تازہ تر ین

انڈیا کا اپنے عوام پر انتہائ بڑا ظلم 4 سالوں کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3روپے کا اضافہ کر دیا۔۔۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ چائینہ ناکام۔۔بیجنگ ۔۔۔ ٹرمپ اپنے ساتھ 15 سے 16 ورلڈ کمپنوں کے سی او بھی ساتھ لایا تھا۔ مگر وہ ناکام رہا،امریکی۔۔جام کمال کو اھم عھدے کی پیشکش۔۔امریکہ کا شکست خوردہ صدر۔۔پاکستانی سفیروں کی کہانی بیوروکریٹس کو تمغے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*بیجنگ۔۔۔ امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ چائنہ پر کسی بھی معاہدہ پر دسخط نہ ہوسکے،زرائع**بیجنگ ۔۔۔ امریکی صدر کا دورہ چائنہ بے سود رہا،میڈیا**بیجنگ ۔۔۔ ٹرمپ اپنے ساتھ 15 سے 16 ورلڈ کمپنوں کے سی او بھی ساتھ لایا تھا۔ مگر وہ ناکام رہا،امریکی میڈیا**بیجنگ۔۔۔ چائنہ آمد سے قبل کہاں جائے رہا تھا کہ اربوں ڈالر کے معاہدہ ہونگے۔امریکی میڈیا*

🚨پاکستانی کھلاڑیوں کی پوری دنیا میں چرچے🚨 ڈربی شائر فالکنز نے پاکستان کے فاسٹ بولر عاکف جاوید کے متبادل کے طور پر صفیان مقیم کو ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ کے لیے اسکواڈ میں شامل کر لیا ہے۔

چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن رٹائرڈ۔۔۔کون بنے گا نیا چیئرمین؟؟جناب محمد وسیم صاحب 4 سال چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن رہنے کے بعد آج باضابطہ طور پر رٹائرڈ ہوجائینگے۔۔۔نئے چیئرمین کے لیے بہت سارے نام زیرگردش ہیں، کچھ تو ممبر بھی ہیں کمیشن کے اور کچھ حال ہی میں گریڈ 21 اور 22 سے رٹائرڈ ہوئے ہیں یا ہونے والے ہیں ہیں۔۔سندھ پبلک سروس کمیشن جہاں ہر ہزاروں اہل امیدوار کئی سالوں سے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں تاکہ انہیں اپنی محنت کا پھل مل جائے تو ساری زندگی سکوں کے ساتھ خود بھی گزاریں اور ان کے اہل خانہ بھی معاشرے میں ایک مقام کے ساتھ رہیں۔۔۔غریب گھرانوں کے وہ بچے جن کا اوپر اللہ کے بعد زمین پر کوئی سہارا نہیں ہوتا ہے وہ اپنے جسم کو ،خواہشوں کو تکلیف سے گزارکر فیڈرل پبلک سروس کمیشن یا سندھ پبلک سروس کمیشن کے۔ امتحانات میں قسمت آزماتے ہیں بہت کا قسمت ساتھ دیتا ہے اور انہیں محنت کا پھل مل جاتا ہے جبکہ جو رہ جاتے ہیں وہ پھر دیگر بہت سارے امتحانات میں شرکت کرکے روزگار حاصل کرلیتے ہیں یا کچھ کاروبار کی طرف توجہ دیگر اپنی زندگی گزارتے ہیں۔۔پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں گذشتہ 20 سالوں سے بہت سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ اہل امیدواران فیل اور نالائق و نااہل پاس ہوگئے۔۔۔اس معاملے میں مزید زیادہ خرابی گذشتہ گذشتہ 15سالوں سے نظر آنے لگی ہے۔۔چیئرمین سمیت ممبران پر بڑے بڑے الزامات لگے ہیں۔۔۔نورمحمد جادمانی کے دور میں تو عدالتوں نے نتائج ہی روک دیے ۔پھر سندھ حکومت نے 22 گریڈ کے رٹائرڈ بیوروکریٹ محمد وسیم کو چیئرمین لگایا۔۔محمد وسیم صاحب بحیثیت ایک انسان ایک اچھی شخصیت کے مالک ہیں اس کے دور میں امیدواروں نے اور ان کے رشتیداروں نے بہت بڑے الزامات لگائے۔۔خیر وہ آج رٹائرڈ ہوجائینگے اب وہ اپنے رب اور ضمیر کے آگے جوابدہ ہیں کہ وہ کتنا بہتر کام کرسکے۔

۔۔ایک معاملہ جو میں اپنے دوستوں سے شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ چلو ہم بہت خوش ہوتے ہیں کہ غریبوں کے بچے اس امتحانات کے ذریعے اپنا کیریئر بناتے ہیں اور میرٹ ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے۔۔۔کیا آپ جانتے ہیں کہ ان غریبوں کے بچوں نے امتحانات پاس کرنے کے بعد دیگر غریبوں اور پڑوسیوں کا کتنا خیال رکھا ہے ؟ کتنے فیصد ایسے افسران ہونگے جنہوں نے اپنے ماضی کو بھلایا نہیں ہوگا اور اپنے ظرف اور ضمیر کے مطابق کام کیا ہوگا یا کررہے ہیں؟؟ سندھ میں جو کرپشن اور بربادی ہے جس میں حکمرانوں کو تو سب گالیاں دے رہے ہیں ان کے سہولت کار بن کر کروڑوں اور اربوں روپے کمانے والے ان افسران سے کوئی پوچھتا ہے کہ تم کل کیا تھے آج کہاں پہنچ گئے ؟؟؛ چلو آپ نے ترقی کرلی مختلف وجوہات کی بناء پر اس سے تمہارے محلے،شہر، صوبے اور ملک کو کیا فائدہ ہوا۔۔؟؟ اتنے بڑے بڑے امتحانات پاس کرکے۔ مختلف مشکلاتیں دیکھ کر جب سینیئر حیثیت پر پہنچے تو تم نے حکمران وقت کے کتنے ایسے کام تھے جو غلط تھے تم نے انکار کیا ہو ؟؟ جو غلط کام اپنے وزیروں،مشیروں اور آقاؤں کےے کہنے پر کیے پھر وہ کسی غریب کا کام کرتے وقت کیوں کہتے تھے کہ یہ غلط کام ہے نہیں ہوگا۔۔۔۔؟؟ غریب کو نہ کرنا بہت آسان لیکن حکمرانوں کو نہ کرتےکیوں زبانیں بند رہتی ہیں؟؟!! تم سے پہلے والے بھی فرشتے نہیں تھے ،غلطی یا غلطیاں وہ بھی کرتے تھے، تھوڑا بہت پیسا انہوں نے بھی کمایا لیکن تم نے کسی غریب کی خاطر،کسی مظلوم کی خاطر ، وطن کی خاطر ،اس کے مظلوم عوام کی خاطر کس معاملے پر انکار کیا جو اللہ کے آگے سرخرو ہوکر کہوگے کہ ہاں میں نے انکار بھی کیا تھا؟؟؟!! کوئی دوست مجھے بتاسکتا ہے کہ اس وقت پورے صوبے میں کتنے ڈی سی ،ایس پی،کمشنرز، ڈی آئی جیز، سیکریٹریز دیانتدار ہیں؟؟ ہوسکتا ہے کم دوست جانتے ہونگے۔۔مجھے پتا ہے کہ اس حال میں بھی کافی دیانتدار افسران موجود ہیں لیکن آپ کو اہم پوسٹنگز پر نظر نہیں ائینگے۔

