
حکومت شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس کے انعقاد کا بہت کریڈٹ لے رہی ہے‘ اور پاکستان کسی بھی سیاسی جماعت کی وفاق میں حکومت ہوتی تو وہ ضرور اس کانفرنس کا کریڈٹ لیتی‘ لہذا کسی کو اس بات کا کوئی اعتراض نہیں ہے کہ حکومت کیوں اس کانفرنس کا کریڈٹ لے رہی ہے‘ ہمیں یہ بات تسلیم ہے کہ بطور حکومت یہ اس کا حق ہے‘ لابتہ کچھ اعتراضا ایسے بھی ہیں جنہیں حکومت نظر انداز نہیں کر سکتی‘ کیا پاکستان کے میڈیا کی کانفرنس تک رسائی محدود کرکے حکومت اس کی بہترین تشہیر کر پائے گی؟ اس حکومت کو اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی مارنے کی عادت سی ہوگئی ہے اور اس لیے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی بجائے یہ بیوروکریسی پر بہت انحصار کر رہی ہے اور بیوروکریسی کسی کی نہیں ہوتی‘ یہ چڑھتے سورج کو سلام کرنے والی مخلوق ہے‘ لہذا یہ کام حکومت کا ہوتا ہے کہ وہ ملک میں جب بھی کوئی بڑی سرگرمی ہو‘ اور خاص طور پر جب اس سرگرمی کا تعلق بیرون ملک اثرات سے بھی ہوتو بہترین نتائج کے لیے حکومت کو لگام اپنے ہاتھ میں رکھنی ہوتی ہے‘ حکومت اس محاذ پر کمزور اور بلاشبہ ناکام ثابت ہوئی ہے‘ اور اس کانفرنس کے منتظمین کی صلاحتیوں سے متعلق ملکی میڈیا میں صرف ایک سطر کی خبر ہی حکومت کے پاؤں ہلا سکتی ہے‘ حکومت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کوئی حکومت مقامی میڈیا کو تحفظات کا شکار کرکے ملک کے اندر اور بیرون ملک اپنا اچھا ئاثر پیدا نہیں کر سکتی‘ آج اگر ہم حکومت کے ایک ہی ڈیپارٹمنٹ‘ ایک ہی وزارت کا جائزہ لیں تو ہمیں وزارت امور خارجہ کا ہی جائزہ لینا ہے اس کے بعد وزارت اطلاعات کی باری آتی ہے‘ کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ کوئی عالمی کانفرنس‘اس میں پاکستان اور بھارت بھی شریک ہوں اور پاکستان نے اس کانفرنس میں کشمیر پر بات نہ کی ہو‘ یہ اس لیے ہوتا تھا کہ ہمارے پاس اس وقت اس کام کے لیے بہترین سفارتی دماغ تھے‘ کسی ایک کا نام لینا دوسرے سے ذیادتی ہوگی ہمارے پاس بلاشبہ بہت ہی اعلی پائے کے سفارت کار تھے‘ اور ہمارے ترجمان تو ایسے افسر رہے ہیں کہ جن کے پاس میڈیا سے دوستی کے لیے جادوئی قوت ہوا کرتی تھی‘ اور پھر ہم نے دیکھا کہ ہمارے میڈیا نے سفارتی مہاذ پر بھارت کے خلاف اپنی حکومت کی جانفشانی کے ساتھ کام کرکے مدد کی اور اپنی حکومت کی بگڑی نیچے نہیں گرنے دی‘ لیکن آج ہمارے پاس دفتر خارجہ میں کیسی افسر شاہی ہے‘ اور کیسی ترجمان ہیں‘ بادبان نے ماضی میں از زہر ہلاہل کو قند نہیں کہا اور مستقبل میں یہ کام ہم سے نہیں ہوسکے گا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم ہی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ پاکستانی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ کے را سے رابطوں کا انکشاف ہوا تھا اور خفیہ اداروں کی رپورٹ تفصیلات کے لئے روزنامہ پوسٹ انٹرنیشنل منگل کے اخبار میں بھی کچھ تفصیلات دی جارہی ہیں‘ کون نہیں جانتا کہ ممتاز زہرا بلوچ سے وزارت خارجہ نے ایڈیشنل سیکرٹری کا چارج بھی 6 ماہ قبل واپس لے لیا تھا سب جانتے ہیں کہ ممتاز زہرا بلوچ کو 3 سال قبل جب وہ ایک ملک میں سفیر تعینات تھی اپنی جونیر خاتون افسر کے بال نوچنے پر واپس بلا لیا گیا تھا یہ بھی بات کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی نہیں کہ ممتاز زہرا بلوچ کے خلاف صدر پیوٹن نے باقاعدہ مراسلہ بھیجا تھا یہ کل کی بات ہے کہ ممتاز زہرا بلوچ نے چین اور امریکہ پوسٹنگ لینے کے لئے بھارتی ہم نوا 2 صحافیوں کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا جن میں سے ایک تو ابھی حال ہی میں 18 ماہ قبل افغانستان میں گرفتار بھی ھوا تھا‘ اب ممتاز زہرا بلوچ اب فرانس میں بطور سفیر جائے کے لیے سامان باندھ رھی ھے جھاں پر اس کا بال نوچنے کا مقابلہ انفارمیشن گروپ کی گریڈ 20 کی آفیسر سجیلہ سے ہوسکتا ہے ایک بار پھر مقابلہ ھو گا‘ادارہ بادبان نیوز اور پوسٹ انٹرنیشنل آاس خاتون کی خبریں پہلے بھی دے چکا ھے جس کی تفصیلات کے لئے کلک کیجئے

فرانس میں وزارت خارجہ کی نا اھل زھرا بلوچ تعینات کر دی گئی یاد رھے کہ موصوفہ کوریا میں بطور سفیر اپنے سے جونیر افیسر کے بال نوچتی رھی ھے انکی خوش قسمتی کہ اب انکا انفارمیشن گروپ کی سجیلہ سے واسطہ پڑے گا جو گریڈ 20 کی افیسر ھے بال نوچنے میں مہارت رکھنے والی سائیکو زھرہ بلوچ اب اپنی پرفارمنس کے جوھر شانزے لیزے روڈ پیرس میں دکھاے گئی وزارت خارجہ کے کونسے افیسر کھا پوسٹ ھوے بادبان نیوز ان کی خبریں ناظرین کو 21 روز پھلے ھی پھنچا چکا ھے۔ آمنہ بلوچ سیکرٹری خارجہ تعینات تھمینہ جنجوعہ کے بعد۔وزارت خارجہ میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے۔ترمذی برسلز کرپٹ محمد سلیم کینڈا اور محمد عامر عرب امارات میں سفیر تعینات ھونگے۔19ویں کامن کی تگڑی افسر امنہ بلوچ وزارت خارجہ کی ایک بڑی سفارت کار ھے انکو 5 افسران سے فوقیت دے کر سیکرٹری خارجہ تعینات کیا گیا ہے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
فرانس میں وزارت خارجہ کی نا اھل زھرا بلوچ تعینات کر دی گئی یاد رھے کہ موصوفہ کوریا میں بطور سفیر اپنے سے جونیر افیسر کے بال نوچتی رھی ھے انکی خوش قسمتی کہ اب انکا انفارمیشن گروپ کی سجیلہ سے واسطہ پڑے گا جو گریڈ 20 کی افیسر ھے بال نوچنے میں مہارت رکھنے والی سائیکو زھرہ بلوچ اب اپنی پرفارمنس کے جوھر شانزے لیزے روڈ پیرس میں دکھاے گئی وزارت خارجہ کے کونسے افیسر کھا پوسٹ ھوے بادبان نیوز ان کی خبریں ناظرین کو 21 روز پھلے ھی پھنچا چکا ھے۔ آمنہ بلوچ سیکرٹری خارجہ تعینات تھمینہ جنجوعہ کے بعد۔