
علاقائی کشیدگی کے بعد متحدہ عرب امارات اور ایران کے وزرائے خارجہ کا پہلا باضابطہ رابطہ، سفارت کاری اور استحکام پر زورابوظہبی: متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ، عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کو اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلی فون موصول ہوا، جو خطے میں حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلا باضابطہ اور عوامی سطح پر سامنے آنے والا اعلیٰ سفارتی رابطہ ہے۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی صورتحال اور امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) پر اتفاق اور دستخط کے بعد پیدا ہونے والی تازہ علاقائی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔گفتگو کے دوران شیخ عبداللہ بن زاید نے فوری اور جامع جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی حل، سنجیدہ سفارت کاری اور تعمیری مذاکرات ہی مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے کے امن و استحکام کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہیں۔انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف دشمنیوں کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ ریاستوں کی خودمختاری، حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں اور علاقائی سلامتی کو بھی تقویت ملے گی۔اماراتی وزیر خارجہ نے بین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری، ریاستوں کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا اور اسے خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ٹیلی فونک رابطے میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کی سلامتی کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ سمندری گزرگاہوں کی آزادی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت کا بلا تعطل جاری رہنا نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بنیادی اور تزویراتی ضرورت ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج برآمد کریں گی اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کی راہ ہموار کریں گی۔شیخ عبداللہ بن زاید نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سنجیدہ سفارت کاری اور ذمہ دارانہ مکالمہ ہی علاقائی اور بین الاقوامی بحرانوں کے حل کا بہترین ذریعہ ہیں اور یہی راستہ خطے کے عوام کی امن، ترقی اور خوشحالی کی امنگوں کو پورا کر سکتا ہے۔یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے، وسیع تر تصادم کو روکنے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے علاقائی کوششیں تیز ہو رہی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات خود کو خطے میں استحکام، مذاکرات اور تعمیری سفارت کاری کے ایک فعال حامی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران پانچ زلزلے، ماہرین نے عالمی ٹیکٹونک سرگرمی سے جوڑ دیااسلام آباد: پاکستان میں محض 24 گھنٹوں کے دوران آنے والے پانچ زلزلوں نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ ماہرین ارضیات نے اس غیر معمولی سرگرمی کو دنیا کے مختلف خطوں میں جاری وسیع ٹیکٹونک حرکات کا حصہ قرار دیا ہے۔زلزلوں سے متاثرہ علاقوں میں صوبہ بلوچستان، خصوصاً بارکھان اور اس سے ملحقہ علاقے شامل ہیں، جہاں سب سے شدید جھٹکوں کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.2 ریکارڈ کی گئی۔ماہرین کے مطابق بلوچستان اور خیبرپختونخوا یوریشین ٹیکٹونک پلیٹ کی سرحد پر واقع ہیں، جس کے باعث یہ علاقے قدرتی طور پر زلزلہ خیز شمار ہوتے ہیں۔ ماہرین نے واضح کیا کہ حالیہ جھٹکوں کی اکثریت کم شدت کی تھی، تاہم ان کی مسلسل نوعیت نے عوامی خدشات میں اضافہ کیا۔ارضیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دنیا کے مختلف حصوں میں ٹیکٹونک سرگرمی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لیکن وینزویلا میں آنے والے زلزلے اور پاکستان میں حالیہ جھٹکوں کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت کرنے کے لیے فی الحال کوئی حتمی سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے 2026 کے پہلے نصف کے دوران عالمی مسابقتی درجہ بندی میں ایک بار پھر نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے دنیا کی مضبوط اور تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لی ہے۔عالمی رپورٹس کے مطابق یو اے ای 118 مختلف عالمی اشاریوں میں دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل رہا، جبکہ 67 اشاریوں میں اسے ٹاپ 5 ممالک میں جگہ حاصل ہوئی، جو مختلف اقتصادی، سرمایہ کاری، کاروباری اور حکومتی شعبوں میں اس کی غیر معمولی کارکردگی کا عکاس ہے۔اسی دوران گلوبل انٹرپرینیورشپ مانیٹر (GEM) 2025-2026 کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای مسلسل پانچویں سال دنیا میں کاروبار شروع کرنے، اسے فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے لیے بہترین ملک قرار پایا ہے۔اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کامیابیاں جدید حکومتی پالیسیوں، جدت طرازی، ڈیجیٹل تبدیلی، کاروبار دوست قوانین، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول اور مستقبل پر مبنی ترقیاتی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہیں۔ ان اقدامات نے یو اے ای کو عالمی سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے لیے مزید پرکشش اور قابلِ اعتماد منزل بنا دیا ہے۔ماہرین کے مطابق یو اے ای کی مسلسل کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک نے اقتصادی تنوع، ٹیکنالوجی، اختراع اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں اپنی عالمی قیادت کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

کیا مشرق وسطیٰ ایک نئے جغرافیائی تزویراتی انقلاب کے دہانے پر کھڑا ہے؟آٹھ دہائیوں سے زائد عرصے سے امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سیاسی، عسکری اور اقتصادی مفادات کا ایک ایسا جال بچھا رکھا ہے جس نے اسے خلیجی ریاستوں کا ناگزیر شراکت دار بنا دیا۔ یہ تعلق صرف تیل اور توانائی تک محدود نہیں بلکہ خطے میں موجود بڑے امریکی فوجی اڈوں، اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدوں اور جدید اسلحے کی فروخت نے مشرق وسطیٰ کو امریکی دفاعی صنعت کے لیے ایک مستقل اور منافع بخش منڈی میں تبدیل کر دیا ہے۔تاہم حالیہ علاقائی کشیدگی نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے: کیا وہ فوجی اڈے جو خلیجی اتحادیوں کے تحفظ کی علامت سمجھے جاتے تھے، ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کی صورت میں خطرے کی نئی علامت بن سکتے ہیں؟تجزیہ کاروں کے مطابق اگر تہران کسی وسیع تر محاذ آرائی کا جواب دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کا ہدف براہِ راست امریکی سرزمین نہیں بلکہ خطے میں موجود اہم تنصیبات ہو سکتی ہیں، جن میں تیل کے ذخائر، بجلی گھر اور ڈی سیلینیشن پلانٹس شامل ہیں۔ ایسی کسی کارروائی کی صورت میں پورے خلیج میں توانائی، پانی اور روزمرہ زندگی کا نظام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔اس صورتحال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ واشنگٹن اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے معاشی فوائد بھی حاصل کرتا ہے۔ جدید لڑاکا طیاروں، فضائی دفاعی نظاموں اور نگرانی کے آلات کی فروخت سے اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، جبکہ ہزاروں امریکی انجینئرز اور ماہرین خلیجی توانائی کے منصوبوں سے وابستہ ہیں۔تاہم اگر خطے میں عدم استحکام طویل عرصے تک برقرار رہتا ہے تو کچھ خلیجی دارالحکومت اپنی روایتی تزویراتی وابستگیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔یہیں سے ایک متبادل منظرنامہ جنم لیتا ہے: روس اور چین کی جانب بتدریج جھکاؤ۔ چین پہلے ہی اپنے “بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو” کے ذریعے خطے میں معاشی اور جغرافیائی اثرورسوخ بڑھا رہا ہے، جبکہ ایران مشرق اور مغرب کو ملانے والی نئی تجارتی راہداریوں کا اہم مرکز بن سکتا ہے، جو ماسکو اور بیجنگ کو غیر معمولی تزویراتی فوائد فراہم کرے گا۔امریکی قیادت کے لیے اصل مخمصہ یہ ہے کہ آیا وہ اسرائیل کے لیے اپنی غیر مشروط حمایت جاری رکھتے ہوئے خلیج میں اپنے طویل المدتی مفادات کو خطرے میں ڈالے گی، یا پھر عملی سیاست کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اقتصادی اور تزویراتی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دے گی۔بہت سے مبصرین کے نزدیک مشرق وسطیٰ میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات محض ایک اور علاقائی بحران نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ممکنہ تبدیلی کا نقطۂ آغاز ہیں۔ آنے والے مہینوں میں کیے جانے والے فیصلے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ آنے والی دہائیوں کے عالمی نظام کی سمت کا بھی تعین کر سکتے ہیں۔آپ کی رائے میں کیا امریکہ اسرائیل کی خاطر اپنے خلیجی مفادات کو داؤ پر لگا دے گا، یا بالآخر عملیت پسندی غالب آئے گی؟

