تازہ تر ین

ابصار عالم 1200 سے 12 ارب روپے کا مالک کیسے بنا دنیا ٹی وی سے کیوں نکالا گیا۔ابصار عالم کے سسر نے وزارت اطلاعات کو کیسے لوٹا۔۔نیشن میں 2 ھزار کی نوکری سے چئیرمین پیمرا کیسے بنا۔۔اسکا این او سی بھی نواز شریف کے دور میں سی ڈی اے نے جاری کیا۔۔مجھے محسن نقوی کی نیت پر شبہ تھا کہ غریبوں کی بستیاں ہی گرائی جا رہی ہیں لیکن کانسٹی ٹیوشن ون اونیو پر کارروائی سے یہ شبہ دور ہو گیا ہے امیر غریب سب برابر ہیں قانون حرکت میں ہے محسن نقوی کو سلام۔۔ابصار عالم 1200 سے 12 ارب روپے کا مالک کیسے بنا۔۔ابصار عالم کے سسر نے وزارت اطلاعات کو کیسے لوٹا۔۔اسکا این او سی بھی نواز شریف کے دور میں سی ڈی اے نے جاری کیا۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

‏خواجہ سعد رفیق کا کانسٹیٹیوشن ایونیو میں آٹھ فلیٹس کے حوالے سے اہم بیان
‏👈 “کانسٹیٹیوشن ایونیو میں میرا کوئی ذاتی فلیٹ نہیں ہے اور نہ ہی میرے پاس اتنی مالی استطاعت ہے کہ میں وہاں آٹھ فلیٹس خرید سکوں۔

‏👈 چند ماہ قبل مجھے معلوم ہوا کہ میرے نام، دستخط اور شناختی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے وہاں آٹھ فلیٹس میرے نام منتقل کر دیے گئے ہیں۔

‏👈 میں نے ٹاور مالکان کو متعدد بار مطلع کیا کہ یہ فلیٹس میرے نام سے ہٹا دیے جائیں، مگر ان کا کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔

‏👈 کل رات مجھے معلوم ہوا کہ یہ تمام فلیٹس میرے سوشل میڈیا مینیجر نے میرے نام پر خریدے تھے اور بینک نے بھی میرے علم کے بغیر ادائیگیاں منتقل کر دی تھیں۔

سعد بھائی غریب آدمی ہیں، اتنے غریب کہ اپنی دوسری بیگم کو پی ٹی وی پر اینکر رکھوانا پڑا گھر کا خرچ چلانے کے لیے ,جس کا پیکج صرف 4 لاکھ روپے تھا اور دونوں مشکل سے گذارا کر رہے تھے۔

سابق صدر پرویز مشرف نے 2005 میں زلزلے کی ڈونرز کانفرنس کے بعد کنونشن سینٹر کے ساتھ ایک ھوٹل بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ مندوب کنونشن سینٹر کے ساتھ نزدیک ھوٹل میں ٹھہریں شوکت عزیز نے 2006 میں اس کا افتتاح کیا 2006 میں یہ ھوٹل شروع ھوا 2007 میں چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اس پر سٹے دے دیا 20011 امریکیوں نے اعتراض کر دیا شاہ محمود قریشی نے امریکیوں کی حمایت کر دی اور زرداری نے انکی چھٹی کروا دی کیونکہ امریکیوں سے قریشی نے عوض میں وزارت عظمی مانگ لی اسی وقت درخواست سی ڈی کو موصول ھوی اسکو ھوٹل سے فلیٹ میں تبدیل کیا جاے لکین حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعد شریف حکومت میں سی ڈی کی جانب سے اسکو این او سی جاری کر دیا گیا سعد رفیق کی سفارش پر اس کے بعد جسٹس رحمتیں نازل ھوے ایک برگئڈیر نے خودکشی بھی کی اب این او سی کینسل ھونے کے بعد سعد رفیق کی سفارش پر وزیراعظم نے مداخلت کی اور نواز لیگ کی میڈیا ٹیم نے محسن نقوی کی کردار کشی کی حالات کشیدہ صورتحال نازک بڑے حادثے کی گونج

اسلام اباد۔۔۔۔۔تین ایم این ایز تین کہانیاں۔۔۔۔۔۔یہ سامنے جو تین صاحبان اپ دیکھ رہے ہیں یہ اسلام اباد کے مقامی لوگ ہیں اور یہ اس وقت قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔۔۔اسلام اباد کی مقامی ابادی جتنے بھی ہے وہ سب ان کے بارے میں ایک سپیسیفک رائے رکھتی ہے۔۔۔ بہت دلچسپ صورتحال ہے کہ یہ لوگ عوام کے جو پیچیدہ مسائل ہیں جن میں ان کی زمینوں کو سوسائٹیوں نے سرکاری اداروں نے قبضہ کر لیا ہے مقامی ابادی جب ان کے پاس جاتی ہے تو یہ ان کے کان میں کہتے ہیں کہ یہ ہمارے بس میں نہیں ہے ہم خود مجبور ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔تینوں ایم این ایز کے علاقوں میں اپ دیکھیں تو کس طرح سینہ زوری سے زمینوں کو حاصل کیا گیا اور مقامی ابادی کے لوگ اپنی زمین کے معاوضے کے حصول کے لیے کئی کئی سالوں سے لٹکے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض مشاہدوں میں یہ بھی ایا کہ یہ رہنما بجائے اپنے ووٹرز اپنے علاقے کے لوگوں کی داد رسی کرنے کے یہ اداروں کے کرپٹ مافیا ٹائپ کے بیوروکریٹس کا ساتھ دیتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے?سب سے اسان ٹارگٹ انہوں نے جو رکھا ہوا ہے وہ ہے کنکریٹ کا کاروبار گلیاں نالیاں ڈالنا پلیاں ڈالنا مطلب جہاں پہ ریت سریا کرش بجری کا کام ہے ہوگا یہ لوگ بھاگ بھاگ کے کرتے ہیں۔۔۔

۔۔۔انجم عقیل خان صاحب کا جو حلقہ ہے وہ ادھا سی ڈی اے کے قبضے میں ہے اور ادھا فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے قبضے میں ہے۔۔۔۔مگر یہ موصوف معاوضے کے اصول کے لیے یا ایکوزیشن میکنزم کو اڈاپٹ کروانے کے لیے کچھ بھی نہیں کر رہے۔۔۔۔۔طارق فضل چوہدری ان کے حلقے میں سید پور بری امام مل پور قائد اعظم یونیورسٹی راؤنڈ اباؤٹ علاقہ اتا ہے۔۔۔۔اپ نے میڈیا پہ دیکھا ہوگا 50 60 سال سے انسٹال کی گئی ابادی کو 50 دنوں میں ملیامیٹ کیا گیا مگر طارق فضل چوہدری صاحب نے اپنا کوئی کردار ادا نہیں کیا۔۔۔۔یہی حال راجہ خرم نواز کے علاقے کا ہے وہاں بھی مختلف نجی و سرکاری سوسائٹیوں نے کیا حال کیا مقامی ابادی کا۔۔۔۔۔۔مگر اب ہمیں واقعی یقین ہو گیا کہ ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایم این اے بنے کیسے ہیں پھر ان کے ڈیروں پہ اکثر ویڈیوز اور تصویریں بھی اتی ہیں کہ اج پبلک ڈے منایا گیا عوام کی کثیر تعداد وہاں پہ ائی موقع پہ ان کے مسائل حل کیے گئے تو پھر یہ سب کیا ہے?ان کے حلقوں میں لوکل گورنمنٹ کے ذریعے جو ترقیاتی پروجیکٹ ہوئے ان میں بدترین کرپشن ہوئی۔۔۔۔۔۔اور اپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ ان کا فوکس ہی ان ترقیاتی پروجیکٹس کی طرف ہے جو کہ لوکل گورنمنٹ کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں گو کہ اب عوام اتنی اوئیر ہو چکی ہے کہ عوام کو پتہ ہے کہ ان پروجیکٹس کی مد میں کیا ہوتا ہے سیکٹر ایف 14 کی ابادی کا جو بلڈ اف پراپرٹی کا ایوارڈ تھا وہ پچھلے 11 12 سال سے پینڈنگ ہے تو انجم عقیل خان صاحب نے بجائے وہ مسئلہ حل کروانے کے اس سیکٹر کا غیر قانونی ڈویلپمنٹ کا افتتاح کروا دیا جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ پہلے جو حقیقی مسئلہ تھا اس کو حل کیا جاتا لیکن انہوں نے علاقے کی عوام کو اگنور کیا اور بیوروکریٹس کا ساتھ دیا ۔۔۔۔۔۔ مطلب یہ کہ مجموعی طور پر اگر اپ دیکھیں تو ان تینوں ایم این ایز کا علاقے کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہے سوائے گلیاں پکی کرنے کے۔۔۔۔۔۔۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہوں نے ائندہ سیاست کرنی ہے کیا ان حالات میں عوام ان کو ووٹ دے گی بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ انہوں نے اپنی سیاست کو دفن کر دیا ہے کیونکہ حلقے کے عوام میں سے کسی بھی بندے کو اپ اٹھا کے دیکھیں سوائے ان کے چیلے چماٹے باقی سب لوگوں کو شکایت ہے کہ ہم پہ مشکل وقت ایا تو ان ایم این اے ایز نے ہمارا ساتھ نہیں دیا تو سوال پھر یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کو ووٹ کون دے گا ائندہ اور یہ کس طرح ایم این اے بنے گےاور اب جو ہے میں نے بنے ہیں وہ کس بہاف پہ بنے ہیں اگر یہ عوام کے ووٹوں سے بنے ہیں تو پھر ان

”اسلام آباد میں اشرافیہ کے خلاف پہلی کارروائی“اس عنوان سے ابھی ایک تحریر نظر سے گزری۔ علم/ معلومات میں اضافہ ہوا کہ پس منظر/ درون خانہ کھیل کا پتہ نہ ہونا، اور سادہ لوح ہونا زندگی کو کس قدر آسان بنا دیتا ہے۔بھائیو، اور اُن کی بہنو ! ایسا کچھ نہیں کہ یہ کوئی اشرافیہ کے خلاف کارروائی ہے۔جو لوگ یہ سب کچھ سی ڈی اے کے ذریعے حکومت اور سپریم کورٹ سے کروا رہے تھے مالک اب بھی وہی ہیں اور زیادہ کُھل کر مرضی کرتے ہیں۔نوٹ: جس دن بلڈنگ کی مالک کمپنی اور سی ڈی اے کے سابق چیئرمینوں اور اُن کے پیچھے موجود اُس وقت کے حکومتی عہدیداروں کو کٹہرے میں کھڑا کر کے اس حوالے سے پوچھ گچھ شروع ہوئی تب شاید اوپر لکھی اپنی رائے میں معمولی تبدیلی کرنا پڑے۔ اور جس دن ملوث حکام کے اثاثے بحق عوام/ سرکار ضبط ہوئے پھر میں بھی کہوں گا کہ اشرافیہ کے خلاف پہلی کارروائی۔اُس وقت تک ایسی باتیں کرنے والے سادہ لوح ہی ٹھہرائے جائیں گے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved