انتخابی نتائج آنے کے بعد ابتدائی تین گھنٹے تک جماعت اسلامی کی کامیابی کی اطلاعات تھیں۔ اس دوران میں بی این پی نے خاموشی اختیار کیے رکھی پھر انتخابی نتائج رک گئے۔بعد کی اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن کے تھرڈ فلور پر غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی۔ اس کے بعد بی این پی نے 160 نشستوں پر کامیابی کا اعلان کر دیا۔ڈھاکا میں موجود ایک قابل اعتماد صحافی کے مطابق اب نشستوں کی گنتی بے معنی ہو چکی ہے۔ نتیجہ وہی ہو گا جس کا کل دوپہر سرکاری طور پر اعلان کیا جائے گا۔
اچانک سے ایک خبر ائ کہ حاجی صاحب کا باتھ روم میں پاؤں سلپ ہوا اور متعدد گھاؤ آۓکیا باتھ روم میں گرنے کی خبر اتنی اہم تھی کہ میڈیا پہ خصوصی خبر نشر کی جاتی حالانکہ ایسی خبر کی اشاعت کی کوئ خاص تک نہیں بنتی اگر ایسا کوئ واقعہ ہوا بھی تو خاموشی سے میڈیا کو بھنک پڑے بنا ہسپتال میں علاج ہوتا اس خبر کی خصوصی اشاعت کے پیچھے کوئ نہ کوئ کھچڑی پک رہی ہے اب کیا ہے جلد کٹی کٹا کھل جاۓ گااب عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھی ایک تشویش ناک رپورٹ سپریم میں جمع کروائ گئ ہے جسے سپریم کورٹ نے خود عوام تک حقائق پہنچانے تھے لیکن کل سے اب تک مکمل خاموشی ہے اور پیرسٹر سلمان صفدر بھی ابھی تک عمران خان کی صحت بارے بات کرنے سے گریزاں ہیںتو یقیننا حاجی صاحب کے گرنے کی ٹرک والی بتی کے پیچھے عوام کو لگا کہ عمران خان کی رپورٹ سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے یا کوئ اور خاص مقصدایویں ہی نہیں خصوصی ٹکر میڈیا پہ چلاۓ گۓدال میں کچھ کالا نہ ں پوری دیگ کالی ہے
افغان حکمران اپنے دین کو سمجھیں۔ علم حاصل کرنا دین کا حصہ ہے۔ کسی لڑکی کو دین کے نام پر تعلیم سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ لڑکیوں کو تعلیم کے حصول سے روکنا اسلام کے پیغام کیخلاف ہے۔ میں افغان لڑکیوں کے ساتھ کھڑی ہوں۔ ملالہ یوسفزئی
کاشتکار پر رحم کریں ۔ اظہر سید مہنگی سبزیاں اور مہنگے پھل عوام کو کم قیمت پر مل تو رہے ہیں لیکن ساٹھ فٹ فیصد زراعت سے منسلک عوام کی امیدوں اور خواہشات کا خون ہول سیل سبزی اور فروٹ منڈی میں اس طرح بہہ رہا ہے گویا ہلاکو خان نے بغداد میں خون کی ندیاں بہا دی ہوں ۔پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں انتہائی درجہ پر ہیں کھیت سے منڈی تک پھل اور سبزیوں کی منتقلی کے کرایہ میں ہی کسان کی پتلی کمر ٹوٹ جاتی ہے ۔صبح بیٹی کو یونیورسٹی چھوڑ کر مالکوں کے حکم پر منڈی گئے ہر طرف گویا ظلم کی داستانیں بکھری نظر آرہی ہے تھیں ۔شاندار پھیکے الو ڈیڑھ سو روپیہ کے پانچ کلو تھے ۔ہم نے دل گرفتگی سے سوچا کسان کو ٹرک کا کرایہ ادا کرنے کے بعد کیا ملا ہو گا ۔اس نے چھ ماہ فصل کی حفاظت کی ۔پانی اور کھاد ڈالی ۔فصل کاٹی اور منڈی میں پانچ کلو کے صرف ایک سو پچاس روپیہ ؟ٹماٹر ایک سو روپیہ کے کلو ۔امرود ستر روپیہ کے کلو ۔شاندار مالٹے کینو،موسمبی ،سنگترے ایک سو پچاس سے دو سو روپیہ درجن ۔بھنڈی ستر روپیہ،اروی ،پچاس روپیہ ،مٹر پچاس روپیہ کلو ۔ہم خریداری کرتے وقت یہی سوچ رہے تھے شہری ابادی دیہاتوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی ملا کر بھی چالیس فیصد ہو گی ۔دیہی ابادی تو ساٹھ فیصد ہے ۔جب گنا آتا ہے لکڑی سے کم بھاؤ پر بیچو ۔جب گندم آتی ہے 35 سو روپیہ من فروخت کرو بعد میں بھلے دس کلو آٹا شہرو میں ڈھائی ہزار کا فروخت ہو ۔
ایک پاؤ آلو کے چپس کا غیر ملکی پیکٹ تین سو روپیہ کا ہے ۔ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ٹماٹو کیچپ یا مالٹے کے جوس کی چھوٹی سے بوتل مہنگے داموں بکتی ہے تو کیوں ایسی پالیسیاں نہیں بناتے کسانوں کی اجناس ویلوایڈ وہیں پر ہو سکیں ۔چین میں فصلوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے صنعتی یونٹ ہیں جو ویلو ایڈیشن کے بعد وہیں پیکجنگ بھی کرتے ہیں ۔ہمارا بدقسمت کسان ڈیڑھ سو روپیہ کے پانچ کلو شائد سو روپیہ کے پانچ کلو بیچنے پر مجبور ہے کہ آڑھتی سے منڈی کے ریڑی والے تک یہ ڈیڑھ سو روپیہ کے پانچ کلو بک رہے ہیں۔چالیس فیصد شہریوں کو تو کم قیمت پر چیزیں مل جائیں گی جو ساٹھ فیصد اگلی دفعہ یہ فصل ہی نہیں اگائیں گے تو پھر حکومت والے یہ درآمد کریں گے اور پانچ سو روپیہ کا ایک کلو بیچیں گے ۔فائدہ اپنے کسان کو نہیں غیر ملکی کسان کو پہنچائیں گے ۔بس اتنی سے کہانی ہے ۔
تم واپس کیوں آگئے ہو، یہاں تم نے کیا کرنا ہے ۔۔۔؟؟ 30 سال دبئی اور 10 سال انگلینڈ میں ملازمت کرکے کروڑوں روپے کمانے والا لاہور کا ایک بزرگ سب کچھ بیوی بچوں کو لٹا کر اولڈ ہوم میں رہنے پر مجبور ۔۔۔۔۔۔سمن آباد کے حنیف صاحب 1975 میں دبئی چلے گئے ، یہ وہاں ایک سرکاری محکمے میں آپریٹر کے طور پر کام کرتے تھے ، 30 سال اسی کمپنی میں رہے اور سپروائز بن کر ریٹائرڈ ہوئے تو انگلینڈ چلے گئے ، 10 سال وہاں ملازمت کی ، اس دوران گھر کا چکر بھی ہر سال دو سال بعد لگا لیتے ، ان سے غلطی یہ ہوئی کہ جو کمایا بیوی کے اکاؤنٹ میں بھیج دیا ، بیوی نے کچے مکان سے شاندار کوٹھی بنا لی ، 2 بیٹوں اور 2 بیٹیوں کو شاندار تعلیم دلائی گئی ، انگلینڈ میں حنیف صاحب کے روم میٹ انہیں اکثر کہتے ، سب کمائی پاکستان نہ بھیجا کرو کچھ برے دنوں کے لیے اپنے پاس محفوظ رکھو مگر حنیف صاحب کا جواب ہوتا مین نے کیا کرنے ہیں پیسے جو کچھ ہے بچوں کا ہے مر جاؤں گا تو تب بھی تو بچے ہی وارث ہونگے ، قصہ مختصر 40 سال بیرون ملک کمائیاں کرکے حنیف صاحب گھر آگئے تو ہر روز گھر میں لڑائی ہونے لگی ، بیوی کہتی تمہارے بغیر ادھر کونسا کام ہے جو نہیں ہورہا تم واپس آئے کیوں ہو ، جب یہ جھگڑا ہر دوسرے چوتھے دن ہونے لگا تو حنیف صاحب عمر رفتہ کو یاد کرکے رو پڑے اور سوچا کاش اب وہ دوبارہ واپس دبئی یا انگلینڈ جا سکتے ، تو کبھی مر کر بھی واپس نہ آتے مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا اب انکی واپسی ناممکن تھی چنانچہ ایک روز حنیف صاحب نے فیصلہ کیا اور لاہور میں ہی ایک اولڈ ہوم میں شفٹ ہو گئے ، چند روز بعد ہی اے آر وائی ٹی وی چینل کے لیے انکا انٹرویو ہوا ، یہ انٹرویو نشر ہوا تو انگلینڈ والے ان کے روم میٹ دوستوں نے کسی نہ کسی طرح پتہ کرکے اولڈ ہوم فون کیا اور کہا : حنیف صاحب: کیا ہو گیا ، آپ کہاں پہنچ گئے ، آپ کے گھر والے خیریت سے ہیں ؟ اب حنیف صاحب انہیں کیا بتاتے کہ انکی کمائی سے بیٹے موجیں کررہے ہیں نئے نئے ماڈل کی گاڑیوں میں پھرتے ہیں اور انکے لیے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں جو ان کے خون پسینے کی کمائی سے بنا ہے ۔۔۔ ان دوستوں نے یہ بھی پیشکش کی کہ آپ گوجرانوالہ ہمارے گھر چلے جائیں ، وہاں ٹھاٹ سے رہیں ، نوکر چاکر آپ کی دن رات خدمت کریں گے ۔۔۔۔۔۔ مگر حنیف صاحب نے یہیں اولڈ ہوم میں رہنا مناسب سمجھا ، یہاں عزت بھی ہے ، پیار بھی ، اور خیال بھی رکھا جاتا ہے ۔۔۔۔ یہ اولڈ ہوم انکے گھر سے بہتر ہے جہاں انکی لالچی بیوی اور ڈالروں سے پالے ہوئے بیٹے اور بیٹیاں رہتے ہیں ۔۔۔۔۔ حنیف صاحب کے بقول کاش میں اپنی کمائی کا آدھا حصہ اپنے پاس رکھتا تو آج یہی گھر والے جو ڈیڑھ سال ہو گیا ایک بار مجھے یہاں اولڈ ہوم میں دیکھنے تک نہیں آئے ، سب کے سب میری اجازت کے بغیر کوئی قدم بھی نہ اٹھاتے ۔۔۔ سچ کہتے ہیں دنیا مطلب دی او یاد دنیا مطلب دی ۔۔۔۔ #FB
