#یوم #تاسیس🇸🇦سعودی عرب میں “یومِ تاسیس” (Founding Day) ہر سال 22 فروری کو منایا جاتا ہے، جس کا مقصد 1727ء میں امام محمد بن سعود کے ہاتھوں پہلی سعودی ریاست کا قیام

#یوم #تاسیس🇸🇦سعودی عرب میں “یومِ تاسیس” (Founding Day) ہر سال 22 فروری کو منایا جاتا ہے، جس کا مقصد 1727ء میں امام محمد بن سعود کے ہاتھوں پہلی سعودی ریاست کا قیام اور 300 سالہ تاریخی، ثقافتی اور ملی ورثے کو یاد کرنا ہے۔ یہ دن مملکت کی بنیاد، استحکام اور 3 صدیوں پر محیط سفر کو اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ تاریخی پس منظر: 22 فروری 1727ء (1139ھ) کو امام محمد بن سعود نے درعیہ میں پہلی سعودی ریاست کی بنیاد رکھی تھی۔شاہی فرمان: یہ دن (22 فروری) شاہی فرمان کے تحت سرکاری طور پر منایا جاتا ہے، جو 23 ستمبر کے “قومی دن” (National Day) سے الگ ہے، جو 1932ء میں مملکت کے اتحاد کی یاد میں منایا جاتا ہےمقصد: اس دن کو منانے کا مقصد سعودی عوام، خاص طور پر نوجوان نسل کو ان کی ریاست کی ابتدائی تاریخ، جدوجہد اور ورثے سے روشناس کرانا ہے اس دن سعودی عرب بھر میں ثقافتی تقریبات، تاریخی نمائشیں اور جشن کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں، اور یہ ایک سرکاری تعطیل کا دن ہے۔ سعودی عرب کا یوم تاسیس، مملکت کی 300 سالہ تاریخ توجہ کا محور

افغانستان میں فضائی آپریشن کمانڈر اختر ھلاک

پاکستان کا افغانستان میں فضائی آپریشن،کمانڈر اختر محمد سمیت متعدد دھشت گرد ہلاککابل:پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر افغانستان کے مشرقی علاقوں میں بڑا انٹیلی جنس بیسڈ فضائی آپریشن کرتے ہوئے شدت پسندوں کے سات اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں طالبان کمانڈر اختر محمد سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ذرائع کے مطابق صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں جیٹ طیاروں نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر درست نشانہ لگایا، جہاں زوردار دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں۔ کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے استعمال میں آنے والی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق پکتیکا کے بعد ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں بھی فضائی کارروائی کی گئی، جہاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور مبینہ تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔افغانستان کے مرغہ علاقے میں واقع بنوسی مدرسہ میں دھماکے سے 10 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ علاقہ کمانڈر خارجی اختر محمد مرکز سے منسلک ہے۔ننگرہار جلال آباد کے ضلع کامی میں بھی دو اہداف جیٹ طیاروں سے کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا لیے گئے ہیں جبکہ شاہینوں کی پروازیں بد ستور جاری ہیں۔افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے علاقے بر مل میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر دھماکوں کے نتیجے میں کئی دہشت گروں کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان کمانڈر اختر محمد پکتیا میں مارا گیا۔افغانستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی جس میں دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر تباہ ہوگیا

ملک میں غربت تشویش ناک 12 کروڑ عوام 2 وقت کی روٹی سے مجبور۔افغانستان میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے:۔۔صفحہ پھٹ گیا سب کچھ ختم۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پاکستان کی مسلح افواج نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں فت/نہ الخو/ارج کے ٹھکانوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی انجام دی۔ کارروائی میں سات اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ف/تنہ الخو/ارج، اس کے اتحادی اور داعش خراسان (ISKP) کے ٹھکانے شامل تھے۔ آپریشن انتہائی درستگی، مہارت اور پیشہ ورانہ انداز میں کیا گیا، جس کے نتیجے میں 140 سے زائد دہش/تگ/رد ہلاک ہوئے۔یہ کارروائی ملکی اور علاقائی امن کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور عوام کی حفاظت ہر صورت یقینی بنائے گا۔

گیاری سیکٹر ھم نے کیا کھویا کیا پایا 14 سال گزر گئے ھم نے سب کچھ کھو دیا

گیاری سیکٹر 2012 — جب برف نے 140 سپاہیوں کو خاموشی سے اپنی آغوش میں لے لیاسیاچن کی برف ہمیشہ سے سرد رہی ہے، مگر 7 اپریل 2012 کی صبح اس کی سردی میں ایک عجیب سی خاموشی شامل تھی۔ یہ خاموشی عام نہیں تھی… یہ کسی آنے والے سانحے کی خاموشی تھی۔تحریر : Kashif Ali گیاری سیکٹر میں تعینات پاکستانی فوجی اپنی ڈیوٹی پر موجود تھے۔ یہ وہ سپاہی تھے جو دنیا کے سب سے سرد اور بلند محاذ پر اپنے وطن کی حفاظت کر رہے تھے۔ برف سے ڈھکی چوٹیوں کے درمیان ان کی چھوٹی سی چوکی ان کا گھر بن چکی تھی۔وہ اپنے خاندانوں سے دور تھے، مگر ان کے دلوں میں ایک سکون تھا… کیونکہ وہ اپنے فرض پر تھے۔اس صبح کچھ سپاہی چائے بنا رہے تھے۔ کچھ اپنے ساتھیوں کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔ کسی نے شاید اپنے گھر کے بارے میں سوچا ہوگا، کسی نے اپنے بچوں کی مسکراہٹ کو یاد کیا ہوگا۔انہیں کیا معلوم تھا کہ چند لمحوں بعد وقت رک جائے گا۔اچانک زمین نے ایک عجیب سی آواز نکالی۔یہ آواز دھماکے جیسی نہیں تھی… بلکہ ایک گہری، بھاری گرج تھی۔پہاڑ ہلنے لگا۔سپاہیوں کو کچھ سمجھنے کا موقع بھی نہیں ملا کہ ایک بہت بڑا برفانی تودہ ان کی چوکی کی طرف بڑھنے لگا۔ وہ برف جو صدیوں سے پہاڑ پر خاموش کھڑی تھی، اچانک زندہ ہو گئی تھی۔چند سیکنڈ…صرف چند سیکنڈ میں، سب کچھ ختم ہوگیا۔ہزاروں ٹن وزنی برف چوکی پر آ گری۔ ٹینٹ، سامان، اور وہاں موجود تمام سپاہی اس کے نیچے دب گئے۔ہر چیز سفید ہو گئی۔کوئی آواز نہیں تھی۔ کوئی چیخ نہیں تھی۔ صرف برف تھی… اور خاموشی۔نیچے دبے ہوئے سپاہیوں کو شاید آخری لمحوں میں اپنے پیاروں کا خیال آیا ہوگا۔ کسی نے اپنی ماں کو یاد کیا ہوگا، کسی نے اپنی بیوی کو، اور کسی نے اپنے بچوں کو۔مگر اس برف نے کسی کو موقع نہیں دیا۔جب خبر نیچے پہنچی، تو پورے پاکستان میں ایک غم کی لہر دوڑ گئی۔ریسکیو ٹیمیں فوراً روانہ ہوئیں۔ انہوں نے دن رات برف کو ہٹانے کی کوشش کی۔ شدید سردی، برفانی ہوائیں، اور مشکل حالات کے باوجود، وہ امید کے ساتھ کام کرتے رہے۔ہر کوئی ایک معجزے کا انتظار کر رہا تھا۔ہر کوئی امید کر رہا تھا کہ شاید کوئی زندہ مل جائے۔مگر دن گزرتے گئے…اور برف نے اپنی خاموشی برقرار رکھی۔ایک ایک کرکے لاشیں نکالی گئیں۔

