وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت علاقائی اور پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال پر جائزے کیلئے اعلی سطح اجلاس

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت علاقائی اور پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال پر جائزے کیلئے اعلی سطح اجلاس*اجلاس میں علاقائی و خطے کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا. اجلاس میں پاکستان کے خطے میں امن کے قیام کیلئے کرادر اور مختلف اقدامات زیر غور آئے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال کا بھی بغور جائزہ لیا گیا اجلاس کو ملک کی داخلی صورتحال اور سیکیورٹی انتظامات پر بھی بریفنگ دی گئی. وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستانی شہریوں کے ایران سے انخلاء کے اقدامات کا بھی جائزہ۔ ان کی بحفاظت واپسی کے لیے دفتر خارجہ کی تفصیلی بریفنگ۔

آذربائیجان کے ذریعے پاکستانی شہریوں کے ایران سے انخلاء کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔ بریفنگ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفینس فورسز، وفاقی وزراء احسن اقبال، محسن نقوی، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، معاون خصوصی طارق فاطمی اور اعلی سول و عسکری حکام نے شرکت کی.

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ🚨 ایران کا بڑا اعلان: سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای امریکی–اسرائیلی حملوں میں شہید، 40 روزہ سوگ کا اعلان”شدید غم اور تاریخی موڑ کے ساتھ ایران نے اعلان کر دیا ہے کہسپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ🚨 ایران کا بڑا اعلان: سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای امریکی–اسرائیلی حملوں میں شہید، 40 روزہ سوگ کا اعلان”شدید غم اور تاریخی موڑ کے ساتھ ایران نے اعلان کر دیا ہے کہسپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔”بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق یہ حملہ ایران کی اعلیٰ قیادت، فوجی تنصیبات اور حساس مقامات کو نشانہ بنانے والی ایک بڑے پیمانے کی کارروائی کا حصہ تھا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق:🟥 ملک بھر میں 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان🟥 7 دن کی عام تعطیل🟥 عوام سے اتحاد اور صبر کی اپیلرپورٹس کے مطابق حملوں میں ایرانی اعلیٰ عسکری اور سیکیورٹی قیادت کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے ملک کو ایک بڑے قیادت کے خلا کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ⸻⚠️ خطے میں خطرناک موڑعالمی ذرائع کے مطابق خامنہ ای کی ہلاکت مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا ایک بڑا موڑ قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ وہ 1989 سے ایران کے سب سے طاقتور رہنما تھے اور ریاستی، عسکری اور نظریاتی نظام پر مکمل اختیار رکھتے تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد:⚠️ ایران میں قیادت کا بحران پیدا ہو سکتا ہے⚠️ خطے میں جنگ مزید پھیلنے کا خدشہ⚠️ عالمی تیل مارکیٹس اور سکیورٹی صورتحال متاثر ہونے کا امکان⸻🌍 عالمی ردعملاطلاعات کے مطابق اس واقعے کے بعد خطے میں فوری کشیدگی بڑھ گئی ہے اور ایران کی جانب سے مختلف ممالک میں جوابی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں مکمل علاقائی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔”

امام خامنہ نے آخری بار 1989 میں آخری غیر ملکی دورہ کیا تھا اس کے بعد وہ کبھی ایران سے باہر نہیں گئے شہید ہو گئے لیکن وطن کی مٹئ نہیں چھوڑئ آج کے دور میں ایسی مثال کم ملتی ہے جس دور میں بڑے بڑے ڈکٹیٹر بادشاہ حکمران سب سے بڑے فرعون وقت امریکہ (اسرائیل) کے سامنے جھکے ہوئے ہیں وہاں ایک بوڑھا شخص اکیلا ڈٹ کر کھڑا رہا ایک بھرپور زندگئ گزاری کہیں بھاگے یا چھپے نہیں باعزت شہادت کی موت نصیب ہوئی۔