شہباز حکومت کا عوام پر دن دھاڑے ڈاکہ۔۔۔شہباز حکومت کا عوام دشمن فیصلہ۔۔آئی پی پیز (IPPs)کی ناکامی کا بوجھ غریب/متوسط پر ڈالنے کی گھٹیا حرکت، اب حکومت عوام سے اضافی بجلی 11 روپےفی یونٹ میں خریدے گی(جبکہ یہی حکومت آئی پی پیز سے 30 روپے یونٹ تک بجلی خرید رہی ہے)لیکن وہی بجلی گرڈ سے40 روپے(بعض سلیبز کیمطابق 50 روپ فی یونٹ )میں عوام کو بیچے گی! پرانا یونٹ فار یونٹ ختم، اب لوٹ مار،دن دھاڑے ڈاکہ۔۔حکومت/نیپرا نے ہزاروں گھروں کے شمسی سسٹم کو تباہ کردیا ،نیپرا نوٹیفکیشن جاری۔پاکستان رائٹس موومنٹ اس کو عدالت میں چیلنج کرے گی۔عوام اس ظلم/ڈاکے کیخلاف آواز اٹھائیں،
سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ باتھ روم میں پھسلنے کے بعد ہسپتال منتقل۔ ان کے ایک فیملی ممبر نے مجھے تصدیق کی کہ سابق آرمی چیف کل باتھ روم میں پھسل گئے اور انہیں فوری طور پر ملٹری ہسپتال راولپنڈی منتقل کیے گئے جہاں گھٹنے اور سر کی چوٹ (زیادہ شدید نہیں) کا معائنہ کیا گیا۔ فورا ان کے دونوں بیٹے بھی پاکستان پہنچ گئے اور اب وہ ہسپتال میں والد کے ساتھ ہیں۔ ڈاکٹرز کی ٹیم انکی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ وہ مستحکم ہیں اور مزید مشورے تک ہسپتال میں رہیں گے،
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ آمدوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی صوبائی کابینہ اور اراکین اسمبلی کی جانب سے پرتپاک استقبال وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی بلوچستان کابینہ اور اتحادی جماعتوں کے اراکین سے ملاقات وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے مریم نواز شریف کو بلوچستان آمد پر خوش آمدید کہاوزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی کوئٹہ میں بات چیت خوشی ہے کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ میرا پہلا دورہ بلوچستان کا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریفبلوچستان کے عوام کا جذبہ اور پاکستان سے وابستگی قابلِ ستائش ہے۔ مریم نواز شریفبلوچستان کو درپیش چیلنجز میں حکومت پنجاب ہر ممکن تعاون کرے گی۔ مریم نواز شریفہم بلوچستان کے ساتھ ہیں، دہشت گردی کا خاتمہ قومی یکجہتی سے ممکن ہے۔ مریم نواز شریفبلوچستان میں امن ، استحکام اور خوشحالی دیکھنا چاہتے ہیں۔ مریم نواز شریفبلوچستان میں خیرمقدم کرنے پر وزیراعلیٰ بلوچستان کی شکر گزار ہوں۔ مریم نواز شریفبلوچستان کے لوگوں کی ملک کے ساتھ عقیدت کو سراہتی ہوں۔ مریم نواز شریف وزیراعلیٰ بلوچستان موجودہ حالات میں بہت اچھا کام کررہے ہیں۔ مریم نواز شریفبلوچستان کے لئے پنجاب کے وسائل اور خدمات حاضر ہیں۔ مریم نواز شریف بلوچستان کے عوام اور حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ ہیں۔ مریم نواز شریف دعا ہے کہ بلوچستان خوب آگے بڑھے، امن و امان اور خوشیوں کا گہوارہ بنے۔
مریم نواز شریفخوشی ہوگی کہ بلوچستان کے عوام کی خدمت کر سکوں۔ مریم نواز شریفحوصلے اور استقامت کے ساتھ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی صوبے کے معاملات چلارہے ہیں۔ مریم نواز شریفبلوچستان کو فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن میں ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ مریم نواز شریفدعا ہے کہ بلوچستان سے دہشت گردی کا جلد خاتمہ ہو۔ مریم نواز شریفعزت افزائی کرنے پر گورنر اور سی ایم بلوچستان کی شکر گزار ہوں۔ مریم نواز شریفسیکیورٹی کے لئے معاونت مثبت اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹیبلوچستان میں امن اور عوامی فلاح کے لئے متحد ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی
راولپنڈی پیرودھائی کے لوہارہ بازار میں ایک شخص نے بجلی کا بل زیادہ آنے پر چھری سے اپنا گلا کاٹ کر خودکشی کرلی۔ ذرائع یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ کس حد تک پریشانی کا شکار ہوسکتے ہیں ۔
*کےپی میں امن وامان سے متعلق اجلاس، مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو ماڈل کے طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ*خیبر پختونخوا میں امن وامان سے متعلق اجلاس میں مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو ماڈل کے طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتِحال سے متعلق اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، کور کمانڈر اور قومی سلامتی کے مشیر نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے میں مستقل قیامِ امن کے لیے بات چیت کی گئی اور قبائلی اضلاع کی بہتری کے لیے اجتماعی حکمتِ عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق سب نے مل بیٹھ کر امن وامان کی صورتحال پرمتفقہ طورپر بات چیت کی، اجلاس اپیکس کمیٹی کے اجلاس کا فالو اپ تھا۔اجلاس میں مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو بطور ماڈل نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ ماڈل کو خیبر، اورکزئی اور کرم میں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔
نقابِ مظلومیت بے نقاب: بی ایل اے کی خاتون خودکش بمبار دہشت گردی کی اصل ساخت عیاں کر گئیرانا تصدق حسینکوئٹہ — حالیہ ناکام بنائے گئے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے آپریشن “ہیروف-2” کے دوران ہلاک ہونے والی خاتون خودکش بمبار حاتم ناز سملانی محض کسی نام نہاد مظلوم کا کردار نہیں تھی، بلکہ ایک طویل عرصے سے سرگرم دہشت گرد آپریٹو تھی—یہ حقیقت اب خود بی ایل اے کی جانب سے بھی کھلے عام تسلیم کر لی گئی ہے۔مصدقہ تفصیلات کے مطابق حاتم ناز نے کم عمری میں کالعدم دہشت گرد تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور 2015ء میں باقاعدہ طور پر بی ایل اے کے خودکش ونگ، نام نہاد “مجید بریگیڈ” کا حصہ بنی۔2016ء میں وہ سیکیورٹی فورسز کے ایک آپریشن کے دوران زخمی بھی ہوئی، جو مجید بریگیڈ کے بانی کمانڈر اسلم اچھو کے خلاف کیا گیا تھا—یہ امر اس کے فعال عملی کردار کی مزید تصدیق کرتا ہے۔بعد ازاں، مستند خفیہ معلومات کی بنیاد پر پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے حاتم ناز کو گرفتار کر لیا۔تاہم، اس گرفتاری کو فوری طور پر سیاسی رنگ دے دیا گیا۔نام نہاد “ویمن کارڈ” کے پردے میں بی وائی سی (BYC) کی جانب سے ایک منظم پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی، جس میں گرفتاری کو “بلوچ غیرت اور وقار” پر حملہ قرار دیا گیا۔سڑکوں پر احتجاج اور دباؤ کے نتیجے میں حکام کو مجبوراً اسے رہا کرنا پڑا۔رہائی کے بعد حاتم ناز دوبارہ پہاڑوں میں موجود دہشت گرد ٹھکانوں پر جا پہنچی، بی ایل اے کے مسلح نیٹ ورک میں شامل ہوئی اور بالآخر خودکش حملہ کر کے ناکام ہیروف-2 آپریشن کے دوران انجام کو پہنچی۔قابلِ غور امر یہ ہے کہ اب بی وائی سی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جبکہ خود بی ایل اے نے اعتراف کیا ہے کہ حاتم ناز کئی برسوں سے تنظیم سے وابستہ تھی—یوں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے مؤقف کی مکمل توثیق ہو گئی ہے۔یہ واقعہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے:دہشت گردی کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے، نہ قوم، نہ جنس اور نہ عمر۔دہشت گرد 16 سالہ لڑکا بھی ہو سکتا ہے، 22 سالہ طالب علم بھی، نوجوان عورت بھی اور کوئی معمر فرد بھی۔دہشت گردی مظلومیت کی شناخت نہیں، بلکہ تشدد پر مبنی ایک نظریہ ہے۔بلوچ لبریشن آرمی، جسے بین الاقوامی سطح پر کالعدم دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے، شہری آبادی، ترقیاتی منصوبوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کی ایک طویل اور خون آلود تاریخ رکھتی ہے۔
اس کی سرگرمیوں کے بارے میں یہ حقیقت مستند ذرائع سے ثابت ہے کہ انہیں بھارت کی خفیہ ایجنسی را کی سرپرستی، سہولت کاری اور مالی معاونت حاصل رہی ہے، جبکہ بعض دیگر علاقائی دشمن عناصر بھی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے اس میں شریک رہے ہیں۔تاہم، ایسے تمام عزائم ناکامی سے دوچار ہوں گے۔جب تک پاکستان فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر (چیف آف ڈیفنس اسٹاف) کی قیادت میں، اور پاکستان ایئر فورس و مسلح افواج کے معرکہ آزمودہ غازیوں کے سائے تلے محفوظ ہے، ریاست کے خلاف ہر سازش نہ صرف ناکام ہوگی بلکہ اپنے ہی سرپرستوں پر الٹ کر کہیں زیادہ شدت سے گرے
صوبے کے تمام 9 تعلیمی بورڈز کے چیئرمینوں پر مشتمل بورڈ کمیٹی نے امتحانی نظام میں بڑی اصلاحات کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات میں روایتی دستی چیکنگ اور نگرانی کا طریقہ ختم کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد امتحانی عمل کو جدید، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔نئے نظام کے تحت امتحانات میں شرکت کرنے والے تمام طلبہ و طالبات کے لیے بایومیٹرک حاضری لازمی ہوگی۔ 2026 سے جماعت نہم اور گیارہویں میں رجسٹریشن کے وقت طلبہ کے انگوٹھوں کے نشانات لیے جائیں گے، جنہیں امتحانی مراکز میں داخلے اور تصدیق کے لیے استعمال کیا جائے گا۔کمیٹی نے پرچوں کی مکمل ڈیجیٹل مارکنگ کی بھی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت جوابی کاپیاں اسکین کر کے کمپیوٹر اسکرین پر چیک کی جائیں گی۔ حکام کے مطابق اس سے غلط مارکنگ، حسابی غلطیوں کا خاتمہ اور شفافیت میں بہتری آئے گی۔سائنس کے پریکٹیکل امتحانات کو بھی مؤثر اور بامقصد بنایا جا رہا ہے۔ رواں سال یہ اصلاحات جزوی طور پر نافذ ہوں گی، جن کا آغاز نہم اور گیارہویں جماعت کے طلبہ کی بایومیٹرک رجسٹریشن سے کیا جائے گا۔
شہری کو زنجیروں میں جکڑنے کا معاملہ، آئی جی پنجاب عبدالکریم کا سخت نوٹساے ایس پی آپریشنز کاہنہ (لاہور) آغا فصیح رحمان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، نوٹیفکیشن
*بادبان ٹی وی **ملک پاکستان چلانے والے کرداروں کی لسٹ پہلی بار منظر عام پر آ گئی کون لوگ ہیں کس ملک کے باسی ہیں تفصیلات جان کر 24کروڑ پاکستانی حیران و پریشان*بائیس ہزار سے زیادہ اہم عہدوں پر تعینات افسران نے امریکہ کینیڈا انگلینڈ و آسٹریلیا کی شہریت لے رکھی ہے۔سپریم کورٹ میں پیش کی گئی فہرست کے مطابق دوہری شہریت والے افسران کی تعداد 22 ہزار 380 ہےان میں1100 کا تعلق صرف پولیس اور بیوروکریسی سے ہے اور ان میں سے540 کینیڈین240 برطانوی190 کے قریب امریکہ کے بھی شہری ہیںدرجنوں سرکاری ملازمین نے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ملائیشیا اورآئرلینڈ جیسے ملکوں کی بھی شہریت لے رکھی ہے110 سرکاری افسروں میں اہم حکومتی عہدوں پر بھی براجمان ہیںگریڈ 22 کے 6ایم پی ون سکیل کے 11گریڈ 21 کے 40گریڈ 20 کے 90گریڈ 19 کے 160گریڈ 18کے 220گریڈ 17 کے 160داخلہ ڈویژن کے 20پاور ڈویژن 44ایوی ایشن ڈویژن 92خزانہ ڈویژن 64پٹرولیم ڈویژن 96کامرس ڈویژن 10آمدن ڈویژن 26اطلاعات و نشریات 25اسٹیبلشمنٹ 22نیشنل فوڈ سکیورٹی 7کیپیٹل ایڈمنسٹریشن11مواصلات ڈویژن 16ریلوے ڈویژن 8کبنٹ ڈویژن کے 6 افسر دہری شہریت کے حامل ہیںسب سے زیادہ دہری شہریت کے حامل افراد کا تعلق محکمہ تعلیم سے ہےان کی تعداد 140 سے زیادہ ہےقومی ایئر لائن کے 80 سے زیادہلوکل گورنمنٹ 55سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر 55نیشنل بینک 30سائنس اور ٹیکنالوجی 60زراعت 40سے زیادہسکیورٹیایکسچینج کمیشن 20آبپاشی 20سوئی سدرن 30سوئی ناردرن 20پی ایم ایس 17پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس 14نادرا کے 15 ملازمین دہری شہریت کے حامل ہیںدوہری شہریت والی اہم شخصیات میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22کے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوانوید کامران بلوچ کینیڈا(پی اے ایس)کی پہلی خاتون صدراور گریڈ22 کی وفاقی سیکرٹری انسانی حقوق ڈویژن رابعہ آغا
برطانیہگریڈ 22کے سیکرٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ سردار احمد نواز سکھیرا امریکہگریڈ21کے موجودہ ڈی جی پاسپورٹ و امیگریشن عشرت علی برطانیہگریڈ22کی سابق سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ سمیرا نذیر صدیقی نیوزی لینڈگریڈ 20 کے سیکرٹری اوقاف پنجاب ذوالفقار احمد گھمن امریکہمراکو میں سابق سفیر نادر چودھری برطانیہقطر میں سابق سفیر شہزاد احمد برطانیہکسٹم کے گریڈ 21 کے ایڈیشنل وفاقی سیکرٹری خزانہ احمد مجتبیٰ میمن کینیڈاگریڈ 21 کی چیف کلیکٹر کسٹم زیبا حئی اظہرکینیڈاپولیس سروس کے گریڈ 22 کے اقبال محمود (ر)گریڈ21 کے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب میاں شجاع الدین ذکا کینیڈاچیئرمین پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین فوزیہ وقار کینیڈاپاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر سید ومیق بخاری امریکہموجودہ ایم ڈی معین رضا خان، نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد برطانیہڈائریکٹرجنرل پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف طاہر امریکہگریڈ 20کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ /پریس انفارمیشن آفیسرجہانگیر اقبال کینیڈاسابق پنجاب حکومت کے ساتھ اہم قانونی معاملات پہ کام کرنے والے نامور قانون دان سلمان صوفی امریکہ کے شہری ہیںاسی طرح گریڈ 20 کے ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر محمد اجمل کینیڈاگریڈ21کے وزارت داخلہ میں ایڈیشنل سیکرٹری شیر افگن خان امریکہگریڈ 20 کے جوائنٹ سیکرٹری وزیر اعظم آفس احسن علی منگی برطانیہگریڈ20 کے راشد منصور کینیڈاگریڈ 20کے علی سرفراز حسین برطانیہگریڈ 18کے محمد اسلم راؤبرطانیہگریڈ 20 کی سارہ سعید برطانیہ،گریڈ18کے عدنان قادر خان برطانیہگریڈ 18کی رابعہ اورنگزیب کینیڈاگریڈ 18 کی صائمہ علی برطانیہگریڈ 20 کے سپیشل برانچ کے ڈی آئی جی زعیم اقبال شیخ برطانیہ
گریڈ 20 کے لاہور پولیس ٹریننگ کالج کے کمانڈنٹ ڈی آئی جی مرزا فاران بیگ برطانیہگریڈ20 کے ڈی آئی جی مواصلات شاہد جاوید کینیڈاگریڈ 20 کے ڈاکٹر محمد شفیق (ریٹائرڈ) کینیڈاگریڈ 19کے ایس ایس پی گوادر برکت حسین کھوسہ کینیڈاگریڈ 19 کے ایس ایس پی ندیم حسن کینیڈاگریڈ 18 کے ایس پی عادل میمن امریکہگریڈ 17 پنجاب لوکل گورنمنٹ کے عرفان سلیم بٹ کینیڈا گریڈ 18کے عقیل احمد خان امریکہگریڈ18کے ارشد محمود کینیڈا،گریڈ 19کے سہیل شہزاد برطانیی تنویر جبار کینیڈاگریڈ19کے محمد جاوید نسیم کینیڈاگریڈ19کے محمد محسن رفیق کینیڈاگریڈ19کے راشد احمد خان کینیڈاگریڈ 19کے طفیل خان یوسفزئی آسٹریلیاگریڈ19کے محمد شاہد نذیر کینیڈاگریڈ19کے محسن فاروق کینیڈاگریڈ18کے محمد ابراہیم کینیڈا گریڈ17کے محمد افتخار امریکہگریڈ 17کے نواز گوندل کینیڈا گریڈ 19کے اعجازعلی شاہ امریکہگریڈ19کے امجد علی لغاری کینیڈاسٹیٹ بینک کے عبد الرؤف امریکہصبا عابد امریکہسید سہیل جاویدکینیڈاراحت سعیدامریکہٹیپو سلطان امریکہعرفان الٰہی مغل امریکہمحمد علی چودھری برطانیہحسن جیواجی کینیڈازہرہ رضوی برطانیہامجد مقصود کینیڈاعنایت حسین آسٹریلیاشازیہ ارم کینیڈا، تبسم رانا کینیڈاریاض احمد خواجہ کینیڈاناصر جہانگیر خان کینیڈا مصطفی متین شیخ کینیڈا فضلی حمید کینیڈاسینئرایگزیکٹو نائب صدر نیشنل بینک شاہد سعید برطانیہرشا اے محی الدین برطانیہسید جمال باقر برطانیہمدثر ایچ خان امریکہایگزیکٹو نائب صدرفاروق حسن برطانیہعاصم اختر کینیڈاناصر حسین کینیڈاسینئر نائب صدرسید خرم حسین امریکہواصف خسرو احمد برطانیہ سید طارق حسن کینیڈاغلام حسین اظہر کینیڈانائب صدرمحمود رضا برطانیہ نادیہ احمر کینیڈااسسٹنٹ نائب صدرعامر نواز کینیڈامحمد آفتاب کینیڈابابر علی کینیڈامحمد امان پیر کینیڈامحمد فرذوق بٹ برطانیہسید نعمان احمد برطانیہسبین طاہر برطانیہسید نازش علی برطانیہگریڈ 20 کے سید طارق حسن کینیڈاگریڈ 20کے عبد القادر برطانیہ گریڈ20کے سید شبیر احمد کینیڈاگریڈ18کے سید نعمان احمدبرطانیہگریڈ17کے خواجہ فیصل سلیم برطانیہ
گریڈ18کے نوید تاجدار رضوی برطانیہگریڈ18کے عثمان علی شیخ امریکہگریڈ21کے امین قاضی جرمنی محکمہ تعلیم میں گریڈ19کے منصور احمدجرمنیگریڈ21کے ڈاکٹر سہیل اختر آسٹریلیاگریڈ21کے خالد محمود کینیڈاگریڈ 17کی فرزانہ اکرم سپین گریڈ19 کے محمد عمران قریشی کینیڈاگریڈ21کے ڈاکٹر مشرف احمد کینیڈابریگیڈیئر (ر) عامر حفیظ امریکہوقار عزیز کینیڈارملہ طاہر آسٹریلیاڈاکٹر جمشید اقبال جرمنیڈاکٹرکاشف رشید آسٹریلیاڈاکٹر اسد اﷲ خان برطانیہ ڈاکٹر محمد مشتاق خان ہالینڈنعمان احمد کینیڈانیئر پرویز بٹ برطانیہاعجاز احمد فرانسصنم علی ڈنمارکخالدہ نور کینیڈاپروفیسر ڈاکٹراسلم نور کینیڈا محمد ارشد رفیق کینیڈانرگس خالد امریکہمحمد افضل ابراہیم امریکہڈاکٹر عقیل احمد قدوائی کینیڈاڈاکٹر پاشا غزل برطانیہمحمد سعد بن عزیز کینیڈاگریڈ19کے خالد محمود احمد برطانیہگریڈ19کی ثانیہ طارق کینیڈا گریڈ20کی طاہرہ ضیا برطانیہ گریڈ17کی روشان امبرامریکہ گریڈ17کی سمرین آصف کینیڈا گریڈ18کی قنطا نور کینیڈاگریڈ19کے ڈاکٹر محمد شیراز ارشدملک کینیڈاگریڈ21کے فرحت عباس کینیڈا گریڈ19کی شبنم نور کینیڈا گریڈ17کی عاصمہ اعظم امریکہگریڈ18کی تہمینہ عتیق کینیڈا گریڈ19کی روحیلہ ریاض ہالینڈ گریڈ18کی سیدہ نوشین طلعت کینیڈاقمر الوہاب سویڈنگریڈ17کے منصور احمد بٹ کینیڈاگریڈ18کے سید جمال شاہ کینیڈاگریڈ19کے محمد کلیم کینیڈا گریڈ19کے ڈاکٹر قیصر رشید کینیڈاگریڈ21کے محمد منیر احمد برطانیگریڈ19کے ڈاکٹر عبد الرحمان شاہد برطانیہگریڈ18کے شاہ رخ عرفان برطانیہگریڈ18کی ساشا احمد کینیڈا گریڈ17کے سخن الٰہی برطانیہ گریڈ18کے حسن بخاری برطانیہ گریڈ17کی رخسانہ احسن امریکہگریڈ17کے محمد علی ظہیر امریکہگریڈ17کے ابراہیم عبد القادر عارف امریکہڈاکٹر محمد نعمان ملائیشیا گریڈ17کی عالیہ نذر کینیڈاگریڈ19کی ڈاکٹر مریم مصطفی جرمنیگریڈ18کے نجم طارق برطانیہ گریڈ19کی کوکب علی کینیڈا گریڈ19کی فریدہ بیگم بحرینگریڈ18کی عشرت این بخاری برطانیہگریڈ19کی نسیم اختر بحریننوباح علی سعد برطانیہکامران ہاشمی امریکہطاہر عزیز خان برطانیہجنید شریف کینیڈاڈاکٹر جلیل اختر کینیڈا گریڈ20کی ڈاکٹر صبینہ عزیز برطانیہگریڈ18کے عتیق امجد کینیڈا گریڈ17کی لائقہ کے بسرا امریکہگریڈ19کی فاخرہ سلطانہ برطانیہگریڈ 19کے ڈاکٹر آصف خان برطانیہگریڈ18کی نسرین کوثر کینیڈاگریڈ17کی کشور فردوس کینیڈاگریڈ20کے ناصر سعید کینیڈا گریڈ18کے ڈاکٹر محمد علی عارف برطانیہڈاکٹر محمد احمد بودلا کینیڈا گریڈ18کی ناظمہ ملک کینیڈا گریڈ18کی عائشہ سعید نیوز لینڈگریڈ17کے ساجد مسعود برطانیہگریڈ17کے شاہد آزاد نیوزی لینڈ گریڈ18کے نیاز محمد خان کینیڈاگریڈ18کے شہزاد اسلم باجوہ آسٹریلیاگریڈ17کی ڈاکٹر عفت بشیر امریکہگریڈ 19کے محمد اسماعیل برطانیہگریڈ18کے محمد اظہر آسٹریلیا گریڈ17کی مدینہ بی بی افغانستانگریڈ17کی عطرت جمال کینیڈا گریڈ20کی ڈاکٹر راحیلہ آصف کینیڈاگریڈ21کے پروفیسر ڈاکٹر ناصر الدین شیخ کینیڈاگریڈ18کی ماریہ سرمد کینیڈاگریڈ21کی پروفیسر ڈاکٹر انیلہ نعیم کینیڈاگریڈ21کے پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا مہدی امریکہعمر میمن آسٹریلیاگریڈ20کی سارہ کاظمی امریکہ گریڈ21کے شمس ندیم عالم امریکہگریڈ19کے اقتدار احمد صدیقی امریکہگریڈ19کے اسد خان کینیڈا گریڈ19کے سعید اختر امریکہگریڈ18کی شائمہ سلطانہ میمن جنوبی افریقہگریڈ18کے ذو الفقار نذیر امریکہشگفتہ نظام برطانیہگریڈ18کے عدنان سرور سکو والاسویڈنگریڈ 19کی نادیہ رفیق کینیڈا گریڈ20کے مجیب رحمان عباسی آئر لینڈتزین ملک برطانیزنیرہ طارق امریکہ، گریڈ20کے فرید الدین صدیقی کینیڈا،
گریڈ19کی مریم قریشی برطانیہ، گریڈ19کی راشدہ پروین امریکہ، گریڈ19کے شاداب علی راجپوت کینیڈا، گریڈ17کی لبنیٰ بلوچ کینیڈا،گریڈ18کی یاسمین زمان برطانیہ، گریڈ17کے محمد ارشد علی خان امریکہ، گریڈ19کے ڈاکٹر سلیم احمد پھل کینیڈا، گریڈ17کے توقیر سوئٹزر لینڈ، گریڈ19کی نبیلہ فرید برطانیہ،ڈاکٹر نوشین انور امریکہ، ڈاکٹر نادیہ قمر چشتی مجاہد امریکہ، ثمر قاسم امریکہ، ڈاکٹر جبران رشید کینیڈا، گریڈ21کے ڈاکٹر شمیم ہاشمی امریکہ، ڈاکٹر اعجاز احمد میاں کینیڈا، ڈاکٹر محمد نشاط نیوزی لینڈ، ڈاکٹر شیبا سعید برطانیہ، محمداسد الیاس کینیڈا، ڈاکٹر محمد شعیب جمالی امریکہ، لبنیٰ انصر بیگ کینیڈا، گریڈ21کی علیسیا مریم ثمیمہ امریکہ،گریڈ17کی حمیدہ عباسی کینیڈا، گریڈ19کی رابعہ منیر برطانیہ، ڈاکٹر بینش عارف سلطان برطانیہ، گریڈ17کی بشیراں رندکینیڈا، گریڈ20کے زبیر اے عباسی برطانیہ، گریڈ17کی مہرین افضل امریکہ، پی آئی اے کے ضیا قادر قریشی آسٹریلیا، عنایت اﷲ آئرلینڈ، شیخ عمر اسلام کینیڈا، مبارک احمد کینیڈا، فواز نوید خان کینیڈا، تنویر لودھی امریکہ، سہیل محمود کینیڈا،شہزادہ خرم کینیڈا، انعام اﷲ جان امریکہ، طلحہ احمد خان کینیڈا، ندیم احمد خان کینیڈا، توصیف احمد امریکہ، منظور بھٹو کینیڈا، عامر حسین شاہ کینیڈا، شہریار احمدڈوگرکینیڈا، محمد جمیل امریکہ، ڈاکٹر صنم ممتاز کینیڈا، بدر الاسلام امریکہ، سید ہمایوں امریکہ، طارق جمیل خان برطانیہ،محمد علی کھنڈوالا امریکہ، فرحان وحید برطانیہ، عثمان غنی راؤ کینیڈا، مصباح احسان امریکہ، نجیب امین مغل کینیڈا، طارق محمود خان کینیڈا، وقار الاحسن کینیڈا، عمر رزاق کینیڈا، اشفاق حسین برطانیہ، سید خالد انور امریکہ، محمد ظفر علی کینیڈا، زریاب بشیر برطانیہ، محمد حسام الدین خان برطانیہ، سمیع ہاشمی کینیڈا، عامر سرور کینیڈا، فیضان خالد رضوی امریکہ، عمر سلیم برطانیہ، اسد اویس کینیڈا، زاہد رضا نقوی کینیڈا، نوید اکرام امریکہ، راشد احمد برطانیہ، محمد نجم الخدا کینیڈا، افضل احمد ممتاز برطانیہ، کہکشاں ترنم کینیڈا،عاصمہ باجوہ برطانیہ، ریاض علی خان کینیڈا، نجیب اے سید کینیڈا، محمد سہیل برطانیہ، زاہد حمید قریشی برطانیہ، ڈاکٹر رخسانہ کینیڈا،نائلہ منصور امریکہ، عریج اے بلگرامی کینیڈا، سعید احمد امریکہ، محمد حنیف میمن کینیڈا، محمد طارق گبول کینیڈا، امش جاوید کینیڈا،طارق بن صمد کینیڈا، سعیدہ حسنین برطانیہ، ساجد اﷲ خان امریکہ،طارق این علوی فرانس، علی حسن یزدانی کینیڈا، ارشد علی حسن جان کینیڈا، عدنان عندلیب آسٹریلیا، شمشاد آغا امریکہ، فرح حسین برطانیہ، علی اصغر شاہ برطانیہ، ندیم ظفر خان کینیڈا، راحیل احمد برطانیہ،سید بائر مسعود کینیڈا، کلیم چغتائی کینیڈا، عبد الحمید سعدی کینیڈا، رفعت اشفاق برطانیہ، محمد انور علوی امریکہ، سید محسن علی کینیڈا، ناصر جمال ملک کینیڈا، محمد ماجد حفیظ صدیقی کینیڈا،اسد مرتضیٰ کینیڈا، میر محمد علی کینیڈا، سجاد علی نیوزی لینڈ، سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئراینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں گریڈ19کی ڈاکٹر سعیدہ آصف امریکہ، محمد کامران منشا برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر منیب اشرف امریکہ،گریڈ18کی ڈاکٹر مریم اشرف برطانیہ، ڈاکٹر سمیرہ امین کینیڈا،گریڈ17کی ڈاکٹر گل رعناوسیم برطانیہ، ڈاکٹر خواجہ ندیم آئرلینڈ، فراز تجمل امریکہ،گریڈ20کے پروفیسر آصف بشیرامریکہ، گریڈ18کی ڈاکٹرعائشہ بشیرہاشمی، گریڈ18کے ڈاکٹر سید مظاہر حسین برطانیہ، گریڈ18کی ڈاکٹر رحسانی ملک کینیڈا، گریڈ20 کے پروفیسر ناصر رضا زیدی کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر علی رضا خان روس،گریڈ20کے ڈاکٹر مظہر الر حمان برطانیہ، گریڈ18کے محمد توقیر اکبر آئر لینڈ، گریڈ18کے ڈاکٹرمحمد یوسف معراج ملائیشیا،گریڈ17کے ڈاکٹر انیس اورنگزیب برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر طیب اکرام برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر عدنان ایس ملک امریکہ،
گریڈ20کے ڈاکٹر محمد مغیث امین برطانیہ،گریڈ18کی ڈاکٹرارم چودھری امریکہ، گریڈ 20 کی ڈاکٹر فرخندہ حفیظ کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر سلیمان اے شاہ امریکہ، گریڈ17کی ڈاکٹر اشما خان نیپال، گریڈ17کی ثمن صغیر برطانیہ، گریڈ18کی ڈاکٹر بشریٰ رزاق امریکہ، گریڈ18کی ڈاکٹر لبنیٰ فاروق کینیڈا،گریڈ17کی ڈاکٹر شمائلہ رشید برطانیہ، پروفیسر محمد طارق برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر گوہر علی خان برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر سلمان یوسف شاہ برطانیہ، گریڈ 17کی ڈاکٹر عائشہ عثمان برطانیہ، گریڈ19کے ڈاکٹر خرم ایس خان کینیڈا، گریڈ18کے طارق اے بنگش آئر لینڈ، گریڈ18کے ڈاکٹر عامر لطیف آئر لینڈ، گریڈ18کے ڈاکٹر غلام سرور برطانیہ،گریڈ 17کے امجد فاروق امریکہ، گریڈ 18کے کاشف عزیز احمد کینیڈا، گریڈ 17کی ڈاکٹر لبنیٰ ناصر برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر فرقان یعقوب برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر ظہیر خان امریکہ، گریڈ17کی غازیہ خانم کینیڈا، گریڈ20کے پروفیسر اعظم جہانگیر امریکہ،گریڈ18کے ڈاکٹر شفیق چیمہ امریکہ، گریڈ19کے ڈاکٹر خورشید خان امریکہ، گریڈ18کے ڈاکٹر ارسلان امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر نعمان اکرم فرانس، گریڈ18کی ڈاکٹر حمیرہ رضوان کینیڈا،گریڈ18کی ڈاکٹر تبسم عزیزبرطانیہ، گریڈ18کی رخسانہ کینیڈا، گریڈ17کے ڈاکٹر عمر فاروق برطانیہ، گریڈ20کی نسرین منظور نیوزی لینڈ، گریڈ 17کے ڈاکٹر حسن فاریس النائف شام،گریڈ20کی ڈاکٹر مہرین سادات کینیڈا، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میں گریڈ 19کے اختر احمد بھوگیو کینیڈا،سہیل اصغر آسٹریلیا، چودھری آفاق الرحمان کینیڈا،سلمان اسلم کینیڈا،( نسٹ)گریڈ19کے اکرام رسول قریشی امریکہ، گریڈ19کی نگہت پروین گیلانی کینیڈا، گریڈ21کے ریاض احمد مفتی برطانیہ، گریڈ21کے ارشد حسین کینیڈا، گریڈ19کے کامران حیدر سید کینیڈا، گریڈ19کے عدیل نعیم بیگ آسٹریلیا، گریڈ19کے ندیم احمد آسٹریلیا، گریڈ20کے ارشد زمان خان امریکہ،گریڈ19کے منیر احمد تارڑ کینیڈا، ڈاکٹر طاہر مصطفی مدنی برطانیہ، گریڈ19کے ماجد مقبول کینیڈا، گریڈ19کے سعد اعظم خان المروت امریکہ، گریڈ19 کے عاطف محمد خان برطانیہ، گریڈ21کے شہباز خان برطانیہ، گریڈ19کے نوید اکمل دین برطانیہ،گریڈ19کے عثمان حسن کینیڈا، گریڈ19کے فرحان خالد چودھری برطانیہ، گریڈ19کے اطہر علی کینیڈا، گریڈ19کے اختر علی قریشی کینیڈا، گریڈ19کے حسن رضا کینیڈا، گریڈ 19کی ماہا احمد آسٹریلیا، گریڈ20کے فیصل شفاعت جرمنی، گریڈ21کے ذاکر حسین جرمنی،گریڈ21کے محمد فہیم کھوکھر جرمنی، محکمہ صحت میں گریڈ18کے ڈاکٹرفیاض احمد امریکہ،گریڈ 17کے ڈاکٹر صوبیہ ظفر کینیڈا، گریڈ17کے ڈاکٹر فیصل اعجاز امریکہ، گریڈ18کے ڈاکٹرمحمد عمران خان آئر لینڈ، گریڈ18کے ڈاکٹر خالد عثمان آئر لینڈ،گریڈ19کے ڈاکٹر آفتاب عالم برطانیہ، گریڈ18کی ڈاکٹر انیلہ ریاض برطانیہ، گریڈ20کے ڈاکٹر عمر حیات آئر لینڈ، گریڈ18کے مجیب الر حمان کینیڈا، گریڈ18کے ہارون ظفر برطانیہ، گریڈ18کی شازیہ طارق برطانیہ، گریڈ18کی مینا خان ناظم برطانیہ، اظہر سردار کینیڈا، گریڈ20کے آصف ملک برطانیہ،گریڈ18کے ڈاکٹر سجاد اے خان روس، گریڈ17کی ثمینہ ناز کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر مہدی خان برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر نسرین اختر امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمد آصف سلیم برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر طاہرہ حمید برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمد شیراز بحرین، گریڈ17کے ڈاکٹر ناصر علی نواز برطانیہ،گریڈ18کے ڈاکٹر محمد وسیم کینیڈا، گریڈ18کی ڈاکٹر عائشہ ابراہیم برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر محمد اقبال شکور برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر مشال وحید امریکہ، گریڈ18کے ڈاکٹر ساج علی ڈوگا برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر آصف محمود اے قاضی کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر اسد الرحمان برطانیہ،گریڈ17کی ناہید انور برطانیہ، ڈاکٹر محمد بلال یاسین آسٹریلیا،گریڈ18کے ڈاکٹر آفتاب احمد علوی امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر نیئر جمال کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر فیاض علی برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر ذکیہ صمد امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر راشد خان امریکہ، گریڈ18کے ڈاکٹر عبد الرؤف آئر لینڈ، گریڈ17کی رفعت آرا خالد کینیڈا، گریڈ17کے ڈاکٹر وقار احمد برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر شیریں جان بحرین، گریڈ17کی گل مہینا برطانیہ،گریڈ17کی شمیم نورآسٹریلیا،
