قدرت کیسے کیسے رنگ دکھاتی ہے کیسے کیسے غرور اور بڑی بڑی اڑان بھرنے والے اور کراچی کے ایئرپورٹ اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن سے فلائیٹ ٹرینگ اور آپریشن لینے کے بعد یواے ایمیریٹس ایئر لائن آج دنیا کی ٹاپ تھری ایئر لائن اور دنیا کا جدید اور مصروف ترین انٹرنیشنل ایئرپورٹ جہاں ہر منٹ بعد فلائیٹ لینڈ اور ٹیک آف کرتی تھی آج سارے جہاز کراچی ایئر پورٹ اور پاکستان میں کھڑے ہیں عروج کے وقت اوقات اور زوال کو بھی یاد رکھنا چاہیے آج پاکستان بہت سے ممالک کے کام آیا ہے اس وقت خلیج اور عرب ممالک کا محفوظ ایئر پورٹ جو میزبان بن کر مسافروں اور فلائیٹ سٹاف کو کمپنسیٹ کر رہا ہے الحمدللہ

اسرائیل نے ایران کے اگلے سپریم لیڈر کا انتخاب کرنے والے ادارے کی عمارت کو نشانہ۔۔ایران میں ہر آنکھ اشکبار، جذباتی مناظر 168 بچیوں کا جنازہ۔امریکی و اس رائی لی ح ملے، ایران ایئر کا مسافر طیارہ تباہ۔مھنگای مھنگای ھاے مھنگای پاکستان میں غربت کا عالمی ریکارڈ۔70 فیصد عوام 2 وقت کی روٹی سے مجبور۔۔قندھار کابل خوشتر یکتا بامیان میں دھشت گردوں کے ٹھکانے تباہ۔۔مستقبل کی نقشہ گیری کیلئے شمالی اتحاد اور طالبان کے بعض اچھے بچوں سے بات چیت بھی جاری ہے۔۔افغانستان کا نائب ترجمان ھلاک۔ابراھم لنکن ٹو چین تباہ۔رات گئے اھم ترین ملاقات سب کچھ ختم۔عمران خان کی رھای 72 گھنٹے اھم۔6 بڑے تبادلے سب کچھ فائنل۔افغان سرزمین کسی اور ملک میں دہشتگردی کے لئے استعمال نہیں ہو گی۔۔۔اقوام متحدہ اور دنیا پاکستان پر سیز فائر کیلئے دباؤ ڈالے ۔۔سپریم لیڈر ہیبت اللہ کا آج جاری کردہ بیان پاکستان کے ساتھ ہر قسم کی بات چیت کے لئے ۔دبئی کے سرکاری میڈیا آفس نے تصدیق کی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب ڈرون حم*لے کے بعد آگ لگ گئی۔۔ایران کی طرف سے, امارات کے فجیرہ (Fujairah) شہر پر میزائلوں سے حملہ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج شام جمہوریہ ترکیہ کے صدر جناب رجب طیب اردوان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔وزیرِ اعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد برادر خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید مذمت کی۔وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو برادر خلیجی ممالک کی قیادت سے اپنے حالیہ روابط سے آگاہ کیا، جن میں پاکستان کی جانب سے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اعادہ اور بحران کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی تیاری سے متعلق پیغام شامل تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تمام فریقین زیادہ سے زیادہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو افغانستان کے تناظر میں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس حوالے سے قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

ابوظبی ایئرپورٹ پر پھنسے مسافروں کو منزل تک پہنچانے کیلئے عارضی پروازیںابوظبی میں پھنسے مسافروں کو پہنچانے کیلئے مختلف ایئرلائنز نے عارضی طور پر پروازیں آپریٹ کرنا شروع ہوگئیں، جبکہ دو غیرملکی ایئرلائنز کے طیاروں کو بھی روانہ کیا جائے گا جس کے بعد آپریشن 4 مارچ تک کےلیے پھر بند کردیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ابوظبی ایئرپورٹ پر 3 دن سے پھنسے ٹرانزٹ مسافروں کو ان کی منزلوں تک پہنچانے کیلئے اتحاد ایئر ویز نے پیر کی سہہ پہر 3 گھنٹے کے دوران 18 پروازیں چلا دیں۔ ان میں 1 کارگو اور 2 غیرملکی اور 15 مسافر طیارے شامل ہیں۔ابوظبی ایئرپورٹ سے اتحاد ایئرویز کے کارگو طیارے نے صبح 10 بج کر 52 منٹ پر ہانگ کانگ کےلیے ٹیک آف کیا۔ جس کے بعد دوپہر 2 بج کر 38 منٹ پر اتحاد ایئر کی پہلی پرواز ای وائی 67 لندن روانہ ہوئی۔بعدازاں ایمسٹرڈیم، میونخ، کراچی، کوچن، اسلام آباد، ممبئی، ماسکو، پیرس، مسقط، بنگلور، دہلی، جدہ، دمام، ریاض، اور قاہرہ کیلئے بھی پروازیں روانہ کی گئیں۔ایئر لائن اعلامیہ کے مطابق ان پروازوں سے 3 دن سے پھنسے ٹرانزٹ مسافر منزلوں تک پہنچائے گئے۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ ایمریٹس ایئرلائنز نے بھی محدود پروازوں کےلیے اپنا فلائیٹ آپریشن عارضی طور پر بحال کیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ان محدود پروازوں کےلیے ان مسافروں کو ترجیح دی جائے گی جن کی پاس پہلے سے بکنگز موجود ہوں گی،

مخصوص پروازوں پر منتقل مسافروں سے براہِ راست رابطہ کیا جائے گا۔ایئرلائن انتظامیہ نے ہدایت کی کہ مسافر اطلاع ملنے تک ایئرپورٹ نہ آئیں۔ابوظبی ایئرپورٹ پر پھنسے مسافروں کو منزل تک پہنچانے کیلئے عارضی پروازیںادھر انڈیگو ایئر اور لفتھنسا ایئر کے طیارے بھی روانہ کیے گئے، جس کے بعد فلائٹ آپریشن 4 مارچ دوپہر 2 بجے تک کیلئے کلوز کر دیا جائے گا۔ دبئی سے بھی فلائیٹ آپریشن بحالاماراتی ایئر کی 4 پروازیں رات 9 سے 10 بجے کے درمیان بھارت جائیں گی۔ دبئی سے خلیجی ایئرلائن کی پرواز رات 10 بج کر 45 منٹ پر بجے دوحہ جائے گی۔غیرملکی ایئر کی پرواز اے 2851 اٹلی کے شہر روم کیلئے روانہ ہوگی، دبئی سے پہلی کارگو پرواز جرمنی کے شہر لیپزگ کیلئے روانہ ہوگی۔

صدر ٹرمپ نے رضاپہلوی کے ایران کی قیادت سنبھالنے کا امکان کا مسترد کر دیارضا پہلوی بہت اچھے انسان ہیں، کچھ لوگ اسے پسند کرتے ہیں لیکن ہماری ترجیح ہے کہ ملک کے اندر سے کوئی مقبول شخصیت ذمہ داری سنبھالے۔ ڈونلڈ ٹرمپ

پاکستان ہاکی کا وہ ‘گمنام’ ہیرو جس نے دنیا کو جارہانہ ہاکی کھیلنے کا ڈھنگ سکھایا: لالہ فضل الرحمان
پاکستان ہاکی کی تاریخ ایسے ستاروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے دنیا کو حیران کیا، لیکن ‘لالہ فضل’ (فضل الرحمان) کا نام اس فہرست میں بہت منفرد ہے۔ ایبٹ آباد کی سرد ہواؤں میں پروان چڑھنے والا یہ کھلاڑی میدان میں آگ اگلتا تھا۔