۔۔یہ ایک لمبا چوڑا بحث ہے جو ہمارے باشعور افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے تعلق والے ان افسران سے ضرور پوچھیں کہ تم کل کیا تھے،آج کیا بن گئے ہو؟؟ تمہاری اس پوزیشن کا کتنے افراد اور اس دھرتی کو فائدہ پہنچا ہے۔۔۔؟؟ میں امید کرتا ہوں کہ ہمیں یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے۔۔۔سندھ حکومت کو نئے چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن کی تلاش ہے ۔۔اس تلاش میں کافی ناموں پر غور ہوا ہے اور کچھ پر نہیں ہوسکا ہے اگر سندھ حکومت اور خاص طور پر پیپلزپارٹی کی قیادت واقعی بھی اس ادارے کی ساکھ کو بحال کرنا چاہتی ہے تو اس ادارے میں بہت اچھی ساکھ والے بندے کو تعینات کردیں باقی وقت آنے پر سب کا پتا لگ جائے گا کہ کس نے اچھا کام کیا اور کس نے نہیں۔۔!! اس وقت کچھ پولیس افسران کے ناموں پر غور ہو رہا ہے جس میں غلام نبی میمن صاحب، ڈاکٹر امیر شیخ صاحب، اے ڈی خواجہ صاحب جبکہ سولین افسران میں پبلک سروس کمیشن کے ممبران رضوان احمد،صاحب غفران میمن صاحب، سمیت دیگر میں عثمان چاچڑ صاحب سابق چیف سیکریٹری کشمیر، ناہید شاہ درانی صاحبہ سابقہ فیڈرل سیکریٹری اور قائم علی شاہ کی بیٹی ،اقبال درانی صاحب سابق فیڈرل سیکریٹری کے ناموں سمیت کچھ اور نام بھی شامل ہیں۔۔

۔دیکھنا یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری صاحب جو آج کل سندھ حکومت کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں وہ کونسے معتبر نام کو چیئرمین لگوانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں پھر انہیں یہ کہتے ہیں کہ صرف 10 سے 15 فیصد سفارش کا ریشو رکھنا جیسے ماضی میں ہوتا رہا ہے باقی تمام کے تمام میرٹ رکھنا پھر دیکھو کہ کتنے حقداروں کو اپنے محنت کا صلہ مل جائے گا۔۔بعد میں ان افسران کے ظرف و ضمیر پر ہوگا کہ کس طرح اپنا حقجو آج کے صاحبان جبہ و دستار طاہر اشرفی مفتی عبدالرحیم اور جنرلوں کے ایک حکم پر پی ڈی ایم بنانے اور چلانے والوں کا کردار سمجھنا چاہیں وہ وطن عزیز کی تاریخ کے اس ورق کو ضرور پڑھیں #خانہ_بدوشجو جماعت اسلامی کو اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کا طعنہ دیتے ہیں اور اپنی پارٹی کو جمہوریت کا چیمپئن سمجھتے ہیں وہ بھی یہ تحریر پڑھیں ، امید ہے کہ کافی افاقہ ہو جائے گا : سندھ کےتمام جاگیردار گھرانے ایوب خان کےساتھ ھو گئے تھے۔جتوئی فیملی ،محمدخان جونیجو فیملی ،ٹھٹھہ کے شیرازی ،خان گڑھ کےمہرنواب شاہ کےسادات ،بھرچونڈی۔۔رانی پور‏ہالا👈کے اکثر پیران کرام، ایوب خان کے ساتھ تھےسوائے کراچی میں گہری جڑیں رکھنےوالی جماعت اسلامی ،اندرون سندھ کےجی ایم سید_ حیدرآباد کےتالپور برادران ،بدین کے فاضل راہو اور رسول بخش پلیجومس جناح کےحامی تھے ۔تاریخ کا جبر دیکھیں یہی لوگ بعد میں پاکستان کےغدار بھی ٹہراےُ گئے پنجاب کےتمام گدّی نشین اور صاحبزادگان و سجادہ نشین سوائےپیر مکھڈ۔

صفی الدینباقی سب ایوب خان کےساتھ ھو گئےتھےسیال شریف کےپیروں نےتو فاطمہ جناح کےخلاف فتوی بھی دیا تھا۔پیر آف دیول نےداتادربار پر مراقبہ کیا اور فرمایا کہ داتا صاحب نےحکم دیا ہےایوب خان کو کامیاب کیاجائے ‏ورنہ خدا پاکستان سےخفا ہوجائے گا۔آلو مہارشریف کےصاحبزادہ فیض الحسن نےعورت کےحاکم ہونے کےخلاف فتوی جاری کیامولانا عبدالحامد بدایونی صدر جمعیت علماء پاکستان نےفاطمہ جناح کی نامزدگی کو شریعت سےمذاق اورناجائز قرار دیامولانا حامدسعیدکاظمی کےوالد علامہ احمد سعید کاظمی نے ‏ایوب خان کو ملت اسلامیہ کی آبرو قرار دیایہ وہ لوگ تھے جو دین کےخادم ہیںلاھور کےمیاں معراج الدین نےفاطمہ جناح کےخلاف جلسہ منعقد کیاجس سےمرکزی خطاب عبدالغفار پاشا اور وزیر بنیادی جمہوریت نےخطاب کیامعراج الدین نے فاطمہ جناح پر اخلاقی بددیانتی کا الزام لگایا موصوف موجودہ بیمار‏وزیر صحت یاسمین راشد کےسسر تھے۔گجرانوالہ کےغلام دستگیر نے مس جناح کی تصویریں کتیا کےگلے میں ڈال کر پورے گجرانوالہ میں جلوس نکالےمیانوالی کی ضلع کونسل نےفاطمہ جناح کےخلاف قرار داد منظور کی۔مولانا غلام غوث ہزاروی سابق ناظم اعلی مجلس احرار اور مرکزی رہنماء جمعیت علمائےاسلام ‏نےکھل کر ایوب خان کی حمایت کا اعلان کیا اور دعا بھی کی۔پیر آف زکوڑی نےفاطمہ جناح کی نامزدگی کو اسلام سےمذاق قرار دیکر عوامی لیگ سے استعفی دیا۔اور ایوب کی حمایت کا اعلان کیادوسری طرف جماعت اسلامیکےامیر مولانا سید ابوالاعلی مودودی کا ایک جملہ زبان زد عام ہوگیاایوب خان میں ‏اسکے سوا کوئی خوبی نہیں کہ وہ مرد ہیں

اورفاطمہ جناح میں اسکے سوا کوئی کمی نہیں کہ وہ عورت ہیں۔بلوچستان میں مری سرداروں اور جعفر جمالی ظفر اللہ جمالی کے والد صاحب کوچھوڑ کرسب فاطمہ جناح کےخلاف تھےقاضی محمد عیسی جسٹس فائز عیسی کےوالد مسلم لیگ کا بڑا نام ‏بھی فاطمہ جناح کےمخالف اور ایوب خان کےحامی تھےانہوں نےکوئٹہ میں ایوب خان کی مہم چلائیحسن محمود نےپنجاب اور سندھ کے۔روحانی خانوادوں کو ایوب کی حمایت پرراضی کیاپورا مشرقی پاکستان غدار ٹہرا کہ وہ سب مس جناح کےساتھ تھےخطۂ پوٹھوہار کے۔تمام بڑے گھرانے اور سیاسی لوگ ایوب خان کےساتھ تھے‏برئگیڈئر سلطان والد چودھری نثار، ملک اکرم دادا امین اسلم، ملکان کھنڈا۔کوٹ فتح خان۔پنڈی گھیب۔تلہ گنگ۔ایوب کےساتھ تھے اسکی وجہ یہاں کے سب لوگ فوج سے وابستہ تھے سوائےچودھری امیر۔اور ملک نواب خان کے جن کو الیکشن کےدو دن بعد قتل کردیا گیا۔شیخ مسعود صادق نےایوب خان کی لئےوکلاء‏کی حمایت کا سلسلہ شروع کیا کئی لوگوں نےانکی حمایت کی ،پنڈی سے راجہ ظفرالحق بھی ان میں شامل تھے

اسکے علاوہ میاں اشرف گلزار بھی فاطمہ جناح کےمخالفین میں شامل تھےصدارتی الیکشن۔1965 کے دوران گورنر امیر محمد خان صرف چند لوگوں سے پریشان تھےان میں سرفہرست سید ابوالاعلی مودودی،‏شوکت حیات ،خواجہ صفدر والد خواجہ آصفچودھری احسن والد اعتزازاحسن، خواجہ رفیق والد سعدرفیق، کرنل عابد امام والد عابدہ حسین اور علی احمد تالپور شامل تھے یہ لوگ آخری وقت تک فاطمہ جناح کےساتھ رہےصدارتی الکشن کےدوران فاصمہ جناح پر پاکسان توڑنےکا الزام بھی لگایہ الزام ZA-سلہری نے ‏اپنی ایک رپورٹ میں لگایا جسمیں مس جناح کی بھارتی سفیر سےملاقات کا حوالہ ديا گیا تھایہ بیان کہ قائداعظم تقسیم کےخلاف تھے یہ وہی تقسیم تھی جسکا پھل کھانےکیلئےآج سب اکٹھےہوئے تھےیہ اخبار ہرجلسےمیں لہرایا گیا ۔ایوب اسکو لہرا لہرا کر مس جناح کوغدار کہتے رہےپاکستان کا مطلب کیا‏لاالہ الااللّہجیسی نظم لکھنے والے اصغرسودائی ایوب خان کے قصیدے اور ترانے لکھتے تھےاوکاڑہ کےایک شاعر ظفراقبال نےچاپلوسی کےریکارڈ توڑ ڈالے

یہ وہی ظفراقبال ہیں جو بعد میں اپنےکالموں میں سیاسی راہنماؤں کا مذاق اڑاتے رہے۔سرورانبالوی و دیگر کئی شعراء اسی کام میں مصروف تھےدوسری طرف حبیب جالب، ‏ابراھیم جلیس میاں بشیر فاطمہ جناح کےجلسوں کے شاعر تھے۔ جالب نے ان جلسوں سے اپنے کلام میں شہرت حاصل کیمیانوالی جلسے کے دوران جب گورنر امیرخان کےغنڈوں نےفائرنگ کی توفاطمہ جناح ڈٹ کر کھڑی ہوگئیںاسی حملےکی یادگار*بچوں پہ چلی گولی۔**ماں دیکھ کے یہ بولی* نظم ہےفیض صاحب خاموش حمائتی تھے‏چاغی۔لورالائی،سبی ،ژوب، مالاکنڈ،باجوڑ، دیر،سوات، سیدو، خیرپور، نوشکی،دالبندین، ڈیرہ بگٹی، ہرنائی، مستونگ، چمن، سبزباغ، سے فاطمہ جناح کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔سارا اردو اسپیکنگ طبقہ جو جماعت اسلامی کی طاقت تھا فاطمہ جناح کی حمایت کرتا رہاانکو کراچی سے 1046 ایوب خان کو837 ووٹ ملے‏مشرقی پاکستان مس جناح کےساتھ تھافاطمہ جناح کو ڈھاکہ سے353 اور ایوب خان کو 199ووٹ ملےجسکی سزا اسٹیبلشمنٹ نےیہ دی کہ انہیں دو نمبر شہری اور پاکستان سےالگ ہونےپر مجبور کردیاگیا ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایوب خان اور مس فاطمہ کے ووٹ برابر تھےمس جناح کےایجنٹ ایم حمزہ تھے اور اے-سی جاویدقریشی جو بعد میں چیف سیکرٹری بنے‏مس جناح کوکم ووٹوں سےشکست اکیلی عورتفوج ،بیوروکریٹ، پیروں، وڈیروں، جاگیر داروں سےمقابلہ کر رہی تھی جہلم سے ایوب کے82 اور مس جناح کے67 ووٹ تھےاس الیکشن میں جہلم کےچودھری الطاف فاطمہ جناح کےحمائتی تھے مگر نواب کالاباغ کے دھمکانےکے بعد پیچھے ہٹ گئے یہاں تک کہ جہلم کےنتیجے پر دستخط کیلئے‏مس جناح کےپولنگ ایجنٹ گجرات سے آئےاسطرح کی دھونس اور دھاندلی عام رہیاس الیکشن میں مس فاطمہ جناح نہیں ہاری بلکہ جمہوریت ہار گئی_ پاکستان ہار گیا۔۔۔۔جو محبِ وطن اور جان نثار تھے غدّار ٹہرے اور اسمبلیوں اور ایوانوں سے ان کا خاتمہ ہو گیا۔

ابن الوقت اور چاپلوسی کرنے والے معتبر ٹہرے اور آج بھی اسمبلیوں میں انہی ‏کی اولادیں موجود ہیںاس کے بعد پاکستان کی عوام نےکوئی نیا لیڈر پیدا نہیں کیا*حوالےکیلئے دیکھئےڈکٹیٹرکون۔۔ایس-ایم-ظفرمیرا سیاسی سفر۔۔حسن محمودفاطمہ جناح۔۔ابراھیم جلیسمادرملت۔۔ظفرانصاری۔فاطمہ جناح۔۔حیات وخدمات۔۔وکیل انجماور کئی پرانی اخبارات👈پڑھیں اور جانیں اپنا ماضی۔۔۔

سپریم کورٹ کے دو سابق ججوں کی معافی تلافی کی درخواست ، غلطیوں کا اعتراف ،ندامت اور شرمندگی کا اظہار ۔ائین میں استعفی کے بعد واپسی کی گنجائش نہیں ہے ۔ کم عمر لڑکی سے شادی کریں ،قومی خزانہ کو مزید کئی سال بیوہ کی پنشن کے زریعےلوٹیں ۔ متعلقہ لوگوں کا مشورہ ۔

کابل: 2 دسمبر 2022 کی شام افـغـانـستـان کے دارالحکومت کابـل میں پاکستانی سفارتخانے پر ہونے والے دہـشـت گـرد حـمـلے کے دوران پاک فوج کے ایس ایس جی کمانڈو سپاہی اسرار محمد نے اپنی جـان خطرے میں ڈال کر پاکستانی ناظم الامور کی جان بچا لی۔ پاکستانی ناظم الامور سفارتخانے کے احاطے میں چہل قدمی کر رہے تھے کہ اچانک قریبی بلند عمارت سے دہـشـت گـردوں نے اسنائپر رائفل سے فائرنگ شروع کر دی۔ حـملے کا اصل نشانہ پاکستانی ناظم الامور تھے، تاہم موقع پر موجود ایس ایس جی کمانڈو سپاہی اسرار محمد فوراً ان کی حفاظت کے لیے ڈھال بن گئے۔ دہشـت گـرد وں کی جانب سے 100 سے زائد فائر کیے گئے، لیکن سپاہی اسرار محمد نے غیر معمولی جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناظم الامور کو مسلسل اپنی حفاظت میں رکھا اور انہیں دھکیلتے ہوئے محفوظ مقام تک منتقل کیا۔اس دوران سپاہی اسرار محمد کو دو گولیاں لگیں، جن میں ایک سینے جبکہ دوسری گھٹنے پر لگی، مگر شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی پوزیشن نہیں چھوڑی۔ بعد ازاں دیگر سکیورٹی اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کو قابو میں لیا گیا۔زخمی سپاہی اسرار محمد کو ابتدائی طبی امداد کے لیے کابل کے ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا،

جہاں سے بعد ازاں پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے انہیں سی ایم ایچ پشاور منتقل کر دیا گیا۔سپاہی اسرار محمد کی بے مثال بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر بھرپور سراہا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی غیر معمولی قربانی اور شجاعت کے اعتراف میں انہیں “ستارۂ بسالت” سے نوازا۔سپاہی اسرار محمد جیسے بہادر جوان ہی پاکستان کا حقیقی فخر ہیں، جو وطن اور قوم کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

امریکہ کا شکست خوردہ صدر اسی منہ کے ساتھ چین جا پہنچا ہے ، جس کے ساتھ اس نے ایک صیہونی انتہا پسند نیتن یاہو کے بہکاوے اور خفیہ ڈراوے میں آ کر ایران پر حملہ کر دیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ منہ اصولی طور پر اب کسی کو بھی دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی منہ کے ساتھ اپنی ایڑی سے لے کر پینٹاگان کی چوٹی تک زور لگا کر ایران پر بلا وجہ شدید ترین ہوائی حملے کئے تھے

۔ ٹرمپ نے اسی منہ کے ساتھ ایران کی سیاسی و عسکری قیادت کو “رجیم چینج ” نامی مردود جہاں ڈاکٹرائن پر عمل کرتے ہوئے جنگ کے آغاز ہی میں تاک تاک کر ہلاک کر دیا تھا۔اور اب ڈونلڈ ٹرمپ اسی مایوس اور شکست خوردہ منہ کے ساتھ چین کے متحمل مزاج ،سنجیدہ ، کم گو اور زیرک لیڈروں کے سامنے پیش ہو رہا ہے۔میں نہیں جانتا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کون سا پرفیوم یا کس عرب شیخ کا عطیہ کردہ عطر استعمال کرتا ہے ۔ہاں یہ اندازہ ضرور ہے کہ،اس کے اپنے لباس سے میراب کے اسکول میں امریکی میزائل حملوں میں جان گنوانے والی ننھی طالبات کے لہو کی مہک ضرور آ رہی ہو گی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved