






یہ بیان سند رہے:ایران کی کمزوری یا تبا!ہی پاکستان کیلئے بھی خطرنا!ک ہے ہمارے ہمسائے سٹیبل رہیں گےتو پاکستان زیادہ مضبوط رہے گا اور رہے گا ان شاءاللہ اصرائیل ایران لڑائیاس میں پاکستان کو شییععہ سنننی یا مفادات یا دیگر اختلافات سے اس وقت مکمل ہٹنا ہے۔اخلاقی حمایت ایران کیساتھ رکھو اختلافات مکمل دبا دو۔

ایرانی مولوی کی تباہی کاریاں ۔اظہر سید
ایرانی ملا گزشتہ تیس سال سے ڈیڑھ لاکھ اخلاقی پولیس کے زریعے ایران بھر میں ایرانی خواتین کو حجاب کروا رہا ہے ۔ایرانی خواتین کو عالمی کھیلوں میں حصہ لینے سے روک رہا ہے ۔انہیں قتل کررہا ہے ۔
چند ماہ قبل تہران یونیورسٹی میں ایک طالبہ نے اپنے کپڑے اتار کر ایرانی ملا کو چیلنج کیا “مجھے بھی مار دو ” ۔اس طالبہ کو قیمہ کرنے والی مشین سے گزار کر اس کے ٹکرے یونیورسٹی گراؤنڈ میں پھینکے گئے اور طالبات کو پیغام دیا گیا ،،”مولوی کے خلاف احتجاج نہیں”

اخلاقی پولیس کے ایک اہلکار نے تین سال قبل ایک سترہ سالہ لڑکی کو حجاب نہ کرنے پر بھرے بازار میں تشدد کا نشانہ بنایا ،پولیس اسٹیشن میں لڑکی کو قتل کر دیا گیا ۔
ایرانی عوام مولوی کے خلاف نکل آئے ۔ایرانی تاریخ کے سب سے بڑے مظاہرے ہوئے ،سینکڑوں خواتین قتل کی گئیں ۔مولوی نے پاسداران کے زریعے بے رحم آپریشن کیا ۔احتجاج کچل دیا ۔

ایرانی مولوی نے اپنی سیاست کے زریعے حزب اللہ کی ساری قیادت قتل کروا دی ۔حماس کی تمام لیڈر شپ قتل کروا دی ۔ساتھ ہزار فلسطینی شہید کروا دئے ۔شامی حکومت تبدیل کروا دی ۔اپنی ٹاپ ملٹری لیڈر شپ قتل کروا لی ۔اپنے ایٹمی سائنسدانوں کو قتل کروا لیا ۔ ماضی کی سپر پاور اور شاہ ایران کے دور میں خطہ کے تھانیدار کی حیثیت والے ایران کے تمام فوجی اثاثے تباہ کروا لئے ۔
اب ایرانی سپریم ملا کسی سوراخ میں چھپ کر بیٹھ گیا ہے اور امن مذاکرات کے پیغامات بھیج رہا ہے ۔پاکستان نے اسرائیلی حملہ سے دس گھنٹہ پہلے ایرانی قیادت کو سٹلائٹ ہیکنگ کی معلومات سے بتا دیا تھا حملہ ہونے والا ہے لیکن مولوی کے پاس بصیرت اور شعور کچھ بھی نہیں تھا ۔ساری فوجی قیادت قتل کروا لی کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کئے ۔

ایرانی ملا نے اپنی حماقتوں اور منافقت سے عالم اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیا ہے ۔اب سپریم لیڈر کو بل سے نکال کر مار بھی دیا جائے ۔حکومت تبدیل بھی ہو جائے جو ناقابل تلافی نقصان ہو چکا ہے تلافی ممکن نہیں ۔
مولوی کبھی بھارت کی گود میں بیٹھ جاتا تھا ۔کبھی بلوچ عسکریت پسندوں کو چپکے چپکے تھپکی دیتا تھا ۔کبھی بلوچ عسکریت پسندوں کے تحفظ کیلئے پاکستان پر میزائل دے مارتا تھا ۔ایرانی مولوی کبھی بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرتا تھا ۔کبھی گوادر کے مقابلہ میں چاہ بہار بندرگاہ کا منصوبہ بنا کر بھارت کی سہولت کاری کرتا تھا ۔

ملا اب ڈرا بیٹھا ہے ۔چینی اور روسی قیادت کے ساتھ پاکستان کو بھی “بچاؤ بچاؤ” کے پیغامات بھیج رہا ہے۔ ایرانی عوام کو مولوی سے نجات دلانے کا عمل مکمل ہونا چاہئے یا ملا کو اسرائیل سے امن مذاکرات کے زریعے بچانا چاہئے ؟
پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہےاسرائیلی جارحیت ناقابل قبول ہے ایران کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہےاقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک اور باوقار مؤقف،ظلم کے خلاف خاموشی نہیں مستقل مندوب عاصم
ایران پر حملے میں شہید کی گئی ایرانی شخصیات کی فہرست جاری کردی!! 1- جنرل محمد حسین باقری ( آرمی چیف) 2- جنرل حسین سلامی ( IRGC چیف) 3- میجر جنرل غلام علی راشد ( کماندار ایران آرمی) 4- امیر موسوی ( کماندار ایران آرمی) 5- امیر شہرام ( کماندار ایران نیوی) 6- علی رضا ( کماندار ایران ائیر ڈیفنس) 7- نصیر زادہ ( ائیر فورس کمانڈر) 8 – کیومرث حیدری ( کماندار ایران آرمی) 9- غلام رضا سلمانی ( بسیج فورسز کمانڈر) 10- علی حاجی زادہ ( ائیر فورس کمانڈر) 11- بریگیڈ جنرل اسماعیل قآنی ( IRGC کمانڈر) 12- محمد فعبفر ( کماندار ایران آرمی) 13- رضا تنگرسی ( کمانڈر ایران نیوی
*دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر؟*13 جون 2025 کی رات اسرائیل کی جانب سے ایران پر غیر معمولی فضائی حملے نے عالمی منظرنامے کو ایک نئے اور خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ جب ایک طرف روس اور یوکرین کے درمیان جنگ چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور نیٹو افواج مشرقی یورپ میں غیرمعمولی نقل و حرکت کر رہی ہیں، تو اب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کا براہِ راست ٹکراؤ ایک ایسی آگ بن چکا ہے جس کی لپیٹ میں پورا خطہ اور بالآخر دنیا آ سکتی ہے۔دو محاذ، ایک خطرہپہلا محاذ — مشرقی یورپ:روس-یوکرین جنگ اب روس اور نیٹو کے براہِ راست تصادم کے قریب ہے۔ حالیہ ہفتوں میں پولینڈ، رومانیہ اور بالٹک ریاستوں میں امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی بڑھ چکی ہے۔ روس نے بیلا روس کے راستے جوابی تیاریوں کا آغاز کیا ہے اور کریمیا کے ساحلوں پر ایٹمی-capable میزائل نصب کر دیے گئے ہیں۔دوسرا محاذ — مشرقِ وسطیٰ:اب ایران پر اسرائیل کے حملے نے دوسرا محاذ کھول دیا ہے۔ ایران کے جوابی اقدام میں حزب اللہ، حوثی باغی، اور عراقی ملیشیائیں متحرک ہو چکی ہیں۔ اگر یہ تصادم خلیج عرب، شام، لبنان اور یمن میں پھیل گیا تو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔عالمی طاقتیں صف بند ہو رہی ہیںروس نے اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایران کے دفاع کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔ چین نے بھی خطے میں امریکی کردار پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل کا دفاع کرے گا “خواہ حالات جو بھی ہوں۔”یعنی دنیا کی بڑی طاقتیں — امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس — براہِ راست یا بالواسطہ طور پر دونوں محاذوں پر موجود ہیں۔ یہ وہی ترتیب ہے جو 1939 میں دوسری عالمی جنگ سے قبل دیکھی گئی تھی۔اقوام متحدہ کا کردار ایک بار پھر علامتی رہ گیا ہے۔ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی کسی مشترکہ قرارداد پر متفق نہ ہو سکا۔ جب عالمی ادارے بےبس ہو جائیں، طاقت کے مراکز تقسیم ہو جائیں، اور جنگ کے شعلے بیک وقت دو برّاعظموں میں بھڑک اٹھیں — تو تاریخ یہی بتاتی ہے کہ عالمی جنگ قریب ہوتی ہے۔پاکستان، ترکی، سعودی عرب، انڈونیشیا اور دیگر مسلم ممالک کو فوری طور پر ایک مشترکہ موقف اپنانا ہوگا۔ اگر یہ جنگ فرقہ واریت اور پراکسی تنازع میں بدل گئی، تو امتِ مسلمہ شدید نقصان اٹھائے گی۔ پاکستان کو خصوصاً اس وقت حکمت، تدبر اور سفارتی متانت کا مظاہرہ کرنا ہوگا — کیونکہ ہمارا خطہ بھی کسی بڑی جنگ کی چنگاری بن سکتا ہے۔آج دنیا جس نازک موڑ پر کھڑی ہے، وہ محض ایک علاقائی کشمکش نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ روس-یوکرین جنگ اور ایران-اسرائیل تصادم کا ملاپ ایک ایسی صورتِ حال پیدا کر چکا ہے جو تیسری عالمی جنگ کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اگر فوری طور پر عالمی سفارتکاری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے، تو کل کے مؤرخ لکھیں گے:“تیسری عالمی جنگ کا آغاز ایک غیر رسمی حملے سے ہوا — اور دنیا نے اسے روکا نہیں۔”
اسرائیل کے ایران پر حملے میں اب تک•اسرائیل نے بیلسٹک میزائلوں سے ایران کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔•نتن یاھو کا کہنا ھے کہ ایران کے خلاف حملوں کا پہلا فیز مکمل،دوسرا شروع۔•پہلے فیز میں اسرائیل کی طرف سے دعوی کیا گیا کہ بہت سے نیوکلیئر سائنسدان،ملٹری افسران مار دئیے گئے،نیوکلیئر سائٹ اور پیراں شاہ میزائل ڈپو کے تباہ کرنے کا بھی اسرائیلی دعوی•ایران کا دعوی ھے کہ اسرائیل نے حملہ کیا ھے اور اس کے کئی میزائیل انٹرسیپٹ کئے گئے ھیں۔•ایران نے جوابی کاروائی میں اپنے جنگی طیارے فضاوں میں بلند کردئیے ھیں۔
آخری سیلفی…یہ اُس خوش باش لمحے کی تصویر ہے — جب میاں بیوی نے اپنے بچوں کے ساتھ جہاز میں بیٹھ کر ایک آخری سیلفی لی۔ چہروں پر خوشی تھی، آنکھوں میں خواب، اور دل میں نئی زندگی کا ولولہ۔انگلینڈ میں جاب مل چکی تھی، گھر والے ایک نئے آغاز کی اُمید لیے روانہ ہو رہے تھے۔ ایک پُرامن، روشن، محفوظ مستقبل کے لیے…لیکن… چند لمحوں بعد وہ سب خواب راکھ ہو گئے۔جہاز گر گیا۔زندگی، جو ابھی ابھی مسکرا رہی تھی — اچانک خاموش ہو گئی۔یہ تصویر اب صرف ایک یاد ہے۔ایسی یاد جو تا دیر آنکھیں نم رکھے گی۔یہ تصویر اب زندگی کی بے یقینی کا نوحہ بن چکی ہے۔کتنی تیزی سے سب کچھ بدل گیا —زندگی جیسے دوڑتے دوڑتے اچانک زمین پر گر پڑی ہو۔افسوس… صد افسوس۔ایک مکمل خاندان، ایک مکمل خواب، ایک مکمل کہانی — چند لمحوں میں ختم ہو گئی۔
پینشنرز تنخواہ ڈار طبقہ اور کسانوں پر موجودہ بجٹ ایک ایٹمی حملہ وزیر خزانہ اور سھیل رانا امنے سامنے

احمد آباد سے لندن کے لیے اڑنے والے جہاز ائیرپورٹ سے 9 کلومیٹر دور گنجان آبادی والے علاقے میں گرکرتباہ جہاز میں 242 مسافر سوار تھے فل فیول لوڈ ہونے کی وجہ سے جہاز کو گرتے ہی آگ لگ گئی

امدادی کاروائیاں جاری آگ پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہےجہاز احمد آباد مین ہسپتال کے رہائشی کواٹرز کی بلڈنگ سے ٹکرایا

جہاز کے مسافروں سمیت رہائشی کواٹرز میں رہائیشیی لوگوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کا خدشہ

یاد رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے بھارت میں متعدد طیارے دوران پرواز گر چکے ہیں جن میں ہیلی کاپٹرز بھی شامل ہیں۔
