Who are the new heads of POF Wah and HIT? And who are the Corps Commanders of Military Intelligence, Mangla, Gujranwala, Multan, Lahore, and Quetta? In Sohail Rana live
Who are the new heads of POF Wah and HIT? And who are the Corps Commanders of Military Intelligence, Mangla, Gujranwala, Multan, Lahore, and Quetta? In Sohail Rana live

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وفد کی ملاقات*ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی وزیرِ اعظم سے ملاقات کیلئے وزیرِ اعظم ہاؤس آمد، دونوں رہنماؤں کی ملاقات شروع.ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ملاقات میں شریک ہیں. ملاقات میں خطے کی صورتحال پر گفتگو ہوگی.

لندن میں پاکستانی بزنس کمیونٹی کی جانب سے وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کے اعزاز میں شاندار استقبال یہوفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ، جناب قیصر احمد شیخ کے اعزاز میں لندن میں پاکستانی بزنس کمیونٹی کی جانب سے ایک شاندار استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں پاکستانی نژاد کاروباری شخصیات، سرمایہ کاروں، پیشہ ور افراد اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ یہ تقریب اوورسیز پاکستانیوں کی وطن کے ساتھ مضبوط وابستگی اور پاکستان کی معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کے عزم کی عکاس تھی۔اس موقع پر وفاقی وزیر نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بزنس کمیونٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی معیشت کو عالمی سطح پر مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں کو اجاگر کرتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری آسانیوں میں بہتری اور بین الاقوامی شراکت داری کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ فعال روابط استوار کر رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دیا جا سکے، پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور پائیدار معاشی روابط قائم کیے جا سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملک اور عالمی کاروباری برادری کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کا کردار سرمایہ کاری، تجارت کے فروغ اور پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں نہایت اہم ہے۔تقریب کے اختتام پر حکومت اور اوورسیز پاکستانی بزنس کمیونٹی نے پاکستان کی معاشی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور قومی ترقی کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ سرمایہ کاروں کی سہولت، عالمی شراکت داری کے فروغ اور پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک ترجیحی منزل بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

مذاکرات ہونگے اور کامیاب بھی ہونگے ۔پورا یورپ اور خلیجی ممالک امریکی مالیاتی نظام کا طوطا ہیں جسکی گردن مڑ گئی سپر پاور وقت سے پہلے مر جائے گی ۔امیر ترین عرب ممالک مستقبل سے خوف زدہ ہیں ۔یورپ والے توانائی کے ممکنہ بحران سے سہمے بیٹھے ہیں ۔امریکی ٹریژری اپنی سو سالہ گرفت کھو رہی ہے ۔ڈالر کے متبادل نظام معیشت برکس نے ملٹی نیشنلز کی نیندیں اڑائی ہوئی ہیں ۔کیپٹلزم کا موجودہ نظام بچنے کی آخری کوشش کرے گا اور ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے ۔ایک ماہ کی خلیجی تیل کی بندش نے یورپ ،بھارت اور درامدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کی ناک بند کر دی ہے ۔دوبارہ ایران پر بمباری کی کوکھ سے زیادہ بڑا بحران نکلے گا اس لئے سارے مل کر مذاکرات کروائیں گے اور کامیاب بھی کروائیں گے ۔ابھی اعصاب کی لڑائی ہے ۔ایرانی اور انکے پیچھے موجود چینی سب جانتے ہیں طوطے کی جان جس مالیاتی نظام میں ہے وہ بحران ختم کروائے گا اور طوطے کو بچائے گا ۔

فرانسیسی صدر امانوئل میکرون کی ایک غیر متوقع حرکت نے اٹلی کی خاتون وزیراعظم جارجیا میلونی کو شرمسار کردیا اور وہ انہیں سرگوشی میں سمجھاتے ہوئے نظر آئیں اور پھر مصافحہ کیلئے ہاتھ آگے بڑھا کر صورتحال کو سنبھال لیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان اس ویک اینڈ آبنائے ہرمز پر مذاکرات سے قبل ہونیوالی والی اس ملاقات کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ وزیر اعظم جارجیا میلونی ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے پیرس میں موجود تھیں، میزبانی فرانسیسی صدر امانوئل میکرون اور برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کر رہے تھے جہاں تقریباً 50 ممالک کے نمائندے شریک ہوئے۔ میکرون نے میلونی کا استقبال ایک طویل”گال سے گال” لگا کر بوسہ دینے کے انداز میں کیا جس نے میلونی کو قدرے حیران اور پریشان کر دیا۔ اگرچہ دونوں رہنماؤں نے فوری طور پر خود کو سنبھال لیا، لیکن اس لمحے نے انٹرنیٹ پر سفارتی آداب اور ذاتی حدود کے حوالے سے ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔

“لائسنس نمبر 2 اسکینڈل: پنجاب میں غیر قانونی ڈرائیونگ لائسنس نیٹ ورک بے نقاب”تحقیقاتی رپورٹ: رانا تصدق حسینلاہور: پنجاب کے ڈرائیونگ لائسنس نظام میں ایک نہایت تشویشناک اور دور رس اثرات کی حامل بے ضابطگی منظرِ عام پر آئی ہے، جہاں مبینہ طور پر “لائسنس نمبر 2” کے نام سے ایک غیر قانونی طریقہ کار کے تحت ایسے شہریوں کو بھی دوسرا ڈرائیونگ لائسنس جاری کیا جا رہا ہے جو پہلے ہی باقاعدہ اور درست لائسنس کے حامل ہیں۔ابتدائی رپورٹس اور باخبر ذرائع کے مطابق بعض عناصر قانونی دائرہ کار سے باہر نکل کر ڈرائیورز کو دباؤ یا ترغیب کے ذریعے غیر سرکاری ذرائع سے دوسرا لائسنس حاصل کرنے پر مجبور کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف ریگولیٹری نگرانی پر سوالات اٹھ رہے ہیں بلکہ اندرونی سطح پر ممکنہ سہولت کاری کے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔معاملہ مبینہ طور پر کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) تک پہنچ چکا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ محض انتظامی نوعیت کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس میں دھوکہ دہی، ڈیٹا کے غلط استعمال اور غیر قانونی مالی مفادات جیسے سنگین جرائم کے پہلو بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شہریوں سے اس نام نہاد “لائسنس نمبر 2” کے اجرا کے عوض (PKR 25000) تک وصول کیے جا رہے ہیں، حالانکہ ایسے لائسنس کی کوئی واضح قانونی حیثیت موجود نہیں اور اس کا حصول شہریوں کو سنگین قانونی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔یہ مبینہ طریقہ کار تمام مقررہ قواعد و ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے انجام دیا جا رہا ہے، جس سے یہ شبہ تقویت پکڑ رہا ہے کہ سرکاری ریکارڈ، شناختی ڈیٹا یا لائسنسنگ سسٹمز تک غیر مجاز رسائی حاصل کر کے انہیں غلط طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے

۔حکام میں اس پیش رفت کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ ایک متوازی اور غیر قانونی نظام کی موجودگی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ یہ محض چند افراد کی بدعنوانی نہیں بلکہ کسی منظم نیٹ ورک یا اندرونی سہولت کاری کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مبینہ طور پر اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام جعلی یا غیر قانونی طور پر جاری کیے گئے لائسنسوں کی فوری نشاندہی اور منسوخی کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جبکہ اس غیر قانونی عمل میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز اور سخت قانونی کارروائی کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔مزید برآں، اس نیٹ ورک کے مکمل ڈھانچے کا سراغ لگانے، اس میں ملوث دفاتر، درمیانی کردار ادا کرنے والوں اور سہولت کاروں کی نشاندہی کے لیے بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ متعلقہ حکام مبینہ طور پر ان مقامات اور سیٹ اپس کی تلاش میں ہیں جہاں سے یہ سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں، اور توقع کی جا رہی ہے کہ تحقیقات کے ساتھ ساتھ چھاپے اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جائیں گی

