چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 18 سے 22 مئی تک آذربائیجان کا دورہ کریں گے

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 18 سے 22 مئی تک آذربائیجان کا دورہ کریں گے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ دورہ آذربائیجان میں ایس سی او اجلاس میں شرکت کریں گے، جسٹس منیب اختر قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھائیں گے، قائم مقام چیف جسٹس کی حلف برداری کی تقریب 18 مئی کو ہوگی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایس سی او اجلاس میں شرکت کیلئے آذربائیجان ہوں گے، سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ بھی بیرون ملک کے دورے پر ہیں۔

40 ھزار افراد کی لسٹ تیار جس کو مودی تیسری بار وزیراعظم بننے کے بعد قتل کرے گا تفصیلات بادبان سھیل رانا لاءیو میں

*مودی کی جانب سے مسلمان مخالف انتہا پسندی تیزی پکڑنے لگی، وال سٹریٹ جنرل*بھارت میں اقلیتوں پر پہلے سے جاری ظلم و ستم انتہا پسند مودی سرکار کے آنے کے بعد اب بربریت کی شکل اختیار کر چکا ہےمودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت سیکولر ریاست ہونے کا مقام کھو چکا ہےمودی سرکار دنیا میں سیکولرزم کا پرچار کرتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں کوئی بھی اقلیتیں بالخصوص مسلمان محفوظ نہیں ہیںبھارت میں الیکشن سے قبل ہی مودی سرکار مسلم مخالف نظریے کو تیزی سے پھیلا رہی ہےمودی سرکار نے اقتدار کی ہوس میں بھارت کے مسلمانوں کو درانداز قرار دیا، وال سٹریٹ جرنل انتہا پسند بی جے پی نے مسلمانوں کے خلاف بھارت میں ایک نیا پروپگنڈا شروع کر دیا کہ مسلمان بھارت میں انتہا پسندی اور مسلم سوچ کو فروغ دے رہے ہیںمودی سرکار کی سوشل میڈیا گروہ کی جانب سے مسلمانوں کو دہشتگردوں کے طور پر دکھایا گیا ہے، وال سٹریٹ جرنل بی جے پی جماعت کی جانب سے ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر ویڈیو میں اپوزیشن رہنمائوں اور مسلمان کو نشانہ بنایا کیا جس میں مسلمانوں کی ٹوپیوں کا بھی مذاق اڑایا گیا، وال سٹریٹ جرنل اپوزیشن جماعتوں نے متعدد بار مودی کے زیر اثر الیکشن کمیشن کو مودی تنگ نظر بیانیہ اور مسلم مخالف بیانات پر مطلع کیا جبکہ مودی سرکار کی جانب سے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی بھی وضاحت سامنے نہیں آئیاپوزیشن نے واضح کیا کہ مودی سرکار ہارنے کے ڈر سے ہندوؤں کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے مسلمانوں کیخلاف زہر اُگل رہی ہےانتخابات میں 19 اپریل کو ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں کم ٹرن آؤٹ نے بھی مودی کی جماعت ہار کے ڈر سے پریشان ہےبھارت میں ہندو تشخص کو برقرار رکھنے اور ہندو مذہب کے نام پر ووٹ لینے پر بی جے پی تیسری بار الیکشن جیتنے کے خواب دیکھ رہی ہے21 اپریل کو راجستھان میں تقریر کے دوران مودی سرکار نے مسلمانوں اور اپوزیشن پارٹی کانگریس کو نشانہ بنایاہندوستانی مسلم کمیونٹی کے رہنما ظفر الاسلام خان نے کہا کہ؛بی جے پی اگر تیسری بار الیکشن جیت گئی تو بھارت کے 200 ملین مسلمان کہا جائیں گے؟مودی کی انتخابی مہم میں مسلمانوں پر تیزی سے تنقید اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی ہندو ووٹروں کو متحرک کرنے کی سازش کر رہی ہے، تجزیہ کار سنجے کمار بی جے پی نے مسلمانوں کی صدیوں پرانی مسجد کو مسمار کر کے رام مندر بنا کر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا، وال سٹریٹ جرنل اپوزیشن جماعت نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی انتہا پسند پالیسیوں کے باعث مسلمان، سکھ، عیسائی اور تمام اقلیتیں بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، بی بی سیمودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت مذہبی آزادی شدید تنزلی کا شکار ہوا ہے، سربراہ امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادیانسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی بھارت کو اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک قرار دیا ہےانتہا پسند مودی سرکار اپنی سیاست چمکانے کے لئے مسلمانوں کے خلاف کھلم کھلا غنڈہ گردی اور دہشتگردی میں ملوث ہےحالیہ الیکشن میں مودی سرکار کی ممکنہ جیت سے بھارت میں ہندوتوا کو مزید فروغ ملے گا

