Monthly Archives: August 2024
یوٹیلیٹی سٹورز کے ساتھ کرکٹ بورڈ کو بھی ختم کر کے اربوں کی بچت کی جاے بادبان ٹی وی الرٹ۔مشرق وسطی میں تنازعہ ائیر ویز نے ایرانی سعودی عرب اسرائیل کی فضائی حدود چھوڑ دینیپرا کی حرامزدگیاں جاری۔۔۔۔نادرا میں اربوں روپے کی کرپشن کرنے والے شکنجے مے ذمہ دار طارق ملک ملک سے فرار۔۔بلوچستان حملے میں ملوث 7 اھم دھشت گرد سھولت کار گرفتار کر لئے گئے۔۔سیاسی جماعتوں کے 2 دھشت گرد بھی گرفتار کر لئے گئے۔۔صحافیوں کو کرکٹ میچ کی کوریج سے روک دیا گیا محسن نقوی کا انوکھا فیصلہ۔۔سولنگی کاکڑ سنجرانی کی گرفتاری 4 ھزار ارب روپے کی کرپشن۔۔6 اھم ترین جرنیلوں کے تبادلے بڑے فیصلے آج ھونگے۔۔قومی اسمبلی اجلاس وزرا ء غائب عوام کو ایک ارب کا ٹیکہ۔۔مصدق ملک جھوٹ بولنے میں وزراء کی دوڑ میں پھلے نمبر پر۔تفصیلات کے لیے پاکستان کا سب سے زیادہ مستند ادارہ بادبان نیوز
ایک ریاست میں سب سے مقدم اس کے شہری ہوتے ہیں۔یاد رکھیئے کہ شہری ریاست بدل سکتا ہے ،لیکن ایک ریاست اپنے شہری تبدیل نہیں کر سکتی۔دھشت گرد ایک ایس ایچ او کی مار ھے وزیر داخلہ محسن نقوی بھڑکیں مارنے کی بجائے عملی اقدام اٹھائے
بادبان کے28 سال جرائت‘ بے باکی اور قلم کی حرمت کے اس سفر میں بادبان نے جس مشکلات کا سامنا کیا‘ ہر مشکل میں ہماری صدا یہی رہی کہ کہ تم تیر آزماؤ ہم جگر آزمائیں ہمارا سینہ چھلنی چھلنی ہوا مگر ہم نے اپنا قلم چھلنی نہیں ہونے دیا ہمارے ہاتھ کاٹنے کی کوشش کی گئی مگر ہم نے حق و صداقت کا علم نیچے نہیں گرنے دیا ہمارے قدم روکے کی کوشش کی گئی مگر ہم نے اپنا سفر جاری رکھا آج بھی یہی عہد ہے تمہارے تیر ختم ہوجائیں گے ہمارا سینہ اللہ کے کرم اور فضل سے پورے قد کے ساتھ کھڑا رہے گا ہم اپنے ذہن سے لکھتے ہیں اور ہمارا قلم روشنائی پھیلاتا ہے ہمارا دعوی ہے کہ بادبان پڑھیے آپ اندھیروں سے روشنی میں آجائیں گے اور اجالا آپ کا ہم سفر ہوگا ہم پاکستان کے خادم ہیں اور عوام کی آواز ہیں ہمارا قلم پاکستان کے لیے‘ مسلح افواج کے لیے‘ عوام کے لیے اور اس ملک کے دھقان کے لیے ہے ہر ظالم کا راستہ روکیں گے اور مظلوم کا ساتھ دیں گے
بادبان کے28 سال جرائت‘ بے باکی اور قلم کی حرمت کے اس سفر میں بادبان نے جس مشکلات کا سامنا کیا‘ ہر مشکل میں ہماری صدا یہی رہی کہ کہ تم تیر آزماؤ ہم جگر آزمائیں ہمارا سینہ چھلنی چھلنی ہوا مگر ہم نے اپنا قلم چھلنی نہیں ہونے دیا ہمارے ہاتھ کاٹنے کی کوشش کی گئی مگر ہم نے حق و صداقت کا علم نیچے نہیں گرنے دیا ہمارے قدم روکے کی کوشش کی گئی مگر ہم نے اپنا سفر جاری رکھا آج بھی یہی عہد ہے تمہارے تیر ختم ہوجائیں گے ہمارا سینہ اللہ کے کرم اور فضل سے پورے قد کے ساتھ کھڑا رہے گا ہم اپنے ذہن سے لکھتے ہیں اور ہمارا قلم روشنائی پھیلاتا ہے ہمارا دعوی ہے کہ بادبان پڑھیے آپ اندھیروں سے روشنی میں آجائیں گے اور اجالا آپ کا ہم سفر ہوگا ہم پاکستان کے خادم ہیں اور عوام کی آواز ہیں ہمارا قلم پاکستان کے لیے‘ مسلح افواج کے لیے‘ عوام کے لیے اور اس ملک کے دھقان کے لیے ہے ہر ظالم کا راستہ روکیں گے اور مظلوم کا ساتھ دیں گے