ہر لاش ایک کہانی تھی۔ ایک بیٹا، ایک باپ، ایک بھائی… جو اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔پاکستان کے مختلف شہروں میں گھروں کے دروازے کھلے، مگر اس بار خوشی نہیں، بلکہ غم آیا۔ایک ماں اپنے بیٹے کی تصویر کو دیکھتی رہی۔ ایک بیوی اپنے شوہر کی واپسی کا انتظار کرتی رہی، مگر اب وہ انتظار ہمیشہ کے لیے ادھورا رہنے والا تھا۔یہ جنگ نہیں تھی، مگر یہ نقصان کسی جنگ سے کم بھی نہیں تھا۔گیاری سیکٹر آج بھی وہاں ہے۔ برف آج بھی وہاں موجود ہے۔ مگر اس برف کے نیچے ایک ایسی کہانی دفن ہے جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔یہ کہانی ہے ان سپاہیوں کی…جو گولی سے نہیں، بلکہ برف کی خاموشی سے شہید ہوئے۔اور شاید سیاچن کی ہوائیں آج بھی ان کے نام سرگوشی کرتی ہیں۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی وفات کے بعد صدر ریاست کا انتخاب 53 کے ارکان میں سے پیپلز پارٹی کی حکومت کو صدر بنانے کیلئے سادہ اکثریت (27) ارکان کی ووٹ کی ضرورت ہے جبکہ صدر کی معزولیِ کے لیے صدر دو تہائی اکثریت (36) کے ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی وفات کے بعد صدر ریاست کا انتخاب 53 کے ارکان میں سے پیپلز پارٹی کی حکومت کو صدر بنانے کیلئے سادہ اکثریت (27) ارکان کی ووٹ کی ضرورت ہے جبکہ صدر کی معزولیِ کے لیے صدر دو تہائی اکثریت (36) کے ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے پیپلز پارٹی چاہتی ہے حکومت ہماری صدر بھی ہمارا ہونا چاہئے جبکہ ن لیگ کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا صدد کسی صورت نہیں بن سکتا پیپلز پارٹی کے پاس سادہ اکثریت نہیں جبکہ دوسری جانب دیکھا جائے تو متحدہ اپوزیشن کے پاس بھی سادہ اکثریت نہیں ن لیگ کی مرضی ہے صدر کا انتخاب آمدہ الیکشن کے بعد ہو جبکہ حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ موجودہ حکومت کی مدت کے دوران ہی صدر کا انتخاب ہو جائے الیکشن کے بعد اگر ن لیگ حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے پھر ن لیگ کو صدر کی معزولی صدر کو ہٹانے کیلئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی صدر بنانے میں سادہ اکثریت اب ن لیگ آمدہ انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کر سکے گی یا نہیں یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟ اگر پیپلز پارٹی موجودہ حالات میں اپنا صدر بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے پھر آنے والی حکومت اگر کسی دوسری جماعت کی بن جاتی ہے اسکو صدر کو ہٹانے کیلئے مشکلات ضرور ہونگی کیونکہ بظاہر کوئی جماعت انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرتے دکھائی نہیں دیتی حکومت بنانے کیلئے سادہ اکثریت کسی جماعت کو حاصل ہو جائے دو تہائی اکثریت حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے فیصلہ اسلام آباد میں بیٹھی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی اعلی سطح قیادت نے کرنا ہے آزادکشمیر میں انکی جماعت کے ممبران نے فیصلے کو من عن سر خم تسلیم کرنا ہے

اقتدار کی راہداریوں سے لکھی گئی 32 سال کی کہانی سھیل رانا بادبان کی زبانی

اقتدار کی راہداریوں سے لکھی گئی 32 سال کی کہانی سھیل رانا بادبان کی زبانی

تاریخی شہر دہلی کے تہذیبی اور فکری منظرنامے پر آٹھ دہائیوں سے دو مسلم خاندانوں کی نمایاں چھاپ رہی ہے: دہلوی اور صدیقی۔محمد یوسف دہلوی کی قیادت میں دہلوی خاندان نے اپنے عہد کی سب سے اثرانگیز اردو مطبوعات پیش کیں۔ان کے بیٹوں یونس دہلوی، ادریس دہلوی اور الیاس دہلوی نے شمع، شبستان، بانو اور کھلونا جیسے رسائل جاری کیے، جنہوں نے برصغیر میں اردو کی مقبول ثقافت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔یونس دہلوی کی بیٹی سعدیہ دہلوی بعد میں ایک نمایاں مصنفہ اور تاریخ نویس کے طور پر ابھریں۔ لیکن ان کا عروج جتنا تیز تھا، زوال بھی اتنی ہی سرعت سے آیا۔ان کے آبائی علاقے لال کنواں کے دوسرے کنارے پر بلی ماران کا محلہ ہے، جہاں صدیقی خاندان آباد رہا۔دونوں محلوں کو گلی قاسم جان آپس میں جوڑتی ہے، جو معروف شاعر مرزا غالب کا مسکن بھی رہا۔اس خاندان کی قیادت مولانا عبدالوحید صدیقی کے ہاتھ میں تھی، جو ایک صحافی اور تحریک آزادی کے کارکن تھے۔انہوں نے ہما، ہدیٰ، پاکیزہ آنچل اور نئی دنیا جیسے کئی اردو رسائل جاری کیے۔ ہما کو کبھی ریڈرز ڈائجسٹ کا ہم پلہ سمجھا جاتا تھا۔شاہد صدیقی مرحوم مولانا وحید کے چھوٹے صاحبزادے ہیں۔دہلوی خاندان زیادہ تر صحافت اور اشاعت کے میدان تک محدود رہا، لیکن شاہد صدیقی نے صحافت، جماعتی سیاست، سفارت کاری تک سفر کیا۔ان کی انگریزی میں تحریر کرہ تصنیف آئی، وٹنیس: انڈیا فرام نہرو ٹو نریندر مودی بیک وقت خودنوشت اور سیاسی داستان ہے۔اور اس شخص کی ذاتی گواہی بھی، جس نے پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک صحافت، سیاست اور اقتدار کے ایوانوں کے درمیان سفر کیا۔ اس میں اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، پی وی نرسمہا راؤ، سونیا گاندھی، اٹل بہاری واجپائی اور یہاں تک کہ نریندر مودی سے ان کی ذاتی ملاقاتوں کا احوال شامل ہے۔لیکن طاقت کے قریب رہنے والے لوگوں کی یادداشتوں اور واقعاتی قصوں پر مبنی بہت سی کتابوں کی طرح یہ کتاب بھی قیمتی عینی واقعات سے مزین ہے۔ مگر مشتبہ دعوؤں، تضادات اور تاریخی لغزشوں کے درمیان جھولتی نظر آتی ہے۔خصوصاً کشمیر سے متعلق اقتباسات ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے مصنف نے پیچیدہ تاریخ کو سنی سنائی باتوں، پرانی رنجشوں اور بعد کی یقینی تشریحات کی بنیاد پر مرتب کیا ہو، جبکہ اب بہت سا ریکارڈ عام دسترس میں آ چکا ہے۔صفحہ 22 پر وہ مرکزی وزیر رفیع احمد قدوائی کا حوالہ دیتے ہیں، جو مبینہ طور پر اکتوبر 1947 میں وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو کشمیر میں فوج بھیجنے پر آمادہ کر رہے تھے۔ کتاب میں یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ نہرو فوج بھیجنے میں تذبذب کا شکار تھے اور قدوائی کی سخت وارننگ کے بعد ہی مہاراجہ ہری سنگھ کی استدعا کو قبول کرکے فوج بھیجی گئی۔ قدوائی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ انہوں نے نہرو کو کہا کہ مسلم اکثریتی وادی کشمیر ہندوستان کا حصہ نہ بنی تو یہ ‘دو قومی نظریے کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہوگا اور ہندوستان ایک ‘ہندو راشٹر’ بن جائے گا۔یہ ایک ڈرامائی منظرنامہ ہے جو ایک مخصوص سیکولرتصور کو خوش کرتا ہے: کشمیر کو ہندوستان کی تکثیری امید کی دلیل کے طور پر پیش کرنا، اور یہ کشمیری مسلمانوں کو ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک اخلاقی حصار یا ایک طرح سے یرغمال کے طور پر پیش کرنے جیسا ہے۔لیکن اب دستیاب دستاویزی شواہد اس بیانیے سے میل نہیں کھاتے ہیں۔ ریکارڈ بتاتے ہیں کہ مہاراجہ ہری سنگھ کی درخواست پر باضابطہ فوجی تعیناتی سے بہت پہلے نہرو واضح کر چکے تھے کہ وہ کشمیر کو اپنے پاس رکھیں گے۔گورداسپور کی تقسیم، پٹھانکوٹ کا ہندوستان کے حوالے ہونا تاکہ جموں و کشمیر سے زمینی ربط قائم ہو سکے، اور ستمبر میں نہرو کا گوپال سوامی آیانگر کو الحاق کی منظوری حاصل کرنے کے لیے کشمیر بھیجنا، یہ سب اب عوامی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ دراصل سردار پٹیل ہی ابتدا میں کشمیر کے ہندوستان سے الحاق کے لیے آمادہ نہیں تھے۔مزید یہ کہ اگر کشمیر کو ہندوستان کو ہندو اکثریتی ریاست بننے سے بچانے کے لیے رکھا گیا تھا تو سات دہائیوں بعد ہندوستان کی موجودہ صورت حال خود اس دعوے پر نظرثانی کا تقاضا کرتی ہے۔

ہندوتوا کی قوتوں نے کشمیر کے باوجود ہندوستان کو عملاً ایک ہندو راشٹر کی سمت دھکیل دیا ہے۔صفحہ 122 پر صدیقی 1983 کے جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہیں، جہاں فاروق عبداللہ نے میرواعظ مولوی فاروق کے ساتھ اتحاد میں انتخاب لڑا۔ چونکہ صدیقی کی ارون نہرو سے ذاتی رنجش دکھائی دیتی ہے، اس لیے وہ ان پر الزام رکھتے ہیں کہ انہوں نے جموں میں ہندو کارڈ کھیلا اور وادی میں مفتی محمد سعید کو استعمال کرتے ہوئے مسلم اور علیحدگی پسند کارڈ چلایا۔یہ بیان خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کشمیر کے باب میں کتاب کی تحقیق کتنی سطحی ہے۔ ان دنوں وادی میں طاقتور نیشنل کانفرنس کے مقابلے میں مفتی محمد سعید کوئی بڑی سیاسی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ فرقہ وارانہ کارڈ خود اندرا گاندھی نے استعمال کیا، نہ کہ محض ان کے مشیروں نے۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے وہ نو دن تک جموں میں مقیم رہیں اور عملاً وہاں ایک عارضی وزیر اعظم آفس بھی قائم کیا گیا تھا۔فاروق عبداللہ کے ساتھ اندرا گاندھی کی انتہائی ناراضگی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ سری نگر کے اقبال پارک میں ایک عوامی جلسے کے دوران نیشنل کانفرنس نے محمد شفیع بھٹ کی قیادت میں غنڈوں کی ایک ٹیم کو ان کا جلسہ درہم برہم کرنے کےلیے بھیجا تھا۔ شفیع بھٹ بعد میں رکن پارلیامان بنے اور موجودہ بی جے پی رہنما حنا بھٹ کے والد ہیں۔ان غنڈوں نے اگلی نشستوں پر قبضہ کر لیا۔ جیسے ہی اندرا نے تقریر شروع کی، شفیع بھٹ اور ان کے ساتھیوں نے اپنے پاجامے کھول کر انہیں اپنے پوشیدہ اعضا دکھاتے ہوئے طعنے دیے۔اندرا نے اپنا توازن نہیں کھویا۔ انہوں نے برجستہ کہا کہ مرکز کشمیر کو اتنا پیسہ بھیج رہا ہے کہ لگتا ہے نیشنل کانفرنس کی حکومت لوگوں کو کپڑے بھی فراہم نہیں کر پا رہی ہے۔ لیکن یہ توہین اور وہ لمحہ اپنی جگہ اہم تھا۔ ان کے ساتھ موجود لوگوں کے مطابق، وہ بالکل خاموش ہو گئیں تھی۔مزید پروگرام ملتوی کرکے وہ سیدھے ہوائی اڈے پہنچ کر دہلی روانہ ہوگئیں۔ چند دن بعد جموں میں وارد ہوکر انتخابات کو پولرائز کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔ اس فرقہ وارانہ اور علاقائی پولرائزیشن کا سایہ آج تک جموں و کشمیر کی سیاست پر منڈلا رہا ہے۔یہ محض ارون نہرو کی کوئی چال نہیں تھی، بلکہ عوامی تذلیل کے بعد اعلیٰ ترین سطح پر لیا گیا ایک سیاسی فیصلہ تھا۔ فاروق عبداللہ انتخاب جیت بھی گئے تو ایک سال بعد اندرا گاندھی نے انہیں برطرف کر کے ان کے بہنوئی غلام محمد شاہ کو وزیر اعلیٰ بنا دیا۔صدیقی اس کے برعکس ایک مختلف بیانیہ پیش کرتے ہیں اور پھر اس میں ایسے دعوے شامل کر دیتے ہیں جو زمانی ترتیب سے مطابقت نہیں رکھتے۔وہ لکھتے ہیں کہ اس زمانے میں ارون نہرو کشمیر میں عسکریت پسندوں سے میل جول بڑھا رہے تھے۔ حالانکہ اس وقت کشمیر میں نہ کوئی مسلح تحریک تھی اور نہ ہی وہ مضبوط علیحدگی پسند جذبات جو بعد میں دیکھنے کو ملے۔ ان کی شدت 1987 کے دھاندلی زدہ انتخابات کے بعد سامنے آئی۔ 1983 میں ‘عسکریت پسندوں’ کو تاریخ میں شامل کرنے سے یہ باب یا تو مکمل من گھڑت لگتا ہے یا کم از کم زمانی تسلسل کے بارے میں شدید لاپروائی کا مظہر ہے۔اسی نوعیت کی خرابی صفحہ 166 پر بھی دہرائی گئی ہے، جہاں صدیقی لکھتے ہیں کہ انہوں نے میرواعظ مولوی محمد فاروق کی مدد سے روبیہ سعید کی رہائی کے لیے ثالثی کی۔ وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کی بھاری قیمت انہیں چکانی پڑی کیونکہ ان کے مقبول اخبار ‘نئی دنیا’ پر جے کے ایل ایف اور لشکر طیبہ نے پابندی لگا دی۔ حالانکہ نوے کی دہائی کے اوائل میں کشمیر میں لشکر طیبہ کا وجود ہی نہیں تھا۔صدیقی لکھتے ہیں کہ راجیو گاندھی نے انہیں بتایا تھا کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ کشمیر کا مستقل حل طے کر لیا ہے۔ مبینہ طور پر بے نظیر لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے پر آمادہ ہو گئی تھیں، اور دونوں طرف سے بڑی تعداد میں فوجیں ہٹا لی جاتیں۔صدیقی کے مطابق راجیو سمجھتے تھے کہ پرامن سرحدیں ہندوستان کی صلاحیتوں کو ابھرنے کا موقع دیں گی اور جنوبی ایشیا کی اکیسویں صدی اس کے عوام کی صدی بن سکتی ہے۔صفحہ 229 پر صدیقی جنرل پرویز مشرف سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے پاکستانی صدر کو دوٹوک انداز میں کہا؛‘آپ کو سمجھنا ہوگا کہ ہندوستانی مسلمان کشمیر میں آپ کی سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔’لیکن وہ یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں کون لے کر گیا تھا، اور الحاق کی دستاویز پر دستخط کرتے ہوئے کس نے یہ وعدہ کیا تھا کہ امن و امان بحال ہونے کے بعد فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا جائے گا۔صفحہ 235 پر وہ لکھتے ہیں کہ فروری 2003 میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کلدیپ نیر اور انہیں بلا کر مشورہ دیا کہ وہ مشرف کے دور میں پاکستان جا کر عوامی فضا کا اندازہ لگائیں۔صدیقی کے مطابق ان کی واپسی کے ایک ماہ بعد ہی واجپائی سرینگر گئے اور مظفر آباد بس سروس شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ جس نے ان کو حیران کردیا۔مگر حقائق بتاتے ہیں کہ سری نگر-مظفرآباد بس 7 اپریل 2005 کو شروع ہوئی، اور اسے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے جھنڈی دکھائی، جبکہ واجپائی ایک سال پہلے اقتدار سے جا چکے تھے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ واجپائی نے سرینگر میں اپنی تقریر میں انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔صفحہ 7 پر صدیقی لکھتے ہیں کہ مولانا شبیر احمد عثمانی’واحد ممتاز دیوبندی عالم تھے جو پاکستان ہجرت کر گئے۔’ وہ سید سلیمان ندوی، مولوی عبدالحق اور کئی دیگر شخصیات کا ذکر بھول جاتے ہیں۔کتاب میں بار بار ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں بڑے عمومی بیانات دیے گئے ہیں، اور یہاں بھی تضاد نظر آتا ہے۔ صفحہ 41 پر 1965 کی جنگ کے حوالے سے صدیقی لکھتے ہیں؛‘ہندوستانی مسلمانوں کے لیے یہ قوم سے وفاداری کا بڑا امتحان تھا… اور انہوں نے یہ امتحان شاندار طریقے سے پاس کیا۔’ان کے مطابق، تقسیم کے بعد ان کی وفاداری پر ہمیشہ شبہ کیا گیا، اور جنگ ایک موقع بن گئی کہ وہ اپنا موقف واضح کریں۔ وہ لکھتے ہیں کہ؛’ہر شہر اور قصبے’ میں مسلمان پاکستانی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی تیاریوں میں شریک تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ 2019 میں پلوامہ حملے اور پاکستان کے اندر ہندوستانی کارروائیوں کے بعد بھی ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملے۔لیکن صفحہ 65 پر وہ خود اپنے اس عمومی دعوے کو کمزور کر دیتے ہیں، جب وہ ستر کی دہائی کے اوائل میں اپنے اردو ہفت روزہ واقعات کی ناکامی کا ذکر کرتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ رسالہ اس لیے نہیں چلا کہ انہوں نے پاکستان کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا تھا، جبکہ شمالی ہند کے مسلمانوں کا ایک حصہ پاکستان کے لیے ‘نرم گوشہ’ رکھتا تھا اور وہ اس کے ٹوٹنے کے خواہاں نہیں تھے۔ وہ مسلمانوں پر الزام لگاتے ہیں کہ؛‘وہ اب بھی پاکستان یا جناح سنڈروم کا شکار تھے۔’وہ مزید لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ ایک مضبوط پاکستان ہندوستان میں مسلم مخالف گروہوں کو مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے روکتا ہے۔ چونکہ ان کے رسالے نے بنگلہ دیش کے قیام کی حمایت کی اور پاکستانی فوج کے مظالم کی مذمت کی، اس لیے ‘قارئین کو یہ بات پسند نہ آئی’ اور انہیں بھاری مالی نقصان اٹھا کر رسالہ بند کرنا پڑا۔دونوں بیانات کو ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو کتاب ایک ایسے تضاد میں گھری نظر آتی ہے جسے کہیں حل نہیں کیا گیا۔بنگلہ دیش کی آزادی اور شملہ معاہدے کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ ان کی طرح ملک کے کئی نوجوان اس سے خفا تھے اور پاکستان کے خلاف کاروائی جاری رکھنا چاہتے تھے۔ مگر بعد میں انہوں نے پایا کہ نو آزاد بنگلہ دیش میں ہندوستان مخالف بیانیہ پھیلنے لگا تھا۔ اندرا گاندھی چاہتی تھیں کہ ڈھاکہ میں ایک مضبوط قیادت قائم ہو جو مکتی باہنی کے مسلح گروہوں کو قابو میں رکھ سکے، کیونکہ ان کے بے قابو ہونے کا خطرہ موجود تھا، جو شمال-مشرقی علاقوں میں پھیل کر مغربی بنگال اور آسام میں مشکلات پیدا کر سکتے تھے۔ شاید وہ ایسی صورتحال جو بعد میں امریکہ اور پاکستان کو افغانستان میں پیش آئی اس سے بچنا چاہتی تھی۔ وہ مانتی تھی کہ اسلحہ دینا آسان ہوتا ہے، مگر اسے واپس لینا مشکل ہوتا ہے۔صدیقی کے مطابق، اندرا گاندھی نے ہندوستان کے لیے ایسی صورت حال کو پیدا ہونے سے روک دیا۔صدیقی لکھتے ہیں کہ انہوں نے 1973 میں دہلی یونیورسٹی سے ماسٹرز کرتے ہوئے اپنے والد کا اخبار نئی دنیا دوبارہ جاری کیا۔ ان کے بقول یہ ٹیبلوئڈ’اردو صحافت میں انقلاب’ لے آیا۔ مگر حقیقت ہے کہ یہ اخبار چیختی چنگھاڑتی سرخیوں اور جذباتی مضامین کےلیے مشہور تھا۔اس سے اخبار تو ہاتھوں ہاتھ بکتا رہا، مگر قارئین کو حقیقت کا متوازن عکس نہیں ملا، بالکل ویسا ہی جیسے آج کے بعض ٹی وی چینل کرتے ہیں۔ اخبار جذبات اور سنسنی خیز کہانیوں کے سہارے چلتا رہا، نہ کہ سنجیدہ تجزیے کے ذریعے جو صدیقی خاندان سے توقع تھی۔یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کہ کتاب میں اور ذاتی بات چیت میں صدیقی جذباتی سیاست سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر وہ اپنے اخبار کے ذریعے اسی طرز کی صحافت کو فروغ دیتے رہے۔صدیقی لکھتے ہیں کہ 1977 میں انہوں نے جنتا حکومت کے وزیر خزانہ ایچ این بہوگنا کا انٹرویو کیا۔ بہوگنا نے مبینہ طور پر ان سے کہا؛’شاہد میاں، یہ حکومت زیادہ نہیں چلے گی۔ ہم نے اس گجراتی (مرارجی دیسائی) کو وزیر اعظم بنا کر غلطی کی ہے۔‘ان کے مطابق، حکمرانی دراصل اتفاق رائے پیدا کرنے کا فن ہے، اور گجراتی وزیر اعظم کو اس لفظ کا مطلب تک معلوم نہیں ہے۔کتاب میں دہلی کے ایک اور کردار مولانا جمیل الیاسی کا ذکر بھی آتا ہے۔ ان کے خاندان نے کستوربا گاندھی مارگ کے چوراہے پر واقع ایک مسجد پر ‘قبضہ’ کر رکھا ہے۔ ان کے بیٹے صہیب الیاسی نے بعد میں نماز گاہ کے ساتھ والے کمرے میں ایک ٹی وی کرائم شو کا دفتربھی قائم کیا تھا۔مولانا ایک بار جب اندرا گاندھی اقتدار سے باہر تھی نئی دنیا کے لیے صفحہ اول کی خبر دینے کا وعدہ کرتے ہوئے صدیقی کے پاس آئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اندرا گاندھی کو مہرولی میں خواجہ بختیار کاکی کے مزار پر دعا کے لیے لے گئے تھے۔مولانا نے دعویٰ کیا کہ وہ بھی رات بھر اندرا کے ساتھ مہرولی کی درگاہ میں موجود تھے۔ اندرا گاندھی نے رات بھر وظیفہ پڑھا اور پھر ایک کدو کو ایک چاقو سے کاٹا، جس پر کلمہ شریف لکھا تھا۔مولانا نے دعویٰ کیا کہ جنات کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مرارجی دیسائی کی حکومت گرا دیں۔صدیقی لکھتے ہیں،میں نے ایک لمحے کے لیے بھی مولانا کی بات پر یقین نہیں کیا… مگر حقیقت ہے، چند ہی ہفتوں میں جنتا حکومت گر گئی۔صفحہ 175 پر صدیقی لکھتے ہیں کہ 1989 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد، جب کانگریس نشستیں کھو کر بھی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، تو صدر کے آر نرائنن نے اسے حکومت بنانے کی دعوت دی اور راجیو نے انکار کر دیا۔ حالانکہ ایک سادہ سی گوگل تلاش بھی بتاتی ہے کہ نرائنن 1997 سے 2002 تک صدر رہے۔ 1989 میں صدر آر وینکٹرمن تھے۔کتاب میں چند سنسنی خیز دعوے بھی ہیں۔ صفحات 182 سے 184 کے درمیان صدیقی راجیو گاندھی کے قتل سے متعلق ایک سازش کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یاسر عرفات کو یورپ میں اس سازش کی بھنک پڑ گئی تھی۔ فلسطینی سفیر خالد الشیخ نے راجیو سے رابطہ کیا، آر ڈی ایکس کی خریداری کی معلومات تھیں، اور ‘بظاہر موساد’ کسی طرح اس میں شامل تھی، جس کے روابط ایل ٹی ٹی ای سے تھے۔انہوں نے لکھا کہ یہ انتباہ وزیر اعظم تک پہنچایا گیا، مگر انہوں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ صدیقی کے مطابق راجیو کے ماسکو اور ایران کے دوروں اور خلیجی جنگ روکنے کے لیے بغداد جانے کے منصوبے نے امریکہ اور اسرائیل کو ناراض کر دیا تھا۔بابری مسجد کے باب میں کتاب کا شاید سب سے سخت اور تلخ سیاسی بیان ملتا ہے۔ صفحہ 205 پر صدیقی لکھتے ہیں کہ انہدام کی خبر ملنے پر انہوں نے چند مسلم رہنماؤں کے ساتھ وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور صدر ایس ڈی شرما سے فوری رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر انہیں بتایا گیا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ دستیاب نہیں ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ صدر نے سہ پہر ساڑھے تین بجے کا وقت دیا ، جذباتی تھے، اور وہ بھی وزیر اعظم سے رابطہ نہ کر سکے۔صدیقی کے مطابق ایک سینئر وزیر ارجن سنگھ اور راجیش پائلٹ نے ان کو بتایا کہ اس دوپہر وزیر اعظم نے کابینہ کے وزیروں سے ملنے یا بات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہیں کہا گیا کہ وہ ‘یا تو پوجا میں مصروف ہیں یا سو رہے ہیں۔’صدیقی نتیجہ اخذ کرتے ہیں؛یہ سب منصوبے کا حصہ تھا، اور راؤ جانتے تھے کہ ایودھیا میں کیا ہو رہا ہے اور چاہتے تھے کہ مسجد کا انہدام بلا کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔صفحہ 243 پر صدیقی فخر سے لکھتے ہیں کہ 1999 کے انتخابات کے دوران انہوں نے سونیا گاندھی کو مشورہ دیا تھا کہ منموہن سنگھ کو یو پی اے اتحاد کا وزیر اعظم امیدوار بنایا جائے۔ حالانکہ یو پی اے مئی 2004 میں وجود میں آیا، جب انتخابات کے بعد مخلوط حکومت بنی۔ 1999 میں کوئی یو پی اے موجود نہیں تھا۔کتاب کے آخری ابواب صدیقی کو مودی کے دور میں لے آتے ہیں۔ صفحہ 278 پر وہ ظفر سريش والا کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ مودی نے وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی عرب ممالک کے ساتھ قریبی کاروباری تعلقات بنانے کا منصوبہ بنایا تھا، انہیں وائبرنٹ گجرات میں مدعو کیا، اور 2014 کے بعد ذاتی روابط مزید گہرے کیے۔صدیقی کا مودی کا انٹرویو بھی خاصا موضوع بحث بنا، جب 2012 میں انہوں نے نئی دنیا کےلیے ان کا انٹرویو لیا۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کے مشیر احمد پٹیل نے یہ انٹرویو شائع کرنے سے روکنے کی ان سے درخواست کی تھی۔صدیقی ان دنوں سماج وادی پارٹی کے لیڈران میں شمار کیے جاتے تھے۔ احمد پٹیل کی ایما پر سماج وادی پارٹی نے ان کو برخاست کردیا۔صدیقی امت شاہ سے اپنی ایک ملاقات کا ذکر بھی کرتے ہیں، جس میں انہوں نے بی جے پی کی مسلم پالیسی پر بات کی۔ ان کے مطابق شاہ نے کہا کہ وہ فی الحال مسلم ووٹوں میں دلچسپی نہیں رکھتے اور بعد میں شاید اس پر غور کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا،’انتخابات اچھے کام سے نہیں، جذبات سے جیتے یا ہارے جاتے ہیں۔’صدیقی کے مطابق شاہ نے مثال دی کہ شیلا دکشت ‘بہترین کارکردگی’ کے باوجود دہلی میں انتخاب ہار گئیں کیونکہ فضا ان کے خلاف ہو چکی تھی۔صدیقی نے کتاب میں ارون نہرو، امر سنگھ اور احمد پٹیل جیسے کرداروں کو اقتدار کے سوداگر قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے، مگر خود وہ کبھی کوئی عوامی انتخاب نہیں جیت سکے۔ 2009 میں بہوجن سماج پارٹی کے ٹکٹ پر بجنور سے انہوں نے سب سے قریبی مقابلہ کیا، جب وہ راشٹریہ لوک دل کے سنجے سنگھ چوہان سے 28 ہزار 430 ووٹوں سے ہار گئے۔ 1998 میں کانگریس کے ٹکٹ پر مظفر نگر سے لڑے، جہاں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی مہم کے باوجود وہ 69 ہزار 788 ووٹ لے کر چوتھے نمبر پر رہے۔کتاب میں کچھ نظریاتی دعوے بھی ہیں جو صدیقی کی فکری دنیا کو واضح کرتے ہیں۔ صفحہ 325 پر وہ لکھتے ہیں؛‘میں نے مذہبی لوگوں کو زیادہ معقول، لچک دار اور برداشت کرنے والا پایا، جبکہ انگریزی تعلیم یافتہ لوگ، جیسے سابق آئی ایف ایس سید شہاب الدین یا اشوک سنگھل، زیادہ سخت گیر اور غیر لچک دار تھے۔’یہ بات وہ بابری مسجد مذاکرات کے تناظر میں لکھتے ہیں۔صفحہ 326 پر وہ موہن بھاگوت اور بین الاقوامی شخصیات سے ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہندوستانی اسلام دراصل ‘ہندی اسلام’ کے طور پر پروان چڑھا، جس میں دوسرے مذاہب کے احترام اور باہمی میل جول کی روایت ہے، اور جو ہندو اور ترک و فارسی اثرات کا امتزاج ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ بھاگوت نے ان سے کہا کہ ہندوؤں کو کافر کہنا بند کریں، کیونکہ یہ حقارت کی علامت ہے۔صفحہ 342 پر صدیقی لکھتے ہیں کہ 1996 میں وزیر اعظم دیوے گوڑا نے، جب ان کے پاس وزارت داخلہ بھی تھی، سی بی آئی کو اس وقت کے کانگریسی صدر سیتارام کیسری پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، جو ڈاکٹر ایس کے تنور کے قتل کے مقدمے میں زیر تفتیش تھے۔ حالانکہ گوڑا صرف 29 دن تک وزیر داخلہ رہے، اور 29 جون 1996 کو اندر جیت گپتا نے یہ عہدہ سنبھال لیا تھا۔کتاب میں کئی دلچسپ واقعات بھی شامل ہیں اور مصنف ہندوستان میں خاندانی سیاست کی تاریخ کو نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔صدیقی کے مطابق کے کامراج اور بیجو پٹنائک نے خاندانی سیاست کو فروغ دیا، نہرو کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے نہرو پر اندرا کو کابینہ میں شامل کرنے کا دباؤ ڈالا، مگر نہرو نے انکار کر دیا۔ نہرو کی وفات کے بعد، ان کے بقول، شاستری اور کامراج نے اندرا کو کابینہ میں آنے پر آمادہ کیا۔اس خودنوشت کو ایک ایسی دستاویز کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے جو بتاتی ہے کہ اقتدار کے قریب رہنے والا شخص خود کو اور اپنے ملک کو کیسے دیکھتا ہے، مگر اسے بغیر تصدیق کے قابل اعتماد تاریخی ریکارڈ ماننے سے گریز کرنا چاہیے۔صدیقی اقتدار کے قریب ضرور رہے، مگر اس کتاب میں وہ قربت بار بار درستگی کی جگہ

