بند کمروں میں حساس بات چیت ھو گی۔۔اسلام آباد مکمل طور پر سیل کمانڈ اینڈ کنٹرول عامر خالد نواز کے بلوچ کے حوالے۔۔امن کا سپاہی سید عاصم منیر۔۔پاکستان اور کرپٹ سیاست دان اکھٹھے نھی چل سکتے دنیا کے فیصلے پاکستان میں۔۔عوام مھنگای کی چکی تلے۔۔پاکستان میں ھوا کا خوشگوار جھونکا لکین عوام بھوک اور افلاس سے بلکتے ھوے۔۔پٹرول 150 بجلی کا یونٹ 19 روپے چینی 70 روپے گیس اور بجلی کے بلوں پر 4ھزار روپے ماہانہ کے ڈاکے بند کرو 24 کروڑ موجودہ ریجیم کی وجہ سے سسکیاں لے رھی ھے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ایران کو مذاکرات کی میز پر چین لایا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ایران کو مذاکرات کی میز پر چین لایا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر چین لایا ہے۔امریکی صدر نے خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکا نے مکمل فتح حاصل کی، 100 فیصد فتح حاصل کی، اس بارے میں کوئی سوال نہیں، دو ہفتوں کی جنگ بندی کےتحت ایران کے یورینیم کامعاملہ بہترین طریقےسےسنبھال لیا جائے گا، ایران کی یورینیم کو مکمل طور پر سنبھال لیا جائےگا ورنہ میں یہ معاہدہ

ایران کے سعودیہ پرحملے غیر ضروری کشیدگی ہیں، یہ حملے تنازع کےحل کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچارہے ہیں: کورکمانڈرز کانفرنس کورکمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے سعودی عرب پر حملے پرامن ذرائع سے تنازع کے حل کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں

ایران کے سعودیہ پرحملے غیر ضروری کشیدگی ہیں، یہ حملے تنازع کےحل کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچارہے ہیں: کورکمانڈرز کانفرنس کورکمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے سعودی عرب پر حملے پرامن ذرائع سے تنازع کے حل کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 274 ویں کورکمانڈرز کانفرنس ہوئی۔ فورم نےمسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادروطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ فورم نے شہدا کی بے مثال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے سعودی عرب کے پیٹروکیمیکل، صنعتی کمپلیکس پرحالیہ حملوں کی شدید مذمت کی اور تشویش کا اظہارکیا اور کہا کہ ایران کے سعودی عرب پر حملے پرامن ذرائع سے تنازع کے حل کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، سعودی عرب نے سنگین اشتعال انگیزیوں کے باوجود اب تک تحمل اور محتاط رویے کا مظاہرہ کیا ہے، سعودی عرب کے اس رویے سے ثالثی اور سفارتی حل کی راہ ہموار ہوئی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر حملے ایک غیر ضروری کشیدگی ہیں، اس نوعیت کےحملے اوربلاجوازجارحیتیں جاری پرامن کوششوں اور سازگار ماحول کو سنگین طریقے سے متاثرکرتی ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز نے مسلح افواج کی غیرمتزلزل پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا، آرمی چیف نے آپریشنل کارکردگی، دفاع وطن کے لیے پائیدار انٹیلیجنس کی بنیاد پر انسداد دہشت گردی کی کاروائیوں کے لیے ثابت قدمی کو سراہا۔پاکستان علاقائی وعالمی سطح پر اپنی حیثیت بہتربنانےکی جانب گامزن ہے: فیلڈ مارشلفیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ حکومت، مسلح افواج، عوام کےتعاون اور ہم آہنگی سے پاکستان استحکام کی جانب گامزن ہے، پاکستان معاشی استحکام کو مضبوط،علاقائی وعالمی سطح پر اپنی حیثیت بہتربنانےکی جانب گامزن ہے۔کورکمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ شہدا کی لازوال قربانیاں پاکستان کی سلامتی کی اساس ہے، بھارت اور دیگربیرونی سرپرستوں کی ایماء پر کام کرنے والے تمام دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جائےگا، دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور معاونین کو بلا امتیاز اور مسلسل تعاقب کے ذریعے ختم کیا جائےگا۔پاکستان کیخلاف افغان سرزمین کےاستعمال کو فیصلہ کن طورپرمکمل ختم کیا جائےگا:کورکمانڈرز کانفرنسفورم کا کہنا تھا کہ آپریشن غضب لِلحق کی رفتار برقرار رکھی جائےگی یہاں تک کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ ہوجائے، پاکستان کےخلاف افغان سرزمین کےاستعمال کو فیصلہ کن طورپرمکمل ختم کیا جائےگا۔فورم نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمےکے لیے حکومت کی بھرپورکوششوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستان متحمل مذاکرات،کشیدگی میں کمی اور اصولی سفارت کاری کے لیے پرعزم ہے، ایک ذمہ داراسٹیک ہولڈرکے طورپرپاکستان علاقائی سلامتی کے استحکام کے طور پرفعال ریجنل سکیورٹی اسٹیبلائزرکا کردار ادا کررہا ہے۔فورم نے بھارت کی جانب سے منسوب مسلسل گمراہ کن معلومات،بے بنیاد الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ بھارت کے اس طرح کے ہتھکنڈے عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکے ہیں۔فورم نے مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت اموات چھپانےاور جعلی مقابلوں سمیت بھارت کی انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کےاختتام پر آرمی چیف نے کمانڈرز کو آپریشنل تیاری، نظم وضبط کا اعلیٰ معیار برقرار رکھنےکی ہدایت کی۔ آرمی چیف نے نئی جدتیں اور میدان جنگ میں پیشہ ورانہ مہارت کے اعلیٰ معیار برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے مسلح افواج کی ہرقسم کے خطرات کامقابلہ کرنےکی صلاحیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ آرمی چیف نے پاکستان کی خودمختاری،علاقائی سالمیت یقینی بنانے کی صلاحیت پربھی مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

