یہ کارگل جنگ کے دنوں کی بات ہے‘ مشاہد حسین سید‘ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات تھے‘ نواز شریف کی حکومت تھی‘ ان دنوں ایک امریکی اخبار میں مسلم لیگ(ہند) کی جانب سے روگ آرمی کے عنوان سے پورے صفحے کا ایک اشتہار شائع ہوا تھا‘ مارچ2000 امریکی صدر بل کلنٹن‘ جنوب ایشاء کے دورے پر آئے تو بھارت کے دورہ کے بعد ایک روزہ دورہ پر اسلام آباد پہنچے‘ ایوان صدر میں ان کی صدر رفیق تارڑ سے ملاقات ہوئی‘ بل کلنٹن نے جنرل پرویز مشرف سے باقاعدہ‘ باضابطہ ملاقات نہیں کی اور نہ فوٹو سیشن ہوا‘ ان دنوں ارشاد حسن خان‘ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے‘ امریکی صدر کی جسٹس ارشاد حسن خان سے نہائت مختصر ملاقات ہوئی جس کے بعد یہ بات پھیلی کہ مشرف حکومت کو صرف تین سال ملے ہیں اس کے بعد انتخابات ہوں گے‘10 اکتوبر2002 کو ملک میں چیف الیکشن کمشنر ارشاد حسن خان کی نگرانی میں انتخابات ہوئے‘ ان دنوں متعدد ”سچ“ اگلے جارہے ہیں‘ سچ یہی ہے کہ جنہیں کچھ علم نہیں نہ وہ اس وقت سین پر موجود تھے وہ سچ اگل رہے ہیں‘ بل کلنٹن کے دور کے موقع پر مشاہد حسین سید تو قید تھے باقی رہ گئی آج کی بات آج کی بات یہ ہے کہ ملک ریاض بہت جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے‘ اور انہیں قانون گرفتار کرکے پاکستان لائے گا‘ یہ کام ضرور ہوگا‘ یہ انہونی ہو کر رہے گی تفصیلات کے لئے بادبان سھیل رانا لاءیو