پنجاب حکومت نے ویڈ لاک پالیسی کی دھجیاں اڑا دی تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ – ویڈ لاک پالیسی پر تاریخی وضاحتسپریم کورٹ آف پاکستان نے CPLA No. 4701 of 2024 (مبشر اقبال ظفر بنام وزارتِ دفاع و دیگر) میں ایک نہایت اہم اور اصولی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں شادی شدہ سرکاری ملازمین کی ٹرانسفر کے معاملہ پر “Wedlock Policy” کی قانونی حیثیت اور اس کے نفاذ کو واضح کیا گیا۔یہ فیصلہ مورخہ 04 دسمبر 2025 کو جسٹس Ayesha A. Malik اور جسٹس Munib Akhtar پر مشتمل بینچ نے تحریر کیا۔💢 کیس کا پس منظردرخواست گزار ایک Assistant Health Inspector (BPS-5) تھے جنہیں عبدالحکیم (ضلع خانیوال) سے ڈیرہ نواب صاحب (ضلع بہاولپور) ٹرانسفر کر دیا گیا۔درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ:ان کی اہلیہ سرکاری سکول ٹیچر ہیں اور دل کی مریضہ ہیں۔وہ خود شوگر کے مریض ہیں۔ان کے دو کم سن بچے ہیں جنہیں والدین کی نگرانی درکار ہے۔Wedlock Policy کے تحت میاں بیوی کو ایک ہی اسٹیشن پر تعینات رکھا جانا چاہیے، خاص طور پر جب طبی مسائل موجود ہوں۔ان کی اپیل Federal Service Tribunal نے مسترد کر دی، جس کے بعد معاملہ Supreme Court of Pakistan میں آیا۔⚖ سپریم کورٹ کے اہم نکات1️⃣ ویڈ لاک پالیسی محض رسمی ہدایت نہیںعدالت نے واضح کیا کہ 1998 سے نافذ Wedlock Policy کا مقصد شادی شدہ سرکاری ملازمین کو غیر ضروری علیحدگی اور خاندانی مشکلات سے بچانا ہے۔2️⃣ میڈیکل گراؤنڈ کو اعلیٰ ترجیحپالیسی کے مطابق طبی مسائل کو سب سے زیادہ ترجیح دی جانی چاہیے۔3️⃣ پبلک انٹرسٹ کی مجبوری ضروریعدالت نے کہا کہ اگر کسی ملازم کو اسی اسٹیشن سے ہٹایا جائے جہاں اس کا شریک حیات تعینات ہو تو اس کیلئے “compelling public interest” کی ٹھوس وجہ ہونی چاہیے۔ محض روٹین ٹرانسفر کافی نہیں۔4️⃣ آئینی اصولوں کی روشنی میں فیصلہعدالت نے آئین کے آرٹیکل 34 اور 35 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست پر لازم ہے کہ:شادی اور خاندان کا تحفظ کرےخواتین کی قومی زندگی میں مکمل شرکت کو یقینی بنائےلہٰذا ایسی پالیسیوں پر سنجیدگی سے عمل درآمد ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔💢عدالت کا حتمی حکمسپریم کورٹ نے:فیڈرل سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا08.02.2021 کا ٹرانسفر آرڈر منسوخ کر دیاسول پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کرکے منظور کر لیا🔎 اس فیصلے کی قانونی اہمیت✔ Wedlock Policy کو مضبوط عدالتی پشت پناہی حاصل ہوگئی۔✔ سرکاری ملازمین کو روٹین ٹرانسفر کے نام پر خاندان سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔✔ محکمہ اپنی مرضی سے پالیسی کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔✔ “Legitimate Expectation” کا اصول تسلیم کیا گیا۔ یہ فیصلہ تمام شادی شدہ سرکاری ملازمین خصوصاً خواتین ملازمین کے لیے ایک سنگِ میل ہے۔ریاستی پالیسیوں کا مقصد عوام کی فلاح ہے، نہ کہ انہیں مشکلات میں ڈالنا۔

نیا فراڈ طریقہ!صرف 30 منٹ آپ کی مالی زندگی تباہ کر سکتے ہیں۔یہ کوئی عام فون فراڈ نہیں — یہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔انہیں آپ کے پیسے، پاس ورڈ یا اعتماد کی ضرورت نہیں۔انہیں صرف آپ کی مہربانی چاہیے۔حال ہی میں ایک نیا “مدد مانگنے والا فراڈ” سامنے آیا ہے

نیا فراڈ طریقہ!صرف 30 منٹ آپ کی مالی زندگی تباہ کر سکتے ہیں۔یہ کوئی عام فون فراڈ نہیں — یہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔انہیں آپ کے پیسے، پاس ورڈ یا اعتماد کی ضرورت نہیں۔انہیں صرف آپ کی مہربانی چاہیے۔حال ہی میں ایک نیا “مدد مانگنے والا فراڈ” سامنے آیا ہے جومالز، میٹرو اسٹیشنز، بازاروں اور عوامی مقامات پر ہو رہا ہے۔فراڈی عموماً اچھے لباس میں ملبوس درمیانی عمر یا بزرگ افراد ہوتے ہیں۔وہ کہتے ہیں:انہیں فون استعمال کرنا نہیں آتاانہیں پنشن یا سبسڈی چیک کرنی ہےغلطی سے کوئی صفحہ کھل گیا ہےاور آپ سے کہتے ہیں کہ ذرا فون چلانے میں مدد کر دیں۔خطرناک بات:جب آپ فون ہاتھ میں لیتے ہیں تو اکثر:فون پہلے ہی ویڈیو کال پر ہوتا ہےیا اسکرین ریکارڈنگ اور فیشل ریکگنیشن آن ہوتی ہےدوسری طرف کوئی آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔آپ سمجھتے ہیں کہ مدد کر رہے ہیں، مگر آپ کا بایومیٹرک ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہوتا ہے۔یہ عام فراڈ نہیں — یہ AI بایومیٹرک شناختی فراڈ ہے۔انہیں آپ کے پیسے نہیں، آپ خود چاہیے ہوتے ہیں۔اگر آپ:فون کو چھوتے ہیں (فنگر پرنٹ)نمبرز یا ویریفکیشن کوڈ اونچی آواز میں پڑھتے ہیں (آواز)اسکرین کی طرف دیکھ کر بات کرتے ہیں (چہرے کی حرکت)تو آپ کی تین اہم بایومیٹرک شناختیں — فنگر پرنٹ، آواز اور چہرہ — چوری ہو سکتی ہیں۔جدید AI آپ کی تقریباً مکمل ڈیجیٹل نقل بنا سکتا ہے۔اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟یہ انتہائی خوفناک ہے۔فراڈی آپ کی ڈیجیٹل نقل استعمال کر کے:آن لائن قرضےکنزیومر فنانسنگکریڈٹ کیش آؤٹسکے لیے درخواست دیتے ہیں اور چہرے اور آواز کی تصدیق خودکار طور پر پاس کر لیتے ہیں۔صرف 30 منٹ میں آپ جتنا قرض لینے کے اہل ہوتے ہیں، وہ سب استعمال ہو جاتا ہے۔جب بینک کے پیغامات آتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ آپ کے پیسے غائب نہیں ہوئے — بلکہ آپ قرض میں ڈوب چکے ہیں، ممکن ہے لاکھوں یا کروڑوں روپے تک۔یہ 3 اصول یاد رکھیں:اجنبیوں کے فون کبھی نہ چلائیں۔نہ چھوئیں، نہ کلک کریں، نہ دیکھیں، نہ اونچی آواز میں کچھ پڑھیں — چاہے وہ کہیں “بس ایک کلک”۔نامعلوم ویڈیو کال آئے تو فوراً منقطع کریں۔کیمرے کی طرف دیکھنے یا بولنے کی کسی درخواست پر عمل نہ کریں۔یہ پیغام بزرگوں، بچوں اور نرم دل دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔اب فراڈی اچھے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔آخری یاددہانی:یہ کبھی نہ سوچیں:“میرے ساتھ ایسا نہیں ہوگا”“میں اتنا ہوشیار ہوں کہ اس فراڈ میں نہیں آؤں گا”فراڈی اسی اعتماد اور مہربانی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔براہِ کرم یہ پیغام آگے پھیلائیں۔ایک اضافی شیئر = ایک ممکنہ متاثرہ شخص کم!

موجودہ نظام بانجھ ھو چکا ہے تفصیلات بادبان ٹی وی پر

موجودہ نظام نئی نوکریاں پیدا کرنے کے لیے بانجھ ہو چکا ہے بلکہ پاکستان میں تیزی کے ساتھ نوکری کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کے اندر اس وقت جو پوٹینشل، نالج یا انفارمیشن ہے وہ سیٹوں پر بیٹھے بڑے لوگ تسلیم کرنے سے قاصر ہیں۔ تو بہترین حل یہی ہے کہ نوکریوں کی تلاش میں جوتیاں چٹخاتے، اپنا وقت ضائع کرنے اور اپنی صلاحیتوں یا جذبے کو زنگ آلود کرنے کے بجائے اپنے آپ کو کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ جوڑ لیں۔ چھوٹے پیمانے پر آن لائن کاروبار شروع کریں۔ فیس بک یا انسٹاگرام کے مارکیٹ پلیس کا استعمال کرنا سیکھیں۔ اپنے محلے کے کسی کریانے کی دکان، نان شاپ، دہی بھلے کی ریہڑی کی ورچوئل ریہڑی یا سٹور بنا کر اپنی بائیک پر ڈیلیور کرنا شروع کر دیں۔ اگر بیرون ملک کوئی رشتہ دار، کوئی عزیز یا دوست ہے تو اسے کہیں کہ وہ اس ملک میں اپنے نام پر کوئی آن لائن سٹور بنا دے۔ آپ پاکستان میں بیٹھ کر انہیں پاکستان سے Merchandise بھیجیں وہ بیرون ملک اسے آن لائن بیچیں اور آپس میں پرافٹ شیئرنگ پہ مل کر کام کریں یہی آپ کا فیوچر ہے نوکری آج کے نوجوان کی موت ہے

پاکستان میں حملے طالبان اور بھارت کی پراکسی جنگ کا نتیجہ ہے ، خواجہ آصف۔۔کینٹ بورڈ کا نیا فراڈ جاری۔۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاک بھارت جنگ کے دوران 11 طیارے گرائے گئے، شیخ حسینہ واجد کی پارٹی بھی پابندی! شیخ حسینہ بھارت کے اشاروں پر ناچ رہی تھیں۔جماعت اسلامی کو کتنے ووٹ پڑے؟ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں چالیس سال قبل جس مذہبی بنیاد پرستی کی بنیاد رکھی اسے ختم کرنے کیلئے آج اقدامات شروع کئے جائیں ختم ہوتے ہوئے چالیس سال لگیں گے۔۔ایران پر حملہ توقعات سے پہلے ہوسکتا ہے اسرائیل امریکی بحری قوت کو غرق کردیں گے آیت اللہ خامنہ ای۔۔امریکہ ایران پر حملے کے لئے تیار۔۔تفصیلات کے لیے بادبان ٹی وی

2008 میں ایسٹیبلشمنٹ نے پی پی پی کے جن الیکٹیبلز کو نیب ۔ ایف آئی اے اور ان کی بیٹیوں ۔ نواسیوں کے تعلیم اداروں میں غنڈے بھجوا کر یا لالچ اور طمع کی بنیاد پر پی پی پی سے الگ کیا تھا ۔ انہیں پی پی پی میں واپسی کی اجازت بظاہر دی جا رہی ہے ۔ تصور کیجئے الیکشن 2024 سے پہلے 35/40 موجود اور سابق ارکان اسمبلی یکمشت پیپلز پارٹی میں شامل ہوتے تو الیکشن کی ہوا بدل جاتی ۔ پرسپشن بدل جاتا اور پیپلز پارٹی مقابلہ میں آ کھڑی ہوتی ۔لیکن اس وقت صدر آصف علی زرداری نے عاصمہ شیرازی کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ ریاستی اسٹیبلشمنٹ کو پی ٹی آئی کے آزاد ارکان سے ڈر نہیں لگتا ۔ پیپلز پارٹی سے ڈر لگتا ہے ۔ اس وقت کی پالیسی یہ تھی کہ پی ٹی آئی کے لوگ جیت جائیں ۔ مگر آزاد بنیاد پر جیتے جنہیں ریوڑ کی طرح ہانکنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی پیپلز پارٹی کے ڈسپلن میں اگر لوگ جیتیں گے تو پیپلز پارٹی کو پالیسی بنانے اور ڈکٹیٹ کروانے سے روکنا ممکن نہیں رہے گا ۔اس سب کچھ سے حافظ صاحب کو ریاستی مقتدرہ کو اور ریاست پاکستان کو کیا حاصل ہوا یہ فیصلہ کرنا اپ کا کام ہے ۔ہم تو یہی بتا رہے ہیں ۔ دکھا رہے ہیں اور ثابت کر رہے ہیں کہ 2013 کے بعد آپ دنیا کی نظر میں دو ٹکے کے ہو گئے ہو ۔ آپ کی کرنسی دو ٹکے کی ہو گئی ہے ۔ آپ کی معیشت دنیا میں 170 نمبر پر جا پڑی ہے اور انڈیا سے ایک بڑی جنگ اور معرکہ جتنے کے باوجود اپ کی معیشت کو ایک روپیہ کا فائدہ نہیں ہوا ۔ حالانکہ آپ مبینہ طور پر 128 ملکوں سے دفاعی معاہدے کر چکے ہو اور چھ ہزار سے زیادہ جے ایف تھنڈر بھی بیچ چکے ہو

۔ لیکن پھر آپ کو تنخواہ دینے کے لیے ہر بار پانچ روپے پٹرول گیس اور بجلی کی قیمت بڑھانا پڑتی ہے۔سچ محض یہ ہے کہ راج نیتی صرف سیاستدان ہی جانتے ہیں ۔ مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی ائی یا پیپلز پارٹی کے تمام مخالف جب بھی اقتدار میں لائے جاتے ہیں ۔ ٹینڈر اور پوسٹنگ ٹرانسفر پر دہاڑی لگانے کائی کرنے اور ملکی معیشت کا بیڑا غرق کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر پاتے ۔دیکھتے ہیں اب بھی اسٹیبلشمنٹ کب پیپلز پارٹی کی پالیسی کا بوجھ اٹھانے کے لائق ہوتی ہے یا اس امر پر قائل ہوتی ہے آج تک بظاہر نہیں ہے ۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن میں اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں کا اعلان ایچ ای سی کے نئے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد نے وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی ہدایت پر اعلیٰ تعلیمی شعبے میں پالیسی سازی، معیارِ تعلیم، تحقیق اور انتظامی قیادت کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اعلیٰ سطح کے عہدوں پر تقرریوں کا اعلان کیا۔اسٹریٹجک پلاننگ کے رکن، کوالٹی اشورنس کے رکن اور ریسرچ، ڈیویلپمنٹ و انوویشن کے رکن کی تقرری 2 سال کے لیے کی جائے گی، جس میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ان تمام عہدوں کے لیے تنخواہ 9 لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ (تمام مراعات سمیت) مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہر عہدے کے لیے ایک ایک آسامی مختص ہے۔اسٹریٹجک پلاننگ اور کوالٹی اشورنس کے ارکان کی تعیناتی اسلام آباد اور پنجاب میں ہوگی، جبکہ ریسرچ، ڈیویلپمنٹ و انوویشن کے رکن کی تعیناتی کراچی میں کی جائے گی۔ان عہدوں کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 62 سال مقرر ہے۔ ان عہدوں کے لیے امیدوار کے پاس کسی بھی شعبے میں پی ایچ ڈی اور کم از کم 20 سال کا نمایاں تجربہ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں یا سرکاری و نجی شعبے میں قیادت، پالیسی سازی، اسٹریٹجک پلاننگ، پروگرام مینجمنٹ اور گورننس کا تجربہ بھی شرط ہے۔ایچ ای سی نے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (ناہے) کے لیے منیجنگ ڈائریکٹر کی اسامی کا بھی اعلان کیا ہے۔

یہ عہدہ بھی 2 سالہ معاہدے پر ہو گا، جس کے لیے تنخواہ 9 لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے۔ اس عہدے کے لیے اعلیٰ ڈگری، تعلیمی قیادت، ادارہ جاتی ترقی، انسانی وسائل کی تربیت، گورننس، ڈیجیٹل لرننگ، بین الاقوامی تعاون اور تعلیمی اصلاحات کا وسیع تجربہ رکھنے والے امیدوار اہل ہوں گے۔اس کے علاوہ اکیڈمکس کے رکن کی ایک مستقل اسامی بھی مشتہر کی گئی ہے، جس کے لیے بی پی ایس-22 اسکیل مقرر ہے۔ اس عہدے کے لیے کم از کم عمر 45 سال اور زیادہ سے زیادہ عمر 55 سال رکھی گئی ہے، جبکہ امیدوار کے پاس پی ایچ ڈی اور کم از کم 22 سال کا تدریسی، تحقیقی یا انتظامی تجربہ ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے، اس اسامی کے لیے کوٹہ پنجاب کا ہے۔ایچ ای سی کے مطابق درخواستیں صرف آن لائن جمع کروائی جا سکتی ہیں اور درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 16 مارچ 2026ء مقرر کی گئی ہے۔ نامکمل یا مقررہ تاریخ کے بعد موصول ہونے والی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ صرف اہل امیدواروں کو انٹرویو کے لیے طلب کیا جائے گا، جبکہ سرکاری ملازمین مناسب چینل کے ذریعے درخواست جمع کرائیں گے,بادبان نیوز

وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت صوبائی محکموں کی سروس ڈیلیوری کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سترہ محکموں کی انٹرونشنز اور درپیش رکاوٹوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔🔹 وزیرِاعلیٰ نے موسمِ بہار شجرکاری مہم کو تاریخ کی سب سے بڑی صوبائی شجرکاری سرگرمی بنانے کی تیاری مکمل کرنے کی ہدایت دی۔🔹 شجرکاری مہم میں سرکاری ملازمین، طلبہ اور سول سوسائٹی کی بھرپور شمولیت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔🔹 سرکاری دفاتر اور رہائش گاہوں میں پھل دار پودے لگانے کی ہدایت دی گئی۔🔹 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے لیے صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا ہفتہ وار اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کی گئی۔🔹 سروس ڈیلیوری کو عوامی توقعات کے مطابق بنانا حکومت کا حتمی مشن قرار دیا گیا۔🔹 ضم اضلاع کے لیے روشن قبائل پیکج کی تیاری اسی ماہ مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔🔹 سرکاری اسپتالوں میں کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی بھرتی مقررہ مدت تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی

۔🔹 کمراٹ اور ہنگو سروزئی روڈ پر تعمیراتی کام تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔🔹 جنوبی اضلاع کے ڈی ایچ کیوز اور ریجنل ڈی ایچ کیوز میں میموگرافی سروسز شروع کرنے کی ہدایت دی گئی۔🔹 سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری سو فیصد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔🔹 تاخیر کا شکار امور کو تیزی سے مکمل کرنے کے لیے غیر روایتی حل اپنانے کی ہدایت دی گئی۔🔹 تمام صوبائی محکموں کو آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ کی تیاری شروع کرنے کی ہدایت کی گئی۔🔹 گڈ گورننس روڈ میپ کے مڈ ٹرم اقدامات رواں سال جون تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔🔹 احساس اپنا گھر پروگرام کو فاسٹ ٹریک پر رکھنے کی ہدایت دی گئی۔🔹 صوبے میں خراب اور غیر فعال ٹیوب ویلز کو فوری طور پر فعال بنانے کی ہدایت دی گئی۔🔹 انسداد پولیو ٹیموں کی سکیورٹی مزید بڑھانے کی ہدایت دی گئی۔🔹 بریفنگ میں بتایا گیا کہ گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت سترہ محکموں کی تین سو ستائیس انٹرونشنز میں سے سینتالیس مکمل جبکہ ایک سو انتالیس آن ٹریک ہیں۔🔹 گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت دو سو اٹھسٹھ مائل اسٹونز کی نشاندہی کی گئی ہے۔🔹 بریفنگ کے مطابق دو سو ستاسٹھ مائل اسٹونز میں سے نوے مکمل جبکہ تین آف ٹریک ہیں۔🔹 وزیرِاعلیٰ نے واضح کیا کہ گڈ گورننس روڈ میپ کے نفاذ میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

–محمد شہباز شریف۔۔۔بورڈ آف پیس اجلاس خطابدیر پا امن کے لیے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بند ہونی چاہئیں،فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین کا مکمل حق ملنا چاہیئے،وزیراعظم محمد شہباز شریف کا غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے بورڈ آف پیس کے اجلاس سے خطابواشنگٹن ۔19فروری (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آزاد اورخود مختار فلسطینی ریاست کی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیر پا امن کے لیے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بند ہونی چاہئیں،فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین کا مکمل حق ملنا چاہیئے، صدر ٹرمپ کی بروقت مداخلت سے پاک بھارت جنگ رکی،انہوں نے حقیقت میں جنوبی ایشیا کو بڑی تباہی سے بچایا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے بورڈ آف پیس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت ان کے لئے باعث افتخار ہے ،غزہ میں پائیدار امن ہمارا مشن ہے۔ وزیراعظم نے دنیا بھر میں تنازعات کے حل کیلئے صدر ٹرمپ کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ تنازعات کے حل کے لیے صدر ٹرمپ کے مثالی اور قائدانہ کردار کو سراہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی کامیاب سفارت کاری کی وجہ سے دنیا بھر میں قیام امن کو یقینی بنانے میں مدد ملی ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کیلئے ان کی بر وقت اور موثر مداخلت کی وجہ سے کروڑوں جانیں بچائی گئی ہیں، صدر ٹرمپ نے حقیقی طور پر جنوبی ایشیا کو بڑی تباہی سے بچایا۔وزیر اعظم نے کہا کہ فلسطینی عوام طویل عرصے سے غیر3 قانونی قبضے اور بے پناہ مشکلات کا شکار ہیں، مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بند ہوں، تعمیر نو سے پہلے لوگوں کے جانوں کا تحفظ کیا جائے ،فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین کا مکمل حق ملے اور اور ان کے مستقبل کا تعین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کیا جائے اور ان قراردادوں کے مطابق ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آنا چاہیئے۔آزاد اورخود مختار فلسطینی ریاست کا قیام پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بصیرت افروز اور شاندار قیادت میں فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ اور پائیدار حل نکلے گا۔ آج کا دن تاریخ میں اس لحاظ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ صدر ٹرمپ کی حمایت اور عظیم کوششوں کے نتیجے میں غزہ میں پائیدار امن حاصل ہو گا ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مشرق وسطی میں پائیدار امن مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل سے ہی ممکن ہے ،سعودی عرب ترقی اور خوشحالی کے ہدف کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا،متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید النہیان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات غزہ کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے کردار ادا کرے گا،ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فیدان نے کہا کہ مسئلے کے پرامن حل کے ساتھ یکطرفہ اقدامات کی روک تھام ناگزیر ہے ،بنیادی ڈھانچے تعلیم اور صحت کے شعبے میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے،صدر ٹرمپ نے کہا کہ امن اور تعمیر نو کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا ہم اپنے مشن میں ضرور کامیاب ہوں گے۔رکن ممالک کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں گے۔غزہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سمیت 20 ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی، بورڈ آف پیس کے اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ڈونلڈ ٹرمپ نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور ان کے درمیان خوشگوار جملوں کا بھی تبادلہ ہوا۔صدر ٹرمپ نے تقریب میں شریک رکن ممالک کے رہنماؤں سے فرداً فرداً

امریکی فوج ہفتے کے روز ایران پر حملہ کرسکتا ہے اسرائیل کے فضائی دفاعی اداروں اور امریکی انٹیلیجنس میں معلومات کا تبادلہ ایران نے آج دو گھنٹے کے لئے فضائی حدود بند کردیں آبنائے ہرمز میں پاسداران انقلاب کی جنگی مشقیں امریکا کے بعد چین اور روس بھی خیلج فارس میں پہنچ گئے روس ایران فوجی مشقیں بھی شروع ہونے والی ہیں ایران پر حملہ توقعات سے پہلے ہوسکتا ہے اسرائیل امریکی بحری قوت کو غرق کردیں گے آیت اللہ خامنہ ای

3شان بے نیازی دیکھنی ہو تو بڑے بیوروکریٹس کی دیکھئے ۔ یہ جس بھی وزیراعظم یا وزیر کے ساتھ ہوتے ہیں اس میں سو پونڈ ہوا بھر دیتے ہیں جب ذیادہ ہوا سے وہ برسٹ ہو کر (اپنی حرکتوں کے باعث) اقتدار سے بے دخل ہونے لگتے ہیں تو یہ عین موقع پر شان بے نیازی سے ان سے الگ ہو جاتے ہیں اور آنے والے متوقع سیاسی یا فوجی حکمران کے ساتھ چپک جاتے ہیں ۔سعید مہدی کی کتاب کا چرچا بہت ہے جس سے مجھے وہ لمجہ یاد آگیا جب بارہ اکتوبر کی شام نوازشریف جنرل مشرف کو ہٹا کر جنرل ضیاءالدین کو چیف بنا چکے تھے کھینچا تانی جاری تھی ہم چند رپورٹر پی ٹی وی جا پہنچے ۔ گیٹ اندر سے بند تھے اور اسلام آباد پولیس کے چند جوان ڈیوٹی پر مامور تھے کہ کسی کو اندر نہیں آنے دینا ۔ چند ہی منٹ گزرے ہوں گے کہ ایک فوجی ٹرک آیا اور دس بارہ فوجی جنہیں ایک کپتان لیڈ کر رہا تھا نیچے اترے ان میں سے ایک گیٹ کے اوپر چڑھا اور اندر اتر کر گیٹ کھول دیا ۔ پولیس معصومیت سے ایک طرف سمٹ گئی اور رستہ چھوڑ دیا۔

مجھے سمجھ آگئی کھیل ختم ۔میں میریٹ کی طرف بڑھا تو فٹ پاتھ پر ایک شناسا چہرہ نظر آیا جو سر جھکائے تیز قدموں سے چلتا نظر آیا ۔ ابھی اندھیرا پوری طرح نہیں چھایا تھا اور سٹریٹ لائٹ بھی پوری طرح روشن تھی ۔ قریب گیا تو سعید مہدی تھے نواز شریف نے پی ٹی وی کو مورچہ ان کے حوالے کیا تھا کہ جنرل مشرف کی برطرفی اور نئے چیف کی خبر چل جائے اور وہ معاملات کو کنٹرول میں رکھیں ۔ فوج کے آتے ہی سعید مہدی پی ٹی وی کے چور دروازے سے نکل کر “شان بے نیازی” سے گھر کی طرف چل دئے تھے۔یہ بیورو کریٹ جب ریٹایڑ ہو جائیں تو کتاب لکھتے ہوئے اپنے آپ کو انتہائ ایماندار، اصول پسند اور میرٹ کے پابند ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔مجھے آج تک ایک بھی صاف گو بیوروکریٹ نہیں ملا جس نے اپنی کتاب میں یہ اعتراف کیا ہو کہ اس بدبخت کا بھی اس بربادی میں ہاتھ ہے احباب ناراض نہ ہوں لیکن قدرت اللہ شہاب نے اس کی ابتداء کی ، سب کو غلط لکھا اور خود کو فرشتہ ۔ اگر حکمرانوں کے چرنوں میں ایسے فرشتے موجود تھے تو پھر ہم تباہی کے رستے پر کیسے چلتے رہے اور یہ شانڑے استعفیٰ دے کر گھر کیوں نہیں چلے گئے ۔