تازہ تر ین

400 ارکان پارلیمنٹ کی زندگیوں کو خطرہ۔۔ملک ریاض گرفتار ؟؟؟؟ پاکستان لانے کے لیے۔۔آخری مراحل۔۔امریکی صدر چین میں 3 بڑے فیصلے اج۔۔ناصر بٹ بمقابلہ حنیف عباسی ۔تابڑ توڑ حملے۔۔ملک بھر میں مھنگای نے عوام سے 2 وقت کی روٹی چھین لی پاکستان دنیا کا مہنگا ترین ملک بن گیا۔بجلی کا یونٹ 150 روپے کا پٹرول 450 روپے کی طرف گامزن لوٹ مار میں 8 وزراء نے عالمی ریکارڈ قائم کر دئیے۔۔اھم ادارے نے 100 بیورو کریٹ کے 10 ھزار ارب روپے کے اثاثے اور 8 وزراء کے 72 ھزار ارب روپے کے اثاثے محفوظ ہاتھوں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں اگر میرے تیز رفتار گیند کا ریکارڈ کوئی توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہےتو وہ صرف بنگلہ دیش کے ناہید رانا ہے اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو مجھے بہت خوشی ہوگی کہ میرے بھائی نے میرا ریکارڈ توڑ دیا ہے کیونکہ وہ ہر اوور میں تین گیندیں 150پلس اسپیڈ سے کروارہا ہے اور میرا اندازہ ہے کہ اس کے پاس 160 اسپیڈ موجود ہےاس کے علاوہ موجودہ دور کے گیند بازوں میں مجھے اتنا دم نظر نہیں آرہا ہے کہ وہ میرے ریکارڈ کے قریب بھی پہنچ سکے#PAKvsBAN

سید ضمیر جعفری ،چند یادیں ====================شاہد اقبال کامران ==================مئی کا مہینہ سید ضمیر جعفری کی یادوں سے معمور مہینہ ہے ۔اس مہینے کے وسط میں چک عبدالخالق کا فرزند اپنے خالق حقیقی کے حضور پیش ہو گیا تھا۔سید ضمیر جعفری نے جدوجہد ، محنت ، کمال فن ، اعتراف عظمت اور تکریم اجتماعی سے بھرپور زندگی گزاری۔ اب تو وہ اللہ میاں کے پاس ہیں۔جہاں نہ مکان کا کرایہ دینا پڑتا ہے ،نہ بجلی ،گیس اور پانی کے بل ادا کرنے پڑتے ہیں ۔یقینا اللہ میاں کے ہاں رہنے سہنے کا بہت اچھا انتظام ہوتا ہو گا۔مولوی تو نہیں بتاتا مگر میرا خیال ہے کہ وہاں مطالعہ کرنے کے لیے بہت بڑا کتب خانہ اور لکھنے کا سامان اور سہولیات بھی دستیاب ہوتی ہوں گی۔ لیکن تب وہ سیکٹر جی نائن ون کی گلی نمبر 33 کے مکان نمبر 23 میں رہتے تھے۔مکان کے باہر یعنی گیٹ کے ستون پر جلی حروف میں “کاشانہ بلبل” لکھا ہوا تھا .یہ مکان برطانیہ میں مقیم معروف شاعر بلبل کاشمیری کا تھا،اور سید ضمیر جعفری اس میں رہتے تھے۔ایک بار مجھے رخصت کرنے اپنے مکان کے گیٹ تک آئے،اور دیر تک کھڑے باتیں کرتے رہے ،پھر اچانک کاشانہ بلبل پر نظر پڑی،پہلے مسکرائے ،پھر کھلکھلا کر ہنس پڑے اور زوردار ہنسی کے ساتھ ہلتے ہوئے کہنے لگے دیکھو یہ دیکھو کاشانہ بلبل میں ہاتھی رہتا ہے ۔سید ضمیر جعفری سے میری پہلی ملاقات اور تعارف بھی اسی سیکٹر جی نائن ون میں ہوا تھا۔ میں ان دنوں علامہ اقبال یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اقبالیات میں لیکچرار تھا، اور اسی سیکٹر میں رہائش پذیر تھا ۔۔سید ضمیر جعفری ان دنوں سیکٹر جی نائن ون میں رہائش پذیر تھے، اور میرے ہمسائے تھے ، وہ ہر روز ، علی الصبح پھولدار گاؤن پہن کر گھر کے سامنے سڑک پر واک کیا کرتے تھے ۔میں صبح ساڑھے سات پونے آٹھ بجے یونیورسٹی جانے کے لیے گھر سے نکلتا تھا سڑک کے کونے پر یونیورسٹی کی کوسٹر آیا کرتی تھی ۔بس اسی سڑک پر پہلی بار سید ضمیر جعفری صاحب سے ملتے جلتے ایک حضرت محو خرام نظر آئے ،گمان گزرا کہ کہیں دیکھے ہوئے ہیں، کوئی معروف شخصیت ہیں ؟ کون ہیں؟

اگلی صبح جب واک کرتے ہوئے پاس سے گزرے تو میں نے سلام کر کے پوچھا کہ حضور کہیں آپ سید ضمیر جعفری صاحب تو نہیں؟ حیران ہوئے، پھر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ہنسنے لگے ، آپ نے پہچاننے میں دو دن لگا دیئے ،ہاہاہاہا۔پھر میں نے اپنا تعارف کرایا۔کہنے لگے یہ صبح صبح کہاں جاتے ہو؟ کہا کہ یونیورسٹی جاتا ہوں ۔مگر یونیورسٹی تو کئی روز سے بند پڑی ہے (ان کا اشارا قاید اعظم یونیورسٹی کی طرف تھا جو ان دنوں بھی کسی قضییے کی وجہ سے بند تھی۔) میں نے وضاحت کی کہ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پڑھاتا ہوں جو ہر حالت میں اوپن رہتی ہے۔سید ضمیر جعفری اکادمی ادبیات پاکستان کے ساتھ وابستہ تھے ۔ان دنوں اکادمی ادبیات پاکستان کا دفتر سیکٹر ایف ایٹ فور کے اسکول روڈ پر، مکان نمبر 35 میں ہوا کرتا تھا۔مکان اتنا بڑا ضرور تھا کہ اس میں ایک نوزائیدہ ادارے کے دفاتر جملہ اہل کاروں سمیت سما سکیں۔ہماری یونیورسٹی البتہ اس وقت بھی سیکٹر ایچ ایٹ میں ہوا کرتی تھی۔ان دنوں یونیورسٹی صرف چار بلاکس پر مشتمل تھی اور ہمارا شعبہ دوسرے بلاک کی پہلی منزل پر ہوتا تھا۔سید ضمیر جعفری ڈائری بڑے اہتمام سے لکھتے تھے۔کبھی تھوڑا ،کبھی زیادہ لیکن ہر روز لکھتے ضرور تھے۔اشعار لکھنے کے لیے بڑے سائز کے رجسٹر اپنے پاس رکھتے،گتے کی جلد والے رجسٹر میں نیلے یا کالے رنگ کے باریک چونچ والے مارکر سے لکھتے۔ لکھتے ذرا جلی حروف میں تھے ،اس طرح لکھنے اور پڑھنے دونوں میں آسانی رہتی تھی۔ایک بار میں ان کے کاشانہ بلبل والے گھر کے ڈراینگ روم میں بیٹھا تھا۔حضرت حکومت وقت کے چال چلن سے خوش نہیں تھے۔اور اسی حوالے سے گفتگو بھی ہو رہی تھی ۔ڈراینگ روم کا گھر کے اندر کی طرف کھلنے والا دروازہ پورا کھلا ہوا تھا۔اچانک ایک بزرگ خاتون سامنے آئیں اور ضمیر جعفری صاحب سے کچھ بات کی ۔یہ اٹھ کر بات سننے کے لیے اندر چلے گئے اور وہیں کھڑے کھڑے باتیں کر کے واپس آگئے ۔میں نے پوچھا خیریت؟”ہاں خیریت””آپ کی بیگم ہیں؟””ہاں ہیں تو ، پر اس عمر میں بیگم بہن بن جاتی ہے۔””کچھ ناراض لگتی ہیں””او ہاں، اور کیا ہوں گی اب۔۔۔ناراض ہی ہوں گی۔۔۔بس کیا ہے، آسیب کی طرح پھرتی رہتی ہیں گھر میں ،اور میں بھی بھوت بن کر یہاں بیٹھا رہتا ہوں “ہم ہنس پڑے۔ضمیر جعفری یک دم سنجیدہ ہو گئے ” اس عمر کی رفاقت سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔ میاں بیوی جوانی میں تو شاید ایک دوسرے کے بغیر رہ سکتے ہوں،بڑھاپے میں ایک دوسرے کے بغیر جی نہیں سکتے” پھر تھوڑا توقف کر کے بولے ” اس عمر میں دونوں کو ایک دوسرے کی بڑی ضرورت ہوتی ہے ” پھر بات بدلنے کے لیے پوچھنے لگے “تم سناؤ تمہاری بیگم کیسی ہیں؟ میں نے جواب دیا۔

” وہی ہیں” خوب ہنسے اور کہنے لگے “اچھا اچھا ،بس اسی سے گزارا کرو”اوطاق ہماری یونیورسٹی کا ایک ادبی فورم تھا۔بڑی دھوم دھام سے شروع کیا گیا یہ فورم واقعتاً اسلام آباد کی نیم خوابیدہ زندگی میں ایک ہلچل کی طرح سے تھا۔ایک روز وائس چانسلر ڈاکٹر جی اے الانا کہنے لگے کہ بھئی کسی بہت بڑی ادبی شخصیت کے ساتھ پروگرام کرو۔سید ضمیر جعفری تب میرے ہمسائے تھے، شخصیت ان کی معروف بھی تھی اور واقعتاً بہت بڑی بھی ،ان کا نام تجویز ہوا ،منظور ہوا ، ان سے درخواست کی گئی وہ از راہ کرم مان گئے۔پروگرام بن گیا ،کارڈ چھپ گئے ۔پورے شہر میں “ضمیر جعفری اوطاق میں ” عنوان کی اس تقریب کی دھوم تھی۔ اس سے پہلے اوطاق کے پروگرام یونیورسٹی کے کمیٹی روم،یا ایف سیون میں واقع یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس کے ہال میں ہوتے تھے ۔پہلی بار ہم نے یہ تقریب یونیورسٹی آڈیٹوریم میں رکھی ۔جعفری صاحب کے لیے یہ معمول کی بات تھی ،لیکن میں بڑا پرجوش تھا۔تقریبا ہر روز ان سے یوم ضمیر جعفری کے بارےمیں گفتگو ہوتی۔اس تقریب کے انعقاد میں صرف دو روز باقی تھے کہ اس وقت یونیورسٹی کی رجسٹرار محترمہ مسز مظفری قریشی وفات پا گئیں،اور تقریب التوا کا شکار ہو گئی۔راولپنڈی اسلام آباد سے سید ضمیر جعفری کا رشتہ بڑا گہرا تھا۔لیکن حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ اسلام آباد شہر کے ابتدائی ‘آباد کاروں ‘میں شامل باکمال شاعر کے نام پر اس شہر کی کوئی ایک سڑک بھی منسوب نہیں کی گئی ۔نام لینا مناسب نہیں ،لیکن اس شہر میں بڑی بڑی سڑکیں بعض ایسے ادباء و شعراء کے نام سے منسوب کی گئی ہیں ،جن کا کوئی معقول جواز نظر نہیں آتا ۔بس اگر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے خفتہ دماغ پیشہ ور ماہرین کے مخمور ذہن میں آج تک کوئی نام نہیں آیا تو وہ اردو کے نامور مزاح نگار، کالم نگار اور ترانہ نویس سید ضمیر جعفری کا نام ہے ۔اب بھی وقت ہے کہ سیکٹر جی نائن ون کے کسی بڑے راستے کو سید ضمیر جعفری روڈ بنا دیا جائے۔ سید ضمیر جعفری مہربان طبیعت اور صاف نیت کے سیر چشم دانشور تھے۔کسی کی بھی مدد کرنے کے لیے ہمہ وقت آمادہ و تیار رہتے تھے۔ایک بار میں نے عصر حاضر کے بزعم خود ایک بڑے شاعر کو ان کے ڈرائینگ روم میں اپنی غیر واضح شباہت سمیت اپنے ایک جگہ سے دوسری جگہ تبادلے کے لیے درخواست اور اصرار کرتے دیکھا تھا۔وہ کاریگر ضمیر جعفری صاحب سے مطلوبہ سفارشی فون کروا کر ہی رخصت ہوا تھا۔ سید ضمیر جعفری اردو مزاح نگاری کے واقعتاً سالار تھے، اسلام آباد میں ادب و صحافت اور تہذیب و ثقافت کے جبل جبار مرزا کے بقول سید ضمیر جعفری اردو مزاح نگاری کے کمانڈر ان چیف تھے ۔ان کے جانے کے بعد اردو مزاح نگاری میں کوئی کمانڈر تو سامنے نہ آ سکا البتہ خالی میدان کو لانس نائیک ، سپاہی ، اردلی اور چند ڈرائیور سطح کے لوگوں نے پر کرنے کی کوشش کی ، یہ جوکر نما مزاحیہ تک بندی سے اپنا سکہ جماتے اور چلاتے رہے۔وہ جو قادر الکلامی سید ضمیر جعفری کے ہاں نظر آتی ہے ،اس کے عوض بےترتیب مزاحیہ تک بند مشاعروں پر قابض اور ادبی اداروں پر متصرف ہو گئے۔یہ سارا کباڑ خانہ کہاں سے سامنے آگیا؟ سچ ہی ہے کہ اگر جنگل سے شیر کہیں اور چلا جائے ،تو لگڑبگر، گیدڑ، لومڑ،لدھڑ اور انواع و اقسام کے کتورے ادھر اودھر چلنے پھرنے اور بھونکنے ،ڈکرانے لگ جاتے ہیں۔شیر کی موجودگی میں یہ ایسے چھپے رہتے تھے ،جیسے جنگل کی آبادی کا حصہ ہی نہ ہوں۔سید ضمیر جعفری کے جاتے ہی بیشہ مزاح نگاری اور شگفتہ گوئی کا معیار ، مقدار اور چلن بالکل بدل گیا۔وہ چک عبدالخالق سے گوجرانولہ چھاؤنی اور پھر وہاں سے سیدھے امریکہ چلے گئے۔اسلام آباد میں طوطے تو نہیں پائے جاتے ،لیکن اس شہر کی طوطا چشمی کمال کی ہے ۔ سید ضمیر جعفری سے ملاقات کے منتظر اور سفارشی ٹیلیفون کرانے پر مصر منظر سے ایسے غائب ہوئے کہ جیسے وہ تھے ہی نہیں ۔جب تک ان کے فرزند اعلی عسکری ذمہ داریوں پر فائز رہے، شہر کے ادبی اداروں میں گاہے ان کا ذکر ، ان کی یاد کا محل بنا لیا جاتا تھا۔ بعد میں یہ تکلف بھی جاتا رہا۔ سید ضمیر جعفری کی غزل گوئی پر وہ توجہ نہیں دی گئی ،جس کی وہ مستحق تھی۔شاید ان کی مزاحیہ شاعری سے پھوٹنے والے قہقہوں میں غزل کی آواز دب گئی ہو ،لیکن سید ضمیر جعفری کا یہ المیہ رہا کہ ان کے مداح اور قارئین مزاح کی تہہ میں چھپے الم کو دیکھنے پہچاننے سے بھی غافل رہے۔سید ضمیر جعفری سادات کے اسلوب حیات والے تحمل ، درگزر اور صبر کی دولت سے مالامال تھے۔گلہ نہیں کرتے تھے ۔بھلے بڑھاپے کے ریشمی غلاف میں چھپی آنکھ کا کونہ نم ہی کیوں نہ ہو جائے، آنسو تو ہنستے ہنستے بھی نکل آتے ہیں۔======================

“بحريہ ٹاؤن ، نيب کا ملک رياض کے گرد گھيرا تنگ “نیب کراچی نے اپنی حالیہ کارروائی میں بحریہ ٹاؤن کراچی کو بڑا دھچکا دے دیا ہے۔ بحریہ ٹاؤن کراچی کے خلاف جاری اقدامات کے سلسلے میں، نیب نے ملک ریاض حسین کی ذاتی رہائش کے لیے تعمیر کی گئی ایک بڑی حویلی منجمد کر دی ہے، جو ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے نام پر “علی ولا” کے طور پر بحریہ ہلز، بحریہ ٹاؤن کراچی میں واقع ہے اور 67 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے۔علی ولا بحریہ ٹاؤن کراچی کے پہاڑی علاقے میں تعمیر کی گئی ہے اور اس میں جدید ترین سہولیات موجود ہیں، جن میں ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر، سوئمنگ پولز وغیرہ شامل ہیں۔مزید برآں، دو نئی انکوائریوں میں نیب نے 1338 ایکڑ اراضی بھی منجمد کر دی ہے جس پر الزام ہے کہ بحریہ ٹاؤن کراچی نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس زمین پر بحریہ گرینز اور مختلف پریسنکٹس 33، 34، 38 تا 40، 42 اور 61 وغیرہ تعمیر کیے جانے تھے، جبکہ یہ اراضی حکومتِ سندھ کی ملکیت ہے۔اسی طرح، نیب نے بحریہ ٹاؤن 2 کی مکمل 3150 ایکڑ زمین بھی منجمد کر دی ہے، جسے مبینہ طور پر M/s Paradise Real Estate (Pvt) Limited نے دھوکہ دہی کے ذریعے خریدا تھا۔ یہ حکم ڈائریکٹر جنرل نیب کراچی کی جانب سے ایک علیحدہ آرڈر کے ذریعے جاری کیا گیا۔بحریہ ٹاؤن 2 بھی دوبارہ محکمہ جنگلات کی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے۔مذکورہ منجمدی احکامات میں متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کو کسی تیسرے فریق کو حقوق منتقل کرنے سے روکیں۔نیب پہلے ہی احتساب عدالت کراچی میں ریفرنس نمبر 1/2025 دائر کر چکا ہے، جس میں ضلع ملیر کی 17,672 ایکڑ سرکاری زمین کی غیر قانونی اور ناجائز تبدیلی و خردبرد کے الزامات شامل ہیں، جس کی مالیت 708 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ الزام ہے کہ یہ سب حکومتِ سندھ کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت سے ہوا، اور اسی زمین پر ایم-9 موٹروے کے قریب بحریہ ٹاؤن کراچی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا

وکی لیکس کے بعد پیش خدمت ہے ‘ پنکی لیکس ‘انمول عرف پنکی، عرف کوکین کوئین، عرف ” جو کرنا ہے کر لو” روحِ منیر سے معزرت کے ساتھ ” اک اور پنکی کا سامنا تھا منیر مجھ کو” عدالت میں پیشی کے لئیے پولیس پنکی کو پورے غیر سرکاری پروٹوکول کے ساتھ لائی۔ ٹراؤزر اور بیگی شرٹ میں ملبوس پنکی کو دیکھ کر ٹی وی سکرینیں ‘جگمگا اٹھیں’ آج کا دن تو پنکی پنکی!

————————————وزیراعظم شہباز شریف کی لباس فروشی————————————-مجھے کہنے دیجئے کہ خیبرپختونخوا میں جلسہ عام کے دوران سستا آٹا فراہم کرنے کے لیے اپنے کپڑے تک بیچنے کی پیش کش نے مخلوط حکومت کے وزیر اعظم شہباز شریف کی ذہنی صحت اور سیاسی حکمت عملی پر کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ سنا تھا کہ شہبازشریف کی بڑی محنت اور توجہ سے تربیت کی گئی ہے اور کوشش کر کے ان کی شخصیت سے گوالمنڈی اسٹائل کی جگہ “نیویارک اسٹائل” انسٹال کیا گیا ہے۔انہیں پاکستان جیسے گرم ملک میں پینٹ کوٹ ٹائی اور ساتھ سولر ہیٹ پہنا کر پبلک کے سامنے پیش کیا گیا تھا ، ستم ظریف کہتا ہے کہ جب پہلی بار شہبازشریف کو اتنا تیار شیار دیکھا ، تو اس ننھے بچے کا تاثر ابھرا تھا جسے اس کی امی جان کسی کے ہاں مہمان لے جانے کے لیے تیار کرتی ہیں ۔شہباز شریف بھی اپنے گھرانے کے دیگر افراد کی طرح گانے کے شوقین ہیں اور راگ کا پختہ ذوق رکھتے ہیں ۔ایک چیز جو انہیں نواز شریف سے ممتاز کرتی ہے وہ اداکاری کی صلاحیت اور شوق ہے ۔ نوجوانی میں اداکاری کا شوق تو خیر نواز شریف کو بھی تھا، اور اس کے لیے نواز شریف نے اپنے عہد کے نامور اداکار،گلوکار اور فلمساز و ہدایت رنگیلا کا دل نرم کرنے کی بڑی کوشش کی تھی ۔ وہ آنکھوں میں خواب سجائے اداکار رنگیلا کی محفل میں بیٹھے رہتے تھے ،لیکن بالآخر رنگیلا نے کہہ دیا کہ یہ نوجوان کبھی بھی اچھا اداکار نہیں بن سکتا۔حالانکہ نوجوان نواز شریف نے شاگردوں والی خدمت گزاری میں بھی کوئی کمی نہیں کی تھی

۔لیکن بطور فنکار رنگیلا نے ایک پیشہ وارانہ رائے پیش کی۔پھر پاکستانیوں نے دیکھ بھی لیا کہ سیاست میں آنے کے بعد ایک دھیمے مزاج کے تابع فرمان سیاستدان کے طور پر نواز شریف وزرات اعظمی کے منصب تک پہنچ گیے لیکن برا ہو اس کا جس نے میاں کو سچ مچ کا شیر ہونے کا یقین دلا دیا۔انہیں بہادری کی اداکاری اس قدر مہنگی پڑی کہ آج تک اس کی قیمت پوری نہیں کر پا رہے۔لیکن اداکاری کے حوالے سے شہباز شریف کے تجربات مختلف ہیں ۔وہ ایک مقبول عوامی راہنما بننے کی اداکاری کرتے رہتے ہیں ۔لیکن جب وہ بہت زیادہ بیماریوں کا دعوے دار ہونے کے باوجود کارکنوں کے ہجوم میں تیز تیز چلتے نظر آتے ہیں ،تو حیرت ہوتی ہے ۔انگریزی بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔عربی کے چند جملوں پر بھی ہاتھ صاف کیا ہوا ہے ۔اب ممکن نہیں کہ چینی زبان ان سے بچ پائے ۔پر یہ سارا کچھ برائے علم یا بوجہ قابلیت نہیں ، برائے ڈرامہ اور ٹہکا کیا جاتا ہے ۔اسی لیے تاثیر سے خالی رہتا ہے۔حبیب جالب کے اشعار شہبازشریف کو بڑے مرغوب ہیں ، لیکن جس طبقے سے حبیب جالب کا تعلق تھا ،اس سے انہیں کوئی نسبت نہیں۔ بھٹو خاندان کا سحر نفسیاتی طور پر اس گھرانے کے افراد پر طاری رہتا ہے ۔شہباز شریف ایک شعلہ بیان بلکہ آتش گیر مقرر بننے کا شوق رکھتے ہیں ۔شہید ذوالفقار علی بھٹو کی ایک تقریر کی کاپی کرتے ہوئے وہ سامنے لگے مائیکرو فون کو شدت جذبات کی ایکٹنگ کرتے ہوئے ہاتھ مار کر گرانے کا مظاہرہ بھی کر چکے ہیں ۔وہ انگشت نمائی بہت کرتے ہیں ۔اور یہ بری عادت ان کے سیاست کے لیے وقف فرزند حمزہ شہباز میں بھی آئی ہے۔ حمزہ شہباز تو خیر اپنی انگلی کو سیدھا کرتے کرتے ٹیڑھی بھی کر لیتے ہیں۔شہبازشریف کو ماڈرن سیاستدان بنانے پر مامور ٹرینرز کو ان کی انگلی گھمانے کی عادت کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے تھی ،لیکن شائد ان کی انگشت نمائیوں پر قابو پانا کسی کے لیے بھی ممکن نظر نہیں آتا۔شہبازشریف نے اپنی کام کرنے کی رفتار کو بڑھا چڑھا کر دکھایا اور بیان کیا ہے ، لیکن وزیر اعظم بننے کے چند ہی روز بعد ان کا سانس پھولنے لگا ہے ۔اب وزیراعظم کے پاس ملک بھر میں ہونے والے تمام تر حرکات و سکنات کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹس آتی رہتی ہیں۔ پاکستان سے گندم ، آٹا گوشت کے لیے جانور اور ادویات بہت ہی بڑی مقدار میں افغانستان میں سمگل کی جارہی ہیں ۔ان تمام اشیاء کی بین الاقوامی تجارت کو احاطہ قانون کے اندر لانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوا کرتی ہے ۔پاکستان کے افغانستان بارڈر پر تجارت کم اور اسمگلنگ زیادہ رائج ہے۔