امریکہ-ترکی دفاعی معاہدے اور سیکورٹی انتباہات کے بعد ترکی-اسرائیل کشیدگی میں نیا موڑانقرہ/تل ابیب: ترکی اور اسرائیل کے تعلقات ایک نئے سیاسی اور تزویراتی تناؤ کے مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جب اسرائیل کی وزیر برائے اختراعات گیلا گملیل نے ترکی کو ایران کے بعد اسرائیل کے لیے “اگلا بڑا سیکورٹی چیلنج” قرار دیا۔ ان کے بیان نے خطے میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد اور مسابقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ترکی کے ساتھ تقریباً 705 ملین ڈالر مالیت کے فوجی معاہدے، جس میں لڑاکا طیاروں کے انجنوں کی فروخت بھی شامل ہے، کو آگے بڑھانے کا اعلان کیا۔ اس پیش رفت نے اسرائیلی سیاسی اور دفاعی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ اسرائیل کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ تل ابیب خطے میں ترکی کے بڑھتے ہوئے فوجی اور سیاسی اثر و رسوخ کو اپنے لیے ایک ممکنہ چیلنج سمجھتا ہے۔اس دوران سابق بیانات بھی دوبارہ زیرِ بحث آ گئے ہیں جن میں صدر ٹرمپ سے منسوب یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو اسرائیل کے خلاف کسی ممکنہ فوجی اقدام سے روکنے کے لیے مداخلت کی تھی۔ ان دعوؤں نے واشنگٹن، انقرہ اور تل ابیب کے درمیان پسِ پردہ رابطوں کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔دوسری جانب صدر اردوان اسرائیلی پالیسیوں، خصوصاً غزہ کے معاملے پر، مسلسل سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ترکی نے اسرائیل کے خلاف سفارتی اور سیاسی دباؤ میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی بیانات اور امریکہ-ترکی دفاعی معاہدے کا بیک وقت سامنے آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اب ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی اثر و رسوخ، توانائی کے وسائل، سلامتی کے معاملات اور فوجی اتحادوں پر مسابقت مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید تصادم کی جانب دھکیل سکتی ہے۔تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو آنے والے مہینوں میں ترکی اور اسرائیل کے تعلقات مزید پیچیدہ، غیر یقینی اور ممکنہ طور پر زیادہ محاذ آرائی پر مبنی ہو سکتے ہیں۔

مصر نے لبنان کی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کر دیا، اسرائیل کے مکمل انخلا اور ریاستی عملداری کے قیام پر زورقاہرہ: مصر نے لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور استحکام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے اسرائیل کے تمام لبنانی علاقوں سے مکمل انخلا اور پورے ملک میں لبنانی ریاست کی مکمل عملداری کے قیام پر زور دیا ہے۔مصری وزیر خارجہ، بدر عبدالعاطی نے لبنانی وزیراعظم نواف سلام سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے حالیہ فریم ورک معاہدے، لبنان کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال اور خطے میں جاری پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔گفتگو کے دوران قاہرہ نے واضح کیا کہ کسی بھی سیاسی یا سکیورٹی انتظام کا بنیادی مقصد لبنانی ریاست کی اپنے تمام علاقوں پر مکمل عملداری کی بحالی ہونا چاہیے تاکہ ملک میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور کشیدگی یا تنازع کے دوبارہ جنم لینے کے امکانات کو روکا جا سکے۔مصری وزیر خارجہ نے لبنان کے حوالے سے اپنے ملک کے چار بنیادی نکات پیش کیے:اسرائیلی افواج کا تمام لبنانی علاقوں سے مرحلہ وار اور مکمل انخلا؛تمام ہتھیاروں کو ریاستی اداروں کے اختیار میں دے کر قومی خودمختاری کو مضبوط بنانا؛بالخصوص جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی مکمل تعیناتی اور اسے اپنی سکیورٹی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل بنانا؛اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانا تاکہ خطے میں استحکام برقرار رہے اور فوجی تصادم کی راہ مسدود ہو۔مصر نے اس موقع پر لبنانی سیاسی قوتوں کے درمیان اتحاد، ریاستی اداروں میں ہم آہنگی اور مشترکہ قومی مؤقف کی اہمیت پر بھی زور دیا اور اسے موجودہ سیاسی، سکیورٹی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔دوسری جانب وزیراعظم نواف سلام نے لبنان کے لیے مصر کی مستقل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ قاہرہ نے ہمیشہ لبنانی ریاستی اداروں کے استحکام اور قومی وحدت کے فروغ میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان آئندہ بھی قریبی مشاورت اور رابطوں کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان سے متعلق حالیہ علاقائی اور بین الاقوامی سمجھوتوں پر عمل درآمد کی کوششیں جاری ہیں اور عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا متعلقہ فریق ان معاہدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کر کے لبنان کے استحکام اور ریاستی خودمختاری کو مزید مضبوط بنا پائیں گے۔










