.*وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دورہء امریکہ*وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی واشنگٹن میں منعقدہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کیلئے آئے عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی و خوشگوار ملاقاتیں. وزیرِ اعظم کی بحرین کے فرمانروا، شاہ حماد بن عیسی الخلیفہ، آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف، ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف اور انڈونیشیاء کے صدر پرابوو سوبیانتو سے غیر رسمی ملاقاتیں.ملاقاتوں میں اہم عالمی و علاقائی امور پر گفتگو. ملاقاتوں میں مسکراہٹوں کا تبادلہ، غیر رسمی گرمجوشی. وزیرِ اعظم شہباز شریف واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کی دعوت پر بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کیلئے موجود ہیں.پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت غزہ میں امن کے قیام، تعمیر نو، عالمی امن کیلئے پاکستان کی کوششوں اور سفارتی پالیسی کی بڑھتی ہوئی کامیابیوں کی عکاسی ہے.
اس کو کہتے ہے چیف سلیکٹر بھارت کے چیف سلیکٹر اجیت اگرکر بھارتی کرکٹ کی تاریخ کےسب سے مضبوط چیف سلیکٹر قرار دیے گئے بھارتی میڈیا کے مطابق ورلڈ کپ کیلئے جب ٹیم کا اعلان ہونا تھا تو اس سے تین دن پہلے اجیت اگرکار نے تمام کھلاڑیوں پر واضح کیا کہ سب کا فٹنس ٹیسٹ ہوگا اگر اس میں کوئی فیل ہوا چاہے سینئر ہو یا جونیئر ورلڈ کپ سے باہر ہوگا بھمرا کے حوالے سے جب اجیت اگرکار سے سوال ہوا کہ اگر بھمر ٹیسٹ پاس نہیں کرتا تو اسکو بھی باہر کیا جائے گا جس پراجیت اگارکر نے کہا کہ یہ میری ٹیم نہیں بھارت کی ٹیم ہے یہاں انصاف سب کیلئے برابر ہوگا بھمرا ہمارا مین باولر ہے لیکن فٹنس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور پاکستان ٹیم میں شاہین شاہ گزشتہ دو سالوں سے مکمل ان فٹ ہے نسیم شاہ کا پیٹ نکلا ہوا فٹ نہیں ہے شاداب فٹ نہیں لیکن ہر میچ میں وہ کھیل رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ بھارت کی کرکٹ آج بہت آگے ہے کیونکہ وہاں ٹیم کی سلیکشن میں مودی بھی مداخلت نہیں کرسکتا ہے اور ہمارے ہاں سسر اور داماد کا کھیل جاری ہے جو کھلاڑی ہمیں پانچ سالوں میں ایک میچ بھی نہیں جیتا سکا اس کو ہمارے ہاں کنگ اور جو بندہ ٹی 20 میں چہار اوور نہیں کراسکتا ہے وہ ہمارا ہاں پرپرمیم فاسٹ باولر ہوتا ہے
واشنگٹن ۔ غزہ امن بورڈ کا پہلا اجلاسصدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وزیراعظم شہباز شریف کا خیرمقدموزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتا ہوں، امریکی صدروزیراعظم شہباز شریف کو بہت پسند کرتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپصدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریففیلڈ مارشل عاصم منیر بہت اعلی سپہ سالار ہیں، ڈونلڈ ٹرمپفیلڈ مارشل بہت بڑے فائٹر ہیں، امریکی صدرصدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے خطاب میں ایک مرتبہ پھر پاک بھارت جنگ کا ذکر پاکستان اور بھارت کی جنگ بہت شدت اختیار کر رہی تھی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپہم نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس جنگ کو رکوایا، ڈونلڈ ٹرمپبھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بتایا کہ اگر جنگ نہ روکی تو بھاری ٹیرف لگائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپجنگ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف سے قریبی تعلقات قائم ہوئے، امریکی صدرجنگ کے دوران گیارہ طیارے گرائے گئے، امریکی صدر
“صدر زرداری ، خلوت اور جلوت کی ملاقاتوں کا احوال “””کيچپ گرل کے بعد ڈريم گرل “ان دنوں ہر شخص سوشل ميڈيا اور ٹی ٹاک شوز ميں صدر زردری کے جيل ميں گزارے ہوئے وقت ، اور سب جيل قرار ديئے گئے اسپتال کی سرگرميوں پر تبصرے کر رہا ہے جنکا ان دنوں وجود بھی نہيں تھا، صدر زرداری کے عمران خان کے جيل کے حوالے سے بيان کو ليکر پی ٹی آئی کی سوشل ميڈيا ٹيم اور انکی جو پوسٹيں گردش کر رہی ہيں وہ انتہائی ناشائستہ زبان ميں لکھی گئی ہيں ، جو قابل مذمت ہيں ، يہاں يہ وضاحت کردوں کہ ، ميرا تعلق نہ پيپلز پارٹی سے ہے اور نہ ميں صدر زرداری کی حمايت ميں کوئی پوسٹ لکھ رہا ہوں ، آصف زرداری کی ساری خامياں ايک طرف، مبينہ کرپشن کے الزامات کا اس تحرير سے کوئی واسطہ نہيں ہے ،مجھے اندازہ ہے کہ معلومات کا صرف ايک حصہ تحرير کرنے کے بعد پی ٹی آئی کی سوشل ميڈيا ٹيم اس ميدان ميں ضرور کودے گی، پی ٹی آئی والے صبر سے کام ليں ، شائستہ انداز ميں ، صدر زرداری کی جيل کہانی لکھنے کی کوشش ضرور کرونگا ، مگر ميں يہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ صدر زرداری کی “خلوت اور جلوت “کی تمام ملاقاتوں ، جيل ميں محترمہ بے نظير بھٹو کی آمد اور روانگی ، اور انکے پاس آنے والے مھمانوں کی مکمل فہرست سے واقف ہوں ، کم از کم لانڈھی جيل اور سينٹرل جيل کراچی کی حد تک کيونکہ ميں آصف علی زرداری کی ہر پيشی پر جيل کے اندر موجود ہوتا تھا ، مبينہ طور پر تاجر مرتضی بخاری کی ٹانگ پر بم باندھ کر رقم طلب کرنے کے الزام ميں گرفتار ہوکر سی آئی اے سينٹر ميں تفتيش کے مراحل سے ليکر ، جيل ميں “وينا حيات “سے ملاقاتوں تک ، تما م معاملات سے نہ صرف واقف ہوں ، بلکہ کراچی ميں جتنے عرصہ وہ جيل اور اسپتال رہے اور جو انہيں سہوليات حاصل تھيں اس ميں کسی حکومت يا اسٹبلشمنٹ کی مہربانی نہيں تھی، وہ کمال مہارت انکی ڈيلنگ کے طريقہ کار کا بھی تھا انہيں آدمی اور سسٹم خريدنے کا فن آتا ہے ، اسی لئے صدر زرداری اسٹريٹ اسمارٹ ہونے کی وجہ سے ، بڑے سے بڑے کرپشن کے الزام ، اور جيل ميں سختی کے احکامات کے باوجود پر تعيش زندگی گزارتے تھے ، جيل اسٹاف ، جيل اور اسپتال کے ڈاکٹرز، جيل کسٹڈی لانے اور ليجانے والے اہلکاروں، انٹيلجنس ايجنسيوں کے وہ اہلکار جو انکی نگرانی پر معمور ہوتے تھے ، اسپيشل برانچ کے وہ اہلکار جو جيل اور اسپتال پر معمور ہوتے تھے ، سب کمپرومائز تھے ، وہ انکی مالی مدد پابندی سے کيا کرتے تھے، اور جيل سے رہائی کے بعد بھی اگر کوئی رابطہ کرتا تو اسکا خيال رکھتے تھے ، اسلئے مياں نواز شريف اور عمران خان سے انکا موازنہ کرنا درست نہيں ہے ، ميں نے نواز شريف کی جيل ميں پريشانی ، اور خوف کو لانڈھی جيل ميں بہت قريب سے ديکھا ہے ، اسکے مقابلہ ميں صدر زرداری سے تمام تر اختلافات کے باوجود انہوں نے جيل ميں جتنا عرصہ گزارا اس ميں ، انہوں نے جيل کو اپنے اوپر حاوی نہيں ہونے ديا ، اگر صدر زرداری نے مبينہ طور پر اربوں روپے کمائے تو چند لاکھ خرچ بھی کئے ،جيل کی زرداری بيرک کا “لنگر اور پيری مریدی”
اسی لئے مشہور تھی ، پھر آپ اس بات کو بھی تسليم کريں کہ صدر زرداری ميں لچک اور انکے کمپرو مائزنگ مزاج نے بھی جيل ميں انکے لئے آسانياں پيدا کيں ، يہ لچک آپ کو عمران خان ميں نظر نہيں آئے گی پاکستان ميں سياست ، اصولوں کے ساتھ نہيں بلکہ لچک اور اسٹبلشمنٹ کی مرضی اور حمايت سے چلتی ہے ، مجھے معلومات کا صرف ايک حصہ وہ بھی محطاط طريقے سے لکھنے کا خيال ، صحافی عامر متين کی فرزانہ راجہ کے حوالے سے تحرير “کيچپ گرل “پڑھ کر آيا، وہ بھی پيکا ايکٹ 2025 کو سامنے رکھ کر صدر زرداری سے جيل اور سب جيل ميں ملاقات کے لئے آنے والی خواتين کون ہوتی تھيں اور وہ انکے لئے کس کے پيغامات لاتی تھيں ، ان ملاقاتوں کا اہتمام کرنے والے صدر زرداری کے دوست اور دست راز کون تھے ؟ محترمہ بے نظير بھٹو جب مقرہ دن کے علاوہ لانڈھی جيل پہنچی تو وہ کس بات پر ناراض ہوکر واپس لوٹ گئيں ،؟؟صدر زرداری کے سابقہ دوست ڈاکٹر ذولفقار مرزا کو کيوں ناعبدللہ ھارون روڈ پر واقع پرانے امريکی قونصليٹ کے عقب ميں انسداد دہشت گردی کی عدالت ميں ، ڈاکٹر فہميدہ مرزا صدر زرداری سے ملاقات کے لئے کيوں آتی تھيں ،
راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ٹھلیاں انٹرچینج پر واقع غیر قانونی ہاوسنگ سوسائیٹی اینکرایج اسلام آباد فیز 2 کا سائیٹ آفس سیل
راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ٹھلیاں انٹرچینج پر واقع غیر قانونی ہاوسنگ سوسائیٹی اینکرایج اسلام آباد فیز 2 کا سائیٹ آفس سیل کرتے ہوئے اس کی لانچنگ کی تقریب روک دی۔ ایک نیوز ویب سائیٹ کے مطابق ہاوسنگ سوسائیٹی کے پاس این او سی نہیں تھا اور اس نے سوشل میڈیا پر تشہیر اور مارکیٹنگ شروع کر رکھی تھی۔
ایک بنگلہ دیشی نوجوان کی یہ بات حیرت انگیز تھی “ہم پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ یکساں اور بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں ، آپ دونوں نے ہم سے ایک ہی طرح کا سلوک کیا ، ایک 1971 کا ذمہ دار ہے تو دوسرا 2024 میں قتل و غارت گری کا ، ہمیں دونوں زخم لگے ہیں مگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔”عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ کے 5 اگست 2024 کو بھارت چلے جانے سے عام عوام میں بھارت مخالف جذبات ہیں مگر یہ جذبات بھارتی حکومت مخالف ہیں عوام مخالف نہیں ۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 4096 کلومیٹر لمبی زمینی سرحد ہے اور پدما ، بھراما پترا ، ٹیسٹا سمیت 54 چھوٹے بڑے دریا دونوں ملکوں کو جوڑتے ہیں۔ دونوں ملکوں کی تجارت 14 سے 16 ارب ڈالرز تک کی ہے۔ دونوں کے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔ بھارت کو شیخ حسینہ کی عوامی لیگ میں سارے انڈے رکھنے کی پالیسی مہنگی پڑی ہے مگر وہ وآپسی کے راستے بنا رہا ہے۔ بھارت کو احساس ہوگیا ہے کہ اس کی پالیسی ٹھیک نہیں تھی یا کم ازکم بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بنگلہ دیش کی نئی حقیقت ہے اسے عوام نے مینڈیٹ دیا ہے۔دوسری طرف وزیراعظم الیکٹ طارق رحمان سے جب اس نمائندے نے پوچھا کہ ڈھاکہ میں لوگ شیخ حسینہ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا آپ بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کریں گے۔ اس پر انہوں نے بہت محتاط انداز میں مختصر جواب دیا کہ “ یہ عدالتی عمل پر منحصر ہے”۔طارق رحمان بہت منجھے ہوئے اور محتاط سیاستدان کے طور پر جواب دے رہے تھے۔ وہ کسی کو ناراض نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی پاپولسٹ طریقہ کار اختیار کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے عوامی لیگ اور شیخ حسینہ کے بارے میں ایک بھی تنقیدی لفظ نہیں بولا جو ان کے بڑے پن کی علامت کے طور پر واضع ہوا ہے۔اس سارے عمل میں اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان کے لیے دروازے کھلے ہیں ڈھاکہ میں پاکستانیوں کو لوگ دیکھ کر خوشی کا اظہارکرتے ہیں۔مجھے ڈھاکہ میں ایک پاکستانی ائیر فورس کی 1958 میں راولپنڈی میں پیدا ہونے والی بیٹی افروزہ بیگم ملیں۔ وہ اپنی دو بہنوں اور ایک بھائی کے ساتھ ایک ریستوران میں کھانا کھانے آئیں تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح بنگلہ دیش کے مطیع الرحمان کی طرف سے پاکستانی طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش کے بعد ان سب کو پکڑا گیا تاہم اس تلخ یاد کے ساتھ اس کے پاس حسین یادیں بھی تھیں۔ اسے کراچی اور پشاور کے کھانے اور جگہیں یاد تھیں۔ “ ہم 1974 میں پاکستان سے آئے مگر دل آج بھی ادھر ہی ہے، اسی لیے ڈھاکہ میں پشاوری کچن ریستوران کا نام سنا تو یہاں کھانا کھاکر یادیں تازہ کرنے آگئے ۔” بنگلہ دیش میں مشکل وقت میں پاکستانی ہائی کمشنر عمران صدیقی کی طرف سے کیے گئے کام دکھتے ہیں۔پاکستان کے موجودہ ہائی کمشنر عمران حیدر اور ان کی ٹیم بھی محنت کررہی ہے تاکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی قربتوں میں اضافہ ہو۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی مجموعی تجارت 865 ملین ڈالرز ہے، پاکستانی سفارتکار سماجی تعلقات کے ساتھ ساتھ اس طرف بھی توجہ دے رہے ہیں ۔پاکستان میں پالیسی ساز بنگلہ دیش کو بھارت کے لینز سے دیکھنے کی بجائے ایک ایسے بھائی کے طور پر دیکھیں جو آزاد و خودمختار ہے جس کا اپنا کنبہ اور اپنے تعلقات ہیں۔ بھارتی پالیسی سازوں کو بھی بنگلہ دیش کو پاکستانی لینز سے دیکھنے کی بجائے ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے جس نے سارک شروع کی اور وہ اسے دوبارہ منظم کرنا چاہتا ہے۔“ ہم حکومت کی تشکیل کے بعد سارک کو دوبارہ منظم کرنے پر کام کریں گے کیونکہ یہ ہمارا (بنگلہ دیش کا ) اقدام تھا ۔” طارق رحمان نے پریس کانفرنس میں اس نمائندے کے سوال کے جواب میں کہا ۔بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے سربراہ طارق رحمان کی پہلی ترجیح بنگلہ دیش اور اسکے مفادات ہیں
۔ وہ پاکستان اور بھارت کے موضوعات کی بجائے “ سب سے پہلے بنگلہ دیش” پر توجہ دے رہے ہیں ۔ان کی اس سوچ میں نفرت نظر نہیں آرہی حالانکہ انکی والد کو قتل کیا گیا اور والدہ طویل جلاوطنی کے بعد وطن وآپس آئیں تو علالت میں وفات پاگئیں وہ خود بھی جلاوطنی کا شکار رہے۔ اتنے مصائب کے بعد بھی مخالفین کے بارے میں ایک لفظ تک نہ بولنا عملی طور پر بڑے دل کی بات ہے۔داخلی سیاست میں وہ اپنے مخالف جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان کے گھر کھانے پر جارہے ہیں اور شیخ حسینہ واجد کو اقتدار سے نکالنے کی تحریک چلانے والے نوجوانوں کی نمائندہ جماعت نیشنل سیٹزن پارٹی کے نومنتخب رکن پارلیمینٹ اور سرکردہ رہنما ناشاد اسلام سے بھی ملاقات کر رہے ہیں کیونکہ شائد انہیں معلوم ہے کہ کسی ملک کی تعمیرنو کے لیے مخالفین کو عزت دینا پڑتی ہے۔یہ وہ سبق ہے جو جنوبی ایشیائی ممالک کی تمام سیاسی جماعتوں کو ان سے سیکھنا ہوگا۔ امید ہے کہ وہ سارک کو دوبارہ متحرک کرکے بنگلہ دیش کو پاک بھارت تقسیم کی بجائے محبت کا مرکز بناتے ہوئے باہمی علاقائی مفادات کو یکجا کریں گے تاکہ خطے میں امن کے ساتھ ترقی آسکے ۔
*_وزیراعظم آفس_**_میڈیا ونگ_**وزیراعظم محمد شہباز شریف کا رمضان المبارک 1447 (19فروری 2026) پر پیغام*پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ماہ رمضان المبارک کے بابرکت اور روح پرور آغاز پر دل کی گہرائیوں سے اظہار تہنیت اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔بے شک یہ عظیم ماہ مقدس اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت ہے جو مسلمانوں کو خشوع وخضوع کے ساتھ عبادت اور تقویٰ و پرہیزگاری، اور روحانی پاکیزگی جیسی مذہبی اقدار کو ترو تازہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔رمضان المبارک انفرادی اور اجتماعی سطح پر یہ شعور دیتا ہے کہ عبادت کی حقیقی روح کردار کی اصلاح، باہمی ایثار و احساس، معاشرتی ذمہ داریوں اور حقوق العباد کا احترام ہے۔ روزہ محض مذہبی فریضہ کی ادائیگی نہیں بلکہ روز مرہ زندگی میں صبر، نظم و ضبط اور احساس ذمہ داری کی عملی تربیت ہے۔ بحیثیت قوم بھی رمضان المبارک ہمیں باہمی کاوشوں سے اجتماعی خیر سگالی اور بالخصوص کمزور طبقہ کی فلاح و بہبود کا پیغام دیتا ہے۔ حکومت پاکستان نے اپنے کمزور طبقات کی ہر ممکن معاونت کے لئے رمضان پیکج کا آغاز کیا ہے۔ جسکے تحت مستحق افراد کو باعزت طریقے سے ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے مالی امداد منتقل ہو جاۓ گی تاکہ تمام گھرانے رمضان میں سحر و افطار کے دستر خوان کی رونقیں قائم رکھ سکیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں قران پاک کی تعلیمات ، اسوہ حسنہ اور اس مقدس مہینے کی حقیقی عملی تربیت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے۔ اس ماہ مقدس کے آغاز پر ہم دست بدعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری انفرادی اور اجتماعی عبادات اور نیک اعمال کو شرف قبولیت بخشے اور پاکستان کو امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بنا دے۔ آمین!
صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے آزاد جموں و کشمیر کے وزیرِ اعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور سمیت پارلیمانی وفد کی ملاقات۔ وفد میں سابق وزیرِ اعظم سردار تنویر الیاس بھی موجود تھے۔وفد نے آزاد جموں و کشمیر کی مجموعی صورتحال سے صدرِ پاکستان کو آگاہ کیا۔ وفد نے صدر زرداری سے پارٹی معاملات پر رہنمائی طلب کی اور آئندہ اقدامات پر مشاورت کی۔ ملاقات میں مرحوم بیرسٹر سلطان محمود، سابق صدر آزاد جموں و کشمیر کی مغفرت کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ صدر زرداری نے بھارتی غیر قانونی تسلط میں مقیم کشمیری عوام کے تحفظ اور ان کے حقِ خودارادیت کے لیے قومی یکجہتی اور پختہ موقف پر زور دیا۔
پی ٹی آئی کو تتر بتر ہوکر انتشار کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے عمران خان اور فیملی کے پاس دستیاب آپشنز ۔۔۔۔۔۔اس وقت پی ٹی آئی مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے ۔۔۔اسٹیبلشمنٹ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ممبرانِ قومی و صوبائی اسمبلی کو مکمل طور پر کمپرومائزڈ کرنے کے بعد کے پی کے میں کامیابی سے نفاق کے بیج ڈال کر سہیل خان آفریدی کیلئے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کررہی ہے ۔۔ایک طرف عمران خان صاحب کی صحت اور زندگی کے حوالے سے حقیقی خطرات اور خدشات ہیں تو دوسری طرف عمران خان کی حقیقی آزادی کے لیے تاریخی جہدوجہد کو درپیش چیلنجز ۔۔۔چومکھی لڑائی کے اس مشکل ترین دور میں قوم کو مایوسی کا شکار ہونے سے بچانے۔۔۔اسٹیبلشمنٹ کی خواہشات مطابق پی ٹی آئی کو بکھرنے سے بچانے کے لیے فوری فیصلوں کی ضرورت ہے ۔۔۔عمران خان اور علیمہ خان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اب علیمہ خان کو سیاست سنبھالنی ہوگی اور اعلانیہ پی ٹی آئی اور سہیل خان آفریدی کی سرپرستی کرنی ہوگی ورنہ علی امین گنڈاپور سے لیکر اسد قیصر علی محمد خان جیسے پشت پر وار کرنے والے ناپاک عزائم میں کامیاب بھی ہوسکتے ہیں جب پنجاب سے تعلق رکھنے والے ممبرانِ قومی و صوبائی اسمبلی مکمل طور پر کرنل صاحبان کی جھولی میں جاچکے۔۔۔ اس موقع پر سہیل خان آفریدی کے ہاتھ مضبوط کرنے ہوں گے۔۔۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ممبران صوبائی و قومی اسمبلی سے استعفے طلب کرنے کے بعد علیمہ خان اور سہیل خان آفریدی نے خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں بھرپور رابط عوام مہم چلانی ہوگی سہیل خان آفریدی کو قائم مقام پارٹی چیئرمین بناکر گلگت بلتستان کشمیر اور کوئٹہ کے دورے کروائے جائیں ورنہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی باقیات اپنی چالوں میں کامیاب ہو جائیں گی اور ھم اپنے عظیم لیڈر کو خدانخواستہ کھودیں گے
جسٹس(ریٹائرڈ)غلام مصطفی مغل چیف الیکشن کمشنر آزادکشمیر تعینات نوٹیفیکیشن جاریاسلام آباد( ) 18 فروری 2026وفاقی حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل کی نام بحثیت چیف الیکشن کمشنر آزادجموں وکشمیر کی منظوری دے دی ہے ان کی تعیناتی کا عرصہ پانچ سالہ مدت کیلئے ہو گااس سلسلے میں باقاعدہ سرکاری نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل قبل ازیں بھی جب وہ آزاد جموں و کشمیر ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تھے آزادکشمیر کے چیف الیکشن کمشنر رہ چکے ہیں
سوئی ناردرن گیس کمپنی نے رمضان المبارک میں گیس کا شیڈول جاری کر دیا۔ایس این جی پی ایل کے شیڈول کے مطابق رمضان المبارک میں سحر و افطار کے اوقات میں گیس بلاتعطل فراہم کی جائے گی۔شیڈول کے مطابق صبح 3 بجے سے رات 10 بجے تک گیس کی فراہمی جاری رہے گی سحر اور افطار کے دوران صارفین کو گیس فل پریشر پر دی جائے گی۔
ترجمان سوئی ناردرن گیس کمپنی کا کہنا ہے کہ کم پریشر کی صورت میں صارفین کمپنی کہ ہیلپ لائن 1199 پر رابطہ کریں
بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیاء الرحمان کا پاکستان سے کیا تعلق ہے؟ جنرل ضیاء الرحمان بنگلہ دیشی فوجی افسر اور سیاست دان تھے، جنہوں نے 1977 سے 1981 میں اپنے قتل تک بنگلہ دیش کے چھٹے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔انہوں نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی بھی بنیاد رکھی۔ اور تین بار وزیر اعظم رہنے والی خالدہ ضیاء کے شوہر اور موجودہ نامزد وزیر اعظم طارق رحمان کے والد ہیں۔ ضیاء الرحمان 19 جنوری 1936 کو بوگرہ ضلع کے گبٹلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد منصور الرحمان نے کلکتہ یونیورسٹی سے کیمسٹری میں ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ کاغذ اور سیاہی کی کیمسٹری میں مہارت رکھتے تھے اور کلکتہ کے رائٹرز بلڈنگ میں سرکاری محکمے میں کام کرتے تھے۔ ان کی والدہ کا نام جہاں آرا خاتون تھا۔ ان کے دو چھوٹے بھائی تھے، احمد کمال (متوفی 2017) اور خلیل الرحمان (متوفی 2014)۔ان کے دادا کمال الدین، مہرالنساء سے شادی کرنے کے بعد مہیشابن سے نشی پور-باغباڑی ہجرت کر گئے تھے ضیاء الرحمان کی پرورش ان کے آبائی گاؤں باغباڑی میں ہوئی اور انہوں نے بوگرہ ضلع اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ 1946 میں ضیاء الرحمان کو کلکتہ کے ہیئر اسکول میں داخل کرایا گیا، جہاں انہوں نے ہندوستان میں برطانوی سلطنت کے خاتمے اور 1947 میں ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم تک تعلیم حاصل کی۔تقسیم ہند اور پاکستان ہجرتتقسیم ہند کے بعد ان کے والد منصور الرحمان نے مسلم اکثریتی پاکستان کا شہری بننے کا انتخاب کیا اور اگست 1947 میں، پاکستان کے پہلے دارالحکومت کراچی چلے اگئے۔11 سال کی عمر میں ضیاء الرحمان نے 1947 میں کراچی کے اکیڈمی اسکول میں چھٹی جماعت میں جانا شروع کیا۔ اور 16 سال کی عمر میں 1952 میں اسی اسکول سے ثانوی تعلیم مکمل کی۔ 1953 میں، ضیاء الرحمان کو ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج میں داخلہ ملا۔ اسی سال، انہوں نے ایبٹ آباد کی پاکستان ملٹری اکیڈمی میں تربیت حاصل کی۔اسی طرح ضیاء الرحمان نے اپنی جوانی کے سال کراچی اور ایبٹ آباد میں میں گزارے۔پاکستانی فوج میں کیریئر1955 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی سے 12ویں پی ایم اے لانگ کورس میں اپنی کلاس کے دس فیصد میں گریجویشن کرنے کے بعد، ضیاء الرحمان کو پاکستان فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کے عہدے پر کمیشن دیا گیا۔ فوج میں، انہوں نے کمانڈو تربیت حاصل کی، پیراٹروپر بنے اور ایک خصوصی مخابراتی کورس میں تربیت حاصل کی
۔ابتدائی طور پر انہوں نے دو سال تک پنجاب رجمنٹ میں خدمات انجام دیں، اس سے پہلے کہ 1957 میں ان کا تبادلہ مشرقی بنگال رجمنٹ میں ہو گیا۔ انہوں نے برطانوی فوج کے فوجی تربیتی اسکولوں میں بھی تعلیم حاصل کی، اور 1959 سے 1964 تک ملٹری انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ میں بھی کام کیا۔خالدہ سے شادی1960 میں، ان کی شادی اسکندر اور طابعہ مجمدار کی 15 سالہ بیٹی “خالدہ خانم پُتول” سے ہوئی، جن کا تعلق اس وقت کے نوکھالی ضلع کے فینی سے تھا۔ یہ لڑکی، بعد میں “خالدہ ضیاء” کے نام سے تین بار بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہی۔اس وقت ضیاء الرحمان پاکستانی فوج میں کیپٹن تھے، جو دفاعی فوج کے افسر کے طور پر تعینات تھے۔ ان کے والد منصور الرحمان اس تقریب میں شرکت نہیں کر سکے، کیونکہ وہ کراچی میں تھے۔ ضیاء کی والدہ کا پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا۔1965 کی پاک بھارت جنگ اور اعزازات1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران، ضیاء الرحمان نے پنجاب کے کھیم کرن سیکٹر میں 100 سے 150 سپاہیوں پر مشتمل ایک کمپنی (فوجی یونٹ) کے کمانڈر کے طور پر جنگ لڑی۔انہوں نے دوسری کشمیر جنگ میں بھارتی فوج کے خلاف پاکستانی فوج میں بطور کمانڈر خدمات انجام دیں، جس کے لیے انہیں پاکستانی حکومت کی طرف سے ہلالِ جرأت سے نوازا گیا۔ضیاء الرحمان کو پاکستان حکومت نے بہادری کے لیے ہلالِ جرأت (کریسنٹ آف کریج) کا تمغہ دیا، جو پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے۔مشرقی بنگال رجمنٹ (ای بی آر) کی پہلی بٹالین، جس کے تحت انہوں نے جنگ لڑی، نے 1965 کی جنگ میں ہندوستان کے ساتھ اپنے کردار کے لیے تین ستارہ جرأت اور آٹھ تمغہ جرأت جیتے۔پہلی اولاد طارق رحمان کی پیدائش1966 میں، ضیاء الرحمان کو پاکستان ملٹری اکیڈمی میں فوجی انسٹرکٹر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے انسٹرکٹر کے دوران دو بنگالی بٹالینوں کو بڑھانے میں مدد کی، جنہیں 8 ویں اور 9 ویں بنگال کہا جاتا ہے۔اسی دوران، ان کی اہلیہ خالدہ ضیاء، جو اب 24 سال کی تھیں، نے 20 نومبر 1966 کو اپنے پہلے بچے، موجودہ نامزد وزیر اعظم طارق رحمان کو جنم دیا۔ بعد میں انہوں نے کوئٹہ کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج سے کمانڈ اور ٹیکٹیکل وارفیئر میں کورس مکمل کیا۔مشرقی پاکستان میں تعیناتیوہ 1969 میں ڈھاکہ کے قریب ضلع گازی پور کے جے دیو پور میں دوسری مشرقی بنگال رجمنٹ میں بطور سیکنڈ ان کمانڈ شامل ہوئے، اور برطانوی فوج آف رائن سے جدید فوجی اور کمانڈ تربیت حاصل کرنے کے لیے مغربی جرمنی گئے اور بعد میں برطانوی فوج کے ساتھ چند ماہ گزارے۔ اسی سال ضیاء الرحمان جرمنی سے پاکستان واپس آئے اور مشرقی پاکستان کے چٹاگانگ میں 8 ویں مشرقی بنگال رجمنٹ کے سیکنڈ ان کمانڈ کے طور پر تعینات ہوئے۔اس وقت مشرقی پاکستان 1970 کے بھولا سمندری طوفان سے تباہ ہو چکا تھا، اور آبادی مرکزی حکومت کے سست ردعمل اور پاکستان کی دو بڑی جماعتوں، شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ اور ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان سیاسی تنازعے کی وجہ سے تلخ ہو گئی تھی۔1971 کی جنگ میں کردار1970 کے پاکستانی عام انتخابات میں حکومت سازی پر بات چیت کی ناکامی کے بعد، جب یحییٰ خان نے مارشل لا کا اعلان کیا، تو اس وقت وہ ابتدائی طور پر بی ڈی ایف سیکٹر 1 کے کمانڈر، جون سے بنگلہ دیش فورسز کے بی ڈی ایف سیکٹر 11 کے کمانڈر اور جولائی کے وسط سے زیڈ فورس کے بریگیڈ کمانڈر تھے۔ اس وقت ضیاء الرحمان نے بغاوت کی اور بعد میں اپنے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل عبد الرشید جنجوعہ کو گرفتار کرکے پھانسی دے دی
۔آزادی بنگلہ دیش کا اعلانانہوں نے 27 مارچ کو کالورگھاٹ، چٹاگانگ کے آزاد بنگلہ بیتر کیندرا ریڈیو اسٹیشن سے آزادی کا اعلان نشر کیا، اور تب سے وہ “آزادی کے اعلان کرنے والے” کے نام سے جانے جاتے ہیں۔مقامی عوامی لیگ کے حامیوں اور رہنماؤں نے ان سے آزادی کا اعلان کرنے کی درخواست کی، جو اس سے قبل (26 مارچ 1971 کے اوائل میں) بنگالی رہنما بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمان نے اپنی گرفتاری سے پہلے کیا تھا۔جس میں لکھا تھا:”یہ آزاد بنگلہ بیتر کیندر ہے۔ میں، میجر ضیاء الرحمان، بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمان کی جانب سے، یہ اعلان کرتا ہوں کہ آزاد عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش قائم ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔”ضیاء الرحمان نے چٹاگانگ میں تمام بنگالی فوجیوں اور ای پی آر یونٹوں کو جمع کرکے ایک انفنٹری یونٹ منظم کیا۔ انہوں نے اسے سیکٹر نمبر 1 قرار دیا، جس کا صدر دفتر سب روم میں تھا۔ چند ہفتوں بعد، انہیں تیلدھالا منتقل کر دیا گیا، جہاں انہوں نے سیکٹر 11 کو منظم اور تشکیل دیا۔باضابطہ فوجی قیادتبنگلہ دیش کی عارضی حکومت کے بنگلہ دیش فورسز کے سپریم کمانڈر کرنل ایم اے جی عثمانی کے تحت تمام سیکٹرز کو سرکاری طور پر بنگلہ دیش فورسز کے تحت تنظیم نو کیا گیا، جس کا صدر دفتر ہندوستان میں کولکتہ کے تھیٹر روڈ پر تھا۔30 جولائی 1971 کو، ضیاء الرحمان کو بنگلہ دیش فورسز کی پہلی روایتی بریگیڈ کا کمانڈر مقرر کیا گیا، جسے ان کے نام کے پہلے ابتدائی نام پر “زیڈ فورس” کا نام دیا گیا۔ ان کی بریگیڈ میں پہلی، تیسری اور آٹھویں مشرقی بنگالی رجمنٹیں شامل تھیں۔نیو یارک ٹائمز کے مطابق، زیڈ فورس کے ساتھ، ضیاء الرحمان نے “برفیلی بہادری کی شہرت” حاصل کی، اور بنگلہ دیش کی حکومت کی طرف سے انہیں بیر اتم، دوسرا سب سے بڑا فوجی اعزاز (اور زندہ افسروں کے لیے سب سے بڑا) دیا گیا۔شیخ مجیب الرحمان کا قتلبیرونی قوتوں اور بنگلہ دیش کے اندرونی ساتھیوں کے ذریعے شیخ مجیب الرحمان کو سربراہی سے ہٹانے کی گہری سازش ان کے قتل سے بہت پہلے سے جاری تھی۔15 اگست 1975 کو صدر شیخ مجیب الرحمان اور ان کے خاندان کو فوجی اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں قتل کر دیا گیا۔ مجیب الرحمان کے کابینی وزراء میں سے ایک اور سرکردہ سازشی، خندکر مشتاق احمد نے صدارت حاصل کی اور میجر جنرل کے ایم شفیع اللہ کو برطرف کر دیا، جو بغاوت کے دوران غیر جانبدار رہے تھے۔جنرل ضیاء الرحمان کی نظر بندیمیجر جنرل ضیاء الرحمان (اس وقت ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف) شفیع اللہ کے استعفیٰ کے بعد چیف آف آرمی سٹاف مقرر ہوئے۔ تاہم، 15 اگست کی بغاوت نے بنگلہ دیش اور مسلح افواج کی صفوں میں عدم استحکام اور بدامنی کا دور دورہ پیدا کیا۔ بریگیڈیئر خالد مشرف اور ڈھاکہ چھاؤنی کی 46 ویں بریگیڈ نے کرنل شفاعت جمیل کے تحت 3 نومبر 1975 کو خندکر مشتاق احمد کی انتظامیہ کے خلاف بغاوت کی، اور ضیاء الرحمان کو اپنے عہدے سے دستبردار ہونے اور گھر میں نظر بند کرنے پر مجبور کیا گیا
۔سپاہی و عوامی انقلاباس کے بعد 7 نومبر کو سپاہی-عوامی انقلاب آیا، جو ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل ابو طاہر اور سوشلسٹ فوجی افسران کے ایک گروپ کی زیر قیادت جاتیہ سماج تانترک دل کی طرف سے کی گئی بغاوت تھی۔ خالد مشرف کو ان کے ماتحت افسران نے اس وقت قتل کر دیا۔ شفاعت جمیل فرار ہو گئے، جبکہ ضیاء الرحمان کو لیفٹیننٹ کرنل رشید کے ماتحت دوسری آرٹلری رجمنٹ نے آزاد کرایا اور فوج کی صفوں کی مکمل حمایت کے ساتھ دوبارہ چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا گیا۔عبوری حکومت اور نظم و ضبطآرمی ہیڈ کوارٹر میں ایک میٹنگ کے بعد، محمد صیام کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور ضیاء الرحمان، ایئر وائس مارشل ایم جی تواب اور ریئر ایڈمرل ایم ایچ خان کو ان کے نائب مقرر کرتے ہوئے ایک عبوری حکومت تشکیل دی گئی۔تاہم، فوج میں نظم و ضبط مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا، اور جے ایس ڈی اور لیفٹیننٹ کرنل طاہر کی حمایت یافتہ سپاہیوں کو غیر مسلح کرنا مشکل تھا، کیونکہ انہوں نے ضیاء الرحمان کو ہٹانے کی ایک اور سازش کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ضیاء الرحمان نے محسوس کیا کہ اگر بنگلہ دیش فوج میں نظم و ضبط بحال کرنا ہے، تو بدامنی کو سختی سے دبانا ہوگا۔ ضیاء الرحمان نے جے ایس ڈی اور گونوباہنی کے خلاف کارروائی کی۔ابو طاہر کو 21 جولائی 1976 کو پھانسی دے دی گئی۔ ضیاء الرحمان اسی سال چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ انہوں نے مسلح افواج کو مربوط کرنے کی کوشش کی، واپس آنے والوں کو ان کی قابلیت اور سنیارٹی کے مطابق درجہ دیا۔ضیاء الرحمان نے بدامنی کو ختم کرنے کے لیے ناراض افسران کو سفارتی مشنوں پر بیرون ملک بھیج دیا۔ بنگلہ دیش پولیس فورس کا سائز دوگنا کر دیا گیا، اور فوج میں سپاہیوں کی تعداد 50,000 سے بڑھ کر 90,000 ہو گئی۔نئی ارمی چیف ارشاد کی تقرری1978 میں، انہوں نے محمد ارشاد کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر نیا چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا،
جو ایک پیشہ ور سپاہی سمجھا جاتا تھا، جس کی کوئی سیاسی خواہشات نہیں تھیں، کیونکہ جنگ کے دوران وہ مغربی پاکستان میں قید تھے۔ صدارت کا آغازجنرل ضیاء الرحمان نے انتخاب لڑا اور بھاری اکثریت سے پانچ سالہ مدت کے لیے 21 اپریل 1977 کو بنگلہ دیش کے صدر بنے۔ اگلے سال، قومی اسمبلی کے لیے انتخابات ہوئے۔ مخالفین نے انتخابات کی سالمیت پر سوال اٹھایا۔صدر بننے کے بعد، ضیاء الرحمان نے مارشل لا ختم کیا اور ملک کی ترقی کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کروائیں۔ انہوں نے کثیر الجماعتی سیاست، صحافت کی آزادی، آزادی اظہار، آزاد منڈی اور احتساب کو بحال کیا۔1978 میں بطور صدر، ضیاء الرحمان نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی، جو آج چوتھی بار حکومت بنا رہی ہے۔بغاوت کی کوششیں اور قتلملکی سطح پر، ضیاء الرحمان کو 21 بغاوت کی کوششوں کا سامنا کرنا پڑا، جن کے لیے فوجی ٹربیونل قائم کیے گئے، جس کے نتیجے میں فوج اور فضائیہ کے کم از کم 200 سپاہیوں کو پھانسی دی گئی، جس سے انہیں بین الاقوامی مبصرین میں “سخت گیر” اور “بے رحم” ہونے کی شہرت ملی۔ آخر کار 30 مئی 1981 کو چٹاگانگ میں بغاوت کی کوشش میں ان کا قتل کر دیا گیا۔ضیاء الرحمان کا دورِ اقتدار میں اصلاحات اور تنازعاتاقتصادی اور زرعی اصلاحات▪️بنگلہ دیش میں ناخواندگی، شدید غربت اور دائمی بے روزگاری جیسے مسائل کے حل کے لیے ضیاء الرحمان نے “19 نکاتی اقتصادی پروگرام” کا اعلان کیا۔ اس پروگرام کا محور خود انحصاری، دیہی ترقی، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی (Decentralization) اور آزاد منڈی کا فروغ تھا۔ انہوں نے عوام کو “زیادہ کام اور زیادہ پیداوار” کی تلقین کی۔▪️انہوں نے زرعی شعبے میں جدت لانے کے لیے بنگلہ دیش جوٹ اور چاول ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کیے اور 1977ء میں دیہی ترقی کا جامع پروگرام شروع کیا، جس میں “خوراک برائے کام” (Food for Work) کا منصوبہ انتہائی مقبول ہوا۔ اس کے علاوہ نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی گئی اور زراعت و صنعت پر عائد کڑی پابندیاں اور کوٹہ سسٹم ختم کر دیا گیا۔انفراسٹرکچر اور تعلیمضیاء الرحمان نے ملک گیر سطح پر نہروں، پاور اسٹیشنوں، ڈیموں اور سڑکوں کی تعمیر کے بڑے منصوبے شروع کیے۔ دیہی سطح پر نظم و ضبط اور سیکورٹی کے لیے “گرام سرکار” (دیہی کونسل) اور “ویلیج ڈیفنس پارٹی” کا نظام وضع کیا۔ تعلیم کے شعبے میں بالخصوص ابتدائی اور بالغوں کی تعلیم کے لیے بڑے پیمانے پر مہم چلائی گئی، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیشی معیشت نے تیز رفتار ترقی حاصل کی
۔خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور اسلامی ممالک سے تعلقاتضیاء الرحمان نے بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی کو ایک نئی سمت عطا کی۔ انہوں نے اپنے پیشروؤں کی بھارت اور سوویت یونین نواز پالیسی کے بجائے امریکہ، مغربی یورپ، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے۔انہوں نے پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے اور سعودی عرب و چین کے ساتھ سفارتی ہم آہنگی پیدا کی (واضح رہے کہ چین نے 1975ء تک بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کیا تھا)۔ان کی “اسلامی ریاست” سے متعلق پالیسیوں کی بدولت عالمِ اسلام میں بنگلہ دیش کا وقار بلند ہوا، جس سے خلیجی ممالک میں بنگلہ دیشی افرادی قوت کے لیے روزگار کے دروازے کھلے اور ترسیلاتِ زر معیشت کا اہم ستون بن گئیں۔سارک (SAARC) کا قیامعلاقائی تعاون کے فروغ کے لیے ضیاء الرحمان نے جنوبی ایشیائی ممالک کی ایک تنظیم کا وژن پیش کیا۔ اگرچہ اس کی پہلی باقاعدہ کانفرنس 1985ء میں (حسین محمد ارشاد کے دور میں) ڈھاکہ میں ہوئی، لیکن سارک کے قیام کا بنیادی سہرا ضیاء الرحمان کے سر ہے، جس پر انہیں بعد از مرگ اعزاز سے بھی نوازا گیا۔قومی شناخت اور نظریہضیاء الرحمان نے شناخت کے بحران کو ختم کرنے کے لیے ایک نیا قومی نظریہ پیش کیا، جس میں اعتدال پسند اسلام، تکثیریت اور “بنگلہ دیشی قومیت” کو بنیاد بنایا گیا۔ انہوں نے آئین میں ترمیم کے ذریعے شہریت کی بنیاد نسلی شناخت (بنگالی) کے بجائے جغرافیائی و قومی شناخت (بنگلہ دیشی) پر رکھی، تاکہ اقلیتوں (سانتھال، چکما، بہاری وغیرہ) کو بھی قومی دھارے میں شامل کیا جا سکے۔تنازعات اور تنقیدمجیب قتل کیس اور انڈیمنٹی ایکٹ:شیخ مجیب الرحمان کے قتل کے بعد ضیاء الرحمان کا کردار بحث طلب رہا۔ انہوں نے مجیب کے قاتلوں کو تحفظ دینے والے “انڈیمنٹی آرڈیننس” کو منسوخ نہیں کیا، بلکہ اس قتل میں ملوث کئی فوجی افسران (میجر دلیم، میجر رشید وغیرہ) کو وزارتِ خارجہ میں سفارتی عہدوں پر تعینات کیا۔غیر آئینی اقتدار:ڈھاکہ ہائی کورٹ نے بعد ازاں 1975 سے 1979 کے درمیان فوجی بغاوتوں کے ذریعے اقتدار کے حصول اور ضیاء کے مارشل لا کو “غیر قانونی اور غیر آئینی” قرار دیا۔اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن:ان کے دور میں تقریباً 20 بار بغاوت کی کوششیں ہوئیں، جنہیں سختی سے کچلا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق اکتوبر 1977ء کی ناکام بغاوت کے بعد مختلف جیلوں میں 1,143 افراد کو پھانسی دی گئی۔اعزازات اور خراجِ تحسینضیاء الرحمان کی وفات کے بعد انہیں متعدد عالمی اعزازات سے نوازا گیا۔ ترکی نے انقرہ میں ایک شاہراہ کا نام ان کے نام پر رکھا۔ بی بی سی کے ایک سروے میں انہیں “عظیم ترین بنگالیوں” کی فہرست میں 19ویں نمبر پر رکھا گیا۔انہیں پاکستان سے ہلالِ جرأت، بنگلہ دیش سے آزادی ایوارڈ اور مصر و شمالی کوریا سے اعلیٰ ترین فوجی و شہری اعزازات ملے۔ان کی سیاسی جماعت، بی این پی، بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک بڑی قوت بنی ہوئی ہے، ان کی بیوہ، خالدہ ضیاء، پارٹی کی قیادت کر رہی تھی اور تین بار وزیر اعظم رہ چکی ہیں۔ اب ان کا بیٹا طارق وزیر اعظم بننے کے لیے تیار ہیں۔بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیاء الرحمان کا پاکستان سے کیا تعلق ہے؟ جنرل ضیاء الرحمان بنگلہ دیشی فوجی افسر اور سیاست دان تھے، جنہوں نے 1977 سے 1981 میں اپنے قتل تک بنگلہ دیش کے چھٹے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔انہوں نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی بھی بنیاد رکھی۔ اور تین بار وزیر اعظم رہنے والی خالدہ ضیاء کے شوہر اور موجودہ نامزد وزیر اعظم طارق رحمان کے والد ہیں۔ ضیاء الرحمان 19 جنوری 1936 کو بوگرہ ضلع کے گبٹلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد منصور الرحمان نے کلکتہ یونیورسٹی سے کیمسٹری میں ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ کاغذ اور سیاہی کی کیمسٹری میں مہارت رکھتے تھے اور کلکتہ کے رائٹرز بلڈنگ میں سرکاری محکمے میں کام کرتے تھے۔ ان کی والدہ کا نام جہاں آرا خاتون تھا۔ ان کے دو چھوٹے بھائی تھے، احمد کمال (متوفی 2017) اور خلیل الرحمان (متوفی 2014)۔ان کے دادا کمال الدین، مہرالنساء سے شادی کرنے کے بعد مہیشابن سے نشی پور-باغباڑی ہجرت کر گئے تھے ضیاء الرحمان کی پرورش ان کے آبائی گاؤں باغباڑی میں ہوئی اور انہوں نے بوگرہ ضلع اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ 1946 میں ضیاء الرحمان کو کلکتہ کے ہیئر اسکول میں داخل کرایا گیا، جہاں انہوں نے ہندوستان میں برطانوی سلطنت کے خاتمے اور 1947 میں ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم تک تعلیم حاصل کی۔تقسیم ہند اور پاکستان ہجرتتقسیم ہند کے بعد ان کے والد منصور الرحمان نے مسلم اکثریتی پاکستان کا شہری بننے کا انتخاب کیا اور اگست 1947 میں، پاکستان کے پہلے دارالحکومت کراچی چلے اگئے۔11 سال کی عمر میں ضیاء الرحمان نے 1947 میں کراچی کے اکیڈمی اسکول میں چھٹی جماعت میں جانا شروع کیا۔
اور 16 سال کی عمر میں 1952 میں اسی اسکول سے ثانوی تعلیم مکمل کی۔ 1953 میں، ضیاء الرحمان کو ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج میں داخلہ ملا۔ اسی سال، انہوں نے ایبٹ آباد کی پاکستان ملٹری اکیڈمی میں تربیت حاصل کی۔اسی طرح ضیاء الرحمان نے اپنی جوانی کے سال کراچی اور ایبٹ آباد میں میں گزارے۔پاکستانی فوج میں کیریئر1955 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی سے 12ویں پی ایم اے لانگ کورس میں اپنی کلاس کے دس فیصد میں گریجویشن کرنے کے بعد، ضیاء الرحمان کو پاکستان فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کے عہدے پر کمیشن دیا گیا۔ فوج میں، انہوں نے کمانڈو تربیت حاصل کی، پیراٹروپر بنے اور ایک خصوصی مخابراتی کورس میں تربیت حاصل کی۔ابتدائی طور پر انہوں نے دو سال تک پنجاب رجمنٹ میں خدمات انجام دیں، اس سے پہلے کہ 1957 میں ان کا تبادلہ مشرقی بنگال رجمنٹ میں ہو گیا۔ انہوں نے برطانوی فوج کے فوجی تربیتی اسکولوں میں بھی تعلیم حاصل کی، اور 1959 سے 1964 تک ملٹری انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ میں بھی کام کیا۔خالدہ سے شادی1960 میں، ان کی شادی اسکندر اور طابعہ مجمدار کی 15 سالہ بیٹی “خالدہ خانم پُتول” سے ہوئی، جن کا تعلق اس وقت کے نوکھالی ضلع کے فینی سے تھا۔ یہ لڑکی، بعد میں “خالدہ ضیاء” کے نام سے تین بار بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہی۔اس وقت ضیاء الرحمان پاکستانی فوج میں کیپٹن تھے، جو دفاعی فوج کے افسر کے طور پر تعینات تھے۔ ان کے والد منصور الرحمان اس تقریب میں شرکت نہیں کر سکے، کیونکہ وہ کراچی میں تھے۔ ضیاء کی والدہ کا پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا۔1965 کی پاک بھارت جنگ اور اعزازات1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران، ضیاء الرحمان نے پنجاب کے کھیم کرن سیکٹر میں 100 سے 150 سپاہیوں پر مشتمل ایک کمپنی (فوجی یونٹ) کے کمانڈر کے طور پر جنگ لڑی۔انہوں نے دوسری کشمیر جنگ میں بھارتی فوج کے خلاف پاکستانی فوج میں بطور کمانڈر خدمات انجام دیں، جس کے لیے انہیں پاکستانی حکومت کی طرف سے ہلالِ جرأت سے نوازا گیا۔ضیاء الرحمان کو پاکستان حکومت نے بہادری کے لیے ہلالِ جرأت (کریسنٹ آف کریج) کا تمغہ دیا، جو پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے۔مشرقی بنگال رجمنٹ (ای بی آر) کی پہلی بٹالین، جس کے تحت انہوں نے جنگ لڑی، نے 1965 کی جنگ میں ہندوستان کے ساتھ اپنے کردار کے لیے تین ستارہ جرأت اور آٹھ تمغہ جرأت جیتے۔پہلی اولاد طارق رحمان کی پیدائش1966 میں، ضیاء الرحمان کو پاکستان ملٹری اکیڈمی میں فوجی انسٹرکٹر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے انسٹرکٹر کے دوران دو بنگالی بٹالینوں کو بڑھانے میں مدد کی، جنہیں 8 ویں اور 9 ویں بنگال کہا جاتا ہے۔اسی دوران، ان کی اہلیہ خالدہ ضیاء، جو اب 24 سال کی تھیں، نے 20 نومبر 1966 کو اپنے پہلے بچے، موجودہ نامزد وزیر اعظم طارق رحمان کو جنم دیا۔ بعد میں انہوں نے کوئٹہ کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج سے کمانڈ اور ٹیکٹیکل وارفیئر میں کورس مکمل کیا۔مشرقی پاکستان میں تعیناتیوہ 1969 میں ڈھاکہ کے قریب ضلع گازی پور کے جے دیو پور میں دوسری مشرقی بنگال رجمنٹ میں بطور سیکنڈ ان کمانڈ شامل ہوئے، اور برطانوی فوج آف رائن سے جدید فوجی اور کمانڈ تربیت حاصل کرنے کے لیے مغربی جرمنی گئے اور بعد میں برطانوی فوج کے ساتھ چند ماہ گزارے۔ اسی سال ضیاء الرحمان جرمنی سے پاکستان واپس آئے اور مشرقی پاکستان کے چٹاگانگ میں 8 ویں مشرقی بنگال رجمنٹ کے سیکنڈ ان کمانڈ کے طور پر تعینات ہوئے۔اس وقت مشرقی پاکستان 1970 کے بھولا سمندری طوفان سے تباہ ہو چکا تھا، اور آبادی مرکزی حکومت کے سست ردعمل اور پاکستان کی دو بڑی جماعتوں، شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ اور ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان سیاسی تنازعے کی وجہ سے تلخ ہو گئی تھی۔1971 کی جنگ میں کردار1970 کے پاکستانی عام انتخابات میں حکومت سازی پر بات چیت کی ناکامی کے بعد، جب یحییٰ خان نے مارشل لا کا اعلان کیا، تو اس وقت وہ ابتدائی طور پر بی ڈی ایف سیکٹر 1 کے کمانڈر، جون سے بنگلہ دیش فورسز کے بی ڈی ایف سیکٹر 11 کے کمانڈر اور جولائی کے وسط سے زیڈ فورس کے بریگیڈ کمانڈر تھے۔ اس وقت ضیاء الرحمان نے بغاوت کی اور بعد میں اپنے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل عبد الرشید جنجوعہ کو گرفتار کرکے پھانسی دے دی۔آزادی بنگلہ دیش کا اعلانانہوں نے 27 مارچ کو کالورگھاٹ، چٹاگانگ کے آزاد بنگلہ بیتر کیندرا ریڈیو اسٹیشن سے آزادی کا اعلان نشر کیا، اور تب سے وہ “آزادی کے اعلان کرنے والے” کے نام سے جانے جاتے ہیں۔مقامی عوامی لیگ کے حامیوں اور رہنماؤں نے ان سے آزادی کا اعلان کرنے کی درخواست کی، جو اس سے قبل (26 مارچ 1971 کے اوائل میں) بنگالی رہنما بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمان نے اپنی گرفتاری سے پہلے کیا تھا۔جس میں لکھا تھا:”یہ آزاد بنگلہ بیتر کیندر ہے۔ میں، میجر ضیاء الرحمان، بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمان کی جانب سے، یہ اعلان کرتا ہوں کہ آزاد عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش قائم ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔”ضیاء الرحمان نے چٹاگانگ میں تمام بنگالی فوجیوں اور ای پی آر یونٹوں کو جمع کرکے ایک انفنٹری یونٹ منظم کیا۔ انہوں نے اسے سیکٹر نمبر 1 قرار دیا، جس کا صدر دفتر سب روم میں تھا۔ چند ہفتوں بعد، انہیں تیلدھالا منتقل کر دیا گیا، جہاں انہوں نے سیکٹر 11 کو منظم اور تشکیل دیا۔باضابطہ فوجی قیادتبنگلہ دیش کی عارضی حکومت کے بنگلہ دیش فورسز کے سپریم کمانڈر کرنل ایم اے جی عثمانی کے تحت تمام سیکٹرز کو سرکاری طور پر بنگلہ دیش فورسز کے تحت تنظیم نو کیا گیا، جس کا صدر دفتر ہندوستان میں کولکتہ کے تھیٹر روڈ پر تھا۔30 جولائی 1971 کو، ضیاء الرحمان کو بنگلہ دیش فورسز کی پہلی روایتی بریگیڈ کا کمانڈر مقرر کیا گیا، جسے ان کے نام کے پہلے ابتدائی نام پر “زیڈ فورس” کا نام دیا گیا۔ ان کی بریگیڈ میں پہلی، تیسری اور آٹھویں مشرقی بنگالی رجمنٹیں ش
ویسے داد دینی چاہئیے اپنے کھلاڑیوں کو۔۔۔میدان میں ان سے ہوتا کچھ نہیں اور مائیک پر بیٹھ کر سکندر اعظم بن جاتے ہیں 🫣😝صحافی کا شاداب خان سے سوال 🗣️ “شاداب کیا لگتا ہے ، سیمی فائنل کھیل کے جائیں گے؟” شاداب خان کا صحافی کو جواب 🗣️”سیمی فائنل کیوں ، ہم فائنل کھیلیں گے ، اور انشاء اللہ فائنل جیت کر جائیں گے۔”
14 مشہور کرکٹ کپتانوں نے حکومتِ پاکستان سے عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرنے کی درخواست کر دی ہے۔ اس درخواست پر دستخط کرنے والوں میں کلائیو لائیڈ، ناصر حسین، سنیل گواسکر، کپل دیو، ایلن بارڈر، اسٹیو وا، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، کم ہیوز، مائیک بریرلی، ڈیوڈ گاور اور جان رائٹ شامل ہیں۔خط کے متن کا ترجمہ درج ذیل ہے بین الاقوامی کرکٹ کے سابق کپتانوں کی جانب سے اپیل17 فروری 2026ہم، اپنے اپنے ملک کی قومی کرکٹ ٹیموں کے سابق کپتان، پاکستان کے ممتاز سابق کپتان اور ورلڈ کرکٹ کی افسانوی شخصیت عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے مبینہ سلوک اور قید کے حالات پر گہری تشویش کے ساتھ یہ خط لکھ رہے ہیں۔کھیل کے لیے عمران خان کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا جاتا ہے۔ بطور کپتان، انہوں نے 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کو تاریخی فتح دلائی—یہ ایک ایسی کامیابی تھی جو مہارت، استقامت، قیادت اور کھیل کی اعلیٰ اقدار پر مبنی تھی جس نے سرحدوں کے اس پار نسلوں کو متاثر کیا۔ہم میں سے بہت سے لوگوں نے ان کے خلاف مقابلہ کیا، ان کے ساتھ میدان میں وقت گزارا، یا ان کی ہمہ جہت (all-round) مہارت، کرشمہ اور مسابقتی جذبے کو آئیڈیل بناتے ہوئے بڑے ہوئے۔ وہ کھیل کی تاریخ کے بہترین آل راؤنڈرز اور کپتانوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے کھلاڑیوں، شائقین اور منتظمین سب سے یکساں احترام حاصل کیا۔کرکٹ سے ہٹ کر، عمران خان نے پاکستان کے وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں اور ایک مشکل دور میں اپنی قوم کی قیادت کی۔ سیاسی نظریات سے قطع نظر، انہیں اپنے ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر جمہوری طور پر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ان کی صحت کے حوالے سے حالیہ رپورٹس—خاص طور پر حراست کے دوران ان کی بصارت کی تشویشناک حد تک گرتی ہوئی صورتحال—اور گزشتہ ڈھائی سالوں سے ان کی قید کے حالات نے ہمیں شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے
۔بطور ساتھی کرکٹرز جو کھیل کے میدان کی حدود سے ماورا فیئر پلے (منصفانہ کھیل)، عزت اور احترام کی اقدار کو سمجھتے ہیں، ہمارا ماننا ہے کہ عمران خان جیسی قد آور شخصیت کے ساتھ اس وقار اور بنیادی انسانی ہمدردی کا سلوک کیا جانا چاہیے جو ایک سابق قومی رہنما اور عالمی اسپورٹس آئیکون کے شایانِ شان ہو۔ہم احترام کے ساتھ حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ عمران خان کو درج ذیل سہولیات فراہم کی جائیں: * ان کی صحت کے مسائل کے حل کے لیے ان کی اپنی پسند کے ماہر ڈاکٹروں سے فوری، مناسب اور مسلسل طبی امداد۔ * بین الاقوامی معیار کے مطابق حراست کے انسانی اور باوقار حالات، بشمول قریبی اہل خانہ سے باقاعدہ ملاقاتیں۔ * بغیر کسی تاخیر یا رکاوٹ کے قانونی عمل تک منصفانہ اور شفاف رسائی۔کرکٹ طویل عرصے سے قوموں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی آئی ہے۔ میدان میں ہماری مشترکہ تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کھیل ختم ہونے کے ساتھ ہی رقابت ختم ہو جاتی ہے—اور احترام باقی رہتا ہے۔ عمران خان نے اپنے پورے کیریئر میں اسی جذبے کی عکاسی کی۔ہم حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شرافت اور انصاف کے اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے اب اس جذبے کا احترام کریں۔یہ اپیل کسی بھی قانونی کارروائی پر اثر انداز ہوئے بغیر، محض کھیل کے جذبے اور مشترکہ انسانی ہمدردی کے تحت کی گئی ہے۔بشکریہ و تصدیق:مائیکل آتھرٹن (OBE)، ایلن بارڈر (AO)، مائیکل بریرلی (OBE)، گریگ چیپل (AO, MBE)، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک (AO)، پدما بھوشن سنیل گواسکر، ڈیوڈ گاور (OBE)، کم ہیوز، ناصر حسین (OBE)، سر کلائیو لائیڈ (CBE)، پدما بھوشن کپل دیو نکھنج، اسٹیفن وا (AO)، جان رائٹ (MBE)۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر پروپیگنڈا کیا گیا، سیاسی انتقام لینا ہوتا تو جیل میں ہی ٹائٹ کردیتے، محمود اچکزئی کے خط لکھنے سے پہلے ہی اپوزیشن سے رابطے میں تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ہم نے کہا تھا کہ اپنے ایک ڈاکٹر کا بھی نام دے دیں، معائنے کیلئے سرکاری اور پرائیوٹ ڈاکٹرز کا انتخاب کیا، بانی کے ذاتی معالجین نے کہا بہترین علاج ہورہا ہے، بانی کے معالجین نے کہا ہم علاج کررہے ہوتے تب بھی یہی کرتے، اپوزیشن رہنماؤں نے بھی بریفنگ کے بعد اطمیمنان کا اظہار کیا۔محسن نقوی نے کہا کہ بانی کی آنکھ کے معاملے پر بھرپور سیاست کھیلی گئی، معائنے کے وقت بانی کے کزن قاسم کا نام دیا گیا، پھر کہا گیا بانی کو اسپتال منتقل کیا جائے، علیمہ خان سارے معاملات کو ویٹو کردیتی تھیں، آج سڑکیں بند کرکے لوگوں کو تکلیف پہنچائی جارہی ہیں، کچھ لوگ بانی کی صحت سے زیادہ اپنی سیاست کیلئے فکر مند ہیں۔علی امین گنڈا پور کے بیان پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں ہمیشہ کہتا ہوں مذاکرات سے ہر مسئلہ حل ہوتا ہے، وزیراعظم بھی پہلے دن سے مذاکرات کی بات کررہے ہیں،
راستے بند کرنے والے پھر دیکھ لیں، ہمیں بڑی کلیئر ہدایات ہیں، کے پی پولیس لڑرہی ہے لیکن سیاسی قیادت کو بھی آن بورڈ ہونا پڑے گا۔ان کا کہنا ہے کہ سمجھدار لوگوں کی سُنی جاتی تو پی ٹی آئی آج اِس حال میں نہ ہوتی، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اِس وقت کوئی بات نہیں ہورہی، این آر او سے متعلق بات چیت میرا سبجیکٹ نہیں ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے 100 فیصد بھارت ملوث ہے، دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے پر دُنیا کو بھی سمجھانا ہوگا۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان وفاقی وزیرِ داخلہ کی حالیہ پریس کانفرنس کو صریح گمراہ کن، حقائق کے منافی اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش قرار دیتی ہے۔ ریاستی منصب پر فائز ہو کر سچ کو مسخ کرنا نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے بلکہ آئینی ذمہ داریوں سے کھلی روگردانی بھی ہے۔حکومت سابق وزیرِاعظم عمران خان کی بگڑتی ہوئی صحت اور جیل میں ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک من گھڑت بیانیہ تشکیل دے رہی ہے۔ قوم کو اصل حقائق سے محروم رکھ کر سیاسی تماشہ لگانا قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول ہے۔
ہم دوٹوک الفاظ میں واضح کرتے ہیں کہ طبی معائنے کے دوران سرکاری ڈاکٹروں پر عدم اعتماد اور ذاتی معالج کی موجودگی کی شرط کوئی انفرادی ضد نہیں بلکہ فیملی، پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا باہمی مشاورت سے کیا گیا متفقہ فیصلہ ہے۔ عمران خان کی صحت سے متعلق فیصلہ کرنے کا اخلاقی، قانونی اور انسانی حق صرف ان کی فیملی کو حاصل ہے۔ جب تک ان کے ذاتی معالج موجود نہیں ہوں گے، کسی بھی سرکاری بورڈ یا سرکاری ڈاکٹر کے نام پر سیاسی قیادت کو نمائشی شرکت کی دعوت دینا محض ایک ڈھونگ اور خانہ پُری ہے۔مزید برآں، عمران خان کو جس طویل اور بدترین قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق تشدد (Torture) کے زمرے میں آتا ہے۔ United Nations Working Group on Arbitrary Detention پہلے ہی ان کی حراست کو غیر قانونی قرار دے چکا ہے۔ اس کے باوجود نہ فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے کیے گئے اور نہ شفاف عدالتی رسائی دی گئی۔ عدالتوں کو جیل کے اندر منتقل کر کے عوام، میڈیا، فیملی اور پارٹی رہنماؤں کی رسائی تقریباً ختم کر دینا انصاف کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔عمران خان کی اپنے ذاتی معالج سے آخری ملاقات نومبر 2024 میں ہوئی، فیملی سے ملاقات ڈھائی ماہ سے معطل ہے اور سیاسی رفقاء سے ملاقات کو ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ ایسے حالات میں “بہترین سہولیات” کا دعویٰ نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ حقیقت کا تمسخر بھی ہے۔تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان حکومت کو خبردار کرتی ہے کہ سچ کو دبانے، حقائق کو توڑنے مروڑنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپانے کی ہر کوشش تاریخ کے کٹہرے میں کھڑی ہو گی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر: 1. عمران خان کو ان کے ذاتی معالج تک بلا رکاوٹ رسائی دی جائے۔ 2. فیملی اور قانونی ٹیم سے ملاقاتیں بحال کی جائیں۔ 3. قیدِ تنہائی کا خاتمہ کیا جائے۔ 4. شفاف اور کھلی عدالتی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔قوم سب دیکھ رہی ہے۔ سچ کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، دفن نہیں کیا جا سکتا
سوئی ناردرن گیس کمپنی نے رمضان المبارک میں گیس کا شیڈول جاری کر دیا۔ایس این جی پی ایل کے شیڈول کے مطابق رمضان المبارک میں سحر و افطار کے اوقات میں گیس بلاتعطل فراہم کی جائے گی۔شیڈول کے مطابق صبح 3 بجے سے رات 10 بجے تک گیس کی فراہمی جاری رہے گی سحر اور افطار کے دوران صارفین کو گیس فل پریشر پر دی جائے گی۔ترجمان سوئی ناردرن گیس کمپنی کا کہنا ہے کہ کم پریشر کی صورت میں صارفین کمپنی کہ ہیلپ لائن 1199 پر رابطہ کریں
صدر مملکت آصف علی زرداری کا بانی پی ٹی آئی کو’’ خواتین کی طرح رونے‘‘ کا طعنہ دینا افسوسناک اور قابل مذمت ہے:محمد علی درانی یہ بیان محترمہ بے نظیر بھٹو شہید، بیگم نصرت بھٹو، بیگم کلثوم ، مریم نوازشریف، محترمہ فاطمہ جناح کی بہادری، سیاسی جدوجہداورکروڑوں پاکستانی خواتین کے عزم وہمت کی توہین ہےصدر آصف زراری کو اپنے یہ الفاظ واپس لے کر قوم کی خواتین سے معافی مانگنی چاہیے یہ بیان اور گفتگو کا انداز بلوچ روایات کے مطابق ہے نہ ہی وفاق پاکستان کی علامت، صدرمملکت کے آئینی عہدے کے شایانِ شان ہےحکومت کی طرح بانی پی ٹی آئی کی فیملی اور پارٹی کو بھی صحت اور علاج کے معاملے میں سیاست نہیں کرنی چاہیے علاج کرانا قانون کے تحت حکومت کی ذمہ داری ہے، علاج کے لئے کہیں بھی جانا ڈیل نہیںسینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی کا انٹرویو میں اظہار خیال اسلام آباد:17 فروری سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کا بانی پی ٹی آئی کو’’ خواتین کی طرح رونے‘‘ کا طعنہ دینا افسوسناک اور قابل مذمت ہے، یہ بیان محترمہ بے نظیر بھٹو شہید، بیگم نصرت بھٹو، بیگم کلثوم ، مریم نوازشریف، محترمہ فاطمہ جناح کی بہادری، سیاسی جدوجہداورکروڑوں پاکستانی خواتین کے عزم وہمت کی توہین ہے، انہیں اپنے یہ الفاظ واپس لے کر قوم کی خواتین سے معافی مانگنی چاہیے۔ ایک انٹرویو میں سینئر سیاستدان نے کہا کہ یہ بیان اور گفتگو کا انداز بلوچ روایات کے مطابق ہے نہ ہی وفاق پاکستان کی علامت، صدرمملکت کے آئینی عہدے کے شایانِ شان ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی خواتین سیاستدانوں نے جدوجہد اور بہادری کی بے مثال داستان لکھی ہے۔ وہ ایسے مواقع پر میدان میں نکلیں جب بڑے بڑے مرد میدان سے غائب ہوگئے تھے۔ اسی طرح ہماری مائیں، بہنیں، بیٹیاں معاشرے میں عزم وہمت کی مثال ہیں۔ وہ اپنی قربانیوں اور بہادری سے ایسے ایسے کارنامے انجام دے چکی ہیں جن پر مرد ہی نہیں پورا معاشرہ فخر کرسکتا ہے لہذا یہ بیان نہایت ہی نامناسب ہے۔ ایک سوال پر محمد علی درانی نے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کے شریک چئیرمین صدر آصف علی زرداری کو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی برسی کے موقع پر آرڈر دیا تھا کہ وہ سیاسی مفاہمت کے لئے کردار ادا کریں۔ پارٹی چئیرمین کی اس ہدایت پر صدر زرداری نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے میں کوئی مفاہمانہ کردار ادا کیا ہے، یا کرنے جا رہے ہیں یا کر سکتے ہیں تو یہ پارٹی چئیرمین کے حکم کی پاسداری ہے۔
میری رائے میں صدر آصف زرداری کو پارٹی چئیرمین کے آرڈر کو ماننا چاہیے۔ ایک اور سوال پر سینئر سیاستدان محمد علی درانی نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کا خیال رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو بانی پی ٹی آئی کی فیملی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں ازخود اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے بہترین علاج فراہم کرنا چاہیے اور جس ہسپتال لیجانا پڑے، ضرور لے کر جانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ بیماری پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ اس معاملے میں حکومت اپنے موقف اور طرز عمل میں تبدیلی لائی ہے ، جو اچھی بات ہے۔انہوں نے کہاکہ علاج کے لئے بیرون ملک جانا ڈیل نہیں ۔کسی بھی بیمار کا انسانی بنیادوں پرعلاج کرانا حکومت کی قانونی ذمہ داری ہے۔ اس پر مذاق ہونا چاہیے نہ ہی ڈیل کی پھبتیاں کسی جانی چاہیں۔ ایک اور سوال پر محمد علی درانی نے کہاکہ فیملی میں عمران خان خود، اُن کی اہلیہ بشری بی بی اور اُن کے بیٹے شامل ہیں۔ اِن سے ہی کنسلٹ ہونا چاہیے۔جس طرح میں صحت اور علاج کے معاملے میں حکومت سے کہتا رہا ہوں کہ وہ سیاست نہ کرے اسی طرح بانی پی ٹی آئی کی فیملی اور پارٹی کے لوگوں کو بھی اس معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے ۔ ********