۔قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے غیر مجاز لائسنس رکھنے والے شہریوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں فوجداری کارروائی، اصل لائسنس کی منسوخی، اور کسی بھی ٹریفک حادثے کی صورت میں قانونی و انشورنس پیچیدگیاں شامل ہیں۔یہ صورتحال مجموعی طور پر لائسنسنگ نظام میں شفافیت، احتساب اور ڈیٹا سکیورٹی سے متعلق سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہی ہے، اور اس امر کی فوری ضرورت کو اجاگر کر رہی ہے کہ شہریوں کے استحصال کو روکنے کے لیے مؤثر نگرانی اور مضبوط نظام وضع کیا جائے۔تحقیقات کے جاری رہنے کے ساتھ ہی توقع کی جا رہی ہے کہ حکام اس ممکنہ بڑے عوامی فراڈ میں ملوث منظم نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کریں گے۔

پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت، ترجمان دفتر خارجہمسجد اقصیٰ کا مکمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، ترجمان دفتر خارجہمشترکہ اعلامیہ میں 1967ء کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت، ترجمان دفتر خارجہ

ایران کے مرکزی بینک نے آبنائے ہرمز سے ٹول ٹیکس کی آمدنی جمع ہونے کی تصدیق کر دی۔🔹 بینک مرکزی نے آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والی فیس کی آمدنی جمع ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اس بارے میں میڈیا کی قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا کہ یہ کس قسم کی کرنسی میں وصول کی گئی۔🔹 فارس کو بینک مرکزی سے حاصل معلومات کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے وصول کی گئی فیس کی آمدنی اس بینک میں جمع کرائی گئی ہے اور یہ نقد غیر ملکی کرنسی (فارَن کرنسی کیش) کی صورت میں تھی۔🔸 اس سے پہلے بعض میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کی فیس کرپٹو کرنسی کی صورت میں وصول کر رہا ہے۔🔹 جہازوں پر عائد کی جانے والی فیس سامان کی قسم، مقدار اور خطرے کی سطح کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔

اسلام آباد کئی دنوں سے وبا جیسے لاک ڈاؤن میں ہے، صرف امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے انتظار میں، جو بار بار نہیں ہو رہے۔ شہر اس کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔* سڑکیں خالی، دکانیں بند، پبلک ٹرانسپورٹ بند، اور مزدوروں کو گھروں میں رہنے کا کہا گیا* ہفتہ کے روز حکومتی حکم پر ہزاروں ہاسٹل رہائشیوں کو نکال دیا گیا، اور بہت سے لوگ رہائش کے لیے پریشان ہیں*

دیہاڑی دار مزدور 6 دن سے زیادہ بغیر کام اور خوراک کے گزار رہے ہیں* ہرمز بند ہونے کی وجہ سے ایندھن کی کمی، جس سے 7 گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے* 1,200 امیدواروں کے سرکاری امتحانات 230 میل دور لاہور منتقل کر دیے گئے* ٹیکسی ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ان کی آمدنی میں 50٪ کمی آ گئی ہےیہ حالات ہیں پاکستان کے ، یہ وہ لوگ ہیں، جب نائن الیون ہوا تھا تو انہوں نے پاکستان میں ڈبل سواری پر پابندی لگا دی۔ یہ ایسے اعلیٰ و ارفع دماغ ہیں

محمد علی کو کمشنر گوجرنوالہ ڈویژن تعینات کردیا گیا، نوٹیفکیشن نوید حیدر شیرازی کو سیکرٹری محکمہ کوآپریٹیو تعینات کردیا گیا، نوٹیفکیشن فضل الرحمان کو سیکرٹری محکمہ یوتھ افیئرز اینڈ کھیل تعینات کردیا گیا، نوٹیفکیشن

ایران سے تعلق رکھنے والا ایک کارگو جہاز جو چاول لے کر جا رہا تھا، امریکی بحریہ کی جانب سے اسے ضبط کرنے کی کوشش کے باوجود سپاہ کی بحریہ کے جہازوں کی اسکورت میں بحفاظت بحیرۂ عمان سے گزر کر ایران پہنچ گیا۔
ایران کے مرکزی بینک نے آبنائے ہرمز سے ٹول ٹیکس کی آمدنی جمع ہونے کی تصدیق کر دی۔🔹 بینک مرکزی نے آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والی فیس کی آمدنی جمع ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اس بارے میں میڈیا کی قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا کہ یہ کس قسم کی کرنسی میں وصول کی گئی۔🔹 فارس کو بینک مرکزی سے حاصل معلومات کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے وصول کی گئی فیس کی آمدنی اس بینک میں جمع کرائی گئی ہے اور یہ نقد غیر ملکی کرنسی (فارَن کرنسی کیش) کی صورت میں تھی۔🔸 اس سے پہلے بعض میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کی فیس کرپٹو کرنسی کی صورت میں وصول کر رہا ہے۔🔹 جہازوں پر عائد کی جانے والی فیس سامان کی قسم، مقدار اور خطرے کی سطح کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔

پاکستان کو ترکی سے اسپیشل گلوبل طیارہ مل گیا ہے جو 500 کلومیٹر سے دشمن کے ریڈار کو جام کر سکتا ہےگلوبل 600 چائنہ ،ترکی ،روس کوریا کے بعد اب پاکستان کے پاس بھی آ گیا ھے انڈیا کی پریشانیوں میں اضافہ ھو گیا ھے .بھارتی صحافی
*حج پر جانے والے متوجہ ہوں* اطلاع دی جاتی ہے کہ مہندی لگانے کی وجہ سے مدینہ منورہ ائیرپورٹ پر 4 افراد کو واپس بھیج دیا گیا ، کیونکہ مہندی کی وجہ سے ان کے فنگر پرنٹس سکین نہیں ہو سکے ؛ لہٰذا تمام عازمین حج اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ سفر سے پہلے ہاتھوں پر مہندی نہ لگائیں تاکہ امیگریشن کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہ پیش آئے

*جرمنی: شاہ ایران کے بیٹے رضا پہلوی پر ٹماٹر کی چٹنی پھینک دی گئی ، حملہ آور گرفتار*برلن: جرمنی میں سابق ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی پر ایک پریس کانفرنس کے بعد ٹماٹر کی چٹنی پھینک دی گئی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو حراست میں لے لیا ہے جس کا تعلق ایران سے بتایا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایران میں موجودہ نظام کی تبدیلی کے حامی اور سابق شاہ ایران کے صاحبزادے رضا پہلوی برلن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے بعد باہر نکل رہے تھے کہ اچانک ایک شخص نے ان پر ٹماٹر کی چٹنی (کیچپ) پھینک دی۔ اس غیر متوقع حملے کے نتیجے میں وہاں موجود سیکیورٹی اہلکاروں میں کھلبلی مچ گئی، تاہم رضا پہلوی اس واقعے میں محفوظ رہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی کشتی پر حملہ کرنے کا حکمچھوٹی کشتیاں ہوں یا بڑی، اب کسی قسم کی ہچکچاہٹ برداشت نہیں کی جائے گی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

نصیر اللہ خان بابر: ایک جامع تحقیقی مطالعہتحریر: ڈاکٹر مکمل شاہ یوسفزئیپاکستان کی عسکری، سیاسی اور ریاستی تاریخ میں چند ایسے نام ہیں جو ایک ساتھ فوجی جرأت، سیاسی اثر و رسوخ اور متنازع پالیسیوں کی علامت بن گئے۔ ان میں ایک نمایاں نام میجر جنرل (ر) نصیر اللہ خان بابر کا ہے، جنہوں نے فوج، سرحدی انتظام، انٹیلیجنس، اور سیاست—چاروں میدانوں میں گہرے اثرات چھوڑے۔۔🪖 فوجی پس منظر اور عسکری خدماتنصیر اللہ بابر 1928 میں خیبر پختونخوا کے علاقے پِرپائی (نوشہرہ) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پشاور اور برطانوی دور کے فوجی اداروں سے حاصل کی، بعد ازاں پاکستان ملٹری اکیڈمی سے تربیت لے کر 1948 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔وہ آرٹلری کور اور بعد میں مختلف عسکری کمانڈز میں خدمات انجام دیتے رہے۔ 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں میں ان کا کردار نمایاں رہا، اور انہیں ستارۂ جرات جیسے فوجی اعزازات بھی ملے۔بعد ازاں وہ انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور (FC) بھی رہے، جو قبائلی علاقوں میں امن و امان کے حوالے سے ایک اہم عسکری عہدہ تھا۔🧭 “کمیونیکیشن” اور سکیورٹی اسٹرٹیجک کردارنصیر اللہ بابر کا اصل اثر صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھا بلکہ ان کا کردار اسٹریٹجک سکیورٹی کمیونیکیشن اور خفیہ پالیسی سازی میں بھی نمایاں سمجھا جاتا ہے

۔قبائلی علاقوں میں ریاستی رابطہ کاریافغانستان سے متعلق پالیسی اور اثر و رسوخانٹیلیجنس اور داخلی سکیورٹی آپریشنز میں کردارفرنٹیئر کور کے ذریعے “گراؤنڈ نیٹ ورک” کا قیامان کا اندازِ کار “hard power + political communication” کا امتزاج سمجھا جاتا ہے، جس نے انہیں بعد میں سیاسی حلقوں میں بھی مضبوط بنایا۔🏛️ سیاسی سفر اور پیپلز پارٹی میں شمولیت1974 کے بعد انہوں نے فوج سے ریٹائرمنٹ لے کر سیاست میں قدم رکھا اور پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) میں شامل ہو گئے۔ان کے اہم سیاسی کردار:📌 1. خیبر پختونخوا کے گورنر (1975–1977)انہوں نے صوبے میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کی۔📌 2. بے نظیر بھٹو کے قریبی مشیر1988–1990 کے دوران وہ داخلی امور کے خصوصی مشیر رہے۔📌 3. وزیر داخلہ (1993–1996)یہ ان کی سب سے اہم سیاسی ذمہ داری تھی، جس میں:کراچی میں امن و امان کے لیے سخت آپریشنزپولیس اصلاحاتداخلی سلامتی کی حکمت عملیان کے فیصلے آج بھی بحث کا موضوع ہیں⚔️ بڑے فیصلے اور متنازع اقداماتنصیر اللہ بابر کے چند اہم اور متنازع اقدامات:کراچی میں آپریشنز اور سیاسی گروہوں کے خلاف کارروائیاںریاستی سکیورٹی اسٹرٹیجی میں سخت لائنکراچی آپریشن (1992–1996): پس منظر، حقائق اور نصیر اللہ بابر کا کردارکراچی آپریشن پاکستان کی سیاسی و سکیورٹی تاریخ کا ایک انتہائی اہم، متنازع اور فیصلہ کن باب ہے۔ یہ آپریشن 1990 کی دہائی میں اس وقت شروع ہوا جب کراچی میں سیاسی، لسانی اور جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان شدید کشیدگی اور خونریزی بڑھ گئی۔اس پورے عمل میں اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ نصیر اللہ خان بابر کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے

۔1990 کی دہائی کے آغاز میں کراچی:پاکستان کا سب سے بڑا معاشی مرکزلاکھوں آبادی پر مشتمل کثیر النسلی شہرسیاسی جماعتوں اور مسلح گروہوں کا مرکزبھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور ہڑتالوں کا شکاراہم کشیدگی MQM (متحدہ قومی موومنٹ)، پولیس، اور بعض ریاستی اداروں کے درمیان تھی۔1992 میں اس وقت کی حکومت نے کراچی میں “کلین اپ آپریشن” شروع کیا۔ اس کے بنیادی مقاصد تھے:سیاسی اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا خاتمہاسلحہ کی غیر قانونی موجودگی روکناشہر میں ریاستی رٹ بحال کرناٹارگٹ کلنگ اور ہڑتالوں کا خاتمہاس آپریشن کی نگرانی مختلف ادوار میں فوج، رینجرز اور پولیس نے کی، لیکن سیاسی سطح پر اس کی پالیسی سازی میں نصیر اللہ بابر کا کردار اہم تھا۔۔🧭 نصیر اللہ بابر کا کردارنصیر اللہ بابر (وزیر داخلہ 1993–1996) نے کراچی کی صورتحال کو “ریاستی بقا کا مسئلہ” قرار دیا۔ان کی پالیسی کے اہم نکات:سخت سکیورٹی آپریشن کی حمایتانٹیلیجنس بیسڈ کارروائیوں کا فروغرینجرز کے اختیارات میں اضافہپولیس اصلاحات اور سیاسی مداخلت کم کرنے کی کوششجرائم پیشہ عناصر اور سیاسی گروہوں میں فرق کرنے کی پالیسیان کے نزدیک کراچی میں “ریاستی کنٹرول کی بحالی” اولین ترجیح تھی۔افغانستان اور قبائلی علاقوں میں اثر و رسوخ کی پالیسیانٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کی توسیعان کے حامی انہیں “اسٹیبلٹی لانے والا سخت منتظم” کہتے ہیں،

جبکہ ناقد انہیں “سخت گیر پالیسی ساز” قرار دیتے ہیں۔🌍 افغانستان اور علاقائی کردارکچھ تاریخی رپورٹس کے مطابق وہ 1970s میں افغانستان کے حوالے سے خفیہ اور اسٹریٹجک آپریشنز سے بھی منسلک رہے، جو خطے کی جیوپولیٹکس میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے تھے۔👨👩👧 خاندان، اولاد اور ذاتی زندگیتعلق: پشتون قبیلہ بابرآبائی علاقہ: نوشہرہ، پِرپائیخاندان: نجی زندگی نسبتاً کم میڈیا میں رہیایک بیٹی (Maria Babar) کا ذکر بعض ذرائع میں ملتا ہےان کی نجی زندگی زیادہ تر سیاست اور عسکری ذمہ داریوں کے سائے میں رہی۔🎓 تعلیمابتدائی تعلیم: پشاورBurn Hall SchoolRoyal Indian Military College (Dehradun)پاکستان ملٹری اکیڈمی (PMA)⚰️ وفاتنصیر اللہ بابر 10 جنوری 2011 کو پشاور میں طویل علالت کے بعد وفات پا گئے۔ان کی تدفین آبائی علاقے پِرپائی میں کی گئی۔

🧾 مجموعی تجزیہنصیر اللہ بابر کو ایک “فوجی اسٹریٹیجسٹ + سیاسی سخت گیر منتظم” کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی زندگی تین بڑے دائروں میں سمٹی ہوئی ہے:فوجی جرأت اور جنگی خدماتداخلی سکیورٹی اور ریاستی سخت پالیسیاںپیپلز پارٹی کی حکومت میں طاقتور سیاسی کردار📌 نتیجہنصیر اللہ بابر پاکستان کی ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے ریاستی ڈھانچے کے اندر رہ کر طاقت، سیاست اور سکیورٹی تینوں کو ایک ساتھ متاثر کیا۔ ان کا کردار آج بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بحث، تعریف اور تنقید تینوں زاویوں سے زندہ ہے۔

پاکستان سے کئی گنا امیر صوبے Ontario کا وزیر اعلی اِس جیسے کئی جہاز خرید سکتا ھے لیکن اُس کی قوم نے اُسے ایک پر بھی معاف نہیں کیا اور ایک ہم ہیں کہ حکمرانوں کی عیاشیوں، اُن کے شاہانہ طرز زندگی اور قومی خزانے پر اِن کے ٹھاٹ باٹ کو کتنے آرام سے ہضم کر لیتے ہیں۔۔دنیا بدل رھی ھے۔۔۔ کسں کی پیروی کرنی چاھیئے ،شعور میں آ گئی ھے۔۔کیا آپ نے 2018 کے انتخابات کے بعد کسی کو اس طرح کی اصلاحات ان سب سے پہلے کرتے نہیں دیکھا۔۔۔۔۔؟کون ھے اصل ھیرو ۔۔۔۔سمجھ تو گئے ھوں گے ۔۔۔دنیا کے دو ملکوں میں کس نے کس کی پیروی کی، اور پھر ان کو کیا عوامی ردعمل ملا۔۔۔دو واقعات۔۔۔۔ پہلا حالیہ واقعہ ۔۔۔۔کروشیا کی منتخب صدر نے ملک کی صدر کا حلف اٹھانے کے بعد اپنا jet جہاز اور وزراء کے استعمال میں 39 لگثری گاڑیاں فروخت کرکے وزراء کو حکم جاری کیا کہ اپنے علاقوں میں جاکر عوام کے مسائل معلوم کرو اور اپنے گھروں میں دفاتر بنا لو حالانکہ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ کیمرج یونیورسٹی کی فارغ التحصیل خاتون جو شکل و صورت سے بھی جاذب نظر ھے Tiktok کا ڈرامہ بھی رچا سکتی تھی اسکے گھر سے دفتر کا فیصلہ 1.2 کلومیٹر ھے جو پیدل طے کرتی ھے گھر سے اپنے دفتر اپنا کھانا ساتھ لے کر آتی ھے اس نے غیر ملکی قرضہ لینے سے انکار کردیا اپنی تنخواہ ملک کے عام مزدور کے برابر کردی۔۔

(امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی خصوصی رپورٹ)۔۔۔۔۔۔ دوسرا حالیہ واقعہ۔۔۔کینڈا کے صوبے Ontario کے وزیر اعلیٰ ڈَگ فورڈ نے مریم نواز کی طرح اپنے لئے ایک لگژری جہاز 28.9 ملین ڈالرز میں خریدا ، جیسے ہی خبر آئی تو کہرام مچ گیا۔ اپوزیشن، میڈیا اور عوام نے وزیر اعلیٰ کے بخیئے اُدھیڑ دیئے، قوم نے کہا کہ ہمارے مسائل کچھ اور ہیں لیکن تم اپنے پُر تعیش سفر کیلئے جہاز کیسے خرید سکتے ہو، کسی نے کہا کہ جیسے ہم اکانومی کلاس میں سفر کرتے ہیں تم بھی ویسے ہی کرو، کسی نے کہا کہ ہمیں تم جیسا عیاش وزیر اعلی نہیں چاہیے، کسی نے کہا کہ تم عوام کے ٹیکسوں کے پیسے پر ایک rockstar کی طرح نہیں رہ سکتے، اپوزیشن نے اس جہاز کو gravy plane کا نام دے دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ وزیر اعلی نے ڈھٹائی، ضد اور بے شرمی دکھانے کے بجائے فوری طور پر جہاز کو بیچنے کا حکم دے دیا ہے

۔۔۔یاد رکھیں کہ Ontario میں فی کَس آمدن 49,000 ڈالرز ہے جبکہ پاکستان میں فی کَس آمدن صرف 1,650 ڈالرکینیڈا کے صرف ایک صوبے Ontario کا GDP تقریباً 909 ارب ڈالرز ہے جبکہ پورے پاکستان کا 400 ارب ڈالرز سے بھی کم۔۔ بتانے کا مقصد یہ ھے کہ پاکستان سے کئی گنا امیر صوبے Ontario کا وزیر اعلی اِس جیسے کئی جہاز خرید سکتا ھے لیکن اُس کی قوم نے اُسے ایک پر بھی معاف نہیں کیا اور ایک ہم ہیں کہ حکمرانوں کی عیاشیوں، اُن کے شاہانہ طرز زندگی اور قومی خزانے پر اِن کے ٹھاٹ باٹ کو کتنے آرام سے ہضم کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔بشکریہ۔ صفدر حسین شاہ

*بڑا اسکینڈل بےنقاب**پاکستان کی مشہور بسکٹ بنانے والی کمپنی کے خلاف 6 ارب ٹیکس چوری کا مقدمہ درج، بینک افسران ملوث پائے گئے*
*بلوچستان شاہراہِ ایم 40 پر دہشتگردوں کی ناکہ بندی کی کوشش سکیورٹی فورسز نے ناکام بنادی، فائرنگ کے تبادلے میں 7 دہشتگرد جہنم واصل، 3 جوان جام شہادت نوش کرگئے، آپریشن جاری*

*تب تک ایران اپنا وفد پاکستان نہیں بھیجے گا جب تک امریکہ آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، ایران کا واضح پیغام* *بلوچستان شاہراہِ ایم 40 پر دہشتگردوں کی ناکہ بندی کی کوشش سکیورٹی فورسز نے ناکام بنادی، فائرنگ کے تبادلے میں 7 دہشتگرد جہنم واصل، 3 جوان جام شہادت نوش کرگئے، آپریشن جاری*

وعجائیداد کی ڈیجیٹل رجسٹریشن کا بل منظورپنجاب اسمبلی نے “دی رجسٹریشن ترمیمی بل 2026” منظور کر لیا، جائیداد کی رجسٹریشن کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کا فیصلہلاہور : پنجاب اسمبلی نے “دی رجسٹریشن ترمیمی بل 2026” منظور کر لیا ہے جس کے تحت اب جائیداد کی تمام رجسٹریشن کاغذی (مینوئل) طریقے کے بجائے الیکٹرانک ریکارڈ سسٹم کے ذریعے کی جائے گی۔نئے قانون کے مطابق پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) ایک جدید ڈیجیٹل نظام قائم کرے گی جہاں ہر دستاویز کا اندراج برقی طریقے سے ہوگا اور روایتی رجسٹروں کا استعمال ختم کر دیا جائے گا۔قانون کے تحت اب ہر رجسٹری کے لیے بائیومیٹرک تصدیق لازمی قرار دی گئی ہے، جس میں فنگر پرنٹ یا چہرے کی شناخت شامل ہوگی اور یہ نظام نادرا کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہوگا۔

اس ترمیم کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اب رجسٹرار کو قانونی اختیار دیا گیا ہے کہ اگر کوئی رجسٹری غلط بیانی، دھوکہ دہی یا اثر و رسوخ کے ذریعے کروائی گئی ہو تو وہ اسے خود منسوخ کر سکے گا۔حکام کے مطابق یہ قانون پورے پنجاب میں فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ نئے نظام کے تحت ہر رجسٹری پر الیکٹرانک دستخط ہوں گے جن کی قانونی حیثیت عدالتوں میں بھی تسلیم کی جائے گی۔ماہرین کے مطابق اس اقدام سے پٹواری کلچر، جعلی رجسٹریوں اور زمینوں کے تنازعات میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے اور جائیداد کے معاملات زیادہ شفاف اور محفوظ ہو جائیں گے۔