مولانا فضل الرھمان ایک بار پھر قیمت لگوانے میں کامیاب 1993 میں اصف زرداری 1997 نواز شریف 2002 پرویز مشرف 2008 اصف زرداری 2013 نوآز شریف 2018 مریم نواز جوھدری شجاعت حسین 2022 شھباز شریف اصف زرداری مریم نواز شریف اور اب بلی ایک بار پھر تھیلے سے باھر تفصیلات کے لئے کلک کرے
بالآخر بلی تھیلے سے باہر ا گئی ۔۔۔۔ جمیعت علمائے اسلام کے ممبر قومی اسمبلی نور عالم آئینی پیکج لیکر میدان میں نکل ائے


۔۔جبکہ حکومت نے بدنامی اور ناکامی کے خوف سے بچنےکے لیے خود براہ راست آئینی پیکج لانے کی بجائے نور او دانیال چوہدری کے ذریعے مختلف بلز کے ذریعے سپریم کورٹ اور مستقبل کے چیف جسٹس کو کنٹرول کرنے کے لیے جو حکمت عملی اختیار کی ہے
وہ جلد ناکام ہو جائے گی کیونکہ آئینی تراجم کے لیے حکومت کے پاس مطلوبہ تعداد نہی ہے اور غالباً فیض حمید کی گرفتاری کے بعد بھی عدلیہ اور ججز کو قابو کرنے کا فارمولا ہاتھ نہ ا سکا۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت نے عدلیہ پہ وار کے لیے نور عالم خان اور دانیال چوہدری کے ذریعے اہم آئینی تراجم کے بل اج کے قومی اسمبلی اجلاس میں غور کے لیے پیش کرا دئیے ہیں۔قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مخصوص نشستوں کے حوالے سے بھی آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم کی جا رہی ہے جسکے تحت مخصوص نشستوں کی موجودہ قومی اسمبلی اور کے پی کے اسمبلی میں پی ٹی آئی کو فراہمی روکی جا سکے اور سپریم کورٹ کا 12 جولائی کا فیصلہ بے وقعت ہو جائے جبکہ آئین کے آرٹیکل 59 میں ترمیم کے ذریعے کے پی کے اسمبلی سینٹ کی تاحال خالی نشستوں کی بنیاد پہ دو تہائی اکثریت کی تعداد جو 96 کے ایوان میں 64 بنتی ہے چاہے ایوان کے ممبران کی تعداد پوری نہ ہو سے کم کر کے 85 ممبران سینٹ کی بنیاد پہ 57 کی جا سکے اور کے پی کے سے ایوان بالا کی 11 خالی نشستوں سے قانون سازی اور آئینی ترامیم پہ تیکنیکی اعتراض نہ اٹھ سکے۔وفاقی حکومت نے جسٹس منصور علی شاہ کو مستقبل میں چیف جسٹس بننے سے روکنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 177 میں ترمیم کے زریعے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے اور ججز کی تقرری بالخصوص اس آرٹیکل سے آئین کے آرٹیکل 175-A حزف کرانے کی کوشش کی جائے گی کیونکہ صدر مملکت آئین کے آرٹیکل 175-Aکے تحت سپریم کورٹ کے سنیئر ترین جج جو چیف جسٹس مقرر کرنے کے پابند ہیں اور یہ پابندی آرٹیکل 177 سے حذف کرا کر جسٹس منصور علی شاہ کا راستہ روکنے کی کوشش ہے (جو سو فیصد ناکام ہونے کی امید ہے ) اسی لیے یہ اہم ترمیم پرائیویٹ بل کی صورت میں لائی جا رہی ہے ۔۔اور اگر چیف جسٹس منصور علی شاہ چیف جسٹس بن گئے تو بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے آرٹیکل 184 میں بھی ترمیم کر کے از خود نوٹس کے معاملے میں چیف جسٹس کو مزید پابندی عائد کی جائیں گے ۔۔۔ہائیکورٹ کے ججز کی تقرری کے ضمن میں آرٹیکل 193 اور ماتحت عدالتوں پہ ہائیکورٹ کی نگرانی کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 203 میں بھی ترمیم کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں سرکاری ملازمین کی تقرری کے سپریم کورٹ اور متعلقہ ہائیکورٹ کے اختیارات جو آئین کے آرٹیکل 208 میں درج ہیں میں بھی ترمیم کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ اعلی عدلیہ میں حکومت من پسند افراد کا بطور رجسٹرار ، ایڈیشنل رجسٹرار اور دیگر عہدوں پہ تقرر کر سکے۔اسی طرح توہین عدالت قانون میں ترمیم کی کوشش بھی کی جا رہی ہے تاکہ سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فیصلے پہ عملدرآمد نہ کرنے پہ چیف الیکشن کمشنر سلطان سکندر راجا اور الیکشن کمیشن کے خلاف ممکنہ توہین عدالت کاروائی سے انھیں بچایا جا سکے۔۔۔جبکہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کا قانون میں ترمیم کا بل بھی پیش کیا گیا ہے تاکہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھا کر کسی نئے لارجر بینچ کی کہانی بنا کر پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کے فیصلے کو بلڈوزر کیا جا سکے ۔الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہونے اور لاہور ہائیکورٹ میں اس پہ سماعت اور اٹارنی جنرل کو 30 اگست کے لیے نوٹس کے بعد اس ترمیم کے کالعدم قرار پانے کے واضح امکانات کے بعد وفاقی حکومت نے نور عالم خان اور دانیال چوہدری کے ذریعے آئین و قانون میں ترمیم کرنے کا پتا کھیلا ہے اگر کامیاب ہو گئے تو موجودہ سپریم کورٹ کے ججز کو کاؤنٹر کر لیا جائے گا اور اگر ناکام ہو گئے تو کھسیانی بلی بن کر کہہ دیں گے یہ تو حکومتی اور ن لیگ پارٹی پالیسی نہیں تھی اسی لیے پرائیویٹ بل کی صورت میں آیا اور ہم نے ملک کے وسیع تر مفاد میں انتشار سے بچنے کی پالیسی اپنائی ہےمیرا ذاتی تجزیہ ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اور انکے ہمراہی دیگر 7 ججز نے جس تحمل بردباری اور اعصاب پہ قابو رکھ کر 47 دن گزار دئیے ہیں اور کوئی ری ایکشن یا اوور ری ایکشن نہیں دیا ہے اس نے ہی سٹیبلشمنٹ م، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور حکومت کے لیے شدید ذہنی دباؤ ڈالا ہے اسی ذہنی دباؤ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے عمران خان کے زیر التواء 190 ملین پاؤنڈ کیس میں ریمارکس دلوا دئیے اور پھر ان ریمارکس پہ علیمہ خان کی متفرق درخواست بھی لینے سے روک دی۔بہرحال طے ہے کہ اس عمل سے حکومت کامیاب تو نہیں ہو گی مگر عدلیہ کو منفی پیغام چلا گیا یاد رکھو منصور علی شاہ ایک بہترین معتدل مزاج جج ہیں ممکن ہے آپ جسے لانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ آپکے لیے ایک اور حافظ نہ بن جائے سید اشتیاق مصطفی بخاری ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
وزراء کی غیر موجودگی قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ تک ملتوی 87 کروڑ کا عوام کو چونا منگل بدھ جمعرات کے ارکان اسمبلی ٹی اے ڈی اے وصول کرینگے تفصیلات بادبان ٹی وی پر
قومی اسمبلی کا اجلاس کورم کی نذرہو گیا، اپوزیشن رکن اورنگزیب کھچی کی جانب سے کورم کی نشاندہی پر حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام رہی جس کے بعد اجلاس جمعہ تک ملتوی کردیا گیا۔قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا، تلاوت کلام پاک، نعت رسولﷺ مقبول اور قومی ترانے کے بعد اجلاس کی کارروائی کا آغاز ہوا۔اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرنا تھا تاہم وزیر برائے آبی وسائل کی غیرموجودگی پر نوید قمر نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا، نوید قمر نے ایوان میں وزراء کی غیرحاضری پر توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ممبران بروقت پہنچ جاتے ہیں تو وزیر بھی جوابات دینے کے لیے ہونے چاہئیں، توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دینے کے لیے کوئی وزیر نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اجلاس کا آغاز ساڑھے 11 بجے صبح ہونا تھا تو وزراء کی بھی ڈیوٹی ہے کہ ساڑھے 11 بجے ایوان میں پہنچ کر جواب دینے کے لیے تیار ہوں، اگر حکومت ہمیں سنجیدہ نہیں لے گی تو دنیا کیسے ہمیں سنجیدہ لے گی؟اس موقع پر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم نذیر تارڑ نے نوید قمرکے مؤقف کی تائید کرتے کہا کہ آج کابینہ اجلاس شیڈول تھا، قومی اسمبلی اجلاس کے باعث وفاقی کابینہ اجلاس ری شیڈول کیا گیا پھر بھی وزراء ایوان میں نہیں آئے انہیں یہاں ہونا چاہیے تھا، ہمارے کہنے پر کابینہ اجلاس 10 بجے رکھا گیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رکن اورنگزیب کھچی نے نکتہ اعتراض پر بات کرنے کا موقع نہ ملنے پر کورم کی نشاندہی کردی جس کے بعد اپوزیشن ایوان سے باہر چلی گئی۔گنتی مکمل کرانے پر کورم پورا نہ نکلا جس کے بعد ڈپٹی سپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح 10:30 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
پاکستانی تاریخ کے 2 ایماندار ترین سپیکر سردار ایاز صادق اور چوھدری امیر حسین تفصیلات ویڈیو میں
کرنل صاحب نے یونٹ کی وزٹ کے دوران صوبیدار میجر صاحب کو لے کر میس کا وزٹ کیا اور پوچھا “کہ اج میس میں کیا پکا ہے۔۔۔؟؟
کرنل صاحب نے یونٹ کی وزٹ کے دوران صوبیدار میجر صاحب کو لے کر میس کا وزٹ کیا اور پوچھا “کہ اج میس میں کیا پکا ہے۔۔۔؟؟صوبیدار میجر صاحب بولے۔”سر آج کریلے پکے ہیں”کرنل صاحب” بولے وااہ اج بہت اچھی سبزی پکی ہے “مجھے بہت پسند ہے “????صوبیدار میجر صاحب کہنے لگے “سر مجھے بھی بہت پسند ہے جس دن یہ سبزی پکے میں صرف کریلے ہی کھاتا ہوں ساتھ روٹی نہیں کھاتا”کرنل صاحب گھر گۓ تو وہاں بھی کریلے پکے تھےالغرض کرنل صاحب کو دو دن لگاتار کریلے کھانے پڑے تو چڑ گۓ۔اگلے وزٹ پر جب کرنل صاحب میس گۓ تو پوچھا کیا پکایا ہے تو صوبیدار میجر صاحب جوش سے بولے سر کریلے پکے ہیں۔کرنل صاحب کو غصہ آگیا کہنے لگے یہ واہیات سبزی آج پھر پکاٸی ہوٸی ہے صوبیدار میجر صاحب بولے “سر الله سمجھاۓ ان میس والوں کو مجھے زرا بھی اچھی نہیں لگتی”کرنل صاحب حیران ہوکر بولے”صاحب اس دن تو اپ کہہ رہے تھے مجھے بہت اچھے لگتے ہیں”تو صوبیدار میجر صاحب نے کس کر سلیوٹ کیا اور بولے”سر ہم نے نوکری آپ کے ساتھ کرنی ہے کریلوں کے ساتھ نہیں”????????????#LahuukiRoshni #airforcewala #pakarmydefenders #martyrs #148PMA #Pakistan #pakistanifashion #PunjabPolice
پاکستان میں مستند اور سچی خبروں کا واحد ادارہ بادبان نیوز بادبان میگزین سھیل رانا کی زیر ادارت اج 28 سال مکمل کر چکا بادبان کے اشتہارات کی بندش کو 2 سال مکمل یاد رھے عمران خان نے بھی 2 سال ادارے کے اشتہارات بند رکھے اس کے سھولت کار اج جیلوں میں ھے اور موجودہ سھولت کار اور بند کرنے والے جیل جانے کے لیے تیار رھے