✅ میکسیکو سے لاہور تک کا سفر:
1968 کے میکسیکو اولمپکس میں انہیں اپنی جارحانہ فطرت کی وجہ سے ریزرو کھلاڑی رکھا گیا، کیونکہ اس وقت کے پلانز میں ‘دفاعی’ ہاکی کو ترجیح دی جا رہی تھی۔ لیکن 1969 میں جب لاہور میں انٹرنیشنل ٹورنامنٹ ہوا، تو فضل نے پاکستان جونیئرز کی قیادت کرتے ہوئے آسٹریلیا جیسی بڑی ٹیموں کو دھول چٹا دی اور فائنل میں سینئر ٹیم کو ناک چنے چبوا دیے۔
ورلڈ کپ 1971 اور گولڈن ایرا:
فضل الرحمان اپنے عروج پر تھے جب پاکستان نے 1971 کا پہلا ورلڈ کپ جیتا۔ شہناز شیخ کے ساتھ مل کر انہوں نے بائیں جانب سے ایسی یلغار کی کہ دنیا کے بڑے بڑے دفاعی حصار ٹوٹ گئے۔ اسی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں ‘ورلڈ الیون’ میں شامل کیا گیا اور حکومتِ پاکستان نے ‘تمغہ حسنِ کارکردگی’ (Pride of Performance) سے نوازا۔
1972 میونخ اولمپکس: جب فضل کے ایک گول نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کیا!
ہاکی کی تاریخ کے چند اعصاب شکن لمحات میں سے ایک وہ تھا جب 1972 کے اولمپکس سیمی فائنل میں پاکستان اور بھارت آمنے سامنے تھے۔ جنگِ 1971 کی کڑواہٹ ابھی ہواؤں میں تھی اور ماحول انتہائی کشیدہ تھا۔
میچ کے 11 ویں منٹ میں پاکستان کو پنالٹی اسٹروک ملا۔ باقاعدہ اسٹروک لینے والے سعید انور کا اعتماد متزلزل ہو چکا تھا۔ ایسے میں کپتان نے فضل الرحمان کی طرف دیکھا۔
🚩 حکمِ کپتان اور فضل کا جگر:
فضل نے اپنی پوری زندگی میں کبھی انٹرنیشنل میچ میں پنالٹی اسٹروک نہیں لیا تھا، لیکن اس دن ان کے اعصاب فولاد کے بنے تھے۔ انہوں نے گیند کو بھارتی گول کیپر کے جال میں پہنچا کر پاکستان کو 0-2 کی جیت کی بنیاد فراہم کی۔
اگرچہ اس ٹورنامنٹ کا اختتام امپائرنگ کے تنازعات اور پابندیوں پر ہوا، لیکن فضل الرحمان نے اپنا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھوا لیا۔ وہ ایک سچے سپاہی کی طرح لڑے اور ایک فاتح کی طرح رخصت ہوئے۔
لالہ فضل’ کا ورثہ اور ایبٹ آباد کی ہاکی

جب ہم ہاکی کے لیجنڈز کی بات کرتے ہیں، تو فضل الرحمان کا نام عقیدت سے لیا جاتا ہے۔ وہ صرف ایک کھلاڑی نہیں تھے، بلکہ ایک ادارے کا نام تھے۔
🏑 خاندانی روایت:
لالہ فضل کا عکس ان کے بھتیجے نعیم اختر میں نظر آتا تھا، جنہوں نے اپنے چچا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے 1984 کے لاس اینجلس اولمپکس میں پاکستان کو گولڈ میڈل جتوایا۔ یہی نہیں، ان کے بیٹے انعام الرحمان نے بھی 2006 کے ساؤتھ ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کی اور سونے کا تمغہ جیتا۔
🎖️ خدمت کا سفر:
پی آئی اے سے ریٹائرمنٹ کے بعد، لالہ فضل نے آرام کرنے کے بجائے ایبٹ آباد میں ‘فضل ہاکی اکیڈمی’ کی بنیاد رکھی۔ اپنی مدد آپ کے تحت انہوں نے اس اکیڈمی سے ایسے ہیرے تراشے کہ ان کے 9 شاگردوں نے پاکستان کی قومی اور جونیئر ٹیموں میں جگہ بنائی۔
وہ ایک اسٹائلش ‘لیفٹ ہاف’ تھے جنہوں نے اس پوزیشن کو کھیلنے کا انداز ہی بدل دیا۔ آج کی ہاکی کو لالہ فضل جیسے مخلص اور پر عزم کوچز کی ضرورت ہے۔
ہاکی کے ایسے عظیم سپوتوں کو یاد رکھنا ہمارا فرض ہے۔
“کندیاں اسپورٹس ہاکی کلب، کندیاں” کی طرف سے لالہ فضل کو عقیدت بھرا سلام۔ 🇵🇰🫡

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے اراکین قومی اسمبلی سید نوید قمر، نوابزادہ افتخار خان بابر اور ان کے صاحبزادے عمران احمد نے ملاقات کی، جس میں قومی اسمبلی میں قانون سازی کے حوالے سے لائحہ عمل پر بات چیت ہوئی۔

امریکی مڈل ایسٹ میں مصروف ہیں پاکستان موقع سے فائدہ اٹھا کر افغانستان کو اسلحہ سے پاک کرنے میں مصروف ہے ۔اس وقت بھی شاہین قندھار،کابل،خوست ،پکتیا ،بامیان سمیت جس جس جگہ اسلحہ ڈپو موجود ہیں انہیں میزائلوں سے اڑا رہے ہیں ۔پانچ روز ہو گئے پاکستان کی کاروائی مسلسل جاری ہے اور حتمی نتایج تک جاری رہے گی ۔مستقبل کی نقشہ گیری کیلئے شمالی اتحاد اور طالبان کے بعض اچھے بچوں سے بات چیت بھی ساتھ ساتھ جاری ہے ۔

ابراہم لنکن ٹوچین کر کے ہزار کلو میٹر دور پہنچایا جا چکا ہے ۔ایرانی میزائلوں کی زد میں آنے سے پہلے سو میل دور تھا ۔حملہ میں رن وے تباہ ہونے اور انجن کی گراریاں خراب ہونے سے بھاگ نکلا ۔کویت میں سات جدید ترین لڑاکا جیٹ اتفاقاً گرنے سے بحرین،قطر سے سارے لڑاکا غائب ہو کر قبرص جا چھپے ہیں ۔

‏ایران کے پاس جوہری بم کا کوئی ثبوت نہیں، سربراہ عالمی جوہری نگراں ادارہ ایران میں ایٹمی ہتھیار بنانے کے کسی منظم پروگرام کے شواہد نہیں ملے، رافیل گروسی اسرائیلی اور امریکی دعووں کے برعکس، ایران کے پاس فی الوقت ایٹم بم نہیں ہے: سربراہ آئی اے ای اے ایران نے یورینیم کی افزودگی 60 فیصد تک کر لی ہے، 60 فیصد افزودہ یورینیم سویلین مقاصد کے لیے نہیں اس کا کوئی واضح ہدف نظر نہیں آتا، عالمی ایجنسی ایران کے پاس 10 ایٹمی وار ہیڈز بنانے کے لیے افزودہ یورینیم کا کافی ذخیرہ موجود ہے، رافیل گروسی سینٹری فیوجز مسلسل چل رہے ہیں، لیکن بم بنانے کے ارادے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی

ب ردعمل ہو گا ۔اظہر سیدلہو گرم رکھنے کیلئے ایرانی میزائلوں کی خوب تعریف کریں ، سپر سانک میزائلوں سے اسرائیل میں تباہی کے مناظر پر خوشی سے چھلانگیں لگائیں لیکن سچ یہ ہے اسرائیل کے بن گوریاں ائر پورٹ سے معمول کی مسافر پروازیں شروع ہو گئی ہیں۔حقیقت یہ ہے دوبئی ائر پورٹ سے بھی مسافر طیارے اڑنے لگے ہیں ۔اس کا دوسرا مطلب یہ ہے ایرانی میزائلوں کے شائد بیشتر لانچنگ پیڈ تباہ کر دئے گئے ہیں ۔جب کسی ملک کی فضاؤں میں ایک وقت میں دو سو لڑاکا طیارے مصنوعی سیاروں اور دیگر ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر تمام درکار اہداف کو کامیابی سے تباہ کر دیں ۔لیڈر شپ مار دی جائے ۔تیسرے درجہ کا فوجی افسر یعنی بریگیڈیئر پاسداران فورس کا سربراہ بن جائے تو اس کا یہ مطلب بھی ہوتا ہے چین آف کمانڈ بکھر گئی ہے ۔کہانی ختم ہونے والی ہے۔ریاست کا انتظامی ڈھانچہ کمزور ہو گیا ہے ۔سیاسی اور فوجی قیادت مار دی جائے تو دوسرے درجہ کی قیادت کو معاملات سنبھالنے میں وقت لگتا ہے ۔جب دوسرے درجہ کی بیشتر سیاسی اور فوجی قیادت مار دی جائے تو تیسرے درجہ میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے ۔سات ماہ پہلے ایران نے جس طرح اسرائیل کا مقابلہ کیا دشمن نے اس تمام عرصہ میں اپنی حکمت عملی دوبارہ ترتیب دی اور پھر دوبارہ حملہ کر دیا ۔ہمیں نہیں لگتا ایران اکیلا زیادہ دیر تک کھڑا رہ سکے گا ۔جذبات ایک طرف اور حقائق دوسری طرف ۔امریکہ کے مقابل قوتیں چین،روس ،ترکی اور پاکستان ایران کو بچا نہیں پائے ۔ایران کی فوجی اور سیاسی قیادت کو تحفظ نہیں دیا جا سکا ۔ایرانی حکومت تبدیل نہ بھی ہو اس کے دانت اور ناخن توڑ دئے گئے ہیں ۔جتنی تباہی اسرائیل اور امریکہ نے مسلط کی ہے اب اس کے اثرات اور نتایج آئیں گے ۔دوسرے اور تیسرے درجہ کی ایرانی فوجی اور سیاسی قیادت زیادہ دیر تک کھڑی نہیں رہ پائے گی ۔بظاہر امریکی اور اسرائیلی کامیاب ٹھہرائیں جائیں گے لیکن بحرحال نتایج کا سامنا انہیں بھی کرنا ہے ۔اس جنگ کی کوکھ سے جو انڈے بچے نکلیں گے وہ تیسری عالمی جنگ کے ہونگے ۔دنیا اب کبھی پہلے جیسی نہیں رہے گا ۔سب بھگتیں گے ۔انسان اور انسانیت بھگتے گی ،ایسا ہی ہو گا ۔ہر چیز کا ردعمل ہوتا ہے اس کابھی ردعمل ہو گا ۔

سپریم لیڈر ہیبت اللہ کا آج جاری کردہ بیان پاکستان کے ساتھ ہر قسم کی بات چیت کے لئے تیار ہیں، اسکی تمام شرطوں پر بات کرنے کو راضی ہیں۔ ہم یقین دلاتے ہیں افغان سرزمین کسی اور ملک میں دہشتگردی کے لئے استعمال نہیں ہو گی۔اقوام متحدہ اور دنیا پاکستان پر سیز فائر کیلئے دباؤ ڈالے ۔

کیا آپ بھی میری طرح1983ء سے پہلے پیدا ہوئے تھے؟ اگر آپ کا جواب ‘ہاں’ میں ہے تو آپ اس تحریر کو ضرور پڑھیں:•ہم وه آخری لوگ بیںجنھوں نے مٹی کے بنے گهروں میں بیٹھ کر پریوں کی کہانیاں سنیں۔جنھوں نے لال ٹین کی روشنی میں پریوں اور جنوں کی کہانیاں پڑهیں۔جنھوں نے سرکاری سکولوں میں ٹاٹوں پر بیٹھ کر پڑھا بلکہ گھر سے بوری ، توڑا لے کر سکول جاتے اور اس پر بیٹھتے رہے۔ •ہم وه آخری لوگ بیں جنھوں نے بیلوں کو ہل چلاتے دیکھا۔ جنھوں نے مٹی کے گھڑوں کا پانی پیا بغیر بجلی کے (ڈیزل انجن سے چلنے والے) ٹیوب ویل دیکھے۔ نہروں میں نہائے، درختوں سے آم اور امرود اپنے ہاتھوں سے توڑ کر کھائے۔پڑوس کے بزرگوں سے ڈانٹ بھی کھائی لیکن پلٹ کر کبھی بدمعاشی نہیں دکھائی۔ •ہم وه آخری لوگ بیںجنھوں نے عید کا چاند دیکھ کر تالیاں بجائیں۔ اور گھر والوں، دوستوں اور رشتہ داروں کو عید کارڈ بھی اپنے ہاتھوں سے لکھ کر بھیجے۔بمارے جیسا تو کوئی بھی نہیں ہاں جی بمارے جیسا اب کوئی بھی دنیا میں نہیں آئے گا کیونکہ •ہم وه آخری لوگ ہیںجو ہر خوشی اور غم میں ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کے کھڑے ہوئے۔ •ہم وہ لوگ ہیں۔جو گلے میں مفلر لٹکا کے خود کو بابو سمجھا کرتے تھے۔ ہم وه دلفریب لوگ بیں جنھوں نے شبنم اور ندیم کی ناکام محبت پہ آنسو بہائے اور انکل سرگم کو دیکھ کے خوش بوئے۔ •ہم وہ آخری لوگ ہیں جنھوں نے چھتوں پر چڑھ چڑھ کر ٹی وی کے انٹینے ٹھیک کیے۔ فلم دیکھنے کے لیے بفتہ بھر انتظار کیا کرتے تھے۔ ہم وه بہترین لوگ ہیں جنھوں نے تختی لکھنے کے لیے سیابی گاڑھی کی۔ جنھوں نے سکول کی گھنٹی ہجانے کو بھی ایک اعزاز سمجها۔ •ہم وه خوش نصیب لوگ بیں جنھوں نے رشتوں کی اصل مٹھاس دیکھی۔ ہم وہ لوگ بیں جو رات کو چاریائی گھر سے باہر لے جا کر کھلی فضا میں زمینوں میں سوئے۔ دن کو اکثر گاؤں والے گرمیوں میں کسی سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ کر گپیں لگایا کرتے تھے۔ ہاں جی وہ آخری لوگ ہم ہی تھے۔ ہم نے وہ بھی زمانے بھی دیکھے جب سب صحن میں سوتے تھے گرم مٹی پر شام کے وقت پانی کا چهڑكاؤ ہوتا تها اور گھر کے صحن میں ایک سٹينڈ والا پنكها ہوتا تھا۔بچوں کا لڑنا جهگڑنا اس بات پر ہوتا تھا کہ پنکھے کے سامنے کس کی منجی بچھے گی؟سورج کے نکلتے ہی آنکھ سب کی کهلتی تھی لیکن ڈهیٹ بن کر پهر بھی دیر تک سوئے رہتے تھے۔ آدهی رات کو کبھی بارش آ جاتی تو پھر اگلے دن بھی منجی گیلی بی رہتی تھی۔ وه صحن میں سونے کے سب دور ہی بیت گئے منجیاں بهی ٹوٹ گئیں رشتے بھی چھوٹ گے۔بہت خوبصورت خالص رشتوں کا دور تھا جب لوگ کم پڑھے لکھے اور مخلص ہوتے تھے ۔ زمانہ جیسے جیسے پڑھا لکھا ہوتا جارہا ہے ویسے ویسے یے مروتی، مفاد پرستی اور خود غرضی کا شکار ہوتا جا رہا ہے ۔ اچھے دور کی صرف یادیں باقی ہیں۔