گریڈ19کے ڈاکٹر محمد فاروق ترین برطانیہ، گریڈ17کی حاجرہ علی آفریدی امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمد فیصل بحرین، گریڈ17کی فریدہ بلوچ کینیڈا،گریڈ19کی صائمہ شیخ برطانیہ، گریڈ19کی ڈاکٹرلبنیٰ سرور برطانیہ، گریڈ20کے زاہد حسن انصاری کینیڈا، گریڈ19کی حمیرا معین کینیڈا، گریڈ20کے پروفیسر ڈاکٹر ہاشم رضا برطانیہ،گریڈ19کی ڈاکٹر سائرہ افغان برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر عنبر نواز امریکہ، گریڈ17کی ڈاکٹر مشل طارق آسٹریلیا، گریڈ18کی ڈاکٹر فریدہ امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمد ہاشم کینیڈا،گریڈ19کے محمد حنیف برطانیہ، گریڈ19کی شہلا باقی امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر شہاب جو نیجو امریکہ، شوہاب حیدر شیخ برطانیہ، سید اکمل سلطان برطانیہ، ڈاکٹر نوشیروان گل حیدر سومرو برطانیہ، گریڈ17کی عذراپروین برطانیہ، گریڈ18کے عدنان قاسم برطانیہ،گریڈ18کی ڈاکٹر آسیہ رحمان امریکہ، ڈاکٹر عامر حلیم آئرلینڈ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمدعامر ہارون کینیڈا، گریڈ19کے محمد شاہد اقبال کینیڈا، منصوبہ بندی وترقی میں گریڈ 20 کے محمد اجمل کینیڈا، ڈاکٹر اسد زمان امریکہ، عامر منصف خان امریکہ،ڈاکٹر شہزادرحمان کینیڈا، مراد جاوید خان کینیڈا، علی رضا خیری برطانیہ، محمد احمد چودھری آسٹریلیا، انتساب احمد کینیڈا، حرا اقبال شیخ امریکہ، صداقت حسین کینیڈا، ملک احمد خان کینیڈا،مائرہ جعفری برطانیہ، فرحان ظہیر آسٹریلیا، حسن ایم خالد کینیڈا، نوشین فیاض کینیڈا، گریڈ19کے ناصر اقبال برطانیہ، گریڈ18کے عرفان احمد انصاری کینیڈا، ہما محمود برطانیہ، اعجاز غنی کینیڈا، گریڈ 20کے سابق ممبر پلاننگ سی ڈی اے (ر)اسد محمود کیانی امریکہ، گریڈ19کے ایاز احمد خان کینیڈا،گریڈ 19کے حافظ محمد احسان الحق کینیڈا،گریڈ 19کی ڈاکٹر شازیہ یوسف کینیڈا، گریڈ18کی ڈاکٹر عظمیٰ علی کینیڈا،لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی میں گریڈ 19کے معین شریف کینیڈا، گریڈ 20 کے محمد ارشاد اﷲ کینیڈا، گریڈ 18 کے خالد محمود کینیڈا، گریڈ 19کے سلما ن مجید بٹ کینیڈا، گریڈ 18کے احمد فراز سلیم کینیڈا، گریڈ 19کے اعجازاحمد کینیڈا، گریڈ 20کے محمد علی ڈوگرکینیڈا، گریڈ 17کے محسن وقار امریکہ، گریڈ19کے خالد خان کینیڈا، ہائر ایجوکیشن کمیشن میں گریڈ 21کے ڈاکٹر ریاض احمد نیوزی لینڈ، ڈاکٹر محمد لطیف آسٹریلیا،گریڈ18کے فواد مرتضیٰ کینیڈا،گریڈ19کی سیدہ ہما ترمزی برطانیہ، گریڈ19کی نادیہ اقدس کینیڈا، گریڈ19کی نبیلہ نثار کینیڈا، گریڈ18کی ریحانہ افضل آسٹریلیا، گریڈ18کی عذرامنور کاظمی آسٹریلیا، گریڈ18کی سمرہ عبد الجلیل امریکہ، گریڈ18کی حمیدہ بیگم کینیڈا، گریڈ17کی رفیعہ مرتضیٰ کینیڈا، گریڈ17کی امین فاطمہ امریکہ، گریڈ17کی غزالہ سہراب کینیڈا، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے سلیم اﷲ محمود برطانیہ ،حسیب احمد کینیڈا، شجاعت احمد کینیڈا، عبد الوحید برطانیہ، سہیل رانا کینیڈا، فضل حسین برطانیہ، فاروق اعظم شاہ کینیڈا، خالد محمود رحمان کینیڈا، ثاقب احمد برطانیہ، کوثر احمد محمد کینیڈا، صدیق محمد چودھری برطانیہ، گریڈ 13کے صہیب قادرکینیڈا، شرجیل حسن خان برطانیہ، ایف بی آر میں گریڈ 19کی مصباح کھٹانا برطانیہ، گریڈ 19کے سید آفتاب حیدر برطانیہ،گریڈ 21کے احمد مجتبیٰ میمن کینیڈا، گریڈ 18کے عبد الوہاب امریکہ، گریڈ19کے اورنگزیب عالمگیر کینیڈا، طارق حسین نیازی کینیڈا، گریڈ18کے بشارت علی ملک امریکہ، گریڈ 20کے قاسم رضا کینیڈا، گریڈ 21 کے ڈاکٹر اشفاق احمد تنیو کینیڈا، پاکستان ٹیلی ویژن میں گریڈ 8کے ندیم احمد امریکہ،گریڈ6 کے محمد امجد رامے کینیڈا، گریڈ6 کے میر عجب خان کینیڈا،گریڈ7 کے منصور ناصر کینیڈا، گریڈ6کی صبا شاہد امریکہ، گریڈ6 کی نصرت مسعود امریکہ، گریڈ7کے امتیاز احمد کینیڈا، گریڈ6کے اعجاز احمد بٹ برطانیہ،گریڈ 9 کے محمد شاہ خان کینیڈا، اسدحسین کینیڈا، گریڈ 8کی شاہینہ شاہد، ان لینڈ ریونیو کے گریڈ 19کے نعیم بابر آسٹریلیا، گریڈ 20کے سجاد تسلیم اعظم برطانیہ،گریڈ 19کے شاہد صدیق بھٹی کینیڈا،گریڈ 20 کے عاصم افتخار کینیڈا، گریڈ18کے سید صلاح الدین جیلانی کینیڈا، گریڈ20کی شازیہ میمن برطانیہ، گریڈ18کے اسفندیار جنجوعہ کینیڈا، گریڈ20کے نوید اختر کینیڈا، گریڈ 21 کے حافظ محمد علی امریکہ، گریڈ20 کے وسیم اے عباسی کینیڈا، گریڈ 19کی سیدہ نورین زہرہ کینیڈا، گریڈ 20 کے عاصم افتخار کینیڈا،نادرا کے سمیر خان برطانیہ، جواد حسین عباسی برطانیہ، منظور احمد خواجہ برطانیہ، احمرین حسین برطانیہ، عارف علی بٹ آسٹریلیا، گریڈ18کے شاہد علی خان برطانیہ،عثمان چیمہ آسٹریلیا، وریام شفقت آسٹریلیا، مبشر امان نیوزی لینڈ، فضا شاہد آسٹریلیا، احمد کمال گیلانی کینیڈا، مکرم علی برطانیہ، گریڈ 19کے طاہر محمود پرتگال، سہیل ارشاد انجم امریکہ، سہیل جہانگیر امریکہ،نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں گریڈ19کے رانا ٹکا خان کینیڈا،گریڈ 18کے عامر سید کینیڈا، گریڈ 18کے محمد زمان کینیڈا،گریڈ 18کے سجاد علی شاہ کینیڈا،گریڈ18کے محمد الطاف نیوزی لینڈ، گریڈ17کے ندیم قاسم خان کینیڈا، گریڈ18کے سید اشرف علی شاہ کینیڈا، گریڈ 19کی نسیم کینیڈا،
خالد اقبال ملک امریکہ، ڈاکٹر مریم پنہوارکینیڈا، مسعود نبی امریکہ، فیصل عارف کینیڈا، محمد ریاض آسٹریلیا، افتخار مصطفی رضوی برطانیہ، اظہر اسحاق کینیڈا،افتخار عباسی برطانیہ،سلیم باز خان امریکہ، گریڈ18کے کاشف علی شیخ کینیڈا، گریڈ17کے طاہر علی اکبر کینیڈا، گریڈ17کی صباحت احمد چودھری کینیڈا، گریڈ18کے آغا عنایت اﷲ کینیڈا، گریڈ17کے محمد جمیل کینیڈا، مواصلات اور ورکس ڈیپارٹمنٹ میں گریڈ19کے سلیم الرحمان کینیڈا، گریڈ 18کی سمیراجمیل کینیڈا، گریڈ18کے محمد نسیم کینیڈا، گریڈ18کے زاہد امان وڑائچ کینیڈا،گریڈ19 کے امجد رضا خان کینیڈا، گریڈ19کے ساجد رشید بٹ کینیڈا،گریڈ19 کے انصار محمود کینیڈا، گریڈ20کے محمد جمال اظہر سلطان کینیڈا، گریڈ18کے علی نواز خان برطانیہ، گریڈ18کے مہرعظمت حیات کینیڈا، گریڈ18کے ارشد خان کینیڈا، گریڈ18کے محمد ایوب کینیڈا، گریڈ20کے علی احمد بلوچ کینیڈا، گریڈ21کے ملک عبد الرشید کینیڈا، گریڈ19کے شفقت حسین کینیڈا،خزانہ ڈویژن کے جیند احمد فاروقی برطانیہ، ایس ایم ای بینک کے اسسٹنٹ نائب صدراطہر اشفاق احمدبرطانیہ،سینئر نائب صدر حافظ محمد اشفاق برطانیہ، گریڈ19کے تجمل الٰہی برطانیہ، ڈاکٹر خاقان حسن نجیب آسٹریلیا، گریڈ 18کے باسط حسین برطانیہ، گریڈ 18کے وقاص خان امریکہ، گریڈ18کے قیصر وقار برطانیہ، اشعر حمید آسٹریلیا، گریڈ19کے عمران شبیر برطانیہ، نہال اے صدیقی کینیڈا، امتیاز احمد میمن برطانیہ، اطہر انعام ملک امریکہ، گریڈ17کے سید علی معظم کینیڈا،گریڈ 21کے نیشنل بین
پشاور: خیبرپختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ، اعلیٰ سطحی اجلاس منعقدپشاور میں صوبہ خیبرپختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کور ہیڈکوارٹر میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی اور صوبائی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، قومی سلامتی کے مشیر، کور کمانڈر پشاور،آئی جی ایف سی نارتھ، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔ اجلاس کے آغاز پر دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پشاور میں رواں برس پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز کا انعقاد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ ملاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم و نسق کو فوری طور پر صوبائی پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی نگرانی میں ایک ماڈل کے طور پر نافذ کیا جائے گا، جسے بعد ازاں مرحلہ وار خیبر، اورکزئی اور کرم کے متاثرہ اضلاع میں بھی متعارف کرایا جائے گا۔اجلاس میں ان اضلاع میں شروع کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور کسی بھی ممکنہ عسکری کارروائی کے جائزے کے لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی سربراہی میں ایک خصوصی ذیلی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، جو ماہانہ بنیادوں پر اجلاس منعقد کرے گی۔
خصوصی کمیٹی میں منتخب عوامی نمائندگان، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، صوبائی حکام اور وفاقی اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ کمیٹی ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے لیے مستقل روزگار کے مواقع پیدا کرنے، متبادل معاشی ذرائع کی فراہمی اور عارضی طور پر بے گھر افراد کے مسائل کے حل کے لیے بھی اقدامات کرے گی۔
اجلاس میں وفاق اور صوبہ خیبرپختونخوا کے درمیان مؤثر رابطے کے ذریعے دہشت گردی جیسے سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے یکساں پالیسی اور ہم آہنگ موقف اپنانے پر بھی زور دیا گیا۔مزید برآں نوجوانوں میں شدت پسندانہ سوچ کی روک تھام اور مثبت طرزِ فکر کے فروغ کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں غیر قانونی سم کارڈز، دھماکہ خیز مواد، بھتہ خوری اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پروفائلنگ کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔حکام نے واضح کیا کہ صوبے میں سیکیورٹی کی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر بنانے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی مرتب کی جا رہی ہے، جس کا مقصد عوام کو محفوظ ماحول اور پائیدار معاشی مواقع فراہم کرنا ہے۔
اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار وزیر اعلیٰ مریم نواز کے مشیر برائے مصنوعی ذہانت مقررعلی مصطفیٰ ڈار کو مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات مقرر کردیا۔چیف سیکرٹری پنجاب نےتقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا، جس کے مطابق علی مصطفیٰ ڈار کو مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات مقرر کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ علی مصطفیٰ ڈار ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کے بیٹے ، اورصدر مسلم لیگ ن نواز شریف کے
کچھ عقلمند بغلیں بجا رہے ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کو کچھ نہیں دیا انڈیا سے ڈیل کر لی عقل کے اندھو ہر شخص ہر ملک کے اپنے مسائل ہیں جہاں انڈیا اندرونی طور پر مستحکم اور دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے جا رہا ہے اس کی انڈسٹری کی ایک طویل تاریخ ہے جس کے پیچھے خالص کاروباری سوچ، جمہوری رویوں اور پالیسیوں کا تسلسل ہے جبکہ اپن کے ملک پر ہر چھ اٹھ سال بعد “ہو شیار۔ آسان باش۔ پیچھے مڑ “والے بھائی صاحب آ جاتے ہیں۔جہاں سیاستدان پورے دنوں کے بدمعاش و بدقماش اور حرامخور ہیں وہیں تین و چار ستاروں والے بڑے افسران تاجروں سے مقامی ایم کیو ایم سے مل کر اور کہیں کچے کے ڈاکوووں کی بندوق پر ہاتھ پھیر کر بھتہ لیتے دیکھے پائے جاتے ہیں۔۔لوٹ مار انڈیا میں بھی ہے مگر ہمارے ہاں تو وحشیانہ لوٹ مار ہے جس کے بغیر گزارہ تک نہیں ہوتا ۔ہر وزیر اعظم پر کرپشن کے الزام والے پاکستان کے مقابلے انڈیا میں نریند مودی من موہن سنگھ نرسیماراو گجرال واجپائئ سے نہرو تک کسی وزیراعظم پر کرپشن کا الزام نہیں لگا ۔قصہ مختصر پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے کا بھی الزام انڈیا پر کبھی نہیں لگا
جبکہ ہم اسے کمبل سے جان چھڑاتے چھڑاتے اے ائی کی دنیا میں پہنچ آئے ہیں انڈسٹری کس نے لگانی تھی صرف پچھلے چھبیس سال کو دیکھ لو پہلے جرنیل آ کر سگار پیتا رہا ۔بعد از پیپلزپارٹی والے پانچ سال دن و رات سوئس بینکوں کو خط لکھو پر کھیلتے رہے یوں میاں نامی ہی ٹیم مے فیلڈ کی رسیدوں کے دفاع میں جت گئی جاتے جاتے تبدیلی کو ناتجربہ کار ٹیم و کرونا چمٹ گیا جبکہ موجودہ چارلی شہزادے وہیں کھڑے ہیں جیسے فوجی اصطلاح میں “جیسے تھے ” کہتے ہیں ۔تو انڈیا کے مقابلے امریکہ آپ کو آخر دے تو دے کیا ؟ بولو ؟بجلی اور گیس جس کے بغیر کاروبار اور صنعت کا پہیہ نہیں چلتا یہ دو بنیادی چیزیں تمارے پاس سب سے مہنگی ہیں ذرائع آمدرفت کا کوئی حال نہیں۔ ٹیکس نظام سرخ فیتہ اور نوکر شاہی تمہارے کاروبار اور صنعت کا دشمن ہے۔کاریگر کام میں دھیان دینے کے بجاے بابو بنے پھر رہے ہیں
۔ تو دنیا تم سے خاک خریدے ؟انڈیا نے ڈیل ہنسی خوشی نہیں کی۔ بلکہ نو ماہ چاچا کی جھڑکیں اور گالیاں کھا کر جب چاچا ٹرمپ کے پاس بھی کچھ نہ بچا تو معاملہ طے ہوا ۔چاچا ٹرمپ دنیا کی تیسری بڑی منڈی انڈیا کو نتھ ڈال کر مودی کی مہار کھینچ کر روس سے تیل بند کروا کر اپنا وینزویلا والا بیچنے کی ڈیل پر مہر لگوا کر امریکی مصنوعات پر انڈین منڈیوں میں برابر ٹیکس لگوا کر اٹھارہ فیصد پر مانا ۔ تو اس میں انڈیا سے زیادہ امریکہ فائدے میں رہا ۔ رہ گیا یورپ تو وہ امریکہ سے دھتکارے ہوے مرتا کیا نہ کرتا انڈیا سے فری ٹریڈ میں چلنے کے علاوہ کر ہی کیا سکتا ہے ۔ چائنا سے مال لیں تو چاچا ٹرمپ کی گالیاں کھائیں جبکہ منڈی اتنی بڑی ہے کھپت انڈیا جیسے بڑے انڈسٹریل ملک کے علاوہ کوئی پوری نہیں کر سکتا تو ایسا ہونا ہی تھا ۔یورپ بھی انڈین مارکیٹ میں اپنا سودہ فری ٹریڈ کے تحت بیچے گا یہ دو طرفہ معاملہ ہے ۔ اب ہمارا حال یہ ہے بجلی اج بھی کوئی نہیں بل انگلینڈ سے زیادہ۔ریاستی قرضہ بدمعاشوں کیلئے جبکہ فیکٹری تجربہ و تربیت ناپید ۔ آئی ٹی چند نوجوان اپنے تئیں سیکھ رہے ہیں سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں ابھی تک بنیادی کورس سکھاے جا رہے ہیں۔ سرحد پر گولی جبکہ ملک میں کہیں ٹی ٹی پی کے دہشت گرد اور کہیں بلوچ دہشت گرد کہیں کچے کے ڈاکوؤں کا راج اور اگر کوئی شہری ان سے بچ جائے تو پکے والے چھوڑتے نہیں۔انڈیا امریکہ ڈیل پر طعنے دینے کے بجاے اپنے اپنے گریبان میں جھانکو ۔ ملک سے محبت کرنے والے باصلاحیت پڑھے لکھے یا ہنرمند نوجوان موجودہ پاکستانی کرتا دھرتاوں کو اسرائیلی سمجھ کر پاکستان کو بھی تین طلاقیں دے چکے ہیں یا دے رہے ہیں۔ ہم تیارکردہ مال باہرلے ملکوں کی منڈیوں میں بھیجنے کی بجائے اپنے نوجوان روشن دماغ دنیا بھر کو سپلائی کرنے کو کامیابی سمجھتے ہیں شاید برما کے بعد پاکستان دنیا کا دوسرا ملک ہے جو سیاسی معاشی اور طاقت کی تمام اکائیوں میں تقسیم ہے ۔جاری ہے
گُڈی لٹنا اور جَنج لٹنا یہ جنریشن Z کی پیدائش سے کچھ برس پہلے کی بات ہے جب پنجاب کی ثقافت میں گڈی اور جنج لوٹنے کی روایت کو بچوں میں بہت مقبولیت حاصل تھی-جنج لٹن دا اے مطلب نئی کہ جنج نوں گن پوائنٹ تے لٹیا جاندا سی- یہ بچوں اور جنج کا آپس کا باہمی معاھدہ تھا- ایک روپیہ بہت بڑی رقم ہوتی تھی- ایک روپے کے سو پیسے ھوتے اور ایک ایک پیسہ قیمتی تھا- اب تو رقم کی گنتی سو یا پچاس کے نوٹ سے شروع ہوتی ھے- سادہ دال اور دو دوٹیاں بھی کم از کم تین سو کی پڑتی ہیں – اس زمانے میں اچھے بھلے سرکاری ملازم کی تنخواہ پچاس ساٹھ روپے ہی ھوتی تھی- جنج میں بچوں کی طرف پانچ پیسے، دس پیسے، چوانی، اٹھانی کے سکے پھینکے جاتے اور بچے حسب جُثہ، سکّے لوٹ کر مال نیفے لگاتے جاتے- پھر جنجوں کو بسوں اور فلائنگ کوچز میں گن پوائنٹ پر لوٹنے کا دور شروع ہوا اور یہ کام بچوں کی جگہ اوباش نوجوانوں نے سنبھال لیا- جب مارکیٹ اکانومی کا دور آیا تو لوگ سیٹھ اور دوکاندار کے ہاتھوں ،خود لٹنے بازار آنے لگے
-انٹر نیٹ کی سہولت نے ڈاکوؤں کا کام اب آسان کر دیا ہے-اب ڈاکو، کمپیوٹر کی مدد سے گھر بیٹھے ہی لوٹ لیتے ہیں- بچوں اور جنج کا لوٹنے اور لٹے جانے کا باہمی معاھدہ اب ترقی کرتا ھوا حکومت اور عوام تک پہنچ چکا ہے-دونوں ایک دوسرے کو بلا جھجک لوٹ رھے ہیں -گڈی لٹنے کی داستان ایک علیحدہ ایڈوینچر تھا- گڈی کا رابطہ جب ڈور سے کٹ جائے تو اس عمل کو بو کاٹا اور گڈی کو ” کٹی پتنگ” کہتے ہیں- اس منظر نامے سے متاثر ھو کر ہی بھارتی نغمہ نگار آنند بخشی نے فلم “کٹی پتنگ” کے لئےنغمہ ” میری زندگی ھے کیا، اک کٹی پتنگ ھے” لکھا تھا اور فلم ھٹ ھو گئی -6 فروری کو لاھور میں “جشن بو کاٹا” میں خوب پیچے پڑے اور پتنگیں لٹیں-
کبوتر بازی سے پتنگ بازی تک کا سفر مائیک ہاتھ میں تھامے میاں نواز شریف کی پہلی تصویر آج سے دو سال پہلے کی ہے، جب 8 فروری 2024 کے انتخابات میں محض 17 نشستوں کے باوجود پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے تاریخی دھاندلی، بلکہ بدمعاشی کے ذریعے نواز لیگ کو حکومت بنانے کا موقع دیا۔ اس کے بعد ان کے بھائی وزیرِ اعظم بنے اور بیٹی پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ منتخب ہو گئیں۔نیلے لباس میں ملبوس میاں صاحب کی دوسری تصویر ٹھیک دو سال بعد، یعنی 8 فروری 2026 کی ہے۔ دونوں تصاویر میں ان کی صحت میں زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ آج میاں صاحب نہایت کمزور اور نحیف نظر آ رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا صحت میں یہ گراوٹ صرف دو سال کے عرصے میں ایک فطری عمل ہے؟ کیا یہ صرف ذیابیطس کا نتیجہ ہے، یا ان دو سالوں کا اخلاقی دباؤ اور ذہنی تناؤ بھی اس میں شامل ہے؟ یا شاید ان تمام عوامل نے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہو۔ ویسے میرے خیال میں تو قوم کی لوٹی دولت گیرب کے حیصےکے کھائے ھوئے مال کی بدولت اور قوم کی طرف سے بھجی گئے لعنتوں کی بنا پر اس کی شکل پہ اثرات پڑھ رہے ہیں ورنہ شرم ضمیر غیرت سے تو ان کا ات کتے کا ویر ہے اس کو ضمیر کا کوئی بوجھ نہیں آپ کا کیا خیال ہے ؟
ایپسٹین کے فارم ہاوس میں عورتوں کو کثیر تعداد میں حاملہ کر کے ایک نام نہاد ’اعلیٰ نسل‘ تیار کرنے کا منصوبہ: نئی دستاویزات میں خوفناک انکشافات نیویارک کی جیل میں جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی موت کو کئی سال گزر چکے ہیں، تاہم اب سامنے آنے والی نئی دستاویزات، بیانات اور امریکی محکمہ انصاف کے حالیہ ریکارڈز نے اس بدنام فنانسر کی سوچ اور مبینہ منصوبوں کے بارے میں ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں جاری کردہ تازہ معلومات کے مطابق ایپسٹین نے اپنے قریبی افراد سے کہا تھا کہ وہ نیو میکسیکو میں واقع اپنے وسیع و عریض فارم کو ایک ایسے منصوبے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے جہاں وہ عورتوں کو حاملہ کرے اور اس کے خون سے ایک نام نہاد ’اعلیٰ نسل‘ تیار کی جاسکے۔بعض لوگوں نے نجی طور پر اس خیال کو ’بیبی رینچ‘ (بچوں کا باڑہ) کا نام دیا۔نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ یہ منصوبہ عملی طور پر کبھی نافذ ہوا، تاہم سائنس دانوں، مشیروں اور حال ہی میں منظر عام پر آنے والی سرکاری فائلوں سے ایک ایسی تصویر ضرور سامنے آتی ہے جو طاقت، اختیار اور خیالی تصورات کے خطرناک امتزاج کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ایپسٹین کی یہ گفتگو مبینہ طور پر ’ٹرانس ہیومن ازم‘ میں اس کی دلچسپی سے جڑی ہوئی تھی، جو ایک ایسا نظریہ ہے جس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق، ناقدین کا کہنا ہے
کہ اس طرز فکر میں ماضی کے متنازع اور مسترد شدہ نظریات، خاص طور پر یوجینکس، کی جھلک بھی دیکھی جا سکتی ہے۔2019 میں گرفتاری سے قبل ایپسٹین نے اپنے خلاف الزامات کی تردید کی تھی اور وہ اکثر اپنے خیالات کو علمی اور فکری انداز میں پیش کرتا تھا۔ تاہم بعد میں اس سے گفتگو کرنے والے کئی افراد نے اعتراف کیا کہ اس وقت انہوں نے اس کی باتوں کو سنجیدگی سے چیلنج نہیں کیا۔ایپسٹین نے بااثر علمی حلقوں میں رسائی حاصل کرنے کے لیے بھاری عطیات، تقریبات اور نجی ملاقاتوں کا سہارا لیا۔ اس کے روابط معروف سائنس دانوں اور دانشوروں تک جا پہنچے، جن میں طبیعیات دان اسٹیفن ہاکنگ، ماہر نفسیات اسٹیون پنکر اور جینیٹکس کے ماہر جارج ایم چرچ جیسے نام شامل تھے۔اس نے کانفرنسز کی مالی معاونت کی، نجی عشائیے منعقد کیے اور تحقیقی منصوبوں کی سرپرستی کی، جس کے باعث بعض محققین نے بعد میں تسلیم کیا کہ مالی تعاون نے انہیں اس کے ماضی پر سخت سوال اٹھانے سے روکے رکھا۔ایپسٹین کے نیو میکسیکو میں واقع زورو رینچ سے متعلق متاثرین کے بیانات نے ان خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔بعض افراد کے مطابق ایپسٹین تولید اور انسانی کنٹرول کے موضوع پر محض نظری گفتگو تک محدود نہیں تھا۔ تعلیمی نشستوں میں، جن میں ہارورڈ جیسے ادارے بھی شامل تھے، اس نے مبینہ طور پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ غریب ممالک میں صحت اور غربت کے خاتمے کی کوششیں آبادی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔کچھ شرکاء نے بعد میں بتایا کہ انسانی زندگی کو اعداد و شمار میں تولنے کا یہ انداز انہیں پریشان کن لگا۔ایک خاتون، جنہوں نے خود کو ناسا کی سائنس دان بتایا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین ایک وقت میں اپنے فارم پر 20 خواتین کو حاملہ دیکھنا چاہتا تھا۔رپورٹ کے مطابق، اسے ایک ایسے سپرم بینک سے تحریک ملی جو اب بند ہو چکا ہے اور جہاں یہ تصور پایا جاتا تھا کہ نوبیل انعام یافتہ افراد کے جینز سے انسانیت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ایپسٹین نے اپنی موت کے بعد جسم کو محفوظ رکھنے جیسے خیالات پر بھی بات کی۔ایک سابق ساتھی کے مطابق اس نے کرائیونکس، یعنی انسانی جسم کو منجمد کر کے محفوظ کرنے کے متنازع عمل، پر گفتگو کی اور یہاں تک کہا کہ وہ اپنے جسم کے کچھ حصے مستقبل کے لیے محفوظ رکھنا چاہتا ہے
۔امریکی محکمہ انصاف کی حالیہ شائع شدہ فائلوں میں شامل ایک ڈائری نے مزید سوالات کو جنم دیا ہے۔اس ڈائری میں ایک خاتون نے لکھا کہ اس نے کم عمری میں بچے کو جنم دیا اور کچھ عرصے بعد وہ بچہ اس سے لے لیا گیا، جس کی نگرانی مبینہ طور پر ایپسٹین کی قریبی ساتھی گھیسلین میکسویل کر رہی تھیں۔اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور بچے کے بارے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔زورو رینچ، جو ہزاروں ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا، بظاہر ایک نجی تفریحی مقام کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، مگر متاثرین نے بعد میں اسے خوف اور استحصال کی جگہ قرار دیا۔کئی خواتین نے عدالت میں بتایا کہ انہیں کم عمری میں وہاں لے جایا گیا، جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں مدد سے دور رکھا گیا۔گھیسلین میکسویل کو بعد ازاں لڑکیوں کو ورغلانے اور جنسی اسمگلنگ میں مدد دینے کے جرم میں سزا سنائی گئی، جبکہ بعض گواہوں نے تصدیق کی کہ وہ اہم ادوار میں زورو رینچ پر موجود تھیں۔