فاٹا ھمارا فخر ھے سید یوسف رضا گیلانی۔۔بجلی تقسیم کار کمپنیاں عوام کا خون بدستور چوستی رھے گی۔بجلی تقسیم کار کمپنیوں کا خسارہ 193 ارب روپے کم ھوا اور بجلی کی فی یونٹ 80 روپے سے تجاوز۔۔کئی دہائیوں میں پھلی بار بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی انا خوش ائیند۔۔ وزیر اعطم اس بات پر پوچھنے سے قاصر کہ خسارہ کم ھوا ھے تو قیمتوں میں کمی کیوں نہیں کرتے۔ ٹرین کا افتتاح پاکستان چین ترقی کی طرف گامزن۔۔گدھے کا گوشت اسلام آباد روالپندی کے کن ھوٹلوں میں فروخت ھوا۔احس اقبال نواز لیگ کے ان 6 وزراء میں شامل ھے جو ایمان دار پڑھا لکھا انسان ھے خدا ان کو ھمیشہ درست اور قوم کے لئے درست فیصلے کرنے کی ھمت عطا فرمائے۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

اسلام آباد: 29 جولائی 2025*_وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس_**کئی دہائیوں میں پہلی بار بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی آنا انتہائی خوش آئند ہے: وزیراعظم**بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی سے ان کمپنیوں کی نجکاری کا عمل آسان ہو جائے گا : وزیراعظم**وزیراعظم کی وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری ، وفاقی سیکریٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر محمد فخر عالم اور ان کی ٹیم کی ستائش**وزیراعظم کی بہترین کارکردگی دکھانے والی اور خسارے میں کمی لانے بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کو ستائشی خطوط بھیجنے کی ہدایت* *بجلی تقیسم کار کمپنیوں کا خسارہ 193 ارب روپے کم ہوا ہے : اجلاس کو بریفنگ**

بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں 242 ارب روپے کی بہتری آئی ہے : بریفنگ* *لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی نے خسارے میں کمی کے حوالے سے سب سے اچھی کارکردگی دکھائی : بریفنگ**گردشی قرضوں کا فلو 780 ارب روپے رہا ہے

55 سال پہلے میں 7ویں جماعت کے طالبعلم کے طور پر کینٹ پبلک اسکول کراچی (اب ایف جی پبلک اسکول کراچی کینٹ) میں داخل ہوا تھا۔ کل اللہ کے فضل سے اسی اسکول واپس آیا – مگر اس بار طالبعلم کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کے وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی کے طور پر۔جب مجھے سکول انتظامیہ کی جانب سے وہ داخلہ فارم ملا جو میرے مرحوم والد نے 1970 میں میرے لیے پُر کیا تھا، تو دل جذبات سے لبریز ہو گیا۔

مجھے اپنے اساتذہ یاد آئے – میڈم ویل، جنہوں نے ہمیں روزانہ کلاس میں خبریں پڑھوا کر موجودہ حالات سے آگاہ رہنے کا شوق دیا، اور مسٹر جمیل، جن کی سائنس سے محبت نے میرے اندر سائینس اور انجینئرنگ کا شوق پیدا کیا۔جب میں اسکول کے انہی وسیع کھیل کے میدانوں میں کھڑا تھا، تو مجھے وہی کشادگی اور امکانات کا احساس ہوا جو بچپن میں محسوس کیا تھا۔ اس لمحے نے مجھے یاد دلایا کہ تعلیم صرف کلاس رومز تک محدود نہیں ہوتی – یہ ان اساتذہ کا نام ہے جو خواب جگاتے ہیں اور ایسے ماحول کا جو حوصلے اور بلند مقاصد کو جِلا بخشتا ہے۔آج کے تمام طلبہ سے میرا پیغام ہے: اپنے اسکول کو یاد رکھیں، اپنے اساتذہ کی قدر کریں، اور اپنے خوابوں کی طاقت پر یقین رکھیں – آپ نہیں جانتے کہ یہ خواب آپ کو کہاں تک لے جا سکتے ہیں۔ �

:بریفنگ*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کئی دہائیوں میں پہلی بار بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی آنا انتہائی خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی سے ان کمپنیوں کی نجکاری کا عمل آسان ہو جائے گا ۔

وزیراعظم نے وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری ، وفاقی سیکریٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر محمد فخر عالم اور ان کی ٹیم کی ستائش کرتے ہوئے پاور سیکٹر اصلاحات کے حوالے سے ان کی شاندار کارکردگی کو سراہا۔وزیراعظم نے بہترین کارکردگی دکھانے والی اور خسارے میں کمی لانے بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کو ستائشی خطوط بھیجنے کی ہدایت کی۔*اجلاس کو پاور ڈویژن کی جانب سے بجلی تقیسم کار کمپنیوں اور گردشی قرضوں پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بجلی تقیسم کار کمپنیوں کا خسارہ 193

ارب روپے کم ہوا ہے

۔لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی نے خسارے میں کمی کے حوالے سے سب سے اچھی کارکردگی دکھائی ۔

بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں 242 ارب روپے کی بہتری آئی ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ گردشی قرضوں کا فلو 780 ارب روپے رہا ہے۔ *کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاور ڈویژن کی سفارش پر نیشنل الیکٹریسٹی پلان -اسٹریٹجک ڈائریکٹو 87 میں ترامیم کی منظوری دے دی۔ ان ترامیم کے تحت بجلی کی ترسیل کے اخراجات (wheeling charges) 12.55 روپے فی کلو واٹ ، اور بڈنگ پرائیس اس میں شامل ہو گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈیپینڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کی آپریشنلائزیشن کا کام مکمل ہو چکا ہے۔

اسی طرح نیشنل ٹرانسمشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی اور بجلی تقیسم کار کمپنیوں میں مارکیٹ آپریشنز کے محکموں تشکیل دیے جا چکے ہیں۔

1969 میں پاکستانی سنیما پر دو یادگار فلمیں پیش کی👉👉👉 فلم دیکھیں:https://movie2025-4k.blogspot.com/2025/07/riaz-shahid.html گئیں، جن میں ایک ریاض شاہد کی ’’زرقا‘‘ اور دوسری اے جے کاردار کی ’’قسم اُس وقت کی‘‘۔ دونوں فلموں کو بے حد پسند کیا گیا۔ فلم ’’قسم اُس وقت کی ‘‘ اپنے موضوع اور پروڈکشن کے حوالے سے ایک بہت ہی اعلیٰ معیار کی مقصدی مشن فلم تھی، جو اُس دور میں کثیر سرمائے سے تیار کی گئی تھی۔ فلم کا موضوع جذبۂ حُب الوطنی پر مبنی ہونے کی وجہ سے اُس خفیف لہر کی حیثیت رکھتا ہے جو کسی بڑی موج کی اُٹھان کی محتاج نہیں۔ ایئر فورس پائلٹ کے گرد گھومنے والی یہ کہانی یُوں شروع ہوتی ہے کہ اسکواڈرن لیڈر جاوید (طارق عزیز) کے طیارے کی کرش لیڈنگ سے دکھائی جاتی ہے۔ وہ دشمن کے پانچ طیارے تباہ کرکے جب واپس آرہا ہوتا ہے، تو اس کا طیارہ کرش ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو جاتا ہے۔ اسے اسپتال پہنچایا جاتا ہے، جہاں اس کی جان بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جاوید کی امی (سورن لتا)، بہن (روزینہ)، محبوبہ (شبنم) اور ان کے دوست محسن امام جو خود بھی پائلٹ ہوتے ہیں، جاوید جو زندگی اور موت کی کش مکش میں تھا، سبھی اس کی طرف پتھرائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

باقی کہانی جنگ کے خون اشام دنوں کی کہانی ہے۔ سایر قوم موت و حیات کی کشمکش سے دوچار ہے۔ اس کے معرکے میں ’’صاحب و بندہ محتاج و غنی‘‘ سب ایک تھے۔ قسم اس وقت کیاُن درخشاں دنوں کی داستان ہمت اور شجاعت کی وہ سرخ و شہری داستان ہے جو زندگی کے ہر ورق پر لکھی گئی، کبھی میدان جنگ میں، کبھی پاکستانی فضائوں پر اور کبھی ان شہیدوں کے خون سے جو فرض اپنی جانیں نچھاور کرکے باب شہادت کی جاں بخش دہلیز سے گزرے ہوں۔

