبرپختونخوا سے افغانستان تک مذہب بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوا ۔چار دہائیوں تک مسلسل استعمال نے مذہب کو پختون معاشرے کے ڈی این اے میں شامل کر دیا ہے ۔ منشیات فروشی،اغلام بازی ،کار چوری،اسمگلنگ سمیت دنیا بھر کے جرائم ہونگے لیکن ساتھ ساتھ مذہب ناگزیر شہ کے طور پر موجود ہو گا ۔مذہب کی ڈی این اے میں شمولیت نے خواتین کو پختون معاشرہ کا وہ اچھوت بنا دیا ہے جن کے بازاروں میں نکلنے سے مذہب خطرہ میں پڑ جاتا ہے لیکن پنجابی سندھی یا دوسری قومیت کی خواتین بازاروں میں نکلیں وہ پختونوں کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کا باعت ہوتی ہیں ۔معاشرے کی نصف ابادی پر پابندیوں نے خوبصورت لڑکوں سے انسیت بھی پختون معاشرے میں شامل کر دی ہے ۔خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقہ جات سے افغانستان تک کم عمر خوبصورت پختون لڑکوں کو اپنے ساتھ رکھنا گویا فخر اور مردانگی کا استعارہ ہے ۔سوویت یونین تحلیل ہو گیا ۔امریکہ واپس چلا گیا

لیکن مذہب پوری طاقت سے موجود ہے ۔پاکستان کے مالکان پالیسی شفٹ سے مذہب کے استمال کو چھوڑ بھی دیں افغانستان کی وجہ سے پاکستان کی جان نہیں چھوٹے گی ۔خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں کوئی سیاسی جماعت کوئی لیڈر اتنی طاقت نہیں رکھتا پختون معاشرے کو مذہبی بنیاد پرستی سے نجات دلا سکے ۔خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کے ساتھ سندھ اور خاص طور پر پنجاب میں مذہب کو تقویت دینے کیلئے مذہبی جماعتوں کو طاقت فراہم کی گئی تھی ۔اب کوئی بھی مذہبی انتہا پسندی سے محفوظ نہیں ۔ شیعہ ہو یا قادیانی ایک بہت بڑی تعداد انہیں واجب القتل سمجھتی ہے ۔بھٹو حکومت میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے باوجود انہیں بطور ثواب قتل کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا ۔شیعہ کافر بھی قرار نہیں دئے جاتے تھے ۔دعا دیں جنرل ضیا الحق کے دور کو جس میں فرقہ واریت کا جن بوتل سے نکالا گیا ۔اب صرف شیعہ اور قادیانی ہی کافر نہیں مخالف فرقے اور گروہ کو بھی کافر قرار دے کر مارا جا سکتا ہے ۔خود کش حملے اس وقت ختم ہونگے جب معاشرہ انتہا پسندی سے اعتدال پسندی کی طرف بڑھے گا ۔ریاستی مقاصد کیلئے مذہب کو جس طرح استعمال کیا اسکی قیمت تو ادا کرنا ہی ہے ۔امام بارگاہ کا موجودہ خودکش حملہ بھی ایک قیمت ہی ہے ۔

*قومی ایئر لائن انتظامیہ کا ملک میں موجود 5 جائیدادوں کا تخمینہ لگانے کا فیصلہ*قومی ایئر لائن انتظامیہ نے ملک میں موجود 5 جائیدادوں کا تخمینہ لگانے کا فیصلہ کر لیا۔انتظامیہ کی جانب سے ان 5 جائیدادوں، جن میں سیلز آفس بلیو ایریا اسلام آباد، بکنگ آفس راولپنڈی اور ہیڈکوارٹرز کے لیے مختص پلاٹ کے علاوہ قومی ایئر لائن کے سیلز آفس پشاور اور کوئٹہ کا نئے سرے سے تخمینہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے

۔اس سلسلے میں قومی ایئر لائن انتظامیہ نے حکومت سے رجسٹرڈ فرموں سے درخواست طلب کر لی۔رجسٹرڈ فرموں کو درخواست قومی ایئر لائن کو 13 فروری تک ارسال کرنا ہو گی۔

سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے عمران خان کے آنکھ کے علاج کی واضح رپورٹ عدالتی حکم کے باوجود جمع نہ کرائی گئی !!!عمران خان اور بشریٰ بی بی کا جیل رولز کے مطابق میڈیکل ٹریٹمنٹ کرایا جا رہا ہے، سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں جمع کرائی گئی ایک جملے کی رپورٹ

پی ٹی آئی کی کال پر کوئٹہ سمیت بلوچستان میں شٹر ڈاؤن ہڑتال، راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو سروس بندراولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع، میٹرو بس سروس بند,شہزاد ملک، بی بی سی اسلام آبادانتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف کی کال کے بعد راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کر دی گئی ہے جبکہ راولپنڈی اسلام آباد میں چلنے والی میٹرو بس سروس اور راولپنڈی میں چلنے والی الیکٹرک بس سروس مکمل بند کی گئی ہے۔راولپنڈی شہر میں بڑے کاروباری مراکز کھل رہے ہیں، سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول کے مطابق ہے۔سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی کے مطابق شہر بھر میں 82 مقامات پر خصوصی ناکے لگائے گئے ہیں اور شہر میں پولیس کے تین ہزار سے زیادہ افسران اور جوان سکیورٹی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 21 فروری تک توسیع کر دی گئی ہے اور شہر میں جلسوں، جلوسوں اور ریلیوں پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔نوٹیفیکیشن کے مطابق دفعہ 144 میں توسیع ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی کی سفارش پر کی گئی۔ نوٹیفیکیشن کے متن میں لکھا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی نے توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ ضلع راولپنڈی کی حدود میں ایک فوری اور سنگین خطرہ موجود ہے جو انسانی جان، عوامی املاک اور ضلع کے امن و امان کو داؤ پر لگا سکتا ہے۔نوٹیفیکیشن میں درج ہے:

’ضلعی کمیٹی نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر آگاہ کیا ہے کہ بعض گروہ اور عناصر بڑے اجتماعات، احتجاج اور انتشار انگیز سرگرمیوں کے ذریعے امن و امان بگاڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔‘ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں لکھا گیا ہے کہ ’یہ عناصر ایسے افراد کو متحرک کر سکتے ہیں جو اہم تنصیبات اور حساس مقامات کے قریب پُر تشدد کارروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔‘اس بنیاد پر راولپنڈی میں پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے کسی بھی ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اور نوٹیفیکیشن کے مطابق، کسی پولیس افسر نے عوامی اجتماع یا ٹریفک کی نقل و حرکت کو منظم رکھنے کے لیے کوئی رکاوٹ کھڑی کی تو اسے ہٹانے کی اجازت بھی نہیں ہو گی، بشکریہ بی بی سی

عثمان خان شاداب اور شاھین آفریدی کی جگہ نھی بنتی۔بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) کے صدر امین الاسلام بلبُل پاکستان پہنچ گئے ہیں۔فخر لمبے طارق اور نسیم شاہ کو کھلاے خواجہ نافع نہ کھلاے گئے تو ٹیم کا اللہ ھی حافظ۔افغان کا بچہ اور گدھے کا بچہ دنوں ھی بجپن میں پیارے ھوتے ھے تفصیلات کے لئے بادبان نیوز

پشاور میں زیرِ تعمیر پاکستان کے سب سے بڑے اور جدید ترین بس ٹرمینل کی تصاویر ہیں۔یہ میگا بس ٹرمینل نہ صرف پاکستان میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا منصُوبہ ہے بلکہ دُنیا کے بڑے بس ٹرمینلز میں بھی شُمار کیا جائے گا۔ اِس میں مسافروں کے لیے عالمی معیار کے مطابق جدید سہُولیات فراہم کی جائیں گی، جو پاکستان میں عوامی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک نیا معیار قائم کریں گی۔اِس منصُوبے پر تیزی سے کام جاری ہے اور ان شاء اللہ بہت جلد اس کا باضابطہ افتتاح کیا جائے گا،

وفاقی دارالحکومت میں دھماکے کے بعد امریکا نے اپنے شہریوں کیلیے پاکستان سے متعلق نیا سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اسلام آباد حملے کے بعد سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے پاکستان میں سفر کرنے والے امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی، کہا کہ امریکی شہری عوامی اجتماعات سے گریز کریں، اور اپنی ذاتی سیکیورٹی منصوبہ بندی کا از سرِ نو جائزہ لیں…امریکی شہری مقامی میڈیا پر صورت حال سے متعلق تازہ معلومات پر نظر رکھیں۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری غیر ضروری نقل و حرکت سے اجتناب کرتے ہوئے کم نمایاں رہیں… اپنے پاس ہر وقت شناختی دستاویز رکھیں اور سیکیورٹی اداروں سے مکمل تعاون کریں…امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ صورت حال کے پیش نظر حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کرنا ضروری ہے…

پاکستان کرکٹ ٹیم اگر انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرتی ہے ، تو پاکستان کے رن ریٹ کے اوپر بہت اثر پڑے گا ، پاکستان اگر نمیبیا یا یو ایس اے سے کسی ایک ٹیم سے میچ ہار جاتا ہے تو پاکستان کیلئے سپر 8 میں کوالیفائی کرنا مشکل ہو جائےگا۔ابھی پاکستان پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے نمبر پر ہے ، اگر اگلے مرحلے کیلئے کوالیفائی کرنا ہے ، تو یو ایس اے اور نمیبیا کو ہر حال میں شکست دینا ہو گی ، ورنہ پاکستان ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے باہر ہو جائے گا ۔

پشاور میں زیرِ تعمیر پاکستان کے سب سے بڑے اور جدید ترین بس ٹرمینل کی تصاویر ہیں۔یہ میگا بس ٹرمینل نہ صرف پاکستان میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا منصُوبہ ہے بلکہ دُنیا کے بڑے بس ٹرمینلز میں بھی شُمار کیا جائے گا

پشاور میں زیرِ تعمیر پاکستان کے سب سے بڑے اور جدید ترین بس ٹرمینل کی تصاویر ہیں۔یہ میگا بس ٹرمینل نہ صرف پاکستان میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا منصُوبہ ہے بلکہ دُنیا کے بڑے بس ٹرمینلز میں بھی شُمار کیا جائے گا۔ اِس میں مسافروں کے لیے عالمی معیار کے مطابق جدید سہُولیات فراہم کی جائیں گی،

جو پاکستان میں عوامی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک نیا معیار قائم کریں گی۔اِس منصُوبے پر تیزی سے کام جاری ہے اور ان شاء اللہ بہت جلد اس کا باضابطہ افتتاح کیا جائے گا،

بلوچستان کے تاریخ میں موجودہ چیف سیکرٹری شکیل قادر سے بڑا کرپٹ اور دو نمبر شخص آج تک تعینات نہیں ہوا، دیگر صوبوں کے افسران بلوچستان کو سونے کی چڑیا تصور کرتے ہے, اور اپنے پوسٹنگ کے آخری دن تک لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھتے ہے

بلوچستان کے تاریخ میں موجودہ چیف سیکرٹری شکیل قادر سے بڑا کرپٹ اور دو نمبر شخص آج تک تعینات نہیں ہوا، دیگر صوبوں کے افسران بلوچستان کو سونے کی چڑیا تصور کرتے ہے, اور اپنے پوسٹنگ کے آخری دن تک لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھتے ہے۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر نے افسروں کی شکل میں ایک گینگ بنایا ہے، ہر دو نمبر افسر کو اہم اور کمائی والی جگہ پر تعینات کیا جاتا ہے، یہ تعیناتی باقاعدہ ایک ڈیل کے تحت کرتے ہے، اصول یہ ہوتا ہے کہ جتنے پیسے آپ کمائیں گے اسکا ایک خاص حصہ چیف سیکرٹری کے پاس جاتا رہے گا، اسی طرح کرپٹ اور دو نمبر افسر پوسٹنگ کے لیے حامی بھرتے ہے اور یوں کرپشن کا سلسلہ جاری رہتا ہے، اور چیف سیکریٹری کو اپنا حصہ جاتا رہتا ہے۔چیف سکریٹری اور انکے دو نمبر ہمنوا ساتھی ہمارے نشانے پر ہے، ہم اپکی تمام غیر اخلاقی کام سامنے لائیں گے، اور اپکو کو ہم عوام کے سامنے اپکا اصل چہرہ دیکھائے گے۔ باہر سے دو نمبر افسر آکر بلوچستان کے لوگوں کے حقوق پر جو ڈھاکہ ڈالے گے وہ ہمارے ہاں رحم کے قابل نہیں رہتا۔چیف سیکرٹری شکیل قادر کے فرنٹ مین کا نام ڈاکٹر سجاد ہے، جو ایک فیڈرل پروجیکٹ کا پی ڈی ہے، اور ریٹائرڈ چیف انجینئر ہے، ڈاکٹر سجاد چیف سیکرٹری سجاد کی دو نمبر کمائی باقاعدہ اسلام آباد پہنچاتا ہے۔چیف سیکرٹری شکیل قادر نے سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ سے کروڑوں روپے سابقہ سیکرٹری لالا جان جعفر کے ساتھ مل کر کے کمائی کئ، اور موجودہ سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو بابر پر بھی چیف سیکرٹری کا ہاتھ نرم ہے اور اسی طرح کرپشن کے پیسے آج بھی جاری و ساری ہے۔ سیکریٹری خزانہ لال جان جعفر کی دو نمبری پر جلد تحقیقاتی سٹوری پیبلش کریں گے۔اگر آپکے پاس کسی بھی کرپٹ افسر کی کرپشن کے بارے میں معلومات ہے تو ہم سے صرف بذریعہ میسج اس نمبر کے وٹسائپ نمبر پر رابطہ کریں۔ اپکا نام ہمیشہ صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

اسلام آباد دھماکے کے بعد وزیرِ مملکت داخلہ کی پمز آمد پر شہریوں نے چھترول۔کرپشن بدعنوانی میں دلدل تک دھنسی ھوی حکومت عوام کو دھشت گردوں سے بچانے میں ناکام۔کرپشن بدعنوانی میں دلدل تک دھنسی ھوی۔۔حکومت عوام کو دھشت گردوں سے بچانے میں ناکام۔۔امریکی شہریوں کو فوری ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی گئی۔۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی تمام ٹویٹس دھماکے والی ڈیلیٹ۔ بڑی کامیابی، مذاکرات کامیاب، مٹھائیاں تقسیم۔۔۔ڈاکٹر عثمان پولیس گروپ کا چمکتا چہرہ تفص۔۔ بھارت برطانیہ کو ھرا کر ورلڈ چیمپئن بن گیا۔ملک بھر میں مزید دھشت گرد حملوں کا خطرہ۔دہشتگردوں نے اسلام آباد کو خون میں نہلا دیااور لاہور میں انتہائی ڈھٹائی سے بسبت۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

واشنگٹن: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے امریکی ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن رکن رابرٹ بی ایڈرہولٹ کی ملاقاتواشنگٹن: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور رابرٹ بی ایڈرہولٹ کے درمیان پرئیر بریک فاسٹ سے قبل ہونے والی ملاقات میں بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے سلسلے میں گفتگوواشنگٹن: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ریاست الاباما سے منتخب ہونے والے رابرٹ بی ایڈرہولٹ کے درمیان دوطرفہ ملکی تعلقات کے فروغ پر بھی بات چیتواشنگٹن: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور اپروپری ایشنز کمیٹی کے رکن رابرٹ بی ایڈرہولٹ کے درمیان بنیادی صحت اور تعلیم کے سلسلے میں مختلف تجاویز پر تبادلہ خیالواشنگٹن: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور رابرٹ بی ایڈرہولٹ کے درمیان پارلیمانی روابط بڑھانے کے سلسلے میں بھی گفتگو ہوئیواشنگٹن: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور رابرٹ بی ایڈرہولٹ کے درمیان ملاقات کے موقع پر سینیٹر اکبر خواجہ بھی موجود

ڈاکٹر عثمان انور صاحب سابق آئی جی پنجاب سدا کسی نے نہیں رہنا ،کسی عہدے پر آنا ہے تو ایک دن چھوڑنابھی ہے ،کسی اچھی یاد کے ساتھ رخصت ہوا جائے تو یہ خوش قسمتی ہوتی ہے ،پنجاب پولیس کی تاریخ میں اب تک 53 ائی جی ائے اور رخصت ہو چکے ۔آئی جی خان قربان علی خان اگست 1947ءکو پہلے پنجاب پولیس کے سربراہ تھے ۔ان کے بعد میاں انور علی اگست 1952ء ایس این عالم جون 1953ءاے بی اعوان مئی 1956ءایم شریف خان مئی 1958ء ایس ڈی قریشی جولائی 1963ءمیاں بشیر احمد جولائی 1968ء ایم انور آفریدی اپریل 1970ءصاحبزادہ رؤف علی اکتوبر 1972ءراؤ عبد الرشید اگست 1974ءعطا حسین اپریل 1976ءچودھری فضل حق مارچ 1977ءایم عارف جولائی 1977ءمسرور حسین ستمبر 1977ءحبیب الرحمان خان فروری 1978ءایم اعظم قاضی جولائی 1979

ءعبید الرحمان خان

نومبر 1980ءلئیق احمد خان جون 1981ءحافظ ایس ڈی جامی ستمبر 1985ء نثار احمد چیمہ اگست 1987ءمنظور احمد مارچ 1989ءسردار محمد چوہدری جون 1991ءجی اصغر ملک جون 1993ءایم عباس خان جولائی 1993ءذو الفقار علی قریشی اگست 1996ءچوہدری ایم امین نومبر 1996جہانزیب برکی مارچ 1997ءایم رفیق حیدر اکتوبر 1999ءملک آصف حیات جون 2000ءسید مسعود شاہ دسمبر 2002ءسعادت اللہ خان اپریل 2004ءضیاالحسن خان جون 2005ءاحمد نسیم دسمبر 2006ءشوکت جاوید اپریل 2008ءخالد فاروق فروی 2009ءطارق سلیم ڈوگر اپریل 2009ءجاوید اقبال جنوری 2011ءحاجی ایم حبیب الرحمان فروری 2012ء آفتاب سلطان اپریل 2013ءخان بیگ مئی 2013ءمشتاق احمد سکھیرا جون 2014ءکیپٹن (ر) ایم عثمان اپریل 2017ءکیپٹن (ر) عارف نواز خان جولائی 2017ءڈاکٹر سید کلیم امام جون 2018ءایم طاہر ستمبر 2018ءامجد جاوید سلیمی اکتوبر 2018ءکیپٹن (ر) عارف نواز خان اپریل 2019شعیب دستگیر نومبر 2019ء انعام غنی ستمبر2020ءراؤ سردار علی خاں 8 ستمبر 2021ءفیصل شاہکار 23 جولائی 2022ء عامر ذو الفقار 22 دسمبر 2022ءآئی جی پی ڈاکٹر عثمان انور 24 جنوری 2023ءان 53 سربراہان پنجاب پولیس میں کتنے ایسے ہوں گے جن کے نام لوگوں کو یاد ہوں گے؟ صرف چند ایک ۔نام زندہ رکھنے کے لیے کچھ منفرد کرنا پڑتا ہے ۔ڈاکٹر عثمان انور کچھ ایسے ہی تھے ۔پولیس کے لوگ ہوں یا پنجاب کے عام شہری ڈاکٹر عثمان انور کا نام اپنے ذہنوں سے کھرچنا بھی چاہیں گے تو نہیں کر پائیں گے ۔ہم اپنے کردار اور عمل سے زندہ رہتے ہیں ہمارا مثبت یا منفی کردار لوگوں کے ذہنوں میں ایک عرصہ تک رہتا ہے اس محکمہ کے لوگ ڈاکٹر عثمان انور کو یاد کر کر کے روئیں گے ،رینکرز ترقیوں کو ترستے ریٹائر ہو جاتے تھے لیکن کوئی نہیں سنتا تھا ،ڈاکٹر عثمان انور کے تین سالہ دور میں کانسٹیبل سے ایس پی تک ہزاروں رینکرز کی اتنی ترقیاں ہوئیں کہ ایک تاریخ رقم ہوئی ،52 ائی جیز کے دور کی ترقیاں ایک طرف اور اکیلے ڈاکٹر عثمان انور کے دور کی ترقیاں ایک طرف ۔ ،ڈاکٹر عثمان انور کے دور میں لاکھوں لوگوں کو پنجاب بھر میں واردات میں ہونے والے نقصان کی ریکوریاں ملیں

۔ڈاکٹر عثمان انور نے جہاں عوام کے لیے بہت سے کام کیے وہاں پولیس کے ساتھ ان کا رویہ بھی دوستانہ رہا بڑی سے بڑی غلطی پر بھی کسی کی عزت نفس مجروح نہیں کی اپ شاہد جٹ والے واقعہ کو ہی دیکھ لیں اس نے ائی جی پنجاب کو گالیاں دیں بدلے میں ڈاکٹر عثمان انور خود چل کر گئے، شاہد جٹ کو حوالات میں بند کرنے کے بجائے اس سے محبت اور شفقت والا رویہ رکھا ،اس کا علاج کروایا اسے نوکری سے نہیں نکالا ۔ایسی برداشت کس میں ہے ۔ڈاکٹر عثمان انور نے پولیس میں اصلاحات کے لیے بہت کام کیے جس طرح جرم ختم نہیں ہو سکتا کم ہو سکتا ہے اسی طرح پولیس کے محکمے میں بدعنوانی بھی ختم نہیں ہو سکتی کم ضرور کی جا سکتی ہے ۔ڈاکٹر عثمان انور اس میں کافی حد تک کامیاب رہے۔ڈاکٹر عثمان انور ایک وژنری ائی جی تھے ۔وہ چیزوں کو اور انداز سے دیکھتے تھے تبدیلی کے بہت خواہش مند تھے ۔ ۔ماضی میں پولیس کے شہداء کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی تھی یہ ڈاکٹر عثمان انور تھے جنہوں نے پولیس کے شہداء کے لواحقین کو عزت بخشی ،پاک فوج کے جوانوں کی طرح ان کا خیال رکھا ،شہداء کے لواحقین کو گھر لے کر دیے ،بچوں کی اعلی تعلیم و تربیت کا انتظام کرایا ۔ماضی کے 52 ائی جیز کے دور میں کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔سر آپ نے بطور آئی جی پنجاب بہترین کام کیا دعا ہے کہ آپ اسی طرح مسکراتے رہیں اور جہاں بھی جائیں کامیابی آپ کے قدم چومے۔۔۔

لیاقت علی خان کی وجہ سے پاکستان نے “کشمیر” کو کھویا۔

تحریر: ڈاکٹر مسعود طارق
تاریخ: 25 اپریل 2025

لیاقت علی خان کے بارے میں ایسا خاکہ بنا دیا گیا تھا کہ؛ اس کے کیے گئے فیصلے کے بارے میں سوال کرنے کی پاکستان میں کسی کو جسارت نہ تھی۔ اس کی ایک مثال یہ ھے کہ لیاقت علی خان نے سردار شوکت حیات خان کو کہا کہ؛ سردار صاحب !!! کیا میں پاگل ھوں جو حیدرآباد دکن کو جو کہ پنجاب سے کہیں بڑا ھے “کشمیر کی پتھریلی پہاڑیوں” کی خاطر چھوڑ دوں؟

پاکستان کے قیام کے بعد مسئلہ یہ تھا کہ مسلم لیگ کی اعلی قیادت کا تعلق ھندوستان سے تھا اور ان کے تعلقات یوپی ‘ سی پی ‘ بہار ‘ حیدرآباد دکن ‘ جوناگڑھ ‘ نئی دھلی وغیرہ میں تھے۔ ان کے ذھن پر حیدرآباد دکن اور جوناگڑھ کو پاکستان میں شامل کرنے کی دھن سوار تھی۔ انہیں پنجاب اور کشمیر سے دلچسپی نہیں تھی۔ نہ پنجاب کی زرعی معیشت کا احساس تھا۔ نہ یہ خیال تھا کہ؛ اگر کشمیر پر بھارت کا قبضہ ھوگیا تو پاکستان کو کیا اسٹریٹجک خطرات درپیش آئیں گے؟

بھارت کا پہلا نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل حیدرآباد دکن کے بدلے کشمیر پاکستان کو دینے کا خواھشمند تھا۔ بھارت کا آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن اکتوبر 1947 میں ٹھیک اسی دن سردار ولبھ بھائی پٹیل کی پیش کش لے کر پاکستان پہنچا جب بھارتی فوج پاکستان سے کشمیر میں گھسنے والے قبائلیوں کے لشکر کو پیچھے ھٹاتے ھوئے سری نگر پہنچ کر کنٹرول سنبھال چکی تھی۔

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم ‘ اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر لیاقت علی خان نے “جو نہ تو پاکستان کی تاریخ کو سمجھتا تھا اور نہ ھی جغرافیے کو سمجھتا تھا” لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی طرف سے پہنچائی جانے والی سردار ولبھ بھائی پٹیل کی پیش کش کو ٹھکرا دیا اور حیدرآباد دکن لینے پر زور دیا۔ لیاقت علی خان نے اپنا دل حیدرآباد دکن پر لگایا ھوا تھا اور “کشمیر کی پتھریلی پہاڑیوں” سے اسے دلچسپی نہیں تھی۔ جبکہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کا موفق تھا کہ؛ کشمیر پر پاکستان کا حق بنتا ھے لیکن حیدرآباد دکن پر حق نہیں بنتا۔

کانگریس کے سابق وزیر اور ممتاز کشمیری سیاستدان سیف الدین سوز نے چونکا دینے والا دعوی کیا ھے کہ؛ “پہلے دن سے ھی سردار پٹیل کا اصرار تھا کہ؛ کشمیر پاکستان میں جانا چاھیے۔ پارٹیشن کونسل میں انہوں نے لیاقت علی خان کو کشمیر لینے اور حیدرآباد دکن چھوڑنے پر راضی کرنے کی پوری کوشش کی”۔ سوز نے کہا کہ؛ ایک بیٹھک ھوئی تھی۔ چوھدری محمد علی اور ھمارا ریڈی وھاں تھا۔ سردار پٹیل نے لیاقت علی خان سے کہا کہ؛ حیدرآباد دکن کے بارے میں بات ھی نہ کریں۔ کیونکہ وہ پاکستان کے ساتھ جڑا ھوا نہیں ھے۔ آپ حیدرآباد دکن کو ھمارے پاس رھنے دیں اور کشمیر لے لیں۔

سوز نے کہا کہ؛ “میں آپ کو ایک بہت ھی دلچسپ کہانی سناتا ھوں۔ جب ھماری فوج سری نگر میں داخل ھوئی۔ اسی دن سہ پہر میں ماؤنٹ بیٹن لاھور گیا۔ گورنر جنرل پاکستان محمد علی جناح ‘ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان اور پاکستان کے چار وزراء کے ساتھ عشائیہ تھا۔ ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ؛ میں بھارت کی طاقتور ترین شخصیت سردار پٹیل کی طرف سے پیغام لایا ھوں۔ کشمیر لے لو اور حیدرآباد دکن کو چھوڑ دو۔ وہ پاکستان کے ساتھ جڑا ھوا نہیں ھے۔

سردار شوکت حیات خان نے اپنی کتاب The Nation That Lost Its Soul میں لکھا ھے کہ؛ ایک عشائیہ کے موقع پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پٹیل کا پیغام پہنچایا تھا۔ “پٹیل نے کہا تھا کہ؛ پاکستان کشمیر لے سکتا ھے اور حیدرآباد دکن دے سکتا ھے۔ جس کی اکثریت ھندو آبادی کی ھے اور وہ سمندر یا زمین کے ذریعے پاکستان کے قریب بھی نہیں ھے۔”

سردار شوکت حیات خان نے لکھا ھے کہ؛ یہ پیغام پہنچانے کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن لاھور گورنمنٹ ھاؤس میں سونے کے لیے چلے گئے۔ کشمیر آپریشن کا مجموعی انچارج ھونے کی وجہ سے میں لیاقت علی خان کے پاس گیا۔ میں نے اس کو مشورہ دیا کہ چونکہ بھارتی فوج کشمیر میں بھرپور طاقت کے ساتھ داخل ھوچکی ھے اور ھم قبائلی مجاھدوں یا اپنی ناکافی مسلح افواج کے ساتھ کشمیر کا الحاق کرنے میں کامیاب نہیں ھوسکیں گے۔ لہذا ھمیں پٹیل کی تجویز کو قبول کرنے میں جلدی کرنی چاھیے۔

لیاقت علی خان میری طرف مڑے اور کہا کہ؛ سردار صاحب !!! کیا میں پاگل ھوں جو حیدرآباد دکن کو جو کہ پنجاب سے کہیں بڑا ھے “کشمیر کی پتھریلی پہاڑیوں” کی خاطر چھوڑ دوں؟ میں وزیر اعظم کے رد عمل اور ھمارے جغرافیے کے بارے میں اس کی لاعلمی اور اس کے دانشمندی سے عاری ھونے پر حیران رہ گیا۔

میں نے سوچا کہ؛ وہ احمقوں کی جنت میں جی رھا ھے اور پاکستان کے لیے کشمیر کی اھمیت کو نہیں سمجھتا ھے۔ جبکہ حیدرآباد حاصل کرنے کی امید کر رھا ھے۔ جو کہ صرف سوچنے کی حد تک اچھی بات اور بہترین خواھش ھے۔ یہ پاکستان کے ساتھ کہیں سے بھی جڑا ھوا نہیں ھے۔ لہذا احتجاج کے طور پر میں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ جو کہ میرے پاس کشمیر آپریشن کے مجموعی انچارج کے طور پر تھا۔

سردار شوکت حیات خان نے اپنی کتاب میں لکھا ھے کہ؛ “لیاقت علی خان نہ تو تاریخ کو سمجھتا تھا۔ نہ جغرافیہ کو”۔ اس لیے اس نے پیش کش کو قبول نہیں کیا۔ سردار پٹیل کشمیر کو ایک پلیٹ میں رکھ کر دے رھا تھا۔ لیکن جذباتی وجوھات اور علم کی کمی کی وجہ سے لیاقت علی خان حیدرآباد دکن کو حاصل کرنا چاھتا تھا۔ جو کہ ایک ھندو اکثریتی علاقہ تھا اور اس کو چاروں طرف سے بھارتی علاقے نے گھیرا ھوا تھا۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ھوتا ھے کہ؛ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی حماقت کی وجہ سے کشمیر کو کھویا گیا۔ ھمیں یہ تبادلہ قبول کرنا چاھیے تھا کہ؛ پاکستان کشمیر کی ریاست کو لے لیتا جبکہ بھارت کو حیدرآباد دکن کی ریاست دے دیتا۔ حیدرآباد دکن کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا غیر منطقی عمل تھا۔ جو کہ بھارت کے قلب میں واقع تھا اور ایک ھندو اکثریتی علاقہ تھا۔ صرف حکمران مسلمان تھا۔ پاکستان لیاقت علی خان کی حماقت کو بھگت رھا ھے۔ لیاقت علی خان کو تبادلہ قبول کرنا چاھیے تھا۔ یہ اسی ناکامی کا نتیجہ تھا کہ؛ میجر جنرل اکبر خان راولپنڈی سازش میں شامل ھوا۔ اس کو سخت غصہ تھا کہ لیاقت علی خان کی سیاسی قیادت کی ناکامیوں کی وجہ سے کشمیر کو بہت برے انداز میں کھو دیا گیا ھے۔

کلدیپ نیئر نے اپنی کتاب Beyond the Lines—An Autobiography میں سردار پٹیل کے مستقل نظریہ پر لکھا ھے کہ؛ کشمیر کو پاکستان کا حصہ ھونا چاھیے۔ کلدیپ نیئر لکھتے ھیں کہ؛ “میرا تاثر یہ ھے کہ؛ اگر پاکستان صبر کرتا تو اس کو خود بخود کشمیر مل جاتا۔ بھارت اس پر فتح حاصل نہیں کرسکتا تھا اور نہ ھی ھندو مہاراجہ آبادی کی ساخت کو نظرانداز کرسکتا تھا جوکہ واضح اکثریت کے ساتھ مسلمان تھی۔ اس کے بجائے پاکستان نے بے صبری کرتے ھوئے آزادی کے چند دنوں بعد ھی قبائلیوں کو باقاعدہ فوج کے ھمراہ کشمیر میں بھیج دیا”۔

کلدیپ نیئر لکھتے ھیں کہ؛ “اگرچہ یہ سچ ھے کہ نہرو کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کا خواھشمند تھا لیکن پٹیل اس کے برعکس تھا۔ یہاں تک کہ جب نئی دھلی نے مہاراجہ کی بھارت کے ساتھ الحاق کی درخواست وصول کی۔ تو پٹیل نے کہا تھا کہ؛ “ھمیں کشمیر میں نہیں الجھنا چاھیے۔ ھماری پلیٹ میں پہلے ھی بہت کچھ ھے”۔ پٹیل اپنے اس خیال پر قائم رھا کہ؛ پاکستان کو حیدرآباد کی بات نہیں کرنی چاھیے۔ کشمیر کو پاکستان میں جانا چاھیے۔

چودھری محمد علی نے اپنی کتاب The Emergence of Pakistan میں کشمیر کے بارے میں پٹیل کے تاثرات پر ایک دلچسپ تفصیل پیش کی ھے۔ وہ لکھتے ھیں کہ؛ “پارٹیشن کونسل کے اجلاس میں شرکت کے دوران اگرچہ سردار پٹیل پاکستان کا ایک تلخ دشمن تھا لیکن وہ نہرو سے زیادہ حقیقت پسند تھا۔ دونوں وزرائے اعظم کے مابین ایک بات چیت میں سردار پٹیل اور میں بھی موجود تھے۔ لیاقت علی خان جوناگڑھ اور کشمیر کے حوالے سے بھارت کے موقف کی عدم مطابقت پر برھم تھے کہ؛

اگر جوناگڑھ اپنے مسلم حکمران کے پاکستان سے الحاق کرنے کے باوجود اپنی ھندو اکثریت کی وجہ سے بھارت کا حصہ ھے۔ تو پھر کشمیر اس کی مسلم اکثریت کے ساتھ ھندو حکمران کے بھارت سے الحاق کے مشروط معاھدہ پر دستخط کرنے کی وجہ سے بھارت کا حصہ کیسے ھوسکتا ھے؟

اگر مسلم حکمران کی طرف سے جوناگڑھ کے الحاق کے دستخط کرنے کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ تو پھر کشمیر کے ھندو حکمران کی طرف سے دستخط کیے جانے کی بھی کوئی حیثیت نہیں ھے۔

اگر جوناگڑھ میں لوگوں کی مرضی کو اھمیت حاصل تھی۔ تو پھر اسے کشمیر میں بھی اھمیت حاصل ھونی چاھیے۔

بھارت جوناگڑھ اور کشمیر دونوں پر دعوی نہیں کرسکتا۔

چودھری محمد علی لکھتے ھیں کہ؛ “جب لیاقت علی خان نے یہ متضاد نکات اٹھائے تو پٹیل خود پر قابو نہ رکھ سکے اور پھٹ پڑے”۔ آپ جوناگڑھ کا کشمیر کے ساتھ موازنہ کیوں کرتے ھیں؟ حیدرآباد اور کشمیر کی بات کریں۔ تاکہ ھم کسی معاھدے پر پہنچ سکیں۔ چودھری محمد علی مزید تبصرہ کرتے ھیں کہ؛ اس وقت اور اس کے بعد بھی “پٹیل” کے خیالات یہ تھے کہ؛ لوگوں کی مرضی کے خلاف مسلم اکثریتی علاقوں کو حاصل کرنے کی بھارت کی کوشش بھارت کی طاقت کا نہیں بلکہ کمزوری کا سبب بنے گی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ؛ اگر بھارت اور پاکستان ‘ کشمیر کو پاکستان اور حیدرآباد کو بھارت میں جانے دینے پر راضی ھوجاتے ھیں تو کشمیر اور حیدرآباد کا مسئلہ پر امن طریقے سے حل ھوسکتا ھے۔ جو کہ بھارت اور پاکستان کے باھمی مفاد میں ھوگا۔

اے جی نورانی ایک معروف اسکالر ھیں۔ جو مسئلہ کشمیر پر کافی معلومات رکھتے ھیں۔ انہوں نے پٹیل کی تجاویز پر لیاقت علی خان کے رویہ کا حوالہ دیا ھے۔ اپنے مضمون A Tale of Two States میں اے جی نورانی لکھتے ھیں کہ؛ “ایک چوتھائی صدی کے بعد 27 نومبر 1972 کو پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے لنڈی کوتل میں ایک قبائلی جرگہ کو بتایا کہ؛ بھارت کے پہلے وزیر داخلہ اور وزیر برائے ریاستی امور سردار پٹیل نے ایک مرحلے پر جوناگڑھ اور حیدرآباد کے بدلے میں پاکستان کو کشمیر دینے کی پیش کش کی تھی۔ لیکن “بدقسمتی سے” پاکستان نے اس پیش کش کو قبول نہیں کیا۔ اس کے نتیجے میں اس نے نہ صرف تینوں ریاستوں بلکہ مشرقی پاکستان کو بھی کھو دیا۔

جہاں تک جناح کی بات ھے تو وہ ایک وکیل تھے۔ انہوں نے جوناگڑھ کے بدلے واضح طور پر کشمیر کے تبادلے کی تجویز پیش کی تھی۔ کیونکہ دونوں ریاستیں متعدد طریقوں سے ایک دوسرے کا عکس تھیں۔

کشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست تھی جس کے غیر مسلم حکمران نے اپنی ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کرلیا تھا۔

جوناگڑھ ایک غیر مسلم اکثریتی ریاست تھی جس کے مسلم حکمران نے اپنی ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق کرلیا تھا۔

جناح کا استدلال تھا کہ؛ چونکہ جوناگڑھ قانونی طور پر پاکستان کا حصہ بن چکا ھے۔ لہذا پاکستان کا گورنر جنرل ھونے کے ناطے وہ ریاست کے مستقبل کے بارے میں بھارت کے ساتھ بات چیت کرنے کا حق رکھتے ھیں۔

لیکن چونکہ حیدرآباد کے حکمران نے اپنی ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں کیا۔ لہذا اسے ریاست کے مستقبل پر تبادلہ خیال کرنے یا حیدرآباد کے حکمران کو اس کی مرضی کے خلاف اپنی ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کے لیے مجبور کرنے کا اختیار نہیں ھے۔

افغان سرحد کے قریب تازہ پاکستانی حملےپاکستانی فوج نے افغان سرحد کے قریب کم از کم چوبیس عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ادھر افغان طالبان کا اصرار ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہے اور وہاں غیر ریاستی گروہوں کی کوئی موجودگی نہیں ہے۔پاکستانی فوج کی طرف سے افغان سرحد سے متصل علاقوں میں یہ تازہ کارروائی ایسے وقت میں کی، جب ملک کے جنوب مغرب میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی کارروائیوں میں ہلاکتوں کی تعداد 250 تک پہنچ گئی ہے۔فوج کے بیان کے مطابق، ہیلی کاپٹر گن شپ کی مدد سے پاکستانی فوجیوں نے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں دو مختلف مقامات پر پاکستانی طالبان کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے۔

‏جمعہ پڑھ کر واپسی پر دیکھا تو اسلام اۤباد کا سانحہ ہوچکا تھا۔ ٹی وی چینلز لگائے تو کسی چینل پر کوئی خبر نہیں تھی۔ بسنت کیلئے ہر چینل نے چھتیں بک کی ہوئی ہیں، وہاں پر رنگ برنگے کپڑوں میںملبوس اینکرز بھیجے ہوئے ہیں۔ گانے بج رہے ہیں اور بسنت منائی جا رہی ہے۔ ماضی میں جب کوئی بڑا سانحہ ہوتا تھا تو سوگ میں ٹی وی چینلز کے لوگو بلیک ہوجاتے تھے اور ہیڈلائنز کا میوزک بھی تقریباً بند کر دیا جاتا

اسلام آباد کھنہ پل کے علاقے ترلای میں امام بارگاہ میں خوفناک خود کش دھماکہ ، پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر روانہ…دھمکا جمعہ کی نماز کے دوران ہوا آئی جی اسلام آباد کی جانب سے اسلام آباد میں ایمرجنسی نافذ…

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ کے قریب دھماکے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں ابتدائی طور پر متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ذرائع کے مطابق دھماکا امام بارگاہ کے قریب ہوا، جبکہ ابتدائی طور پر اس نوعیت کو خودکش حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نفری اور بم ڈسپوزل اسکواڈ فوری طور پر موقع پر پہنچ گیا اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور دھماکے کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

امریکہ اور روس کے درمیان اخری جوہری معاہدہ ختم تیسری عالمی جنگ شروع۔۔بلاول بھٹو کی امریکہ اھم ترین شخصیات سے ملاقاتیں۔۔کامیاب آپریشن کے بعد کوئٹہ امن بحال 278 دھشت گرد ھلاک۔بسنت پاکستان اور بھوک میں مقابلہ جاری۔۔ریڈ زون سیل دھشت گردی کا خطرہ۔۔ ۔مودی سرکار کی چھٹی پریانکا گاندھی کی امد۔کوئٹہ ایکسپریس بحال۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

🛑 *آج دن بھر کیا کچھ ہوا؟* 🛑*🛑 05 فروری 2026 | بروز جمعرات | اہم خبروں کی جھلکیاں |*🚨(1) بھارتی جارحیت کشمیریوں کے حوصلے نہیں توڑسکی، کشمیر جلد آزادی کی نئی صبح دیکھے گا: فیلڈ مارشل🚨(2) پاکستان سلامتی کونسل کی قراردادوں کےمطابق عالمی فورمز پرمسئلہ کشمیرکو بھرپورانداز میں اجاگر کرتا رہے گا، سید عاصم منیر🚨(3) پاکستان کشمیریوں کے ساتھ ہے، بھارت جس زبان میں بات کرے گا اسی میں جواب دیں گے: وزیراعظم شہباز شریف🚨(4) اٹوٹ رشتوں اور لازوال محبتوں کی تجدید کا دن، ملک بھر میں آج یومِ یکجہتی کشمیر جوش وخروش سے منایا گیا🚨(5) یومِ یکجہتیٔ کشمیر: پاکستان تحریک انصاف کا کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی🚨(6) پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی ازبکستان کے صدر کو شاندار فضائی سلامی، ویڈیو جاری🚨(7) ازبک صدر کی پاکستان آمد، وزیراعظم ہاؤس میں استقبالیہ دیا گیا🚨(8) پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط🚨(9) کراچی میں ڈیفنس کی مصروف شاہراہ کے بل بورڈز پر نازیبا ویڈیو چل گئی، شہریوں میں غم و غصہ🚨(10) عمران خان کی صحت بگڑ رہی ہے، والد سے ملنے پاکستان جانا چاہتے ہیں، قاسم خان🚨(11) پی ٹی آئی ارکان کا قیادت پر اظہار برہمی، الزامات، اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی🚨(12) پی ٹی آئی کا مشال یوسفزئی کے بیانات پر ایکشن، شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ🚨(13) حکومت بلوچستان کا کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں صورتحال معمول پر آنے کا اعلان🚨(14) لاہور: بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کیلئے مختلف پابندیاں نافذ🚨(15) ڈی آئی خان : ایف سی ہیڈ کوارٹر پر کواڈ کاپٹر سے حملہ، حوالدار شہیـد، دو جوان زخمی🚨(16) پاکستان سے میچ ہو یا نہ ہو ہم سری لنکا جائیں گے، بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو🚨(17) شاید کچھ لوگوں کو بات پسند نہ آئے، ورلڈکپ میں پاکستان کے جیتنے کے امکانات روشن ہیں: سابق بھارتی کرکٹر ایشون🚨(18) بنگلادیشی ہمارے بھائی ہیں، بدقسمتی سے وہ ایونٹ میں شریک نہیں ہورہے، سلمان علی آغا 🚨(19) سندھ حکومت کا ڈی پورٹ افراد کی ایچ آئی وی، ٹی بی اور ہیپاٹائٹس کی لازمی اسکریننگ کا فیصلہ🚨(20) قازقستان کے گروپ کی گلگت بلتستان میں سونے کی کان کنی میں 20 ملین ڈالر سرمایہ کاری کی پیشکش🚨(21) نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ، پل بھی دھماکے سے اڑا دیا گیا🚨(22) ’شکریہ پاکستان‘، ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے متعلق شہباز شریف کے دبنگ بیان پر بنگلادیش کا ردعمل🚨(23) دہشت گردی کیخلاف جنگ میں حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں، مل کر کوششیں جاری رکھیں گے، سہیل آفریدی🚨(24) بلوچستان: آپریشن ردالفتنہ -1 کامیابی سے مکمل، 216 دہشت گر

د ہلاک، 36 معصوم شہری شہیـد، 22 بہادر جوانوں نے جا شہادت نوش کیا،

آئی ایس پی آر🚨(25) کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سید مونس عبداللہ علوی نے عہدے سے استعفا دیدیا🚨(26) لکی مروت، نامعلوم افراد نے گیس پائپ لائن کو دھماکا خیز مواد سے تباہ کر دیا🚨(27) محکمہ ریلویز نے کوئٹہ سے پشاور کیلئے جعفر ایکسپریس کو بحال کردیا🚨(28) کراچی؛ گلستانِ جوہرمیں مشتعل خاتون کا گاڑی پر پتھراؤ، ڈرائیور کو تھپڑ مار دیا، ویڈیو وائرل🚨(29) کراچی: سابق عالمی باکسنگ چیمپئن عامر خان کی عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر حاضری🚨(30) پاکستان اور بنگلادیش کو دبائیں گے تو کرکٹ تباہ ہوگی: ناصر حسین آئی سی سی پر برس پڑے🚨(31) وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی متوقع ملاقات؛ ، رانا ثنا اللہ نے تفصیلات بتا دیں🚨(32) عمران خان سے ملاقات کی کسی کو اجازت نہ ملی، چار ارکان اسمبلی گیٹ سے واپس🚨(33) عمران خان کی بہنوں پر جملے کسنے والوں کے لیے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں، بیرسٹر گوہر🚨(34) ’ سیفٹی راڈ نہ لگائی تو بائیک بند ہوگی‘ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ساتھ شہریوں کی سیلفیاں🚨(35) وزیراعلیٰ بلوچستان کا بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان اور ان کے سرپرستوں کو واضح اور دوٹوک پیغام🚨(36) بلاول بھٹو واشنگٹن میں انتہائی اہم نیشنل پریئر بریک فاسٹ میں شرکت کریں گے🚨(37) ہر شخص کو احتجاج اور جلسے کی اجازت ہے لیکن سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ🚨(38) دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں: چینی سفیر🚨(39) بسنت: 4 روز کے دوران ایک ارب 22 کروڑ سے زائد کی ڈور گڈی فروخت🚨(40) لاہور: بسنت آئی روزگار لائی، فوڈ اور ہوٹل انڈسٹری میں اربوں روپے کا کاروبار متوقع🚨(41) کویت: پاکستان نے ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کی صدارت سنبھال لی🚨(42) امریکا اور روس کے درمیان آخری جوہری معاہدہ ختم، دنیا ایک نئے خطرناک دور میں داخل🚨(43) وزیر اعظم شہباز شریف 13 سے 15 فروری کو جرمنی کا دورہ کریں گے*

🚨 *ڈی آئی خان : ایف سی ہیڈ کوارٹر پر کواڈ کاپٹر سے گولے فائر، حوالدار شہید**کئی جوان زخمی، واقعہ درازندہ میں ہیش آیا، زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا، کواڈ کاپٹر کی سمت کا اندازہ کیا جارہا ہے*ڈیرہ اسماعیل خان میں ایف سی ہیڈ کوارٹر کے گیٹ پر کواڈ کاپٹر سے دو گولے فائر کیے گئے جس میں حوالدار شہید ہوگئے۔پولیس کے مطابق فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر کے مین گیٹ پر کواڈ کاپٹر سے دو گولے فائر کیے گئے، گولے گرنے سے حوالدار امجد شہید ہو گئے۔پولیس کے مطابق واقعہ میں دو جوان زخمی بھی ہوئے ہیں، واقعہ تحصیل درازندہ میں ہیش آیا، زخمی جوانوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے، کواڈ کاپٹر کی سمت کا اندازہ کیا جا رہا ہے۔

**اڑان پاکستان پلان** میں **برآمدات** (Exports) کو مرکزی ستون بنایا گیا ہے، جس کا بنیادی ہدف موجودہ برآمدات کو تقریباً **ڈبل** کر کے **سالانہ $60 بلین** تک پہنچانا ہے (2029 تک)۔ یہ پلان برآمدات کی **تنوع سازی** (diversification) پر زور دیتا ہے تاکہ پاکستان صرف ٹیکسٹائل پر انحصار نہ رہے بلکہ نئی اور ہائی ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور خدمات کو فروغ دے۔ 📈💹### برآمدات کے کلیدی شعبے (Key Export Sectors) 🚀اڑان پاکستان کے آفیشل دستاویزات اور 5Es فریم ورک کے مطابق، برآمدات کی توسیع کے لیے **8 اہم شعبوں** پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے:1. **انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) اور ہائی ٹیکنالوجی مصنوعات/خدمات** – ہدف: **$10 بلین** تک آئی ٹی برآمدات (ICT exports)۔ – فری لانسنگ سے **$5 بلین** اضافی آمدنی۔ – سافٹ ویئر، آئی ٹی سروسز، اور ہائی ٹیک پروڈکٹس کو عالمی مارکیٹ میں لانا۔ 💻🌐2. **مینوفیکچرنگ (Manufacturing)** – ٹیکسٹائل کے علاوہ لائٹ انجینئرنگ (جیسے پنکھے، کٹلری)، آٹو پارٹس، فارما سیوٹیکلز، کیمیکلز، فٹ ویئر، اور ٹیکنیکل ٹیکسٹائلز۔ – ویلیو ایڈیشن اور جدید ٹیکنالوجی سے برآمدات بڑھانا۔ 🏭🔧3. **زراعت اور زرعی مصنوعات (Agriculture)** – چاول، پھل، سبزیاں، گوشت، مچھلی، اور پروسیسڈ فوڈ (فرٹس اینڈ ویجیٹیبل پروسیسنگ)۔ – چین سمیت نئی مارکیٹس میں اضافہ (مثلاً گوشت، فشریز، پھلوں کی برآمدات میں بہت پوٹینشل)۔ – موجودہ برآمدات: چاول ($2-2.5 بلین)، پھل/سبزیاں ($640-800 ملین)، گوشت ($225-340 ملین)۔ 🌾🍎🐟4. **کری ایٹو انڈسٹریز (Creative Industries)** – میوزیکل انسٹرومنٹس، جیمز اینڈ جیولری، ہینڈی کرافٹس، اور تخلیقی مصنوعات۔ 🎨🎸💎5. **معدنیات اور معدنیات (Minerals)** – مرمر، معدنیات، اور متعلقہ پروسیسڈ پروڈکٹس کی برآمدات بڑھانا۔

⛏️🪨6. **مانی پاور (Manpower Exports)** – ہنر مند افرادی قوت کی بیرون ملک ترسیل اور ریمیٹنسز میں اضافہ (خاص طور پر ہائی سکلڈ ورکرز)۔ 👷‍♂️✈️7. **بلیو اکانومی (Blue Economy)** – سمندری وسائل، فشریز، اور سمندری تجارت سے متعلق برآمدات۔ 🌊🛳️8. **دیگر ابھرتے شعبے** – سروسز ایکسپورٹس (جیسے آئی ٹی کے علاوہ دیگر سروسز)، لائٹ انجینئرنگ، اور نئی پروڈکٹس جیسے گیسٹ اینڈ جیولری۔### اضافی اقدامات اور حکمت عملی – **کلسٹر بیسڈ ڈویلپمنٹ**: مخصوص علاقوں میں انڈسٹریل کلسٹرز بنانا (جیسے زرعی اور انڈسٹریل کلسٹرز)۔ – **ایکسپورٹ ریڈی پروگرام**: SMEs کو عالمی معیار پر لانا اور نئی مارکیٹس تک رسائی۔ – **انسینٹوز اور پالیسیز**: نئی انسینٹو سٹرکچر، ٹیرف ریٹیشنلائزیشن، اور ٹریڈ ایگریمنٹس (جیسے EU GSP+، GCC FTA) کا فائدہ اٹھانا۔ – **CPEC اور علاقائی تجارت**: چین اور دیگر ممالک کے ساتھ زرعی اور دیگر برآمدات بڑھانا۔یہ شعبے پاکستان کی قدرتی صلاحیتوں، افرادی قوت، اور جغرافیائی پوزیشن کو استعمال کر کے **ایکسپورٹ لیڈ گروتھ** کو یقینی بنانے کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔ اگر یہ ہدف حاصل ہوا تو پاکستان کی معیشت ڈالر کی کمی اور قرضوں کے جال سے نکل کر **مستحکم ترقی** کی طرف بڑھے گی! 🇵🇰💪مزید تفصیلات کے لیے آفیشل ویب سائٹ دیکھیں: uraanpakistan.pk (Exports سیکشن)۔ ✨

ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے اعلیٰ وزارتی وفد کے ہمراہ گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز کا دورہ کیا جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صدر ازبکستان کا استقبال کیا۔صدر ازبکستان کو جدید دفاعی نظام، صنعتی صلاحیتوں اور تکنیکی شعبوں پربریفنگ دی گئی۔ازبک وفد نے گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز کی اہم تنصیبات کا معائنہ کیا، وفد نے پاکستان میں تیار کیے جانے والے جدید دفاعی آلات کا مشاہدہ کیا، وفد نے دفاعی پیداوار اور صنعتی ترقی میں پاکستان کی مہارت کو سراہا۔دونوں ممالک نے شراکت داری، علم کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں کی اہمیت پر زور دیا، دورہ پاکستان اورازبکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے استحکام اورمختلف شعبوں میں تعاون کی اہم پیشرفت ہے۔

‏فلک جاوید خان اور اس جیسے کئی لوگ اُس نظریے کی وجہ سے قید ہیں جس پر ہم سب کھڑے ہیں۔۔۔فلک جاوید کو نا حق قید ہوئے 134 دن گُزر چُکے ہیں اور ظلم فسطائیت ابھی تک جاری ہے۔۔۔

سنہری دور ۔ اظہر سید بہت شاندار دور تھا ۔ارمی چیف کا سمدھی بزنس ایمپائر چلا رہا تھا ۔ائی ایس آئی چیف ہاؤسنگ سوسائٹیوں پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دے کر مال جمع کرتا تھا۔ایجنسی چیف کا بھائی زمینوں پر قبضوں میں مصروف تھا ۔وزیراعظم توشہ خانہ کے تحائف بیچ رہا تھا ۔وزیراعظم کی بیوی ہاؤسنگ اسکیم کے مالک سے ہیرے کی انگوٹھیاں وصول کرتی تھی ۔بیوی کی سہیلی ٹرانسفر تبادلوں کے بزنس میں دونوں ہاتھوں سے کمائی میں مصروف تھی ۔بلین ٹری کے نام پر صوبے کو وفاقی محاصل سے ملنے والا حصہ آپس میں تقسیم ہوتا تھا ۔پشاور میٹرو کے نام پر اربوں روپیہ جیبوں میں ڈال لئے گئے تھے ۔نظام انصاف میں چیف جسٹس پارٹی ٹکٹ بیچ کر مال جمع کر رہا تھا ۔لندن ڈیم فنڈ ریزنگ میں پیسے جمع کر کے انیل مسرت کے زریعے لندن میں فلیٹ خریدے جا رہے تھے ۔ایک جج اتنے پیسے بنا رہا تھا اس کا نام ہی ٹرکاں والا پر گیا تھا ۔صحافیوں کی الگ لاٹری نکل آئی تھی ۔میاں بیوی کی جوڑی کے گھر شام کو محفل جمتی ۔ لندن فلیٹ، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف پراپیگنڈہ کی نئی ٹیکنیکس پر گفتگو ہوتی ۔ایک یوٹیوبر پنجاب بھر میں بل بورڈ کے ٹھیکوں سے دھڑا دھڑ پیسے بنا رہا تھا

۔ایک اپنے آن لائن رسالے میں امیج بلڈنگ کے نام پر کروڑوں کے اشتہار وصولتا تھا ۔پارلیمنٹ ایک کرنل کے اشارے پر قانون سازی کرتی تھی ۔سینٹ میں واضح اکثریت کے باوجود اپوزیشن کا امیدوار ہار جاتا تھا ۔ریاست کے تینوں ستون پارلیمنٹ،عدلیہ اور انتظامیہ ہی ریاست کو گھن کی طرح کھا رہے تھے ۔چوتھا ستون کہاں پیچھے رہتا میڈیا کی پانچوں انگلیاں گھی اور سر کراہی میں تھا۔پاؤں کے انگوٹھوں سے ووٹ لینے والا ڈپٹی اسپیکر بنا دیا گیا تھا اور حکم امتناعی پر سارا وقت گزار گیا ۔ایم آئی چیف جو سب کچھ جانتا تھا ائی ایس آئی چیف بھی رہ چکا تھا اسے گرجرانوالہ کی کور دے کر ایک ٹائلوں والا اس کے پیچھے لگا دیا “مجھ سے رشوت مانگی ہے”چند کمانڈر ہڑبڑا کر جاگ گئے “ملک ٹوٹ جائے گا”چیف کو بتا دیا کھیل ختم کیا جائے ۔یہ چند سرپھرے محب وطن کمانڈر ہی تھے جنہوں نے چیف کی تین ماہ اور چھ ماہ ایکسٹنشن کا دانہ چگتے سے بھی انکار کر دیا۔قریبی لوگوں کو ڈرایا لانگ کورس والا چیف نہ بنا تو شارٹ کورس والا کسی کو نہیں چھوڑے گا۔کمانڈروں کے گروپ نے واضح کر دیا جو بھی آئے نو ایکسٹنشن ۔ وزیراعظم فیصلہ کرے گا۔دھمکی دی چیف جسٹس جونئیر چیف کے خلاف کیس شنوائی کیلئے منظور کر لے گا ادارے میں بیرونی مداخلت ہو جائے گی ۔جواب ملا دیکھ لیں گے ۔پھر دیکھ لیا گیا ۔عدالت خود چور تھی ایک ہی ملاقات پر سہم گئی ۔ڈر گئی ۔بھاگ گئی ۔نیا چیف آ گیا۔ نیا پاکستان بن گیا۔نادہندگی ٹال دی گئی ۔نو مئی کو چین آف کمانڈ توڑنے کی سازش کی گئی ،چین آف کمانڈ نے ہی اسے ناکام بنا دیا۔پالتو اینکروں کی لال کی گئی بیشتر ملک سے بھاگ گئے ۔غلیظ ججوں کو ایک ایک کر کے ٹھکانے لگایا گیا۔آئینی ترامیم سے عدلیہ کے دانت اور ناخن نکال دئے گئے ۔جسے اثاثہ بنایا تھا ۔جو جماعت گملے میں اگائی تھی ۔اسے دھوپ ،پانی اور ہوا سے محروم کر دیا گیا ۔مسائل ہیں۔مشکلات ہیں لیکن سب خلوص کے ساتھ ماضی کی غلطیاں درست کرنے میں مصروف ہیں ۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد

اسلام آباد روالپندی مکمل طور پر سیل ایک غیر ملکی مھمان نے 70 لاکھ افراد کو یرغمال بنا دیا۔۔فیلڈ مارشل عاصم منیر آزاد کشمیر کے بارڈر پر۔وزیر اعطم کا دورہ آزاد کشمیر۔۔ بو کاٹا اور پاکستان۔۔ ۔۔کور کمانڈر پشاور کی وزیراعلی ھاوس میں صوبائی کابینہ کو بریفنگ۔بھوک اور افلاس جاری پاکستان میں مھنگای اور بیروزگاری کرپشن نے امیدیں ختم کر دی۔تفصیلات جاننے کے لیے سھیل رانا لاءیو میں۔بنگلادیش حکومت نے بھارت سے ورلڈکپ میچ نہ کھیلنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔۔ کور کمانڈر پشاور صوبائی کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

-ازبکستان صدر۔۔۔وزیراعظم ہائوس آمدازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کا وزیراعظم ہاؤس آمد پر پرتپاک استقبال، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیر مقدم کیا ،باضابطہ استقبالیہ تقریب ، مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیااسلام آباد۔5فروری :ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کا وزیراعظم ہاؤس آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے معزز مہمان کا خیر مقدم کیا، دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور ان کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا۔جمعرات کو وزیراعظم ہاؤس آمد پر ازبکستان کے صدر کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی، تقریب کے آغاز پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے، مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے ازبکستان کے صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا،شوکت مرزائیوف نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا

۔وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کے ارکان کو ازبکستان کےصدر سے متعارف کرایا جبکہ شوکت مرزائیوف نے اپنے وفد کے ارکان کا وزیراعظم محمد شہباز شریف سے تعارف کرایا۔شوکت مرزائیوف کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی پاکستان پہنچا ہے جس میں وفاقی کابینہ کے سینئر وزراء اور کاروباری شخصیات شامل ہیں ۔ ازبکستان کے صدر وزیراعظم کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات میں شرکت سمیت صدر مملکت سے ملاقات کریں گے اور پاک۔ازبکستان بزنس فورم سے خطاب بھی کریں گے ۔ اس موقع پر دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور تجارت، توانائی، دفاع، تعلیم، عوامی روابط اور علاقائی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے نئی راہیں تلاش کی جائیں گی۔ ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کا پاکستان کا دوسرا دورہ ہے جو پاکستان اور ازبکستان کے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت اور دونوں برادر ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ تعلقات مشترکہ تاریخ، مشترکہ عقیدے اور وسطی و جنوبی ایشیا میں امن و خوشحالی کی مشترکہ امنگوں پر مبنی ہیں۔

5 فروری 2026وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ازبک صدر عزت مآب شوکت مرزایوف کی ازبکستان اور پاکستان کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلوں کی تقریب میں شرکت اور گفتگو پاکستان ٹیلی ویژن اب سے کچھ دیر بعد براہ راست نشر کرے گا.

بلوچستان میں 216 عسکریت پسند ہلاک، فوجی آپریشن ختمآئی ایس پی آر کے مطابق، ’’ان مربوط کارروائیوں اور بعد ازاں کلیئرنس آپریشنز کے نتیجے میں 216 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جس سے دہشت گرد نیٹ ورکس کی قیادت، کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچوں اور عملی صلاحیتوں کو شدید نقصان

بنگلادیش حکومت نے بھارت سے ورلڈکپ میچ نہ کھیلنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے پاکستان نے بنگلادیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے باہر کیے جانے پر احتجاجاً بھارت کے ساتھ میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیاتھا

پیکج IV کے تحت تاریخی ریگولیٹری اصلاحات کی منظوری، پاکستان میں کاروباری ماحول بہتر بنانے کی جانب بڑا قدم کیبنٹ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات (CCORR) نے پاکستان کے ریگولیٹری نظام کو مؤثر، شفاف اور کاروبار دوست بنانے کے لیے ریگولیٹری اصلاحات کے پیکج IV کی منظوری دے دی ہے۔

حکومتِ پاکستانوزیرِاعظم آفسبورڈ آف انویسٹمنٹ (BOI)پیکج IV کے تحت تاریخی ریگولیٹری اصلاحات کی منظوری، پاکستان میں کاروباری ماحول بہتر بنانے کی جانب بڑا قدماسلام آباد، 4 فروری 2026کیبنٹ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات (CCORR) نے پاکستان کے ریگولیٹری نظام کو مؤثر، شفاف اور کاروبار دوست بنانے کے لیے ریگولیٹری اصلاحات کے پیکج IV کی منظوری دے دی ہے

۔ ان اصلاحات کا مقصد ریگولیٹری رکاوٹوں کا خاتمہ او کاروباری اداروں کے لیے تیز، واضح اور قابلِ اعتماد نظام فراہم کرنا ہے۔وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ، جناب قیصر احمد شیخ نے CCORR کے چھٹے اجلاس کی صدارت کی، جبکہ وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، جناب ہارون اختر بھی اجلاس میں شریک تھے۔وفاقی وزیر نے پاکستان کو ایک مسابقتی اور کاروبار دوست ملک بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریگولیشنز کو سمارٹ، مؤثر اور بروقت ہونا چاہیے۔ انہوں نے کمپنیز ایکٹ 2017 کے جامع جائزے پر SAPM کی کاوشوں کو سراہا اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) اور BOI کے مابین قریبی تعاون کو ایک جامع اور مشاورتی عمل قرار دیا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ اب تک 68 ریگولیٹری اصلاحات کامیابی سے نافذ ہو چکی ہیں جبکہ 82 اصلاحات تاخیر کا شکار ہیں، جن پر متعلقہ اداروں سے تفصیلی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے تمام اداروں کی فعال شرکت کو سراہتے ہوئے BOI کی مسلسل نگرانی اور رابطہ کاری کی تعریف کی۔وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریگولیٹری اصلاحات موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

منظور شدہ اصلاحاتی پیکج میں فارِن ایکسچینج مینجمنٹ کی بہتری، وینچر کیپیٹل کے جدید فریم ورک کی تشکیل، سرجیکل آلات کی صنعت کے لیے ریگولیٹری تقاضوں میں نرمی، اور خیبر پختونخوا میں اہم ریگولیٹری اصلاحات شامل ہیں۔بورڈ آف انویسٹمنٹ ریفارمز ٹیم نے فارن ایکسچینج مینجمنٹ کے لیے مرحلہ وار اصلاحاتی حکمتِ عملی پیش کی، جس میں 16 قلیل مدتی اصلاحات، درمیانی مدت میں لبرلائزیشن روڈ میپ، اور طویل مدتی اصلاحات بشمول FERA ایکٹ 1947 کی جگہ نیا قانون شامل ہے۔کمیٹی نے BOI کی جانب سے پیش کردہ تمام اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات سرمایہ کی آمد و رفت اور برآمدات کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ان اصلاحات پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔وینچر کیپیٹل اصلاحات پر گفتگو کرتے ہوئے BOI نے اسٹارٹ اپس اور جدت طرازی میں سرمایہ کاری کے فروغ پر زور دیا۔ SAPM نے نوجوان آبادی کو پاکستان کا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اصلاحات وقتی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر کی جا رہی ہیں۔ کمیٹی نے SECP کو 30 دن میں علیحدہ وینچر کیپیٹل فریم ورک جمع کرانے کی ہدایت دی۔سرجیکل آلات کی صنعت کے لیے سنگل ونڈو درخواست فارم متعارف کرانے کی منظوری دی گئی، جہاں اس وقت 114 دستاویزات جمع کروائی جاتی ہیں۔ DRAP کے تحت رسک بیسڈ ریگولیٹری نظام کی تجویز دی گئی، جس سے 6.8 ملین روپے کے معاشی فوائد متوقع ہیں۔

پنجاب حکومت کو صوبائی سطح پر عملدرآمد کی قیادت سونپی گئی۔خیبر پختونخوا میں 46 اہم ریگولیٹری طریقہ کار کے جائزے کو سراہتے ہوئے کمیٹی نے فوری عملدرآمد کی ہدایت کی۔اجلاس کے اختتام پر حکومتِ پاکستان نے سرمایہ کار دوست، مربوط اور مؤثر ریگولیٹری اصلاحات کے عزم کا اعادہ کیا۔بورڈ آف انویسٹمنٹ ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری آسانیوں اور ریگولیٹری اصلاحات کے تسلسل کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، جو وزیرِاعظم کے معاشی وژن سے ہم آہنگ ہیں۔