آپ پہلے طے کرلیں ، کرنا کیا چاہتے ہیں ۔۔! ______________________عمران خان کے دور میں آرمی چیف اور وزیر خزانہ امداد مانگنے کے لیے ابوظہبی گئے‘ سلطان نے بات سن کر نہایت پتے کی بات کی‘ ان کا کہنا تھا ’’ایک وقت تھا جب آپ کا ہاتھ اوپر ہوتا تھا اور ہمارا نیچے ‘ ہم امداد کے لیے آپ کے پاس آتے تھے‘ آج ہمارا ہاتھ اوپر ہے اور آپ کا نیچے ‘ آپ ہمارے بھائی ہیں‘ ہم آپ کی مدد کر سکتے ہیں لیکن میرا مشورہ ہے ہم اوپر یا نیچے والا ہاتھ بننے کی بجائے آئیے ایک دوسرے سے برابری سے ہاتھ ملاتے ہیں‘ آپ کسی ملک سے امداد نہ لیں‘ آپ ملکوں سے بزنس کریں‘آپ اس طریقے سے امیر ہوں گے‘‘ پاکستانی وفد نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر سر جھکا لیے‘ دوسری مثال سعودی عرب کے موجودہ بادشاہ کنگ سلمان بن عبدالعزیزکی ہے‘ یہ بادشاہ بننے سے پہلے48سال ریاض کے گورنر رہے‘ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستان کے سفیر ایڈمرل شاہد کریم اللہ صدر کا پیغام لے کر ان کے پاس گئے‘ شاہ سلمان نے پاکستانی سفیر سے کہا ’’ہم پاکستان کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں لہٰذا ہم ہر مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن یہ یاد رکھیں یہ جذبہ صرف ہم تک ہے‘ ہمارے بچے پریکٹیکل ہیں‘ ہمارے بعد یہ آپ کا خیال نہیں رکھیں گے چناں چہ آپ کے لیے بہتر ہے آپ ہماری زندگی میں اپنے پائوں پر کھڑے ہو جائیں‘‘ سفیر نے یہ پیغام من وعن سائفر بنا کر ایوان صدر بھجوا دیا‘‘ تیسری مثال چین کی ہے‘جنرل قمر جاوید باجوہ 2021ء میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ گئے‘ صدر شی نے انہیں صرف دو مشورے دیے‘ آپ ایک ہی بار یہ فیصلہ کر لیں آپ کیا کرنا چاہتے ہیں اور دوسرا یہ یاد رکھیں ترقی اور لڑائی میں ترقی پہلے نمبر پر آتی ہے اور لڑائی دوسرے پر‘ آپ لوگ ترقی پر کمپرومائز نہ کریں‘ بھارت سے لڑیں لیکن پہلے ترقی کریں‘ انہوں نے چین کی مثال دی ’’ہمارے بھارت کے ساتھ 70 سال سے تنازعے چل رہے ہیں‘ ہماری تازہ تازہ جھڑپ بھی ہوئی مگر اس کے باوجود بھارت کے ساتھ ہمارا تجارتی حجم بڑھتا چلا جا رہا ہے‘ ہم لڑائی کے بعد بھارت سے زیادہ تجارت کر رہے ہیں‘‘۔آپ تھوڑی دیر کے لیے ان تمام مشوروں کو سائیڈ پر رکھیں اور دہلی میں 9 اور 10 ستمبر کے جی 20 سربراہی اجلاس پر فوکس کریں‘ بھارت نہ صرف دنیا کی 20 بڑی معیشتوں میں شامل ہو چکا ہے بلکہ یہ آج بڑی معیشتوں کی میزبانی بھی کر رہا ہے‘ دوسری حقیقت جی 20 میں انڈونیشیا‘ جنوبی کوریا‘ میکسیکو‘ جنوبی افریقہ اور ترکی بھی شامل ہیں اور یہ پانچوں ملک ہمارے سامنے اس ریس میں شامل ہوئے ‘ آپ ترکی کو 2000ء میں دیکھیں اور اس کے بعد اسے 2010ء اور 2023ء میں دیکھیں‘ ترکی نے کساد بازاری اور ری سیشن کے باوجود ٹھیک ٹھاک ترقی کی‘ جنوبی کوریا نے 1960ء کی دہائی میں پاکستان سے ’’پانچ سالہ معاشی منصوبہ‘‘ مستعار لیا تھا اور اپنے تین سو سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کے پاس بھجوائے تھے تاکہ یہ ڈاکٹر صاحب سے نوبل پرائزجیتنے کا طریقہ سیکھ سکیں‘ انڈونیشیا ہمارا برادر اسلامی ملک ہے‘اسلامی ملکوں میں سب سے پہلے دہشت گردی اس ملک میں شروع ہوئی تھی‘12 اکتوبر 2002ء کودہشت گرد اسلامی جماعت نے بالی میں204لوگ قتل کر دیے تھے جس کے بعد انڈونیشیا کی سیاحتی انڈسٹری تباہ ہو گئی لیکن صرف 20سال بعد2022ء میں انڈونیشیا نے جی 20 کی میزبانی کی‘ ایک وقت تھا انڈونیشیا کے سیاست دانوں‘ فوجی سربراہوں اور ارب پتی بزنس مینوں کے بچے تعلیم کے لیے پاکستان آتے تھے لیکن آج وہ کہاں ہے اور ہم کہاں ہیں؟ میکسیکو بھی چند برس پہلے تک لاطینی امریکا کا غریب ملک ہوتا تھا‘ اس کا مافیا آج بھی پوری دنیا میں بدنام ہے لیکن یہ بھی اب جی 20 میں شامل ہے اور جنوبی افریقہ 1994ء میں آزاد ہوا اور اس سے پہلے وہاں خوف ناک نسلی فسادات ہوئے‘ لاکھوں لوگوں کی لاشیں سڑکوں پر پڑی ہوتی تھیں‘آج بھی اس ملک میں گوروں اور کالوں کے درمیان اختلافات ہیں لیکن یہ بھی آج جی 20 میں شامل ہے‘ بھارت نے ان کے علاوہ بنگلہ دیش‘ مصر‘ نائیجیریا‘ متحدہ عرب امارات‘ عمان‘ سنگاپور‘ نیدرلینڈ‘ سپین اور ماریشیس کو بھی بطور مہمان دعوت دی‘ یہ تمام ملک کبھی پاکستان کے دوست ہوتے تھے‘ بنگلہ دیش نہ صرف پاکستان کا حصہ تھا بلکہ پاکستان کی بنیاد ہی بنگالیوں نے رکھی تھی‘ آل انڈیا مسلم لیگ ڈھاکہ میں بنی تھی اور 23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان بنگالی لیڈر اے کے فضل الحق نے پیش کی تھی‘ ہم نے 1971ء میں بنگالیوں کو نالائق‘ پس ماندہ اور گندہ قرار دے کر الگ کر دیا لیکن آج بنگلہ دیش معاشی لحاظ سے پاکستان سے آگے ہے اور یہ جی 20 ملکوں کے ساتھ بھی بیٹھا ہے‘ ہم نے بھٹو دور میں اسرائیل کے خلاف جنگ میں مصر‘ اردن اور شام کی مدد کی تھی‘ نائیجیریا جیسے درجن بھر افریقی ملک پاکستان سے ٹیکنالوجی سیکھا کرتے تھے‘ نائیجیریا کے فوجی افسر پاکستانی اکیڈمیوں میں تربیت حاصل کرتے تھے‘متحدہ عرب امارات نے سٹارٹ ہی پاکستان سے لیا تھا‘ ایمریٹس ائیرلائین کا مخفف آج بھی ای کے ہے اور ای ایمریٹس سے لیا گیا اور کے کراچی سے‘ دنیا کی یہ بڑی ائیرلائین کراچی سے سٹارٹ ہوئی تھی اور ہم نے اسے جہاز بھی دیا تھا اور عملہ بھی‘ یو اے ای کے تمام صحرا پاکستانی ہنرمندوں نے آباد کیے لیکن آج یہ کہاں ہے اور ہم کہاں؟ عمان ہمارا دوست تھا‘ آج بھی عمان میں اڑھائی لاکھ پاکستانی کام کرتے ہیں‘ سلطان قابوس پاکستان آتے تھے تو انہیں کراچی کا ڈپٹی کمشنر ریسیو کرتا تھا اور ان کی صدر سے ملاقات کے لیے سفیر کو ٹھیک ٹھاک پاپڑ بیلنے پڑتے تھے‘سنگا پور نے بھی پاکستان سے ترقی کا سفر شروع کیا تھا‘سنگاپور ائیرلائین ہو یا پھر سنگا پور پورٹ یہ پاکستانیوں نے بنائی اور ایک وقت تھا جب لی کو آن یو نے پاکستان کے سب سے زیادہ دورے کیے اور یہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں اور مشہور لوگوں کو جانتے تھے‘ نیدر لینڈ نے 1960ء کی دہائی میں پاکستان کو ٹیلی ویژن سیٹ بیچے تھے‘ فلپس نیدر لینڈ کا برینڈ ہے‘ پاکستان نے فلپس کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دی اور ہالینڈ نے اسے اس وقت کی سب سے بڑی ڈیل قرار دیا تھا‘ سپین یورپ کا واحد ملک تھا جو ہر قسم کے پاکستانی کو امیگریشن بھی دے دیتا تھا اور کام کی اجازت بھی‘ آج بھی سپین میں لاکھوں پاکستانی ہیں‘ مونس الٰہی بھی ان میں شامل ہیں اور پیچھے رہ گیا موریشیس تو ہم نے آج تک اسے دوستی کے قابل ہی نہیں سمجھا لیکن یہ تمام ملک اس وقت جی 20 کے سربراہوں کے ساتھ بیٹھے ہیںاور ہم دور بیٹھ کر انہیں حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔ہم اب سعودی عرب کی طرف آتے ہیں‘ دنیا نے ہمیشہ ان دونوں ملکوں کو اکٹھا دیکھا‘ 1979ء میں خانہ کعبہ پر حملہ ہوا تو صرف پاکستانی فوج کو طلب کیا گیا‘ یمن میں حوثی باغیوں کے ایشو پر بھی پاکستان نے سعودی عرب کی مدد کی‘ ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگیں‘ اس وقت سعودی عرب دنیا کا واحد ملک تھا جس نے کھل کر ہمارا ساتھ دیا‘ ہمیں مفت پٹرول تک دیا گیا‘ آج بھی پاکستان کے 20 لاکھ ورکرز عرب ملکوں میں ملازمتیں کر رہے ہیں اور ان کی رقوم سے ملک چل رہا ہے‘ بھارت سعودی عرب اور یو اے ای پر مسلسل دبائو ڈال رہا ہے آپ پاکستانی ورکرز کو نکال دیں ‘ہم آپ کو سستے اور زیادہ ہنرمند دے دیتے ہیں مگر عرب یہ پیش کش قبول نہیں کر رہے لیکن سوال یہ ہے عرب ممالک کب تک انکار کریں گے؟ہمیں ماننا ہوگا دنیا بدل چکی ہے‘ عرب ملکوں میں نئی نسل اقتدار اور بزنس میں آچکی ہے اور یہ نسل بھائی چارے کی بجائے کاروبار کو اہمیت دیتی ہے‘ یو اے ای میں حکومت نے انویسٹمنٹ کمپنی بنا رکھی ہے‘ یہ کمپنی پانچ سو بلین ڈالر کی مالک ہے اور اس کے کارندے پوری دنیا میں کاروباری مواقع تلاش کر رہے ہیں‘یہ ایسے ملازمین کو سال بعد نکال دیتے ہیں جو کمپنی کے پیسے انویسٹ نہیں کرتے لہٰذا ان حالات میں عربوں کو پاکستان میں کیا دل چسپی ہو گی؟ ہم مانیں یا نہ مانیں مگر حقیقت یہی ہے ہم دنیا اور اپنے دوستوں کی نظروں میں اس قدر بے وقعت ہو چکے ہیں کہ ہم نے سعودی ولی عہد کو بھارت جاتے وقت چند گھنٹے پاکستان میں گزارنے کی دعوت دی مگر ولی عہد تیار نہیں ہوئے‘دوسری طرف کانفرنس10 ستمبرکو ختم ہوئی مگر ولی عہد 11ستمبرکی رات تک بھارت میں رہے‘ یہ کانفرنس کے بعد بھی بھارتی تاجروں اور صنعت کاروں سے ملاقاتیں کرتے رہے‘ کیوں؟ کیوں کہ انہیں بھارت میں بزنس کے مواقع نظر آ رہے ہیں‘ بھارت اور سعودی عرب کے درمیان اس وقت 5 کھرب ڈالر کی تجارت ہے جب کہ ہم جب بھی سعودی عرب جاتے ہیں پیسے مانگنے جاتے ہیں چناں چہ یہ لوگ پھر ہماری عزت کیوں کریں‘ یہ پاکستان کیوں آئیں؟۔ہمارے پاس اب صرف دو آپشن بچے ہیں‘ ہم ذلالت کے اس گڑھے میں گرے رہیں اور گل سڑ کر ختم ہو جائیں یا پھر ہم غیرت کھائیں اور ایک بار جی ہاں آخری بار اٹھ کر اس ملک کی سمت ٹھیک کر لیں اور عزت کے ساتھ زندگی گزاریں‘ چوائس صرف ہماری ہے تاہم ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا ہم افغانستان سے لے کر امریکا تک پوری دنیا کے لیے بوجھ بن چکے ہیں اور ہم نے اگر آج اپنے آپ کو نہ سنبھالا تو دنیا زیادہ دیر تک ہمارا بوجھ برداشت نہیں کرے گی‘ یہ ہمیں مرنے اور مٹنے کے لیے تنہا چھوڑ دے گی‘ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ۔ ______________

اسلام آباد ہائیکورٹ نے علاج کیلئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کی متفرق درخواست پر نوٹس جاری کردیئے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کیس میں بانی پی ٹی آئی کی نجی اسپتال میں علاج کی متفرق درخواست پر جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس خادم سومرو نے اعتراضات کے ساتھ سماعت کی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ ، سلمان اکرم راجا و دیگر وکلا پیش ہوئے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے علاج کیلئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کی متفرق درخواست پر نوٹس جاری کردیئے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کیس میں بانی پی ٹی آئی کی نجی اسپتال میں علاج کی متفرق درخواست پر جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس خادم سومرو نے اعتراضات کے ساتھ سماعت کی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ ، سلمان اکرم راجا و دیگر وکلا پیش ہوئے۔عدالت نے عمران خان کے علاج کی متفرق درخواست کو نمبر لگانے کی ہدایت کردی، عدالت کا استفسار نے استفسارکیا کہ آپ مرکزی اپیل پر دلائل کیوں نہیں دیتے ہیں؟ جس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم تو تیار ہیں، آپ کل ہی ہماری اپیل لگا دیں۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ ہم آپ کی اپیل اور درخواست دونوں سن لیتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپیل کی پیپربُک تیار کرنے کی ہدایت بھی کردی۔لطیف کھوسہ نے درخواست کل ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی،جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ پیپر بک تیار ہونے میں دو تین دن لگ جائیں گے، اسپتال منتقلی کی درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری کردیا ہے، مرکزی اپیل آئندہ ہفتے مقررکررہے ہیں،تیاری کے ساتھ آیئے گا، عدالت نے توشہ خانہ فوجداری کیس 10مارچ کو مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔

ایران کا سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے پر میزائل حملہ، سعودی عرب میں ایمرجنسی ، ہسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ، میڈیا رپورٹس…اے ایف پی کے مطابق ریاض کے سفارتی کوارٹر سے دھماکوں اور دھویں کی اطلاعاتبحرین عوام گھروں سے باہر نکل ائی ، سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں.دبئی میں ایران کے خودکش ڈرون نے اہم حدف کو نشانہ لگایا ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

امریکی فوجی جہاں پر چھپیں گے ہم ان کو نشا.نہ بنائیں گے، ایرانی وزیر خارجہ….!!!!فرق نہیں پڑتا وہ کسے کے گھر میں ہوں یا ہوٹل میں ہوں، ایرانی وزیر خارجہ.

…!!!!ہم نے سعودیہ میں آرامکو آئل ریفائنری کو ٹارگٹ نہیں کیا، ایرانی وزیر خارجہ….!!!!ہم صرف انہی ٹارگٹس کو ہٹ کر رھے ہیں جہاں امریکن فوجی رہائش پذیر ہیں، ایرانی وزیر خارجہ….!!!!

بڑی خبر :ابو ظہبی ائیرپورٹ پر یکے بعد دیگرے 6 حملے ، عرب امارات دهماكوں سے گونج اٹھا شارجہ ائیرپورٹ بند۔۔۔

ہنگامی الرٹ: مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود بند، عالمی فلائٹ آپریشنز شدید متاثر بین الاقوامی مسافر توجہ فرمائیں!28 فروری 2026 کو مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال اور فوجی کارروائیوں کے بعد خطے کے کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود (Airspace) مکمل یا جزوی طور پر بند کر دی ہیں

🚨 ہنگامی الرٹ: مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود بند، عالمی فلائٹ آپریشنز شدید متاثر ✈️🚫بین الاقوامی مسافر توجہ فرمائیں!28 فروری 2026 کو مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال اور فوجی کارروائیوں کے بعد خطے کے کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود (Airspace) مکمل یا جزوی طور پر بند کر دی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں پروازیں منسوخ یا متبادل راستوں پر منتقل کر دی گئی ہیں۔📍 موجودہ صورتحال (2 مارچ 2026 تک):مکمل بندش: ایران، عراق، اسرائیل، کویت، بحرین، قطر اور شام کی فضائی حدود مکمل طور پر بند ہیں۔متحدہ عرب امارات (UAE): دبئی (DXB) اور ابوظہبی (AUH) جیسے بڑے ایئرپورٹس پر آپریشنز معطل کر دیے گئے ہیں۔سعودی عرب: عراق اور خلیج فارس کی سرحدوں کے قریب فضائی حدود جزوی طور پر بند ہے۔اردن اور لبنان: فضائی حدود کھلی ہیں لیکن پروازوں کی آمد و رفت انتہائی محدود ہے۔📉 ایئرلائنز اور مسافروں پر اثرات:پروازوں کی منسوخی: گزشتہ ویک اینڈ پر 3200 سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔بڑے ایئرلائنز کی گراؤنڈنگ: ایمریٹس (Emirates)، اتحاد (Etihad) اور قطر ایئرویز نے اپنے حبس (Hubs) سے زیادہ تر آپریشنز معطل کر دیے ہیں۔طویل سفر: یورپ، ایشیا اور شمالی امریکہ کے درمیان پروازیں طویل متبادل راستے اختیار کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے کئی طیارے ایندھن کے لیے پراگ یا ویانا جیسے شہروں میں رکنے پر مجبور ہیں۔⏳ پروازوں کی بحالی (ممکنہ اوقات):متحدہ عرب امارات: پروازوں کی معطلی فی الحال 1200 UTC، 2 مارچ تک متوقع ہے۔ایران: فضائی حدود کم از کم 0830 UTC، 3 مارچ تک بند رہنے کا امکان ہے۔💡 مسافروں کے لیے اہم ہدایات:ایئرپورٹ نہ جائیں: جب تک آپ کی ایئرلائن پرواز کے چلنے کی تصدیق نہ کر دے، ایئرپورٹ جانے سے گریز کریں۔فلائٹ اسٹیٹس چیک کریں: تازہ ترین صورتحال کے لیے Flightradar24 یا ایئرلائن کی ویب سائٹ چیک کریں۔ایئرلائن سے رابطہ کریں: ایئر انڈیا، انڈیگو اور دیگر ایئرلائنز ری بکنگ اور ری فنڈ کی سہولت دے رہی ہیں۔انشورنس پالیسی: اپنی ٹریول انشورنس کا جائزہ لیں، کیونکہ زیادہ تر پالیسیاں “جنگی حالات” کے نقصانات کو کور نہیں

سعودی عرب کے شہر راس تنورا میں ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا گیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق راس تنورا ڈرون حملے کے بعد احتیاطاً ریفائنری بند کر دی گئی

سعودی عرب کے شہر راس تنورا میں ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا گیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق راس تنورا ڈرون حملے کے بعد احتیاطاً ریفائنری بند کر دی گئی۔سعودی شہر راس تنورا میں ریفائنری پر ڈرون حملے کے بعد صورتِ حال قابو میں ہےواضح رہے کہ سعودی وزارت خارجہ نے ریاض اور مشرقی علاقوں میں میزائل حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ میزائل حملوں کو کسی بہانے یا وجہ جائز قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔وزارت خارجہ کے اعلامیے کے مطابق یہ حملے ایرانی حکام کے علم کے باوجود کیے گئے کہ سعودی عرب اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے

امریکی 590 ھلاک تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک مارے گئے امریکی فوجیوں کی تعداد 590 ہوگئی ہے۔ اپنے بیان میں ایرانی فوج نے کہا کہ کویت میں امریکی فوجی اڈے کو مکمل طور پر ناکارہ بنادیا گیا ہے۔ ایرانی فوج کے مطابق امریکا کے طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کو چار میزائلوں سے ہدف بنایا گیا۔دوسری جانب امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکی بحری بیڑہ ابراہم لنکن ایرانی میزائلوں کا نشانہ نہیں بنا، ایرانی میزائل بحری بیڑے کے قریب تک نہیں آ سکے۔ تاہم سینٹ کام نے 3 امریکی فوجی ہلاک اور 5 زخمی ہو نے کی تصدیق کی ہے۔واضح رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکا اور برطانیہ کے 3 تیل بردار جہازوں پر بھی حملے کیے ہیں۔بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر ڈرونز سے حملہ کیا گیا، مسقط کے قریب بحری جہاز پر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

تباہ ہونے والے ائر پورٹس کی بحالی کیلئے آنے والے اسرائیلی اور بھارتی انجینئر کے ہیلی کاپٹر کو قندھار میں کسی نامعلوم شخص سے کاندھے پر رکھ کر فائر کرنے والے میزائل سے گرا دیا ۔گیارہ انجینیر ہلاک۔۔اسرائیلی ھیلی کاپٹر تباہ۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اج سیکورٹی ھای الرٹ۔۔ایف آئی ایچ مینز ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ۔۔۔پاکستان نے اپنا پہلا میچ جیت لیا چائنا کو 4-5 سے شکست۔حکومت پاکستان نے چاروں صوبوں کو حکم جاری کردیا کہ 1 مارچ 2026 سے ہر ایس ایچ او اپنے ایریا کے گھر گھر پر جاکر شناختی کارڈ چیک کریں جعلی شناختی کارڈ بنانے والوں اور سہولت کاروں کے خلاف سخت کاروائی کریں۔۔بھارت نیوزی لینڈ ساوتھ افریقہ انگلینڈ سیمی فائنل میں۔ولڈکپ چمپین کون بھارت حارث فیورٹ پاکستان عبرت ناک شکست کی وجہ سے اوٹ۔۔پاکستان کا قطر کو دو ٹوک جواب۔۔پاکستان کو بڑے سائبر اٹیک کا سامنا ہےغیر ضروری لنک پر کلک نہ کریں۔۔دفاعی اطلاعات کے مطابق پاک فضائیہ کی انڈین بارڈر کے ساتھ پیٹرولنگ ۔۔۔!!!۔پاکستان پر بھی بھارتی حملے کا خطرہ۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

‏بڑھا ہے جب بھی ستم اپنی انتہا کی طرفزمانہ دیکھنے لگتا ہے کربلا کی طرفہوا بدل بھی تو سکتی ہے کیا خبر تھی انہیںجو لوگ ہو گئے چلتی ہوئی ہوا کی طرفمنافقت ہے کہ تلواریں ہوں یزید کے ساتھاور اپنے دل میں رہے سبطِ مصطفی کی طرفسلیم کوثر

آہ ڈاکٹر عبد الحی بلوچ 25 فروری 2022ءکو معمول کے مطابق دوستوں کے ساتھ لنچ کر کے گھر پہنچا تو نیند نے حملہ کر دیا ۔خیال تھا کہ آج کئی ماہ بعد قیلولہ کروں گا۔لیکن احباب کی فون کالز نے نیند کو کوسوں دور کر دیا۔ماضی میں جب ہمیں نیند نہیں آتی تھی تو کسی کتاب کا مطالعہ کر لیا کرتا تھا۔اب کتاب کا متبادل موبائل فون ہے۔جہاں پر دنیا بھر کی تازہ ترین اطلاعات آپ کی چشم ابرو کی منتظر رہتی ہیں۔کبھی نیند، کبھی موبائل اور کتاب کے کاغذ کی خوشبو میں شام کے سات بج گئے۔ تو کمر سیدھی کر کے ایک مرتبہ موبائل فون کے واٹس ایپ میں آئے ہوئے نوٹیفیکیشن دیکھنے لگا۔تو بزرگ سیاستدان، سابق سینیٹر ڈاکٹر عبدالحی بلوچ کے ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے کی افسوس ناک خبر پڑھی

۔تو نظروں کے سامنے ان کا محبت بھرا چہرہ سامنے آ گیا۔ کہ ان سے جب بھی ملاقات ہوتی ۔تو یوں لگتا تھا کہ وہ پاکستان کو روشن خیال اور اجلا دیکھنا چاہتے تھے۔گفتگو کرتے ہوئے ان کے لہجے میں جو تلخی دیکھنے کو ملتی۔اس کو الفاظ میں قلم بند نہیں کیا جا سکتا ۔وہ ہمشیہ کہتے۔بلوچستان کے عوام کب تک محروم رہیں گے۔خاص طور پر وہ مشرف دور میں بلوچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ذکر پر دل گرفتہ نظر آتے۔ملتان میں ڈاکٹر عبد الحی بلوچ کا ٹھکانہ پہلے سید قسور گردیزی کا گھرانہ تھا۔ان کے انتقال کے بعد سید زاہد حسین گردیزی نے ان کی کئی برس تک میزبانی کی۔جب ان کا تواتر کے ساتھ ملتان آنا جانا ہوا تو پھر ان کے میزبانوں میں ایک نام کامران تھہیم کا اضافہ ہوا۔زاہد حسین گردیزی اور کامران تھہیم ان سے بے لوث محبت کرتے تھے۔خاص طور پر سید قسور گردیزی کے تمام صاحبزادے اکثر اپنے گھروں یا کسی ہوٹل میں ان سے مکالمے کی سبیل پیدا کرتے رہتے۔ وہ اکثر کہتے کہ ملتان اور بلوچستان کے عوام کا مزاج ملتا جلتا ہے۔دونوں علاقوں کے لوگ اپنے حقوق کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ان علاقوں کے عوام کی جھولیاں خالی ہیں۔ڈاکٹر عبدالحی بلوچ یکم فروری 1946 کو بلوچستان کے علاقے بھاگ ناڑی میں پیدا ہوئے آبائ علاقے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈاو میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔دوران تعلیم ہی انھوں نے طلبہ سیاست کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا۔اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی۔1970 کے عام انتخابات میں انھوں نے نیشنل عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر حصہ لیا اور خان آف قلات کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1973 کے آئین پر انھوں انھوں یہ کہہ کر دستخط نہ کئے

۔کہ تک آئین میں محروم طبقات کے لیے کچھ نہیں کیا جائے گا۔تو میں اس پر دستخط نہیں کروں گا۔نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد ہونے کے بعد انہوں نے 1988 میں دیگر قوم پرست قیادت کے ساتھ مل کر بلوچستان نیشنل موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ 1996 میں اسی پارٹی کے ٹکٹ پر سینٹ کے رکن منتخب ہوئے۔2003 سے لے کر 2018ء تک نیشنل پارٹی کے ساتھ منسلک رہے۔وہ اسی پارٹی کے سربراہ بھی بنے۔بعد میں اختلافات کے باعث مستعفی ہو کر اپنی سیاسی پارٹی نیشنل ڈیموکریٹک کی بنیاد رکھی۔وہ گزشتہ دو عشروں سے تواتر سے جنوبی پنجاب کے عوام کے مسائل کو اجاگر کر رہے تھے۔یہی وجہ تھی کہ اب ان کا زیادہ وقت انہی علاقوں میں مکالمہ کرتے ہوئے گزرتا۔وہ انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔کہ اپنے علاقے کے علاوہ بھی ہر جگہ پر سڑکوں پر پیدل گھومتے پھرتے دکھائی دیتے۔عوام کے حقوق کی جنگ لڑنا ان کی گھٹی میں شامل تھا۔اس لئے ان گھل مل کر تازگی محسوس کرتے۔بعض اوقات وہ عوام کا مقدمہ لڑتے ہوئے تلخ بھی ہو جاتے۔کہ کہتے تھے کہ عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں ہے۔۔موجودہ حکومت سے کبھی خوش نہ ہوئے۔اور اکثر کہتے کہ جب تک عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے میں ایسی حکومت کے خلاف کلمہ حق بلند کرتا رہوں گا۔2018ء میں جب انھیں جالب امن ایوارڈ سے نوازا گیا تو اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس اعزاز کے ساتھ انصاف اس وقت کر سکوں گا۔جب بلوچستان کے پرآشوب علاقوں میں امن قائم ہو گا۔ایک مرتبہ جب دوستوں کی منڈلی سید زاہد حسین گردیزی کے گھر لگی ہوئی تھی۔تو میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے 1973 کے آئین پر دستخط کیوں نہ کئے۔کہنے لگے تب بھی مجھے اس بات کا احساس تھا کہ بلوچستان کے عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جا رہا تھا تو تب میں نے نواب خیر بخش مری کے موقف اور نظریہ کی تائید کرتے ہوئے دستخط نہ کئے۔اب جب بھی حکمران آئین میں تبدیلی کرتے ہیں تو مجھے آئین پر دستخط نہ کرنے کا فیصلہ درست لگتا ہے۔عام طور پر ڈاکٹر عبدالحی بلوچ سادہ لباس اور خوش مزاج تھے۔ہر ملنے والے مسکرا کر استقبال کرتے۔

وہ بلوچستان کے مجبور و محکوم عوام کی آخری امید تھے ۔جنہوں نے اپنے آپ کو ان کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ملتان سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اکثر یہاں کے احباب کی دعوت ہر تشریف لے آتے۔انھوں نے آخری سفر بھی جنوبی پنجاب کی جانب کیا۔کوئٹہ سے فیصل آباد جاتے ہوئے جلال پور پیروالہ کے قریب ڈرائیور کی غفلت کے حادثے کا شکار ہو گئے۔اور موقعہ پر جاں بحق ہو گئے۔ ان کی موت بے سہارا اور اپنے حقوق سے محروم طبقات کے لیے کسی سانحہ سے کم نہیں۔کہ ملکی سیاست میں ان جیسا نڈر اور بے باک سیاست دان اب کہاں دیکھنے کو ملے گا۔جو فٹ پاتھ پر بیٹھ کر سادہ روٹی اور چنے کھا لیتا تھا۔کئی بار جیل یاترا کی۔تشدد کا نشانہ بنے۔لیکن ان کے عزم وہمت میں کوئی کمی نہ آئ۔جب بھی کسی حکومتی جبر کا شکار ہوتے۔وہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ اپنے نظریات پر ڈٹ جاتے۔

سی ڈی اے کا بڑا فیصلہ، غوری ٹاؤن فیز 7 کی غیرقانونی تعمیرات گرانے اور تمام کام فوری روکنے کا حکماسلام آباد ہائی وے پر واقع غوری ٹاؤن فیز 7 کے خلاف کارروائی، غیرقانونی ہاؤسنگ اسکیم میں جاری تعمیراتی کام فوری بند کرنے اور تمام عمارتیں 15 دن میں گرانے کا حکم جاری۔ سی ڈی اے کے مطابق غوری ٹاؤن فیز 7 کی تعمیرات CDA آرڈیننس 1960، ICT زوننگ ریگولیشن 1992 اور بلڈنگ کنٹرول ریگولیشن 2020 کی خلاف ورزی ہیں۔جاری سرکلر کے مطابق حکم نہ ماننے کی صورت میں سی ڈی اے پولیس فورس کے ذریعے زبردستی کارروائی کرے گا اور تمام اخراجات متعلقہ ذمہ داران سے وصول کیے جائیں گے۔ ضلعی انتظامیہ، ایس ایس پی اسلام آباد، ڈی جی بی اینڈ ایچ سی اور ڈی جی انفورسمنٹ کو فوری کارروائی کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جبکہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق غیرقانونی تعمیرات کی رجسٹریاں اور انتقالِ اراضی روکنے کی بھی ہدایات جاری ہو چکی ہیں۔ سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ شہر میں غیرقانونی اور غیرمنظور شدہ ہاؤسنگ اسکیمیں کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی.#sardarmohsinzai

‏مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا مشترکہ اجلاس مورخہ 2 مارچ 2026 بروز پیر سہ پہر 3 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا، ترجمان قومی اسمبلی ‏مجلس شوریٰ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت آصف علی زرداری خطاب کریں گے، ترجمان قومی اسمبلی ‏پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال حال کے پیش نظر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، ترجمان قومی اسمبلی ‏پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں کسی بھی غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع ہو گا، ترجمان قومی اسمبلی‏ ‏مشترکہ اجلاس کے موقع پر مہمانوں کی انٹری پر پابندی عائد کی گئی ہے، ترجمان قومی اسمبلی ‏موجودہ صورتحال کے پیش نظر غیر متعلقہ افراد کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہو گا، ترجمان قومی اسمبلی ‏قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے معزز اراکین پارلیمنٹ سے مشترکہ اجلاس کے موقع پر اپنے ساتھ کوئی بھی مہمان نہ لانے کی درخواست کی گئی ہے، ترجمان قومی اسمبلی‏پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کوریج کے لیے صرف اُن صحافی حضرات کی انٹری ہو گی جن کے پاس قومی اسمبلی اور سینٹ کا 2026 کا نیا کارآمد پریس گیلری کارڈ موجود ہو گا،

ترجمان قومی اسمبلی ‏ہر چینل سے صرف ایک کیمرہ مین کو کوریج کی اجازت ہو گی جس کے کوائف متعلقہ ادارے نے ارسال کیے ہونگے، ترجمان قومی اسمبلی ‏کیمرہ مین حضرات اپنی مخصوص الاٹ کردہ جگہ سے کوریج کر سکیں گے اور غیر متعلقہ جگہوں پر کسی بھی چینل کے کیمرہ کو کوریج کی اجازت نہیں ہو گی، ترجمان قومی اسمبلی ‏مشترکہ اجلاس کے موقع پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے یہ اقدامات سیکیورٹی کی سنگین صورتحال کے پیش نظر اُٹھائے گے ہیں، ترجمان قومی اسمبلی‏ ‏موجودہ صورتحال کے پیش نظر میڈیا کے نمائندوں سے تعاون کی درخواست کی جاتی ہے، ترجمان قومی اسمبلی

قطر کا ایرانی حملے کے بعد پاکستان سے رابطہ پاکستان نے قطر کو وہی جواب دیا جو قطر نے پاکستان کو دیا تھا امیر قطر نے وزیراعظم کو الجزیرہ سے متعلق کہا تھا کہ اسکی ایڈیٹوریل پالیسی آزاد اور خودمختار ہے وہ آپ کے خلاف برسر پیکار دہشت گردوں کو حریت پسند لکھیں یا انکو گوریلفائی کریں ہم کچھ نہیں کرسکتے پاکستان نے قطر کو بھی یہی جواب دیا کہ ایران خود مختار ملک ہے وہ آپ پر حملہ کرے یا کچھ بھی ہم کچھ نہیں کرسکتے اور نہ آپ کا ہمارے ساتھ کوئی دفاعی معاہدہ ہے جن کے ساتھ آپ کا دفاعی معاہدہ ہے وہ جانیں اور ایران پاکستان صرف سعودی عرب کا تحفظ کرے گا کیونکہ اسکا دفاع پاکستان کا دفاع ہے۔

دبئی میں قائم سی آئی اے ہیڈ کوارٹر پر ایران کا حملہ۔ اس وقت پاکستان انتہائی نازک صورتحال میں ھیں۔۔ سرینا چوک کے پاس صورتحال کشیدہ ، مظاہرین کی امریکی سفارتخانے کی جانب بڑھنے کی کوشش۔۔ سرگودھا: دہشت گردی کے خطرے کے باعث پنجاب میں دفعہ 144 نافذ۔سرگودھا۔۔۔۔ملت ٹرین کی زد میں آکر شخص جاں بحق، سر دھڑ سے جدا۔ایرانی سابقہ صدر محمود احمدی نژاد گزشتہ روز فضائی حملے میں 3 محافظوں سمیت شہید ہو گئے تھے۔۔۔علی لاریجانی ایران کے نئے سپریم لیڈر نامزد علی لاریجانی کا نام علی خامنہ ای کی وصیت میں موجود تھا۔۔پاکستان نے بگرام ایئر بیس تباہ کر دی۔خامنہ ای کا قتل ایک ظالمانہ جرم ھے روسی صدر۔۔”کراچی، پاکستان میں امریکی قونصل خانے کو آگ لگا دی گئی.میں شھید ھو گیا تو رونا نہیں کیونکہ ھم لڑ کر شھید ھو رھیں ھیں۔ایران میں لوگ غم سے نڈھال۔ پورا ایران سڑکوں پر نکل آیا ہے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

‏پاکستان نے بگرام ایئربیس تباہ کر دی ،بیس سے ملحقہ علاقوں میں امریکی فوج کے چھوڑے ہوئے تین اسلحہ ڈپو مکمل تباہ ،اس وقت افغانستان کا کوئی ائر پورٹ اسرائیل،بھارت یا امریکی جیٹ طیاروں کی لینڈنگ کے قابل نہیں رہا ۔

ایران نے دو چیزوں سے مار کھائی ہے ایک تو داخلی سیکیورٹی پہ توجہ نہیں دی۔۔ دو دن کی جنگ میں اپنا سپریم لیڈر گنوا بیٹھے۔۔ سیکورٹی میں اتنی زیادہ لیکج ہے کہ حد نہیں پتہ نہیں ایرانی کیا کرتے رہے ابتک ۔۔ ایران اسرائیل کی پہلی جنگ میں تقریبا ساری اہم قیادت راستے سے ہٹا دی گئی۔۔ صف اول کے سائنسدان چن چن کر ہلاک کر دیے گئے۔۔ ارمی چیف مار دیا گیا تو پیچھے کیا بچا ۔۔ ویسے بھی ایران غداروں کی سرزمین ہے۔۔ یہاں غداری اور جاسوسی بہت زیادہ ہاں پائی جاتی ہے۔۔ دوسری خامی یہ کہ مضبوط ائیر فورس نہیں بنائی۔۔ ایٹمی قوت کے حصول پر ساری توجہ مرکوز رکھی میزائل ٹیکنالوجی بھی حاصل کر لی لیکن ایئر فورس کو مضبوط نہیں کیا۔۔ جس کا نقصان وہ اج برداشت کررہا ہے۔۔ یہ ہوتی ہے پالیسی کی ناکامی ۔۔ ایران کی سوچ یہ رہی کہ اسرائیل ایران سے 1500 سے 1800 کلومیٹر دور ہے، اسرائیل اتنی دور سے ہم پر فضائی حملہ نہیں کر سکتا نہ ہی ایران اتنی دور جاکر فضائی حملہ کرسکتا ہے۔۔ فیصلہ کن ہتھیار میزائل ثابت ہوں گے ۔۔ اس لئے ائیر فورس پہ توجہ نہیں دی بلکہ اس نے لانگ رینج میزائل بنانے کی دوڑ میں دوڑتا رہا ۔۔اب ایران کا حال یہ ہوا پڑا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی طیارے ایران کی فضاؤں میں دناتے پھر رہے ہیں۔۔ جہاں چاہتے ہیں اٹیک کر دیتے ہیں اور کوئی ان کو روکنے والا نہیں ایران کی فضائیں بے بسی کی تصویر پیش کررہی ہیں۔۔ ایسی صورتحال میں میزائل ٹیکنالوجی یا ایٹمی قوت کیا کام آسکتی ہے ۔۔ سب سے بڑا خسارہ تو قیادت کھونے کی صورت اٹھا چکے ہیں ۔۔ یہ ایران کا لوز پول تھا جس کا اسرائیل اور امریکہ کو بخوبی ادراک تھا جس کا فایدہ اٹھاکر دو دن میں ہی سپریم لیڈر ہلاک کردیا ۔۔

آیت اللہ علی رضا اعرافی نئے سپریم لیڈر منتخب۔۔نئے رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب 88 رکنی مجلس خبرگانِ رہبری کرتی ہے۔ یعنی ہروقت88خامنہ ائ موجود ہیںجب ان میں ایک لیڈر کم ہو جائے تو ایک نئے عالم کو شوری نگہبان نامزد کرتاہے۔۔شوری نگہبان 12 افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔جس میں 6 براہ راست سپریم لیڈر منتخب کرتا ہے۔۔عدلیہ کا سربراہ پارلیمنٹ کو 6 افراد کے نام دیتا ہے، جو پارلیمنٹ سے منظور ہوتا ہے،عدلیہ کا سربراہ بھی سپریم لیڈر منتخب کرتاہے۔۔جب ایرانی پارلیمنٹ اور شوری نگہبان کی رائے ایک نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔تو پھر مجمع تشخیص مصلحت نظام فیصلہ کرتا ہے۔۔اس میں تقریباً 60 افراد ہوتے ہیں، جس میں 40 سے زائد افراد سپریم لیڈر کو منتخب کرتے ہیں۔۔تمام ملک انہی 88 مجلس خبرگان کی جماعت کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔۔یہ کنفرم ہے کہ ایران میں رجیم چینج ممکن نہیں، البتہ عوامی فسادات کا خدشہ ضرور ہے۔۔۔۔۔اس میں سے اہم بات یہ ہے کہ ایران نے تمام شخص پرستوں کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا ہے، جو کہہ رہے تھے خامنہ شہید ہوگیا تو رجیم چینج ہوگیا، یعنی وہ ایک ہی فرد کو ایران سمجھ رہے تھے۔۔

پاکستان اور ایران: اخوت، ایمان اور یکجہتی کا رشتہپاکستان میں بسنے والے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد، چاہے وہ بچے ہوں یا بزرگ، اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ قلبی وابستگی رکھتے ہیں۔ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہی نہیں بلکہ ایک اسلامی برادر ملک بھی ہے، جس کے ساتھ ہمارا رشتہ صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ ایمان، تاریخ اور ثقافت کے مضبوط بندھنوں سے جڑا ہوا ہے۔اسلام ہمیں اخوت، محبت اور اتحاد کا درس دیتا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ یہی جذبہ ہمیں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے اور مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔ پاکستان کے عوام ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور یکجہتی پر یقین رکھتے ہیں۔پاکستان اور ایران کے تعلقات کی بنیاد باہمی احترام اور تعاون پر قائم ہے۔ دونوں ممالک نے مختلف مواقع پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے کردار ادا کیا ہے۔

عوامی سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان محبت اور خیرسگالی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔آج کے دور میں امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ اتحاد اور باہمی سمجھ بوجھ ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو کوئی طاقت ہمیں کمزور نہیں کر سکتی۔ ہمارا دین ہمیں امن، بھائی چارے اور انصاف کا درس دیتا ہے، اور یہی پیغام ہمیں دنیا تک پہنچانا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپس میں محبت، اتحاد اور اتفاق کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور تمام اسلامی ممالک کو امن و سلامتی نصیب فرمائے۔ آمین۔

‏چین اور روس اپنے اسٹریٹجک پارٹنر ایران کو جارحیت سے بچانے میں ناکام رہے ہیں۔ امریکہ ہی اب واحد سپر پاور ہے- برکس بتدریج ختم ہوگی۔ ایس سی او کا مستقبل بھی مشکوک ہے۔ ہم بہت سے معاملات میں یک قطبی دنیا میں واپس آ گئے ہیں۔ عبدالباسط، سابق سفیر

مسعود پزشکیان، صدرِ مملکتِ جمهوری اسلامی ایران، نے اپنے ویڈیو پیغام میں رہبرِ انقلاب کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت پیش کی اور اعلان کیا کہ عبوری مجلسِ قیادت نے اپنے فرائض باقاعدہ طور پر سنبھال لیے ہیں۔صدرِ مملکت نے مزید کہا کہ مسلح افواجِ جمہوری اسلامی ایران پوری قوت کے ساتھ دشمنوں کے اڈوں کو نیست و نابود کرنے کے اقدامات میں مصروف ہیں اور آئندہ بھی بھرپور کارروائیاں جاری رکھیں گی، اور دشمنوں کو ہمیشہ کی طرح مایوس کر دیں گی۔