اس پر قابو پانا ریاست کے لیے فایدہ مند ،جبکہ ریاستی اہلکاروں کے لیے عموماً نقصان کا باعث ہوتا ہے ۔پاکستان دنیا کا شائد واحد ملک ہے جہاں حکومت مفلس اور حکومتی اہلکار اور برسر اقتدار سیاستدان اور ادارے دولت مند ہیں۔عوام کے لیے اس مبارک ریاست میں صرف دو انتخاب ہیں ، یا تو وہ بھی کسی فارمولے کے تحت مفلس نہ رہیں اور خط غربت کو قطع کر کےاستحصالی نظام کا حصہ بن جائیں۔جو ایسا کر سکیں ،انہیں نو دولتیے کہتے ہیں ۔اور پاکستان میں یہ طبقہ کثرت سے پایا جاتا ہے ۔دوسرا انتخاب بدستور مفلس و بےنوا رہتے ہوئے آخرت کے انعامات میں اپنے حصے کا انتظار کرتے رہنا ہے ۔یہ تصور بغاوت کو روکتا اور پسے ہوئے طبقات کو نفسیاتی سہارا دیتا ہے ۔بہرحال میں اس حیرت کی بات کر رہا تھا ،جو شہبازشریف کی طرف سے سستے آٹے کی فراہمی کے لیے اپنے کپڑے بیچنے کی پیش کش سے ہوئی تھی ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے لیے سستا آٹا وہ کپڑے اتارنے اور اتارنے کے بعد فروخت کیئے بغیر بھی صرف افغانستان کی طرف اسمگلنگ کو روک کر فراہم کر سکتے ہیں۔

لیکن اپنی تقریر سننے والے لوگوں کو اپنی بات اور اپنی کوشش کا یقین دلانے کے لیے اپنے تن کے کپڑے بیچنے کا آئیڈیا ان کو زیادہ مناسب معلوم ہوا۔ ،ستم ظریف کہتا ہے کہ وزیراعظم نے یہ بات ذہن کو زحمت دئیے بغیر ہی محض جوش جذبات میں کہہ دی تھی ۔ورنہ وہ اپنے زیب تن لباس کی قیمت سے اچھی طرح سے واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ ان کے لیے ایسا کہنا بہت آسان اور ایسا کرنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے ۔اپنے اس جلسے میں وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی علم و فضل کی دھاک بٹھانے کے لیے برصغیر کی تاریخ سے 1857ء کی جنگ آزادی کا انتخاب کیا۔ابھی تک محقیقن اس جلسے کی 1857ء کے واقعات سے مناسبت کا کوئی سراغ نہیں لگا پائے ، مزید ستم شہبازشریف نے یہ کیا کہ زمانی بعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے علامہ اقبال سے اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی میں شاعری منسوب کر دی۔شہباز شریف دیگر شرفاء کی طرح اچھے خاصے سیانے ہیں ۔انہیں علم ہے کہ اقبال خود تو اس دعوے کی تردید نہیں کریں گے ،اور ان کے اطراف جو بے بدل علماء کا ہجوم ہے وہ انہیں جس طرح کی تاریخ اور جیسا ادب پڑھا یا بتا رہے ہیں ،اس کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔اپنی مختصر وزارت اعظمی کے دوران شہباز شریف کو سب سے زیادہ پرہیز بولنے اور زیادہ بولنے سے کرنا پڑے گا ۔ زیادہ بولنے والے باعمل نہیں ہوتے ۔پھر کثرت گفتار سے غلطیاں بھی زیادہ ہو جاتی ہیں۔ وہ جنہیں ستم ظریف چولیں مارنا کہتے ہیں۔کم گفتاری انسان کا پردہ رکھ لیتی ہے۔اور یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ 1877 ء میں پیدا ہونے والے عظیم شاعر اور رہبر علامہ اقبال نے اپنی ولادت سے بیس برس قبل شاعری کیسے کی ہوگی؟ شہباز شریف لاہورکے تمام تر سابق و موجود اقبال شناسوں کا سارا زور استعمال کر کے بھی سوائے شرمندگی کے کچھ اور حاصل نہیں کر سکتے ۔بس خود کو دنیا و آخرت کے جملہ علوم کے ماہر سمجھ لینے کا یہی بڑا نقصان ہوتا ہے ۔اگر اقلیم سیاست اور امور ریاست میں سے ڈرامے، ڈائیلاگ، گانے اور مزید حماقتوں کے عناصر خارج کر دیئے جائیں تو پھر قوی امکان ہے کہ نہ موجودہ رہیں گے اور نہ سابق ۔پر کیا کریں تھیٹر میں یہی کچھ مقبول ہے ۔ہمارے کہانی لکھنے والے وہی ، ہدایت کار وہی ، ذہن اور تصور ابھی تک آواز کے بغیر بلیک اینڈ وائٹ فلموں سے آگے نہیں بڑھ سکا۔کردار نقلی پستول سے فائر کر کے منہ سے فائرنگ کی آواز نکالتے ہیں ۔اسی لیے سبھی کی آواز بیٹھی ہوئی ہے ۔اور یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا۔اب ایسے میں عامتہ الناس کیا کرے ؟پاکستان کے حالات تحریر و تقریر اور تقدیر و تدبیر سے سدھرنے والے نہیں۔یہاں بغاوت درکار ہے ، بالا طبقات کے لات منات اور ہبل مسمار کئیے بغیر پشت پر درے کھانے والوں کا نصیب نہیں بدلے گا۔————————-

کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کا پولیس کا کھلا چیلنجمجھے پکڑنے کیلئے پتہ نہیں کہاں کہاں سے لوگ آجاتے ہیں، گرفتارہونے والی شرافیہ کی اولاد پنکی کی آڈیولیک۔۔۔۔۔۔۔👑 کوکین مافیا کی بادشاہ 👑کراچی سے گرفتار مبینہ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو منظر کچھ اور ہی تھا۔نہ ہاتھوں میں ہتھکڑی، نہ چہرے پر خوف، بلکہ وہ آگے آگے چلتی رہی اور تفتیشی افسر پیچھے پیچھے راستہ دکھاتا رہا۔پولیس نے 14 روزہ ریمانڈ مانگا، مگر حاصل نہ کر سکی، اور عدالت نے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔یہ ہے ہمارے نظامِ انصاف کی وہ تصویر جہاں عام آدمی معمولی الزام پر ذلیل ہوتا ہے، مگر شرافیہ کی اولادیں پروٹوکول کے ساتھ عدالتوں میں گھومتی ہیں۔جج بھی سوچتا ہوگا کہ آخر ان طاقتور لوگوں کو کون ہاتھ لگا سکتا ہے؟کہا جا رہا ہے کہ یہی وہ “پنکی” ہے جسے کوکین نیٹ ورک کی ماسٹر مائنڈ کہا جا رہا ہے، جس نے نوجوان نسل کو سفید زہر کی دلدل میں دھکیلنے میں کردار ادا کیا۔مگر طاقت، دولت اور تعلقات کے سامنے قانون بھی بے بس دکھائی دیتا ہے۔

رائٹرز نیوز ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ جنگ کے دوران سعودی عرب نے بھی ایران پر حملے کیے تھے۔پیر کو وال اسٹریٹ جرنل نے خبر دی تھی متحدہ عرب امارات نے بھی ایران پر حملےکیے تھے۔اب تک ان دونوں ملکوں کے ایران پر حملوں کے بارے میں تفصیلات نہیں آئی تھیں۔ لیکن ان رپورٹس سے اندازہ ہورہا ہے کہ پس پردہ کافی کچھ ہوا ہے۔رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے حملہ کیا لیکن ریاض میں ایرانی سفیر کے ذریعے ایران سے سفارتی رابطہ بھی کیا تاکہ بات زیادہ نہ بگڑے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved