All posts by admin
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کا سانحہ آرمی پبلک اسکول کے دس برس مکمل ہونے پر پیغامآج، جب کہ پاکستان کی تاریخ کے ایک ناقابل فراموش سانحے، ایک بہت بڑے نقصان کے دس سال مکمل ہو رہے ہیں
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کا سانحہ آرمی پبلک اسکول کے دس برس مکمل ہونے پر پیغامآج، جب کہ پاکستان کی تاریخ کے ایک ناقابل فراموش سانحے، ایک بہت بڑے نقصان کے دس سال مکمل ہو رہے ہیں، ہمارا دل غم زدہ اور خون کے آنسو روتا ہے. یہ ایک ایسا دل سوز واقعہ تھا جس کی یاد ایک دہائی سے ہمارے دلوں کو مضطرب کر رہی ہے. 16 دسمبر 2014 کو بزدل، بے رحم اور حیوانیت سے بھرپور دہشت گرد, آرمی پبلک سکول پشاور کے احاطے میں گھس کر تباہی و بربادی کرتے ہوئے 144 معصوم جانوں کو ہم سے ہمیشہ کیلئے جدا کر گئے. اس حیوانیت کا شکار ہوکر شہید ہونے والوں میں سے اکثریت کم سن بچوں کی تھی جو کہ بہت ہی کم عمری میں ہمیں غمگین کرکے دنیا سے چلے گئے۔ ان کی زندگی، ان کے خواب، ان کی امیدیں، ان کا مستقبل ان سے چھین لیا گیا۔ اس سانحے کو خواہ کتنا ہی وقت کیوں نہ گزر جائے، ان معصوم و کم سن بچوں کی جدائی کے صدمے کو مٹا نہیں سکتا. ان ننھی کونپلوں نے اس دن ناقابل برداشت ظلم و بربریت کا سامنا کیا اور جام شہادت نوش کیا. ان خاندانوں اور والدین جنہوں نے اپنے پیاروں کو اس بھیانک سانحے میں کھو دیا، جن کے لخت جگر ان سے چھین لئے گئے، کے غم اور تکلیف کو کسی طور بھی کم نہیں کیا جا سکتا ہے، قوم کو یاد رکھنا چاہیے کے فتنہ الخوارج اور ان جیسے دوسرے دہشت گرد ملک دشمن گروہوں کا نا دین سے کوئی تعلق ہے اور نا ہی کسی بھی معاشرتی اقدار سے – بیرونی ملک دشمن عناصر کی ایماء پر یہ بزدل معصوم پاکستانیوں کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے نشانہ بناتے ہیں – پوری قوم ان بزدل دہشت گردوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور انشاء اللہ کھڑی رہے گی مجھ سمیت پوری قوم ہمارے بچوں و اساتذہ کی بہادری کو سلام، انہیں خراج عقیدت، ان کے خاندانوں کی قربانیوں اور ہماری سیکورٹی فورسز کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جو آج بھی تمام ملک دشمن عناصر سے پوری ہمت اور جواں مردی سے نبرد آزما ہیں۔ آئیے آج ہم ایک پر امن اور محفوظ پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کریں، جہاں کسی معصوم کو دوبارہ اس ظلم و بربریت سے نقصان نہ پہنچے، کسی بھی بچے کو خوف کے عالم میں اسکول نہ جانا پڑے، اور ایسی کسی بھی ناانصافی کی کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ یہ ایک عہد ہے جو ہمیں مل کر کرنا ہے۔ یہ سب ہم پر اس سانحے کے متاثرین و شہداء کا قرض ہے کہ ہم سب اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی جانیں رائیگاں نہیں گئیں۔ ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔ ہم کبھی معاف نہیں کریں گے۔ پاکستان پائندہ باد!
او میرا پتر اگیا اب میں 100 فیصد صحت مند ھوں مائیں تو مائیں ہیں تفصیلات کے لئے بادبان نیوز نہ کھلنے سے صورت میں وی پی این کا استعمال کرے
خود کو اپنے والدین سے دور مت کریںہائی سٹریٹ ساہیوال پر موٹر سائیکل کو پنکچر لگواتے ہوئے میں فیصلہ کر چکا تھا کہ اس ہفتے بھی اپنے گھر واپس کبیروالا نہ ہی جاوں تو بہتر ہے ،دیر تو ویسے بھی ہوچکی تھی اورجہاں پچھلےتین ہفتے گزر گئے ہیں یہ بھی گزار ہی لوں تو گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک ہی بار چلا جاوں گا۔ اسی سوچ بچار میں روڈ پر کھڑے میں نے پندرہ سولہ سال کے ایک نوجواں کو اپنی طرف متوجہ پایا۔وہ عجیب سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھ رہا تھا،جیسے کوئی بات کرنا چاہ رہا ہو۔لیکن رش کی وجہ سے نہیں کر پا رہاتھا۔جب پنکچر لگ گیا تو میں نے دکاندار کو 100 روپے کا نوٹ دیا اس نے 20 روپے کاٹ کر باقی مجھے واپس کر دیے۔میں موٹر سائیکل پر سوار ہوکر جونہی واپس شہر کی طرف مڑنے لگاتو وہ لڑکا جلدی سے میرے پاس آکر کہنے لگا ” بھائی جان میں گھر سے مزدوری کرنے آیا تھا،آج دیہاڑی نہیں لگی آپ مجھے واپسی کا کرایہ 20 روپے دے دیں گے”میں نے ایک اچٹتی سی نگاہ اس پر ڈالی ،سادہ سا لباس،ماتھے پر تیل سے چپکے ہوئے بال ،پاوں میں سیمنٹ بھراجوتا۔مجھے وہ سچا لگا،میں نے 20 روپے نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دئیے ،وہ شکریہ ادا کر کے چلنےلگا تو نہ جانے میرے دل کیا خیال آیا ،میں نے کہا،سنو ،تمہیں دیہاڑی کتنی ملتی ہے،اس کے جواب دینےسے پہلے ہی میں نے باقی کے 60 روپے بھی اس کی طرف بڑھا دیے۔وہ ہچکچاتے ہوئے پیچھے ہٹا اور کہنے لگا”نہیں بھائی جان !میرا گھر منڈھالی شریف ہے،میں پیدل بھی جاسکتا تھا لیکن کل سےماں جی کی طبیعت ٹھیک نہیں ،اوپر سے دیہاڑی بھی نہیں لگی،سوچا آج جلدی جا کر ماں جی کی خدمت کر لوں گا”۔میں نے کہا اچھا یہ پیسے لے لو ماں جی کے لیے دوائی لے جانا۔وہ کہنے لگا” دوائی تو میں کل ہی لے گیا تھا۔آج میں سارا دن ماں جی کے پاس رہوں گا تو وہ خود ہی ٹھیک ہو جائیں گی،مائیں دوائی سے کہاں ٹھیک ہوتی ہیں بابوجی!” میں نے حیران ہو کرپوچھا ،تمہارا نام کیا ہے؟ اتنے میں اس کی بس بھی آگئی،وہ بس کے گیٹ میں لپک کر چڑھ گیا اور میری طرف مسکراتے ہوئے زور سے بولا”گلو” ۔گلو کی بس چل پڑی لیکن گلو کے واپس کیے ہوئے 60 روپے میری ہتھیلی پر پڑے ہوئے تھے اورمیں ہائی سٹریٹ کے رش میں خود کو یک دم بہت اکیلا محسوس کرنے لگا۔کچھ سوچ کر میں نے موٹرسائیکل کارخ ریلوے اسٹیشن کی طرف موڑ لیا۔موٹر سائیکل کو اسٹینڈ پر کھڑا کرکے ٹوکن لیا اور ٹکٹ گھر سے 50 روپے میں خانیوال کا ٹکٹ لے کر گاڑی کے انتظار میں بینچ پر بیٹھ گیا۔کب گاڑی آئی ،کیسے میں سوار ہوا کچھ خبر نہیں، خانیوال اسٹیشن پر اتر کے پھاٹک سے کبیروالا کی وین پر سوار ہوا،آخری بچے ہوئے10 روپے کرایہ دے کر جب شام ڈھلے اپنے گھر کے دروازے سے اندر داخل ہوا تو سامنے صحن میں چارپائی پر امی جان سر پر کپڑا باندھے نیم دارز تھیں۔میرا بڑا بھائی دوائی کا چمچ بھر کر انہیں پلا رہا تھا۔مجھے دیکھتے ہی امی جان اٹھ کر کھڑی ہوئیں اور اونچی آواز میں کہنے لگیں” او! میرا پترخیر سے گھر آگیا ہے! اب میں بالکل ٹھیک ہوں “۔ میں آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے دوڑ کر ان کے سینے سے جالگا۔ بس کے گیٹ میں کھڑے گلوکا مسکراتا ہوا چہرہ یک دم میری آنکھوں کے سامنے آگیا اور میں سمجھ گیا کہ اس نے مجھے 60روپے واپس کیوں کیےتھے۔چراغ لے کے کوئی ،راستے میں بیٹھا تھامجھے سفر میں جہاں رات ہونے والی تھی
کھربوں روپے کی کرپشن کرنے والے وفاقی وزیر مصدق ملک جو آذربائیجان سے معاھدے کرنے کے لیے سیکرٹری پٹرولیم اور ایڈیشنل سیکرٹری پٹرولیم پر دباو ڈال کر ایڈیشنل سیکرٹری کو گھر پھنچا چکے ہیں وزارت سے ھٹانے کا فیصلہ تفصیلات کے لئے بادبان میگزین کا تازہ شمارہ اپنے ھاکر سے 16 دسمبر کی شام کو حاصل کرے

ملک میں غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے برقرار۔ملک بھر میں ایک سال 22 ھزار ڈاکے مھنگای میں 100 فیصد اضافہ۔299 بھوک کیا وجہ سے خودکشیاں بجلی کے بلوں 200 فیصد اضافہ۔2 وزارتوں کے وزیروں کے علاوہ 99 فیصد وزیر کرپٹ۔یونان کے سمندری راستے پر 92 پاکستانیوں کی شہادتیں۔12 ھزار ارب روپے ایک سال میں پاکستان میں کرپشن۔افواج پاکستان کی 11سو شہادتیں۔تفصیلات جاننے کے بادبان نیوز
وزیر اعلی سندھ اور چیف سیکریٹری کے احکامات کھوہ کھاتےتھانہ ننکانہ صاحب کا ایس ایچ او اور شیخوپورہ کا ڈی پی او ڈکیتوں اور منی لانڈرز ارسلان اور مشتاق کے سھولت کار بن گئے کراچی یونیورسٹی کا چانسلر پنجاب پولیس کے ھاتھوں بے بس ای جی پنجاب نے دنوں ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا 8 رکنی چھوٹا گینگ سندھ پولیس کی حراست میں ایس ایچ او تھانہ ننکانہ کو بھی سخت کارروائی کا سامنا ڈی پی او شیخوپورہ کے خلاف بھی ایکشن کا فیصلہ



قومی حکومت کی تشکیل وزیر اعظم کون سھیل رانا لاءیو میں
گل احمد انرجی 136 میگاواٹکیپکو پاورپراجیکٹ 1638 میگاواٹلبرٹی پاور 200 میگاواٹاٹک پاور 165 میگاواٹکوہ نور انرجی131 میگاواٹ اور ٹپال انرجی 126 میگاواٹ ان چھ آئی پی پیز کے معاہدے منسوخ کیے جائیں گے
گل احمد انرجی 136 میگاواٹکیپکو پاورپراجیکٹ 1638 میگاواٹلبرٹی پاور 200 میگاواٹاٹک پاور 165 میگاواٹکوہ نور انرجی131 میگاواٹ اور ٹپال انرجی 126 میگاواٹ ان چھ آئی پی پیز کے معاہدے منسوخ کیے جائیں گے. ان معاہدوں سے مزید 300 ارب کی بچت ہوگی.نوٹ: حکومت 13 آئی پی پیز کے ساتھ پہلے بھی معاہدے منسوخ کر چکی ہے. ابتک کل 19 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے منسوخ ہو جائیں گے.
*بورڈ آف ریونیو پنجاب/ تقرروتبادلے**16 تحصیلداروں کے تقرروتبادلوں کے احکامات جاری، نوٹیفیکیشن
سیکورٹی فورسز کا دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن میں پچھلے 24 گھنٹے کی صورتحال*24 گھنٹوں میں 20 دہشتگرد ہلاک، 4 گرفتار ہوئے
*سیکورٹی فورسز کا دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن میں پچھلے 24 گھنٹے کی صورتحال*24 گھنٹوں میں 20 دہشتگرد ہلاک، 4 گرفتار ہوئے> کالعدم تحریک طالبان کے 7 دہشتگردوں کو ژوب، بلوچستان سے جہنم واصل کردیا گیا> بی ایل اے کے 3 دہشتگردوں کو پنجگور، بلوچستان سے جہنم واصل کردیا گیا> لکی مروت، خیبرپختونخوا سے 6 دہشتگردوں کو جہنم واصل کردیا گیا> 4 دہشتگردوں کو جانی خیل، بنوں خیبرپختونخوا سے جہنم واصل کردیا گیا> 4 افغان دہشتگردوں کو قلعہ عبداللہ، بلوچستان سے گرفتار کیا گیا۔