افغانستان میں ISKP جیسی دہشتگرد تنظیمں مزید مضبوط

*افغانستان میں ISKP جیسی دہشتگرد تنظیمں مزید مضبوط*پاکستان کئی دہائیوں سے دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑتا آرہا ہے اور پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں سب سے بڑا کردار افغان طالبان نے ادا کیا ہے سال 2021 میں طالبان کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد سے پورے خطے بلخصوص پاکستان میں دہشتگردی میں نمایاں اضافہ ہوا عالمی سطح پر تحقیقات سے ثابت ہوا کہ طالبان رجیم خطے میں دہشتگردی پھیلانے اور دہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی میں ملوث ہے افغانستان کی سرزمین پر ISKP جیسی دہشتگرد تنظیمیں ہر گزرتے دن کے ساتھ پوری دنیا کیلئے بڑا خطرہ بنتی جارہی ہیں ۔ ISKP نے افغانستان کو بھی اپنے مذموم مقاصد کا نشانہ بنانا شروع کردیا ہے سال2021 تا 2023 کے دوران افغانستان میں ISKP کے دہشتگرد حملوں کے نتیجے میں 700 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں سال2023میں افغانستان میں دہشتگردی کے نتیجے میں 120 سے زائد ہلاکتیں رونما ہوئیں سال2024 میں افغانستان میں دہشتگرد حملوں میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے 6 جنوری کو کابل کے ہزارہ اکثریتی علاقے دشت برچی میں ایک بس پر بم دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے21 مارچ 2024 کو قندھار بینک کے باہر خود کش دھماکے سے 21 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوئے 20 اپریل 2024 کو ایک بس میں بم دھماکے کی نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 10 زخمی ہوئے30 اپریل 2024 کو ایک دہشتگرد نے صوبہ ہرات کے ضلع گوزارہ میں ایک مسجد پر حملہ آور ہوکر 6 افراد کو ہلاک کردیا 8 مئی 2024 کو بدخشاں میں بم دھماکے کے نتیجے میں 3 طالبان ہلاک اور 6 زخمی ہوئے گزشتہ تین برسوں میں افغانستان میں ہونے والے تمام دہشتگرد حملوں کی ذمہ داری ISKP نے قبول کی بدخشاں حملے کے بعد طالبان رجیم نے افغانستان میں ISKP کی موجودگی کو مکمل مسترد کیا اور دعویٰ کیا کہ افغان سرزمین پر کوئی دہشتگرد تنظیم موجود نہیں ۔ ISKP بذات خود اس بات کا دعوی کرچکی ہے کہ وہ افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک میں دہشتگردی کی ذمہ دار ہیں طالبان رجیم انتہائی کمزور ہوچکی ہے اور افغانستان کو تباہی کی دہانے پر دھکیل چکی ہے

مری میں نکر قطبال کے قریب سیاحوں کی گاڑی کھائی میں گر گئی، جس سے 7 افراد زخمی ہوگئے۔

مری میں نکر قطبال کے قریب سیاحوں کی گاڑی کھائی میں گر گئی، جس سے 7 افراد زخمی ہوگئے۔

ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے میں زخمی ہونے والوں میں 2 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں 2 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں ٹی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ حادثے کے شکار خاندان کا تعلق سندھ سے ہے۔

آزاد کشمیر میں مہنگی بجلی اور ٹیکسز کے خلاف عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک پرتشدد رخ اختیار کرگئی۔

میرپور میں عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین نے مہنگی بجلی اور ٹیکسز کے خلاف احتجاج کیا، اس دوران مظاہرین اور پولیس میں تصادم ہوگیا۔ جس کے دوران فائرنگ سے اے ایس آئی عدنان قریشی جاں بحق ہوگیا۔

ادھر کوٹلی میں مظاہرین اور پولیس کی جھڑپوں میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

مظاہرین نے متعدد گاڑیاں توڑ دیں جبکہ پولیس نے مظاہرین پر شیلنگ کی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق پونچھ کوٹلی شاہراہ پر مظاہرین نے مجسٹریٹ کی گاڑی کو آگ لگادی ہے۔

دوسری طرف آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں بھی پولیس اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین آمنے سامنے آگئے۔

آزاد کشمیر میں بازار، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند ہیں، عوامی ایکشن کمیٹی کا لانگ مارچ کل مظفر آباد پہنچے گا، جہاں انتظامیہ نے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا۔

صدر نے قومی اسمبلی کا اجلاس 13 مئی 2024 بروز پیر سہ پہر 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا ہے۔

صدر مملکت نے اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 کی شق (1) کے تحت تفویض شدہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے طلب کیا ہے۔

قومی اسمبلی کا موجودہ اجلاس 16ویں قومی اسمبلی کا پانچواں اجلاس ہو گا۔پاکستان کو پینالٹی شوٹ آؤٹ پر شکست دے کر جاپان نے پہلی بار سلطان اذلان شاہ ہاکی کپ جیت لیا۔

ملائیشیا کے شہر ایپوہ میں کھیلا گیا میچ مقررہ وقت تک 2-2 سے برابر رہا، جس کے بعد پینالٹی شوٹ آؤٹ پر جاپانی ٹیم نے 1-4 سے کامیابی سمیٹی۔

فائنل مقابلے کے پہلے کوارٹر میں جاپان نے پاکستان کے خلاف پہلا گول اسکور کیا۔

جاپانی کھلاڑی تاناکا سیرن نے میچ کے 12ویں منٹ میں گیند کو جال میں پہنچا کر اپنی ٹیم کو سبقت دلائی اور پہلے کوارٹر کے اختتام تک یہی اسکور رہا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان دوسرے کوارٹر میں کڑا مقابلہ دیکھنے میں آیا جہاں دونوں ٹیموں نے ایک دوسرے پر حملوں کی کوشش کی لیکن گول کرنے میں ناکام رہے۔

تیسرے کوارٹر کے آغاز میں پاکستان نے میچ میں پہلا گول کردیا۔ احمد اعجاز نے میچ کے 34ویں منٹ میں فیلڈ گول کرکے اسکور 1-1 کیا۔

اس کے تین منٹ بعد ہی 37ویں منٹ میں عبدالرحمان نے فیلڈ گول کے ذریعے گیند کو گول پوسٹ میں پہنچا کر ٹیم کو 1-2 کی برتر دلادی اور اسی اسکور پر تیسرے کوارٹر کا اختتام ہوا۔

چوتھے کوارٹر کے آغاز میں جاپان نے پاکستانی سبقت ختم کرتے ہوئے میچ 2-2 سے برابر کردیا۔ جاپان کی جانب سے دوسرا گول کازو ماسما نے 47ویں منٹ میں اسکور کیا۔ پاکستان اور جاپان کی ٹیمیں لیگ میچز میں ناقابلِ شکست رہتے ہوئے فائنل تک پہنچی۔

قومی ٹیم نے 5 میچز میں سے 3 میں کامیابی سمیٹی جبکہ دو برابر رہے۔ دوسری جانب جاپان کی ٹیم اتنے ہی میچز میں سے 4 میچز جیتے جبکہ پاکستان کے خلاف اسکا میچ ڈرا ہوا تھا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن پہنچ گئے۔

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی 14 مئی کو پاکستان واپسی ہوگی۔ وہ آئرش کرکٹ بورڈ کے حکام اور آئرش حکومت کے عہدیداران سے ملیں گے۔

محسن نقوی پاکستان کرکٹ ٹیم کی منیجمنٹ اور کھلاڑیوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈبلن میں پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں میزبان آئرلینڈ نے مہمان پاکستان کو پانچ وکٹ سے شکست دی تھی۔مقبوضہ مغربی کنارے میں فرائض کی ادائیگی کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والی صحافی شیریں ابو عاقلہ کی آج دوسری برسی منائی جارہی ہے۔

صحافتی اور انسانی تنظیموں کا کہنا ہے شیریں ابو عاقلہ قتل کی آزادانہ تحقیقات اور احتساب نہ ہونے سے اسرائیلی فوج کو غزہ میں کُھلی چھوٹ ملی اور اسرائیل نے غزہ جنگ کو صحافیوں کے لیے جدید تاریخ کی سب سے ہلاکت خیز جنگ بنا دیا، اسرائیلی فوج غزہ میں سات ماہ کے دوران 142 صحافیوں کو شہید کرچکی ہے۔

امریکہ کی شہریت رکھنے والی الجزیرہ نیٹ ورک کی صحافی شیریں ابو عاقلہ کو 11 مئی 2022 کو جنین میں اسرائیلی چھاپے کی کوریج کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے اسنائپر نے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔

اسرائیل نے شیریں ابو عاقلہ کے قتل کا فلسطینی مزاحمتی گروپوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تاہم عالمی میڈیا کی رپورٹوں کے بعد اسرائیل نے تسلیم کر لیا کہ شیریں ابو عاقلہ کا قتل اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے ہوا لیکن اپنے فوجیوں کے خلاف کسی بھی مجرمانہ تحقیقات سے انکار کردیا۔حکومت پاکستان نے ملکی ثقافت اور سیاحت پر فلم بنانے والی ہولی وڈ پروڈیوسرز کی ٹیم کو مکمل معاونت اور تعاون کی یقین دہانی کرادی۔

پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کے مطابق پاکستانی ثقافت اور سیاحت پر فلم بنانے کے خواہاں ہولی وڈ پروڈیوسرز کی ٹیم نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔

اس دوران ہولی وڈ پروڈیوسرز کی ٹیم نے وزیر اطلاعات کو بتایا کہ ان کی ٹیم پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور سیاحت پر فلم بنانے کی خواہاں ہیں، جس پر وزیر اطلاعات نے خوشی کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے ہولی وڈ پروڈیوسرز کی ٹیم کو حکومت کی جانب سے مکمل تعاون اور معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

عطا تارڑ نے ملاقات کے دوران ہولی وڈ پروڈیوسرز کو حکومت پاکستان کی جانب سے سینما انڈسٹری کی بحالی اور فلم پروڈکشن کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے فلم سازوں کی ٹیم کو بتایا کہ حکومت پاکستان نے گزشتہ مالی سال میں ایک ارب روپے کی لاگت سے فلم فنانس فنڈ قائم کیا تھا جب کہ فلم پروڈکشن کو پانچ سال تک ٹیکس فری قرار دیا تھا۔

عطا تارڑ نے ہولی وڈ پروڈیوسرز کو بتایا کہ حکومت پاکستان نے فنکاروں کے لیے میڈیکل انشورنس سمیت دیگر پروگرامات شروع کر رکھے ہیں جب کہ ملکی سیاحت اور ثقافت کے فروغ کے لیے عالمی فلم سازوں کو سہولت اور تعاون فراہم کرنے کے اقدامات بھی کیے جا چکے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے ہولی وڈ فلم سازوں کی جانب سے پاکستانی تاریخ، ثقافت اور سیاحت پر فلم بنانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملکی سیاحت بڑھے گی۔پنجاب حکومت نے آئندہ برس گندم نہ خریدنے کا فیصلہ کرلیا اور صوبے میں گندم کی خریداری سے متعلق نئی پالیسی بھی تشکیل دی جائے گی۔پنجاب حکومت نے گندم کی خریداری کے معاملے پر میدان میں آتے ہوئے نئی پالیسی تشکیل دینے کا منصوبہ بنالیا۔

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے آئندہ برس گندم نہ خریدنے کا فیصلہ کرتے ہوئے صوبائی محکمہ خوراک نے کسانوں کی ایک لاکھ 19 ہزار درخواستیں واپس کردیں۔

ذرائع نے بتایا کہ کسانوں سے گندم خریداری کا معاملہ پرائیویٹ سیکٹر پر چھوڑ دیا جائے گا کیونکہ پنجاب حکومت کے پاس ایک سال کی گندم کا اسٹاک موجود ہے اور ایک اندازے کے مطابق 22 لاکھ 70ہزار ٹن گندم خزانے میں موجود ہے۔

اس سلسلے میں دعویٰ کیا گیا ہے پنجاب کے 95فیصد کسان اپنی گندم مڈل مین کو فروخت کر چکے ہیں اور کسان کا نام لے کر مڈل مین شور مچا رہے ہیں۔

ادھر وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے دعویٰ کیا کہ گندم کی خریداری کا ہدف پورا کریں گے اور واضح کیا کہ باردانہ کی فراہمی کیلئے آن لائن درخواستوں کی وصولی کا سلسلہ جاری ہے۔

دوسری جانب کسان بورڈ پاکستان نے 16مئی کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے دفتر کے گھیراؤ کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے طاقت کا استعمال کیا تو حالات کی خرابی کی ذمہ دار وہ خود ہو گی۔

خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ سال ملک میں خوراک کی قلت پیدا ہو گی کیونکہ اس سال پیدا ہونے والے بحران کے بعد اگر کسان گندم کاشت ہی نہیں کریں گے تو گندم کہاں سے آئے گئی۔ملک کے ماہرین امراض پیٹ و جگر نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس بی اور سی کے امراض میں مبتلا ہیں اور شناختی کارڈ بنوانے اور تجدید کروانے سے پہلے ہیپاٹائٹس بی اور سی کی اسکریننگ کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان جی آئی لیور ڈیزیزز سوسائٹی کے زیر اہتمام چھٹی سالانہ دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے حوالے سے آگاہی بیدار کرنے سمیت اسکریننگ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

کانفرنس میں پاکستان جی آئی لیور ڈیزیزز سوسائٹی کی صدر ڈاکٹر لبنیٰ کمانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ شناختی کارڈ بنوانے سے پہلے ہیپاٹائٹس بی اور سی کا ٹیسٹ اور قومی شناختی کارڈ میں اندراج کو لازمی قرار دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پیدائش کے 24 گھنٹوں کے اندر بچے کی ہیپاٹائٹس بی کی ویکسینیشن کو برتھ سرٹیفکیٹ کے لیے لازمی قرار دیا جائے کیونکہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی کی پیدائش کے وقت ویکسینیشن کی شرح صرف 3فیصد ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس وقت ہیپاٹائٹس بی اور سی کے پھیلاؤ میں چین کے بعد دوسرے نمبر پر ہے اور عالمی ادارہ صحت کے رہنما اصولوں کے مطابق 2030 سے پہلے ہیپاٹائٹس بی اور سی کا خاتمہ ضروری ہے لیکن اس وقت ہمیں اس بات کا علم ہی نہیں کہ پاکستان میں کتنے ہیپاٹائٹس کے مریض ہیں، جب ہمیں علم ہی نہیں ہوگا تو ہم علاج کے لیے کیا حکمت عملی اپنائیں گے؟۔

ڈاکٹر لبنیٰ کمانی نے ملک میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تشخیص کے لیے تجویز پیش کی کہ جب بچے کی عمر 18 سال ہو تو اس بات پر زور دیا جائے کہ وہ شناختی کارڈ بنوانے سے پہلے ہیپاٹائٹس بی اور سی کا ٹیسٹ ضرور کرائیں اور اس وقت اس کا اندراج ضرور کیا جائے تاکہ ہمیں پتا چلے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کی شرح کتنی ہے، اسی طرح ہیپاٹائٹس کا خاتمہ ممکن ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین پیدائش کے 24 گھنٹوں کے اندر لازمی قرار دی جائے اور اس کے بغیر برتھ سرٹیفکیٹ کا اجرا ہی نہ کیا جائے کیونکہ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسینیشن سے ہی اس مرض سے بچا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کے لیے پیدائش کے وقت ویکسینیشن کی شرح تین فیصد ہے جو انتہائی کم ہے، بہت سے ممالک اس ویکسین کے بغیر برتھ سرٹیفکیٹ کا اجرا نہیں کرتے اور ہمیں بھی یہی کرنا چاہے۔

بچوں کو ویکسین نہ لگنے کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے پاکستان جی آئی لیور ڈیزیزز سوسائٹی کی صدر نے کہا کہ ہمارے ہاں ویکسین نہ لگنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ بہت سے بچوں کی پیدائش گھر پر ہوتی ہے اس لیے مائیں بچوں کو ویکسین نہیں لگاتیں، اس کے لیے ہمیں مڈوائفز کو تربیت دینی چاہیے۔

پاکستان جی آئی لیور ڈیزیز سوسائٹی کے پیٹرن ان چیف ڈاکٹر شاہد احمد نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہیپاٹائٹس بی اور سی کے پھیلاؤ میں پہلے یا پھر دوسرے نمبر پر ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس کی شرح 11 یا 12 فیصد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ڈاکٹروں کے بجائے اتائیوں سے علاج، سنیاسی بابوں کے پاس جانا ہے، ہمارے ہاں غیر ضروری انجکشن کا رجحان بھی بہت زیادہ ہے جبکہ غیر محفوظ اوزاروں سے بال کٹوانا، کان چھدوانا اور غیر محفوظ خون کی منتقلی بھی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔

انہوں نے ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے مصر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مصر نے اپنی تمام بالغ آبادی کی ہیپاٹائٹس سی کی اسکریننگ کے لیے 6ہزار ٹیسٹنگ سینٹرز اور آٹھ ہزار موبائل ٹیمز تشکیل دیں اور ٹیسٹنگ اور علاج کی سہولتیں مفت فراہم کرنے کی بدولت پورے ملک سے ہیپاٹائٹس سی کا خاتمہ ہو گیا۔

ڈاکٹر شاہد احمد نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی ایک قابل علاج مرض ہے جبکہ ہیپاٹائٹس بی کو بھی ادویات کے ذریعے مکمل طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر دیگر ماہرین امراض نے کہا کہ پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس بی اور سی کے امراض میں مبتلا ہیں اور سالانہ لاکھوں لوگ وائرل ہیپاٹائٹس کی پیچیدگیوں بشمول جگر کے کینسر کے نتیجے میں جاں بحق ہو رہے ہیں۔

کانفرنس سے پاکستان سمیت مشرق وسطیٰ، مشرق بعید، یورپ اور امریکا کے نامور ماہرین امراض پیٹ اور جگر نے خطاب کیا۔حکومت مخالف جماعتوں کے اتحاد کے اہم اجلاس میں آئین کی بحالی کے لیے ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ کرنے کے علاوہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی اور پنجاب کے شہر فیصل آباد میں جلسوں کے انعقاد کے لیے انتظامیہ کے رویے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور حکومت مخالف 6 جماعتوں کے اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے صدر محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اسلام آباد میں اہم اجلاس ہوا، اجلاس میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری عمر ایوب خان اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اسد قیصر شریک ہوئے۔اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل) کے راہنما ساجد ترین اور ثنااللہ بلوچ بھی موجود تھے۔

اجلاس میں مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے اسد شیرازی اور ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین یوسفزئی بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی، اپوزیشن اتحاد نے آئین کی بحالی کے لیے ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ کیا اور تحریک کو آگے بڑھانے اور حقیقی آزادی کے حصول کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا۔

22 افسران کو گریڈ 22 میں ترقی دینے کا فیصلہ ای ایس پی ار میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں پاکستان میں سالانہ 2000ارب روپے پاکستانی عوام گداگروں میں بانٹتی 18 ھزار ارب روپے کی کرپشن ایک ھزار ارب روپے کی ماہانہ سرکاری افسران غیر قانونی فوائد حاصل کرتے ھے سب کچھ جاننے کے لئے بادبان میگزین کا تازہ شمارہ اپنے ھاکر سے طلب کرے

پینشنرز کی پینشن بند ریٹائرڈ پینشنرز کی پینشن پر 20 فیصد ٹیکس لگانے ای ایم ایف۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف )نے پاکستان سے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن پر ٹیکس لگانے کا نیا مطالبہ کر دیا، پاکستان مجموعی قومی پیداوار کے نصف فیصد (0.5%) مزید محصولات جمع کرے جس کا مجموعی حجم 600 ارب روپے بنتا ہے اور یہ ٹیکس تنخواہ دار اور کاروباری طبقے سے وصول کیا جائے گا۔آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان پر زیادہ زور اس بات پر دیا جارہا ہے کہ وہ ایف بی آر کی جانب سے محصولات میں اضافے پر توجہ دے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف کا یہ بھی کہنا ہے کہ متعدد پنشن سکیمیں جن پر ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے اسے واپس لیا جائے۔آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کے درمیان آج (جمعہ) سے مذاکرات کا آغاز ہوگا جن میں 2مختلف بیل آﺅٹ پیکیج پر بات چیت ہوگی۔آئی ایم ایف پاکستان کے مشن کے سربراہ آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گے۔پاکستان دو مختلف قرض کا حصول چاہتا ہے جن میں سے ایک بنیادی ڈھانچے کی اصلاحات کیلئے ہوگا جبکہ دوسرا قرض موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے میں استعمال ہوگا۔آئی ایم ایف کا یہ 24 واں پروگرام ہوگا پاکستان کیلئے جسے اب تک کا سب سے مشکل ترین قرض پروگرام کہا جارہا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پنشن لینے والے افراد پر ٹیکس کا نفاذ ان بہت سی تجاویز میں شامل ہے جو ادارہ چاہتا ہے کہ آنے والے بجٹ میں شامل کی جائے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا بھی کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے نئے قرض کے حجم اور اس کی مدت کے بارے میں ابھی حتمی معاملات طے نہیں ہوئے ہیں تاہم جلد ہی اسے حتمی شکل دے دی جائے گی۔آئی ایم ایف کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے اگر حکومت ریٹائرڈ افراد کی پنشن پر ٹیکس عائد کرتی ہے اور دیگر مراعات کا خاتمہ کرتی ہے تو اس سے سالانہ 22 سے 25 ارب روپے اضافی حاصل ہوں گے۔