وزیراعظم۔۔۔ملاقات وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی ملاقات

اہم ترین وزیراعظم۔۔۔ملاقات وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی ملاقات اسلام آباد۔5مئی وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تاریخی، گہرے برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، پہلگام واقعہ کے بعد ہندوستان کے اشتعال انگیز رویے کے نتیجے میں جنوبی ایشیاء میں موجودہ کشیدگی پر پاکستان کو شدید تشویش ہے۔پیر کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔وزیراعظم نے ایران کے شہر بندر عباس میں ہونے والے المناک دھماکے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے پر ایرانی وزیر خارجہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ۔ انہوں نے اپنے پیاروں کو کھونے والوں کے لئے دعا کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے بھی دعا کی۔وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر مسعود پیزشکیان کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تاریخی، گہرے برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔صدر پیزشکیان کے ساتھ اپنی متعدد ملاقاتوں اور حالیہ ٹیلی فون کال کو یاد کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان ایران دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور تجارت، توانائی، سرحدی انتظام اور علاقائی رابطوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر اعظم نے پہلگام واقعہ کے بعد سے ہندوستان کے اشتعال انگیز رویے کے نتیجے میں جنوبی ایشیاء میں موجودہ کشیدگی پر پاکستان کی شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کو واقعہ سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کو واضح طور پر مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پیشکش کی ہے کہ پہلگام واقعہ کے پس پردہ حقائق کا پتہ لگانے کے لئے بین الاقوامی شفاف، غیر جانبدار اور معتبر تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تمام صورتحال میں پاکستان نے انتہائی ذمہ داری سے کام لیا ہے جبکہ دوسری طرف بھارت نے جموں و کشمیر کے تنازعہ سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے جو کہ جنوبی ایشیاء میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا اور اسے آبی جارحیت کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے کیونکہ پانی پاکستانی عوام کے لئے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم نے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لئے ایران کے ساتھ مل کر کام کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیر خارجہ عراقچی نے ایرانی قیادت کی طرف سے وزیراعظم کو تہنیتی پیغام پہنچایا اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے اور جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے ایران کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے صدر پیزشکیان کی طرف سے وزیراعظم کو اس سال کے دوران ایران کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت کا بھی اعادہ کیا۔

قومی اسمبلی کی ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں قومی اسمبلی کے 16 ویں اجلاس کے ایجنڈے اور دورانیے پر تبادلہ خیال کیا گیا

قومی اسمبلی کی ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں قومی اسمبلی کے 16 ویں اجلاس کے ایجنڈے اور دورانیے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کمیٹی اجلاس میں قومی اسمبلی کے موجودہ اجلاس کو 16 مئی 2025 تک جاری رکھنے کا فیصلہ۔

قومی اسمبلی کے رواں اجلاس میں پہلگام واقعہ کے بعد پیدا ہونے والی حالیہ پاک-بھارت گشیدہ صورتحال پر بحث کی جائے گی۔اجلاس میں پہلگام واقعہ پر بھارت کی جانب سے جھوٹے الزامات کی مذمت کی گئی۔کمیٹی اجلاس میں بھارت کے جھوٹے پروپگنڈے کو دنیا کے سامنے نقاب کرنے کیلئے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔اجلاس میں پاک-بھارت کشیدہ صورتحال پر متفقہ قرارداد لانے پر اتفاق کیا۔اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں نے بھارت کے جھوٹے بیانیے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے پر اتفاق کیا۔

کمیٹی اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ ، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڈ،طارق فضل چوہدری، خالد حسین مگسی اور ممبران قومی اسمبلی، محترمہ شہلا رضا،اعجاز حسین جاکھرانی، ملک عامر ڈوگر، عجاز الحق، نور عالم خان، طلال چوہدری، سید امین الحق، محترمہ شازیہ عطاء مری، محترمہ زرتاج گل اور پولین بلوچ، گل اصغر خان، ریاض فتیانہ نے شرکت کی۔

*صوبائی صدر داؤد شاہ کاکڑ خوفناک حادثے کا شکار ہو کر شدید زخمی۔ *یمن کے وزیراعظم احمد عوض بن مبارک عہدے سے مستعفی۔بحریہ ٹاؤن Escorts انویسٹمنٹ بنک نے خرید لیا۔3 بڑے نھی بھت بڑوں کی بیٹھک۔اج قومی اسمبلی کا ھنگامہ خیز اجلاس سیکورٹی ھای الرٹ۔ریڈ زون سیل فون پر گفتگو نھی ھو سکے گی۔جارحیت کی گئ تو بھارت ھمارے میزائل کی زد میں ہے۔۔چار ٹیموں نے پی ایس کے فائنل میں جگہ بنا لی۔بابر اور رضوان دنوں کی ٹیمیں اوٹ نھی ناک اوٹ ان کیمرہ اجلاس بھارت کی تمام غلط فہمیاں ختم کر دی ہے۔ ۔دنیا کو باور کرا دیا ھے بھارت کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ھے تارڈ احمد شریف

‏جب سرحدوں پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، قوم عدم تحفظ اور مہنگائی کے طوفان میں گھری ہوئی ہے،ایسے نازک وقت میں حکومت نے اتوار کے روز صدارتی آرڈیننس کے ذریعے وزراء کی تنخواہوں میں 140 فیصد اضافہ کر کے ثابت کر دیا کہ انہیں صرف اپنی جیبوں کی فکر ہے، نہ عوام کی، نہ ملک

عمران خان نہ رہا ہونے کو تیار ہیں اور نہ ہمارے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں اب آپ بتائیں ہم انکا کیا کریں رانا ثناء اللہ کا اینکر کے سوال پر جواب۔ 90 کلومیٹر سے لے کر 110 کلومیٹر تک کی رفتار کا طوفان۔*پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بریفنگ دنیے کا فیصلہ۔۔*صوبائی صدر داؤد شاہ کاکڑ خوفناک حادثے کا شکار ہو کر شدید زخمی۔*یمن کے وزیراعظم احمد عوض بن مبارک عہدے سے مستعفی۔۔امریکہ نے سعودی عرب کے لیئے 3.5 ارب ڈالرز کے عوض ایک ہزار ایمریم 120 سی 8 میزائلوں کی فروخت کی منظوری دے دی۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پہلگام فالس فلیگ/ الجزیرہ کی چشم کشا رپورٹ*الجزیرہ کی رپورٹ نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور بی جے پی کے ڈرامے کا پول کھول دیابی جے پی کی کشمیر پالیسی آمرانہ ہے، *الجزیرہ*گودی میڈیا کے ذریعے انتہاپسند قوم پرستی کا پرچار کیا جارہا ہے

**پہلگام فالس فلیگ/ الجزیرہ کی چشم کشا رپورٹ*الجزیرہ کی رپورٹ نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور بی جے پی کے ڈرامے کا پول کھول دیابی جے پی کی کشمیر پالیسی آمرانہ ہے، *الجزیرہ*گودی میڈیا کے ذریعے انتہاپسند قوم پرستی کا پرچار کیا جارہا ہے، *الجزیرہ*1500 سے زائد بے گناہ افراد بغیر ثبوت کے حراست میں، ہزاروں مکانات بغیر تحقیقات کے منہدم، *الجزیرہ*ظلم و جبر سے مسئلہ حل نہیں ہو رہا، بحران مزید سنگین ہو رہا ہے، *الجزیرہ*بی جے پی کا آبادیاتی ایجنڈا کشمیر کی شناخت کے لیے خطرہ بن چکا ہے، *الجزیرہ*انٹیلیجنس کی ناکامیوں پر پردہ ڈال کر جنگی جنون کو ہوا دی جا رہی ہےبی جے پی حکومت نے کشمیر میں انسانی حقوق کو بری طرح پامال کیانئے سیکیورٹی اقدامات کشمیری عوام کو خوفزدہ کرنے کا ذریعہ بن گئے، *الجزیرہ*میڈیا پر سنسرشپ، زمینی حقائق کو چھپانے کی منظم کوشش جاری، *الجزیرہ*سیاسی مخالفین اور کارکنان کو نشانہ بنانا معمول بن چکا ہےجمہوریت کے نام پر ریاستی جبر، عالمی برادری کی خاموشی تشویشناک

پروفیسر ساجد میر اللہ کے حضور پیش ہوگئے انا للہ وانا الیہ راجعون (نوٹ: یہ لیاقت بلوچ صاحب کیساتھ میر صاحب کی عیادت کے لیے جانے والے سالار صاحب کی تحریر ہے)اس کمرے میں انرجی سیور بلب روشن ہے،پورے کمرے میں ایک ہی بلب ہے۔اس کے ساتھ دیوار پر پرانے طرز کا پنکھا لگا ہوا ہے۔ دیوار کے ساتھ اولڈ اسٹائل کی لکڑی کی الماریاں ہیں جن بیش قیمت تحائف اور برتنوں کی بجائے کتابیں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ سادہ سی میز پر بھی کتب بکھڑی ہوئی ہیں۔ اسٹیل کی پرانی الماری اور اس کے اوپر کچھ سامان ہے۔ کمرے کا فرش پرانے چپس کا ہے۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پروفیسر ساجد میر اللہ کے حضور پیش ہوگئے انا للہ وانا الیہ راجعون (نوٹ: یہ لیاقت بلوچ صاحب کیساتھ میر صاحب کی عیادت کے لیے جانے والے سالار صاحب کی تحریر ہے)اس کمرے میں انرجی سیور بلب روشن ہے،پورے کمرے میں ایک ہی بلب ہے۔اس کے ساتھ دیوار پر پرانے طرز کا پنکھا لگا ہوا ہے۔ دیوار کے ساتھ اولڈ اسٹائل کی لکڑی کی الماریاں ہیں جن بیش قیمت تحائف اور برتنوں کی بجائے کتابیں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ سادہ سی میز پر بھی کتب بکھڑی ہوئی ہیں۔ اسٹیل کی پرانی الماری اور اس کے اوپر کچھ سامان ہے۔ کمرے کا فرش پرانے چپس کا ہے۔ بستر بھی پرانے اسٹائل کا سنگل بیڈ ہے۔ لیاقت بلوچ صاحب جس کرسی پر بیٹھے ہیں وہ پلاسٹک کی ہے۔ اس کے پیچھے موجود کرسی بھی پرانے طرز کی ہے۔ یہ وہ کمرہ ہے جہاں پانچ مرتبہ کے منتخب سینیٹر نے اپنے آخری دن گزارے ہیں۔ بستر پر موجود انسان کا نام ”پروفیسر ساجد میر“ ہے۔ یہ ان کا “لگژری” بیڈ روم تھا۔ پروفیسر صاحب نے ۱۹۶۰ میں انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا تھا۔ اس کے بعد اسلامیات میں ۱۹۶۹ میں ماسٹرز مکمل کیا۔ علم و ادب سے خاص لگاؤ تھا۔ سیاست میں پروفیسر صاحب ۱۹۹۴ سے ۵ مرتبہ سینیٹ کے ممبر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ جمعیت اہلحدیث کے امیر بھی تھے۔ آپ نے ۸۶ سال کی عمر پائی۔ ساری زندگی درویشی کی گزاری۔ اللہ آپ سے راضی ہو۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔

ہم کہہ رہے ہیں ہم نے رافیل کو جام کر دیا انڈین کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے پاس صرف چار دن کا آٹلری امیوشن ہے ،ہم کہہ رہے ہیں انڈیا ایل او سی پر فائرنگ کر رہا ہے انڈیا کہہ رہا ہے کہ پاکستان فائر بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے ۔لگتا ہے جنگ کا نشانہ صرف سچ ہے اور دونوں ملک اپنا اپنا سچ بتانے پر تلے ہوئے ہیں ۔دونوں ملکوں کے عوام کو حقیقت کا کچھ پتہ نہیں