تازہ تر ین

موسم پھر بدلنے والا ہے! مزید بارشوں کا امکان، محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی۔۔پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب۔ بنگلادیش کے خلاف ٹیسٹ سریز سے قبل پاکستانی کھلاڑیوں کا فوٹو شوٹ.۔پاکستان اور زمبابوے کی ویمنز ٹیموں کے درمیان دوسرا ون ڈے۔۔ہم ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کریں گے: صدر ٹرمپ۔۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی چین میں سب کچھ طے۔ امریکا اور ایران کے درمیان ایک صفحے پر مشتمل معاہدہ طے۔۔کمزور پاسپورٹ میں ہمارا چوتھا نمبر کیوں ہے؟۔۔جبکہ ایتھوپیا، نائجیریا اور یوگنڈا ہم سے بہتر ہیں۔ ایسا کیوں؟ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

کل اچانک حاتم طائی مل گئے میں نے پوچھا او بھائی آپ کہاں سے آ گئے بولے تھا تو قبر میں مگر آپ کی حکومت نے لات ہی ایسی غضب کی ماری کہ قبر سے باہر آنا پڑاقوم کو بجلی کی قیمت میں تاریخی کمی اور پانچ سو یونٹ کے استعمال پر پورے پانچ روپے کی عظیم الشان بچت پر ڈھیروں ڈھیر مبارک باد اور حکومت کے اس عظیم الشان کارنامے کو تاریخ میں یاد رکھا جائے گاشکریہ شوباز شریف

بڑے ذلیل ہو کہ ایران کے کوچے سے ہم نکلےبڑے نکلے ٹرمپ کے قبضے کے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلےٹرمپ کا دعوی ہے کہ آخر کار ایران کے نیوکلئیر ہتھیار نہ بنانے پہ جنگ بندی ھو گئ🤣جبکہ ایران نے آبناے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی شپنگ کمپنیوں کیلیے نئ ہدایات جاری کی ہیں اب امریکن تجارتی جہاز بھی ٹول دیے بنا نہیں گزر سکیں گے ابناۓ ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو پیشگی کلئیرنس کیلیے ایمیل کرنی ہو گی1

. ایرانی کرنسی میں ٹول پیمنٹ کو ترجیح دی جاے گی2. ایرانی بنکس سے گارنٹی لیٹر کا اجرا ضروری ہو گا3. جن ممالک کی سرزمین سے ایران پہ حملے کیے گۓ وہ پہلے نقصان کے ازالہ کیلیے جنگی ہرجانہ ادا کریں گے پھر ابی گزرگاہ کے استعمال کی اجازت ہو گی علاوہ ازیں جن ممالک نے ایران پہ تجارتی پابندیاں لگائ ہیں یا ایران کا پیسہ\اکاؤنٹس روک رکھا ہے انھیں ابناے ہرمز استعمال کی اجازت نہیں ہو گی4. تمام تجارتی کاغزات میں آبناے ہرمز کے بجاۓ فارس\ایرانی گلف لکھنا ضروری ہے5. اوپر دی گئ ہدایات میں عمل نہ کرنے کی وجہ سے کسی بھی تجارتی جہاز پہ قپضہ کیا جا سکتا ہے اور جہاز پہ موجود سامان کی کل مالیت کا 20% جرمانہ ادا کرنا ہو گا

بیس سال پہلے ٹھیک آج کے دن ایک سیاہ فام نوجوان “گائے گوما” آئی ٹی کی جاب کے لیے بی بی سی کے دفتر پہنچا۔ وہ اپنی باری کا منتظر تھا کہ ایک شخص نے آکر پوچھا، آپ آئی ٹی سے ہیں؟ کیا آپ ہی مسٹر گائے ہیں؟ گائے گوما نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ نوجوان انھیں ایک کمرے میں لے گیا۔چند منٹ بعد ایک خاتون وہاں آئیں۔ گائے گوما کو لگا کہ انھیں کہیں دیکھا ہے۔ کسی نے نوجوان سے پوچھا کہ میک اپ کروائیں گے؟ ابھی وہ صورتحال سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ انٹرویو شروع ہوگیا۔ وہ بی بی سی ٹی وی پر لائیو انٹرویو تھا۔گائے گوما کو احساس ہوگیا کہ کچھ مسئلہ ہوگیا ہے۔ لیکن اس نے حواس بحال رکھے۔ خاتون اینکر نے ایک آن لائن میوزک کیس کے عدالتی فیصلے کے بارے میں دو سوالات کیے۔ گائے گوما نے سکون سے ان کا جواب دیا۔ جوابات غلط نہیں تھے لیکن اینکر کو بھی احساس ہوگیا کہ کچھ مسئلہ ہے۔ اس نے انٹرویو فورا ختم کردیا۔بعد میں پتا چلا کہ اینکر نے آئی ٹی ایکسپرٹ گائے کیونی کا انٹرویو کرنا تھا۔ پہلا نام یکساں ہونے کی وجہ سے غلطی ہوئی۔ بہرحال وہ بھنڈ منظر عام پر آیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ بعد میں بی بی سی نے خود بھی اسے دوبارہ نشر کیا۔آج اس بھنڈ کے بیس سال ہونے پر نیویارک ٹائمز نے تفصیل سے پوری کہانی چھاپی ہے اور بی بی سی کے اس کلپ کا لنک بھی شئیر کیا ہے۔میں نے جیو میں کم از کم دو بھنڈ ایسے ہوتے دیکھے ہیں۔ عام طور پر اسائنمنٹ ڈیسک کے پاس ایک فون ڈائریکٹری ہوتی ہے جس میں ان تمام لوگوں کے نمبر ہوتے ہیں، جن کا کبھی انٹرویو کیا ہو یا کرنا پڑجائے

۔ سیاست دان، سرکاری حکام، ترجمان، کھلاڑی، فنکار، تجزیہ کار، سب نام ہوتے ہیں۔ جب کسی کا بیپر، یعنی لائیو انٹرویو کرنا ہو تو اسائنمنٹ ڈیسک سے ہی نمبر مانگا جاتا ہے۔پی سی آر، وہ جگہ جہاں پینل پروڈیوسر اور آڈیو انجینر بیٹھے ہوتے ہیں، کئی فون رکھے ہوتے ہیں جن سے انٹرویو کے لیے کال ملائی جاتی ہے۔ ایک بار اسائنمنٹ ڈیسک نے کوئی غلط نمبر دے دیا۔ بریکنگ نیوز کی جلدی تھی۔ ایسوسی ایٹ پروڈیوسر نے کال ملاکر لائن اسٹوڈیو میں ٹرانسفر کردی۔ آن ائیر جانے کے بعد معلوم ہوا کہ کال غلط شخص کو ملادی گئی ہے۔پہلی بار یہ غلطی ایسوسی ایٹ پروڈیوسر سے ہوئی۔ دوسری بار اس وقت جیو دبئی کے بیورو چیف ایم کے عباس نے بھنڈ مارا۔ پرویز مشرف کا دور تھا۔ کسی اہم معاملے پر چوہدری شجاعت حسین کا لائیو بیپر کرنا تھا۔ وہ حسب عادت بھاگے بھاگے آئے اور پی سی آر کے فون سے خود کال ملاکر اسٹوڈیو میں ٹرانسفر کی۔ اینکر نے سوال پوچھا تو پتا چلا کہ فون غلط ملایا گیا۔

چوہدری شجاعت کے بجائے کسی عام آدمی کا فون مل گیا تھا۔میں اسائننمٹ ڈیسک پر کم بھروسا کرتا تھا۔ جب میں نے جیو چھوڑا تو میری اپنی فون ڈائریکٹری میں ڈھائی ہزار نمبر تھے۔ وائس آف امریکا میں وہ ذخیرہ بہت کام آیا۔ لیکن ایک دن مجھ سے بھی غلطی ہوئی لیکن چونکہ وہ لائیو انٹرویو نہیں تھا اس لیے بھنڈ نہیں تھا۔میں نے کسی معاملے پر ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی سے رائے لینا چاہی۔ فون بک میں خالد مقبول کا نام دیکھ کر کال ملائی۔ پوچھا کہ خالد مقبول صاحب بات کررہے ہیں؟ کال ریسیو کرنے والے نے تصدیق کی۔ میں نے اپنا تعارف کروایا اور سیاسی سوال پوچھا۔ وہ صاحب ہنسے اور کہا، میں وہ خالد مقبول نہیں ہوں۔میں نے فون بک دوبارہ کھولی اور کہا، معذرت چاہتا ہوں جنرل صاحب۔وہ مشرف کے سابق ساتھی اور سابق گورنر پنجاب جنرل خالد مقبول تھے۔

ڈاکٹر کی ڈائری آپ یہ پوسٹ اور اس پر موجود کمنٹس پڑھ لیں ، اور پھر ڈاکٹرز کے خلاف معاشرے کا عمومی رویہ سمجھنے کی کوشش کریں۔کمنٹس کرنے والے دونوں صاحبان دو مختلف پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔اس پوسٹ کے دو پہلو ہیں۔پرائیویٹ پریکٹس میں بیٹھے ہوے سپیشلسٹ ڈاکٹر کا پہلا انٹرسٹ اس کے پیشنٹ کا صحت یاب ہونا ہے کیونکہ وہ پیشنٹ ہی ڈاکٹر کی ائندہ کی مارکیٹنگ ہے ، ایک مریض صحت یاب ہو کر جائے تو کم از کم دس نئے خاندان اس ڈاکٹر پر اپنے مریض کے لیئے اعتبار کرتے ہیں۔ ڈاکٹر چاہے اپنے مریض کو کوئ اضافی دوائی لکھ کر دے ، یا کوئی دوائی ہلکی کمپنی کی لکھ کر دے ، مگر اس کی پہلی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ مرض کی تشخیص کے مطابق جو دوائی ہو، وہ بہترین ہو ، تاکہ مریض صحت یاب ہو جائے ۔ اگر ڈاکٹر کو فارمولا نام لکھنے کا پابند کر دیا جائے تو پھر دوائی کسی اچھی ملٹائ نیشنل کمپنی کی دینی ہے یا لوکل کمپنی کی دینی ہے اس کا ٹوٹل اختیار میڈیکل اسٹور والے کے پاس ہوگا۔اور یہ بات تو طے ہے کہ لوکل کمپنیوں کی غیر تسلی بخش دوائیوں پر کمپنیز بھی دگنا تگنا پرافٹ کماتی ہیں ، اور میڈیکل سٹور والوں کو بہت بڑے بڑے کمیشنز کا فائدہ ہوتا ہے ، پھر میڈیکل سٹور والا کم پیسوں میں وہ سستی دوائی خرید کر مہنگے دام کیوں نہ بیچے گا؟کتنے فیصد لوگ ایسے ہیں ، جو فارمولا نام دیکھ کر خود یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ ہمیں کون سی دوائی لینی چاہیے ؟اب اتے ہیں دوسرے پہلو کی طرف …کمنٹ میں جو صاحب یہ طنز فرما رہے ہیں کہ ڈاکٹرز کو کمیشن لینے کی کھلی چھوٹ ہونی چاہیے۔کیا وہ میڈیکل اسٹور اور فارمیسی والوں کو کمیشن کی کھلی چھٹی دینے کے حق میں ہیں ؟ کیا باقی سارے ہی شعبے ، چاہے وہ تدریس سے ہوں طب سے ہوں ،

قانون سازی سے ہوں ، مینجمنٹ یا ڈیولپمنٹ سے ہوں ، فوڈ سیفٹی ، پولیس ، افسر شاہی یا صحافت سے ہوں ، اپنا کام 100 فیصد ایمانداری کے ساتھ بغیر کسی کرپشن اور کمیشن کے کر رہے ہیں ؟انسانی معاشرے تو تمام شعبوں کے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون سے ہی چلتے ہیں ،دوائیاں بنانے والی کمپنیاں ، انہیں اپروو اور ریگولیٹ کر کے مارکیٹ میں بزنس کی اجازت دینے والے ادارے ، اور مارکیٹ میں دوائیوں کا بزنس کرنے والے میڈیکل سٹورز اور فارمیسز ، یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ لنکڈ ہیں ، یہ نہیں ہو سکتا کہ باقی تمام شعبوں کی کوتاہیوں کو یکسر نظر انداز کر کے ایک جملہ کہہ دیا جائے کہ ڈاکٹر کا تعلق ڈائریکٹ انسانی جان سے ہوتا ہے اس لیے اس پر ذمہ داری زیادہ ہے۔پہلی ذمہ داری ان پر ہے جنہوں نے ناقص میڈیسن بنائی ، پھر اس میڈیسن کی اپروول دی ، پھر اسے مارکیٹ میں لانچ کیا ، میڈیکل سٹور والوں کو بڑے پرافٹ دیکر سیل کی ، ڈاکٹرز کا نمبر تو ان سب کے بعد آتا ہے کہ جب وہ اس دوا کو لکھے گا۔صرف ڈاکٹر کو مورد الزام ٹھہرا کے اپ اوپر والی ساری چین کی ذمہ داری سے تہی دامن نہیں ہو سکتے ۔یاد رکھیں کہ ڈاکٹر بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے ،

جیسے باقی سارے ادارے اور شعبے اخلاقی اور فنانشل کرپشن میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ، ڈاکٹرز تو اس کے مقابلے میں سمندر میں کچھ گھونٹ بھی نہیں ہیں ۔خدارا اپنی سوچ کو مثبت رکھیں ،خدارا ڈاکٹرز کے خلاف اپنی نفرت اور بغض کو اتنا نہ بڑھائیں ۔ابھی تو ہم مذاق میں یہ جملہ کہتے ہیں کہ بہاولپور میں درجنوں ڈاکٹر صرف یہ کہنے کی تنخواہ لے رہے ہیں کہ” اینے نہیں بچنا اینوں لاہور لے جاؤ “خدانہ کرے اگر لاہور کے ڈاکٹروں نے بھی سیریس مریضوں کو ریسیو کرنا چھوڑ دیا تو پھر کیا ہوگا ؟ لاہور سے آگے کہاں؟ڈاکٹر فرح رحمان 6 مئ 2026

ایران نے رپورٹ ہونے کے مقابلے میں کہیں زیادہ امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے، سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے۔ایرانی فضائی حملوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر کم از کم 228 ڈھانچوں یا سامان کے ٹکڑوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا ہےواٹنگٹن پوسٹ کی سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے مطابق، یہ حملے ہینگرز، بیرکس، فیول ڈیپو، طیاروں اور کلیدی ریڈار، مواصلاتی اور فضائی دفاعی سامان کو نشانہ بناتے رہے۔ تباہی کی مقدار امریکی حکومت کی طرف سے عوامی طور پر تسلیم کیے گئے یا پہلے رپورٹ ہونے والے سے کہیں زیادہ ہے۔علاقے میں امریکی اڈوں پر فضائی حملوں کے خطرے نے انہیں نارمل سطح پر عملے سے بھرنا خطرناک بنا دیا تھا، اور جنگ کے آغاز میں کمانڈروں نے ان مقامات سے زیادہ تر عملے کو ایرانی فائر کے دائرے سے باہر منتقل کر دیا تھا، حکام نے بتایا۔جنگ کے آغاز 28 فروری سے اب تک، علاقے میں امریکی سہولیات پر حملوں میں سات فوجی ہلاک ہوئے — جن میں سے چھ کویت میں اور ایک سعودی عرب میں — اور اپریل کے آخر تک 400 سے زائد فوجی زخمی ہوئے، امریکی فوج نے بتایا۔ زخمیوں میں سے زیادہ تر چند دنوں میں ڈیوٹی پر واپس آ گئے،

لیکن کم از کم 12 کو وہ زخم لگے جنہیں فوجی حکام نے سنگین قرار دیا، امریکی حکام نے بتایا جو دیگر کے علاوہ اس معاملے کی حساسیت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کر رہے تھے۔مشکل سے حاصل ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر فی الحال مشرق وسطیٰ کی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کرنا غیر معمولی طور پر مشکل ہے۔ دو بڑے کمرشل فراہم کنندگان، وینٹر اور پلانٹ، نے امریکی حکومت — اپنے سب سے بڑے کسٹمر — کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے علاقے کی تصاویر کی اشاعت کو محدود، تاخیر یا لامحدود طور پر روک دیا ہے جب تک جنگ جاری ہے، جس سے ایرانی جوابی حملوں کا جائزہ لینا مشکل یا ناممکن ہو گیا ہے۔ یہ پابندیاں جنگ شروع ہونے کے دو ہفتوں سے بھی کم عرصے بعد لگائی گئیں۔تاہم، ایرانی سرکاری میڈیا سے منسلک نیوز ایجنسیوں نے شروع سے ہی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اعلیٰ ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر باقاعدگی سے شائع کیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ امریکی مقامات کو پہنچنے والے نقصان کی دستاویز ہیں۔اس جائزے کے لیے — جو علاقے میں امریکی سہولیات کو پہنچنے والے نقصان کا پہلا جامع عوامی اکاؤنٹ ہے — واٹنگٹن پوسٹ نے ایرانی جاری کردہ 100 سے زائد اعلیٰ ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیا۔ پوسٹ نے ان میں سے 109 تصاویر کی تصدیق یورپی یونین کے سیٹلائٹ سسٹم، کوپرنیکس کی کم ریزولوشن تصاویر اور جہاں دستیاب ہو، پلانٹ کی اعلیٰ ریزولوشن تصاویر سے موازنہ کر کے کی۔ پوسٹ نے نقصان کے تجزیے سے 19 ایرانی تصاویر کو خارج کر دیا کیونکہ کوپرنیکس تصاویر سے موازنہ غیر حتمی تھا۔ کوئی ایرانی تصویر جعلی یا مینیپولیٹڈ نہیں پائی گئی۔کویت میں علی ال سالم ایئر بیس پر نو فیول بلیڈرز کو نقصان پہنچا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اینوٹیٹ تصاویر جاری کیں، اور پوسٹ نے پلانٹ کی تصاویر سے نقصان کی تصدیق کی۔پلانٹ تصاویر کی الگ تلاش میں، پوسٹ کے رپورٹرز نے 10 ایسے ڈھانچے دریافت کیے جو نقصان زدہ یا تباہ شدہ تھے اور جن کا ذکر ایرانی جاری کردہ تصاویر میں نہیں تھا۔ کل ملا کر، پوسٹ نے علاقے کے 15 امریکی فوجی مقامات پر 217 ڈھانچوں اور 11 سامان کے ٹکڑوں کو نقصان زدہ یا تباہ شدہ پایا۔

واٹنگٹن پوسٹ کے تجزیے کا جائزہ لینے والے ماہرین نے کہا کہ مقامات پر پہنچنے والا نقصان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی فوج نے ایرانی نشانہ بندی کی صلاحیت کو کم سمجھا، جدید ڈرون جنگی حکمت عملی کے مطابق خود کو کافی نہیں بدلا، اور کچھ اڈوں کو ناکافی تحفظ دیا۔سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے سینئر ایڈوائزر اور ریٹائرڈ میرین کور کرنل مارک کینشین نے، جنہوں نے پوسٹ کی درخواست پر ایرانی تصاویر کا جائزہ لیا، کہا: “ایرانی حملے درست تھے۔ کوئی بے ترتیب گڑھے نہیں جو نشانہ چوک جانے کی نشاندہی کرتے ہوں۔” پوسٹ نے پہلے انکشاف کیا تھا کہ روس نے ایران کو امریکی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے انٹیلی جنس فراہم کی تھی۔کچھ نقصان امریکی فوجیوں کے اڈوں سے نکل جانے کے بعد بھی ہوا ہو گا، جس سے ڈھانچوں کی حفاظت کم اہم رہ گئی۔ کینشین اور دیگر ماہرین نے کہا کہ ان کا خیال نہیں کہ ان حملوں نے ایران میں امریکی بمباری مہم کو نمایاں طور پر محدود کیا ہے۔مشرق وسطیٰ کی ذمہ داری سنبھالنے والے یو ایس سینٹرل کمانڈ نے پوسٹ کے نتائج کے تفصیلی خلاصے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

ایک فوجی ترجمان نے ماہرین کی طرف سے اڈوں کے نقصان کو وسیع یا ناکامی کی دلیل قرار دینے سے اختلاف کیا اور کہا کہ تباہی کا جائزہ پیچیدہ ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں گمراہ کن ہو سکتا ہے، لیکن تفصیلات دینے سے انکار کر دیا۔ ترجمان نے کہا کہ فوجی قائدین جنگ کے خاتمے کے بعد ایرانی حملوں کا مکمل سیاق فراہم کر سکیں گے۔نقصان کی تفصیل جنگ کے پہلے ہفتوں میں کئی نیوز آؤٹ لیٹس نے نقصان کا جائزہ شائع کیا، جن میں نیویارک ٹائمز شامل ہے جس نے 14 امریکی فوجی مقامات یا فضائی دفاعی تنصیبات پر حملے پائے۔ اپریل کے آخر میں این بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ ایک ایرانی جیٹ نے کویت میں امریکی اڈے پر بمباری کی، جو کئی سالوں میں پہلا موقع تھا جب دشمن کا لڑاکا طیارہ امریکی اڈے پر حملہ کرتا ہے، اور اس نے تحقیق کا حوالہ دیا جس کے مطابق ایران نے 11 اڈوں پر 100 اہداف کو نشانہ بنایا۔ سی این این نے پچھلے ہفتے رپورٹ کیا کہ 16 امریکی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔لیکن پوسٹ کا جائزہ — جو جنگ کے آغاز سے 14 اپریل تک کی تصاویر پر مبنی ہے — بتاتا ہے کہ ان مقامات پر درجنوں اضافی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جو بنیادی طور پر امریکی فوج استعمال کرتی ہے لیکن میزبان ممالک کی فوج اور اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ ہیں۔تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ فضائی حملوں نے پوسٹ کے جائزے والے امریکی اڈوں کے نصف سے زائد پر متعدد بیرکس، ہینگرز یا گوداموں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا۔ نیول سپورٹ ایکٹیویٹی بحرین، عیسیٰ ایئر بیس، رفاعہ ایئر بیس، اربیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ، حریر ایئر بیس، علی ال سالم ایئر بیس، کیمپ عریفجان، کیمپ بوہرنگ، شعبیہ پورٹ، ال عدید ایئر بیس، پرنس سلطان ایئر بیس، ال ظفرہ ایئر بیس۔ — ایرانی سرکاری میڈیا)”ایرانیوں نے متعدد مقامات پر رہائشی عمارتوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا تاکہ بڑی تعداد میں جانی نقصان پہنچایا جا سکے،” اوپن ایکسیس ریسرچ پروجیکٹ کانٹیسٹڈ گراؤنڈ کے انویسٹی گیٹر ولیم گڈ ہنڈ نے کہا، جنہوں نے تصاویر کا جائزہ لیا۔

“نہ صرف سامان، فیول سٹوریج اور ایئر بیس انفراسٹرکچر بلکہ نرم اہداف جیسے جم، فوڈ ہالز اور رہائش بھی نشانے پر ہیں۔”پوسٹ نے یہ بھی پایا کہ حملوں میں قطر کے ال عدید ایئر بیس پر سیٹلائٹ مواصلاتی مقام، بحرین کے رفاعہ اور عیسیٰ ایئر بیس اور کویت کے علی ال سالم ایئر بیس پر پیٹریاٹ میزائل دفاعی سامان، بحرین کی نیول سپورٹ ایکٹیویٹی (جو یو ایس ففتھ فلیٹ کا ہیڈ کوارٹر ہے) پر سیٹلائٹ ڈش، کویت کے کیمپ بوہرنگ پر پاور پلانٹ، اور تین اڈوں پر پانچ فیول سٹوریج بلیڈر سائٹس شامل تھیں۔ایرانی تصاویر نے کویت کے کیمپ عریفجان اور علی ال سالم ایئر بیس اور ففتھ فلیٹ ہیڈ کوارٹرز پر ریڈومز کو پہلے رپورٹ ہونے والا نقصان یا تباہی بھی دستاویز کیا، اردن کے موافق سلطی ایئر بیس اور متحدہ عرب امارات کے دو مقامات پر ٹرمینل ہائی الٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس (THAAD) میزائل دفاعی ریڈارز اور سامان، ال عدید پر دوسرا سیٹلائٹ مواصلاتی مقام، اور سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ای-3 سینٹری کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارہ اور ریفولنگ ٹینکر بھی شامل ہیں۔پوسٹ کے جائزے والے نقصان کا نصف سے زائد ففتھ فلیٹ ہیڈ کوارٹرز اور کویت کے تین اڈوں — علی ال سالم ایئر بیس، کیمپ عریفجان اور کیمپ بوہرنگ — پر ہوا۔

کیمپ عریفجان امریکی آرمی کا علاقائی ہیڈ کوارٹر ہے۔کویت کے کیمپ عریفجان کو 4 مارچ کو پہنچنے والا نقصان (پلانٹ)کچھ خلیجی ممالک نے امریکی فوج کو اپنے اڈوں سے جارحانہ آپریشنز کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ایک امریکی حکام نے بتایا کہ بحرین اور کویت کے اڈے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، شاید اس لیے کہ انہوں نے اپنی سرزمین سے حملوں کی اجازت دی، جن میں ہائی موبلیٹی آرٹلری راکٹ سسٹم (HIMARS) شامل تھے جو 310 میل سے زیادہ رینج پر میزائل فائر کر سکتے ہیں۔پوسٹ کا جائزہ دستیاب سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر نقصان کا صرف جزوی شمار ہے۔کینشین نے کہا کہ کچھ نقصان امریکی انتخاب یا دھوکے کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ قیمتی انٹر سیپٹرز بچانے کے لیے امریکی فورسز غیر اہم اہداف پر آنے والے میزائل کو لگنے دے سکتی ہیں، اور ممکن ہے کہ کمانڈروں نے خالی اڈوں کو مصروف دکھا کر ایرانی فورسز کو دھوکہ دیا ہو۔بدلتا ہوا میدان جنگ ماہرین نے کہا کہ فوجی مقامات کی ایرانی حملوں کے سامنے کمزوری متعدد عوامل کا نتیجہ تھی

۔سب سے اہم بات، ماہرین نے کہا، یہ ہے کہ ایرانی فورسز ٹرمپ انتظامیہ کے اندازے سے زیادہ لچکدار ثابت ہوئیں۔ سٹمسن سینٹر کی سینئر فیلو کیلی گریکو نے کہا کہ ایرانی میزائل اور ڈرون فورسز کو اتنی تیزی سے تباہ کرنے کے منصوبے جن سے وہ امریکی انفراسٹرکچر کو سنگین نقصان نہ پہنچا سکیں، “امریکی مقررہ انفراسٹرکچر پر ایرانی پری پوزیشنڈ ٹارگٹنگ انٹیلی جنس کی گہرائی” کو کم سمجھتے تھے۔گریکو نے کہا کہ حکمت عملی نے جون میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان 12 روزہ تنازع کے دوران امریکی اور اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کے استعمال شدہ ہونے کی حد کو بھی مدنظر نہیں رکھا۔سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے اندازے کے مطابق، فوج نے 28 فروری سے 8 اپریل تک کم از کم 190 تھاڈ انٹر سیپٹرز اور 1,060 پیٹریاٹ انٹر سیپٹرز استعمال کیے، جو ان کے جنگ سے پہلے کے ذخیرے کا بالترتیب 53 فیصد اور 43 فیصد ہے۔لندن میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ریسرچ فیلو جسٹن برونک نے کہا کہ امریکی اور اتحادی فضائی دفاعی نظام نے حملوں کو روکنے میں متاثر کن کام کیا، لیکن “سطح سے ہوا میں میزائل انٹر سیپٹرز اور ہوا سے ہوا میں میزائلوں کے لحاظ سے بہت بڑی قیمت پر”۔اس کے علاوہ، ماہرین نے کہا کہ امریکی فوج نے ایک طرفہ حملہ آور ڈرونز کے استعمال کے مطابق خود کو کافی نہیں بدلا، جو ان کے خیال میں یوکرین جنگ سے سیکھنا چاہیے تھا۔

سینٹر فار نیول اینالیسز کے ایسوسی ایٹ ریسرچ اینالسٹ ڈیکر ایولیتھ نے کہا: “اگرچہ ڈرونز کے پے لوڈ چھوٹے ہوتے ہیں — ان میں سے کچھ نے زیادہ نقصان نہیں کیا — لیکن انہیں روکنا زیادہ مشکل ہے اور وہ بہت زیادہ درست ہوتے ہیں، جو انہیں امریکی فورسز کے لیے بڑا خطرہ بناتا ہے۔”انہوں نے ساختہ چیلنجز کی طرف بھی اشارہ کیا، جن میں کلیدی مقامات اور ممکنہ اہداف پر فوجیوں اور سامان کی حفاظت کرنے والے مضبوط پناہ گاہوں کی کمی شامل ہے۔مثال کے طور پر، کویت میں ٹیکنیکل آپریشن سینٹر، جہاں مارچ کے آغاز میں ایرانی ڈرون حملے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے، میں اوور ہیڈ پروٹیکشن یا چھپنے کی جگہ بہت کم تھی، جو ڈیموکریٹک قانون سازوں کی طرف سے ہلاکتوں کی تفتیش میں زیر غور متعدد مسائل میں سے ایک ہے۔شعبہ پورٹ، کویت، 2021۔ مارچ میں ایرانی ڈرون حملے میں نشانہ بننے والی عمارت کی چھت پتلی دھات کی بنی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ (یو ایس آرمی فوٹوز بذریعہ سٹاف سارجنٹ ڈیوڈ سائمن)ایک کیس میں، سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ای-3 سینٹری کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارہ اس وقت تباہ ہوا جب اسے بار بار ایک ہی غیر محفوظ ٹیکس وی پر پارک کیا گیا تھا۔یو ایس سینٹرل کمانڈ نے نقصان کے ماہرین کے تجزیے پر سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔علاقے میں امریکی اڈوں پر حملوں نے فوجی منصوبہ سازوں کو نئے ٹریڈ آف پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے، سٹمسن سینٹر کے نان ریزیڈنٹ فیلو اور ریٹائرڈ ایئر فورس آفیسر میکسیمیلین بریمر نے کہا: فوجیوں کو محفوظ مقامات پر واپس کھینچیں اور ان کی لڑنے کی صلاحیت محدود کریں، یا اڈوں کو ویسے ہی رکھیں اور مستقبل میں ممکنہ جانی نقصان قبول کریں۔ایک امریکی حکام نے بتایا کہ نیول سپورٹ ایکٹیویٹی پر نقصان “وسیع” ہے اور وہاں ہیڈ کوارٹرز کو فلوریڈا کے ٹمپا میں میک ڈیل ایئر فورس بیس — جو یو ایس سینٹرل کمانڈ کا گھر ہے — منتقل کر دیا گیا۔ حکام نے کہا کہ فوجی، کنٹریکٹرز یا سول ملازمین “جلد ہی” اس اڈے پر واپس نہیں آئیں گے۔دو دیگر حکام نے بتایا کہ امریکی فورسز ممکنہ طور پر علاقائی اڈوں پر بڑی تعداد میں کبھی واپس نہ آئیں، اگرچہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔بریمر نے کہا: “ہم سٹیلتھ کے دور سے نکل کر ایک ایسے دور میں آ گئے ہیں جہاں پورا میدان جنگ شفاف اور بڑھتا ہوا شفاف ہے۔ لگتا ہے کہ ہمیں آفنس پر ہونا چاہیے، لیکن ہم یقینی طور پر ان اڈوں کے گرد ڈیفنس کھیل رہے ہیں۔طریقہ کار اس کہانی کی رپورٹنگ کے لیے، واٹنگٹن پوسٹ کے رپورٹرز نے ایرانی سرکاری میڈیا سے منسلک نیوز میڈیا کی طرف سے شائع کردہ 128 سیٹلائٹ تصاویر کو جغرافیائی طور پر لوکیٹ کیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصان کو ظاہر کرتی ہیں، تاکہ تصدیق ہو سکے کہ وہ کیپشنز میں دعویٰ کردہ مقامات کی عکاسی کرتی ہیں۔ پھر ہم نے نقصان کی تصدیق سینٹینل-2 سیٹلائٹ (یو ایس ای یو سسٹم کوپرنیکس کا حصہ) کی درمیانی ریزولوشن تصاویر سے مختلف اسپیکٹرل بینڈز کا جائزہ لے کر کی، تاکہ نقصان کو جتنا ممکن ہو واضح طور پر دیکھا جا سکے، اور پلانٹ کی اعلیٰ ریزولوشن آپٹیکل تصاویر سے۔ امریکی حکومت کی درخواست پر پلانٹ نے 8 مارچ کے بعد کی تصاویر کو آن لائن پلیٹ فارم سے روکنے کی پالیسی اپنا لی، یعنی اس تاریخ کے بعد اعلیٰ ریزولوشن تصاویر موازنہ کے لیے عام طور پر دستیاب نہیں تھیں۔جہاں اعلیٰ ریزولوشن تصاویر دستیاب نہ تھیں، ہم نے صرف ایک ڈھانچے پر حملہ شمار کیا، چاہے ایرانی تصویر میں متعدد ڈھانچوں پر حملہ دکھائی دیتا ہو۔ تجزیے میں غیر فوجی اہداف جیسے آئل ریفائنریز اور امریکی فورسز کے زیر انتظام نہ ہونے والی فوجی تنصیبات جیسے اتحادیوں کے ریڈار انسٹالیشنز پر مبینہ ایرانی حملوں کو خارج کر دیا گیا۔بشکریہ دی واشنڳتن پوسٹ

*پاک فضائیہ کی کامیابیوں نے پاکستانی قوم کے اعتماد، حوصلے اور جذبۂ حب الوطنی کو مزید مضبوط کیا،آئی ایس پی آر**🛑 پاکستانی مسلح افواج کی ہر تیاری، ہر کوشش اور ہر صلاحیت کا محور خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کا فروغ ہے، آئی ایس پی آر**پاکستانی مسلح افواج کی ہر تیاری، ہر کوشش اور ہر صلاحیت کا محور خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کا فروغ ہے،آئی ایس پی آر*

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved