—وزیراعظم۔۔ آسٹریاوزیراعظم شہباز شریف کی آسٹریا کے کاروباری طبقے کو پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوتویانا۔16فروری وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آسٹریا کے کاروباری طبقے کو زراعت، آئی ٹی، معدنیات و کان کنی، سیاحت، ٹیکسٹائل و لیدر، قابل تجدید توانائی، انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ آسٹریا کے سرمایہ کار پاکستان آئیں، حکومت ان کی میزبانی کرے گی، دونوں ممالک میں تعاون اور دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں پاکستان-آسٹریا بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی کے علاوہ دونوں ممالک کی نمایاں کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک کے مابین مضبوط بنیادوں پر استوار طویل دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آسٹرین کمپنیاں دہائیوں سے پاکستان میں کام کرتی رہی ہیں لیکن ماضی قریب میں بوجوہ اس میں کمی آئی، قابل تجدید توانائی، معدنیات و کان کنی اور سیاحت کے شعبے میں کئی آسٹرین کمپنیاں پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے چانسلر کرسچئین اسٹاکر کے ساتھ دوطرفہ اور وفود کی سطح پر مذاکرات کو بہت مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ملاقاتوں میں طے ہونے والے امور کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آسٹریا کے دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات دہائیوں پر محیط تاریخی حقائق پر مبنی ہیں، قابل تجدید توانائی اور کان کنی کے شعبے میں آسٹریا کا تعاون قابل تعریف ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، ہماری نوجوان نسل بہت باصلاحیت ہے، حکومت نے آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر آئی ٹی کی تعلیم اور تربیت کے لئے کوشاں ہیں، نوجوانوں کی ترقی کے لئے متعدد منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ غیرقانونی تارکین وطن کے مسئلے پر یورپی پارٹنرز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا اہم انحصار زراعت پر ہے، 60 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے، زرعی ٹیکنالوجی کی ترقی اور گندم، مکئی اور گنے سمیت اہم فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لئے کاوشیں جاری ہیں، زرعی شعبے میں ویلیو ایڈیشن کے لئے آسٹریا کے تعاون کا خیرمقدم کریں گے کیونکہ اس شعبے میں آسٹریا کا وسیع تجربہ اور مہارت ہے۔ انہوں نے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں بھی دوطرفہ تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں آسٹریا کی بزنس کمیونٹی کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاحت، قابل تجدید توانائی، انجینئرنگ،ٹیکسٹائل، لیدر، ہائیڈرو پاور، سولر، بائیو ماس، سمارٹ سلوشنز، گرڈ ماڈرنائزیشن، انڈسٹریل آٹومیشن، مشینری اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع ہیں، معاشی شعبے میں شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے خواہاں ہیں، اپرل میں پاکستان ای بزنس فورم کا اسلام آباد میں انعقاد ہوگا۔ وزیراعظم نے آسٹرین سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ حکومت کی دعوت پر پاکستان آئیں، ہمارے مہمان بنیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیں۔ قبل ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے فورم کا انعقاد اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور چانسلر کرسچئین اسٹاکر کے درمیان تعمیری بات چیت ہوئی، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں معاشی سفارتکاری پر توجہ مرکوز ہے، اپنے محل وقوع اور معاشی مواقع کی وجہ سے پاکستان اہم مارکیٹ ہے، معاشی استحکام اور ترقی کے لئے اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے موجودہ دور میں معاشی سفارتکاری اور ترقیاتی عمل کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سفارتکاری میں آسٹریا کے اہم کردار کے معترف ہیں، برآمدات پر مبنی معیشت کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے حکومت کے معاشی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، نوجوانوں کی بہت بڑی آبادی کے باعث پاکستان میں ٹیکنالوجی اور جدت جس میں آسٹریا کو خصوصی مہارت حاصل ہے، کے شعبے میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کی درست عکاسی نہیں کرتا۔ فورم میں پاکستانی اور آسٹرین کاروباری شخصیات اور کمپنیوں کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی
پی آئی اے کی تاریخ کی لیجنڈ ائیر ہوسٹس مومی گل درانی ، رشیدہ اور 2 جڑواں بچوں کے طویل سفر کا دلچسپ واقعہ ۔۔۔۔یہ تصویر اگست 1962 میں لی گئی جب مومی گل اور رشیدہ کی گود میں یہ بچے لندن سے کراچی کا طویل سفر کرکے پہنچے تھے۔ دونوں جڑواں بچوں، فہیم احمد اور سوزین افراح محض پانچ ماہ کی عمر میں 4,500 میل کا فضائی سفر بغیر والدین کے طے کر کے کم عمر ترین جیٹ مسافر بن گئے۔ وہ لندن سے پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچے اور بیس منٹ بعد راولپنڈی کے لیے متصل پرواز لے کر مزید 700 میل کا سفر اپنی فلائٹ لاگ میں شامل کیا۔ان کے والدین کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے انگلینڈ میں ہی قیام کرنا پڑا۔لندن سے کراچی تک کے سفر کے دوران یہ بچے مکمل طور پر پی آئی اے کی ایئر ہوسٹسز مومی گل درانی اور رشیدہ کی نگرانی میں رہے۔کراچی میں لینڈنگ کے بیس منٹ بعد جڑواں بچوں کو ایئر ہوسٹسز کی ایک اور جوڑی کے سپرد کر دیا گیا، جنہوں نے راولپنڈی تک سفر کے دوسرے مرحلے میں ان کی دیکھ بھال کی۔مومی گل درانی 1950 اور 1960 کی دہائی میں پی آئی اے کے نہایت تربیت یافتہ کیبن کریو ارکان میں سے ایک تھیں۔ وہ قدآور، گوری رنگت کی حامل اور فلمی ستاروں جیسی وجاہت رکھتی تھیں، اور پی آئی اے نے انہیں اپنے متعدد اشتہارات میں نمایاں کیا تھا۔ ان اشتہارات نے مومی کو اپنے دور کی سب سے زیادہ پہچانی جانے والی پی آئی اے ایئر ہوسٹس بنا دیا تھا۔ 20 مئی 1965 کو مومی پی آئی اے کے بوئنگ 720B جیٹ لائنر پر ڈیوٹی پر تھیں جو قاہرہ ایئرپورٹ کے قریب حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس افسوسناک سانحے میں مومی گل سمیت 114 افراد جاں بحق ہو گئے تھے ، اللہ کریم مومی گل درانی اور اسے حادثے میں تمام جان بحق مسافروں کے درجات بلند فرمائے آمین
پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کا دھرنے تیسرے روز بھی جاری دھرنے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میں تین مقامات پر دئیے جا رہے ہیں پارلیمنٹ کے احاطے میں دئیے جانے والے دھرنے کی قیادت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کر رہے ہیں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس بھی پارلیمنٹ کے دھرنے میں موجود چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی پارلیمنٹ دھرنے میں موجود ہمارے پاس صرف کھجوریں اور بسکٹ ہیں جن پر گزارا کر رہے ہیں، ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان حسین یوسفزئی ہمارے پاس پینے کا صاف پانی ختم ہو چکا، پارلیمنٹ کے نلکوں کا پانی پی رہے ہیں، ترجمان علامہ راجہ ناصر عباس، سینیٹر فلک چترالی کی ادویات بھی ختم ہو چکی ہیں، ترجمان اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی جانب سے سہولیات کے حوالے سے تاحال کوئی راںطہ نہیں کیا گیا، ذرائع پارلیمنٹ کے کسٹوڈین اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ نے اپنے ارکان کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا، اپوزیشن کا الزام خیبرپختونخوا ہاؤس کے مرکزی دروازے پر بھی وزیراعلی سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کی قیادت میں دھرنا جاری پارلیمنٹ لاجز میں بھی پی ٹی آئی ارکان موجود صحافیوں کا شاہراہ دستور میں داخلہ بندناکوں پر موجود پولیس اہلکاروں کی صحافیوں بدسلوکی خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر قیدیوں کی مزید وینیں پہنچا دی گئیں
جب ایک ڈیڑھ سو روپے کی لنڈے کی جیکٹ پہننے والے کو دو ہزار کا چالان کرو گے تو کیا وہ زندہ رہ پائے گا ؟افسوس گجرات میں شام کے وقت طاہر بیگ جو کہ ایک دیہاڑی دار غریب بندہ تھا اپنے کام سے واپس آرہا تھا کہ وراڈن والوں نے روکا یہ بیچارہ منتیں کرتا رہا کہ میرے حالات نہیں ہیں لیکن کسی نے ایک نہیں سنی ان کو اپنے کمیشن سے غرض تھا حتیٰ کے یہ رونے لگ گیا کہ میری جیب میں چند سو کے علاوہ کچھ نہیں ہے گھر میں بچے انتظار میں ہیں مجھ پہ رحم کرو لیکن انہوں نے 2000 کا چالان کردیا جس کی وجہ سے یہ وہیں موقع پہ گرا اور ختم ہوگیا ۔وارڈن والوں نے اس کی موٹر سائیکل کو پکڑا اور اس کو لے گئے جبکہ یہ وہیں پہ گرا پڑا رہا کہنے لگے کہ ڈرامے بازی کر رہا ہے ۔جب لوگ اکٹھے ہوئے اور اس کو لیٹایا تو پتا چلا کہ یہ بیچارہ دو ہزار کا صدمہ برداشت نہیں کر سکا جب جیب چیک کی گئی تو چند سو روپے اور ایک پرانا سا موبائل نکلا یہ ہماری بے حسی کا عالم ہے اب چاہے ڈی پی او نوٹس لے لیں لیکن کیا ہوگا ؟؟؟کیا اس کے گھر والوں کی کفالت حکومت کرے گی
بلوچستان میں 5 افراد کی لاشیں برآمد، کوئٹہ اور پنجگور میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاریکوئٹہ/پنجگور: بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مزید پانچ افراد کی لاشیں برآمد ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس سے تین تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مقتولین کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور انہیں بے دردی سے قتل کیا گیا۔ لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ شناخت اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔دوسری جانب ضلع پنجگور میں دو روز کے دوران مزید دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان میں سے ایک کی شناخت جبری لاپتہ نواب کے نام سے ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔رواں ہفتے کے دوران صرف پنجگور سے مجموعی طور پر چھ افراد کی لاشیں مل چکی ہیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ سکیورٹی اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم تاحال کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔
سنیارٹی کا جنازہ۔۔۔۔۔۔تحریر۔سجاد جرال آزاد کشمیر میں آئی جی پولیس کی تعیناتی کے معاملے نے ایک بار پھر ہمیں سرکاری پروٹوکول، سینیارٹی اور وفاقی روایات کے حسین امتزاج پر غور کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے پنجاب پولیس میں خدمات انجام دینے والے ڈی آئی جی کیپٹن (ر) ملک لیاقت علی کو آزاد کشمیر پولیس کا آئی جی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ موجودہ آئی جی یاسین قریشی بدستور ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ سرکاری طریقۂ کار کے مطابق تقرریاں حکومتِ وقت کا اختیار ہوتی ہیں اور بلاشبہ ہر افسر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت اور خدمات کی بنیاد پر اہمیت رکھتا ہے۔تاہم سرکاری نظم و ضبط میں ایک اصول “سینیارٹی” بھی کہلاتا ہے، جو فائلوں میں تو بڑی باوقار نظر آتا ہے مگر عملی فیصلوں میں کبھی کبھار شرما سا جاتا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے کہ نئے متوقع آئی جی، موجودہ افسر سے تقریباً دس سال جونیئر ہیں، جبکہ 7 کے قریب پولیس آفیسر ان سے سنیر ہیں اور انکے کورس میٹ آزاد کشمیر میں ایس ایس پی کے عہدے پر تعینات ہیں، انکی بطور ائی جی آزاد کشمیر تعیناتی پر ان افسران پر کیا اثر پڑے گا۔۔۔۔ ؟یہ سوال اُٹھنا فطری ہے کہ کیا تجربہ اور سروس اسٹرکچر محض سرکاری کتابچوں کی زینت کے لیے ہوتے ہیں؟یاسین قریشی کی مختصر مدت کی کارکردگی کے حوالے سے مقامی حلقوں میں مثبت رائے پائی جاتی ہے۔ ایسے میں اگر وہ چند ماہ مزید اپنی ذمہ داریاں انجام دے لیتے تو غالباً سرکاری نظام کی دیواریں کم از کم لرز تو نہ جاتیں۔ آخر پانچ ماہ کی مدت کوئی آئینی بحران تو پیدا نہیں کرتی۔یہ بات بھی بجا ہے کہ کیپٹن (ر) ملک لیاقت علی ایک قابل اور پیشہ ور افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں، اور ان کی خدمات پر کسی کو اعتراض نہیں۔ مگر سوال فردِ واحد کی قابلیت کا نہیں، بلکہ ادارہ جاتی توازن اور افسران کے وقار کا ہے۔ اگر ایک سینئر افسر کے اوپر واضح طور پر جونیئر افسر تعینات کیا جائے تو اس کا تاثر محض تقرری نہیں بلکہ ایک پیغام بھی ہوتا ہے—اور پیغامات اکثر فائل نوٹنگ سے زیادہ دیرپا اثر رکھتے ہیں۔آزاد کشمیر حکومت، بالخصوص وزیر اعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور کے لیے مناسب ہوگا کہ وہ اس معاملے پر وفاق سے باوقار اور آئینی انداز میں مشاورت کریں، تاکہ سرکاری پروٹوکول کی پاسداری بھی ہو اور ادارہ جاتی ہم آہنگی بھی برقرار رہے۔ اختلاف رائے جمہوری حسن ہے، بشرطیکہ وہ مہذب اور اصولی انداز میں پیش کیا جائے۔آخرکار آزاد کشمیر کوئی تجربہ گاہ نہیں جہاں سینیارٹی کو محض رسمی شے سمجھ لیا جائے۔ اگر تقرری ناگزیر ہو تو کم از کم اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ میرٹ، تجربہ اور ادارہ جاتی وقار تینوں پہلو ساتھ ساتھ چلیں—کیونکہ پولیس فورس صرف وردی سے نہیں، اعتماد سے بھی چلتی ہے۔
بنگلہ دیش کے نامزد وزیر اعظم طارق رحمانبنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کے چیئرمین طارق رحمان مقامی طور پر طارق ضیا کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ بی این پی نے 2026 کے عام انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی، جس کے بعد وہ جاتیہ سنگساد (قومی اسمبلی) کے دو حلقوں سے پہلی بار منتخب ہوئے ہیں۔ نتائج کے حتمی اعلان کے بعد وہ وزیر اعظم بننے والے ہیں۔طارق رحمان بنگلہ دیش کے ساتویں صدر ضیاء الرحمن اور بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے ہیں۔ وہ مختلف مقدمات کے باعث 2008 سے لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ 25 دسمبر 2025 کو وہ اپنی اہلیہ زبیدہ اور بیٹی زائمہ کے ہمراہ 17 سالہ جلاوطنی ختم کرکے بنگلہ دیش واپس آئے۔ان کی لندن سے آمد کے پانچ دن بعد، ان کی والدہ، سابق وزیر اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی چیئرمین خالدہ ضیا، انتقال کر گئیں۔ ان کی وفات کے دس دن بعد، 9 جنوری 2026 کو، طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین منتخب ہو گئے۔طارق رحمان کے والد، ضیاء الرحمن، پاکستانی فوج کے افسر تھے، جو بعد میں “بیر اتم” اعزاز یافتہ اور بنگلہ دیش کے صدر بنے۔ ان کی والدہ، خالدہ ضیا، ابتدا میں ایک گھریلو خاتون تھیں، لیکن شوہر کے قتل کے بعد سیاست میں آئیں اور بعد میں بنگلہ دیش کی وزیر اعظم بنیں۔طارق رحمان 20 نومبر 1965 کو ڈھاکہ میں پیدا ہوئے۔ تاہم، ان کے انتخابی حلف نامے اور قومی شناختی کارڈ میں ان کی تاریخ پیدائش 1968
درج ہے۔
انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ڈھاکہ کے بی اے ایف شاہین کالج سے حاصل کی۔ ہائیر سیکنڈری تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1985–86 میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ قانون میں داخلہ لیا، لیکن بعد میں شعبہ تبدیل کرکے انٹرنیشنل ریلیشنز میں داخلہ لے لیا۔ تاہم، دوسرے سال کے دوران انہوں نے یونیورسٹی چھوڑ دی اور ٹیکسٹائل انڈسٹری اور شپنگ سیکٹر میں کاروبار شروع کیا۔طارق رحمان نے 3 فروری 1994 کو بنگلہ دیش نیوی کے سابق چیف آف نیول اسٹاف ریئر ایڈمرل محبوب علی خان کی سب سے چھوٹی بیٹی زبیدہ سے شادی کی، جو ایک ڈاکٹر ہیں۔ زبیدہ نے 1995 میں بنگلہ دیش سول سروس (BCS) کا امتحان پاس کرنے کے بعد سرکاری ملازمت اختیار کی۔ تاہم، 2014 میں چھ سال تک غیر حاضری کے باعث عوامی لیگ حکومت نے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا۔ طارق رحمان کی اکلوتی بیٹی زائمہ ایک بیرسٹر ہیں۔طارق رحمان نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1988 میں بوگرہ کے گبتھلی میں بی این پی کی ذیلی ضلعی شاخ کے بنیادی رکن کے طور پر کیا۔1991 کے عام انتخابات میں وہ ان حلقوں میں بی این پی کی انتخابی مہم میں سرگرم رہے جہاں ان کی والدہ خالدہ ضیا امیدوار تھیں۔ یہ انتخابات بنگلہ دیش میں فوجی حکمرانی سے جمہوری حکومت کی طرف منتقلی کے دوران منعقد ہوئے تھے۔1996 کے عام انتخابات میں انہوں نے خود کسی نشست پر انتخاب نہیں لڑا بلکہ ان حلقوں میں انتخابی مہم کو منظم کیا جہاں ان کی والدہ امیدوار تھیں۔1996 سے 2001 تک عوامی لیگ حکومت کے دوران وہ اپوزیشن کی سیاسی سرگرمیوں میں شامل رہے۔ 2001 کے انتخابات میں بی این پی نے دو تہائی اکثریت حاصل کی۔11 ستمبر 2008 کو اپنی والدہ کی رہائی کے بعد وہ علاج کے لیے لندن کے سینٹ جانز ووڈ میں واقع ویلنگٹن ہسپتال منتقل ہو گئے۔ فوج کے حمایت یافتہ نگران حکومت نے تصدیق کی کہ انہوں نے تحریری یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ سیاست میں حصہ نہیں لیں گے، جس کے بعد انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی۔8 دسمبر 2009 کو ڈھاکہ میں منعقدہ بی این پی کی پانچویں قومی کونسل میں انہیں سینئر نائب چیئرمین منتخب کیا گیا۔بعد ازاں، ان کی والدہ خالدہ ضیا نے کہا کہ علاج مکمل ہونے کے بعد وہ دوبارہ فعال سیاست میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت انہیں واپس آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے اور ان کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔4 جنوری 2014 کو یوٹیوب پر جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں طارق رحمان نے انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔2015 میں انہوں نے برطانیہ میں وائٹ اینڈ بلیو کنسلٹنٹس لمیٹڈ کے نام سے ایک پبلک ریلیشنز کمپنی رجسٹر کروائی۔ ابتدائی طور پر کمپنی ریکارڈ میں ان کی قومیت برطانوی درج تھی، تاہم 2016 میں اسے درست کرکے بنگلہ دیشی کر دیا گیا۔ انہوں نے برطانوی شہریت حاصل کرنے کے الزامات کی تردید کی۔2018 کے انتخابات میں انہوں نے اسکائپ کے ذریعے پارٹی امیدواروں کے انٹرویوز کیے۔شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد انہوں نے وعدہ کیا کہ مقدمات ختم ہونے کے بعد وہ بنگلہ دیش واپس آئیں گے اور اصلاحاتی عمل کی حمایت کریں گے۔13 جون 2025 کو انہوں نے لندن میں عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس سے ملاقات کی، جسے بی این پی نے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔12 فروری 2026 کے عام انتخابات میں بی این پی کی کامیابی کے بعد طارق رحمان بنگلہ دیش کے وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں۔طارق رحمان پر تنازعات اور الزاماتطارق رحمان اپنی والدہ، خالدہ ضیا کے تیسرے دورِ حکومت اور بعد ازاں حسینہ واجد کی عوامی لیگ حکومت کے دوران متعدد تنازعات کا مرکز رہے۔2007 کے بعد ان کے خلاف مجموعی طور پر 84 مقدمات درج کیے گئے۔ بی این پی نے ان مقدمات کو “سیاسی طور پر محرک” قرار دیا۔ بعد ازاں، جولائی انقلاب کے بعد ڈھاکہ کی عدالتوں نے انہیں ان تمام الزامات سے بری کر دیا
۔کھمبہ تنازع2001 سے 2006 کے دوران بی این پی حکومت کے عرصے میں، طارق رحمان پر سیاسی مخالفین، خصوصاً عوامی لیگ، کی جانب سے بجلی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے۔ ان الزامات کو عام طور پر “کھمبہ تنازع” کے نام سے جانا جاتا ہے۔جنوری 2026 میں ٹائم میگزین کے ایک مضمون بعنوان “بنگلہ دیش کا نافرمان بیٹا” میں ذکر کیا گیا کہ ان کے ناقدین انہیں اب بھی توہین آمیز لقب “کھمبہ طارق” سے پکارتے ہیں۔ اس مضمون میں 2008 کی امریکی سفارت خانے کی ایک سفارتی کیبل کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں انہیں بنگلہ دیش میں بدعنوان حکومت کی علامت قرار دیا گیا تھا۔طارق رحمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنے سیاسی مخالفین اور ریاستی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت کو کمزور کرنے کی “بدنامی مہم” قرار دیا۔حوا بھون تنازعطارق رحمان اور ان کے ساتھیوں پر یہ بھی الزام لگایا گیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر تاجروں اور سیاسی مخالفین سے رشوت وصول کی اور یہ رقم بیرون ملک منتقل کی۔ان الزامات کی بنیاد پر بنگلہ دیش کے انسداد بدعنوانی کمیشن، امریکہ کے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (FBI)، اور سنگاپور کی عدالتوں نے تحقیقات کیں۔ تحقیقات کے دوران یہ دعویٰ کیا گیا کہ تقریباً 20 ملین ڈالر بیرون ملک منتقل کیے گئے تھے۔تاہم، 20 مارچ 2025 کو عدالت نے انہیں اس مقدمے میں بری کر دیا۔منی لانڈرنگ کیس2007 میں بنگلہ دیش کے انسداد بدعنوانی کمیشن نے طارق رحمان اور غیاث الدین کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ دائر کیا۔2013 میں ٹرائل کورٹ نے انہیں اس مقدمے میں بری کر دیا، تاہم 21 جولائی 2016 کو ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں سات سال قید اور 20 کروڑ ٹکا جرمانے کی سزا سنائی۔بعد ازاں، 5 دسمبر 2024 کو بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے انہیں اس مقدمے میں بری کر دیا۔غیر قانونی اثاثوں کا مقدمہ2007 میں نگران حکومت نے طارق رحمان، ان کی اہلیہ زبیدہ، اور ان کی ساس اقبال بانو کے خلاف ان کی آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا۔ڈھاکہ کی عدالت نے طارق رحمان کو نو سال قید اور 30 ملین ٹکا جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ ان کی اہلیہ کو تین سال قید اور 3.5 ملین ٹکا جرمانے کی سزا دی گئی۔ عدالت نے ان کے بعض اثاثے ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔بعد ازاں، 28 مئی 2025 کو عدالت نے طارق رحمان اور ان کی اہلیہ کو اس مقدمے میں تمام الزامات سے بری کر دیا۔ضیا چیریٹیبل ٹرسٹ بدعنوانی کیسانسداد بدعنوانی کمیشن نے 2008 میں یہ مقدمہ دائر کیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ ضیا یتیم خانہ ٹرسٹ کے لیے دی گئی غیر ملکی گرانٹ کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔2018 میں عدالت نے خالدہ ضیا کو پانچ سال اور طارق رحمان کو دس سال قید کی سزا سنائی۔ تاہم، بعد ازاں 2025 میں عدالت نے اس مقدمے میں تمام ملزمان کو بری کر دیا۔2004 ڈھاکہ گرینیڈ حملہ کیس2004 میں عوامی لیگ کی ایک ریلی پر گرینیڈ حملہ ہوا، جس میں 24 افراد ہلاک اور تقریباً 300 زخمی ہوئے۔2018 میں عدالت نے طارق رحمان کو اس حملے کا مرکزی سازشی قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔تاہم، 2024 میں عدالت نے انہیں اور دیگر ملزمان کو اس مقدمے میں بری کر دیا۔دس ٹرک اسلحہ کیس2004 میں چٹاگانگ میں دس ٹرکوں میں بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا۔ طارق رحمان پر اس اسلحہ اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا۔اس مقدمے میں ان کے خلاف تحقیقات کی گئیں، تاہم بعد میں عدالت نے انہیں بری کر دیا۔بغاوت اور دیگر مقدمات2014 میں لندن میں ایک تقریر کے بعد ان پر بغاوت اور دیگر الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے۔بعد ازاں، 2024 اور 2025 کے دوران عدالتوں نے ان مقدمات کو خارج کرتے ہوئے انہیں بری کر دیا۔طارق رحمان بنگلہ دیش کی سیاست کی ایک انتہائی متنازع شخصیت رہے ہیں۔ ان پر بدعنوانی، رشوت، منی لانڈرنگ، اور دہشت گردی سے متعلق متعدد الزامات عائد کیے گئے۔ تاہم، بعد ازاں عدالتوں نے زیادہ تر مقدمات میں انہیں بری کر دیا۔ان تمام تنازعات کے باوجود، وہ اب بنگلہ دیش کے وزیر اعظم بننے کی پوزیشن میں ہیں، جو ان کے سیاسی کیریئر کی ایک اہم پیش رفت ہے۔
چین نے سب میرین صلاحیتوں میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔بیجنگ جلد ٹائپ 095 نیوکلیئر سب میرین لانچ کرے گا تاکہ امریکی ورجینیا کلاس کے مقابلے میں توازن قائم کیا جا سکے۔ورجینیا کلاس کے برعکس، ٹائپ 095 سب میرینز ہائپر سونک اینٹی شپ میزائلز فائر کر سکتی ہیں اور ایئرکرافٹ کیریئرز کو بھی نشانہ بنا سکتی ہیں۔
*نیا چاند 17 فروری کو شام 05 بج کر 01 منٹ پر پیدا ہوگا،19 فروری کو پہلا روزہ ہونے کا امکان ہے،ترجمان سپارکو*پاکستان میں یکم رمضان المبارک 19 فروری 2026ء کو ہونے کا امکان ہے۔ سپارکو کے ترجمان سپارکو کے مطابق نیا چاند 17 فروری 2026ء کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 5 بج کر 1 منٹ پر پیدا ہو گا اور 18 فروری کو غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 25 گھنٹے اور 48 منٹ ہو گی۔ ترجمان کے مطابق 18 فروری کی شام آنکھ سے چاند نظر آنے کے امکانات ہیں، مقدس مہینے کے آغاز کا حتمی اعلان رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کرے گی۔ دوسری جانب آسٹریلیا اور عمان میں باضابطہ طور پر یکم رمضان المبارک 2026ء کے حوالے سے اعلان کر دیا گیا ہے۔ آسٹریلیا اور عمان میں رمضان المبارک کا آغاز 19 فروری 2026ء بروز جمعرات سے ہو گا۔
ملک بھر چین نے سب میرین صلاحیتوں میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔بیجنگ جلد ٹائپ 095 نیوکلیئر سب میرین لانچ کرے گا تاکہ امریکی ورجینیا کلاس کے مقابلے میں توازن قائم کیا جا سکے۔ورجینیا کلاس کے برعکس، ٹائپ 095 سب میرینز ہائپر سونک اینٹی شپ میزائلز فائر کر سکتی ہیں اور ایئرکرافٹ کیریئرز کو بھی نشانہ بنا سکتی ہیں۔
*آج کی پوسٹ میں 42 ہیڈلائنز ہیں🚨 (1) انڈونیشیا کا پاک فضائیہ کے جنگی تجربے اور تربیتی مہارت سے استفادے کی خواہش کا اظہار🚨 (2) ائیر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی انڈونیشین ہم منصب، صدر، وزیر دفاع اور مسلح افواج کے کمانڈر سے ملاقاتیں🚨 (3) کراچی حیدرآباد موٹروے پر گاڑیوں میں تصادم، 13 افراد جاں بحق، انسانی اعضا بکھر گئے🚨 (4) پی ٹی آئی احتجاج کا معاملہ، پارلیمنٹ جانیوالے تمام راستے بند، پولیس کے ارکان پارلیمنٹ کو دھکے🚨 (5) پی ٹی آئی احتجاج؛ پارلیمنٹ ہاؤس کے دروازے بند، ارکان اسمبلی کو باہر جانے سے روک دیا گیا🚨 (6) پی ٹی آئی کارکنان کا خیبرپختونخوا سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج، بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ🚨 (7) 2 ماہ میں اسلام آباد کی جیل مکمل ہوگی تو عمران خان کو وہاں منتقل کیا جائے گا: وزیر داخلہ🚨 (8) بانی پی ٹی آئی کو سزا اسلام آباد کی عدالت سے ہوئی، انہیں اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا: محسن نقوی کی گفتگو🚨 (9) عمران خان کے حق میں مال روڈ لاہور پر بھی وکلاء نے احتجاج ریکارڈ کرایا🚨 (10) اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن، مولانا فضل الرحمٰن کی رہائشگاہ پہنچ گئے، خصوصی ملاقات🚨 (11) اسلام آباد: سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی قیادت میں ہزاروں افراد پر مشتمل ریلی، سانحہ ترلائی کیخلاف احتجاج🚨 (12) عمران خان کی 80 فیصد سے زائد بینائی ختم ہوگئی، انہیں ان کی مرضی کے اسپتال منتقل کیا جائے: محمود اچکزئی🚨
(13) 4 ماہ کی غفلت والی کوئی بات نہیں، عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کی جائے: رانا ثنااللہ🚨 (14) عمران خان کی تکلیف پر سیاست مجرمانہ، ہرممکن علاج کرائیں گے: طارق چودھری🚨 (15) جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کو دل کا دورہ، اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال منتقل🚨 (16) عمران خان کے ساتھ ہونے والے رویے سے نفرتیں بڑھیں گی پھر کوئی سنبھالنے والا نہیں ہوگا، سہیل آفریدی🚨 (17) جنرل باجوہ پھسلے نہیں، دل میں خرابی کی وجہ سے بیہوش ہو کر گرے تھے، فیملی ذرائع🚨 (18) بنگلادیش انتخابات: بی این پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ 209 نشستیں جیتنے میں کامیاب، جماعت اسلامی اتحاد 68 سیٹوں تک محدود🚨 (19) وزیرِاعظم کا بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان سے ٹیلیفونک رابطہ، انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی🚨 (20) اخترمینگل کی خالی کردہ قومی اسمبلی کی سیٹ پر ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری، پولنگ 5 اپریل کو ہوگی🚨 (21) فی تولہ سونا 8,600 روپے کمی کے بعد 5 لاکھ 19 ہزار 962 روپے پر آگیا🚨 (22) لکی مروت میں کواڈ کاپٹر سے پولیس پر حملہ، دو اہلکار زخمی🚨 (23) اڈیالہ جیل میں کسی کی بینائی چلی جائے تو اس کی ذمہ دار انتظامیہ، حکومت پنجاب ہے، شاہ محمود قریشی🚨 (24) سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے 6 مقدمات کی سماعت کیلیے مقرر🚨 (25) یوٹیوب کا بڑا فیچر اپ ڈیٹ: اب کسی بھی زبان کی ویڈیوز اپنی زبان میں دیکھیں🚨 (26) ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ🚨 (27) کراچی؛ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ، بلدیہ میں گھر میں فائرنگ سے خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق🚨 (28) مسلم لیگ ن کے سابق رہنما و رکن پنجاب اسمبلی اور عوام پاکستان پارٹی کے رہنما زعیم قادری انتقال کر گئے🚨 (29) حکومت نے بھارت سے پاکستان آ کر شادی کرنے والی خاتون سربجیت کی ملک بدری روک دی🚨 (30) کچھ لو کچھ دو! کیا عمران خان کو ملک سے باہر بھجوانے کی تیاری ہو رہی ہے؟🚨 (31) وزیراعظم کا متحدہ عرب امارات کے صدر سے رابطہ، باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے فروغ کا اعادہ🚨 (32) امارات کا پاکستان کے 2 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں 2 ماہ توسیع پر اتفاق🚨 (33) 26نومبر احتجاج؛ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار🚨
(34) کراچی کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی بلکہ وڈیروں کا تسلط ہے، حافظ نعیم🚨 (35) سینیٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد مسترد، اپوزیشن کا شدید احتجاج🚨 (36) پی ٹی آئی قیادت کسی بھی وقت اسلام آباد کی جانب کال کا اعلان کر سکتی ہے، شیخ وقاص🚨 (37) ملکی سات ایئرپورٹس سے سال بھر میں 2 کروڑ 68 لاکھ افراد نے سفر کیا🚨 (38) افـغـاـ ن سرزمین سے دہشت گردی ناقابل قبول ہے، طاـ لباـ ن اپنی ذمہ داری پوری کریں، پاکستان کا مطالبہ🚨 (39) ہسپتالوں کی ایمرجنسیز کو سیف سٹی کے ساتھ لنک کر دیا: مریم نواز🚨 (40) سینیٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد مسترد، اپوزیشن کا شدید احتجاج🚨 (41) عُمان زلزلے کے جھٹکوں سے لرز اُٹھا؛ شدت 5.2 ریکارڈ کی گئی🚨 (42) ’میں پی ایس ایل کی کسی ٹیم میں ہوتا تو ان کو ضرور شامل کرتا‘، آفریدی عمر اکمل اور احمد شہزاد کے حق میں
*”بریکنگ: امنسٹی انٹرنیشنل کا پاکستان پر شدید تنقیدی الزام – 15 سال سے لاپتہ افراد کے خطوط پر کوئی جواب نہیں”*امنسیٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پاکستان نے 15 سال تک لاپتہ افراد کے حوالے سے بھیجے گئے سینکڑوں خطوط کو نظرانداز کیا۔ تنظیم نے بتایا: “یہ مہلک عمل بلا روک ٹوک جاری ہے، جو خاندانوں اور کمیونٹیوں میں خوف پھیلا رہا ہے۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ ہمیں کوئی جواب کیوں نہیں ملتا؟” یہ خطوط پاکستان کے سفیر واشنگٹن ڈی سی کو بھیجے گئے تھے۔
بیوروکریسی کے جنسی درندے۔۔۔قسط نمبر -1اگر بیوروکریٹ کے نیفے میں پسٹل چلنا شروع ہوگئے تو آدھے سے زائد ”رِمل شاہ“ بن جائیں گے۔یہ وہ ٹاپک ہے جسے میں بہت عرصے سے لکھ نہیں پارہا تھا جبکہ بہت سارے دوستوں کو چاہ کر بھی ڈائریکٹ سمجھانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ایک گالی۔۔۔بیٹی چ ود۔۔۔سب نے سنی ہوگی اس کا مطب پہلی دفعہ سمجھ آیا۔پولیس سروس کے ایک طاقتور اور سنئیر افسر جس کی ابھی دو سال سے زائد سروس باقی ہے وہ سپلائیر ہے۔اس کی ایک سوشل ورکر خاتون کے ساتھ طریقہ واردات کی پوری چیٹ دیکھی کہ جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ ہمارا کوڈ ورڈ ہوگا کہ میں تمہیں بیٹی کہوں گا تم مجھے ڈیڈی۔مجھ سے ملو گی تب بھی پیکٹ اگر کسی کے پاس بھیجوں گا تب بھی پیکٹ میری گارنٹی،اگلا تمیں کچھ انعام دے دے تو وہ بھی تمھارا۔میرے دفتر آکر پچاس ہزار ایڈوانس لے کر کسی پارلر سے خود کو اپڈیٹ کروا لو۔جہاں بھیجوں آنکھ اور کان بند کرکے جانا ہے۔میں نے پہلے بھی کالم لکھا تھا کہ بہت سارے بیوروکریٹ اچھی پوسٹنگ کیلئے سپلائی کا فریضہ ادا کررہے ہیں۔پارٹی،پلائی اور سپلائی یہی انکی کامیابی کا راز ہے۔ پینٹ کوٹ اور ٹائی کے اندر چپھی انکی غلاظت کا اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔پاؤں چاٹ گروپ کی بات کی جائے تو پولیس افسران سر فہرست اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس والے دوسرے جبکہ پی ایم ایس والے تیسرے نمبر پر ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اس کام میں کوئی سپیشلائیزیشن کی ہوئی ہے یا پھر سب نے لڑکی پھنسانے کے ٹوٹکوں والا ایک ہی میگزین لے رکھا ہے کہ ہر دوسرے افسر کی چیٹ کا آغاز پاؤں چاٹنے کی خواہش سے ہوتا ہے۔ ایک ڈی آئی جی کی ویڈیو دیکھی تو وہ سابق چئیرمین نیب کو پیچھے چھوڑ چکے تھے جناب نے عرق گلاب سے ڈانسر کے پاؤں دھوئے اور کئی منٹ تک چاٹتا رہا۔ یہ جنسی درندے ہر سوشل خاتون پر ٹرائی کرتے ہیں۔ میڈیا گرلز کی بات کی جائے تو یہاں سرکاری افسران کی دال نہیں گلتی ہرلڑکی کی بلاک لسٹ میں پچاس سے زائد بیوروکریٹ ملیں گے۔ بیوروکریسی کے افسران کا آسان ٹارگٹ سماجی تنظیموں سے وابستہ خواتین،جونئیر اور ماتحت خواتین افسران ہوتی ہیں۔جنسی درندگی کا آسان طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکیوں کو سی ایس ایس اور سرکاری نوکری کا خواب دکھا کر یہ سستے مینٹور اپنی ہوس پوری کرتے ہیں
۔ سرکاری جنسی درندوں کو پہچاننے کا آسان طریقہ سرکاری ہائرنگ فائرنگ کا ریکارڈ دیکھ لیں باس کی بات ماننے سے انکار کرنے والی خوتین کو مہینوں اور دنوں میں نکال دیا جاتا ہے جبکہ باس کی خواہش کی تکمیل کرنے والوں کیلئے ترقی کے تمام در کھل جاتے ہیں۔جنسی درندے بنے افسران سنیپ چیٹ کو سیکس چیٹ کیلئے محفوظ تصور کرتے ہیں۔کچھ نے انٹرنیشنل واٹس ایپٹ نمبر رکھے ہوئے تو کچھ ایسے نڈر ہیں کہ اپنے پرسنل نمبر سے once کرکے گندی اور ننگی تصاویر اور آڈیو چیٹ کرتے ہیں۔ لیکن دوسرے موبائل سے انکی سنیپ چیٹ اور once والی ساری چیٹ ریکارڈ ہورہی ہوتی ہے۔درجنوں افسران ان حسیناؤں سے بلیک میل ہوکر خفیہ نکاح نبھا رہے ہیں۔ان پاؤں چاٹنے والوں کی زندگی آوارہ جانوروں سے بھی بدتر ہے۔بلیک میل ہونے والے افسران کی زندگی شرمندگی بن چکی ہے، ایک کال پر یہ گھر میٹنگ اور دفتر چھوڑ کر دم ہلاتے پہنچ جاتے ہیں۔ پی ایم ایس کے ایک لڑکے نے واقع سنایا کہ ایک سنئیر آفیسر نے اسے بہت تنگ کیا ہوا تھا کہ ایک دفعہ وہ اپنی گرل فرینڈ کے پاس بیٹھا تھا کہ وہی افسر ٹیلیفون کال پر اسکی عزت افزائی کررہا تھا،کال ختم ہوئی تو گرل فرینڈ نے پوچھا کہ کون تھا تو میں نے بے خیالی میں بتادیا کہ فلاں سیکرٹری ہے۔ اس نے فوری موبائل نکالا اور مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے کال ملا دی اور دوسری طرف سے کال اٹھاتے ہی بولی اوئے بات سن۔نیکسٹ۔۔۔۔۔اسکو تنگ کرنے کی شکایت نہ ملے۔دوسری طرف سے سے سیکرٹری نے پوچھا ک تمہارا کیا لگتا ہے تو اس نے جھٹ سے جواب دیا کہ جس طرح تم میرے کتے ہو ویسے ہی یہ بھی ہے۔ افسر کہ کہنا تھا کہ اس کا کام تو ہوگیا لیکن یہ فقرہ آج تک تکلیف دیتا ہے کہ”جیسے تم میرے کتے ہو ویسے ہی یہ بھی ہے“۔یہ باتیں کوئی ٹاپ سیکرٹ نہیں ہر افسر کو پتا ہے کہ دوسرا افسر کہاں اور کس کے ساتھ منہ کالا کرتاہے ان بے شرم افسران کو سمجھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے ان سے اس لیے ہمدردی ہے کہ ان افسران کی اکثریت انتہائی غریب گھروں کے بچے ہیں،خاص طور پر فخر سے اولڈ راوین کہلوانے والے 40ویں کامن سے 46ویں کامن والوں میں سے درجنوں کو میں تب سے جانتا ہوں جب یہ جی سی کی ہاسٹل فیس ادا نہیں کرسکتے تھے اور گاؤں کے دوستوں کی مدد سے کریسنٹ ہاسٹل سول لائنز میں ایک بستر پر دو،دو سوتے تھے، اور دعائیں دیں ہاسٹل مسجد کو جو عشاء کی نماز کے بعد سے فجر تک انکے کیلئے آرام گاہ ہوتی تھی۔ سنئیرز کے حالات بھی زیادہ مختلف نہیں کوئی گاؤں کے چوہدری سے پیسے لیکر شہر آیا تو کسی کی فیس بیرون ملک بیٹھے رشتے دار ادا کرتے تھے۔ یتیم الشانی سے عظیم الشانی کا سفر مبارک ہو، ریکارڈ توڑ کرپشن کے بعد یہ امیر تو ہوگئے لیکن انکی ذہنی پسماندگی اور غربت آج بھی وہیں کی وہیں ہے۔ان کو ڈائریکٹ نہیں سمجھا سکتا تھا کہ بیچارے نظریں نہیں ملا پائیں گے۔میں انکو پچانا چاہتا ہوں اس لیے ان بے غیرتوں کو سمجھا رہا ہوں کہ لعنتیوں سمجھ جاؤ اس سے پہلے کہ تم اشتہار بن جاؤ۔50 سے 60 کے درمیان والے سینیئر افسران جنھیں عام پبلک حتی کہ سیاستدان بھی سر سر کرتے ہیں وہیں پر انکی “شوگر بی بیز” نے ان کا نام “ٹھرکی بابا” “دادا ابو” اور “بے غیرت بڈھا” رکھا ہوا ہوتا ہے۔ میری تحقیق کے مطابق نوجوان بیوروکریٹ میں سے 50 فیصد جبکہ سینیئر افسران میں سے 65 فیصد ٹھرک کے ہاتھوں مجبور ہو کر کتے سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مالی کرپشن کے بغیر اخلاقی کرپشن افورڈ نہیں ہو سکتی۔جاری ہے۔۔۔
اسلام آباد(رپورٹ: ناصر جمال) سوئی سدرن گیس کمپنی لیمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے اختیارات استعمال کرنا شروع کردیئے۔ صرف دو روز کے بعد 60 سال پر ریٹائر ہونے والے قائمقام ایم ڈی امین راجپوت کو مدت ملازمت میں تین ماہ کی توسیع دے دی۔ وہ سابق چیئرمین شمشاد اختر مرحومہ کے منظور نظر ہیں۔ 2024 میں وہ وزارت کی مخالفت کے باوجود وہ قائمقام ایم۔ ڈی بننے میں کامیاب رہے۔ سابق بورڈ نے عمران منیار کا تین سالہ کنٹریکٹ ختم ہونے کے باوجود انھیں بھی مزید سات ماہ ایم۔ ڈی رکھا۔ وہ استعفیٰ نہ دیتے تو ابھی تک ایم ڈی ہوتے۔ نئے بورڈ نے بھی سابقہ بورڈ کی روایت کو دوام دیا۔ معروف قانون دان فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ ریٹائر ہونے والے ایم ڈی کو گھر جانا ہوگا۔ قانون واضح ہے۔ بورڈ کے پاس اُسے توسیع دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ سینئر موسٹ ڈی ایم ڈی سعید رضوی کو اس کے باوجود چارج نہیں دیا گیا کہ ایم ڈی شپ کی دوڑ میں نہیں ہیں اور غیر جانبدار ہیں۔معتبر ذرائع کے مطابق ایس۔ ایس۔ جی۔ سی۔ ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا اجلاس جمعرات کو ہوا۔ نئے ایم۔ ڈی کی تقرری اہم ایجنڈا آیٹم تھا۔ تقریباً تین سال توسیع در توسیع پر چلنے والے سابق بی او ڈی کو حکومت نے نئے ایم۔ ڈی کے تقرر سے الگ رہنے کی ہدایت کی تھی۔ مرحومہ شمشاد اختر، وہاں پر زبردستی تین ٹرم براجمان رہیں۔ وزیر خزانہ ہونے کے باوجود انھوں نے ایس۔ ایس۔ جی۔ سی کا بورڈ نہیں چھوڑا تھا۔
ابھی بھی وہ اپنی جگہ باامر مجبوری اپنے بہنوئی خالد رحمان کی شکل میں اپنی نمائندگی چھوڑ گئیں۔12 ستمبر 2024ء میں امین راجپوت کو زبردستی، شمشاد اختر نے قائمقام ایم ڈی لگوایا۔ ایڈیشنل سیکرٹری ظفر عباس نے وزارت کے ایما پر اُن کی شدید ترین مخالفت کی۔ سابق سیکرٹری مومن آغا بھی یہی چاہتے تھے مگر وزارت اور ان کے ڈائریکٹرز نے سابق وزیر اعظم کے سمدھی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اور اپنا تھوکا ہوا چاٹ لیا۔ امین راجپوت ڈیڑھ سال سے قائمقام ایم ڈی ہیں۔ وہ اتنے طاقتور ہیں کہ انھوں نے ایک بار پھر پوری وزارت اور بورڈ کو لٹا کر، ریٹائرمنٹ کے باوجود تین ماہ کی توسیع لے لی۔ حالانکہ وہ دو روز میں اپنی ساٹھ سال ملازمت کی مدت پوری کرکے ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔بظاہر یہ کہا جارہا ہے کہ وہ نئے ایم۔ ڈی کی تقرری تک قائمقام ایم ڈی رہیں گے۔ مگر کمپنی وزارت اور سیکٹر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم۔ ڈی کا میچ بظاہر ”فکس“ محسوس ہورہا ہے۔بورڈ کو بتایا گیا ہے کہ ایک درجن سے زائد امیدوار شارٹ لسٹ کئے گئے ہیں۔کمپنی کے ڈی۔ ایم۔ ڈی سعید رضوی کو قائمقام ایم۔ ڈی کا چارج دیا جاسکتا تھا۔ مگر بورڈ نے بظاہر اُن پر عدم اعتماد کیا ہے۔ جس کا دوسرامطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کمپنی میں کوئی اور ایم۔ ڈی بننے کے اہل ہی نہیں ہے۔ حالانکہ سعید رضوی ایم۔ ڈی کے امیدوار بھی نہیں ہیں۔ جبکہ امین راجپوت کو ریٹائرمنٹ کے باوجود ایم۔ ڈی برقرار رکھنا ’’دال کے کالا‘‘ ہونے کی جانب اشارہ کررہا ہے۔ امین راجپوت ایم۔ ڈی کے آفس کو پہلے بھی خود کو قائم رکھنے میں مبینہ طور پر استعمال کررہے ہیں۔ انھیں تین ماہ کی ’’توسیع‘‘ ایم ڈی شپ کی دوڑ میں ترجیح فراہم کررہی ہے۔ جو کہ ایس۔ او۔ ای ایکٹ اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔وفاقی ملازم یا وفاقی ادارے کا ملازم ساٹھ سال میں ریٹائر ہوتا ہے۔ تو اُس کی مدت ملازمت میں توسیع صرف وزیر اعظم کا اختیار ہے۔مگر یہاں بورڈ وزیراعظم کا اختیار استعمال کرچکا ہے۔ کیا صرف ایک لیگل اوپینین لینے سے وزیر اعظم کا اختیار استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہاں بورڈ ایک کنٹریکٹ ایم۔ ڈی کو نہیں، ایک روز بعد ریٹائرڈ ہونے والے وفاقی ادارے کے ملازم کو ایکسٹینشن دے رہا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی بطور میں ارمی چیف پہلی تقرری سے پہلے بھی توسیع وزیراعظم و کابینہ نے کی تھی۔ یعنی یہ کام فوج نے بھی نہیں کیا، جو سوئی سدرن کا بورڈ کررہا ہے۔ حالانکہ بورڈ کا تقرر کابینہ نے کیا ہے۔ اس ضمن میں ان سوالات پر مبنی ایک سوال نامہ، وفاقی وزیر علی پرویز ملک اور وزارت کے ترجمان، بورڈ کے رکن، ایڈیشنل سیکرٹری ظفر عباس کو بھی بھیجا گیا۔ مگر ان کا جواب نہیں آیا۔مشہور قانون دان فیصل چوہدری نے کہا کہ ساٹھ سالہ مدت ملازمت سے ریٹائرڈ ہونے والے قائمقام ایم۔ ڈی اپنی قائمقام ایم۔ ڈی شپ جاری نہیں رکھ سکتے۔ 2016 کے مصطفٰے اپیکس فیصلے کے مطابق، یہ معاملہ وزیراعظم واہ وفاقی کابینہ کے پاس جائے گا۔ ساٹھ سالہ ریٹائرمنٹ اور کنٹریکٹ میں توسیع دو مختلف معاملے ہیں۔ بورڈ کنٹریکٹ ایم۔ ڈی کو خدمات جاری رکھنے کا کہہ سکتا ہے۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازم کو نہیں۔ انھیں ریٹائرڈ ہونے والے ایم۔ ڈی کو نیا کنٹریکٹ دینا ہوگا۔ اس کے لیے پروسیس کرنا ہوگا۔ بورڈ کسی بھی صورت میں یہ اختیار نہیں رکھتا۔ یہ اختیار وفاقی حکومت کا ہے۔ بورڈ کے پاس ساٹھ سالہ مدت پوری کرنے والے قائمقام ایم۔ ڈی کی توسیع دینے کا اختیار نہیں ہے۔ بطور نیو ایم۔ ڈی قواعد و ضوابط کے تحت ان کو بورڈ کنٹریکٹ دے سکتا ہے۔ تین سالہ کنٹریکٹ والے ایم۔ ڈی کو بھی ایس۔ او۔ ای ایکٹ کے تحت توسیع مل سکتی ہے۔ جب تک کہ نیا ایم۔ ڈی نہ آجائے۔ مگر ریٹائرمنٹ والے قائمقام ایم۔ ڈی کو ہر صورت میں گھر جانا ہوگا۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک خود ایک قانون دان اور معتبر قانون قانونی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے طاقتور شمشاد اختر کے ہوتے ہوئے نئے بورڈ کی تشکیل کی۔ جو کئی وفاقی وزیر نہ کر سکے۔ بیرسٹر حمدون سبحانی نے کہا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز ریٹائرڈ شخص کو توسیع دے کر آئین اور قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ توسیعِ ملازمت (Extension) درج ذیل قوانین اور قواعد کے تحت منضبط ہے:ایف آر 56 (Fundamental Rule 56)رولز آف بزنس 1973اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی ہدایاتتوسیع صرف درج ذیل شرائط کے تحت دی جا سکتی ہے:ریٹائرمنٹ سے پہلے منظور کی جائے۔عوامی مفاد (Public Interest) میں ہو۔وفاقی حکومت کی جانب سے دی جائے۔رولز آف بزنس کے تحت وزیرِ اعظم / وفاقی کابینہ کے ذریعے استعمال کی جائے۔یہ اختیار آئینِ پاکستان کے تحت ایک انتظامی (Executive) اختیار ہے، جو کہ:آرٹیکل 90 (وفاقی حکومت کا انتظامی اختیار)آرٹیکل 99 (وفاقی حکومت کے امور کی انجام دہی)کے تحت استعمال ہوتا ہے۔بورڈ آف ڈائریکٹرز وفاقی حکومت نہیں ہے۔بورڈ کسی خودمختار آئینی یا انتظامی اختیار کا حامل نہیں ہے۔لہٰذا:بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پاس ایف آر 56 کے تحت کسی سول سرونٹ کی مدتِ ملازمت میں توسیع دینے کا کوئی دائرۂ اختیار (Jurisdiction) نہیں ہے۔ایسا کوئی اقدام قانوناً کالعدم (Ultra Vires) تصور ہوگا۔
عمران خان کی سیاست ۔اظہر سیداب جو معافیاں مانگ کر ریلیف لے رہا ہے سیاستدانوں کی وکٹ پر کھیلتا سیاست بچ جاتی ،جماعت بچ جاتی اور ووٹ بینک بھی برباد نہ ہوتا ۔ہفتے دس دن بعد یوٹیوبرز اور یوتھیوں پر جو بجلی گرنا ہے نہ گرتی ۔ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین مالکوں سے جتنی معافیاں مانگ لیں اب واپسی ممکن نہیں ۔عمران خان کی کل کمائی یہی ہے جان بچ جائے اور باقی کے دن ٹریان خان کے ساتھ سکون سے گزار لے سیاست کی اجازت اب نہیں ملے گی ۔جھوٹ دھوکہ اور فراڈ سے جو ووٹ بینک بنا تھا مالکوں نے ہی بنا کر دیا تھا ۔اس نے اتنا بڑا سیاسی اثاثہ مالکوں سے سینگ پھنسا کر برباد کر دیا ۔اسی طرح کا ووٹ بینک اور سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کو چیلنج کرنے کیلئے میاں نواز شریف کو بھی دی گئی تھی لیکن انہوں نے گڈ کاپ بیڈ کاپ کا کھیل کامیابی سے کھیلا ۔مالکوں سے سینگ پھنسا کر جمہوریت کا پرچم بلند رکھا اور گڈ کاپ شہباز شریف کے زریعے مالکوں سے بنا کر بھی رکھی ۔عمران خان نے دو فاش غلطیاں کیں ۔سوشل میڈیا کے زریعے مالکوں کو شکست دینے کی ٹھانی ۔فوج کو براہ راست نشانہ بنا کر اپنی سیاسی قسمت اسی طرح کھوٹی کر لی جس طرح الطاف حسین نے کی تھی ۔جو ریلیف ملتا نظر آرہا ہے وہ رو رو کر معافیاں مانگنے کے بعد مل رہا ہے مالکوں کو چیلنج کرنے سے نہیں مل رہا ۔نو ستاروں نے بھٹو کو پھانسی گھاٹ پر پہنچا دیا تھا، لیکن نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو نے انہی نو ستاروں کو ساتھ ملا کر ایم آر ڈی کی تحریک چلائی اور سیاست میں اپنی جگہ برقرار رکھی ۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا ووٹ بینک ہی ایک دوسرے کی دشمنی پر مبنی تھا لیکن دونوں سیاسی جماعتوں نے میثاق جمہوریت کے زریعے ایک دوسرے کو تحفظ دیا اور مالکوں کو مسلسل چیلنج بھی ۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی سیاست ہی تھی مالکوں نے عمران خان کی شکل میں نیا گھوڑا میدان میں اتارا ۔یہ گھوڑا اصل میں سیاستدان تھا ہی نہیں خچر تھا “گدھے سے تھوڑا بہتر”جنہوں نے مالکوں سے بچانا تھا انہی کو چور ڈاکو کہتا رہا ۔چور ڈاکو تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ والے بھی ایک دوسرے کو کہتے تھے لیکن آج بھی ہائی برڈ نظام میں صدر وزیراعظم بن کر سیاست سیاست کھیل رہے ہیں ۔اس خچر کو آصف علی زرداری نے بار بار بچانے کی کوشش کی ۔اس خچر کو مولانا فضل الرحمٰن نے بار بار بچانے کی کوشش کی ۔اس خچر کو مسلم لیگ ن نے بار بار بچانے کی کوشش کی لیکن یہ ہوا کے گھوڑے پر سوار تھا لیکن تھا خچر ۔سیاستدانوں کی وکٹ پر اجاتا ایک بڑے ووٹ بینک والی سیاسی جماعت کے طور پر سیاست بچا لیتا اور یوں رو رو کر معافیاں مانگ مانگ کر ریلیف لینے سے بچ جاتا ۔نو مئی کو اس نے جو کچھ کیا ۔سوشل میڈیا کے زریعے مالکوں کو جس طرح عاجز کیا اس کو ریلیف مل جانا ہی بہت بڑی چیز ہے ۔سیاست ختم اور قوم کو نیا الطاف حسین مبارک ۔
اسلام آباد کی فضا آج وفا اور غیرت کے جذبات سے معطر تھی، جب گذشتہ جمعہ نمازِ جمعہ کے دوران شہید ہونے والے مومنین کی یاد میں ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ہزاروں عاشقانِ اہلِ بیت علیھم السلام نے شرکت کر کے شہداء کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔اس اجتماع میں ان کے پاکیزہ خون سے تجدیدِ عہد کا ولولہ انگیز مظاہرہ کیا گیا اور حق و صداقت پر ثابت قدم رہنے کے عزم کو تازہ کیا گیا۔