
میڈیکل کی طالبہ پر تشدد جوتے چٹوانے کا کیس _ معروف انڈسٹری مالک شیخ دانش کو 5 سال قید کی سزا سنا دی گئی اور ڈیڑھ کروڑ ہرجانہ بھی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کنیز فائزہ بھٹی نے کیس کا فیصلہ سنایا ساتھی ملزمہ ماہم فاطمہ کو تین سال قید اور تیس لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی چار سال قبل مقدمہ درج ہوا تھا۔۔۔۔۔

کراچی کو ہم چلائیں گے اسلام آباد سے نہیں چلے گا فاروق ستار وزیراعظم نے کہا کہ ٹیسوری کو مجبوری میں ہٹایا ۔۔رکن قومی اسمبلی اسمبلی کا دعوٰیہم کوئی ٹرک ڈمپر یا لوڈر نہیں جو بلا لائسینس چل رہا ہو ہمارے پاس لائسینس ہے ہمارا ٹرک پوری قیادت چلا رہی ہے وزیر اعظم اگلے ہفتے ہمارے تحفظات دور کرنے کے لیے ملاقات کریں گے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل اچھا کام کررہے ہیں ہمیں فائدہ ہوگا اب وزیراعظم ہی کچھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک گورنر بھی برقرار نہیں رکھ سکتے۔ اتنے بے اختیار۔ اللہ معاف کرے
آواز ِ دروں —•—ایران کیخلاف امریکی اور صیہونی حملے ختم نہیں ھوۓ ، امریکی استعمار مذاکرات بھی کرتا ھے اور حسب ِ ضرورت دوران مذاکرات حملہ بھی کر دیتا ھے ، انکی تاریخ منافقت ، بزدلی اور پیٹھ پیچھے وار کرنے سے بھری پڑی ھے ۔۔۔وہ مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی کرنے اور مہلک جنگی وار کرنیکی بیک وقت تیاری کر رھے ھیں ، یقیناً ایرانی اس شیطانیت سے پوری طرح آگاہ ھونگے ، امریکہ اندرونی طور پر اور اپنے روایتی اتحادیوں کی جانب سے جنگ کے جلد از جلد خاتمے کیلئے شدید دباؤ میں ھے جبکہ ایرانی بے پناہ جانی ،

سٹریٹجک اور مالی نقصانات کے باوجود ایک لمبی جنگ لڑنے کیلئے پرعزم ھیں ۔۔ھمارا خیال ھے کہ امریکہ کراۓ کے فوجیوں کی حمایت کے بغیر کھلی میدانی جنگ میں ایرانی فوج کے مقابل نہیں آئیگا ، امریکی اپنی شرائط پوری نہ ھونے پر ایران کو دباؤ میں لانے کیلئے شدید بمباری کا آپشن استعمال کر سکتے ھیں لیکن ایرانی اپنے ایمان سے ھر بمباری کو سہہ جانیں گے ان شا اللّٰہ استعمار کو شکست ھو گی ، صیہونی اور امریکی منہ کی کھا کر پیچھے ھٹیں گے !!!

امریکا کے صدر ٹرمپ کا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اور سعودی ولی عہد شیخ محمد بن سلمان نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر گفتگو کی ہے۔ٹرمپ اور سعودی ولی عہد نے ایران جنگ سے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے۔امریکی میڈیا کا بتانا ہے کہ ٹرمپ نے ممکنہ جنگ بندی پر ہونے والی بات چیت سے بھی سعودی ولی عہد کو آگاہ کیا۔واضح رہے کہ چند روز قبل وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا۔سعودی نیوز ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال اور کشیدگی کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔وزیراعظم اور ولی عہد نے علاقائی و عالمی امن و استحکام سے متعلق امور اور جاری سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو کی تھی۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہمیشہ اور مضبوطی سے سعودی عرب کے ساتھ کھڑے