ایران کے ساتھ جنگ بندی: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 17 فیصد تک گر گئیں۔۔ووٹ ڈالنے کے حقدار ہیں ۔۔۔۔یاد رہے کہ میر جعفر کو ایک ایسے غدار کے طور پر پاک و ہند میں یاد کیا جاتا ہے جس نے بنگال کے نواب سراج الدولہ سے غداری کی۔ سعودی عرب پر بلاجواز جارحیت ناقابل برداشت ہے کور کمانڈر کانفرس اعلامیہ۔۔ امریکہ نے سرخ لکیر عبور کی جواب شدت سے اے گا۔ امریکا جیسا حملہ کرے گا ویسا ہی جواب دیں گے جسے پورے خطے میں محسوس کیا جائے گا: ایران۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بھارت :میر جعفر کی نسل کہیں کی نہ رہی ، ووٹر لسٹوں سے نام بھی نکال دیے گئے ، وجہ حیران کن ۔۔۔۔۔۔۔۔سید عامر مرزا میر جعفر کی نسل سے ہیں اور ان کی عمر 89 سال ہے، اس عمر میں مرزا صاحب کو اب ثابت کرنا ہوگا کہ کیا واقعی ان کا تعلق اس ملک سے ہے۔ وہ ملک جس کے ایک حصے پر کبھی ان کے آباؤ اجداد کی حکومت تھی۔میر جعفر کے خاندان کے تین سو سے زیادہ افراد مرشد آباد، مغربی بنگال میں رہتے ہیں۔حال ہی میں انتخابات کے اعلان سے قبل ک ہی اس خاندان کے اکثر لوگوں کے نام ووٹر لسٹوں سے نکال دیے گئے ہیں۔ دیکھتے ہیں اب میر جعفر کی نسل کیسے ثابت کرتی ہے کہ وہ یہاں ووٹ ڈالنے کے حقدار ہیں ۔۔۔۔یاد رہے کہ میر جعفر کو ایک ایسے غدار کے طور پر پاک و ہند میں یاد کیا جاتا ہے جس نے بنگال کے نواب سراج الدولہ سے غداری کی۔

مذاکرات فیلڈ مارشل عاصم منیر صدر شی اور روسی صدر گرانٹر⭕ ایران کی طرف سے جنگ ختم کرنے کے وہ شرائط جنہیں ٹرمپ نے مجبوراً قبول کیا ۔🔹 دوبارہ ایران پر حملے نہیں ہونگے 🔹 آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار رہے گا۔🔹 ایران کی یورینیم کی تیاری (غنی سازی) کو تسلیم کیا جائے گا 🔹 ابتدائی اور ثانوی تمام پابندیوں کا خاتمہ🔹 سلامتی کونسل اور نگران کونسل کی تمام قراردادوں کا خاتمہ🔹 ایران کے نقصانات کی مالی ادائیگی🔹 امریکی فوج کا خطے سے انخلاء🔹 لبنان سمیت تمام جگہوں پر جنگ بندی ۔

سعودی عرب پر بلاجواز جارحیت ناقابل برداشت ہے کور کمانڈر کانفرس اعلامیہ۔۔امریکہ نے سرخ لکیر عبور کی جواب شدت سے اے گا۔۔امریکا جیسا حملہ کرے گا ویسا ہی جواب دیں گے جسے پورے خطے میں محسوس کیا جائے گا: ایران۔۔امریکا کو دھمکی آمیز زبان کے بجائے سنجیدہ سفارتکاری کو ترجیح دینا ہو گی، روس۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ، نشان امتیاز (ملٹری)، ہلال جرات، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت 274ویں کور کمانڈر ز کانفرنس

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ، نشان امتیاز (ملٹری)، ہلال جرات، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت 274ویں کور کمانڈر ز کانفرنس*فورم نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے معصوم شہریوں کے لیے فاتحہ خوانی کیفورم نے شہداء کی بے مثال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ؛ شہداء کی لازوال قربانیاں پاکستان کی سلامتی کی اساس ہےآرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے پاکستان کی مسلح افواج کی غیر متزلزل پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل کارکردگی، دفاع وطن کے لئے پائیدار انٹیلی جنس کی بنیاد پر انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے ثابت قدمی کو سراہاحکومت، مسلح افواج ، عوام کے باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے ذریعے پاکستان اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے کامیابیوں کو مزید مستحکم،معاشی استحکام کو مضبوط اور علاقائی و عالمی سطح پر اپنی حیثیت کو بہتر بنا نے میں گامزن ہے ، *فیلڈ مارشل* بھارت اور دیگر بیرونی سرپرستوں کی ایما پر کام کرنے والے تمام دہشت گرد پراکسی عناصر، ان کے سہولت کاروں اور معاونین سمیت، بلا امتیاز اور مسلسل تعاقب کے ذریعے ختم کیے جائیں گے، *فورم*آپریشن غضب لِلحق کی رفتار برقرار رکھی جائے گی یہاں تک کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ ہو جائے اور پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کو فیصلہ کن طور پر مکمل ختم نہ کر دیا جائے ، *شرکاء کانفرنس*فورم نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے حکومت کی بھرپور کوششوں کو سراہا اور پاکستان متحمل مذاکرات ، کشیدگی میں کمی اور اصولی سفارتکاری کیلئے پرعزم ہےایک ذمہ دار اسٹیک ہولڈر کے طور پر پاکستان علاقائی سلامتی کے استحکام کے طور پر فعال ریجنل سیکیورٹی سٹیبلائزر کا کردار ادا کر رہا ہے، *فورم* کورکمانڈرز کانفرنس نے سعودی عرب کے پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی اور تشویش کا اظہار کیاسعودی عرب پر حملے ایک غیر ضروری کشیدگی ہیں، *کور کمانڈرز* ایران کے سعودی عرب پر حملے پرامن ذرائع سے تنازع کے حل کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، *فورم* سعودی عرب نے سنگین اشتعال انگیزیوں کے باوجود اب تک جس تحمل اور محتاط رویے کا مظاہرہ کیا، اس سے ثالثی اور سفارتی حل کی راہ ہموار ہوئی، *فورم* اس نوعیت کے حملے اور بلاجواز جارحیتیں ،جاری پرامن کوششوں اور سازگار ماحول کو سنگین طریقے سے متاثر کرتی ہیں، *کورکمانڈر ز کانفرنس*فورم نے بھارت کی جانب سے منسوب مسلسل گمراہ کن معلومات، بے بنیاد الزامات اور جھوٹے فلیگ آپریشنز کے بیانیے کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے ہتھکنڈے عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکے ہیںمقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور ماورائے عدالت اموات چھپانےاور جعلی مقابلوں پر بھی تشویش کا اظہار ، فورمکانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کمانڈرز کو آپریشنل تیاری، نظم و ضبط، تربیت، جسمانی فٹنس ، نئی جدتیں اور میدان جنگ میں پیشہ ورانہ مہارت کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کی ہدایت کیآرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے مسلح افواج کی ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے اور پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کی صلاحیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا

ہمارے حکمران امریکا کے غلام ہیںمولانا فضل الرحمان نئی نوکری کی تلاش میں۔۔عرب امارات تباہی کے دہانے پر کھربوں ڈالر ڈوب گئے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بڑا فیصلہ سب کچھ تبدیل۔مولانا فضل الرھمان نئ بوتل پرانی شراب۔۔شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔افراتفری اور پاکستان سب کچھ ختم۔۔امریکی اڈے تباہ ایران کا حملہ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

اگر آپ ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم خوشامد کر کے سیاست کریں گے تو یہ جمعیۃ علماء اسلام کی روش نہیں ہے، یہ جمعیۃ علماء اسلام کی تربیت نہیں ہے، ہم نے سر اٹھا کر چلنا سیکھا ہے اور اپنے اکابرین سے سیکھا ہے اور وہی روش چلے گی، کہاں تک جانا چاہتے ہو یہ آپ بتائیں، ہم آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ سمندر نے کہا مچھلی سے کب تک تیرتے رہو گے؟ تو مچھلی نے کہا جب تک تیرے اندر موجیں مارنی کی طاقت ہے اس وقت تک میرے اندر تیرنی کی بھی طاقت ہے۔ ان شاءاللہ العزیز بارہ اپریل کو بہت بڑا اجتماع ہوگا اور اچھا میلہ لگے گا ان شاءاللہ اور عوام کو اعتماد دلائے جائے گا کہ آپ تنہا نہیں ہیں، کوئی تو ہے جو آپ کے پشت پر کھڑا ہے اور آپ کے حق کی بات کر رہا ہے۔امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پشاور میں اہم پریس کانفرنس

افراتفری پیدا ہو گی۔اظہر سیدپٹرول نہیں ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کرنا چاہئے تھی ۔پٹرول کاروں میں استعمال ہوتا ہے ڈیزل کھیت اور کارخانہ سے اشیاء منڈی تک پہنچانے میں استمال ہوتا ہے ۔پٹرول کی قیمت میں اضافہ یا کمی ایک گھر کیلئے ہے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ یا کمی ہر گھر کیلئے ہے ۔آج تک نہیں پتہ چل سکا پالیسی ساز فیصلے کتابوں سے پڑھے علم کے مطابق کرتے ہیں یا معاشرتی تقاضوں کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں ۔جمہوریت اور سیاستدان اس لئے قابل قبول ہیں ان کے فیصلے ووٹ بینک بچانے اور بڑھانے کیلئے ہوتے ہیں جو معاشرہ کے خلاف ہو ہی نہیں سکتے ۔امریت یا ہائی برڈ نظام اس لئے کامیاب نہیں ہوتا فیصلے ووٹ بینک کیلئے نہیں وقتی مسائل سے نپٹنے کیلئے ہوتے ہیں ۔وزیراعظم نے پٹرول کی قیمت میں 80 روپیہ لیٹر کمی کی ہے جبکہ کمی ڈیزل کی قیمت میں ہونا چاہئے تھی ۔پہیہ مہنگا ہو جائے گھر میں استمال ہونے والی ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے ۔جب روٹی تیس یا چالیس روپیہ کی ہو جائے اسے افراط زر اور معاشی افراتفری کا آغاز سمجھنا چاہئے ۔روزگار کے مواقع کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں ۔شائد نصف ابادی لوٹ مار،چور بازاری،فراڈ اور دھوکہ کے زریعے زندگی گزارنے کے وسائل حاصل کرنے کی راہ پر چل پڑی ہے ۔جوں جوں روزگار کے مواقع محدود ہوتے جائیں گے جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ کی شرح بڑھتی جائے گی ۔ملک دشمن قوتیں تاک میں بیٹھی ہیں ۔مہنگائی والے ہنگامے شروع ہونے سے پہلے درکار اقدامات کرنا ہوں گے ۔ ۔پٹرولیم مصنوعات کے عالمی بحران سے کوئی ریاست محفوظ نہیں لیکن بہتر اقدامات اور فیصلوں سے درپیش چیلنجز سے نپٹا جا سکتا ہے ۔صرف دو چیزیں افراتفری پیدا کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں مہنگی بجلی اور مہنگا پہیہ ۔عام لوگ ،محنت کش،مزدور،کم آمدن والے ،تنخواہ دار پہلے ہی بجلی کے بلوں سے ادھ موئے ہوئے پڑے ہیں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اس کیفیت کا باعث بنے گا مرو یا مار دو ۔فیصلے معاشرتی صورتحال کے مطابق کئے جائیں اور معاشی دباؤ سے نکلنے کیلئے ہدف عام لوگوں کی بجائے امیر طبقہ کو بنایا جائے ۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لیے ایک نادر موقع_________________________شاہد اقبال کامران_____________________ امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیر کی بصیغہ راز مراسلت کی مدد سے بالآخر عمران خان نے اپنی عظمت اور بزرگی نیز اپنے بین البراعظمی سیاسی رتبے کے ہم پلہ دشمن کا انتخاب کر لیا ہے۔اگر پاکستان جیسے بالکل مقامی بلکہ مضافاتی قسم کے ملک کو ایک عالمی درجے کا لیڈر مل ہی گیا تھا تو اس کی قدر کی جانی چاہئیے تھی۔لیکن اسے ان سیاستدانوں کے سامنے پھینک دیا گیا جن پر تین سال قید و بند اور مقدمات قائم کرنے کے باوجود ابھی تک کچھ بھی ثابت نہیں ہو پایا۔ان ناشکرگزار مقامی سیاستدانوں کو عمران خان کا احسان مند ہونا چاہئیے تھا ،پر لوگ تو خدا کا شکر نہیں کرتے ، ایک بندے کو کون پوچھے گا ۔پاکستان کے عام سے مقامی سطح کے لیڈروں کا خیال تھا کہ عمران خان ان کی سیاسی ریشہ دوانیوں کا انہی کی سطح پر اتر کر مقابلہ کرے گا ۔یہ غلط فہمی تھی ۔عمران خان نے قوم سے اپنے آخری خطاب میں اپنے لیے اپنا ہم پلہ دشمن منتخب کر لیا ہے ۔ بات دل پر ہاتھ اور دماغ پر لات رکھ کر سمجھنے کی ہے ۔تحریک عدم اعتماد پاکستان کے زیرک سیاستدان آصف علی زرداری یا پی ڈی ایم کی قیادت کا کارنامہ نہیں ،اس کے پیچھے امریکہ جیسا ملک ہے۔عمران خان کے بظاہر براہ راست خطاب بذریعہ پاکستان ٹیلی ویژن نے ملک بھر میں وقت اور سماعت کے بےحد قیمتی ہونے کے احساس کو اچھی طرح سے اجاگر کر دیا ہے ۔

امر بالمعروف والے جلسے میں بھی لوگ منتظر ہی رہے کہ پٹاری سے کچھ نکلا کہ اب نکلا ۔۔۔۔بعض لوگوں نے تو تجسس کے مارے آنکھ تک نہیں جھپکی،کہ کہیں کوئی تاریخی لمحہ گزر نہ جائے۔پر عمران خان نے کردار کی پختگی کا ثبوت دیتے ہوئے وہی باتیں ، الزامات ، خدشے اور گالیاں دھرا دیں ،جو وہ گزشتہ کئی دنوں سے مختلف جلسوں میں دھراتے چلے آرہے تھے ۔ اپنے آخری سرکاری خطاب میں بھی انہوں نے اپنی باتوں کو دہرانے میں ہی عافیت محسوس کی۔عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے اسلام آباد میں پاکستان ٹیلی ویژن کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کروایا تھا ، پی ٹی وی ایک سرکاری ادارہ ہے ، جو دہائیوں سے درباری ذمہ داریاں نبھاتا چلا آرہا ہے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ درباریوں سے زیادہ منتقم مزاج کوئی بھی نہیں ہوتا ، حتیٰ کہ خود حکمران بھی نہیں ۔اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ پی ٹی وی کے ذمہ داروں نےعمران خان کو یہ بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ جناب جلسہ عام کے خطاب اور سرکاری ٹیلی ویژن پر قومی ترانے کے بعد کیے جانے والے خطاب کے آہنگ،مزاج اور مواد میں فرق ہوتا ہے ۔ٹیلی وژن پر بڑے سنجیدہ لہجے میں آرام اور وقار کے ساتھ گفتگو کی جاتی ہے ۔ ٹیلی ویژن والے ایسا کر سکتے تھے ،لیکن انہوں نے اپنا بدلہ لے ہی لیا اور ٹی وی کیمرے کے سامنے بیٹھ کر بات کرنے والے شخص کو سبزی منڈی کا ہانکا بننے دیا۔آلو ڈھائی سو روپے دھڑی، گاجراں ، مولیاں، اوئے پھینے۔۔۔۔تیری ماں نو ذرا ایدھر تے آ۔۔۔سبزی منڈی میں ہر طرف سے ہر طرح کی آواز آ جاتی ہے ۔کسی بھی جملے کو مکمل طور پر ایک ترتیب اور معنی کے ساتھ سمجھنے کے لیے کافی زیادہ توجہ اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ وزیراعظم سطح کے عہدے کے لیے ایک بلند ذہنی سطح اور رازوں کی حفاظت کر سکنے والا سینہ درکار ہوتا ہے ۔ ستم ظریف پوچھ رہا ہے کہ اگر کوئی اہم راز اپنے حجم کے اعتبار سے سینے سے بڑا ہو تو کیا کرنا چاہیئے؟میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اگر سینہ چھوٹا اور دل تنگ ہو تو پھر بڑے کاموں میں نہیں پڑنا چاہئیے۔ میں نے اسے بتایا ہے کہ یہ والا مسلہ سینے کا نہیں ، دماغ کا ہے، اور دماغ کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ وہ اندر سے خالی نہ ہو۔خالی دماغ چلتے پھرتے ہوئے آوازیں دینے لگتاہے، بلکہ بعض صورتوں میں تو گالیاں بکنے پر بھی آ جاتا ہے۔لہذا اگر ذرا سا شبہ بھی ہو کہ دماغ اندر سے خالی ہے تو ایسے سنجیدہ اور نازک کاموں میں پڑنا ہی نہیں چاہئیے۔بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری کے اسرار و رموز کسی کھیل کے میدان کی طرح اپنی واضح حدود نہیں رکھتے ۔دنیا کا کوئی صدر یا وزیراعظم اپنے سفارت کاروں کی بصیغہ راز مراسلت کو ،جس میں مختلف زعماء اور ماہرین سے سراسر غیر رسمی نششت کا اہتمام کر کے کسی ملک کا ذہن اور رجحان پڑھنے کی کوشش کی گئی ہو ، عام نہیں کرتا۔ایسی مراسلت کو بہ احتیاط پڑھنا اور اس کے بین السطور معانی تک پہنچنا ایک سنجیدہ اور ماہرانہ عمل ہے

۔یقینی طور پر یہ بہ صیغہ راز مراسلت ملک کے دفاع اور سلامتی سے سروکار رکھنے والے اداروں نے بھی ملاحظہ کی ہو گی اور اس سے ایک ملک کے پاکستانی ریاست اور سیاست کے بارے میں آراء ، اندازوں اور رجحانات کو سمجھ کر اپنی حکمت عملی کی تشکیل میں مدد لینے کا اہتمام کیا ہو گا۔تحریک عدم اعتماد پیش ہو جانے کے بعد اور جب یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی کہ وزیراعظم اپنی اکثریت کھو چکے ہیں، تو پھر انہیں قومی سلامتی ، بین الاقوامی تعلقات اور سفارتی معاملات پر غیر محتاط تبصروں کی اجازت نہیں دی جانی چاہئیے تھی ۔کجا یہ اجازت دی جائے کہ ایک بڑے ملک کے حوالے سے پاکستان کے خلاف سازش اور مداخلت جیسے الزامات کا بیانیہ تیار کر کے مسلسل پھیلایا جائے ۔سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا امریکی حکومت نے پاکستانی حکومت کو کوئی خط لکھا تھا؟جی نہیںکیا امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر نے اپنے دفتر خارجہ کی ہدایت پر جنوبی ایشائی معاملات سے دلچسپی رکھنے والے چیدہ چیدہ امریکیوں کو ایک سراسر غیر سرکاری نششت کے لیے مدعو کیا گیا تھا؟ جی ہاں ایسا ہی ہے ۔کیا وہاں ہونے والی بصیغہ راز (جسے آف دی ریکارڈ گفتگو کہتے ہیں)، بات چیت چلا کر مختلف پہلوؤں سے پاکستان کے بارے میں شرکائے محفل کی رائے اخذکرنے کی کوشش کی گئی۔؟ جی ہاں یہ تو سفیر محترم کے لیے ایک معمول کی سرکاری ذمہ داری تھی ۔جو انہوں اپنے دفتر خارجہ کے حکم پر ادا کی اور طریقہ کار کے مطابق ڈپلومیٹک چینل سے ایک مراسلہ پاکستانی دفتر خارجہ کو ارسال کردیا۔اب یہ بتائے کہ اس تجزیاتی رپورٹ یا مراسلت کا امریکی انتظامیہ یا امریکی دفاعی اور سلامتی کے اداروں سے کیا تعلق ہے ؟ لیکن ایک مفروضہ قائم کر کے کہ اپنی شکست اور سیاسی نامرادی کا کریڈٹ ملک کی اپوزیشن جماعتوں کو دینے کی بجائے سیدھا امریکہ کے حوالے کر دینا بالکل مناسب معلوم نہیں ہوتا ۔امریکہ قطعاً یہ اتہام قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔لیکن عمران خان امریکی “سازش” اور امریکہ کی مفروضہ دشمنی کا چورن اپنے چھوٹے سے ٹھیلے میں سجا کر باہر نکلنے کے لیے بالکل تیار حالت میں ہیں۔ستم ظریف پوچھ رہا ہے کہ عمران خان صاحب نے اپنی آخری تقریر میں ایک ملک کا نام لے کر اپنے حلف کی خلاف ورزی تو نہیں کردی؟ میں نے اسے بتایا ہے کہ میں کبھی وزیراعظم نہیں رہا ، مجھے کیا پتہ.لیکن اصل بات میں نے جان بوجھ کر اسے نہیں بتایا کہ عمران خان نے امریکہ میں پاکستانی ڈپلومیٹ کے ایک معمول کے ٹیلی گرام کو قریباً پندرہ روز بعد اپنی حکومت کے ڈوبتے جہاز کو بچانے کے لیے ایک سیاسی حربے کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔غالبا یہی وہ ترپ کا پتہ ہے جس کا اعلان وہ کثرت سے کرتے رہے ہیں۔ یہاں بھی ان کے قریب موجود انواع و اقسام کے سیاسی بازیگروں نے ان کے مصائب کے حل کے لیے پرانی پاکستانی بسوں میں کثرت سے بکنے والے چورن کا نسخہ ہی تجویز کیا ہے ۔ عمران خان کو چونکہ پاکستان کے علاؤہ دنیا کے ہر ملک کا سب سے سے زیادہ علم ہے۔وہ ایک مقامی راہنما کی بجائے خود کو ایک بین البراعظمی سیاست دان سمجھتے اور اس پر کامل یقین بھی رکھتے ہیں تو انہوں نے اپنی سیاست اور حکومت کے مقامی مخالفین اور ان کی حکمت عملی کی طرف توجہ دینے کی بجائے اپنی حد سے بڑھی ہوئی عظمت اور فضیلت کے مساوی ایک بڑے ملک کی سازش کا تصور پیش کیا ہے ۔ میری ذاتی رائے میں امریکہ کے صدر کو اپنی ایک مختصر تقریر میں عمران خان کا نام لے کر شکریہ ادا کرنا چاہئیے کہ ان جیسی نابغہ روزگار عالمی بلکہ جہانی شخصیت نے اپنے خلاف سازش کے ذمہ دار اور محرک کے طور پر ان کے ملک امریکہ کا انتخاب کیا ہے۔شرلی بے بنیاد اس معاملے کو ایک بالکل الگ زاویے سے دیکھتا ہے وہ کہتا ہے کہ امریکہ کو عمران خان کا شکر گزار ہونا چاہئیے کہ انہوں نے نہایت ذہانت اور قابلیت سے عالمی سیاست میں روس اور چین مقابل مدھم پڑتے امریکہ کو روشنی میں نہلا دیا ہے۔انہوں نے اپنے خلاف سازش کا الزام لگا کر امریکہ کے عالمی رتبے کو مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔امریکی اگر تھوڑے سے بھی قدر شناش ہوں تو انہیں چاہئیے کہ اپنے قوانین میں ترمیم کر کے ایک دوسرے ملک کے بین البراعظمی سیاست دان کو صدر کا الیکشن لڑنے کی اجازت دے دیں۔اتوار کے روز تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کے بعد عمران خان معید یوسف اور شہبازگل سمیت بالکل فارغ ہوں گے۔ابھی موقع ہے امریکہ کے پاس کہ وہ اپنی بین الاقوامی ساکھ کو مستحکم کر لے ۔دراصل پاکستان عمران خان جیسے لیڈر کے لیے ایک چھوٹا ملک ثابت ہوا ہے ۔لیڈر بڑا اور ملک چھوٹا ہو ، تو گڑ بڑ ہو جاتی ہے اور طرفین اپنی اپنی جگہ پر گڑبڑائے پھرتے ہیں۔ امید کی جانی چاہئیے کہ میری اس تجویز پر امریکی قانون ساز باقی سارے کام موخر کر کے غور وفکر شروع کر دیں گے۔عمران خان کو امریکی صدر بنا کر امریکہ کے لیے دنیا کے ہر ملک کو بالعموم اور پاکستان کو بالخصوص سمجھنا اور جاننا آسان ہو جائے گا۔میرا خیال ہے امریکہ کی ریاستی اور سیاسی زندگی کا یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے ۔اس سے امریکہ کو فایدہ اٹھانا چاہئیے۔______________________

ہم کوئی شہادت بھولے نہیں، سانحہ گیاری کو پانچ سال گزر گئےبرفانی تودےتلے دبے پاک فوج کے سپوتوں کو نکالنے کے لئے تاریخی ریسکیو آپریشن کی کامیاب تکمیل سے پاک فوج نے عزم و ہمت اور حوصلے کی نئی داستاں رقم کی۔لاہور: ) ملک بھر کے تمام کنٹونمنٹس میں شہدائے گیاری کی آج پانچویں برسی انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جائے گی۔ سات اپریل 2012 کا دن سانحہ بن کر طلوع ہوا۔ گیاری سیکٹر میں ناردرن لائٹ انفنٹری کے بٹالین ہیڈکوارٹر پر برفانی تودا آن گرا، جس کے نتیجے میں ایک سو انتیس آرمی کے افسر اور جوان جبکہ گیارہ عام شہری شہید ہو گئے تھے۔ برفانی تودے نے تقریباً ایک کلو میٹر کے علاقے کو متاثر کیا تھا۔ بٹالین ہیڈ کوارٹر گزشتہ بیس سال سے اسی مقام پر موجود تھا۔ سخت موسمی حالات نے امدادی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا مگر مسلح افواج نے شہداء کے جسد خاکی کی تلاش جاری رکھی۔ جہاں پیدل پہنچنا مشکل ہے وہاں بھاری مشینری پہنچائی گئی۔ امدادی سرگرمیوں میں ہیلی کاپٹرز، انجینئرنگ کی بھاری مشینری راولپنڈی، گلگت، بشام، مظفر آباد اور چلاس سے روانہ کی گئی۔ امدادی سرگرمیاں ڈیڑھ سال تک جاری رہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں امریکہ سمیت کئی ملکی ماہرین کی ٹیموں نے بھی حصہ لیا۔ سانحہ گیاری کے بعد ہونے والا تاریخی آپریشن ہمیشہ عزم وہمت کی شاندار مثال رہے گا۔

پٹرولیم لیوی ٹیکس غنڈہ ٹیکس ھے۔۔*وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کی تجویز مسترد کردی، پنجاب بھر میں مارکیٹیں رات 10 بجے تک کھلی رہیں گی۔۔گوادر پورٹ پر ایک اور جہاز کی آمد، ایم وی ریوا گلوری 14,629 میٹرک ٹن کارگو لے کر پہنچا،۔۔کرپٹ عاقب جاوید کو برطرف کر دیا گیا۔۔عالمی مارکیٹس میں سونے اور چاندی کی قیمتیں گر گئیں، سونا 4654 ڈالر فی اونس میں فروخت۔۔ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈوان کا فیصلہ۔ وزیراعظم۔۔۔۔ حتمی فیصلہ وزیراعظم کرینگے۔چاروں صوبوں گلگت بلستان اور آزاد کشمیر سے مشاورت مکمل۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب! 9 اپریل کو ہم نے پوری دنیا کو بتانا ہے کہ پاکستان 2022 میں کہا کھڑا تھا اور آج کہاں ہے، 9 اپریل 2022 کو بیرونی سازش کے ذریعے جمہوری حکومت کا تختہ الٹا گیا.ہر پاکستانی کو سوچنا چاہیے کہ جن لوگوں کو پاکستان پر مسلط کیا گیا وہ پاکستان کو کہاں لے جا رہے ہیں, جی ڈی پی 6 سے 7 فیصد اور ایکسپورٹ و زراعت دگنی ہوتیں تو کہتے سب ٹھیک ہے.9 اپریل 2022 کے بعد پاکستان مسلسل تباہی کی طرف جا رہا ہے، ریجیم چینج کے بعد جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد سے گر کر تقریباً 2.7 فیصد رہ گئی.ہمارا تجارتی خسارہ 20 ارب ڈالر سے بڑھ گیا ہے، 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے، مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی، پیٹرول کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں.زرمبادلہ کے ذخائر پہلے ہی دباؤ میں ہیں، دوست ممالک نے رقم واپس مانگی تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے، جن کو ملک پر مسلط کیا گیا ان کے پاس نہ تو پالیسی ہے نہ وژن.تمام تر کوششیں عمران خان کو جھکانے میں لگائی جا رہی ہیں، ترقی کا عمل کیسے آگے بڑھے گا، پاکستان میں آئینی بالادستی، عدلیہ اور صحافت کی آزادی کے لیے نوجوانوں کا سڑکوں پر آنا ناگزیر ہو چکا ہے.ہمیں جلسے کی اجازت ملنی چاہیے، یہ ہمارا آئینی و قانونی حق ہے، اگر جلسے کی اجازت نہ دی گئی تو جہاں روکا گیا وہیں احتجاجی جلسہ کریں گے.واضح رہے احتجاج ایک دن تک محدود ہوگا، حالات خراب کیے گئے تو آئندہ لائحہ عمل پر غور کریں گے، 9 اپریل کو 11 بجے پشاور سے مرکزی قافلہ روانہ ہوگا، منسلک اضلاع ہمارے ساتھ شامل ہوں گے.بارشوں اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے ہم کنٹیجنسی پلانز بنا چکے ہیں, ہم دہشتگردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہیں، حل بتایا مگر اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، ایپکس کمیٹی اجلاس میں واضح حکمت عملی دی گئی مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوا.ہم نے اپنے لوگوں کو سچ بولنا ہے، ہم مسلح جتھے نہیں ، ہم نے پر امن جد وجہد کرنی ہے،

اگر خیبرپختونخوا میں آگ لگے گی تو اس کی تپش دیگر صوبوں میں بھی جائے گی.مریم نواز خیبرپختونخوا میں جہاں چاہے جلسہ کر سکتی ہے، انتظامات بھی ہم کر دیں گے، مگر کراچی ، لاہور اور کوئٹہ میں ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ دیں، ہمارے کارکنوں کو نہ اٹھائیں.ہم چاہتے ہیں انصاف کے تقاضے پورے ہوں، عمران خان صاحب کے کیسز لگائے جائیں, قبائلی اضلاع کے انضمام کے وقت دو آراء تھیں، ایک اسے غلط جبکہ دوسری درست سمجھتی تھی. عمران خان نے قبائلی عوام میں سے وزیر اعلیٰ منتخب کیا، جس سے ان علاقوں میں امید کی نئی کرن پیدا ہوئی، قبائلی اضلاع کے انضمام کے حولے سے کسی بھی مس ایڈونچر کے خطرناک نتائج ہونگے.

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ اس*رائی*ل اور امریکا کے مشترکہ ح*ملے میں ایران کی معروف سائنسی و تعلیمی ادارے “MIT of Iran” کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی دیگر یونیورسٹیوں پر ہونے والے ح*ملوں کے بعد کی گئی۔عباس عراقچی لکھا کہ ’1400 سال پہلے حضرت محمد ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر علم دور ستاروں کے جھرمٹ (Pleiades) میں بھی ہوا تو ایرانی لوگ اسے حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے تعلیمی اور دفاعی اداروں کی مضبوطی کا بھرپور مظاہرہ کرے گا

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے انٹیلی جنس سربراہ جنرل مجید خادمی کی شہادت کی تصدیق کر دی۔ مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کی سلامتی اور عوام کی آزادی آپ کی قربانیوں کی وجہ

عاقب جاوید کے خلاف ٹرینڈ نے کام کردیا عاقب جاوید کے چھٹی ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے عاقب جاوید کو عہدے سے ہٹا رہے ہیں اور اب اس کے چھٹی کنفرم ہوگئی ہے ۔ ابھی بھی کچھ سیاسی لوگ عاقب جاوید

5 ھزار ارب روپے کا مفت پٹرول ڈیزل اشرافیہ کے لیے۔۔عرب امارات ریاست آخری سانسوں پر پاکستان کے 300 ارب ڈالر۔۔پاکستان کی وہ کونسی خاتون وزیر ھے جسکے اربوں ڈالر کے اثاثے دوبئی میں ھے۔۔بجلی کے ایک بل پر 4500 فکسڈ چارجز۔۔5 ھزار ارب روپے کا مفت پٹرول ڈیزل اشرافیہ کے لیے۔۔اتصلات سے 20 ارب ڈالر کون لے گا کراچی اور بلوچستان میں دھشت گردی کروانے والا عرب امارات۔۔پانچ بجے امریکہ ایران پر بڑا حملہ کرے گا۔۔ٹرمپ کی بیان کے مطابق پاکستانی وقت کے۔۔دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن ہے۔۔ابوظبی میں واقع بروج کے پیٹروکیمیکل پلانٹ میں حملے کے بعد تین مقامات پر آگ بھڑک اٹھی ھلا۔۔نام نہاد افغان ترجمان پروپیگنڈا بے نقاب۔۔ٹرمپ گھٹیا زبان کو اہل ایران کی توہین قرار دیا ہے۔۔۔ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز رویے پر ردعمل۔۔ٹرمپ دنیا کا گھٹیا ترین شخص ھے۔جس کو عرب امارات پسند ہے وہ وہاں چلا جاے۔۔۔۔۔؟
تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ افغانستان آئندہ تین سے چار برسوں میں وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تجارت کا حجم بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا خواہاں ہے۔ تحریک انصاف کے دباؤ کی تاب نہ لاتے ہوئے حکومت مجبور ہوئی اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ جزوی طور پر کم ہوا۔ پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم را ابوظبی میں واقع بروج کے پیٹروکیمیکل پلانٹ میں حملے کے بعد تین مقامات پر آگ بھڑک اٹھی ھلا

لاہور: چلڈرن ہسپتال کی پارکنگ سے لاش برآمد لاہور: چلڈرن ہسپتال سے برآمد ہونے والی لاش چار دن پُرانی ہے لاہور. چلڈرن ہسپتال کی پارکنگ سے برآمد ہونے والی لاش کی شناخت کر لی گئی لاہور: چلڈرن ہسپتال سے برآمد ہونے والی لاش کی شناخت ڈاکٹر احمد لطیف کے نام سے ہوئی لاہور: چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر احمد لطیف کی نعش ہسپتال کی پارکنگ میں کھڑی انکی گاڑی سے برآمد ہوئی ہے۔لاہور: ڈاکٹر احمد لطیف کا تعلق Hematology ڈیپارٹمنٹ سے تھا۔ لاہور: پولیس کے مطابق نعش چار روز پرانی ہے، متوفی ڈاکٹر کینال ویو پارک سوسائٹی کا رہائشی تھا جو چلڈرن ہسپتال میں ڈیوٹی کرتا تھا۔لاہور: پولیس نے موقع پر پہنچ کر قانونی کاروائی کا آغاز کر دیا

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ نے آپریشن ’’غضب للحق‘‘ سے متعلق نئے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ان کے مطابق کارروائیوں کے دوران افغان طال*بان رجیم کے 796 کارندے ہلاک جبکہ 1043 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اب تک افغان طال*بان کی 286 پوسٹیں تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ 44 پوسٹوں پر قبضہ بھی کر لیا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 249 ٹینکس، بکتر بند گاڑیاں اور ڈرونز بھی تباہ کیے جا چکے ہیں، جبکہ فضائی کارروائیوں میں 81 ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔عطاء تارڑ کے مطابق 2 اور 3 اپریل کی رات غلام خان سیکٹر میں سرحدی چوکی پر خوارج کے حملے کو ناکام بنایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ بھرپور جوابی کارروائی کے دوران 37 دہش*تگرد ہلاک جبکہ 80 سے زائد زخمی ہوئے۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں افغان ط*البان اور فتنہ الخوارج کو بھاری جانی نقصان

فیکٹ چیک، وزارت اطلاعات و نشریات🔸وزارت اطلاعات و نشریات نے نام نہاد افغان ترجمان کا جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب کر دیا۔ 🔸نام نہاد افغان ترجمان حمد اللہ فطرت ایک بار پھر جھوٹ اور گمراہ کن بیان کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں صرف فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے دہشت گرد انفراسٹرکچر کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ 🔸درست فضائی حملوں، چوکیوں کی تباہی اور قبضے، سازوسامان، افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کے کارندوں کی ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق اعداد و شمار باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کئے جاتے ہیں جبکہ حملوں کی ویڈیوز بھی جاری کی جاتی ہیں برخلاف اس کے کہ ایک عادی پروپیگنڈا کرنے والی رجیم کی جانب سے من گھڑت معلومات پیش کی جائیں۔ 🔸اس کے برعکس پوری دنیا بھارتی سرپرستی میں قائم افغان طالبان رجیم اور اس کے حمایت یافتہ دہشت گرد پراکسیز کی جانب سے کئے گئے حملوں کی گواہ ہے جیسا کہ حالیہ بزدلانہ حملہ ڈومیل، بنوں میں ہوا جہاں خواتین اور بچوں سمیت 10 شہری شہید ہوئے۔ 🔸افغان شہریوں کو پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کے لئے مسلسل استعمال کئے جانے کے شواہد بھی منظر عام پر آ چکے ہیں اور عوامی سطح پر دستیاب ہیں جن میں آج 5 اپریل کو بلوچستان کے وزیر داخلہ کی کانفرنس میں پیش کی گئی معلومات بھی شامل ہیں۔ 🔸ایک اور ٹھوس حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کے اندر دہشت گرد قیادت پناہ اور تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ اقوام متحدہ اور دیگربین الاقوامی رپورٹس افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں درجنوں دہشت گرد پراکسیز کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں۔ 🔸بدقسمتی لیکن بلا شرم انداز میں حمد اللہ فطرت اور افغان طالبان رجیم کے دیگر ترجمان باقاعدگی سے جعلی، پرانی اور حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ پروپیگنڈا ویڈیوز اور دعوے پوسٹ کرتے رہتے ہیں جنہیں صرف ان کے بھارتی آقاؤں اور ان کے پروپیگنڈا نیٹ ورک کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔ *سچ ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتا ہے۔*

پرانی بوتل نئی شراب کھربوں روپے کی کرپشن کرنے والے 2 بھائی پرائم نرسنگ ھوم والے اب اربوں ڈالر کی کرپشن کا نیا پلان لے کر میدان میں اترگئے تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

ایچ 15 میں 2016 نرسنگ کالج بنایا جس بلڈنگ میں بنایا اس کا کرایہ بھی نہیں دیا

وزارت صحت نے نرسنگ کالج کا لائسنس منسوخ کر دیا

اربوں روپے لوگوں کے لوٹ کر یہ دنوں بھای جن کے نام عبدالوجد اور نصیر الدین المعروف تارا اور ستارا ھے

ان دونوں بھائیوں پر متعدد ایف آئی آر درج ھے جن کی تفصیلات اور ایف آئی آر قارئین کے لیے

ان دونوں بھائیوں تارا اور ستارا نے 6 مارچ کو رائل میڈیکل ھیلتھ سروس ایس ای سی پی میں نئی کمپنی رجسٹرڈ کروای

اب ان دونوں بھائیوں نے پاکستان کے ایک بڑے ھاوسنگ پراجیکٹ کے ملازمین کے ساتھ مل کر ان ھاوسنگ سوسائٹی کے سیکٹزز میں ھسپتال بنانے کے لیے اربوں روپے کا منصوبہ بنایا ہے جسکی ایک اھم سیاسی شخصیت پشت پناہی کر رھا ھے

ایس ای سی پی میں جعلی کاغذات پر رجسٹریشن کا ذمہ دار کون ہے اربوں روپے کے فراڈ کرنے والے یہ تارا اور ستارا کے ساتھ دینے والے خفیہ ادارے کیوں خاموش ھے

پرائیویٹ ھاوسنگ سوسائٹی والے کون ھے کیا اسکا مالک ملوت ھے کیا یہ ھاوسنگ سوسائٹی والا ادارہ کسی اھم ادارے کی سسٹر آرگنائزیشن ھے

Royal Healthcare services pvt ltd is owned by abdul wajid and Ikram UD DIN. This company was registered on 6th march 2026

Baadban tv Report

1. Abdul Wajid and Naseer U Din both are brothers, they launched a society with the name of *Prime Valley* (they also run a nursing college with the name of *Prime college of Nursing*).They took payment from some dealers and gave them files and then took the files back and gave them cheques.

One of the dealer lodged FIR against them as they didn’t pay him the principal amount and Abdul Wajid got arrested and then was released on bail. Today(23 May) his bail got cancelled and he is arrested again,

now in custody of PS koral. Reportedly he has immediately paid amount to aggrieved complainant party after striking deal. 2. We bought 105 open files as a investment through a dealer and now after several years no plot or payment handed over

. Society is closed and Their office is also not operational.

Now since the person is already arrested and is in police custody.we request you to help us recover our principle amount from the culprit as he is under pressure and can be pursued.I have attached the following for your reference.

1- copy of Current FIR he is arrested on.2- His bail orders on same FIR and cancellation of bail. 3- One of the 105 open File picture