
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین وانی سے راولپنڈی ڈسٹرکٹ ہاکی ایسوسی ایشن کے عہدے دار ذوالفقار بیگ ظہیر الحق ،طاہر شیرازی ،محمد زاہد واپڈ ملاقات کے دوران پھولوں کا گلدستہ پیش کررہے ہیں
یہ شخص ن لیگ میں کچھ حد تک اصول پسند سمجھا جاتا تھا۔اب پتہ چلا کہ کانسٹٹیوشن آیونیو میں اس کے 8 ارب کے 8 فلیٹس ہیں۔پوچھنے پر بتایا کہ یہ فلیٹس مجھے بتائے بغیر میرے سوشل میڈیا منیجر نے خریدے ہیں اور مجھے خبر کئے بغیر میرے اکاونٹ سے ادائگیاں ہوئیں ہیں۔۔یہ ملک ایسے نہیں کمزور ہوا۔اس کے لئے گئے قرضے کس طرح بانٹے گئے ہیں

💔حضرت امام بری سرکار میں پریشن بیان سنیں ون کانسٹیٹیوشن پر میرا موقف وہی ہے کہ سب غیر قانونی ہوا، قانون سب کیلئے برابر ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ غریب کیلئے قانون الگ اور امیر کیلئے الگ ، عمارت کے پیچھے نہیں، جنہوں نے مُلک کو نقصان پہنچایا، اُن کے پیچھے جانا چاہئے، جیت قانون کی ہو گی، محسن نقوی

میں نہیں جانتا کہ یہ کس ملک کے کون سے شہر کی تصویر ہے ، قیاس چاہتا ہے کہ ہمارے آس پڑوس کا کوئی ملک ہو سکتا ہے۔یہ تصویر دیکھ کر 1923ء میں ترکیہ میں مصطفی کمال اتاترک کی انقلابی فتوحات اور جمہوری ترکیہ کا قیام ذہن میں تازہ ہو گیا

۔مصطفی کمال پاشا کی فتوحات کو علامہ اقبال نے طلوع اسلام عنوان کی ایک طویل نظم میں خراج تحسین بھی پیش کر رکھا ہے ۔اسی مصطفی کمال اتاترک کا ایک قریبی دوست امیر امان اللہ خان افغانستان میں حکمران تھا اور ترکیہ جیسا جدید جمہوری معاشرہ اور نظم ریاست افغانستان میں بھی قائم کرنا چاہتا تھا ۔

امیر امان اللہ خان کی ملکہ ثریا ایک تعلیم یافتہ باوقار خاتون تھیں اور افغان خواتین کی تعلیم کی طرف خصوصی طور متوجہ تھیں ۔ان کی درخواست پر ترکیہ نے اپنی یونیورسٹیوں میں افغان خواتین کو اعلی تعلیم کے لیے وظائف بھی جاری کیےتھے۔پھر ہوا یہ کہ ترکیہ جیسی ہزیمت اور خفت برطانیہ (اور امریکہ) افغانستان میں اٹھانا نہیں چاہتے تھے ۔ افغانستان میں بغاوت کرائی گئی اور ملاوں کو سیاست میں متحرک کیا گیا۔ مغربی طاقتوں کے ذہن میں افغانستان کے مستقبل کا جو نقشہ تھا، یہ تصویر شاید اس کا عمدہ اظہار کر رہی ہے ۔اگر 1923ء میں مصطفی کمال پاشا ہار جاتا اور برطانیہ اپنے یورپی اتحادیوں سمیت جیت جاتا تو آج خلافت کی آڑ میں ترک خواتین بھی کسی نہ کسی گدھے پر سواری کر رہی ہوتیں۔

مدھم پڑتا سلامنیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کا بتدریج زوالتحریر: رانا تصدق حسیناسلام آباد — ایک وقت تھا جب گاڑیوں کے پیچھے لکھی ایک سادہ سی عبارت قوم کے اعتماد کی عکاس ہوتی تھی“موٹروے پولیس کو سلام”یہ محض ایک نعرہ نہیں تھا۔یہ ایک ایسے ادارے پر فخر کی علامت تھا جو نظم و ضبط، دیانت داری اور پیشہ ورانہ مہارت کی پہچان سمجھا جاتا تھا۔نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (این ایچ ایم پی)، جس کی بنیاد اپنے ابتدائی دور میں ڈیپوٹیشن پر آئے افسران کی انتھک محنت سے رکھی گئی، پاکستان کے بہترین قانون نافذ کرنے والے اداروں میں شمار ہوتی تھی۔آج وہ سلام خاموشی سے مدھم پڑ چکا ہے۔اس کی جگہ ایک تشویشناک داستان جنم لے رہی ہے۔اعلیٰ تعلیم یافتہ افسران کی موجودگی کے باوجود ایک ایسا نظام سامنے آ رہا ہے

جو اپنی کارکردگی کھوتا دکھائی دیتا ہے۔مسئلہ قابلیت یا صلاحیت کی کمی نہیں۔اصل مسئلہ ایک ایسا ڈھانچہ ہے جہاں میرٹ اب فیصلہ کن عنصر نہیں رہا۔اس زوال کے مرکز میں ترقیوں کا ایک نہایت کمزور اور ناقص نظام ہے۔صوبائی پولیس کے برعکس، جہاں افسران کو لسٹ اے اور بی ون جیسے باقاعدہ امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے، موٹروے پولیس میں ترقی کا دارومدار محض سنیارٹی پر ہے۔نہ کوئی تحریری امتحان۔نہ پیشہ ورانہ جانچ پڑتال۔نہ ہی اہلیت کا کوئی بامعنی جائزہ۔ایسے نظام میں نتیجہ واضح ہے۔مختلف صلاحیتوں کے حامل افسران، خواہ وہ انتہائی قابل ہوں، اوسط درجے کے ہوں یا کمزور کارکردگی کے حامل، سب بلا امتیاز ترقی پاتے جاتے ہیں۔میرٹ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور بہترین کارکردگی کی کوئی قدر باقی نہیں رہتی

۔وقت گزرنے کے ساتھ اس غیر متوازن نظام نے پورے ادارے کی ساخت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔وہ افسران جو کبھی جونیئر پیٹرول آفیسرز (جے پی اوز) کے طور پر بھرتی ہوئے تھے، اب بڑی تعداد میں گریڈ 17 کے انسپکٹرز (ایس پی اوز) بن چکے ہیں۔ترقیاں تو فراخدلی سے دی گئیں، مگر بغیر کسی ساختی منصوبہ بندی کے۔نتیجہ ایک واضح ادارہ جاتی عدم توازن کی صورت میں سامنے آیا ہے۔عہدوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، مگر اس کے مطابق آسامیوں کی تخلیق نہ ہو سکی۔گریڈ 17 کے افسران کی بھرمار ہے، مگر ڈی ایس پی جیسے مساوی عہدے دستیاب نہیں۔یوں ترقی کا پورا نظام اپنی ہی ساخت کے بوجھ تلے دب کر مفلوج ہو چکا ہے۔ادارے کے اندر اس کے اثرات نہایت سنگین ہیں۔جب کارکردگی ترقی کا معیار نہ رہے تو حوصلہ شکنی جنم لیتی ہے۔قابل افسران خود کو نظرانداز محسوس کرتے ہیں، جبکہ کمزور صلاحیتوں کے حامل افراد اہم ذمہ داریوں پر فائز ہو جاتے ہیں۔ادارے کے اندر ایک تلخ جملہ زبان زد عام ہو چکا ہے“موٹروے پولیس میں تو درختوں کو بھی رینک مل جاتے ہیں”ان ساختی مسائل کے ساتھ ایک اور تشویشناک پہلو بھی سامنے آیا ہے۔باوثوق اطلاعات کے مطابق این ایچ ایم پی کو ریاست کی جانب سے اپنی قانونی حدود سے کہیں زیادہ مالی اور لاجسٹک سہولیات حاصل ہو رہی ہیں۔مزید تشویش ناک امر یہ ہے کہ جرمانوں کی وصولی میں پچاس فیصد حصہ، میچنگ گرانٹ، اور ٹراما سینٹر کے آپریشنل اخراجات جیسی مالی سہولیات مبینہ طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے آر ایم اے قواعد کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے فراہم کی جا رہی ہیں۔معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب یہ الزامات سامنے آتے ہیں کہ ایسے انتظامات وفاقی وزیر برائے مواصلات اور قائم مقام سیکریٹری کی سرپرستی میں کیے جا رہے ہیں، جو گورننس، شفافیت اور قواعد و ضوابط کی پاسداری پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ادھر داخلی نظام کمزور پڑتا جا رہا ہے، جبکہ بیرونی دنیا تیزی سے آگے بڑھ چکی ہے۔ملک بھر میں صوبائی پولیس فورسز نے ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے نمایاں پیش رفت کی ہے۔کیمروں پر مبنی ای چالان سسٹمز فعال ہو چکے ہیں۔ڈرائیونگ لائسنس اور جرمانوں کی ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز عام ہو چکے ہیں۔موبائل ایپلی کیشنز شہری سہولت میں اضافہ کر رہی ہیں۔اس کے برعکس، موٹروے پولیس، جس کا بنیادی دائرہ کار ہی ٹریفک قوانین کا نفاذ ہے، جدیدیت میں قیادت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔لائسنس کی تجدید کے لیے کوئی جامع آن لائن نظام موجود نہیں۔فیسوں کی ادائیگی کے لیے پرانے بینکنگ طریقہ کار ہی رائج ہیں۔جدید نفاذی ٹیکنالوجی محدود حد تک ہی استعمال ہو رہی ہے۔

جو ادارہ کبھی معیار قائم کرتا تھا، آج انہی اداروں سے پیچھے رہ گیا ہے جنہیں وہ رہنمائی فراہم کرتا تھا۔تاہم اصل مسئلہ ادارہ جاتی جمود ہے۔اصلاحات کا فقدان، جدت کی کمی، اور واضح حکمت عملی کا نہ ہونا، ان تمام عوامل نے مل کر اس زوال کو جنم دیا ہے۔یہ کسی اچانک تباہی کی کہانی نہیں، بلکہ ایک تدریجی انحطاط ہے جہاں نظام نے میرٹ کی جگہ لے لی، توسیع نے ساخت کو نظرانداز کیا، اور نگرانی وقت کے ساتھ کمزور پڑتی چلی گئی۔اشارے واضح ہیں۔ خدشات سنجیدہ ہیں۔اب سوال ناگزیر ہےکیا بااختیار حلقے موٹروے پولیس کی ساکھ اور ساخت کی بحالی کے لیے فیصلہ کن اقدامات کریں گے، یا یہ کبھی مثالی ادارہ اپنی خاموش زوال پذیری کا سفر جاری رکھے گا؟

اسلام آباد میں ڈکیتی کی ایک اور سنگین واردات، مزاحمت پر شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھااسلام آباد: تین مئی 2026 کو رات تقریباً 11:35 بجے تھانہ ہمک کی حدود میں Giga Mall کے سامنے کلٹانا موڑ کے قریب واقع اصرار جنرل سٹور پر ڈکیتی کی واردات پیش آئی۔تفصیلات کے مطابق ایک نامعلوم مرد اور عورت سٹور پر آئے اور خریداری کے بہانے اندر داخل ہوئے۔ اچانک ملزمان نے سٹور کے مالک پر پستول تان کر ڈکیتی کی کوشش کی۔ اس دوران سٹور مالک اسرار ولد عبدالعزیز (عمر تقریباً 44 سال) نے مزاحمت کی، جس پر ملزم نے فائرنگ کر دی۔فائر لگنے کے نتیجے میں اسرار موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ دونوں ملزمان واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، لاش کو قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تفتیش جاری ہے اور قریبی علاقوں کی سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شہریوں میں اس واقعے کے بعد شدید خوف و ہراس پایا
اسلام آباد کا سیکٹر ایف 6 جس کو انسٹا گرامرز امریکہ کا لاس اینجلس کہتے ہیں اس میں ایک شہری کو آدھی رات کو غنڈے اٹھا کر لے جاتے ہیں لیکن لاس اینجلس کی پولیس بندہ بازیاب نہیں کرا پاتی حتی کہ اس کی مت شدد ل اش خیبر پختونخواکے شہر صوابی سے برآمد ہو










