عوام 2 وقت کی روٹی سے مجبور یہ لوٹ کھوسٹ میں مصروف تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

اسلام آباد:پاکستان پیپلزپارٹی پارٹی کے وفد کی جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائشگاہ آمد اسلام آباد: پیپلزپارٹی پارٹی کے رہنماوں کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات اسلام آباد: ملاقات میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، سید خورشید احمد شاہ، ظاہر شاہ شریکاسلام آباد: ملاقات میں پارلیمانی لیڈر جےیوآئی خیبر پختون خواہ اسمبلی مولانا لطف الرحمٰن،ملاقات میں اکرم خان درانی،مولانا اسعد محمود، زاہد درانی، اسجد محمود شریکاسلام آباد:ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیالاسلام آباد:ملاقات میں خیبر پختونخوا کے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے مشاورت

عدلیہ کے خلاف گھٹیا مھم ذمہ دار کون جسٹس اعجاز دیانت دار جسٹس کے خلاف کون مھم چلا رھا ھے

“عدلیہ کے خلاف گھٹیا مہم ناقابلِ برداشت!”اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلاسفیمی بزنس گینگ کے خلاف جاری مقدمے میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق جیسے دیانت دار جج کو نشانہ بنانا دراصل پورے عدالتی نظام پر حملہ ہے۔ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سوشل میڈیا پر اس گینگ نے گھٹیا، غلیظ اور جھوٹ پر مبنی مہم چلا کر نہ صرف انصاف کے تقاضوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی بلکہ قومی سلامتی سے بھی کھیلنے کی کوشش کی ہے۔قوم کا مطالبہ ہے: اس گینگ کے مشکوک عناصر کے نام فوری طور پر ای سی ایل میں ڈالے جائیں۔ حساس ادارے اس گینگ کی مکمل نگرانی کریں۔ اور سوشل میڈیا پر عدلیہ کے خلاف مہم کا نوٹس لے کر قانونی کارروائی کی جائے۔یہ صرف ایک جج کا معاملہ نہیں، یہ انصاف کے چراغ کو بجھانے کی سازش ہے۔ہمیں خاموش نہیں رہنا، یہ وقت سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔

14 وزارتوں میں کھربوں روپے کی کرپشن پر اھم ادارے کی رپورٹ نے ھلچل مچا دی۔لیکچیز بند نہ کرنا اور بوجھ عوام پر ڈال دیا چینی پٹرول اور بجلی چوری جیسی لیکچیز 8 اھم ترین وزراء کھربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہونے کے باوجود دیدہ دلیری سے ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث۔ ۔افغان طالبان اور بھارت کا گٹھ جوڑ بے نقاب۔سینٹ کی نشستوں پر نوٹوں کی بوریوں کے منہ کھل گئے۔فیلڈ مارشل صدر مملکت نھی بن رھے پیکا ایکٹ ان ایکشن۔مولانا فضل الرھمان کی سینٹ اور مخصوص نشستوں کے لئے ن لیگ سے مک مکا۔رانا سناالہ امیر مقام کی فضل الرھمان سے ملاقات مک مکا۔بلوچستان کے علاقے لورالائی میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی طرف سے 10 پنجابیوں کو شہید کردیا گیا، تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بزنس گروپ اور ایف آئی اے اہلکاروں کا گٹھ جوڑ۔ اظہر سید معاملہ بہت سادا ہے ۔ریاست کو اعلی سطحی تحقیقات کرنا ہیں۔ایف آئی اے کے بعض اہلکاروں اور بعض کریمنل کا کوئی غیر مقدس گٹھ جوڑ تو نہیں جو توہین مذہب کے قوانین کا فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ناموس رسالت کا نام لے کر عام مسلمانوں کو گمراہ کر رہا ہے ۔جب ملزمان کی بڑی تعداد الزام لگاتی ہے انہیں لڑکی کے زریعے ٹریپ کر کے بلاسفیمی میں پھنسایا گیا ہے ۔ریاست کی پریمیئر ایجنسی کے طور پر ایف آئی اے کی زمہ داری تھی ان الزامات کی جامع تحقیقات کرتی

۔ایسا کبھی نہیں کیا گیا ۔کریمنل لوگوں اور بعض اہلکاروں کے غیر مقدس اتحاد کا موقف ہے منظم انداز میں بلاسفیمی کی جا رہی ہے ۔سینکڑوں نوجوان اس کا حصہ ہیں۔پریمئر ایجنسی کے طور پر ایف آئی اے کی زمہ داری تھی وہ توہین آمیز مواد بنانے والے تخلیق کاروں تک پہنچتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا ۔ان نوجوانوں کو توہین کا ملزم بنایا گیا جن کے فون سے توہین آمیز مواد ملا ۔ان کریمنلز کی تحقیقات نہیں کی گئیں جو توہین آمیز مواد ملزمان کو بھیج رہے تھے ۔مدعیان اور ملزمان کے فون ریکارڈز کی ٹریفک کے فرانزک سے اصل ملزمان تک پہنچا جا سکتا تھا لیکن پریئمر ایجنسی کے زمہ داران نے ایسا نہیں کیا

۔ملزمان کا ایک ہی موقف تھا انہیں ایک لڑکی کے زریعے ٹریپ کیا گیا ۔پریمئر ایجنسی کے طور پر ایف آئی اے کی زمہ داری تھی وہ اس لڑکی کی تحقیقات کرتی اور معاملہ کی تہہ تک پہنچتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا

اس لڑکی کو کبھی کسی تفتیش میں شامل ہی نہیں کیا گیا ۔پریئمر ادارے کے طور پر ایف آئی اے کی پہلی زمہ داری تھی تحقیقات کرے تمام بلاسفیمی مقدمات میں گھوم پھر کے ڈھائی تین درجن لوگ ہی مدعی کیوں ہیں ۔پچیس کروڑ لوگوں کے ملک میں صرف ڈھائی تین درجن لوگوں کو ہی ان سوشل میڈیا گروپس تک رسائی کیوں ہے جہاں بلاسفیمی مواد شئیر ہوتا ہے ۔ان ڈھائی تین درجن لوگوں کا کوئی گٹھ جوڑ تو نہیں ؟ لیکن ایف آئی اے نے بطور پریئمر ایجنسی اس معاملہ کی تحقیقات ہی نہیں کیں ۔

ایک ایسا ملک جو صرف سات مہینوں میں 7 لاکھ 57 ہزار ٹن چینی بیرونِ ملک برآمد کر چکا ہے، اب اسی عرصے میں 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دے رہا ہے۔ یہ صرف انتظامی غفلت نہیں بلکہ ایک کھلا فراڈ ہے۔ پہلے سستی چینی برآمد کی جاتی ہے تاکہ اندرونِ ملک قلت پیدا ہو، پھر وہی قلت جواز بن کر مہنگی درآمدات کا دروازہ کھولتی ہے اور اس پورے کھیل میں فائدہ صرف چینی مافیا، برآمدی نیٹ ورک اور کچھ مخصوص طبقات کو ہوتا ہے، نقصان صرف عام پاکستانی کو۔ یہ فیصلے معیشت کو سنوارنے کے لیے نہیں بلکہ مخصوص مفادات کو تحفظ دینے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔کیا سمجھے

افغان طالبان اور بھارت کا گٹھ جوڑ بے نقاب: سابق افغان جنرل کے ہوشرباانکشاف* افغان فوج کے سابق ڈائریکٹر ملٹری انٹیلیجنس اور سپیشل آپریشنز فورسز کے کمانڈرجنرل سید سمیع سادات کےاہم انکشافات سابق افغان جنرل سمیع سادات کے مطابق;”افغان طالبان بھارت سےمالی امداد لے کر پاکستان میں دہشتگردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں

** *افغان طالبان اور بھارت کا گٹھ جوڑ بے نقاب: سابق افغان جنرل کے ہوشرباانکشاف* افغان فوج کے سابق ڈائریکٹر ملٹری انٹیلیجنس اور سپیشل آپریشنز فورسز کے کمانڈرجنرل سید سمیع سادات کےاہم انکشافات سابق افغان جنرل سمیع سادات کے مطابق;”افغان طالبان بھارت سےمالی امداد لے کر پاکستان میں دہشتگردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں”افغان طالبان پاکستان مخالف گروہوں کوسپورٹ کرتے ہیں، *سابق جنرل سمیع سادات* افغان طالبان کے بھارت سے قریبی تعلقات قائم ہیں، *سابق جنرل سمیع سادات* سابق جنرل سمیع سادات نے یہ انکشاف بھی کیا کہ;طالبان کو بھارت سے مالی امداد ملتی ہے، جو فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کو دی جاتی ہے طالبان اُن گروہوں کوفنڈنگ کرتے ہیں جو پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں ملوث ہیں، *جنرل سمیع سادات* سابق افغان جنرل کایہ اعتراف وزیر دفاع خواجہ آصف بیان کی تصدیق کی ہے کہ افغان طالبان بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں افغان جنرل کا بیان پاکستان کے مؤقف کی تصدیق ہے کہ خطے میں دہشتگردی افغان طالبان اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے