
*اسلام آباد میں اڈیالہ جیل کی پریزن وین سے 14 قیدی فرار پولیس نے 4 کو دوبارہ دبوچ لیا، 10 کی تلاش جاری*وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے چکیاں اسٹاپ کے قریب اڈیالہ جیل کی پریزن وین سے 14 قیدی پراسرار طور پر فرار ہونے کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا ہے رپورٹ کے مطابق، اس سرکاری وین میں مجموعی طور پر 34 قیدی سوار تھے جنہیں عدالت میں پیشی کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کیا جارہا تھا کہ راستے میں چکیاں اسٹاپ کے پاس یہ قیدی گاڑی سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے؛ واقعے کے فوراً بعد الرٹ جاری کرتے ہوئے پولیس نے فوری کارروائی کے دوران 4 قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے جبکہ تاحال فرار 10 قیدیوں کی گرفتاری کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کر کے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن اور کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔

*اسلام آباد میں اڈیالہ جیل کی پریزن وین سے 14 قیدی فرار پولیس نے 4 کو دوبارہ دبوچ لیا، 10 کی تلاش جاری*وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے چکیاں اسٹاپ کے قریب اڈیالہ جیل کی پریزن وین سے 14 قیدی پراسرار طور پر فرار ہونے کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا ہے رپورٹ کے مطابق، اس سرکاری وین میں مجموعی طور پر 34 قیدی سوار تھے جنہیں عدالت میں پیشی کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کیا جارہا تھا کہ راستے میں چکیاں اسٹاپ کے پاس یہ قیدی گاڑی سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے؛ واقعے کے فوراً بعد الرٹ جاری کرتے ہوئے پولیس نے فوری کارروائی کے دوران 4 قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے جبکہ تاحال فرار 10 قیدیوں کی گرفتاری کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کر کے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن اور کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔

امریکی ساختہ عسکری سامان کی مبینہ برآمدگی کے بعد برازیلیا میں ہائی الرٹبرازیل کا حکومت گرانے کی غیر ملکی سازش کا دعویٰ؛ صدر لولا نے غیر معمولی سکیورٹی اقدامات کا حکم دے دیابرازیلیا، 29 جون: برازیل کی سیاست میں اس وقت شدید ہلچل پیدا ہو گئی ہے جب صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا نے مبینہ طور پر اپنی حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور ایک “سافٹ کو” کے ذریعے اقتدار سے ہٹانے کی بیرونی سازش کا انکشاف کیا ہے۔صدارتی ذرائع کے مطابق برازیلی سکیورٹی اداروں نے ایک خفیہ آپریشن کے دوران ہلکے جنگی سازوسامان کا ذخیرہ برآمد کیا، جو مبینہ طور پر امریکہ میں تیار کیا گیا تھا اور غیر قانونی ذرائع سے برازیل پہنچایا گیا۔ اس دریافت نے برازیلی حکومت کے اعلیٰ حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور اسے قومی سلامتی کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام کو شبہ ہے کہ غیر ملکی انٹیلی جنس نیٹ ورک ملک کے اندر ایسے عناصر کی تربیت اور تنظیم سازی کی کوشش کر رہے تھے جو مستقبل میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ بعض حکام نے اس صورتحال کا موازنہ لاطینی امریکہ میں ماضی کی سیاسی مداخلتوں اور علاقائی بحرانوں سے بھی کیا ہے

۔ذرائع کے مطابق صدر لولا اس پیش رفت پر سخت برہم ہیں اور انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے اپنی شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ برازیلی صدر نے اپنے تحفظات براہِ راست رابطے کے بجائے سفارتی ذرائع اور ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچانے کو ترجیح دی۔برازیلی حکام کا خیال ہے کہ مبینہ عسکری سامان کی ترسیل کا طریقۂ کار ایک منظم اور پیشگی منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کرتا ہے،

جس کا مقصد حکومتی اداروں کو کمزور کرنا اور ملک میں سیاسی افراتفری کے لیے ماحول تیار کرنا ہو سکتا ہے۔اس صورتحال کے بعد لولا انتظامیہ نے صدارتی معاونین، وفاقی وزرا، انٹیلی جنس افسران اور حساس سرکاری اداروں کے اہلکاروں کی سکیورٹی جانچ اور وفاداری کے جائزے کو مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد کسی بھی ممکنہ دراندازی، اندرونی سازش یا تخریبی سرگرمی کو بروقت ناکام بنانا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وزارتِ داخلہ، ایوانِ صدر اور انٹیلی جنس اداروں کے اہم عہدیداروں کی سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے

تاکہ ریاستی اداروں میں مکمل ہم آہنگی اور آئینی نظام کے ساتھ وفاداری کو یقینی بنایا جا سکے۔پیر کے روز تک وائٹ ہاؤس یا امریکی حکام کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ان دعوؤں کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ معاملہ نہ صرف برازیلیا اور واشنگٹن کے تعلقات میں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے بلکہ پورے لاطینی امریکہ کی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی نجکاری کا عمل مکمل !!!پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کا عمل مکمل ہو گیا. پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ کنسورشیم نے پی آئی اے کا کنٹرول سنبھال لیا، شیئر بھی کنسورشیم کو ٹرانسفر کر دیے گئے، پی آئی اے کا نیا بورڈ تشکیل، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ انور علی حیدر پی آئی اے کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز مقرر، گوہر اعجاز، عارف حبیب، فضل شیخ، عقیل کریم ڈھیڈی، فرزانہ فیروز ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرز ہونگے. پی آئی اے کنسورشیم میں لیک سٹی، فاطمہ گروپ، فوجی گروپ، اے کے ڈی، عارف حبیب اور سٹی اسکول کنسورشیم کا حصہ ہیں