الیکشن کمیشن میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف کیس کی سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔۔۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ ہوا۔ علی بخاری نے مؤقف اپنایا کہ وہ پہلے ہی تفصیلی دلائل دے چکے ہیں اور آج درخواست گزار اور کمیشن کے وکلاء کے سوالات کے جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن نے کبھی پی ٹی آئی کے حق میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، جبکہ کمیشن کے وکیل کے مطابق سہیل آفریدی کی رکنیت معطل ہو سکتی ہے۔ اس پر علی بخاری نے کہا کہ معطلی کی اتنی جلدی کیا ہے اور یاد دلایا کہ پشاور ہائیکورٹ نے سہیل آفریدی کے خلاف کسی بھی آرڈر سے کمیشن کو روک رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اختیار نہیں کہ ڈی ایم او کی کارروائی کے ساتھ خود بھی کارروائی کرے کیونکہ ڈی ایم او کو خود کمیشن نے مقرر کر کے کارروائی کی اجازت دی۔علی بخاری نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ڈی ایم او کی کارروائی شروع ہوتے ہی کمیشن خود نوٹس لے اور یہ بھی کہا کہ واقعہ ہری پور میں پیش نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی اور ضلع میں خطاب پر نوٹس لینا ہے تو وزیراعظم کو بھی بلایا جائے۔ ممبر سندھ الیکشن کمیشن نے ریمارکس دیے کہ یہ کیس صرف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نہیں بلکہ دھمکانے کا بھی ہے۔ علی بخاری نے جواب دیا کہ ان کے موکل نے ضابطہ اخلاق کے کسی نکتے کی خلاف ورزی نہیں کی اور اگر کارروائی کرنی ہے تو وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف دائر درخواست پر بھی کی جاتی۔ چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا اپنی درخواست مسترد کرنے کے کمیشن کے آرڈر کو چیلنج کیا گیا، جس پر علی بخاری نے کہا کہ انہوں نے چیلنج نہیں کیا بلکہ اس آرڈر کو مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی مثال اس کیس سے مماثلت نہیں رکھتی اور درخواست مسترد ہونے کے خلاف اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ علی بخاری نے کہا کہ سہیل آفریدی نے عوامی اجتماع میں سیاسی خطاب کیا اور انتظامیہ یا عملے کو نہیں دھمکایا۔ چیف الیکشن کمشنر نے سوال اٹھایا کہ عوامی اجتماع ہو یا بند کمرہ، وہ بطور وزیر اعلیٰ ہی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ ممبر کے پی کے نے استفسار کیا کہ کیا یہ دھمکی نہیں بلکہ بددعا تھی۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کمیشن نے پی ٹی آئی ارکان کے ڈفیکشن کیس میں جماعت کے حق میں بھی فیصلہ دیا تھا۔ دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
برطرف جوان اپیل کریں ۔ آئی جی پی گلگت بلتستان ڈاکٹر اکبر ناصر خان کا دورہ پولیس ٹریننگ کالج گلگت، پولیس دربار سے خطاب ۔ دربار میں گلگت بلتستان پولیس کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افسران و جوانوں نے شرکت کی۔ قانون کی عملداری پیشہ ورانہ عزم و جذبے کی آبیاری اور پاسداری کے علاوہ میرٹ کی بالادستی پر زور۔ پولیس افسران کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس گلگت بلتستان ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے کہا ہے کہ خطے میں قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور اس معاملے میں کسی قسم کی لیت و لعل ناقابلِ برداشت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے وردی پہن کر حلف اٹھایا ہے، لہٰذا ان پر ملک و قوم کی خدمت اور مفادات کی روشنی میں نہ صرف مقامی بلکہ ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی خدمات انجام دینے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پولیس ٹریننگ کالج میں جوانوں اور افسران کے دربار سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پی نے مزید کہا کہ ذاتی مفادات اور ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر ہو کر عوام کی خدمت کو شعار بنایا جائے، کیونکہ یہی اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریات اور محکمانہ وقار کو برقرار رکھتے ہوئے پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنا ہر اہلکار کا فرض ہے
۔انہوں نے مزید کہا کہ آئین پاکستان کے تحت پولیس فورس کے کندھوں پر اہم ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں، جنہیں ایمانداری اور جذبۂ حب الوطنی کے ساتھ بہترین انداز میں نبھانا ہوگا۔ آئی جی پی نے واضح کیا کہ پروموشن، پوسٹنگ، ٹرانسفرز، روٹیشن پالیسی اور ریکروٹمنٹ کے دوران میرٹ پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ محکمے میں revemping کا عمل شروع ہوچکا ہے انشاء اللہ اسں کے بہتر ثمرات دیکھنے کو ملیں گے۔ اس کے علاوہ پولیس فورس میں digitalization کے عمل کو پائیہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ سیف سٹی پراجیکٹ کو وسعت دیکر مذید فعال بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سزا و جزا کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا جبکہ خطے سے دہشت گردی، منشیات اور دیگر جرائم کے خاتمے کیلئے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں پولیس ہیڈکوارٹرز نفری اور دیگر ضروریات ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی پوسٹوں کی تشہیر کے بعد جلد ریکروٹمنٹ کا عمل شروع کیا جائے گا۔آئی جی پی نے کہا کہ انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ کارکردگی کا براہِ راست تعلق وسائل کی دستیابی سے ہے، اسی لیے پولیس کو درپیش مشکلات کے حل کیلئے کیس متعلقہ محکموں کو بھجوا دیا گیا ہے۔ ڈسپلن کی خلاف ورزی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ متاثرہ جوان اپنے متعلقہ افسران کے پاس اپیل جمع کروائیں، جن پر نظرثانی کی جائے گی۔دربار میں ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز نوید احمد نثار خواجہ، ڈی آئی جی انویسٹیگیشن فرمان علی، ڈی آئی جی گلگت رینج راجہ مرزا حسن، ڈی آئی جی دیامر/استور رینج فروغ رشید، ڈی آئی جی بلتستان رینج طفیل احمد میر، ڈی آئی جی آپریشنز آصف اقبال مہمند، ڈی آئی جی سپیشل برانچ سلطان فیصل، کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج طاہرہ یعسوب سمیت تمام اضلاع و یونٹ برانچز کے کے ایس ایس پیز، ایس ڈی پی اوز، ایس ایچ اوز اور جوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔قبل ازیں، انسپکٹر جنرل آف پولیس گلگت بلتستان ڈاکٹر اکبر ناصر خان جب اپنے پہلی دورے پر پولیس ٹریننگ کالج پہنچے تو ڈی آئی جی پولیس ہیڈکوارٹرز نوید احمد نثار خواجہ اور کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج نے ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں پولیس کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔
پاکستان کا مسئلہ کشمیر کے حل، مضبوط کثیرالجہتی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات پر زورچیئرمین سینیٹ کی قیادت میں پاکستانی پارلیمانی وفد کی صدر جنرل اسمبلی سے ملاقات چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں پاکستان کے اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے سالانہ آئی پی یو پارلیمانی سماعت 2026 کے موقع پر اقوام متحدہ کے صدر جنرل اسمبلی محترمہ اینالینا بیئربوک سے اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر میں ملاقات کی۔چیئرمین سینیٹ نے اقوام متحدہ کو کثیرالجہتی تعاون کے مرکزی ستون کے طور پر پاکستان کی غیر متزلزل اور اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔پاکستان کی ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور تنازعات کے پُرامن حل کی دیرینہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے بتایا کہ بھارت نے مزید عدم استحکام پیدا کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا ہے۔ ان کے بقول یہ اقدام معاہدے کی شقوں اور سرحد پار آبی وسائل سے متعلق بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات 24 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں اور معاش پر سنگین اثرات ڈال سکتے ہیں اور خطرناک مثالیں قائم کرتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب موسمیاتی دباؤ اور پانی کی قلت باہمی تعاون اور بین الاقوامی معاہدوں کے سخت احترام کا تقاضا کرتے ہیں۔صدر جنرل اسمبلی کی توجہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے خطرات کی جانب مبذول کراتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے، القاعدہ، داعش خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے) اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین کو بلا روک ٹوک پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کے عوام بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے مشن کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ متعدد اور باہم جڑے عالمی بحرانوں کے اس دور میں کثیرالجہتی نظام کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں، جن میں اقوام متحدہ کے منشور کی مسلسل خلاف ورزیاں اور طویل عرصے سے زیر التوا سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عدم عملدرآمد شامل ہے۔بین الاقوامی قانون اور قائم شدہ قانونی ضوابط کی پاسداری میں مجموعی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے خبردار کیا کہ یہ رجحانات عالمی نظام کو کمزور کر رہے ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک، جو عالمی حدت میں معمولی حصہ ڈالتے ہیں، اس کے شدید اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اجتماعی اقدام، موسمیاتی انصاف اور مضبوط بین الاقوامی تعاون کی فوری ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ ان باہم مربوط چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک ناگزیر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔اس موقع پر صدر جنرل اسمبلی اینالینا بیئربوک نے پاکستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر حکومت اور عوامِ پاکستان سے تعزیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفود کے ساتھ ان کی پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔پاکستانی پارلیمانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے آئی پی یو سالانہ سماعت میں سینئر قانون سازوں کی اعلیٰ سطحی شرکت کو سراہا اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے قابلِ تحسین کردار کی تعریف کی۔ملاقات میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر فاروق ایچ نائیک، سینیٹر محمد عبدالقادر اور سینیٹر سید فیصل علی سبزواری بھی شریک تھے۔
مرد حر ۔اظہر سیدپاکستان کی تاریخ میں جو جبر ،قہر اور ریاستی ظلم آصف علی زرداری نے سہا کوئی سیاسی قیدی قریب بھی نہیں پھٹکتا ۔بھری جوانی جیلوں میں گزار دی ۔بچوں کو بچپن میں باپ کی شفقت نہیں دے سکا ۔مالکوں سے لڑنے والی اہلیہ کو جھکانے کیلئے خود پر ہوئے ظلم پامردی سے برادشت کئے ۔آصف علی زرداری نے کچھ نہیں کیا صرف سیاست کی ہے جو کبھی میاں نواز شریف نے عدالت میں کالا کوٹ پہن کر کی یا پھر زبان کاٹنے کیلئے مخصوص انسپکٹر کو بھیجنے والے کو مقبول کو نواز کر کی ۔آصف علی زرداری نے وہی سیاست کی جب میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے والوں نے اس وقت کی جب زرداری نے جنرل راحیل کو للکارا تو کہیں سے سیاسی مدد نہیں ملی ۔میاں نواز شریف نے اٹک جیل میں اور میاں شہباز شریف ،حمزہ شہباز اور مریم نواز نے نیب کی قید میں ان مشکلات کا سامنا نہیں کیا جن کو سامنا سالوں آصف علی زرداری نے کیا ۔شہباز شریف کی صورت میاں نواز شریف کو گڈ کاپ کی سہولت ہمیشہ حاصل رہی لیکن آصف علی زرداری کے پاس یہ سہولت کبھی نہیں رہی ۔گڈ کاپ بھی خود بننا پڑا اور بیڈ کاپ بھی ۔سینٹ الیکشن میں اپنے حصہ سے زیادہ سیٹیں لینا وہی جرم ہے جو سیاسی حریف اور حلیف ہمیشہ کرتے آئے ہیں ۔بلوچستان حکومت گرانے میں آصف علی زرداری کا کردار جمہوریت کش تھا تو اس طرح کے اقدامات سیاسی حریف اور حلیف ہمیشہ کرتے آئے ہیں۔ہائی برڈ نظام کو اپنانا اگر جرم ہے تو مسلم لیگ ن بھی شریک جرم ہے ۔آصف علی زرداری کے کریڈٹ میں اٹھارویں ترمیم ایسا نیا سوشل کنٹریکٹ بھی ہے جس سے مالکان آج تک عاجز ہیں ۔سنگاپور پورٹ سے گوادر پورٹ واپس لے کر چینی کمپنی کو دیا براہ راست عالمی طاقت امریکہ کو آنکھیں دکھانا اور پاکستان کے مفاد کو ترجیح دینا تھا۔ایران گیس پائپ لائین پر دستخط کرنا بیک وقت امریکہ اور سعودی عرب کو چیلنج کرنا تھا۔آصف علی زرداری نے تحریک انصاف کو بطور سیاسی جماعت بچانے کی بہت کوشش کی ۔عمران خان کو سیاسی مفاہمت پر لانے کی کوشش کی جسے خود ہوا کے گھوڑے پر سوار خچر نے مسترد کر دیا تھا ۔آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کو بچایا اور مالکوں سے جمہوریت چھیننے کی بھی ہمیشہ کوشش کی ۔اس وقت آصف علی زرداری اگر بلاول بھٹو کی وزارت عظمیٰ کیلئے راہیں تلاش کر رہے ہیں تو یہی حق میاں نواز شریف نے بھی مریم نواز کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر بٹھا کر استعمال کیا ۔میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری دونوں محبت وطن ہیں ۔دونوں اسٹیٹس مین بن چکے ہیں ۔اس وقت طاقت کی ٹرائیکا عاصم منیر ،شہباز شریف اور آصف علی زرداری سارے مل کر پاکستان کی ترقی اور استحکام کیلئے کوشاں ہیں اور ماضی کی گندگی صاف کر رہے ہیں ۔
لطیف کھوسہ کا عمران خان کی میڈیکل رپورٹ دینے کیلئے چیف جسٹس یحیی خان آفریدی کو خط ۔۔ الشفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم بھی جاری کرنے کی استدعاخط میں کہا بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم کو معائنے کی اجازت دی جائے،بانی پی ٹی آئی کو الشفاء ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائےلطیف کھوسہ نے خط میں کہا عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ ہوا لیکن اہلخانہ کو لاعلم رکھا گیابولے دعویٰ کیا گیا کہ اہلخانہ اور پارٹی قائدین کو بلایا گیا لیکن وہ نہیں آئے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کے اہلخانہ اور پارٹی قیادت کو طبی معائنے کے وقت بلانے کا دعویٰ بالکل غلط ہے،اہلخانہ کو آگاہ کیے بغیر خفیہ طبی معائنے نے کئی خدشات کو جنم دیا ہے،طبی معاملے سے اہلخانہ کو باہر رکھنے سے پریشانی اور خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے
سولر صارفین کے لیے اچھی خبر نیپرا کا پرانے سولرصارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ نیپرا نے سولر پالیسی 2026میں ترمیمی مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا نیپرا اتھارٹی نے شراکت داروں سے تیس روز میں تجاویز مانگ لیں ترامیم کا اطلاق 9 فروری 2026 سے کیا جائے گا۔ نوٹیفکیش
“ہر خواب ہے ممکن”یونیورسٹی آف گجرات کی طالبہ کا سی ایم کو منظوم خراج تحسین “سی ایم تے بوہتا احسان کر چھڈیا ۔ پریشان لوگو نو حیران کر چھڈیا””اینیاں کرائیاں صفایاں پنجاب وچ، پنڈاں نو ملتان تے لاہور کر چھڈیا۔” یونیورسٹی آف گجرات میںوزیراعلی مریم نواز شریف کی یونیورسٹی آف گجرات امد۔ طلبہ نے پرتپاک استقبال کیا وزیراعلی مریم نواز شریف نے تقریب میں وزرا اور ارکان اسمبلی سے نشستوں پر جا کر سلام کیا وزیراعلی مریم نواز شریف طا لبات کے درمیان بیٹھ گئیںوزیراعلی مریم نواز شریف نے طلبہ کی درخواست پر سٹیج پر جاکر ساتھ قومی ترانہ پڑھا وزیراعلی مریم نواز شریف نے طلبہ کے ساتھ” اے راہ حق کے شہیدو “” سوہنی دھرتی “ملی نغمہ گائےاور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا یونیورسٹی آف گجرات کی طالبہ نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف سے پر جوش معانقہ کیا یونیورسٹی طلبہ نے پر اثر ملی نغمہ پیش کیاطلبہ کے اعزاز میں لیڈیز پولیس کے چاق وچوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ پولیس بینڈ نے مدھر سر بکھیرے تقریب میں “جرنی آف لیپ ٹاپ ” پر ڈاکومینٹری پیش کی گئی وزیراعلی مریم نواز شریف نے لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالرشپ کے چیک تقسیم کیےطلبہ نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو پینٹنگز اور سکچ پیش کیا ،وزیراعلی مریم نواز شریف کا اظہار شفقت طالبات نے اصرار کرکے وزیراعلی مریم نواز شریف کے ساتھ تصاویر بنوائیں صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالرشپ پر بریفنگ دی گوجرانولہ ڈویژن کے 2904 طلبہ کے لئے لیپ ٹاپ اور 843 ہونہار سکالرشپ یونیورسٹی آف گجرات کے 846 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 268 طلبہ کو ہونہار سکالرشپ مل گئے نواز شریف میڈیکل کالج گجرات کے 47 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 9 کےلئے ہونہار سکالرشپ گورنمنٹ کالج وویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کےلئے 512 طالبات کو لیپ ٹاپ ور 160 ہونہار سکالرشپ یونیورسٹی آف ناروال کے 281 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 90 کے لئے ہونہار سکالرشپ پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی رسول منڈی بہاوالدین کے 12 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 6 طلبہ کو ہونہار سکالرشپ مل گئے گوجرانوالہ میڈیکل کالج کے 83 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 28 طلبہ کےلئے ہونہار سکالرشپ خواجہ محمد صفدر میڈیکل کالج سیالکوٹ کے 98 طلبہ کے لئے 98 لیپ ٹاپ اور 66 ہونہار سکالرشپ سرکاری کالجز کے 1025 طلبہ کو لیپ ٹاپ اور 216 طلبہ کو ہونہار سکالرشپ مل گئے ہونہار سکالرشپ کے پہلے مرحلے میں 30 ہزار طلبہ اور فیز ٹو میں آٹھ ویں سمسٹر تک کے طلبہ کو 20 ہزار ہونہار سکالرشپ مل رہے ہیں
انتباہ ⚠️*جعلی رمضان پیکج لنکس سے ہوشیار رہیں ،*سوشل میڈیا اور WhatsApp پر کچھ پیغامات گردش کر رہے ہیں جو 12,000 یا 20,000 روپے کا رمضان پیکج دینے کا دعویٰ کرتے ہیں ،ہرگز ایسے لنکس پر کلک نہ کریں ،یہ جعلی اور فراڈ ہیں ،خطرات: موبائل ہیک، ذاتی معلومات چوری، WhatsApp فراڈ، بینک رقم نکلنا، وائرس کا خطرہ ۔ہدایات:• غیر معروف لنکس پر کلک نہ کریں• ذاتی معلومات شیئر نہ کریں• جعلی میسجز فوراً ڈیلیٹ کریں اور دوسروں کو آگاہ کریں ۔یاد رکھیں: حکومت یا مستند ادارے اس طرح کے لنکس کبھی نہیں بھیجتے ۔
انتباہ ⚠️*جعلی رمضان پیکج لنکس سے ہوشیار رہیں ،*سوشل میڈیا اور WhatsApp پر کچھ پیغامات گردش کر رہے ہیں جو 12,000 یا 20,000 روپے کا رمضان پیکج دینے کا دعویٰ کرتے ہیں ،ہرگز ایسے لنکس پر کلک نہ کریں ،یہ جعلی اور فراڈ ہیں ،خطرات: موبائل ہیک، ذاتی معلومات چوری، WhatsApp فراڈ، بینک رقم نکلنا، وائرس کا خطرہ ۔ہدایات:• غیر معروف لنکس پر کلک نہ کریں• ذاتی معلومات شیئر نہ کریں• جعلی میسجز فوراً ڈیلیٹ کریں اور دوسروں کو آگاہ کریں ۔یاد رکھیں: حکومت یا مستند ادارے اس طرح کے لنکس کبھی نہیں بھیجتے ۔
نئی کابینہ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے 13 ممالک کے سربراہان حکومت کو مدعو کیا ہے۔اب تک مدعو ممالک کی فہرست میں چین، سعودی عرب، ہندوستان، پاکستان، ترکی، متحدہ عرب امارات، قطر، ملائیشیا، برونائی، سری لنکا، نیپال، مالدیپ اور بھوٹان شامل ہیں۔17 فروری کو تقریب حلف برداری ہونی ہے ۔ جس کیلئے سب سے پہلے ہندوستان کی لوک سبھا (پارلیمنٹ) کے اسپیکر اوم برلا اور سکریٹری خارجہ وکرم مصری ‛ طارق رحمان کی وزارت عظمی کی حلف برداری میں ہندوستان کی نمائندگی کریں گے۔ادھر سے مدعو ہوئے ادھر سے فوراً نام دے دیئے گئے ۔ گویا انڈیا راہ تک رہا تھا کہ سانوں بلاؤ