وزارت خارجہ میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے۔ترمذی برسلز کرپٹ محمد سلیم کینڈا اور محمد عامر عرب امارات میں سفیر تعینات ھونگے۔19ویں کامن کی تگڑی افسر امنہ بلوچ وزارت خارجہ کی ایک بڑی سفارت کار ھے انکو 5 افسران سے فوقیت دے کر سیکرٹری خارجہ تعینات کیا گیا ہے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وزارت خارجہ میں 20 بڑے پیمانے پر تبدیلیاں جعلی بلوچ بھی اخر کار سھیل رانا لاءیو میں
وزارت خارجہ میں 20 بڑے پیمانے پر تبدیلیاں جعلی بلوچ بھی اخر کار سھیل رانا لاءیو میں

سنئیر سفارت کاروں کی نااہلی ڈپٹی وزیراعظم کا ایکشن او ایس ڈی بنا دیا جبکہ نالائق جعلی بلوچ ترجمان وزارت خارجہ اپنی بونگیا اور ملک دشمن سرگرمیاں جاری رکھے گی مکمل تفصیلات کے لیے بادبان نیوز کو فالو کریں
سنئیر سفارت کاروں کی نااہلی ڈپٹی وزیراعظم کا ایکشن او ایس ڈی بنا دیا جبکہ نالائق جعلی بلوچ ترجمان وزارت خارجہ اپنی بونگیا اور ملک دشمن سرگرمیاں جاری رکھے گی مکمل تفصیلات کے لیے بادبان نیوز کو فالو کریں

بالآخر امور خارجہ کی نااہلی اور منقسم وفاداری کا بھانڈا بیچ چوراہے کے پھوٹ ہی گیا۔ مسعود خان کی اتنی بڑی اور رسواکن وفاداری کا نتیجہ اگر یوں سامنے نہ آتا تو کیسے پتہ چلتا کہ پاکستان کن الجھنوں میں الجھا ہوا ہے ۔یہی مناسب وقت ہے کہ مسعود خان جیسے منقسم وفاداری کے حامل تنخواہ دار کو امریکہ سے گرفتار کر کے واپس پاکستان لایا جائے،اور حب الوطنی کے انصاف کے ترازو میں تولنے کا بندوست کیا جائے اسی طرح پاکستانی وزارت خارجہ کی بظاہر ترجمان اور حقیقتاً “بدگمان”مسز جعلی بلوچ کو بھی معطل کر کے امور خارجہ کی بدنامی کا خاتمہ کیا جائے۔عوام اتنے اہم اور حساس معاملات پر ملک کے ادارے کیوں خاموش ہیں ؟ وہ مملکت پاکستان کے خلاف اتنی بڑی سازش پر اپنا فوری ردعمل ظاہر کیوں نہیں کر رہے۔ سہیل رانا لائیو میں رات گیارہ بجے
بالآخر امور خارجہ کی نااہلی اور منقسم وفاداری کا بھانڈا بیچ چوراہے کے پھوٹ ہی گیا۔ مسعود خان کی اتنی بڑی اور رسواکن وفاداری کا نتیجہ اگر یوں سامنے نہ آتا تو کیسے پتہ چلتا کہ پاکستان کن الجھنوں میں الجھا ہوا ہے ۔یہی مناسب وقت ہے کہ مسعود خان جیسے منقسم وفاداری کے حامل تنخواہ دار کو امریکہ سے گرفتار کر کے واپس پاکستان لایا جائے،اور حب الوطنی کے انصاف کے ترازو میں تولنے کا بندوست کیا جائے اسی طرح پاکستانی وزارت خارجہ کی بظاہر ترجمان اور حقیقتاً “بدگمان”مسز جعلی بلوچ کو بھی معطل کر کے امور خارجہ کی بدنامی کا خاتمہ کیا جائے۔ عوام اتنے اہم اور حساس معاملات پر ملک کے ادارے کیوں خاموش ہیں ؟ وہ مملکت پاکستان کے خلاف اتنی بڑی سازش پر اپنا فوری ردعمل ظاہر کیوں نہیں کر رہے۔ سہیل رانا لائیو میں رات گیارہ بجے