یہ کہانی فضائیہ کے فرض شناس مجاہدوں کے لیے ایک خراج تحسین ہے۔ یہ پہلی پاکستانی فلم تھی، جس کی فلم بندی اور تیاری میں پاکستان ایئرفورس نے فلمی یونٹ کے ساتھ پورا تعاون کیا۔نیشنل اسٹوڈیو لمیٹڈ کی اس شاہ کار فلم کے ہدایتکار اے جے کاردار تھے اور انہوں نے ہی فلم کا منظر نامہ تحریر کیا تھا، جب کہ فلم کی کہانی ونگ کمانڈر شاہد حسین اور پروفیسر احمد علی نے لکھی۔ فلم کے مکالمہ نویس میں زیڈ اے بخاری، ونگ کمانڈر شاہد حسین، دائود خان مجلس کے نام شامل ہیں۔ اس فلم کی فوٹو گرافی مارون مارشل جیسے ماہر غیرملکی فوٹو گرافر نے انجام دی۔ جنہوں نے اس فلم کی فوٹو گرافی میں ہالی وڈ فلمز کے انداز کو پہلی بار پاکستانی سینما کے لیے فلم بند کیا۔ ان کی فوٹو گرافی اس دور کی فرسودہ فلمی ماحول میں تازگی کا ایک سانس محسوس ہوتی ہے۔ مارون مارشل کے علاوہ فلم کے بعض مناظر ائیریل فوٹو گرافر اے آر کی بخاری اسکواڈرن لیڈر کی مرہون منت ہے اے جے کاردار نے تمام شعبہ جات میں اپنی بھرپور محنت اور توجہ سے ڈائریکشن دیں،

اس کا شمار ان ہدایت کاروں میں ہوتا ہے، جو ہر منظر کو

نہایت غورخوض کے بعد فلم بند کرتے ہیں۔ اس فلم کے ہ منظر اور فریم پر ان کے تیکنیکی ذہن کی مہر لگی ہوئی ہے۔ یہ پاکستان کی وہ اولین فلم ہے ، جس میں (Micro cosnic Study) پیش کی گئی ہے، اس فلم کی یہ خوبی اسے دیگر فلموں میں برتری دلاتی ہے۔اس فلم کا میوزک سہیل رعنا، خان عطاء الرحمن، رفیق غزنوی اور استاد نتھو خان نے ترتیب دیا اور نغمہ نگاری کے لیے فیض احمد فیض، جوش ملیح آبادی، خان عطاء الرحمن اور فیاض ہاشمی کی خدمات لیں گئیں۔ جذبہ حب الوطنی کی تسکین کے لیے اس فلم کے ٹائٹل سونگ ہی کافی ہے۔ اس نغمے کے مختلف حصے موقع کی مناسبت سے ساری فلم میں دوہرا کے جاتے ہیں، جس کے بول یوں ہیں۔’’ قسم اس وقت کی جب زندگی کی کروٹ بدلتی ہے، ہمارے ہاتھ سے دنیا نئے سانحے میں ڈھلتی ہے‘‘ جوش صاب کے لکھے ہوئے اس ترانے کو گلوکار مجیب عالم نے اپنی آواز میں ریکارڈ کروایا تھا۔ اس فلم کے ذریعے تکنیک اور موضوع میں نئے تجربات کیے گئے۔ فلم کی کاسٹ میں طارق عزیز، شبنم، روزینہ، روزی، حسن امام، فریدہ خانم، منیا، پرنس تاج، صاعقہ، اجمل ہدیٰ، سیٹھی، شاہجہ اناور سورن لتا شامل تھیں۔ یہ فلم 12دسمبر 1969ء کو عید الفطر کے روز کراچی کے نشاط سنیما میں ریلیز کی گئی۔فلم کے تقسیم کار ایور ریڈی پکچرز پاکستان تھے۔”قسم اس وقت کی” کی ایک یادگار تصویر اس فلم کے ایک منظر کی شوٹنگ سے پہلے طارق عزیز اپنے کپڑوں پر سرخ رنگ ‘خون’ کا چھڑکاؤ کرواتے ہوۓ۔کامل رند بلوچ /

ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ اور انفارمیشن گروپ کا اعزاز ڈی ایم جی کی سیٹوں پر تعینات رھے اور مافیا کو توڑا انفارمیشن گروپ کے اسماعیل پٹیل انور محمود سلیم گل شیخ خواجہ اعجاز اسی طرح ملٹری لینڈ کے نعیم جان راجہ نادر خان اور رانا منظور احمد نے مافیا کو توڑا تفصیلات کے لیے بادبان نیوز سھیل رانا لاءیو میں رات 10 بجے

فتنہ الہندوستان اوربلوچ یکجہتی کمیٹی کاگٹھ جوڑبے نقاب* نام نہادلاپتہ افراد کی آڑمیں دہشت گردی کے ناقابل تردیدشواہدمنظرعام پر آگئے

** *فتنہ الہندوستان اوربلوچ یکجہتی کمیٹی کاگٹھ جوڑبے نقاب* نام نہادلاپتہ افراد کی آڑمیں دہشت گردی کے ناقابل تردیدشواہدمنظرعام پر آگئے، *سیکورٹی ذرائع* قلات آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگردصہیب لانگو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی نام نہاد لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل ہے، *سیکورٹی ذرائع* اس سے قبل بھی فتنہ الہندوستان کے مارے جانے والے متعدد دہشتگرد نام نہاد لاپتہ افرادکی لسٹ میں شامل تھے، *سیکورٹی ذرائع* مارچ 2024 کوگوادر حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد کریم جان بھی لاپتہ افرادکی فہرست میں شامل تھا، *سیکورٹی ذرائع* اسکے علاوہ نیول بیس حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد عبدالودود بھی لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھا، *سیکورٹی ذرائع* ماہ رنگ لانگو نے ہمیشہ نام نہاد لاپتہ افراد کابیانیہ اپنے مضموم عزائم اور ریاست کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کیا، *سیکورٹی ذرائع* ہلاک دہشتگرد صہیب لانگو کی ماہ رنگ لانگو کے ساتھ مظاہروں میں کئی تصاویر اورویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں، *سیکورٹی ذرائع* نام نہاد لا پتہ افراد وہی ہیں جو فتنہ الہندوستان کے آلہ کاربن کر کر نہتے اور معصوم پاکستانیوں پر دہشتگردانہ حملوں میں ملوث ہیں، *سیکورٹی ذرائع* 21 جولائی 2025 کو قلات آپریشن کے نتیجے میں فتنہ الہندوستان کا دہشتگرد صہیب لانگو جہنم واصل ہوا، *سیکورٹی ذرائع* فتنہ الہندوستان نے دہشتگرد صہیب لانگو عرف عامر بخش کی ہلاکت اور خودسے وابستگی کو تسلیم کیا، *سیکورٹی ذرائع* فتنہ ہندوستان سے منسلک میڈیا پلیٹ فارم پانک اور بھام نے دہشتگردصہیب لانگو کو 25 جولائی 2024 کولاپتہ قرار دیا تھا، *سیکورٹی ذرائع* بام نے یہ دعوی کیا تھا کہ دہشت گرد صہیب لانگو کو 24 جولائی 2024 کو کلی سریاب کوئٹہ سے جبرا گمشدہ کیا گیا، *سیکورٹی ذرائع* ماہ رنگ لانگو اور اس کے سہولت کاروں نے نہتے اور معصوم پاکستانیوں پرفتنہ الہندوستان کے دہشتگردانہ حملوں کی کبھی مذمت نہیں کی، *سیکورٹی ذرائع* مستند شواہد سے واضح ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی دراصل فتنہ الہندوستان کی پراکسی ہے، *سیکورٹی ذرائع* بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مظاہروں میں منہ چھپائے لوگ اصل میں دہشتگردوں کے آلہ کار اور سہولت کارہیں، *سیکورٹی ذرائع* حقائق سے واضح ہے کہ جن لوگوں کو لاپتہ افراد بنا کر پیش کیا جاتا ہے وہ اصل میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردہیں، *سیکورٹی ذرائع*

گدھے کا گوشت روالپندی اور اسلام آباد میں کتنے اور کونسے ھوٹلوں میں فروخت ھوتا ھے تفصیلات کے لئے بادبان نیوز

*بریکنگ* *فتنہ الہندوستان اوربلوچ یکجہتی کمیٹی کاگٹھ جوڑبے نقاب* نام نہادلاپتہ افراد کی آڑمیں دہشت گردی کے ناقابل تردیدشواہدمنظرعام پر آگئے، *سیکورٹی ذرائع* قلات آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگردصہیب لانگو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی نام نہاد لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل ہے، *سیکورٹی ذرائع* اس سے قبل بھی فتنہ الہندوستان کے مارے جانے والے متعدد دہشتگرد نام نہاد لاپتہ افرادکی لسٹ میں شامل تھے، *سیکورٹی ذرائع* مارچ 2024 کوگوادر حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد کریم جان بھی لاپتہ افرادکی فہرست میں شامل تھا، *سیکورٹی ذرائع* اسکے علاوہ نیول بیس حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد عبدالودود بھی لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھا، *سیکورٹی ذرائع* ماہ رنگ لانگو نے ہمیشہ نام نہاد لاپتہ افراد کابیانیہ اپنے مضموم عزائم اور ریاست کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کیا، *سیکورٹی ذرائع* ہلاک دہشتگرد صہیب لانگو کی ماہ رنگ لانگو کے ساتھ مظاہروں میں کئی تصاویر اورویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں، *سیکورٹی ذرائع* نام نہاد لا پتہ افراد وہی ہیں جو فتنہ الہندوستان کے آلہ کاربن کر کر نہتے اور معصوم پاکستانیوں پر دہشتگردانہ حملوں میں ملوث ہیں، *سیکورٹی ذرائع* 21 جولائی 2025 کو قلات آپریشن کے نتیجے میں فتنہ الہندوستان کا دہشتگرد صہیب لانگو جہنم واصل ہوا، *سیکورٹی ذرائع* فتنہ الہندوستان نے دہشتگرد صہیب لانگو عرف عامر بخش کی ہلاکت اور خودسے وابستگی کو تسلیم کیا، *سیکورٹی ذرائع* فتنہ ہندوستان سے منسلک میڈیا پلیٹ فارم پانک اور بھام نے دہشتگردصہیب لانگو کو 25 جولائی 2024 کولاپتہ قرار دیا تھا، *سیکورٹی ذرائع* بام نے یہ دعوی کیا تھا کہ دہشت گرد صہیب لانگو کو 24 جولائی 2024 کو کلی سریاب کوئٹہ سے جبرا گمشدہ کیا گیا، *سیکورٹی ذرائع* ماہ رنگ لانگو اور اس کے سہولت کاروں نے نہتے اور معصوم پاکستانیوں پرفتنہ الہندوستان کے دہشتگردانہ حملوں کی کبھی مذمت نہیں کی، *سیکورٹی ذرائع* مستند شواہد سے واضح ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی دراصل فتنہ الہندوستان کی پراکسی ہے، *سیکورٹی ذرائع* بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مظاہروں میں منہ چھپائے لوگ اصل میں دہشتگردوں کے آلہ کار اور سہولت کارہیں، *سیکورٹی ذرائع* حقائق سے واضح ہے کہ جن لوگوں کو لاپتہ افراد بنا کر پیش کیا جاتا ہے وہ اصل میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردہیں، *سیکورٹی ذرائع*

پاکستان میں جمہوریت لوٹ مار استحصال کا دوسرا نام۔10 ھزار ارب روپے کی کرپشن۔سالانہ 10 ھزار ارب روپے کا ڈاکہ جس ملک میں پڑھتا ھو وھاں روٹی ملنا مشکل۔2008 سے 2024 کے دوران اشیاء خوردنوش میں 900 فیصد اضافہ ہوا۔۔12 کروڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے پی ڈی ایم ٹو میں عوام سے 2 وقت کی روٹی چھین لی۔دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن بھارت ایک اور ایڈوینچر کی تیاریوں میں۔خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق بھارت رات گئے اگست میں کوی سندور 2 فیک انکاونٹرز کر سکتا ہے۔پاکستانی فورسز کی نقل و حمل شورع حالات کشیدہ صورتحال نازک۔راج ناتھ کا نیا پنڈوارا بکس تفصیلات کے لئے بادبان نیوز

تیراہ میں کیا ہوا؟ایک دن پہلے خارجیوں کی طرف سے داغے گئے مارٹر گولے میں ایک بچی شہید ہوگئی۔ واقعے کے فوراً بعد مقامی بریگیڈیئر نے قبائلی عمائدین سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس وقت فوج کی طرف سے کوئی آپریشن جاری نہیں، فوجی اپنی پوسٹوں پر ہیں یا ہیڈکوارٹر میں تعینات ہیں۔

یہ مارٹر گولہ خارجیوں کی طرف سے فائر کیا گیا ہے۔ عمائدین یہ بات سمجھ گئے قبائلی خوب جانتے ہیں کہ خارجی اکثر فوجی پوسٹوں کو مارٹر یا کواڈ کاپٹر ڈرونز سے نشانہ بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

ان حملوں میں کئی مرتبہ سویلین بھی نشانہ بن جاتے ہیں، جس کا الزام فوری طور پر فوج پر ڈال دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسے ہر الزام کی تصدیق کے لیے پی ٹی ایم اور ٹی ٹی پی والے تیار بیٹھے ہوتے ہیں فوجی قیادت اور مقامی عمائدین کی ملاقات کے بعد، پی ٹی آئی اور پی ٹی ایم کے کچھ حامیوں نے نعرے لگائے کہ “ہم نہیں مانتے” اور اعلان کیا کہ وہ اگلے دن فوجی ہیڈکوارٹر کے سامنے مظاہرہ کریں گے۔

جب شہید بچی کا جنازہ لے جایا جا رہا تھا ان ہی عناصر نے مظاہرے کے نام پر مسلح ہوکر ہیڈکوارٹر کے سامنے جمع ہو کر نعرے بازی اور گالم گلوچ شروع کر دی اور مقامی لوگوں کو بھی حملے پر اکسانے لگے وڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ گیٹ پر موجود کچھ فوجی مظاہرین کو کہتے ہیں کہ “دو تین نمائندے اندر آکر کمانڈر سے بات کریں”۔ لیکن وہ لوگ حملہ کرنے پر بضد تھے۔ اسی دوران اچانک ہجوم ہیڈکوارٹر کی طرف دوڑ پڑا۔ یہ دیکھ کر فوجی باہر نکلے اور ہوائی فائرنگ کی۔

صرف دو برسٹ چلائے گئے۔ وڈیوز میں واضح ہے کہ فوجی اپنی گنز ہجوم کے اوپر اٹھا کر فائرنگ کر رہے ہیں۔ اگر فوج کا ارادہ جان سے مارنے کا ہوتا، تو سب سے پہلے ان دو تین شرپسندوں کو نشانہ بنایا جاتا جو گیٹ تک پہنچ چکے تھے اسی دوران ہجوم کی جانب سے بھی فائرنگ کی گئی اور پہاڑوں سے بھی گولیاں چلیں۔ چونکہ مظاہرے کے باعث کئی فوجی اپنی پوسٹیں چھوڑ کر ہیڈکوارٹر پر آ گئے تھے،

اس لیے خارجیوں کو پہاڑوں میں آکر پوزیشنز لینے کا موقع مل گیا تھا اور انہی کی فائرنگ سے ہلاکتیں ہوئیں واقعے کے بعد دوبارہ فوجی کمانڈرز اور قبائلی مشران کا جرگہ ہوا، جس میں ساری صورتحال واضح کی گئی۔ زخمیوں کو فوج نے ہی ریسکیو کر کے اسپتال پہنچایا اور ان کی تیمارداری کی۔ شہداء اور زخمیوں کے لیے مالی معاونت کا اعلان بھی فوج کی جانب سے کیا گیا،

جس کے بعد پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے بھی امداد کا اعلان کر دیا اس دوران پی ٹی ایم، پی ٹی آئی اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس مسلسل کوشش کرتے رہے کہ مقامی عوام کو اشتعال دلایا جائے، تاکہ دوبارہ فوج پر حملہ کروایا جا سکے۔ یہاں تک کہ پی ٹی آئی کی جانب سے فوج کے خلاف ٹرینڈ بھی چلا دیاگیا اور بعض پی ٹی آئی اکاؤنٹس نے یہ تک لکھ دیا کہ “فوج ٹی ٹی پی کو بدنام کرنا چاہتی ہے”۔ خدا کی قسم یہ لوگ فوج اور پاکستان دشمنی میں اندھے ہو چکے ہیں۔

*سرگودھا: کوٹ مومن لڑکی کا قاتل 24 گھنٹوں میں گرفتار* سرگودھا ملزم شایان قتل کرنے کے بعد فرار ہو گیا تھا سرگودھا ڈی پی او نے نوٹس لیتے ہوئے ملزم کو جلد گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا

سرگودھا ایس ایچ او تھانہ کوٹ مومن نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ملزم کو گرفتار کر لیا سرگودھا وجہ عنادمقتولہ نے ملزم کو چھیڑ خانی پر برا بھلا کہا تھاسرگودھا گرفتار ملزم کے خلاف شواہد اکٹھے کر لئے گئے ہیں (ڈی پی او) سرگودھا لوگوں کی جان یا مال کو نقصان پہنچانے والے کسی رعائیت کے مستحق نہیں (ڈی پی او) سرگودھا گرفتار ملزم کو قانون کے مطابق قرارواقعی سزا دلوائی جائے گی (ڈی پی او )سرگودھا لواحقین کو انصاف اور مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا (ڈی پی او سرگودھا محمد صہیب اشرف)

*موٹروے پولیس کے افسران نے چکری کے قریب ایک مشکوک گاڑی کو روکا۔ گاڑی میں تقریبا 400 کلو گوشت لوڈ تھا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کو فوری اطلاع دی گئی جنہوں نے موقع پر پہنچ کر گوشت کے مضر صحت ہونے کی تصدیق کی۔ ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حوالے کر دیا گیا۔*

پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہپنجاب بھر میں پارکس، گرین بیلٹس اور آؤٹ ڈور اشتہارات کی جامع نگرانی کے لیے پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی کے قیام کا فیصلہپنجاب کابینہ نے اتھارٹی کے قیام کا بل منظور کر لیا

سیاست کا یہی کمال ہے کہ اس پر ہر رنگ چڑھ جاتا ہے– سیاست کے سینے میں بہت بڑا دل ہوتا ہے– لیکن خون اس میں سفید ہی دوڑتا ہے– عوام کی نبض، سیاستدانوں سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا اور عوام سےزیادہ سیاستدانوں کو بھی کوئی نہیں سمجھتا–

آپریشن سندور” کی ناکامی ، بھارت نے آپریشن مہادیو کے نام پر دوبارہ فیک انکاؤنٹرز شروع کردیئے*بھارت نے “آپریشن سندور” کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کیلئے نیا مذموم فوجی منصوبہ “آپریشن مہادیو” شروع کر دیا

**”*آپریشن سندور” کی ناکامی ، بھارت نے آپریشن مہادیو کے نام پر دوبارہ فیک انکاؤنٹرز شروع کردیئے*بھارت نے “آپریشن سندور” کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کیلئے نیا مذموم فوجی منصوبہ “آپریشن مہادیو” شروع کر دیا ، *سکیورٹی ذرائع*”آپریشن مہادیو” کے نام پر غیر قانونی ، جبراً حراست میں رکھے معصوم پاکستانیوں کو فیک انکاؤنٹرز میں استعمال کرنے کا مذموم منصوبہ بے نقاب، *سکیورٹی ذرائع*”آپریشن مہادیو” کا مقصد نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی تحریکِ آزادی کو کچلنا ہے بلکہ اندرون ملک سیاسی ساکھ بحال کرنا ہے، *سکیورٹی ذرائع* بھارت یہ کوشش کر رہا ہے کہ اسے ایک کامیاب فوجی مہم کے طور پر پیش کیا جائے، تاکہ “آپریشن سندور” کی خفت مٹائی جا سکے، *سکیورٹی ذرائع*پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے فوری بعد بھی بھارتی فوج کی جانب سے فیک انکاؤنٹرز کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا ، *سکیورٹی ذرائع*اس سے پہلے بھی 24 اپریل کو آزاد جموں کشمیر کے دو شہریوں محمد فاروق اور محمد دین کو غلطی سے بارڈر کراس کر جانے پر بھارتی فوج نے بہیمانہ طریقے سے انکاؤنٹر میں شہید کر دیا گیا تھا،*سکیورٹی ذرائع* منصوبے کے تحت مختلف جیلوں میں قید افراد کو مارنے کے بعد پاکستان کی طرف سے سرحد پار دہشت گرد قرار دیا جائے گا، *سکیورٹی ذرائع*29 اور 30 اپریل کو ڈی جی آئی ایس پی آر اپنی پریس کانفرنسز میں پہلے ہی 723 پاکستانی افراد جو مختلف بھارتی جیلوں میں غیر قانونی طور پر بند ہیں، کی تفصیلات بتا چکے ہیں،*سکیورٹی ذرائع*اسکے علاوہ 56 ایسے پاکستانی افراد بھی ہیں جو بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے غیر قانونی اور جبراً اپنی حراست میں رکھے ہیں، *سکیورٹی ذرائع*ان 56 افراد کی تفصیلات بھی ڈی جی آئی ایس پی آر اپنی 29 اور 30 اپریل کو بتا چکے ہیں، *سکیورٹی ذرائع* حسب روایت فیک انکاؤنٹر زکے فوری بعد بھارتی میڈیا کو پہلے ہی سے ان افراد کی لاشیں اور پلانٹڈ ہتھیار وغیرہ کی ویڈیوز اور تصویریں شیئر کی جا رہی ہیں ، *سکیورٹی ذرائع*مصدقہ اطلاعات کے مطابق;’’ غیر قانونی طور پر حراست میں رکھے گئے افراد کو زندہ دہشت گرد ظاہر کر کے میڈیا کے سامنے پاکستان مخالف بیانات اور اعتراف جرم کے بیان بھی دلوائے جا سکتے ہیں‘‘ان بھارتی حراست میں رکھے گئے افراد کو کسی بھی وقت پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور جارحیت کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، *سکیورٹی ذرائع* بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں فیک انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کے طور پر بد نام زمانہ ہے، *سکیورٹی ذرائع* آپریشن مہادیو بھارتی فوج کی جانب سے فیک انکاؤنٹرز کا تسلسل ہے، *سکیورٹی ذرائع*پہلگام فالس فلیگ اور آپریشن سندور کی ناکامی میں ہزیمت اٹھانے کے بعد بھارت مکمل طور بوکھلا چکا ہے، *سکیورٹی ذرائع*

انگلینڈ اور انڈیا سیریز کے پچھلے تین میچز میں امپائرنگ کا معیار انتہائی گھٹیا رہا اور بار بار فیصلے ریٹرن ہوتے رہے اس پر دونوں ملکوں کے شائقین کرکٹ نے کافی تنقید بھی کی مگر چوتھے ٹیسٹ میں پاکستانی امپائر احسن رضا نے شاندار امپائرنگ کر کے تنقید کی گرد بٹھا دی۔انکے ساتھ راڈ ٹکر بھی اچھے رہے مگر احسن رضا کے فیصلے نہایت شاندار ثابت ہوئے۔علیم ڈار کے بعد احسن رضا ایسے پاکستانی امپائر ہو سکتے ہیں جو امپائر آف دی ائیر کا اعزاز حاصل کر سکتے ہیں۔